Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Siasat ke liye Josh-o-kharosh

Urdu · 4 min

سیاست کے لیے جوش و خروش، دعوت کے لیے سرد مہری۔ ضیاء الدین احمد برنی مولانا محمد علی جوہر کے رفیقِ خاص تھے۔ وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: "جنگِ ترابلس اور جنگِ بلقان نے مولانا محمد علی جوہر کو بہت پریشان رکھا؛ وہ ترکوں کی پے در پے ہزیمتوں سے بے حد مغموم تھے۔ " انہوں نے ان کے مصائب کو ہلکا کرنے کی غرض سے ڈاکٹر انصاری کی سرکردگی میں طبی مشن روانہ کیا۔

پہلی جنگِ بلقان 1918 عیسوی کے بعد، جب فاتحین میں تقسیمِ غنیمت پر جھگڑا ہوا، اور دوسری جنگِ بلقان برپا ہوئی، تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ترکوں نے ایڈر ایڈر یانو پل پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ ایڈر یانو پل پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس وقت عالمِ اسلام میں غیر معمولی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ خبر جب رائٹر کے ذریعے دہلی پہنچی تو اس وقت رات بہت زیادہ گزر چکی تھی، مگر مولانا کی ترک دوستی کا اندازہ کیجیے کہ انہوں نے اس کا انتظار نہیں کیا کہ یہ خبر دوسری صبح کو اخبارات کے ذریعے لوگوں تک پہنچے۔

چند رفقاء چند رفقائے کار کو لے کر سیدھے جامعہ مسجد پہنچے، اور راستہ بھر چِلّا چِلّا کر مسلمانوں کو یہ روح افزا خبر پہنچاتے رہے۔ نہ وقت ہونے نہ وقت ہونے کے باوجود جامعہ مسجد میں ہزارہا آدمیوں کا اجتماع ہو گیا۔ مولانا نے وہاں درد انگیز تقریر کر کے اس خبر کی اہمیت کو واضح کیا۔ وہ رات بھی کیسی ہیجان انگیز تھی۔

مولانا محمد علی، 1976، مرتبہ سید مرتبہ سید نظر ترنی، صفحہ 89۔ ہماری جدید تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے جو بتاتے ہیں کہ سیاسی اور جذباتی امور کے لیے مسلمانوں میں کس قدر جوش و خروش پیدا ہو گیا تھا۔ مگر خدا کے دین کو خدا کے بندوں تک پہنچانے کے لیے ان میں کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوئی۔ رائٹر کی سیاسی خبریں انہیں بے چین کر دیتی تھیں، مگر قرآن کی اخروی خبروں نے انہیں بے قرار نہیں کیا کہ اس کے لیے وہ اپنے گھروں سے نکل پڑتے اور ساری قوموں کو بتاتے کہ اے لوگو!

تم مرنے والے ہو، اور مرنے کے بعد تم کو خدا کے یہاں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ موجودہ زمانے میں بے شمار قربانیوں کے باوجود مسلمانوں کی بربادی کی واحد وجہ یہی ہے کہ انہوں نے پیغام بری کا وہ کام نہ کیا جو خدا نے ان کے اوپر فرض کیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ جو خادم اپنی اصل ڈیوٹی سے ہٹ جائے، وہ خواہ کسی اور کام میں کتنی ہی جاں فشانی دکھائے، بہرحال وہ سزا کا مستحق ہوگا، نہ کہ انعام کا۔ کتاب اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 140۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.