مردہ لوگ دینی دعوت کا کام کرنے کے دو میدان ہیں: ایک ہے بنو اسرائیل جیسے لوگوں میں کام کرنا، جس کا ایک نمونہ سیدنا حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں دیکھا جا سکتا ہے، اور دوسرا ہے بنو اسماعیل جیسے لوگوں میں کام کرنا، جس کی روشن مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ بنو اسرائیل یعنی یہود نے حضرت مسیح کی بدترین مخالفت کی، انتہائی کھلے ہوئے معجزات اور انتہائی طاقتور دلائل کے باوجود انہوں نے حضرت مسیح کا اقرار نہیں کیا۔ اپنی تمام ممکن تدبیروں سے وہ حضرت مسیح کے مشن کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ جب انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوئی تو انہوں نے آخری مرحلے میں کمینہ پن کا طریقہ اختیار کیا: انہوں نے حضرت مسیح پر جھوٹے الزام لگائے۔
حضرت مسیح کے الفاظ میں وہ ابن آدم کو رومی عدالت میں لے گئے۔ وہ خود حضرت مسیح کو قتل نہیں کر سکتے تھے، چنانچہ انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ آپ پر جھوٹے الزامات لگا کر رومی حکمرانوں کے ذریعے آپ کو ہلاک کریں۔ اس معاملے میں ظلم اور کمینہ پن کی جتنی صورتیں ہیں، ان کے بس میں تھیں، وہ سب انہوں نے آخری حد تک کر ڈالیں۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی تدبیر سے آپ کو بچا لیا۔
بنو اسرائیل یعنی یہود اس وقت ایک انتہائی بے جان قوم بن چکے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری قوم میں چند افراد سے زیادہ آپ کا ساتھ دینے والے نہ نکل سکے۔ پیغمبرانہ مشن کا ساتھ دینے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے اندر اعلیٰ انسانیت زندہ ہو۔ وہ برتر مقصد کی خاطر جینے اور مرنے کا حوصلہ کر سکے۔ مگر مردہ قوم اس صلاحیت سے بالکل خالی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بنو اسرائیل کی بھیڑ میں سے چند افراد بھی نہیں نکلے جو حضرت مسیح کے پیغمبرانہ مشن کے حامل بن سکیں۔ انجیل بتاتی ہے کہ یہود میں سے جو لوگ حضرت مسیح کا ساتھ دینے والے نکلے، ان میں سے خاص لوگوں کی تعداد 12 تھی۔ یہودیوں کی سازش کے تحت جب رومی سپاہیوں نے آپ کو پکڑنا چاہا تو انجیل کے الفاظ میں سب شاگرد اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ متی باب 26 دوسری جگہ انجیل میں ہے کہ اس پر سب شاگرد اسے چھوڑ کر بھاگ گئے، مگر ایک جوان اپنے ننگے بدن پر مہین چادر اوڑھے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیا۔
اسے لوگوں نے پکڑا، مگر وہ چادر چھوڑ کر ننگا بھاگ گیا۔ مرقس باب 14 کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 122۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.