← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Khuda ki Sunnat
Urdu · 8 min
خدا کی سنت۔ قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فرعون نے حق کو قبول نہیں کیا، اس نے اس کے مقابلے میں سرکشی دکھائی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سمندر میں غرق کر دیا گیا۔
اس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم نے کتنے ہی باغ اور چشمے، اور کھیتیاں اور آرام دہ مکانات، اور عیش کے سامان جن میں وہ خوش رہتے تھے، چھوڑ دیے۔ اللہ مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے۔ اور ان چیزوں کا وارث اللہ نے دوسروں یعنی بنی اسرائیل کو بنا دیا۔ پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین، اور انہیں مہلت مل سکی۔
اور اللہ نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی، یعنی فرعون سے۔ بے شک وہ سرکش اور حد سے نکل جانے والا تھا۔ اور اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا والوں پر ترجیح دی۔ اللہ نے ایسا اپنے علم کی بنا پر کیا، اور ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں کھلا ہوا انعام تھا۔
الدخان سورہ نمبر 44 آیت 25 تا 33۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا اتفاقی طور پر نہیں ہوتا، اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک قوم اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے دوسری قوم کے اوپر غالب آ گئی۔ یہ تمام تر خدا کے علم کے تحت ہوتا ہے۔ یہ خدا ہے جو خود اپنے فیصلے کی بنا پر ایک کے لیے مغلوبیت کا اور دوسرے کے لیے غلبے کا فیصلہ کرتا ہے۔
اور یہ فیصلہ اس استحقاق کی بنا پر ہوتا ہے جو کسی قوم نے علم الہی کے مطابق اپنے لیے ثابت کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جب ایک قوم غالب اور دوسری قوم مغلوب ہو جائے تو دونوں کو چاہیے کہ اس واقعے کو وہ خدا کی طرف منسوب کریں، نہ کہ کسی اور کی طرف۔ اگر یہ ذہن ہو تو وہ دونوں صحیح راستے پر قائم رہیں گے۔ غالب قوم اپنے غلبے پر خدا کا شکر ادا کرے گی، نہ کہ وہ غلبے کو اپنا کارنامہ سمجھ کر فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے۔
دوسری طرف مغلوب قوم اگر مغلوب ہونے کے بعد غالب قوم کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم شروع کر دے تو یہ اس کے لیے سراسر ایک غلط فعل ہوگا۔ کیونکہ غالب قوم خدا کے علم اور فیصلے سے غالب ہوئی ہے، نہ کہ محض اپنی سازشوں یا جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے اس نے غلبہ پایا ہے۔ ایسی حالت میں مغلوب قوم کے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنی ان اندرونی خامیوں کو دور کرے جس کی وجہ سے وہ خدا کی نظر میں بے استحقاق ثابت ہوئی ہے۔ وہ خدا کی طرف متوجہ ہو۔
وہ خدا کی طرف متوجہ ہو، نہ کہ مفروضہ ظالموں کی طرف۔ جب اصل کرنے والا خدا ہے تو دوسروں کے خلاف ہنگامہ کرنے سے کیا فائدہ؟ یہ بات سادہ معنوں میں محض توجیہ کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ وہ بات ہے جس پر قوموں کا مستقبل بنتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جس پر قوموں کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے۔
یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ صحیح ذہن سے صحیح منصوبہ بندی وجود میں آتی ہے۔ اور اگر ذہن غلط ہو تو منصوبہ بندی بھی غلط ہو جائے گی۔ مسلمانوں کی جدید تاریخ اس کی نہایت واضح اور عبرت ناک مثال پیش کرتی ہے۔ جدید دور میں مسلمان ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں سے مغلوب ہو گئے۔
کہیں براہ راست طور پر مسلمانوں کے اوپر غیر مسلم قوموں کا غلبہ قائم ہو گیا، اور کہیں بالواسطہ طور پر۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں اکثر ملکوں میں غیر مسلم اقوام کا براہ راست غلبہ بظاہر ختم ہو گیا ہے، تاہم ان کا بالواسطہ غلبہ بدستور مزید شدت کے ساتھ باقی ہے۔ اس صورتحال کے پیش آنے کے بعد مسلمانوں نے کیا کیا؟ ساری دنیا میں مسلمانوں نے اس کے جواب میں ایک ہی کام کیا ہے، اور وہ ہے غیر مسلم اقوام کے خلاف چیخ پکار یا ان سے ٹکراؤ۔
تاہم ایک صدی سے بھی زیادہ مدت کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کی لفظی چیخ پکار فضا میں گم ہو گئی، اور ان کی ٹکراؤ کی سیاست آخر کار صرف مزید بربادی پر ختم ہوئی۔ مسلمانوں کو ان کی پرشور کوششوں کا اتنا بھی فائدہ حاصل نہیں ہوا جتنا انہوں نے اپنے بچے ہوئے اثاثے میں سے اس کی راہ میں خرچ کیا تھا۔ اس کی واحد وجہ وہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا، یعنی غلط ذہن کی وجہ سے غلط منصوبہ بندی۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں غیر مسلم اقوام کے غلبے کو صرف اس نظر سے دیکھا کہ یہ کچھ ظالم لوگ ہیں جو اپنی سازشوں اور جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے مسلمانوں کے اوپر غالب آ گئے ہیں۔
انہوں نے اس واقعے کو خود غالب قوموں کا معاملہ سمجھا، نہ کہ خدا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ساری توجہ غالب اقوام کے خلاف جھوٹی چیخ پکار اور جھوٹی لڑائیوں میں صرف ہو گئی۔ اس کے برعکس اگر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ذہن قرآن کی روشنی میں بنا ہوتا تو وہ سمجھتے کہ جو کچھ ہوا ہے وہ خدا کے علم اور خدا کے فیصلے کے تحت ہوا ہے۔ یہ خود خدا ہے، نہ کہ کوئی قوم جس نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو مغلوب کر کے دوسری قوموں کو ان کے اوپر غالب کر دیا ہے۔
اگر مسلمانوں کے اندر یہ ذہن ہوتا تو وہ قوموں کی طرف دوڑنے کے لیے اگر مسلمانوں کے اندر یہ ذہن ہوتا تو وہ قوموں کی طرف دوڑنے کے بجائے خدا کی طرف دوڑتے۔ وہ دوسروں کے خلاف چیخ پکار کرنے کے بجائے اپنی اندرونی اصلاح پر سارا زور لگا دیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی نظر میں بے استحقاق ہونے کی وجہ سے مسلمان مغلوب کیے گئے تھے، اور خدا کی نظر میں استحقاق ثابت کر کے ہی وہ دوبارہ غالب حیثیت حاصل کر سکتے تھے۔ مگر مسلمان بروقت اس راز کو سمجھ نہ سکے۔
ایسے لوگوں کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں پست اور بے قیمت ہو کر رہ جائیں۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 123۔