Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Kabhi peechey hatna sab se bada Iqdaam

Urdu · 9 min

کبھی پیچھے ہٹنا سب سے بڑا اقدام ہوتا ہے، مگر اس کو وہی لوگ جانتے ہیں جو بڑے دل والے ہوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 11 ہجری کے بعد 20 سال تک فتوحاتِ اسلام کا زبردست سلسلہ جاری رہا۔ ہر مہینے کسی نہ کسی بڑے علاقے کے فتح کی خبر آتی تھی، مگر تیسرے خلیفہ کی شہادت 35 ہجری کے ساتھ جو باہمی لڑائیاں شروع ہوئیں، انہوں نے تقریباً 10 سال تک فتوحات کا سلسلہ ختم کر دیا۔ وہ شخص جس نے اس بند دروازے کو دوبارہ کھولا، وہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ تھے۔

41 ہجری میں آپ کی خلافت سے دستبرداری، بظاہر میدانِ عمل سے واپسی کا ایک فیصلہ تھا، مگر اس واپسی نے اسلامی تاریخ میں اقدام و عمل کے نئے امکانات کھول دیے۔ حسن ابن علی ابن ابی طالب، شعبان 3 ہجری میں پیدا ہوئے، ربیع الاول 50 ہجری میں وفات پائی۔ آپ کے والد حضرت علی کی شہادت 17 رمضان 40 ہجری کو کوفہ میں ہوئی، تو آپ کی عمر 37 سال تھی۔ اس وقت صرف عراق اور ایران حضرت علی کے زیرِ خلافت رہ گئے تھے۔

اس کے علاوہ یمن، حجاز، شام، فلسطین، مصر وغیرہ میں امیر معاویہ کی حکومت قائم تھی۔ حضرت علی کے زیرِ خلافتِ علاقے میں بھی بہت سے لوگ درپردہ آپ کے مخالف تھے۔ حضرت علی کی شہادت کے بعد لوگوں نے امام حسن کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی، جو آپ کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔ حضرت حسن نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے خلافت کی ذمہ داری کو قبول کر لیا، مگر ان کے اندر چونکہ اقتدار کی ہوس نہ تھی، انہوں نے بہت جلد اس حقیقت کو محسوس کر لیا کہ موجودہ حالات میں ان کا خلافت پر اصرار کرنا صرف ملت کے انتشار میں اضافے کے ہم معنی ہوگا۔

انہوں نے ایک حقیقت پسند انسان کی طرح ایک بار اپنے چھوٹے بھائی حضرت حسین سے کہا تھا: "میں جانتا ہوں کہ نبوت و خلافت دونوں ہمارے خاندان میں جمع نہیں رہ سکتیں۔ " تاریخ الاسلام للذہبی، جلد 4، صفحہ 40۔ اسی نزاکت کی وجہ سے آپ نے بیعت کے وقت لوگوں سے یہ اقرار لے لیا تھا کہ "میں جس سے جنگ کروں، تم اس سے جنگ کرو گے؛ میں جس سے صلح کروں، تم اس سے صلح کرو گے۔ " حضرت علی کے بعد کوفہ کے لوگوں نے حضرت حسن کو خلیفہ بنایا۔

دوسری طرف حضرت امیر معاویہ کے لیے حضرت علی کا اس دنیا سے جانا گویا راستہ صاف ہونے کے ہم معنی تھا۔ انہوں نے حضرت علی کی شہادت کی خبر ملتے ہی اپنے لیے امیرالمومنین کا لقب اختیار کر لیا، اور یہ منصوبہ بنایا کہ بقیہ اسلامی علاقوں یعنی عراق و ایران کو بھی اپنے ماتحت کر کے اپنی حکومت کو مکمل کر لیں۔ امیر معاویہ تجدیدِ بیعت سے فارغ ہونے کے بعد 60,000 کا لشکر لے کر دمشق سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ کوفے میں داخلے سے پہلے انہوں نے امام حسن کو پیغام بھیجا کہ "جنگ سے بہتر یہ ہے کہ آپ مجھ سے صلح کر لیں اور مجھ کو خلیفۂ وقت تسلیم کر لیں۔

" امام حسن کے پاس بھی اس وقت 60,000 کا لشکر تھا جو لڑنے مرنے پر تیار تھا، مگر امام حسن نے مسلمانوں کو باہمی خون ریزی سے بچانا زیادہ ضروری سمجھا۔ وہ اپنے حقِ خلافت سے ازخود دستبردار ہو گئے اور صرف 6 ماہ خلیفہ رہ کر امیر معاویہ کے ہاتھ کوفے کی مسجد میں بیعت کر لی۔ امام حسن کے پرجوش حامیوں کے لیے یہ ذلت ناقابلِ برداشت تھی۔ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف بہت شور و غل کیا۔

آپ کو "آرُن لِلمسلمین" یعنی مسلمانوں کے لیے "ننگ" کا خطاب دیا، کہا کہ آپ کافر ہو گئے ہیں، آپ کے کپڑے نوچے، حتیٰ کہ آپ پر تلوار سے حملہ کیا، مگر آپ کسی بھی حال میں مقابلہ آرائی کی سیاست اختیار کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ بلکہ فرمایا: "خلافت اگر معاویہ بن ابو سفیان کا حق تھا تو ان کو پہنچ گیا، اور اگر یہ میرا حق تھا تو میں نے ان کو بخش دیا۔ " ایک شخص کے پیچھے ہٹ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف باہمی اجتماعیت میں تبدیل ہو گیا، اور 41 ہجری، جو اسلامی تاریخ میں صفین و جمل کے بعد تیسری سب سے بڑی باہمی خون ریزی کا عنوان بنتا، عام الجماعت کے نام سے پکارا گیا۔ وہ اختلاف کے بجائے اتحاد کا سال بن گیا۔

مسلمانوں کی قوت، جو آپس کی لڑائیوں میں برباد ہوتی، اسلام کی اشاعت و توسیع میں صرف ہونے لگی۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی پیچھے ہٹنے ہی کا نام آگے بڑھنا ہوتا ہے، اگرچہ بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔ حضرت حسن کا یہ عمل کسی قسم کی پسپائی یا فرار نہ تھا؛ یہ انتہائی مکمل سیاست تھی، اور عین وہی چیز تھی جس کا نمونہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی سے قائم فرمایا ہے۔ اجتماعی زندگی کا معاملہ انتہائی نازک معاملہ ہے۔

اگر کوئی شخص صرف اقدام اور مقابلے کی اصطلاحوں میں سوچنا جانتا ہو تو وہ کبھی اجتماعی اصلاح کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا، کیونکہ اجتماعی زندگی مختلف الخیال قوتوں کے مجموعے کا نام ہے۔ اس میں ناقابلِ قیاس حد تک مختلف صورتیں پیش آتی رہتی ہیں۔ اس لیے اجتماعی زندگی میں طریقِ عمل کا کوئی ایک معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ ان طاقتوں کو سمجھا جائے جو بالمقابل محاذ میں مصروفِ کار ہیں، اور اپنی اور دوسروں کی حقیقی صورتحال کا موازنہ کر کے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے۔

یہ کام بیک وقت نہایت گہری نگاہ کا طالب ہے، اور اسی کے ساتھ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ذہن کا بھی۔ اجتماعی مقابلے میں کبھی اپنے آپ کو مکمل طور پر نظریاتی تبلیغ کے دائرے میں محدود رکھنا پڑتا ہے۔ اس کی مثال مکے کے ابتدائی 12 سال ہیں۔ کبھی حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ فریقِ مخالف کے چیلنج کو میدانِ جنگ میں قبول کیا جائے۔

اس کی ایک مثال غزوۂ بدر ہے۔ کبھی دور رس نتائج کو پانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ فریقِ ثانی سے براہِ راست تصادم کرنے سے بچا جائے، خواہ اس کی قیمت یہی کیوں نہ ہو کہ فریقِ ثانی کے ایک طرفہ مطالبات مان لینے پڑیں۔ اس کی ایک مثال معاہدۂ حدیبیہ ہے۔ اسلام کی اصطلاح میں یہ سیاست کا صبر ہے، جو شخص سیاست میں صابرانہ طریقِ کار کا بوتا نہ رکھتا ہو۔

اس سے اسلام کا کم سے کم مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سیاست کے میدان میں داخل نہ کرے۔ کامیاب اقدام وہی کر سکتا ہے جو کامیاب پسپائی کا راز جانتا ہو: پیچھے ہٹنا بزدلی نہیں، حکمتِ عملی ہے۔ اقتدار سے نہ ٹکرانا ظلم کو برداشت کرنا نہیں، بلکہ ظلم کو جڑ سے مٹانے کی طاقت فراہم کرنا ہے۔ سیاست کو ترک کرنا سیاسی خودکشی نہیں، بلکہ معاشرے کے دیگر عوامل کو بروئے کار آنے کا موقع دینا ہے۔

احتجاج سے گریز کرنا مسئلے سے صرف صرف نظر کرنا نہیں، بلکہ اپنی قوتوں کو مثبت تعمیر کی راہ میں لگانا ہے۔ جو شخص فوری ردِعمل کے تحت سیاست کے میدان میں کود پڑتا ہے، اس سے زیادہ سیاست سے ناواقف اور کوئی نہیں۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 100۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.