لطیفہ: ابن الرومی 221 تا 284 ہجری، ایک شاعر تھا، وہ لوگوں کی حجوں کیا کرتا تھا۔ خلیفہ معتضد باللہ کے وزیر ابو الحسین قاسم ابن عبداللہ کو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا تھا کہ وہ اس کی حجوں کر کے اس کو عوام میں ذلیل نہ کرے۔ یہ وزیر بڑا بے رحم تھا، اس نے اس مسئلے کا حل یہ سوچا کہ اس کے وجود ہی کو ختم کر دیا جائے۔ ایک بار جب ابن الرومی وزیر کے دسترخوان پر کھانا کھا رہا تھا، وزیر نے چپکے سے اس کے کھانے میں زہر ڈال دیا۔
ابن الرومی زہر زہر آلود کھانے کے کچھ لقمے کھا چکا تو اس کو احساس ہوا، وہ فوراً کھانے سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد دونوں میں جو گفتگو ہوئی وہ یہ ہے: "وزیر، ابن الرومی کہاں جا رہے ہو؟ " ابن الرومی: "جہاں تم مجھ کو بھیجنا چاہتے ہو۔ " وزیر: "دیکھو، وہاں پہنچ کر میرے والد کو میرا سلام پہنچا دینا۔
" ابن الرومی: "لیکن جہنم سے میرا گزر نہیں ہوگا۔ " کتاب: اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 160۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.