Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Es me Aap ke liye Sabaq hai

Urdu · 5 min

اس میں آپ کے لیے سبق ہے: ابتدائی اسلامی دور کے شعراء میں تین سب سے زیادہ مشہور ہیں، جریر، فرزدخ، اور اختل۔ جریر 110 ہجری اور فرزدخ 110 ہجری، دونوں ایک دوسرے کی ہجو کیا کرتے تھے۔ مثلاً فرزدخ نے کہا: "أحلامنا تزن الجبال رزانةً، وتخالنا جناداً أماناً نجهل." "ہماری عقلیں پہاڑوں کے برابر وزنی ہیں، اور جب ہم بگاڑ پر مائل ہو جائیں تو تم ہم کو جن خیال کرو گے۔ " جریر نے جواب دیا: "أبلغ بني وقبان وقبائلكم عن حلومهم خفت فلا يزنون حبة خردل." "بنی وقبان کو بتا دو کہ ان کی عقلیں ہلکی ہو گئیں، اور وہ رائی کے برابر بھی وزنی نہیں۔

" یہ ایک سادہ سی مثال ہے، ورنہ ان کی ہجوئیات، خاص طور پر فرزدخ کی، اتنی زیادہ عریاں ہیں کہ ان کو نقل بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جریر کے سلسلے میں یہ قصہ مشہور ہے کہ اس کی ماں نے ایامِ حمل میں خواب دیکھا کہ اس کے اندر سے ایک رسی نکلی اور لوگوں کے اوپر کودنے لگی، اور ایک ایک کا گلا گھونٹنے لگی۔ جب اس نے اپنے خواب کی تعبیر معلوم کی تو بتانے والوں نے بتایا کہ تجھ سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو لوگوں کی ہجو کیا کرے گا اور ان کے لیے ایک آفت کا باعث ہوگا۔ اسی لیے لڑکے کا نام جریر رکھا گیا، جس کے معنی عربی زبان میں رسی کے ہوتے ہیں۔

دو معاصر شعراء کے درمیان ہجو گوئی کیسے شروع ہوئی؟ اس کا قصہ یہ ہے کہ جریر ابن عطیہ یمامہ میں پیدا ہوا۔ طبیعت کے رجحان اور ماحول کے اثر سے اس نے شعر و شاعری شروع کر دی۔ اس کو معلوم ہوا کہ بصرہ میں شاعروں کی بڑی قدر ہے۔

وہ وہاں پہنچا، اس نے دیکھ کر فرزدخ اپنی شاعری کی بدولت بہت بلند مقام حاصل کیے ہوئے ہے۔ فرزدخ کی خوشحالی اور اس کی قدر و منزلت نے اس کو حیرت میں ڈال دیا۔ اگرچہ دونوں تمیمی تھے، تاہم جریر دل ہی دل میں اس سے حسد کرنے لگا۔ مربط کا بازار جریر اور فرزدخ کے فخریہ قصائد اور ہجویہ نظموں کا اکھاڑا بن گیا۔

دونوں ایک دوسرے کی بحر میں قصائد لکھتے، جو "نقائض" کے نام سے مشہور ہوئے۔ تاہم جب عمر کا بالکل آخری حصہ آیا تو دونوں مقابلہ آرائی کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہو گئے۔ آدمی جب کسی مشغلے کو اختیار کرتا ہے تو خواہ اس کا محرک جو بھی ہو، دھیرے دھیرے وہ اس کی طبیعت بن جاتی ہے، اور اس کے اقوال و افعال اسی کے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ جریر اس کی ایک مثال ہے۔

جریر ایک مرتبہ خلیفہ ولید ابن عبدالملک کے دربار میں پہنچا، وہاں عدی ابن رقاع عاملی بیٹھے ہوئے تھے۔ خلیفہ نے جریر سے پوچھا: "ان کو پہچانتے ہو؟ " جریر نے کہا: "اے امیرالمومنین! نہیں۔

" خلیفہ نے بتایا کہ یہ عاملہ خاندان کے فرد ہیں۔ یہ سن کر برجستہ جریر کی زبان سے نکلا: "وہی عاملہ جس کے بارے میں اللہ فرماتا ہے: 'عاملة ناصبة تصل ناراً حامية' " (سورہ نمبر 88 آیت 3-4)۔ یعنی بہت سے چہرے اس دن خستہ ہوں گے، بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ اس کے بعد ایک بےہودہ شعر پڑھا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جریر اور عدی کے درمیان دشمنی شروع ہو گئی، اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف ہجویہ نظمیں لکھیں۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 158۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.