← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Kitna Farq
Urdu · 4 min
کتنا فرق! حضرت عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مدینے میں نفاق نے سر اٹھایا، اور عرب اور عجم میں ارتداد پھیل گیا۔ لوگ کہنے لگے کہ وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس کی وجہ سے عرب کو خدا کی مدد ملتی تھی۔ اس وقت خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور کہا کہ ان عربوں نے اپنی بکریوں اور اپنے اونٹوں کو روک دیا ہے اور اپنے دین سے پھر گئے ہیں، اور عجم کے لوگ نہاوند میں جمع ہیں تاکہ ہم سے جنگ کریں۔
ان لوگوں کا گمان ہے کہ وہ شخص جس کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی تھی وہ وفات پا گیا۔ اے لوگو! اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کی تقریر کے بعد لوگ سر جھکا کر خاموش ہو گئے اور دیر تک خاموش رہے۔
آخر حضرت عمر ابن الخطاب گویا ہوئے اور انہوں نے کہا: فَأَطْرَقُوا طَوِيلًا ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ. کنز العمال، حدیث نمبر 14164۔ حضرت ابوبکر صدیق کے سوال کے بعد لوگ کیوں دیر تک خاموش رہے، اس کی وجہ ان کی سنجیدگی اور ان کا تقویٰ تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو پہلے سوچتے تھے اور اس کے بعد بولتے تھے۔
وہ ہر قول اور ہر فعل سے پہلے اللہ سے ہدایت اور رہنمائی کی دعا کرتے تھے۔ جب خلیفہ اول نے مذکورہ مسئلہ ان کے سامنے رکھا تو اپنے مزاج کے مطابق سب کے سب سوچ میں غرق ہو گئے۔ ہر ایک دل ہی دل میں اللہ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے ہر ایک پر خاموشی طاری کر دی۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ خاموشی ایک عظیم گفتگو تھی۔ ان کا یہ سر جھکانا سب سے بڑا اقدام تھا۔ چنانچہ وہ جب بولے تو ان کا بول تمام بولوں پر بھاری ہو گیا۔ جب وہ اٹھے تو ان کا اٹھنا تمام دشمنوں کو پست کرنے کے ہم معنی بن گیا۔
کیونکہ ان کا بول خدا کی رہنمائی کے تحت تھا۔ ان کے اقدام میں خدا کی مدد ان کے ساتھ شامل ہو گئی تھی۔ اب دیکھیے کہ اس معاملے میں موجودہ مسلمانوں، خاص طور پر ان کے رہنماؤں کا کیا حال ہے۔ اس کا منظر دیکھنا ہو تو مسلمانوں کی کسی ایسی مجلس میں شریک ہو کر دیکھ لیجیے جو اس نوعیت کے ہنگامی مسئلے پر اکٹھا ہوئی ہو۔
مثلاً فلسطین، فرقہ وارانہ فساد، بابری مسجد، سلمان رشدی جیسے مسائل۔ آپ دیکھیں گے کہ موضوع کا ذکر چھڑتے ہی ہر آدمی لسانی جہاد کا شہنشاہ بن گیا ہے۔ ہر آدمی پرجوش طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ سب سے پہلے بولے اور آتشی الفاظ کی پوری ڈکشنری کو بیک وقت اپنی زبان سے دہرا ڈالے۔ مگر یہ لفظی جوش دکھانے والے عمل کے وقت پھسڈڈی ثابت ہوتے ہیں۔
مارچ کے موضوع پر تقریروں کا دریا بہانے والے مارچ کی تاریخ آنے کے بعد خاموش ہو کر گھر میں بیٹھے رہتے ہیں۔ بول میں آگے رہنے والے عمل میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بحث میں سب سے پہلے کھڑے ہونے والے اس وقت سر جھکا کر پیٹھ پیچھے ہٹ جاتے ہیں جبکہ عملی اقدام کا وقت سر پر آ گیا ہو۔ جو برتن جتنا زیادہ خالی ہو وہ اتنا ہی زیادہ آواز دیتا ہے۔
اسی طرح جو آدمی جتنا زیادہ بے عمل ہو اتنا ہی زیادہ وہ پرشور الفاظ بولتا ہے۔ بولنے والے کرتے نہیں اور کرنے والے بولتے نہیں۔ اور حقیقت کی دنیا میں کرنے کی قیمت ہے نہ کہ بڑے بڑے الفاظ ہوا میں بکھیرنے کی۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 117۔