← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Asabiat kahan tak lejati hai
Urdu · 5 min
عصبیت کہاں تک لے جاتی ہے؟ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں مسلمانوں کے علاوہ کئی یہودی قبیلے آباد تھے۔ آپ نے ان قبیلوں سے معاہدہ کیا، ان معاہدوں کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کسی کا ساتھ نہیں دیں گے۔ مگر انہوں نے اس کی خلاف ورزی کر کے غداری کا، غداری کے جرم کا ارتکاب کیا۔
چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد بنو نظیر کو مدینے سے نکال دیا گیا۔ غزوہ خندق میں بنو قریضہ نے اسی قسم کی غداری کی۔ قریش کی واپسی کے بعد مسلمانوں نے بنو قریضہ کو گھیر لیا، جو اپنے قلعے نما مکان میں محصور تھے۔ 25 دن تک محاصرہ جاری رہا۔
اس کے بعد جب بنو قریضہ نے دیکھا کہ ان کے لیے کوئی چارہ کار نہیں رہا ہے تو انہوں نے ثالث مقرر کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس وقت قبیلے اوس کا، اس وقت قبیلے اوس ان کا حلیف تھا۔ انہوں نے خود یہ شرط پیش کی کہ قبیلے اوس کے سردار سعد ابن معاذ، جو مسلمان ہو چکے تھے، کو ثالث مقرر کیا جائے۔ وہ جو فیصلہ کریں گے منظور ہوگا۔
سعد ابن معاذ نے تورات کے مطابق یہ فیصلہ کیا کہ بنو قریضہ کے تمام مرد قتل کر دیے جائیں اور ان کی عورتیں باندی بنا لی جائیں۔ یہودیوں میں ایک شخص زبیر ابن بات قرضی تھا۔ اس نے مدینے کے ایک مسلمان ثابت، ثابت بن قیس کے اوپر اسلام سے پہلے جنگ بعاث کے موقع پر احسان کیا تھا۔ مدینے کے عربوں اور یہودیوں کی اس جنگ میں ثابت ابن قیس گرفتار ہو گئے تھے۔
زبیر ابن بات نے ان کو آزاد کرایا۔ ثابت ابن قیس نے چاہا کہ یہودی سردار کے اس قدیم احسان کا بدلہ ادا کریں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے ان کے کہنے پر زبیر ابن بات کو چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
ثابت ابن قیس نے یہ خوشخبری اس یہودی کو پہنچائی تو اس نے کہا: "میرے جیسا بوڑھا آدمی جب اس کے پاس اس کے اہل و عیال اور اس کا مال ہی نہ ہو تو وہ اکیلا زندہ رہ کر کیا کرے گا؟ " ثابت ابن قیس نے دوبارہ رسول اللہ سے درخواست کی تو آپ نے اجازت دے دی کہ وہ اپنے اہل و عیال اور مال کو بھی لے سکتا ہے۔ مگر یہودی اس پر بھی مطمئن نہ ہوا۔ اب اس نے پوچھا کہ بنو قریضہ کے دوسرے سرداروں، مثلاً کعب ابن اسد، حی ابن اختب، ازال ابن سموئیل کا کیا حشر ہوا؟
بتایا گیا کہ وہ قتل کر دیے گئے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کے الفاظ میں یہ تھا: فَمَا عَلِمَ أَنَّهُمْ قُتِلُوا قَالَ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا ثَابِتُ بِيَدِكَ عِنْدَكَ إِلَّا لَحَقْتَنِي بِالْقَوْمِ فَوَاللَّهِ مَا فِي الْعَيْشِ بَعْدَ هَؤُلَاءِ مِنْ خَيْرٍ فَمَا أَنَا بِصَابِرٍ لِلَّهِ فَتْلَةٌ دَلُّونَا حَتَّى أَلْقِيَ الْحَبَّةَ فَضَرَبْتُ عُنُوقَهُ بِمَشِيَةٍ. محمد حسین ہیکل حیات محمد قاہرہ 1965 صفحہ 340۔ جب اس نے جانا کہ اس کے تمام یہودی سردار قتل کر دیے گئے تو اس نے کہا: "اے ثابت!
مجھے بھی میرے لوگوں تک پہنچا دو۔ " خدا کی قسم، ان کے بعد اب زندگی میں کوئی بھلائی نہیں۔ کنویں کے اندر ڈول ڈالنے کی مدت کے بقدر بھی صبر نہیں، یہاں تک کہ میں اپنے دوستوں سے مل جاؤں۔ پس اس کی مرضی کے مطابق اس کی گردن مار دی گئی۔
اس غزوے میں جو یہودی عورتیں باندی بنائی گئی تھیں، ان میں ریحانہ نامی ایک عورت رسول اللہ کے حصے میں آئی۔ آپ نے اس سے کہا کہ تم اسلام قبول کر لو، میں تمہارے ساتھ شادی کر لوں گا۔ تم عزت سے میرے ساتھ رہنا۔ مگر وہ یہودیت ترک کرنے پر راضی نہ ہوئی۔
وہ آپ کی خدمت میں باندی کی حیثیت سے رہی اور اسی حال میں مر گئی۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 149۔