Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Eik aur Waqia

Urdu · 2 min

ایک اور واقعہ: ابن عبدالبر نے "استیاب" جلد 4 صفحہ 1831 میں قطادہ کی روایت نقل کی ہے۔ عمر فاروق کہیں جا رہے تھے، راستے میں ان کو ایک بوڑھی خاتون ملی۔ آپ نے ان کو سلام کیا۔ سلام کا جواب دینے کے بعد وہ بولیں: "اے عمر!

ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازارِ عکاظ میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عمیر کہے جاتے تھے، لاٹھی ہاتھ میں لیے بکریاں چراتے تھے۔ پھر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ تم عمر کہے جانے لگے۔ پھر ایک وقت آیا کہ تم امیرالمومنین کہے جاتے ہو۔

دیکھو، رعیت کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہو، اور یاد رکھو کہ جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے، اس کے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ داروں کی طرح ہوتا ہے۔ اور جو موت سے ڈرتا ہے، اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اسی چیز کو کھودے گا جسے وہ بچانا چاہتا ہے۔ " جارود عبدی، جو اس وقت عمر فاروق کے ساتھ تھے، یہ سن کر بولے: "اے عورت! تو نے امیرالمومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی۔

" عمر فاروق نے فرمایا: "انہیں کہنے دو، جانتے ہو یہ کون ہیں؟ ان کی بات تو سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی تھی۔ عمر کو تو بدرجہ اولی سننا چاہیے۔ " یہ خاتون قبیلۂ خزرج کی خولہ بنت سالبہ تھیں، جن کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 58 کے شروع میں آیا ہے۔

بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 138۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.