Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Sarsari Mutalaah

Urdu · 4 min

سرسری مطالعہ۔ سرسری مطالعے سے جو رائے قائم کی جاتی ہے، وہ تحقیق کے بعد اکثر غلط ثابت ہوتی ہے۔ معاویہ بن ابی سفیان، 605 تا 680 عیسوی، ایک ممتاز صحابی تھے۔ ان کے بارے میں ایک صاحب لکھتے ہیں: "دیت کے معاملے میں بھی حضرت معاویہ نے سنت کو بدل دیا۔

" سنت یہ تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کے برابر ہوگی، مگر حضرت معاویہ نے اس کو نصف کر دیا اور باقی خود لینی شروع کر دی۔ معاہد کی دیت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف اقوال مروی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: "ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے۔ " دیت ذمی، دیت مسلم۔

السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر 16352۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: "کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہوگی۔ " أقول: الكافر نصف دیت المسلم. نیل الاوتار، جلد 7، صفحہ 79۔

اس بنا پر عہد صحابہ سے یہ مسئلہ مختلف رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ معاہد کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہونی چاہیے، اور کچھ لوگ مسلمان اور معاہد کی دیت میں فرق نہیں کرتے۔ حضرت معاویہ نے دراصل دو رائیوں میں سے ایک رائے کو ترجیح دی ہے، نہ کہ خود کوئی نئی رائے پیدا کی ہے۔ باقی خود لینی شروع کر دی کہ الزام کی حقیقت یہ ہے کہ حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں امام زہری کا مقولہ ان لفظوں میں نقل کیا ہے: "معاویہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے معاہد کی دیت کو کم کر کے نصف کر دیا، اور نصف اپنے واسطے لے لی۔

" وأخذ النصف لنفسه. البدایہ والنہایہ، جلد 11، صفحہ 449۔ یہ عبارت سرسری نظر میں مغالطہ آمیز معلوم ہوتی ہے، مگر اس کی وجہ اس کا جمال ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے معاملے کو تفصیلی شکل میں پیش کیا ہے، ان کا بیان اس کو واضح کر دیتا ہے کہ یہاں اپنی ذات سے مراد حکومتی خزانہ ہے۔

بیہقی نے اپنی سنن میں امام زہری کا مقولہ ابن جریج کی سند سے ابن جریج کی سند سے تفصیل کے ساتھ درج کیا ہے۔ وہاں الفاظ یہ ہیں: فلما کان معاویۃ اعطی اہل المقتول النصف والقى النصف فی بیت المال. السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر 16354۔ یعنی جب معاویہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ادھی دیت مقتول کے رشتہ داروں کو دی اور ادھی بیت المال میں داخل کر دی۔

کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 157۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.