Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Apni Pahchaan

Urdu · 6 min

اپنی پہچان۔ ہر انسان خدا کی ایک منصوبہ بندی ہے۔ ہر انسان کی پیدائش انسان اور اس کے خدا کے درمیان ایک خاموش عہد ہے۔ اسی عہد میں انسان کی ساری قیمت چھپی ہوئی ہے۔

ہر انسان کو خدا نے کچھ خاص صلاحیتیں دی ہیں، اور ہر آدمی نے خاموش زبان میں یہ اقرار کیا ہے کہ وہ دنیا میں اس خاص کام کو انجام دے گا جس کے لیے اس کے خدا نے اس کو پیدا کیا تھا، اور جس کے مطابق اسے خصوصی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ جو انسان ایسا کرے، اس نے گویا خدا کے نقشِ تخلیق میں اپنی جگہ حاصل کی۔ جو شخص ایسا نہ کرے، وہ خدا کے نقشِ تخلیق میں اپنی جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس بات کو یہاں اصحابِ رسول کی مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔

صحابہ کرام میں ایک حضرت ابوہریرہ تھے، اور دوسرے خالد بن الولید۔ حضرت ابوہریرہ کی روایات کی تعداد 5374 تک شمار کی گئی ہے، جبکہ حضرت خالد کی روایات کی تعداد 100 سے بھی کم ہے۔ یہ فرق بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے، مگر اس فرق کی وجہ خدمتِ اسلام کے میدان کا فرق تھا، نہ کہ خود اسلام کا۔ حضرت ابوہریرہ بھی ایک مخلص مسلمان تھے، اور حضرت خالد بھی ایک مخلص مسلمان، مگر فطری صلاحیت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان فرق تھا۔

انہوں نے کامل شعور کے ساتھ اس فرق کو پہچانا اور اس پر عمل کیا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ نے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے اپنے لیے خدمتِ اسلام کا ایک میدان منتخب کر لیا، اور حضرت خالد نے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے دوسرا میدان۔ حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی مہم میں نکلتا، تو ہمیشہ یہ احساس لے کر واپس آتا کہ میں اپنے آپ کو وہاں لگائے ہوئے ہوں جہاں مجھ کو نہیں لگانا چاہیے۔ أَنِّي مُوْضَعٌ فِي غَيْرِ شَيْءٍ.

البدایہ والنہایہ، جلد 6، صفحہ 405۔ یہ احساس انہیں ستاتا رہا، یہاں تک کہ وہ فتح مکہ سے کچھ پہلے مدینہ آئے اور اسلام قبول کر لیا۔ حضرت خالد فطری طور پر انتہائی بہادر آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی اس خصوصیت کو جانا، اور اس کے موقع استعمال کا ادراک کیا۔

انہوں نے شعوری طور پر اس کو دریافت کیا کہ اسلامی خدمت کے وسیع میدان میں وہ کیا خاص حصہ ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خداداد بہادرانہ صلاحیت کو شریک کے استحصال اور توحید کے قیام کے محاذ پر لگا دیں۔ چنانچہ وہ اسلامی فوج میں شامل ہو گئے۔ وہ ساری عمر اسی راہ میں سرگرم عمل رہے۔

وہ خدا سے اپنے لیے قوت اور استقامت کی دعا کرتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی درخواست کرتے کہ وہ آپ کے لیے اس کی دعا فرمائیں۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسلامی جہاد میں صرف کر دی، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جس کو خدا نے مشرکین کے خلاف نکالا ہے۔ سَيْفٌ مِّنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ. معرفة الصحابة لأبي نُعَيم.

حدیث نمبر 2388۔ دوسری مثال حضرت ابوہریرہ کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ کے اندر حضرت خالد والی صلاحیتیں نہیں تھیں، البتہ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر حافظے کی قوت عام لوگوں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اپنی اس صلاحیت کو دین کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے لیے دعا فرمائیے کہ خدا مجھے وہ علم دے جس کو میں فراموش نہ کر سکوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر آمین کہا، اور حضرت ابوہریرہ کے حق میں یادداشت کی دعا فرمائی۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ کی غیر معمولی قوتِ حافظہ اسی پیغمبرانہ دعا کا نتیجہ ہے، مگر نفسیاتی اعتبار سے دیکھیے تو یہ دراصل خود حضرت ابوہریرہ کی اپنی تڑپ کا اظہار تھا۔ یہ دو طرفہ واقعہ تھا، نہ کہ محض ایک طرفہ۔

حضرت ابوہریرہ نے اپنی خداداد امتیازی صلاحیت کو پہچانا، اس کی حفاظت اور ترقی کی دعائیں کیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے لیے دعا کرائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرانا دراصل خود اپنی دعا کا ایک تسلسل تھا۔ اس طرح دعاؤں کے سائے میں وہ اپنی استعداد کے مطابق اپنے ممکن میدان میں ہمہ تن لگ گئے۔ وہ برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے، آپ کی باتوں کو پوری توجہ کے ساتھ سنتے، اس کو ذہن میں محفوظ رکھتے، نیز حسبِ ضرورت اسے لکھ لیتے۔

اسی معرفتِ خویش کا یہ نتیجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ اسلامی تاریخ میں وہ شخص قرار پائے جن کے ذریعے اگلی نسلوں کو پیغمبرِ اسلام کی حدیثیں سب سے زیادہ تعداد میں پہنچی ہیں۔ ہر آدمی کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے۔ اپنے آپ کو جان کر وہ اپنے لیے بھی زیادہ مفید بن سکتا ہے، اور دین کے لیے بھی۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 84۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.