انسانوں کی ایک قسم یہ بھی ہے: عمر بن ربیعہ 3292 ہجری ایک شاعر تھا جو زیادہ تر عشقیہ مضامین نظم کرتا تھا، حتیٰ کہ شریف خاندان کی عورتوں کا نام لے کر ان کے بارے میں "عریاں اشعار" کہنے لگا۔ اس کے خلاف شکایات حکومت تک پہنچیں، چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کو دھلک میں جلاوطن کر دیا، جو یمن اور حبشہ کے درمیان بحر احمر کا ایک جزیرہ تھا۔ وہ عین اس رات کو پیدا ہوا جس رات کو حضرت عمر فاروق نے انتقال فرمایا۔ لوگ اس کے بارے میں کہا کرتے تھے: "کتنا بڑا حق اٹھ گیا، اور کیسا باطل اس کی جگہ آ گیا!
" عمر ابن ربیعہ کا ایک شعر یہ ہے: "ألا ليت أم الفضل كانت قرينتي هنا أو هنا في جنة أو جهنم" کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 139۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.