← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Dekar Paana
Urdu · 6 min
دے کر پانا۔ نمبر 1: خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانے کا واقعہ ہے، ایک عیسائی تاجر اپنے تجارتی گھوڑوں کو لے کر دریائے فرات کے پاس سے اسلامی سرحد میں داخل ہوا۔ زیاد ابنِ حدیر نے اس سے محصول طلب کیا، اس نے محصول ادا کر دیا۔ واپسی میں وہ دوبارہ اسی راستے سے گزرا تو زیاد نے اس کے غیر فروخت شدہ گھوڑوں سے دوبارہ محصول طلب کیا۔
تاجر کو اس پر اعتراض ہوا، اس نے اپنے غیر فروخت شدہ گھوڑے اپنے غلاموں کی نگرانی میں وہیں چھوڑ دیے اور خود چل کر مدینہ پہنچا تاکہ خلیفہ سے شکایت کرے۔ اس نے مدینہ پہنچ کر حضرت عمر فاروق سے اپنا قصہ بیان کیا اور کہا کہ مجھ سے میرے گھوڑوں پر دوبارہ محصول طلب کیا جا رہا ہے۔ حضرت عمر فاروق نے اس کی بات سن کر مختصر طور پر صرف اتنا کہا کہ "کفیت" یعنی اس کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ تاجر نے سمجھا کہ خلیفہ نے اس کی شکایت کو کچھ اہمیت نہ دی۔
وہ مایوسی کی حالت میں دریائے فرات کی چوکی پر واپس آیا اور زیاد کے مطالبے کے مطابق محصول کی رقم ادا کرنے لگا، مگر زیاد نے اس سے دوبارہ رقم نہ لی اور کہا کہ خلیفہ کی طرف سے یہ حکم آ گیا ہے کہ تم سے دوبارہ محصول نہ لیا جائے۔ عیسائی تاجر اس بات سے بے حد متاثر ہوا کہ خلیفہ نے اتنی تیز کارروائی کی کہ میرا انصاف مجھ سے پہلے یہاں پہنچ گیا۔ اس نے کہا کہ اے زیاد، میں مسیحیت کو چھوڑتا ہوں اور میں اس آدمی کے دین کو اختیار کرتا ہوں جس نے تمہارے پاس یہ فرمان بھیجا ہے: وَإِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ أَنِّي بَرِئٌ مِنَ النَّسْرَانِيَّةِ وَإِنِّي عَلَىٰ دِينِ الرَّجُلِ الَّذِي كَتَبَ إِلَيْكَ هَذَا الْكِتَابَ الخراج لابي يوسف، صفحہ 149۔ نمبر 2: حضرت علی ابنِ ابی طالب چوتھے خلیفہ راشد تھے۔
ایک بار ان کی زراعت چوری ہو گئی۔ حضرت علی کو معلوم ہوا کہ وہ فلاں یہودی کے پاس ہیں۔ انہوں نے کوفہ کے قاضی شریح کی عدالت میں دعویٰ دائر کیا۔ حضرت علی نے اپنے دعوے کے حق میں دو گواہ پیش کیے، ایک اپنے غلام قمبر کو اور دوسرے اپنے لڑکے حسن کو۔
قاضی شریح نے کہا کہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں مقبول نہیں ہے اور صرف ایک گواہ دعویٰ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ چنانچہ قاضی شریح نے مقدمہ خارج کر دیا۔ زرا بدستور یہودی کے پاس باقی رہی۔ یہودی اس فیصلے کو سن کر بے حد متاثر ہوا۔
اس نے کہا کہ یہ تو نبیوں جیسا معاملہ ہے کہ ایک قاضی وقت کے حاکم کے خلاف فیصلہ کرتا ہے۔ هٰذِهِ أَحْكَامُ الْأَنْبِيَاءِ وَقَاضِيهِ يَقْضِي عَلَيْهِ الْبِدَايَةَ وَالنِّهَايَةَ جلد 11، صفحہ 108۔ اس کے بعد یہودی نے اسلام قبول کر لیا اور زرا یہ کہہ کر حضرت علی کو دے دی کہ یہ آپ ہی کی ہے، آپ کا دعویٰ بالکل درست تھا۔ کنز الامان، حدیث نمبر 17786۔
نمبر 3: بنو امیہ کے زمانے میں دمشق کی جامعہ مسجد بنائی گئی۔ مسجد کے ایک طرف ایک قدیم گرجا گھر تھا۔ مسلمانوں نے چاہا کہ گرجا کا ایک حصہ مسجد میں شامل کر لیا جائے، مگر عیسائی اس کے لیے راضی نہ ہوئے۔ خلیفہ عبدالملک نے اس کے لیے عیسائیوں کو ایک معقول رقم کی پیشکش کی، پھر بھی وہ راضی نہ ہوئے۔
چنانچہ ابتدائی تعمیر میں مسجد کا ایک گوشہ ناقص رہا۔ اس کے بعد ولید ابنِ عبدالملک کا زمانہ آیا تو اس نے بھی مسجد کی تکمیل کے لیے عیسائیوں کو راضی کرنا چاہا، مگر عیسائی دوبارہ راضی نہیں ہوئے۔ ولید ابنِ عبدالملک نے اس زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا اور اس کو مسجد میں شامل کر کے اس کی تعمیر مکمل کر دی۔ اس کے کئی سال بعد حضرت عمر ابنِ عبدالعزیز خلیفہ ہوئے۔
ان کے عدل و انصاف کی شہرت پھیلی تو عیسائیوں نے دوبارہ ان سے مل کر اپنی سابقہ شکایت کو پیش کیا۔ حضرت عمر ابنِ عبدالعزیز نے اس کو سن کر حکم دے دیا کہ گرجا کی زمین کا جو حصہ مسجد میں شامل کیا گیا ہے، اس کو توڑ کر عیسائیوں کے حوالے کر دیا جائے۔ مسلمانوں کو یہ بات بے حد شاخ گزری۔ انہوں نے کہا کہ کیا ہم اپنی مسجد کو گرا دیں، حالانکہ ہم نے اس میں اذانیں دی ہیں اور نمازیں ادا کی ہیں؟
نَهْدِمُ مَسْجِدَنَا بَعْدَ أَنْ ادَّنَّا فِيهِ وَصَلَّيْنَا فتوح البلدان، صفحہ 128۔ حضرت عمر ابنِ عبدالعزیز نے جواب دیا کہ خواہ کچھ ہو، یہ زمین اگر مسیحی عبادت خانے کی تھی تو وہ مسیحیوں کو واپس کی جائے گی۔ مسیحیوں نے جب خلیفہ کے اس فیصلے کو سنا تو وہ بے حد متاثر ہوئے۔ اب ان کا ذہن بدل گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا، ہم کو اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔ اب ہم اس زمین کو اپنی طرف سے بطور ہدیہ مسجد کو دیتے ہیں۔ فتوح البلدان، صفحہ 128۔ اس دنیا میں دینے والا پاتا ہے، اور جو شخص صرف پانا چاہے وہ کھوتا ہے۔
یہ اس دنیا کا اٹل قانون ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔ کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 128۔