← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Sachchai ka Zore
Urdu · 7 min
سچائی کا زور ابنِ ہشام نے نقل کیا ہے کہ مکے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جس نے لوگوں کے سامنے باآوازِ بلند قرآن پڑھا، وہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ایک روز جمع ہوئے، انہوں نے کہا: "خدا کی قسم، قریش نے ابھی تک اس قرآن کو بلند آواز سے نہیں سنا۔ کیا کوئی ہے جو قریش کے لوگوں کو قرآن سنائے؟ " حضرت عبداللہ ابن مسعود نے کہا: "میں سناؤں گا۔
" عبداللہ ابن مسعود دبلے اور کمزور جسم کے تھے، مکے میں ان کا کوئی قبیلہ بھی نہ تھا جو ان کی حمایت کرے۔ وہ اس وقت لوگوں کی بکریاں چراتے تھے، اور ابنِ ام عبد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے کہا کہ تمہارے بارے میں ہمیں ڈر ہے۔ اس کام کے لیے ہم ایسا آدمی چاہتے ہیں جس کا مکے میں قبیلہ ہو، اور قریش جب اس پر حملہ کریں تو اس کا قبیلہ قریش کو روکے۔
عبداللہ ابن مسعود نے کہا: "مجھے جانے دو، کیونکہ اللہ میری مدد کرے گا۔ " حضرت عبداللہ ابن مسعود روانہ ہوئے اور اس مقام پر پہنچے جہاں قریش کے لوگ جمع تھے۔ وہ ان کے پاس کھڑے ہو گئے، بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا، اور اس کے بعد بلند آواز سے سورہ رحمن پڑھنا شروع کیا۔ وہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ قریش نے آپس میں پوچھنا شروع کیا کہ یہ ابنِ ام عبد کیا پڑھ رہا ہے۔
کسی نے کہا کہ یہ اس کلام کا کوئی حصہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا ہے۔ یہ سن کر وہ اٹھے اور عبداللہ ابن مسعود کے منہ پر مارنا شروع کیا۔ تاہم وہ برابر پڑھتے رہے۔ اس کے بعد جب عبداللہ ابن مسعود اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے تو ان کے چہرے پر مار کا نشان ظاہر ہو چکا تھا۔
لوگوں نے دیکھ کر کہا: "تمہارے بارے میں ہم کو اسی کا اندیشہ تھا۔ " عبداللہ ابن مسعود نے کہا: "خدا کے دشمن آج مجھ کو جتنا کمزور معلوم ہوئے، اتنا کمزور مجھے کبھی معلوم نہیں ہوئے تھے۔ اور اگر تم چاہو تو کل پھر میں اسی طرح جا کر ان کو قرآن سناؤں گا۔ " ما كان أعداء الله أهون علي منهم الآن ولئن شئتم لأغادينهم بمثلها غداً سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 275۔
ایک کمزور اور بے سہارا آدمی کے اندر یہ قوت کہاں سے آئی کہ وہ کسی مادی تحفظ کے بغیر دشمنوں کے مجمعے میں گھس گیا اور ان کو بلند آواز سے وہ کلام سنانے لگا جس کا سننا ان کو سب سے زیادہ ناگوار تھا؟ اس قوت کا راز سچائی ہے۔ عبداللہ ابن مسعود کو کامل یقین تھا کہ وہ حق پر ہیں اور قریش باطل پر۔ قریش نے جب عبداللہ ابن مسعود کو مارنا شروع کیا تو ان کا یقین اور بڑھ گیا، کیونکہ ان کے دل نے کہا کہ قریش کے پاس دلیل کی زبان میں ان کے جواب کے لیے کچھ نہیں ہے۔
ان کی جارحیت صرف اس بات کا ثبوت تھی کہ دلیل کے میدان میں وہ اپنے کو بالکل بے بس پا رہے ہیں۔ عبداللہ ابن مسعود سچائی کے زور سے زورآور تھے، اور یقیناً سچائی کا زور سب سے بڑا زور ہوتا ہے۔ دنیا کی رزم گاہ میں بہادر بننے کا راز یہ نہیں ہے کہ آدمی پر مشکلات نہ گزریں۔ مشکلات تو اس دنیا میں ہر ایک کے لیے آتی ہیں۔
بہادری کا اصل راز یہ ہے کہ آدمی کے پاس کوئی ایسا یقین ہو جو اپنے مقصد کے مقابلے میں مشکلات کو اس کے لیے حقیر بنا دے۔ دکھوں کی اس دنیا میں مشکلات کو وہی شخص جھیلتا ہے جس کو مشکلات سے بڑی کوئی چیز مل گئی ہو۔ مومن کو یہ چیز کمال درجے میں حاصل ہوتی ہے۔ اس کے پاس ایک ایسا حق ہوتا ہے جس کی عظمت اور صداقت پر اسے ادنیٰ شبہ نہیں ہوتا۔
مزید یہ کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس راہ میں ہر قربانی آخرت میں اس کی کامیابیوں میں اضافہ کرنے کے ہم معنی ہوگی۔ یہ یقین اس کے لیے حق کے اعلان کو ایک ایسی لذت بنا دیتا ہے جس کا سرور کبھی ختم نہ ہو۔ مخالفین کی جارحیت صرف اس کے اس یقین میں اضافہ کرتی ہے کہ وہ سراسر حق پر ہے اور اس کے مخالفین سراسر باطل پر۔ جارحیت دراصل سچائی کے میدان میں اپنی شکست کا اعلان ہے۔
مخالفین کی جارحیت ایمان و اسلام کے داعی کے لیے اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ اس کے مخالفین دلیل کے میدان میں اپنی بازی ہار چکے ہیں۔ کیونکہ جس کے پاس دلیل کی طاقت ہو وہ کبھی جارحیت کی طاقت استعمال نہیں کرتا۔ سچائی ایک اعلیٰ ترین ذہنی یافت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچائی کی طاقت کا خزانہ آدمی کے اپنے اندر ہوتا ہے، جبکہ دوسری تمام طاقتیں خارجی طاقتیں ہیں۔
ان کا خزانہ آدمی کے اپنے وجود کے باہر ہوتا ہے۔ دوسری طاقتوں کا ذخیرہ محدود ہوتا ہے، وہ کسی نہ کسی وقت ختم ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں نازک حالات میں خود اپنے بچاؤ کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ اس بنا پر وہ نازک مواقع پر آدمی کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔
مگر سچائی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ سچائی وہ اتح طاقت ہے جس کا ذخیرہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ سچائی جب ایک بار کسی کو مل جائے تو وہ اس کی جان کے ساتھ ساتھ باقی رہتی ہے۔ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتی۔
سچائی کی طاقت آخر وقت تک آدمی کا سہارا بنی رہتی ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ بظاہر اس کے ساتھ کوئی طاقت موجود نہیں ہوتی۔ مومن کو جو سچائی ملتی ہے وہ خود خدا ہوتا ہے۔ مومن خدا کو سب سے بڑی حقیقت کے طور پر پا لیتا ہے۔ پھر جو سب سے بڑی ہستی کو پا لے وہ اس کے بعد کسی چھوٹی چیز سے کیوں ڈرے گا؟
اس کے بعد تو کوئی چیز پانے کے لیے باقی ہی نہیں رہتی۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 97۔