Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Ulta Nateeja

Urdu · 7 min

الٹا نتیجہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت کا آغاز عرب کے شہر مکہ سے کیا۔ اس وقت مکے میں قبیلہ قریش کے لوگوں کا غلبہ تھا، وہ آپ کے سخت مخالف ہو گئے۔ اس ابتدائی زمانے میں قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو کارروائیاں کیں، ان میں سے ایک کارروائی یہ تھی کہ وہ ولید ابن المغیرہ کے پاس جمع ہوئے، جو ان کے درمیان اپنی دانشمندی اور اپنی تجربے کاری کی وجہ سے مشہور تھا۔

انہوں نے ولید سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ محمد کے بارے میں ایسی باتیں لوگوں کے درمیان پھیلا دیں کہ وہ ان سے متوحش ہو جائیں اور ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔ اس کے بعد ان لوگوں کے درمیان مشورہ ہوا کہ لوگوں کے سامنے محمد کی تصویر کس طرح پیش کی جائے۔ کسی نے کہا کہ ہم یہ مشہور کریں کہ وہ کاہن ہیں، کسی نے کہا کہ ہم ان کی دیوانہ بتائیں، کسی نے یہ کہا کہ ہم ان کو شاعر کہیں۔ ولید نے اس قسم کی تمام رائےوں کو رد کر دیا۔

اس نے کہا کہ ہم کاہن اور دیوانہ اور شاعر کو جانتے ہیں۔ محمد کا کلام ان میں سے کسی کے کلام کے مشابہ نہیں۔ تم اس قسم کی جو بات بھی لوگوں سے کہو گے، اس کا جھوٹ ہونا ظاہر ہو جائے گا۔ ما أنتم بقائلين من هذا شيئًا إلا عُرف أنه باطل سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 270۔

لوگوں نے ولید سے کہا کہ پھر تم ہی بتاؤ کہ ہم محمد کو کیا کہیں۔ اس نے کہا کہ سب سے قریب تر بات یہ ہے کہ ان کو جادوگر بتایا جائے، اور یہ کہا جائے کہ وہ ایک ایسا ساحرانہ کلام پیش کر رہے ہیں جس کے ذریعے سے خاندان کے افراد میں جدائی ہو گئی ہے، اور ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار سے کٹ گیا ہے۔ قریش کے لوگ اس رائے پر متفق ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف چلے گئے۔ اس کے بعد جب حج کا زمانہ آیا، اور عرب کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں لوگ زیارت کعبے کے لیے مکہ آنے لگے، تو قریش کے مخالفین مکے کے چاروں طرف راستوں پر بیٹھ گئے۔

جو شخص ان کے پاس سے گزرتا، اس کو روکتے اور بتاتے: دیکھو، یہ شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جادوگر ہے، وہ ساحرانہ باتیں کرتا ہے، تم اس سے بچ کر رہو۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قریش نے اس متفقہ رائے پر باقاعدہ عمل کیا۔ چنانچہ حج کے بعد جب یہ تمام آنے والے لوگ اپنی بستیوں کو واپس ہوئے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مذکورہ خبر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اور جو لوگ زیارت کعبے کے لیے مکہ نہیں آ سکے تھے، ان کو قریش کی بات بتانے لگے۔

اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ عرب کے تمام شہروں میں پھیل گیا۔ فانتشر ذكره في بلاد العرب كلها سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 272۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر رفع ذکر الانشراح سورہ نمبر 94 آیت 4 کہا گیا ہے۔ جب حق کا ایک داعی حق کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، تو وہ لوگ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں جن کے قیادتی مصالح یا معاشی مفادات اس سے ٹکرا رہے ہوں۔

وہ دعوت اور داعی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف بے بنیاد الزامات گڑھتے ہیں، اور ان کو چاروں طرف پھیلاتے ہیں تاکہ داعی لوگوں کے درمیان بدنام ہو جائے۔ لوگ اس کی باتوں پر توجہ دینا چھوڑ دیں۔ مگر لوگوں کی مخالفانہ کوششوں کا عملی نتیجہ برعکس صورت میں نکلتا ہے۔

داعی کو بدنام کرنے کی کوشش داعی کے پیغام کو پھیلانے کا سبب بن جاتی ہے۔ بدنام کرنے کی کوشش عملاً لوگوں کے اندر تجسس کا مادہ پیدا کرتی ہے۔ وہ داعی اور دعوت کے بارے میں مزید جاننے کے شائق ہو جاتے ہیں۔ اس طرح دعوت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو جاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان بنیادی طور پر ایک معقولیت پسند مخلوق ہے۔ وہ کسی بات کو صرف اس وقت مانتا ہے جبکہ اس کی عقل بھی اس کے حق میں گواہی دے رہی ہو۔ چنانچہ مخالفین جب اپنی بے بنیاد باتیں لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں، تو خود اپنی اندرونی فطرت کے تقاضے کے تحت لوگ اس کا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بارے میں مزید تفصیلات جانیں اور پوری معلومات کی روشنی میں اپنی رائے قائم کریں۔

اس طرح داعی کے مخالفین اس بات کا ذریعہ بنتے ہیں کہ داعی جن لوگوں تک بذات خود نہیں پہنچا تھا، ان لوگوں تک بھی داعی کی بات پہنچ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ داعی حق کے خلاف پروپیگنڈا ہمیشہ داعی کے خانے میں جاتا ہے۔ اس طرح زیادہ وسیع حلقے میں داعی کی بات پہنچ جاتی ہے۔ وہ خود تلاش کر کے داعی کے کلام تک پہنچتے ہیں، اور اس کو سن کر یا پڑھ کر تفصیلی معلومات حاصل کرتے ہیں۔

اس کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں سچائی کی طلب ہوتی ہے، وہ داعی کے دین کو اختیار کر کے اس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ آدمی اگر صحیح معنوں میں حق کو لے کر اٹھے، تو نہ صرف اس کا براہ راست عمل دعوت کو پھیلانے کا ذریعہ بنتا ہے، بلکہ مخالفین کا مخالفانہ عمل بھی بالواسطہ طور پر اس کی دعوت کی توسیع و اشاعت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ مخالف کی مخالفت سے نہ گھبرائیے، بلکہ اپنے آپ کو پوری طرح حق پر کھڑا کر لیجئے۔ اور اس کے بعد آپ کے مخالفین کا منفی شور و غل بھی آپ کے حق میں ایک مثبت سرمایہ بن جائے گا۔

کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 119.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.