حبش کی ہجرت نبوت کے پانچویں سال مکے میں مسلمانوں کے حالات بہت سخت ہو گئے۔ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر قریش نے ان کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک نئی تحریک شروع کی۔ انہوں نے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ کوئی شخص مسلمانوں سے کوئی چیز نہ خریدے، نہ ان کے ہاتھ بیچے، نہ ان کی لڑکی سے نکاح کرے، نہ اپنی لڑکی ان کے نکاح میں دے۔ قدیم مکے میں اس قسم کا معاشی اور سماجی بائیکاٹ زندگی کو مفلوج کر دینے کے ہم معنی تھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ حبش میں ایک انصاف پسند بادشاہ کی حکومت ہے، تم لوگ وہاں چلے جاؤ۔ مسلمان چھوٹی چھوٹی جماعتیں بنا کر حبشہ جانا شروع کر دیے، کیونکہ اجتماعی شکل میں گھر سے نکلنے میں یہ اندیشہ تھا کہ قریش رکاوٹ ڈالیں گے۔ جدہ کے ساحل سے کرائے کی کشتیوں میں سوار ہو کر ان لوگوں نے بحر قلزم پار کیا اور حبش میں اتر گئے۔ وہاں تجارت اور مزدوری کر کے گزر اوقات کرنے لگے۔
کہا جاتا ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً 100 آدمی مکے سے نکل کر حبش گئے تھے۔ قریش کو جب معلوم ہوا کہ مسلمان مکہ چھوڑ کر حبش چلے گئے ہیں تو انہوں نے اپنے دو آدمی عمر بن العاص اور عمارہ بن ولید کو مقرر کیا کہ وہ حبش جائیں اور بادشاہ کو آمادہ کریں کہ وہ مسلمانوں کو قریش کے حوالے کر دے۔ قریش کا یہ وفد تحفہ تحائف لے کر حبش پہنچا اور شاہ نجاشی کے سامنے اپنی درخواست پیش کی۔ بادشاہ نے مسلمانوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ تمہارا اس مسئلے میں کیا جواب ہے؟
جعفر ابن ابی طالب مسلمانوں کے نمائندے کی حیثیت سے بولے: "اے بادشاہ! مکہ یا عرب کے کسی دوسرے مقام پر ہم نے کوئی چوری نہیں کی ہے، نہ کسی کو قتل کیا ہے، اور نہ کوئی دوسرا ظلم کیا ہے۔ " شاہ حبش نے قریش کے وفد سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا: "ان کا کہنا صحیح ہے، انہوں نے چوری اور قتل جیسا کوئی جرم نہیں کیا ہے۔
ہمارا الزام صرف یہ ہے کہ انہوں نے باپ دادا کے دین کو بدل ڈالا ہے۔ " کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 148۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.