اکابرِ قوم، قدیم مکے کے لوگوں نے محمد ابن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے کم سمجھا کہ خدا انہیں اپنے پیغام کے پیغام بری کے لیے چنے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کو پیغمبر ماننے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کا کلام اگر اترنا تھا تو وہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اترا؟ وقالوا لولا نزل هذا القرآن على رجل من القريتين عظيم.
سورہ نمبر 43 آیت 30۔ دو بڑے آدمیوں سے ان کی مراد مکے کے ولید ابن مغیرہ اور طائف کے عروہ بن مسعود ثقفی سے تھی۔ تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 207۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد طائف کا محاصرہ کیا، مگر محاصرہ فیصلہ کن ثابت نہ ہو سکا۔
چنانچہ آپ محاصرہ ختم کر کے مدینے کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس وقت مذکورہ عروہ بن مسعود کے دل میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حقیقت ڈال دی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ مدینہ پہنچنے سے پہلے آپ سے جا ملے۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی اجازت مانگی کہ وہ اپنی قوم میں واپس جائیں اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کریں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ تم سے جنگ کریں گے۔
عروہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں ان کا سردار ہوں اور وہ مجھ کو اپنی آنکھ سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ إنّا أحب إليهم من أبصارهم وكان مطاعًا فيهم. سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 537۔ چنانچہ وہ طائف واپس آئے، انہوں نے طائف والوں کو جمع کیا اور ایک اونچے مقام پر کھڑے ہو کر اپنے اسلام کا اعلان کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا۔
اس کے جواب میں لوگوں نے یہ کیا کہ ہر طرف سے ان کو تیروں سے مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ ایک تیر ان کے نازک مقام پر لگا اور وہ ہلاک ہو گئے۔ مکاتب الرسول تالیف علی ابن الحسین علی ابن حسین علی الاحمدی. جلد 3، صفحہ 69۔ قوم کے اکابر دراصل قوم کا ساتھ دینے کی وجہ سے اکابر بنتے ہیں۔
اگر وہ قوم کی خواہشوں کا ساتھ نہ دیں تو قوم انہیں رد کر دے، بلکہ وہ انہیں ہلاک کر ڈالے۔ عروہ بن مسعود حق کا ساتھ دینے سے پہلے اکابر کا درجہ رکھتے تھے۔ حق کا ساتھ دیتے ہی وہ اساغیر میں شمار کیے جانے لگے۔ کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 126۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.