Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Khuda ka Kalima un ke haq me pura hokar raha

Urdu · 9 min

خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام قبل مسیح، حضرت موسیٰ علیہ السلام 1400-1520 قبل مسیح کی آمد سے ساڑھے تین ہزار برس پہلے یہ واقعہ ہوا کہ فلسطین اور شام کے علاقے کے کچھ عرب، جن کو امالیخ کہا جاتا تھا، مصر میں داخل ہوئے اور وہاں کے مقامی حکمرانوں کے آپس کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر مصر کی سلطنت پر قابض ہو گئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام 1796-1906 جب نوجوانی کی عمر میں فلسطین سے مصر پہنچے تو اس وقت مصر پر ان کے انہی ہم قوموں کی حکومت تھی۔ ایک عورت کی پیدا کردہ بعض ابتدائی مشکلات کے بعد آپ کو مصر میں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔

آپ ایک شاندار شخصیت کے مالک تھے، اور آپ کے اندر غیر معمولی انتظامی صلاحیت تھی۔ مصری حکمرانوں کو نسلی قربت کی وجہ سے آپ کی صلاحیتوں کے اعتراف میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ آپ کے زمانے کے عرب بادشاہ ابو فیص نے آپ کے دین کو قبول نہ کرتے ہوئے بھی حکومت کا تمام کاروبار آپ کے سپرد کر دیا۔ اس کے بعد حضرت یوسف نے اپنے والد حضرت یعقوب یعنی اسرائیل اور دیگر اہل خاندان کو مصر بلا لیا۔

یہ لوگ تقریباً 400 سال تک مصر کی حکومت پر چھائے رہے۔ مصر کے آئینی حکمران اگرچہ اب بھی مشرک امالیخ تھے، مگر حکومت پر عملاً بنی اسرائیل کا قبضہ تھا۔ بنی اسرائیل ابتداً جب مصر آئے تو ان کو یہاں کی انتہائی زرخیز زمینوں میں بسایا گیا، اور حکومت کے اعلیٰ ترین مناصب ان کے لیے مخصوص رہے، مگر یہ اکثریت کے اوپر اقلیت کی حکومت تھی۔ بائبل کے بیان کے مطابق یعقوب یعنی اسرائیل کا گھرانہ جو ملک مصر منتقل ہوا، ان کی تعداد حضرت یوسف کو ملا کر 68 تھی۔

توالد و تناسل نیز تبلیغ کے ذریعے دور قدیم کے ان مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ 500 برس بعد جب حضرت موسیٰ نے مردم شماری کرائی تو صرف ان کے مردوں کی تعداد 6 لاکھ سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اگرچہ اس زمانے کی مصر آبادی کے قطعی اعداد و شمار معلوم نہیں ہیں۔ اگرچہ اس زمانے کی مصر آبادی کے قطعی اعداد و شمار معلوم نہیں ہیں، تاہم تخمینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصر کی اس زمانے کی آبادی میں بنی اسرائیل کی تعداد تقریباً 10 فیصد ہوگی۔ حضرت یوسف نے 110 سال کی عمر پائی۔

آپ کے 3,400 سال بعد مصر میں عرب حکمرانوں کے خلاف ردعمل ہوا۔ لمبے خون خرابے کے بعد بالآخر قبطی غالب آئے۔ بیرونی حکمرانوں کو تخت سے بے دخل کر دیا گیا، اور مصر پر ایک قبطی خاندان کی حکومت قائم ہوئی جس کے حکمرانوں نے فرعون کا لقب اختیار کیا۔ قبطی حکومت کے قیام کے بعد اگرچہ ڈھائی لاکھ عربوں کو مصر سے نکال دیا گیا تھا، تاہم بنی اسرائیل اب بھی وہاں رکھے گئے تاکہ نئے حکمرانوں کے لیے بیگار کا کام دے سکیں۔

بائبل کے الفاظ میں، مصریوں نے خدمت کروانے میں بنی اسرائیل پر سختی کی اور انہوں نے سخت محنت سے گارا اور اینٹ کا کام اور سب خدمت کھیت کی کروا کے ان کی زندگی تلخ کی۔ اور ان کی ساری خدمت جو وہ ان سے کراتے تھے مشقت کی تھی۔ خروج باب 1 آیت 13 تا 14 حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل اسی دور دورِ مشقت سے گزر رہے تھے۔ آپ نے قبطی فرعونی تہذیب کے مقابلے میں مغلوب حیثیت اختیار کرنے کے بجائے خود ان کے اوپر اقدام کا طریقہ اختیار کیا۔

آپ نے دعوت دینی شروع کی کہ دینِ خداوند کو اختیار کرو ورنہ تم سب کے سب تباہ کر دیے جاؤ گے۔ یہ چیز فرعون کے غصے میں صرف اضافہ کر سکتی تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے لیے مصر کی زندگی آپ کے آنے کے بعد تلخ تر ہو گئی۔ حتیٰ کہ اس میں مزید یہ اضافہ ہوا کہ شاہی حکم کے تحت بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے بیٹوں کو قتل کیا جانے لگا تاکہ ان کی نسل دھیرے دھیرے مصر سے ختم ہو جائے۔

قدیم مصری آثار کی کھدائی کے دوران 1896 عیسوی میں ایک کتبہ ملا ہے جس میں حضرت موسیٰ کے زمانے کا فرعون منفتاح فخر کے ساتھ کہتا ہے: "اور اسرائیل کو مٹا دیا گیا، اس کا بیج تک باقی نہیں۔ " اس وقت بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے شکایت کی: "آپ کے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جا رہے تھے، اور اب آپ کے آنے کے بعد بھی ستائے جا رہے ہیں۔ " سورہ نمبر 7 آیت 129 اس انتہائی نازک مرحلے میں بنی اسرائیل کو جو جواب دیا گیا وہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہے: وَأَوْحِينَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّ وَآلِ قَوْمِكُمَا بِمِسْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ سورہ نمبر 10 آیت 87 یعنی: اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی کی کہ تم دونوں اپنی قوم کو مصر میں ٹھہراؤ اور اپنے گھروں کو مرکز عمل بنا لو اور نماز قائم کرو اور مومنین کو بشارت دے دو۔ اس آیت میں جو پروگرام دیا گیا ہے اس کو حسبِ ذیل طریقے پر بیان کیا جا سکتا ہے: نمبر ایک، جہاں ہو وہاں جمے رہو، اپنے اندر خوف و انتشار کی جگہ مت دو۔

یہ وہی چیز ہے جس کو حضرت مسیح علیہ السلام نے ان لفظوں میں کہا تھا: "جب تک عالمِ بالا سے تم کو قوت کا لباس نہ ملے، اس شہر میں ٹھہرے رہو۔ " لوقا باب نمبر 24 آیت 49 نمبر دو، اپنے گھر کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لو یعنی باہمی اتحاد، اندرونی استحکام، آپس کے صبر و نصیحت، اور ذاتی ذرائع پر انحصار، یہ وہ چیزیں ہیں جن پر تمہیں موجودہ حالت میں اپنی توجہات کو مرتکز رکھنا چاہیے۔ نمبر تین، نماز قائم کرو یعنی اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرو، اس کی یاد، اس سے مانگنا، اس کے آگے اپنے آپ کو بالکل جھکا دینا، ان صفات کو زیادہ سے زیادہ اپنے اندر پیدا کرو۔ نمبر چار، یہی وہ طریقِ عمل ہے جس میں تمہارے لیے دنیا و آخرت کی تمام خوشخبریاں چھپی ہوئی ہیں۔

پوری یکسوئی کے ساتھ ان کی تکمیل میں لگ جاؤ۔ اس سے نکاتی پروگرام کو مختصر طور پر اس طرح کہہ سکتے ہیں: استقامت، داخلی تعمیر، تعلق باللہ۔ اس پروگرام پر عمل کرنے کا بالآخر جو نتیجہ نکلا وہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہے: "اور جو لوگ کمزور کر دیے گئے تھے، ہم نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا مالک بنا دیا جس میں ہم نے برکت دی ہے، اور تمہارے رب کا بہترین کلمہ بنی اسرائیل کے لیے پورا ہو کر رہا، اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو اس کی صنعتوں اور اس کے فارموں کے ساتھ مٹا کر رکھ دیا۔ " الاعراف سورہ نمبر 7 آیت 137 کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 104.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.