Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Grohi Asabiat kahan tak lejati hai

Urdu · 2 min

گروہی عصبیت کہاں تک لے جاتی ہے؟ بنو مضر اور بنو ربیعہ عرب کے دو حریف قبیلے تھے؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نسلًا قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے۔ مسیلمہ، جس نے آپ کے مقابلے میں نبوت کا دعویٰ کیا، تو قبیلہ ربیعہ کا سردار طلحہ النمری مسیلمہ کے پاس آیا۔ گفتگو کے بعد طلحہ نے مسیلمہ سے کہا، "میں گواہی دیتا ہوں کہ تو جھوٹا ہے اور محمد سچے ہیں۔

" مگر ربیعہ کا کذاب مضر کے صادق سے— مگر ربیعہ کا کذاب مضر کے صادق سے مجھ کو زیادہ محبوب ہے۔ یہ کہہ کر مسیلمہ کے ساتھیوں میں شریک ہو گیا۔ تاریخ الطبری، جلد 3، صفحہ 286۔ مسیلمہ نے قرآن کے جواب میں جو کلام بنایا تھا، اس کے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن کی عظمت کو خوب جانتا تھا۔

تاہم گروہی عصبیت کی بنا پر کچھ مسخرہ پن کے جملے وضع کر کے لوگوں کو سنایا کرتا تھا۔ مثلاً اس کا ایک کلام یہ تھا: "يا زفدع، نقی نقی، لا الشاربة تمنعينا، وللماء تكدرينا؛ لنا نصف الأرض ولقريش نصف الأرض، ولكن قريشًا قوم يعتدون." تاریخ الطبری، جلد 3، صفحہ 300۔ یعنی: "اے مینڈک، ٹر ٹر کر لے! تو نہ پانی پینے والوں کو روکتی ہے اور نہ پانی کو گدلا کرتی ہے۔

زمین عرب آدھی ہم ربیعہ والوں کی، زمین عرب آدھی ہم ربیعہ والوں کی، اور آدھی قریش کی۔ مگر قریش تو— مگر قریش تو زیادتی سے کام لے رہے ہیں۔ " کتاب: اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 139۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.