Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Kabhi aisa hota hai ke awami bheed me

Urdu · 10 min

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عوامی بھیڑ میں سچائی دب کر رہ جاتی ہے۔ حضرت مسیح کو اللہ نے بہت سے معجزے دیے تھے؛ وہ مٹی کے پرندے پر پھونک مارتے، اور وہ سچ مچ پرندہ بن کر اڑنے لگتا۔ وہ اندھے اور کوڑھی پر ہاتھ پھیرتے، اور وہ فوراً اچھے ہو جاتے اور دیکھنے لگتے۔ وہ مرے ہوئے انسان سے کہتے کہ اٹھ، اور وہ دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا ہو جاتا۔

وہ بتا دیتے کہ کس کے پیٹ میں کیا ہے، اور کس کے گھر میں کن چیزوں کا ذخیرہ ہے۔ آلِ عمران، سورہ نمبر 3، آیت 49۔ یہ حیران کن باتیں آپ کے استادہ الہی ہونے کا ثبوت تھیں۔ یہ حیران کن باتیں آپ کے استادہ الہی ہونے کا ثبوت تھیں، مگر یہود نے ان کو آپ کے انکار کا بہانہ بنا لیا۔

انہوں نے کہا، "یہ کوئی معلمِ دین یا قانون ساز نہیں، بلکہ شعبدہ باز ہے۔ " اور گلیل کے سادہ مزاج باشندوں میں اس نے شہرت و مقبولیت حاصل کر لی، اور گلیل اور گلیل کے سادہ مزاج باشندوں میں اس نے شہرت و مقبولیت حاصل کر لی۔ تاہم فلسطین کے مشرک رومیوں کا تاثر دوسرا تھا۔ مشرک قوموں کا عام مزاج یہ رہا ہے کہ جس کے اندر کوئی غیر معمولی بات دیکھتی ہیں، اس کو خدا سمجھ لیتی ہیں۔

برنابا حواری کی انجیل میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح کے معجزوں کو دیکھ کر اس زمانے کے مشرک رومی سپاہیوں نے آپ کو خدا اور بعض نے خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا تھا۔ حضرت مسیح کے بعد جب سینٹ پال آپ کے مذہب میں داخل ہوا، تو اس کو مسیحیت کے پھیلانے کے لیے سب سے آسان نسخہ یہ سمجھ میں آیا کہ عوامی ذہن کی رعایت سے مسیحیت کی ایک ایسی تعبیر پیش کی جائے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق آپ کے ابتدائی پیرو موسوی شریعت پر عمل کرتے تھے۔ سینٹ پال نے اعلان کر دیا کہ ایک عیسائی شریعتِ یہود کی تمام پابندیوں سے آزاد ہے۔

اس زمانے کے رومیوں اور یونانیوں کے مذہب، متھرا پرپرستی یعنی میتھریزم، کے عقائد کو صرف الفاظ بدل کر مسیحیت میں داخل کر لیا اور کہا کہ مسیح خدا کے بیٹے تھے، اور صلیب پر جان دے کر وہ اولادِ آدم کے پیدائشی گناہ کا کفارہ ہو گئے ہیں۔ اب صرف ان پر ایمان لانا ہی نجات کے لیے کافی ہے۔ حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں نے سینٹ پال کی اس خود ساختہ مسیحیت کی سخت مخالفت کی، مگر سینٹ پال نے اپنے گھڑی ہوئی مسیحیت میں اس وقت کے عوام کے لیے جو اعتقادی کشش اور سہولت رکھ دی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ کثرت سے مسیح دین میں داخل ہونے لگے۔ حتیٰ کہ جدید مسیحیوں کا ایک سیلاب امڈ پڑا۔

اس عوامی ریلے میں سچے مسیحی، جو تعداد میں بہت کم تھے، دب کر رہ گئے۔ تاہم تیسری صدی عیسوی کے اختتام تک بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو حضرت مسیح کو بندہ اور رسول مانتے تھے، اور آپ کی الوہیت کے عقیدے کو غلط قرار دیتے تھے۔ مگر چوتھی صدی کے آغاز میں جب مشرقی رومی شہنشاہ قسطنطین 272-337 بعض سیاسی محرکات کے تحت عیسائی بن گیا، تو سینٹ پال کی ایجاد کردہ مسیحیت کو سیاسی اقتدار کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی۔ 325 عیسوی میں نقیہ یعنی نیسیا کی کونسل میں 318 مسیحی نمائندے جمع کیے گئے تاکہ مسیحیت کا سرکاری عقیدہ متعین کریں۔

اس میں 313 نمائندوں نے سرکاری تشریح کی حمایت کی، بقیہ اس کے خلاف رہے۔ پادری اریس اس کو چیلنج کرنے کے لیے اٹھا تو قسطنطین نے یہ کہہ کر اس کو خاموش کر دیا کہ "اگر تم اس کو نہیں مانتے تو دوسری چیز ہمارے پاس تلوار ہے۔ " قسطنطین کے مسیحیت قبول کرنے کے بعد ساری رومی سلطنت میں مسیحی مذہب پھیل گیا۔ یہ تمام مسیحی اسی نئے مسیحی مذہب پر ایمان لائے تھے جو اولاً سینٹ پال اور اس کے بعد ترطولین 150-230 وغیرہ نے وضع کیا تھا۔

اس عوامی طوفان سچے مسیحیوں کے لیے زندہ رہنے کی کوئی شکل نہ تھی۔ اولاً خاموش، اور اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ختم ہو گئے۔ اسلام کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ خود اللہ نے قرآن کو محفوظ رکھنے کی ضمیر رکھی ہے۔ جبکہ پچھلی آسمانی کتابوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ان کے حاملین کے اوپر تھی۔

اسلام کے لیے یہ خطرہ نہیں کہ وہ کبھی بدل کر کچھ سے کچھ ہو جائے یا مٹ کر ختم ہو جائے۔ مگر حفاظت کا یہ وعدہ متن اسلام کے لیے ہے، گروہ اسلام کے لیے نہیں ہے۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ اسلام پر بھی ایسا زمانہ آئے کہ کتابی حیثیت سے تو متن اسلام یعنی قرآن مکمل طور پر محفوظ ہو، مگر عملاً ایسا ہو کہ آسمانی مذہب کے بجائے بزرگوں کا مذہب اس طرح رائج ہو جائے کہ عملاً وہی قرآن کی جگہ لے لے۔ جیسا کہ دوسری قوموں میں ہوا ہے، قرآن کی تلاوت تو خوب ہو رہی ہو، مگر دین کو بزرگوں سے لیا جانے لگے۔

حتیٰ کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اسلام کی یہ خود ساختہ شکل عوام میں اس قدر مقبول ہوا کہ اسلام کی یہ خود ساختہ شکل عوام میں اس قدر مقبول ہو کہ اسلام کے سچے پیرو اس کے طوفان میں دب کر رہ جائیں، یہ جانتے ہوئے کہ وہ غلط ہے۔ بہت سے لوگ اس لیے اس کے ساتھ لگ جائیں کہ عوامی پھیلاؤ کی وجہ سے دنیاوی فائدے اس سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ علماء اس کے خلاف بولنے سے اس لیے ڈریں کہ ان کے مدرسوں کے چندے بند ہو جائیں گے۔ قائدین اس لیے اس سے قطع تعلق نہ کریں کہ انہیں اندیشہ ہو کہ ان کے استقبال کرنے والوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

بہت سے کتاب اللہ کا علم رکھنے والے اس کو کتاب اللہ کے موافق نہ پائیں، مگر اس لیے اس کے گروہ میں شامل رہیں کہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر اس کے پھیلے ہوئے حلقے سے وہ بہت سے مفادات حاصل کر سکیں گے۔ عوامی مقبولیت کبھی سچائی کی سند نہیں رہی ہے، بلکہ کسی تحریک کا زیادہ پھیلاؤ اکثر یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی غلطی تو شامل نہیں۔ کیونکہ حق کو ماننے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں، اور اس کو پانے والے بھی کم۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 153۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.