Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Ye tha Mushrikin-e-arab ka kirdaar

Urdu · 15 min

یہ تھا مشرکینِ عرب کا کردار نمبر 1: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610ء میں ہوئی تو ایران کی ساسانی سلطنت اور روم کی بازنطینی سلطنت کے درمیان تصادم جاری تھا۔ اس دو طرفہ جنگ میں تقریباً 20 سال گزر گئے۔ ابتداً ایرانیوں کو غلبہ حاصل ہوا۔ 615ء تک رومی سلطنت کے تقریباً تمام شمالی مقبوضات—اردن، شام، فلسطین، عراق، مصر—سب ایرانیوں کے قبضے میں چلے گئے۔

یہ ٹھیک وہی وقت تھا جبکہ مکے میں اسلام اور غیر اسلام کے درمیان کشمکش جاری تھی۔ یہ کشمکش اتنی شدید ہو چکی تھی کہ 615ء میں مکے کے مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اپنا وطن چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش چلا جانا پڑا۔ ایسے حالات میں اہلِ کتاب رومیوں کے مقابلے میں بت پرست ایرانیوں کی فتح، مکہ والوں کے لیے گفتگو کا خصوصی موضوع بن گئی۔ مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ جس طرح پڑوس کے ملکوں میں بت پرست لوگ آسمانی کتاب کے حاملین پر غالب آئے ہیں، اسی طرح ہم بھی تمہارے اوپر غالب آ جائیں گے۔

عین اس وقت قرآن کی سورہ نمبر 30 اتری اور اعلان کیا گیا کہ چند سالوں کے بعد دوبارہ انقلاب آئے گا اور رومی سلطنت ایرانیوں کے اوپر غالب آ جائے گی۔ سورہ روم کی یہ آیتیں مکہ والوں کے لیے مزاح کا نیا موضوع بن گئیں۔ ابی ابن خلف نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اور اگر تم کو یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا تو آؤ مجھ سے شرط کر لو۔

اس نے اپنی طرف سے یہ شرط رکھی کہ رومی اگر 3 سال کے اندر غالب آ گئے تو میں 10 اونٹ تمہیں دوں گا، اور اگر اس کے خلاف ہوا تو تم 10 اونٹ مجھے دینا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن میں "بِزْعَسِنِينَ" کا لفظ ہے اور عربی میں "بِزْعَ" کا اطلاق 10 سے کم پر ہوتا ہے، اس لیے 10 کے اندر کی شرط کرو اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر 100 کر دو۔ حضرت ابوبکر نے دوبارہ آ کر ابی ابن خلف سے یہ بات کہی۔ وہ راضی ہو گیا کہ 10 سال کے اندر دونوں میں سے جس کی بات غلط ثابت ہوگی، وہ دوسرے فریق کو 100 اونٹ دے گا۔

قرآن کی پیشن گوئی لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔ 9 سال بعد قیصرِ روم نے 624ء میں ایرانیوں کو نینوا یعنی عراق کے مقام پر فیصلہ کن شکست دی اور اپنے تمام چھینے ہوئے علاقے ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ اس مدت میں مکے کی کشمکش اس نوبت کو پہنچ چکی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام ساتھی مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ دونوں فریقوں کے درمیان کشمکش اس شدید نوبت کو پہنچی کہ 624ء میں جنگِ بدر واقع ہوئی۔

اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی اور مشرکینِ مکہ کے اکثر بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ اس سخت ترین ہیجانی فضا میں رومیوں کے غلبے کی خبر آتی ہے۔ بدر کی شکست نے مکہ والوں کی دشمنی کو جنون کی حد تک پہنچا دیا تھا۔ مگر حضرت ابوبکر نے جب ابی ابن خلف کے پاس پیغام بھیجا کہ ہماری بات پوری ہو گئی، اس لیے شرط کے مطابق مجھے 100 اونٹ ادا کر دو، تو مکے میں کسی نے مخالفت نہ کی۔

اور ابی ابن خلف نے کسی قسم کی تکرار کے بغیر پورے 100 اونٹ ابوبکر صدیق کے پاس بھیج دیے۔ جب یہ اونٹ مدینہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا کہ ان کو صدقہ کر دو۔ سخت ترین دشمنی کے باوجود مشرکینِ عرب اس بات سے ناواقف تھے کہ شرط کے مطابق اپنے حریف کو 100 اونٹ نہ دینے کے فرضی بہانے تلاش کریں یا ان کی تعداد میں کمی کرنے کی کوشش کریں۔ وہ ایک ہی بات جانتے تھے: جو بات طے ہو گئی ہے، اس کو پورا کرنا ہے، خواہ وہ اپنے دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ۔

نمبر 2: صلح حدیبیہ کے بعد ذوالحجہ 6 ہجری میں آپ نے ارادہ فرمایا کہ امراء اور سلاطین کے نام دعوتی خطوط بھیجے جائیں۔ اس سلسلے میں تقریباً 1 ماہ ضروری تیاری میں صرف ہوا۔ اور محرم 7 ہجری میں آپ نے 8 بادشاہوں کے نام اپنے سفیروں کے ذریعے خطوط روانہ کیے۔ انہی میں سے ایک خط ہرقل قیصرِ روم کے نام تھا، جس کی سلطنت اس وقت شام سے لے کر قسطنطنیہ تک پھیلی ہوئی تھی۔

اس کے پاس دحیہ کل بھی خط لے کر گئے۔ ہرقل کو اس زمانے میں ایران کے مقابلے میں فتح حاصل ہوئی تھی اور اپنی نظر کے مطابق پیدل چل کر فلسطین آیا ہوا تھا۔ ہرقل کی خدمت میں آپ کا خط پیش کیا گیا تو اس نے حکم دیا کہ اس علاقے میں عرب کا کوئی شخص آیا ہو تو اس کو میرے سامنے پیش کرو۔ اتفاق سے ابو سفیان، جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے، اور ابو جہل کے بعد مشرکینِ مکہ کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ بغرض تجارت شام آئے ہوئے تھے۔

ان کو ڈھونڈ کر لایا گیا۔ قیصر نے کہا: "تمہارے یہاں جس آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، میں اس کی بابت تم سے سوال کروں گا، تم اپنے علم کے مطابق اس کا جواب دو۔ " اس موقع پر ہرقل اور ابو سفیان کے درمیان جو گفتگو ہوئی، وہ سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیان کے نزدیک ان کے سب سے بڑے دشمن تھے۔

وہ آپ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ مگر ساری گفتگو میں ابو سفیان نے ایک بھی غلط بات نہیں کی۔ چند سوال و جواب یہ تھے: ہرقل: "محمد کا نسب کیسا ہے؟ " ابو سفیان: "شریف و عظیم۔

" ہرقل: "کیا اس شخص پر کبھی جھوٹ بولنے کی تہمت لگائی گئی؟ " ابو سفیان: "کبھی نہیں۔ " ہرقل: "ان کے ماننے والوں کی تعداد گھٹ رہی ہے یا بڑھ رہی ہے؟ " ابو سفیان: "بڑھ رہی ہے۔

" ہرقل: "وہ کس بات کی تعلیم دیتے ہیں؟ " ابو سفیان: "وہ توحید اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ " ہرقل: "کیا وہ عہد کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں؟ " ابو سفیان: "نہیں۔

" ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے کسی سوال کے جواب میں غلط بیانی نہیں کی اور نہ طعن کیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ میرے ساتھی مجھے جھوٹا کہیں گے۔ صرف آخری سوال کے جواب میں وہ اتنا اضافہ کر سکے: "امسال ہمارے اور ان کے درمیان ایک معاہدہ یعنی حدیبیہ ہوا ہے، دیکھیے اس میں وہ کیا کرتے ہیں۔ " اس سوال و جواب کے وقت ابو سفیان اور ان کے ساتھی مشرک تھے، اور سب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت ترین دشمنی تھی۔

مگر ان کو یہ گوارا نہ تھا کہ آپ کے بارے میں کوئی غلط بیان دیں یا آپ کو متون کرنے کی کوشش کریں۔ نمبر 3: نبوت کے 10ویں سال آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ اب خاندانی رسم کے مطابق عبدالعزی یعنی ابو لہب، بنی ہاشم کا سردار منتخب ہوا، جو اس وقت خاندان کا سب سے بزرگ آدمی تھا۔ ابو لہب آپ کے خاندان میں آپ کا سب سے بڑا دشمن تھا۔

شیب ابی طالب کے مقاطعے کے زمانے میں سارے خاندانِ بنی ہاشم نے آپ کا ساتھ دیا تھا۔ صرف ایک ابو لہب تھا جو آپ سے الگ رہا۔ اب جبکہ ابو لہب کو خاندان کے سردار کا مقام بھی مل گیا، اس نے آپ کو خاندان سے خارج کر دیا۔ خاندان سے خارج کیا جانا قدیم عرب میں بدترین سزا تھی۔

اس کے بعد آدمی بالکل تنہا ہو جاتا تھا۔ جبکہ قبائلی نظام میں خاندانی پناہ کے سوا کوئی پناہ نہ تھی، جس کے تحت آدمی محفوظ طور پر اپنی زندگی گزار سکے۔ چنانچہ اس کے بعد مکے میں لوگوں کی مخالفتیں بہت بڑھ گئیں۔ اس سے پہلے زیادہ تر زبانی طنز و تشنیع کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔

اب جارحانہ قسم کی سختیاں شروع ہو گئیں۔ یہ حالات دیکھ کر آپ نے ارادہ کیا کہ عرب کے دوسرے بڑے شہر طائف جائیں اور وہاں کے لوگوں سے پناہ کی درخواست کریں۔ آپ مکے سے پیدل چل کر طائف پہنچے، جو مکے کے جنوب مشرق میں 65 میل پر واقع تھا۔ امید کے خلاف وہاں کے لوگوں نے بہت برا برتاؤ کیا۔

نہ صرف یہ کہ آپ کو پناہ دینے پر تیار نہ ہوئے، بلکہ آپ کو پتھر مار مار کر بستی سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ حتیٰ کہ آپ کو وہاں کے لوگوں سے کہنا پڑا کہ دیکھو، یہ خبریں مکہ نہ پہنچنے پائیں۔ ایک طرف اپنے وطن مکہ میں زمین کا تنگ ہو جانا، دوسرے طرف دوسرے طائف والوں کا وحشیانہ سلوک۔ ان واقعات نے آپ پر شدت سے اثر کیا۔

طائف سے واپسی پر آپ نے اپنے رب سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: "اللّٰہُمَّ إِلَيْكَ أَشْكُرُ، ضُعْفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ " خدایا، میں تجھ ہی سے اپنی قوت کی کمی اور اپنی بے سروسامانی اور لوگوں کی نظر میں حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں۔ سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 48۔ طائف سے واپسی کے بعد کوئی دوسری جگہ نہ تھی جہاں آپ جائیں۔

چونکہ مکے سے نکالے ہوئے ایک شخص کو پناہ دینے کا کام طائف جیسے بڑے شہر کا کوئی سردار ہی کر سکتا تھا، مجبوراً آپ نے دوبارہ مکے کا رخ کیا اور شہر کے باہر غار حرا میں اپنے خادم زید ابن حارثہ کے ساتھ مقیم ہوئے۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا کریں۔ چند روز کے غور و فکر کے بعد آپ نے مکے کے ایک سردار مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا کہ میں غار حرا میں ٹھہرا ہوا ہوں، تم مجھ کو اپنی پناہ میں لے لو تاکہ مکے میں آ کر رہ سکوں۔ مطعم کافر تھا اور بدر سے پہلے کفر ہی کی حالت میں انتقال ہوا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس کے قومی دشمن کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر جب آپ نے اس سے حفاظت طلب کی تو اس کے لیے ناممکن ہو گیا کہ وہ آپ کو اپنی حفاظت میں لینے سے انکار کر دے۔ اس کے 6 جوان لڑکے تھے۔ اس نے تمام لڑکوں کو حکم دیا کہ تم تلوار لے کر جاؤ اور محمد کو اپنی حفاظت میں مکہ لے آؤ۔

چنانچہ اس کے یہ لڑکے غار حرا پہنچے اور ان کی تلواروں کے سائے میں آپ دوبارہ مکے میں داخل ہوئے۔ مکے میں آ کر آپ نے سب سے پہلے کعبے کا طواف کیا۔ جب آپ طواف میں مشغول تھے تو مطعم بن عدی نے دروازے پر کھڑے ہو کر اعلان کیا: "میں نے محمد کو پناہ دی ہے، خبردار کوئی انہیں تکلیف نہ پہنچائے۔ " مطعم بن عدی ایک کافر و مشرک تھا، نیز آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔

مگر جب آپ نے اس سے پناہ طلب کی تو اس کے لیے ناممکن ہو گیا کہ آپ کو پناہ دینے سے انکار کر دے۔ یہ تھا کردار ان لوگوں کا جو مشرک و کافر کہے جاتے ہیں۔ عرب کے مشرکین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی شدید مخالفت کی لڑائیاں لڑیں۔ آپ کو اپنے وطن سے نکالا، مگر انہوں نے کبھی آپ کے خلاف کوئی ذلیل حرکت نہیں کی۔

آپ کو اپنے مخالفین کی طرف سے ذلیل اور رکی حرکتوں کا تجربہ صرف ہجرت کے بعد ہوا، جبکہ آپ کا سابقہ یہود کے ساتھ پیش آیا، جو کتاب الہی کے حامل تھے، جو اپنے کو نبیوں کا وارث کہتے تھے، جو گویا اس وقت کے مسلمان تھے۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 142۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.