Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Aayat-e-Fitna

Urdu · 7 min

آیتِ فتنہ: حضرت امام حسن ابن علی نے 41 ہجری میں ایک صلح نامے کے ذریعے خلافت سے دستبرداری اختیار کر لی۔ اس وقت سے خلافتِ بنو امیہ کے خاندان میں اس وقت سے خلافت بنو امیہ کے خاندان میں چلی گئی۔ تاہم امیر معاویہ کی وفات 60 ہجری کے بعد بار بار خلافت کے دعویدار اٹھتے رہے، اور بنو امیہ میں اور ان مدعیانِ خلافت میں جنگ جاری رہی۔ انہی میں سے ایک عبداللہ بن زبیر تھے، ان کا صدر مقام مکہ تھا، انہوں نے بنو امیہ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا، چنانچہ بنو امیہ کے عامل حجہ چنانچہ بنو امیہ کے عامل حجاج ابن یوسف سے ان کی جنگ ہوتی رہی، یہاں تک کہ 73 ہجری میں وہ مکے میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ فتنہ ابن زبیر کے زمانے میں دو آدمی حضرت عبداللہ ابن عمر کے پاس آئے، انہوں نے کہا کہ لوگ برباد ہو رہے ہیں اور آپ عمر فاروق کے صاحبزادے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، پھر کیا چیز آپ کو روک رہی ہے کہ آپ ان سے جنگ کے لیے نہیں نکلتے؟ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ مجھے یہ بات روک رہی ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کے خون کو میرے لیے حرام کر دیا ہے۔ آدمیوں نے کہا، کیا اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے؟ عبداللہ ابن عمر نے کہا، ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہا اور دین اللہ کے لیے ہو گیا۔

اور تم چاہتے ہو کہ جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ پیدا ہو اور دین غیر اللہ کے لیے ہو جائے؟ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4515۔ دوسری روایت میں ہے کہ دو آدمی حضرت عبداللہ ابن عمر کے پاس آئے اور کہا کہ اے ابو عبدالرحمن، کیا وجہ ہے کہ آپ ایک سال حج کرتے ہیں اور ایک سال مقیم رہتے ہیں، اور اللہ کی راہ میں جہاد کو چھوڑے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ خدا نے کس قدر زیادہ اس کی اہمیت دلائی ہے؟ عبداللہ ابن عمر نے کہا کہ اے میرے بھتیجے، اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، اور پانچ وقت کی نمازیں، رمضان کے مہینے کا روزہ رکھنا، اور زکوۃ دینا، اور بیت اللہ کا حج کرنا۔

آدمیوں نے کہا، اے ابو عبدالرحمن، کیا آپ نہیں سنتے جو اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے؟ عبداللہ ابن عمر نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسا کیا، اس وقت اسلام کم تھا۔ پس آدمی اپنے دین کے معاملے میں فتنے میں ڈالا جاتا تھا، لوگ اس کو قتل کر دیتے یا عذاب دیتے، یہاں تک کہ اسلام کی کثرت ہو گئی، پھر فتنہ باقی نہ رہا۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4515۔

خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ مسلمانوں کو سیاسی شکایت ہو گئی، وہ مدینے میں گھس آئے اور آپ کے مکان کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ حضرت عثمان اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اور باغیوں سے کہا کہ تم جو میرا محاصرہ کیے ہوئے ہو اور میرے قتل کے درپے ہو، کیا اپنے اس فعل کے حق میں کیا اپنے اس فعل کے حق میں تمہارے پاس قرآن کی کوئی دلیل ہے؟ ایک باغی آگے بڑھا اور اس نے کہا، ہاں۔ اس کے بعد اس نے قرآن سے جہاد اور قتال والی آیتیں پڑھ کر سنانا شروع کر دیا۔

باغیوں کے نزدیک اپنے عمل کے لیے ان آیتوں کا حوالہ درست تھا، کیونکہ اپنے خیال میں وہ ایک بگڑی ہوئی حکومت کے خلاف جہاد کر رہے تھے، اور جہاد کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ مگر حضرت عثمان نے ان کے اس استدلال کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ آیتیں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے حق میں نازل نہیں ہوئیں، یہ میرے اور میرے ساتھیوں یعنی صحابہ کے حق میں اتری ہیں۔ حضرت عثمان کا جن لوگوں نے محاصرہ کر رکھا تھا، وہ سب مسلمان تھے۔

ان کے پاس اپنے محاصرے کو برحق ثابت کرنے کے لیے قرآن کی آیتیں بھی تھیں، مگر صحابہ نے اس معاملے میں ان سے اتفاق نہیں کیا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ انہوں نے قرآنی آیات کی تفسیر اور تشریح میں غلطی کی۔ أَخْطَأُوا فِي التَّأْوِيلِ یعنی جن آیتوں کا تعلق کافروں اور مشرکوں سے ہے، ان کو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ مِنْهَا جُسُنَّةً نَبَوِيًّا جلد 6، صفحہ 89۔

خوارج سب کے سب مومن و مسلم تھے، وہ دین دار اور عبادت گزار بھی تھے۔ وہ ہر بات میں قرآن کی آیتیں پیش کرتے تھے۔ مگر خلیفہ چہارم حضرت علی کے خلاف ان کی جنگ کو امت نے کبھی صحیح نہیں قرار دیا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر نے خوارج کی لڑائیوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی غلطی یہ ہے کہ قرآن کی وہ آیتیں جو کافروں اور مشرکوں سے جنگ کے بارے میں اتری ہیں، ان کو انہوں نے مسلمانوں کے اوپر منطبق کر دیا ہے۔

وہ قرآن کی تحریف کر رہے ہیں، نہ کہ قرآن کی تفسیر۔ مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو موجودہ زمانے کی انقلابی اسلامی جماعتیں جو اپنے ملکوں میں مسلم حکمرانوں سے اصلاحِ سیاست کے نام پر جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، وہ سراسر باطل ہیں۔ اس قسم کی لڑائیوں کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تمام مفکرینِ اسلام درحقیقت مجرمینِ اسلام ہیں، جو مسلمانوں کے درمیان اس قسم کی باہمی جنگوں کو جہاد فی سبیل اللہ ثابت کرنے کے لیے اپنی ذہانت صرف کر رہے ہیں۔

اس قسم کے اعمال کے لیے قرآن کی آیتیں پیش کرنا بے عملی پر سرکشی کا اضافہ کرنا ہے۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 87۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.