Maulana Wahiduddin Khan
18 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Eik Khandani Jhagda

Urdu · 18 min

ایک خاندانی جھگڑا، جنگِ قادسیہ 14 ہجری میں، جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں۔ ایرانی لشکر سے ان کا ایک مشہور پہلوان گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا۔ اسلامی لشکر سے عاصم بن عمرو اس کے مقابلے کے لیے باہر آئے، ابھی ایک دو وار ہی ہوئے تھے کہ ایرانی شہسوار بھاگا۔ عاصم بن عمرو نے اس کا پیچھا کیا۔

وہ اپنے لشکر کی صفِ اول کے قریب تک جا چکا تھا کہ عاصم بن عمرو پہنچ گئے۔ انہوں نے اس کے گھوڑے کی دم کو پکڑ کر اس کو روک لیا، سوار کو اس کے اوپر سے اٹھایا، اور زبردستی اپنے گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا۔ اور اس کے بعد گھوڑا دوڑتے ہوئے اپنے لشکر میں آگئے۔ اور اس کے بعد گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے لشکر میں آگئے۔

اس قسم کے بہادر لوگ صفین و جمل 36 ہجری کی باہمی لڑائیوں میں 90,000 کی تعداد میں کٹ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر خلافتِ راشدہ کے آخر میں آپس کی لڑائیاں شروع نہ ہو گئی ہوتیں تو طاقت و قوت کا بے پناہ سیلاب جو عرب سے اٹھا تھا، ایشیا، افریقہ، اور یورپ کے تمام علاقوں کو توحید کا علاقہ بنا دیتا۔ صرف آسٹریلیا اور امریکہ ہی ممکن طور پر اس سے مستثنیٰ رہ جاتے، جو وسیع سمندروں کے دوسری طرف قدیم زمانے میں ناقابلِ عبور تھے۔ وہ کیا چیز تھی جس نے اس سیلاب کے رخ کو باہر کے بجائے خود اپنی طرف موڑ دیا؟

یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہوگا کہ یہ ایک خاندانی جھگڑا تھا جس نے بڑھ کر خونی جھگڑے کی شکل اختیار کر لی، اور بالآخر ساری اسلامی تاریخ پر چھا گیا۔ 207 عیسوی میں سیلِ ارم سے یمن میں عام تباہی آئی، یہاں کے باشندوں نے اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا رخ کیا۔ ان میں سے قبیلۂ خزاعہ مکہ آیا، اور حضرت اسماعیل 1937 تا 2074 قبلِ مسیح کی اولاد کو بے دخل کر کے مکے پر قابض ہو گیا۔ اس کے بعد مقامی باشندے ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔

تقریباً 250 سال تک قبیلۂ خزاعہ مکے پر قابض رہا۔ قصیب بن کلاب پہلا شخص ہے جس نے قریش کی بکھری ہوئی طاقت کو دوبارہ منظم کیا، اور 440 عیسوی میں لڑ بھڑ کر خزاعہ سے مکے کی سرداری چھین لی۔ قصی نے خانۂ کعبہ کی مرمت کی، رفادہ، سقایہ، حجابہ، اور قیادہ کے عہدے قائم کیے۔ خومی نشان کے طور پر لوا بنایا، خومی اسمبلی قائم کی جس کو دارالندوہ کہا جاتا تھا۔

اس کے بعد قدرتی طور پر قصی کو تمام قبائلِ قریش کی سرداری حاصل ہو گئی۔ قصی کے بعد قریش کی سرداری ان کی اولاد میں جاری رہی۔ تاہم تیسری نسل میں قصی کے خاندان میں سرداری پر جھگڑا شروع ہو گیا۔ قصی کا پوتا ہاشم نہایت لائق اور شاندار شخصیت کا آدمی تھا۔

اس نے تجارت کر کے نہ صرف اپنے مال میں اضافہ کیا بلکہ قریش کو بھی بین الاقوامی تاجر کے مقام پر پہنچا دیا۔ اس نے اپنے بھائیوں کی مدد سے شاہِ غسان، شاہِ حبش، امرائے یمن اور عراق و فارس کی حکومتوں سے تجارتی معاہدے کیے اور خصوصی مراعات حاصل کیں۔ وہ قیصرِ روم سے یہ پروانہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ قریش کا تجارتی مال شام و فلسطین میں بغیر کسی ٹیکس کے داخل ہوتا رہے گا۔ اب قریش کے تجارتی قافلے گرمی کے زمانے میں شام کی طرف جانے لگے، کیونکہ وہ ٹھنڈا اور شاداب علاقہ تھا، اور جاڑے میں یمن کی طرف سفر کرنے لگے جو کہ گرم علاقہ ہے۔

قریش، سورہ نمبر 106 آیت 2۔ ہاشم کے حسنِ تدبیر سے قریش کی اقتصادیات نے بہت تیزی سے ترقی کی، اور نتیجتاً سارے قبیلے میں ان کی عظمت قائم ہو گئی۔ ہاشم کی اس عزت و ترقی نے خاندان کی دوسری شاخ کے اندر ان کے خلاف منافست پیدا کر دی۔ ہاشم کے بھائی عبد شمس اور ان سے زیادہ ان کے بیٹے امیہ کو ہاشم کی سرداری ناپسند تھی۔

امیہ نے اس کو اپنے چچا سے چھیننے کی بہت کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے، حتیٰ کہ اسی رنج و غم میں وہ ایک بار مکہ چھوڑ کر شام چلے گئے اور 10 سال تک وہاں پڑے رہے۔ ہاشم کے بعد دوبارہ ان کے بیٹے عبدالمطلب اپنی وجاہت و صلاحیت کی بنا پر قریش کے سردار ہو گئے، اور امیہ کی اولاد اس سے محروم رہی۔ اس طرح سرداری قصی کی ہاشمی شاخ میں چلتی رہی اور اس کی اموی شاخ کو حاصل نہ ہو سکی۔ 8 ہجری میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 10,000 اصحاب کے ساتھ فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے ایک موقع پر اپنے چچا عباس سے کہا کہ ابو سفیان کو لے کر راستے میں کسی گھاٹی پر بیٹھ جائیں تاکہ ابو سفیان، جو بدر کے بعد قریش کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اسلامی فوج کو گزرتے ہوئے دیکھیں۔

حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ ابو سفیان کو لے کر ایک تنگ پہاڑی راستے کی طرف گئے اور وہاں بیٹھنے کے لیے کہا تو ابو سفیان کو اندیشہ ہوا۔ ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا: غدراً یا بنی ہاشم؟ سیر اعلیٰ النبلاء جلد 2 صفحہ 110۔

یعنی: بنی ہاشم، کیا غداری کا ارادہ ہے؟ اس کے بعد جب 10,000 کی تعداد میں مسلح فوج سامنے سے گزری تو ابو سفیان پر ہیبت طاری ہو گئی۔ انہوں نے کہا: لقد أصبح مُلک ابن أخيك الغداء تعظيماً سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 404۔ یعنی: تمہارے بھتیجے کی حکومت آج بہت عظیم ہو گئی۔

خاندان عبد مناف کی ان دو شاخوں میں یہ چپخلش اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ زمانۂ جاہلیت میں یمن کا ایک شخص کچھ سودا لے کر مکہ آیا۔ ایک شخص نے اس کا سودا خریدنے کے لیے لیا اور پھر اس کو نہ قیمت دی اور نہ سودا واپس کیا۔ وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر چیخنے لگا۔ یہ واقعہ عرب آن کے انتہائی خلاف تھا۔

چنانچہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ اس کی مدد کے لیے اٹھے۔ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ مکے میں اگر کسی مسافر اور اجنبی کو ستایا گیا تو وہ اس کی پوری حمایت کریں گے۔ بنو ہاشم کے ساتھ اس معاہدے میں بنو اسد، بنو زہرہ، بنو تیم بھی شریک ہو گئے۔ مگر عبد شمس کا خاندان بنو ہاشم کے خلاف اپنی جلن کی وجہ سے معاہدے میں شریک نہیں ہوا۔

اس طرح کے واقعات جو تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں، وہ بنو امیہ اور بنو ہاشم کے درمیان اسی خاندانی کشمکش کے مظاہر ہیں۔ قصی بن کلاب کے خاندان کی دو شاخوں میں سرداری کی منافست جاری رہی، اکثر چھوٹے چھوٹے جھگڑے بھی ہوتے رہے، یہاں تک کہ ہاشم کے خاندان میں پیغمبر پیدا ہو گئے۔ اب اموی خاندان کی جلن اپنے شباب پر پہنچ گئی۔ پہلے انہوں نے نبوت کی مخالفت کر کے بنی ہاشم کو زیر کرنا چاہا۔

پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام مخالفین کو شکست دے کر مکے پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ظاہر ہو گیا کہ نبوت کی مخالفت کرنا فضول ہے۔ ابو سفیان، ان کے لڑکے معاویہ، اور دوسرے امویوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تاہم یہ احساس لوگوں کے اندر باقی رہا کہ نبوت کے بعد سیاسی اقتدار بنی ہاشم کے ہاتھ میں نہ جانے دیں گے۔ حضرت عمر اپنے بعد علی ابن ابی طالب کو خلافت کے لیے موزوں ترین شخص سمجھتے تھے، مگر غالباً اسی اندیشے کی بنا پر وہ آن جناب کو نامزد نہ کر سکے۔

حضرت عثمان، جو خاندانِ امیہ کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی شہادت کے بعد جب حضرت علی کو خلیفہ بنایا گیا تو بنو امیہ کے لیے یہ بالکل ناقابلِ برداشت تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد قصاص کے مسئلے نے ان کو فوری طور پر ایک کامیاب سیاسی حربہ دے دیا۔ اس جذباتی نعرے پر انہوں نے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو اپنے گرد اکٹھا کر لیا۔ اگرچہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے کہ خلیفہ چہارم کو منصبِ خلافت سے ہٹا دیں، تاہم معاویہ بن ابی سفیان ابن حرب ابن امیہ نے اپنی گورنری سے فائدہ اٹھا کر مملکتِ اسلامی کے نصف سے زیادہ حصے کو سیاسی طور پر کاٹ لیا۔

حضرت عثمان کی شہادت کے نام پر عوام میں ایسی آگ بھڑکائی کہ کچھ لوگوں نے مجنونانہ طور پر حضرت علی کو قتل کر دیا۔ جنگِ جمل، جنگِ صفین، جس میں 90,000 مسلمان کٹ گئے اور 10 سال کے لیے اسلام کی توسیع کا سیلاب رک گیا، وہ دراصل امویوں اور ہاشمیوں کی اسی خاندانی لڑائی کا شاخسانہ تھا جس نے پوری امت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حسن ابن علی حسن ابن علی اس راز کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہو گئے۔

انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی حسین ابن علی کو بھی مشورہ دیا کہ خلافت کے معاملے سے بالکل الگ ہو جائیں، کیونکہ لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ نبوت اور خلافت دونوں کو علوی خاندان میں جمع ہونا برداشت کر لیں۔ مگر حضرت حسین کی رائے یہ تھی کہ حق کے لیے جان دے دینا باطل کے آگے سر جھکانے سے زیادہ ہے۔ انہوں نے خلافت کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ یہ واقعہ 61 ہجری کا ہے۔

اس کے بعد اموی حکومت قائم ہو گئی، مگر بنو امیہ کو بنو ہاشم کے خلاف جو بغض و عناد تھا، وہ ان کے انتظامِ ملکی میں ظاہر ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ ان کا ذہن یہ بن گیا کہ ہاشم کی اولاد کا خاتمہ کر دو تاکہ مستقبل میں کوئی خلافت کا دعویدار باقی نہ رہے۔ ان وجوہ سے وہ فضا پیدا نہ ہو سکی جس میں بنو ہاشم اپنی سیاسی حق تلفی کو بھول جاتے۔ اندر اندر ان کے دل میں مخالفت کی آگ سلگتی رہی، یہاں تک کہ 132 ہجری کے خاتمے نے یہ دوسرا انقلاب دیکھا کہ بنو عباس نے ایرانیوں کی مدد سے بنو امیہ کا خاتمہ کر دیا۔

بنو امیہ کا فتنہ انتہائی شدید تھا، مگر وہ تمام تر سیاسی تھا، اس لیے سیاست کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو گیا۔ مگر بنو ہاشم سے جو جوابی غلطی ہوئی کہ خلافت کو اپنا حق ثابت کرنے کے لیے انہوں نے خلافت کو عقیدے کا مسئلہ بنا دیا۔ اس غلطی نے ایک سیاسی قضیے کو مذہبی حیثیت دے دی، اور اس امکان کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا کہ دوسرے سیاسی جھگڑوں کی طرح یہ جھگڑا صرف وقتی نقصان پہنچائے اور بعد کی نسلوں کے لیے محض تاریخ کا موضوع بن کر رہ جائے۔ سیاست کو مذہب بنانے کی اس غلطی نے اسلام کو جو نقصانات پہنچائے، ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔

مثال کے طور پر، وضع حدیث کا فتنہ سب سے پہلے اسی محرک کے تحت شروع ہوا۔ بے شمار حدیثیں دونوں طرف سے گھڑی گئیں۔ ایک طرف بنو ہاشم نے حضرت علی کی فضیلت میں یہ حدیث نکالی: "أنا مدینۃ العلم وعلی بابها" الموضوعات لابن الجوزی جلد 1 صفحہ 352۔ یعنی: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔

دوسری طرف فریق ثانی نے ایک روایت گھڑی اور کہا کہ پوری حدیث دراصل اس طرح ہے: "أنا مدینۃ العلم وأبو بكر أساسها وعمر حیطانها وعثمان سقفها وعلی بابها" کشف الخفا للعجلونی جلد 1 صفحہ 332۔ یعنی: میں علم کا شہر ہوں، ابوبکر اس کی بنیاد ہے، عمر اس کی دیوار ہے، عثمان اس کی چھت ہے، علی اس کا دروازہ ہے۔ اس قسم کی چیزوں سے اسلام کو جو عملی نقصان پہنچا، اس کی تلافی اب ممکن نہیں۔ تاہم یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنی رحمتِ خاص سے قرآن کو محفوظ کر دیا۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو ان جھگڑوں اور ان کے پیدا کردہ فتنوں میں دینِ حق گم ہو جاتا، اور اللہ کے بندے قیامت تک کے لیے بے آمیز سچائی کو جاننے سے محروم ہو جاتے۔ تاریخ کی تمام کامیابیاں باہمی اتفاق کا نتیجہ ہیں، اور تاریخ کی تمام ناکامیاں باہمی اختلاف کا نتیجہ۔ انسان خواہ ذاتی طور پر نیک اور مخلص کیوں نہ ہوں، ان میں ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہونا بالکل ناگزیر ہے۔ کسی نہ کسی وجہ سے، حتیٰ کہ بعض اوقات بلاوجہ بھی، دو افراد یا دو گروہوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔

اس لیے اتحاد کی واحد صورت یہ ہے کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے، کیونکہ اختلاف سے خالی انسانی معاشرہ اس زمین پر ممکن ہی نہیں۔ وہی لوگ کوئی بڑا کام کر سکتے ہیں جو ذاتی اعتبارات پر قومی اعتبارات کو ترجیح دے سکیں، جو اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھا چکے ہوں کہ اختلافی باتوں کو نظر انداز کر کے عملی اتحاد پر قائم رہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے کوئی رکاوٹ رکاوٹ نہیں بنتی۔ کسی دشمن کی سازش یا عداوت ان کو نقصان پہنچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔

ان کا ہر سال میں متحد رہنا ایک ایسی طاقت بن جاتا ہے جو ہر امکانی صورتحال سے نمٹنے کی یقینی ضمانت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ ذاتی شکایتوں سے اوپر اٹھ کر سوچنا نہ جانتے ہوں، جو ذاتی اختلافات کو اجتماعی مفاد پر قربان نہ کر سکیں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ ان کی کوششیں یا تو محدود ہو کر رہ جاتی ہیں یا خود اپنے بھائیوں کو نقصان پہنچانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنے وسائل اور مواقع کو اپنے اندرونی جھگڑوں میں برباد کرتے رہتے ہیں۔

ان کے اندر ہمیشہ ایسے کمزور گوشے باقی رہتے ہیں جہاں سے ان کا دشمن ان کے اندر گھس آئے اور ان کے بارے میں اپنے خطرناک منصوبوں کو پورا کر سکے۔ یہ اختلافی سیاست اس وقت اور زیادہ مہلک ہو جاتی ہے جبکہ اس کو عقیدہ بنا لیا جائے۔ سیاسی اختلاف کبھی نہ کبھی ختم ہو جاتا ہے، مگر جب اس کو اعتقادی اختلاف کا درجہ دے دیا جائے تو اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نہیں، یہاں تک کہ خدا خود ظاہر ہو کر فیصلہ فرما دے۔ کتاب اسباقِ تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 108۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.