Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Haiwaniat ki Sath par

Urdu · 7 min

حیوانیت کی سطح پر، حضرت سلیمان کے زمانۂ حکومت 973 تا 1013 میں بحر قلزم کی مشرقی شاخ کے کنارے ایلات کے مقام پر یہودیوں کی آبادی تھی۔ انہوں نے قانونِ سبت کی خلاف ورزی کی؛ ان کی شریعت میں سبت یعنی سنیچر کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں، مگر وہ اس دن مچھلی کا شکار کرنے لگے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں کثرت سے دریا میں آتی تھیں، اور بقیہ دنوں میں پانی کے نیچے چلی جاتی تھیں۔ یہود نے یہ شرعی تدبیر کی کہ دریا کے کنارے گڑھے بنائے، وہ دریا کا پانی کاٹ کر گڑھے میں ملا دیتے۔

سنیچر کے دن جب مچھلیاں گڑھے میں آ جاتیں تو وہ نکلنے کا راستہ بند کر دیتے۔ اگلے دن اتوار کو وہ ان مچھلیوں کو پکڑ لیتے۔ یہ تدبیر وہ اس لیے کرتے تھے تاکہ ان پر یہ بات صادق نہ آئے کہ وہ سبت کے دن شکار کرتے ہیں۔ دین کے نام پر یہ بے دینی اللہ کو اتنی زیادہ ناپسند ہوئی کہ ان پر اللہ کی لعنت ہوئی، وہ بندر اور سور بنا دیے گئے۔

سورہ نمبر 5 آیت 60۔ عملاً یہی حالت اگرچہ پوری قوم یہود کی تھی، تاہم ایک خاص مقام کے یہودیوں کے باطن کو غالباً ظاہری طور پر بھی مجسم کر دیا گیا تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ سورہ نمبر 2 آیت 66۔ بندر اور سور بنانے سے کیا مراد ہے، اس بارے میں مفسرین کی دو رائے ہیں۔

اکثریت نے ظاہر الفاظ پر قیاس کرتے ہوئے یہ مراد لیا ہے کہ مذکورہ گروہ حقیقی معنوں میں بندر اور سور بنا دیے گئے۔ جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس سے کوئی واضح بات ثابت نہیں۔ حدیث میں صرف اتنا ہے کہ آپ سے پوچھا گیا کہ موجودہ بندر اور سور کیا قدیم مسخ شدہ اقوام کی نسلیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ حیوانات ہمیشہ سے اسی طرح ہیں۔

صحیح مسلم، حدیث نمبر 2663۔ مجاہد کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ بندر کی صورت میں تبدیل نہیں کیے گئے، بلکہ ان کے دل مسخ کر دیے گئے۔ عن مجاهد قال: "مُسَخَّتْ قُلُوبُهُمْ وَلَمْ يُمْسَخُوا قِرَدَةً وَإِنَّمَا هُوَ مَثَلٌ ضَرَبَهُ اللَّهُ كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا" الجمعہ 5۔ ابو العالیہ کا قول ہے کہ "کونوا قِرَدَةً" خاصین سے مراد یہ ہے کہ وہ پست اور حقیر بنا دیے گئے، یعنی أَذِلَّةً صَغِيرِينَ۔

یہی رائے قطادہ اور ربیع اور ابو مالک کی بھی ہے۔ تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 290۔ موجودہ زمانے کے مفسرین میں شیخ رشید رضا نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ تفسیر المنار، جلد 1، صفحہ 284۔

سور کی خصوصیت کیا ہے؟ ستھری چیز کو چھوڑ کر گندی چیز کو اپنی خوراک بنانا۔ اس کی ایک صورت وہ ہے جو کمائی اور لین دین میں ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی حلال ذرائع پر قانع نہ رہ کر حرام سے اپنا پیٹ بھرنے لگتا ہے۔

المائدہ، سورہ نمبر 5، آیت 63۔ دوسری صورت وہ ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: "اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ نہ بنائیں، اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ بنا لیں"۔ سورہ نمبر 7، آیت 146۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ مثبت چیزوں کے بجائے منفی چیزوں کی طرف دوڑنے لگتے ہیں۔

ان کو اصلاح کے کاموں کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ البتہ ایسے کاموں کی طرف وہ تیزی سے لپکتے ہیں جن کا نتیجہ نسلوں اور کھیتوں کی ہلاکت ہو۔ ان کے سامنے تعمیر کا کام کے مواقع کھلے ہوتے ہیں، مگر وہ ان کو چھوڑ کر تخریب کے راستوں میں تیزی دکھاتے ہیں۔ ابنائے نو کے لیے نفع بخش بننے کا شوق ان میں نہیں ابھرتا۔

البتہ ان کو نقصان پہنچانے کے نعرے پر وہ باآسانی جمع ہو جاتے ہیں۔ خاموش خدمت میں ان کے لیے اپیل نہیں ہوتی۔ البتہ نمائشی ہنگاموں میں وہ خوب دلچسپی دکھاتے ہیں۔ حقیقی فائدے کے منصوبوں میں ان کے لیے کوئی کوشش نہیں ہوتی۔

البتہ بے فائدہ مشغلوں میں وہ اپنا وقت اور مال خوب خرچ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلائیے تو وہ لبیک نہ کہیں گے۔ البتہ زندہ یا مردہ شخصیتوں کی پوجا کے نام پر وہ جوخ در جوخ اکٹھا ہو جائیں گے۔ بے دینی کو دین کے نام پر کرنا بدترین جرم ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے آدمی کے اندر سے صحیح اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ وہ ایک بے حس انسان بن جاتا ہے۔ دین اور بے دینی دونوں اس کو یکساں دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جاتا ہے۔

حتیٰ کہ وہ نوبت آتی ہے جبکہ اس میں بندر اور سور کی اخلاقیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بندر کی خصوصیت کیا ہے؟ فساد اور بے حیائی۔ کسی مکان میں بندروں کا غول داخل ہو جائے تو وہ فوراً بے معنی اچھل کود اور توڑ پھوڑ شروع کر دے گا۔

ایسا ہی کچھ حال اس قوم کا ہو جاتا ہے۔ وہ زبان سے خدا کا انکار نہیں کرتی، تاہم عملاً وہ خدا کی زمین پر اس طرح رہنے لگتی ہے جیسے اس زمین کا کوئی مالک نہیں ہے۔ جیسے نہ کبھی خدا سے اس کا سامنا ہونا ہے اور نہ اپنے کیے کا حساب دینا ہے۔ بد نظمی، غیر ذمہ دارانہ زندگی، بے معنی کارروائیاں، آپس کی چھین جھپٹ، ایک دوسرے پر غرانہ، ہمدردی اور انصاف کے بجائے ظلم و فساد کو اپنا شیوہ بنا لینا، یہ اس کی عام زندگی ہو جاتی ہے۔

ایسے لوگ بظاہر انسان مگر عملاً بندر صفت ہو جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کی آبادی میں اس طرح رہنے لگتے ہیں جیسے بندر جنگلوں کی آبادی میں۔ کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 115۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.