Maulana Wahiduddin Khan
16 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Iqdam se Pahley Tahqeeq Zaruri hai

Urdu · 16 min

اقدام سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ 24 ہجری میں خلیفہ منتخب ہوئے، اور 35 ہجری میں آپ کو شہید کر دیا گیا، جبکہ آپ کی عمر 82 سال تھی۔ امام مسلم عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے مکان میں لیٹے ہوئے تھے، آپ کی پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں۔ اتنے میں ابوبکر آئے، آپ اسی حال میں لیٹے رہے اور باتیں کیں۔

پھر عمر آئے، آپ اب بھی اسی طرح لیٹے رہے اور باتیں کیں۔ اس کے بعد عثمان آئے، اب آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے کو ٹھیک کر لیا۔ جب تینوں چلے گئے تو میں نے عرض کیا: اے خدا کے رسول، ابوبکر آئے مگر آپ نہیں اٹھے۔ عمر آئے، پھر بھی آپ اسی طرح رہے، مگر عثمان آئے تو آپ اٹھ گئے اور اپنے کپڑے کو درست کر لیا۔

آپ نے فرمایا: عثمان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ امام ترمذی عبدالرحمن ابن خطاب سے روایت کرتے ہیں کہ میں اس وقت مدینے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جبکہ آپ جیش اسرا یعنی تبوک کی تیاری کے لیے لوگوں کو ابھار رہے تھے۔ عثمان بن عفان کھڑے ہوئے اور کہا: اے خدا کے رسول، 100 اونٹ ماں کجاوا اور پالان کے میں خدا کے راستے میں دیتا ہوں۔ آپ نے پھر لوگوں کو ابھارا۔

عثمان بن عفان دوبارہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے خدا کے رسول، 300 اونٹ ماں کجاوا اور پالان کے اللہ کے راستے میں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر سے اتر پڑے اور آپ کی زبان پر یہ کلمہ جاری تھا: ما على عثمان ما عمل بعد هذا ما على عثمان ما عمل بعد هذا مرتين أو ثلاثا مسند ابو داؤد الطیالسی، حدیث نمبر 1285۔ اس کے بعد عثمان جو بھی کرے، ان پر کوئی مواخذہ نہیں۔ اس کے بعد عثمان جو بھی کرے، ان پر کوئی مواخذہ نہیں۔

امام ترمذی انس ابن مالک سے روایت کرتے ہیں: حدیبیہ میں جب بیعت الرضوان ہوئی، اس وقت عثمان بن عفان رسول اللہ کے سفیر کی حیثیت سے مکہ گئے ہوئے تھے۔ جب تمام لوگ بیعت ہو چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمان اس وقت اللہ اور اس کے رسول کے کام پر ہیں۔ پھر آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور خود اپنے ایک ہاتھ سے اپنے دوسرے ہاتھ پر عثمان کے لیے بیعت کی۔ فکانت ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعثمان خیرا من ایدیہم لانفسہم سنن ترمذی حدیث نمبر 3702۔

یعنی پس عثمان کے لیے رسول اللہ کا ہاتھ لوگوں کے لیے ان کے اپنے ہاتھ سے بہتر تھا۔ امام ترمذی مرہ بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا حال بیان کیا جو آپ کے بعد آئیں گے۔ اتنے میں ایک صاحب سامنے سے گزرے جو کپڑا لپیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: هذا يومئذ، هذا يومئذ على الهدى، هذا يومئذ على الهدى یہ اس دن یہ شخص اس دن حق پر ہوگا۔

میں اٹھ کر ان کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ وہ عثمان بن عفان ہیں۔ ترمذی حضرت عثمان نے اپنے مال سے مشکل وقتوں میں اتنی زیادہ اسلام کی مدد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللهم اني قد رضيت عن عثمان فرد عنه اللهم اني قد رضيت عن عثمان فرد عنه فضائل الخلفائے راشدین لابی نعیم الاصفہانی الاصبہانی صفحہ 92 صفحہ 52۔ یعنی اے اللہ، میں عثمان سے راضی ہوں، تو بھی اس سے راضی ہو جا۔ اے اللہ، میں عثمان سے راضی ہوں، تو بھی اس سے راضی ہو جا۔

ایک بار حضرت عثمان کے ایثار و قربانی سے آپ اتنا خوش ہوئے کہ دعا کا یہ کلمہ دن بھر آپ کی زبان سے نکلتا رہا۔ تاہم یہی عثمان بن عفان تھے جن کے خلاف ان کی خلافت کے بعد کے سالوں میں سارے ممالک سارے ممالک اسلامی میں شورش برپا ہوگئی۔ اس شورش کے پیدا کرنے میں اس شورش کے پیدا کرنے میں متعدد مخلص اور مقدس لوگ بھی شریک تھے۔ یہ شورش یہ شورش اتنی بڑھی کہ ہزاروں کی تعداد میں بلوائی مختلف ملکوں میں مختلف ملکوں سے جمع ہو کر مدینے میں گھس گئے۔

انہوں نے حضرت عثمان کے مکان کا محاصرہ کر لیا، آپ کے گھر میں پانی کا داخلہ روک دیا، آپ کے لیے مسجد نبوی میں جا کر نماز پڑھنا ناممکن بنا دیا۔ جب شدت بہت بڑھی تو آپ اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور بلوائیوں کو خطاب کیا: عن عثام تبنی حزن القریشی قال شہید الدار حین اشرف علیہم عثمان فقال ائتونی بصاحب بصاحبیکم الذین الباکم علیہ قال فجی بہما فکانہما جملانی او کانہما حمارانی قال فاشرف علیہم عثمان فقال انشدکم باللہ والاسلام ہل تعلمون ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدم المدینۃ ولیس بہا ماء یستعذب غیر بئر رومۃ فقال من یشتری بئر رومۃ فیجعل دلوہ مع دلاء المسلمین بخیر لہ منہا فی الجنہ فاشتریتہا من صلب مالی فانتم اليوم تمنعونی ان اشرب منها حتی اشرب من ماء البحر فقالوا اللہم نعم فقال انشدکم باللہ والاسلام ہل تعلمون ان المسجد ضاق باہلہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من یشتری بقعه ال فلان فیزیہ فی المسجد بخیر لہ منہا فی الجنہ فاشتریتہا من صلب مالی فانتم اليوم تمنعونی ان صلی فیہا رکعتین قالوا اللہم نعم قال انشدکم باللہ وبالاسلام ہل تعلمون انی جہست جیش العسرۃ من مالی قالوا اللہم نعم قال انشدکم باللہ والاسلام ہل تعلمون ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان علی سبیر مکۃ ومہ ابوبکر وعمر وانا فتحرک الجبل حتی تساقت حجارتہ بالحضی قال فرکضہ برجلہ وقال اسکن ثبی فانما علیک نبی وصدیق وشہیدان قالوا اللہم نعم قال اللہ اکبر شہید لی ورب الکعبۃ یعنی شہید سنن ترمذی حدیث نمبر 3703 یعنی ثمامہ بن حزن القریشی کہتے ہیں: عثمان بن عفان کے محاصرے کے وقت میں ان کے گھر کے پاس موجود تھا۔ وہ مکان کے اوپر چڑھے اور لوگوں سے کہا: میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دلاتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے اور یہاں صرف ایک یہودی کا کنواں بیر رومہ تھا جس سے میٹھا پانی لیا جا سکے؟ وہ بہت مہنگی قیمت پر فروخت کرتا تھا۔

رسول اللہ نے کہا: کون بیر رومہ کو خریدتا ہے کہ وہ بھی اس سے پانی لے اور مسلمان بھی پانی لے؟ جنت میں اس کو اس سے بہتر ملے گا۔ میں نے 35 ہزار درہم کے عوض اس کو خریدا اور تم مجھ کو اس سے پانی پینے سے روکتے ہو۔ لوگوں نے جواب دیا: خدایا ہاں۔

پھر عثمان ابن عفان نے کہا: میں تم کو قسم دلاتا ہوں اللہ کی اور اسلام کی، کیا تم جانتے ہو کہ مسجد نبوی تنگ پڑ گئی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون فلاں زمین کو خرید کر مسجد میں اضافہ کرتا ہے؟ جنت میں اس کو اس سے بہتر ملے گا۔ میں نے اس کو اپنے مال سے خریدا اور تم مجھ کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے روکتے ہو۔

لوگوں نے کہا: خدایا ہاں۔ عثمان ابن عفان نے کہا: اللہ اکبر، رب کعبہ کی قسم، تم لوگ گواہ رہو کہ میں شہید ہوں۔ ان سب کے باوجود لوگوں نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا اور قتل کرنے والے اور ان کا ساتھ دینے والے سب کے سب نماز روزے والے تھے اور اپنے کو مکمل معنوں میں مسلمان سمجھتے تھے۔ خلیفہ سووم کے خلاف اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا ہونے کی وجہ کیا تھی جس نے بالاخر ان کی جان لے لی؟

مورخین کے بیان کے مطابق یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا۔ حضرت عثمان کی خلافت کے بارے میں بعض وجوہ سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی تھی۔ اسی بیچ میں یہ واقعہ ہوا کہ مصر کے عامل عبداللہ ابن ابی سرح کی زیادتیوں سے اہل مصر کو شکایت ہوئی۔ لوگ مدینہ آئے اور مطالعہ اور مطالعہ کیا کہ اس کو معزول کیا جائے اور مطالبہ کیا کہ اس کو معزول کیا جائے۔

حضرت عثمان نے حضرت علی کے مشورے سے عبداللہ ابن ابی سرح کو معزول کر دیا اور محمد ابن عبدالرحمن ابن ابی بکر کے لیے مصر کی عمارت کا فرمان لکھ دیا۔ مصری اس فرمان کو لے کر اپنے ملک کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ محمد ابن عبدالرحمن بھی تھے۔ راستے میں انہوں نے دیکھا کہ حضرت عثمان کا غلام خلیفہ کے اونٹ پر سوار ہو کر تیزی سے مصر کی طرف جا رہا ہے۔

دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ وہ خلیفہ کی طرف سے ایک خط لے کر مصر کے حاکم عبداللہ ابن ابی سرح کے پاس جا رہا ہے۔ انہوں نے زبردستی کر کے غلام سے خط چھین لیا۔ اس میں لکھا تھا کہ محمد اور ان کے ساتھی مصر پہنچے تو ان کو قتل کر دیا جائے اور تا حکم ثانی عبداللہ ابن ابی سرح مصر کا حاکم رہے۔ یہ خط حضرت عثمان کے چچا زاد بھائی مروان ابن حکم نے لکھا تھا اور خلافت کی مہر لگا کر اس کو غلام کی معرفت مصر روانہ کر دیا تھا۔

مگر مصریوں نے اس کو خود خلیفہ سووم کی جانب سے سمجھا اور یہ رائے قائم کی کہ ان کے ساتھ غداری کی گئی ہے کہ ایک طرف تو عبداللہ ابن ابی سرح، ایک طرف تو عبداللہ ابن ابی سرح کی معزولی کا حکم نامہ ہم کو دیا گیا اور دوسری طرف عبداللہ کو خفیہ خط روانہ کر دیا کہ ان سب لوگوں کو قتل کر دو اور تم اپنے عہدے پر بحال رہو۔ چنانچہ وہ راستے سے لوٹ آئے اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ دوبارہ مدینے میں داخل ہو گئے۔ ان کا رد عمل اتنا شدید تھا کہ کسی کے سمجھانے بجھانے سے کم نہ ہو سکتا تھا۔ انہوں نے حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا اور بالاخر انہیں قتل کر ڈالا۔

اسی لیے قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی خبر ملے تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے خوب تحقیق کر لو۔ یا ایہا الذین آمنوا إن جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا أن تصيبوا قوما أن تصيبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين سورہ نمبر 29 آیت 6 یعنی ایمان والو! کوئی شریر آدمی تمہارے پاس خبر لائے تو خوب تحقیق کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم پر جا پڑو پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید ابن عقبہ بن ابی معید کو قبیلہ بنی المصطلح کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔

قبیلے کے لوگ ان کی آمد کو سن کر ان کے استقبال کے لیے نکلے۔ ولید کی اس قبیلے سے زمانہ جاہلیت سے کچھ شکایت تھی، وہ سمجھے کہ یہ لوگ میرے قتل کے لیے نکلے ہیں، اس لیے وہ بستی میں داخل ہونے سے پہلے مدینہ واپس آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ قبیلے کے لوگ میرے قتل کے درپے ہو گئے اور زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ آپ نے ارادہ کیا کہ ان کو ان کی سرکوبی کے لیے حضرت خالد کی سرکردگی میں ایک فوجی دستہ روانہ کریں۔ اسی درمیان میں قبیلہ بنی المصطلح کے سردار حارث ابن ضرار آ گئے، جو ام المومنین جویریہ کے والد بھی تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے زکوٰۃ جمع کر رکھی تھی مگر ولید ابن عقبہ ہمارے یہاں پہنچے ہی نہیں۔ ہم تو اسلام پر قائم ہیں اور اللہ کے حقوق ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تفسیر ابن کثیر جلد سات صفحہ 371 اس پر حکم دیا گیا کہ جب کسی کے متعلق کوئی خبر ملے تو کارروائی کرنے سے پہلے پوری تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ خبر غلط ہو اور اس کی بنا پر تم غلط اقدام کر بیٹھو۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 91.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.