Maulana Wahiduddin Khan
15 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Sura-e-Noor ki Raushni me

Urdu · 15 min

سورہ نور کی روشنی میں: غزوۂ بنی المصطلح 6 ہجری میں ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوے سے فارغ ہو کر مدینہ واپس آ رہے تھے۔ آپ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں، ان کی سواری کا اونٹ علیحدہ تھا۔ ایک مقام پر قافلہ رکا، رات کو کوچ سے پہلے۔ حضرت عائشہ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف چلی گئیں، وہاں ان کا ہار ٹوٹ کر گر گیا، جس کو تلاش کرنے میں دیر لگی۔

ادھر کوچ کا وقت ہو گیا، لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عائشہ اپنے ہودج میں ہیں، چنانچہ سب اونٹوں کے ساتھ ان کا اونٹ بھی ہانک دیا گیا۔ حضرت عائشہ واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ انہوں نے رائے قائم کی کہ مجھ کو یہیں ٹھہرنا چاہیے، آگے جا کر جب میں نہ ملوں گی تو لوگ تلاش کرتے ہوئے یہیں آئیں گے۔ اس کے بعد ان کو نیند آئی اور وہ وہیں سو گئیں۔

صفوان ابن معطل رضی اللہ عنہ قافلے کی خبرگیری کے لیے پیچھے رہا کرتے تھے۔ وہ صبح کو اس مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ کوئی سو رہا ہے۔ قریب آ کر وہیں پہچانا تو گھبراہٹ میں ان کی زبان سے نکلا: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ سن کر حضرت عائشہ کی آنکھ کھل گئی، انہوں نے چادر سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔ حضرت صفوان نے خاموشی سے اپنا اونٹ ان کے قریب لا کر بٹھا دیا۔

حضرت عائشہ بھی خاموشی کے ساتھ اس پر سوار ہو گئیں۔ اب حضرت صفوان اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے چلنے لگے، یہاں تک کہ دوپہر کے وقت قافلے میں شامل ہو گئے۔ مدینے میں یہ خبر پھیلی تو کچھ بد باطن لوگوں کو موقع مل گیا کہ وہ زوجۂ رسول پر جھوٹی تہمت لگائیں اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی تحریک کو بدنام کریں۔ حتیٰ کہ بعض سیدھے سادھے مسلمان بھی اس الزام میں شریک ہو گئے، مثلاً حضرت حسان ابن ثابت، حضرت مصطفیٰ بن اساسہ، اور حضرت ہمنہ بنت جہش۔

ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک یہ خبر گرم رہی، یہاں تک کہ قرآن میں اس کی تردید نازل ہوئی اور اس کے بارے میں واضح احکام دیے گئے۔ یہاں چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں: جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں، پھر اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ نہ لائیں، تو ان کو 80 کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ یہی لوگ اصلی نافرمان ہیں۔ مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں، تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

جو لوگ یہ طوفان لائے ہیں، وہ تم ہی میں سے ایک جماعت ہیں۔ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے جو گناہ کمایا، وہ اس کے لیے ہے، اور جس نے اس کا بڑا بوجھ اٹھایا، اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ ایک کھلا ہوا بہتان ہے؟

وہ اپنے الزام کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہ کیوں نہ لائے؟ پھر جب وہ گواہ نہ لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ جب تم اپنی زبانوں سے وہ بات نقل کر رہے تھے، اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کی بابت تم کو کوئی علم نہ تھا، اور تم اس کو معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات ہے، ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس کو سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ہمیں کیا حق ہے کہ ہم ایسی بات زبان پر لائیں؟ اللہ پاک ہے، یہ ایک بہت بڑا بہتان ہے۔

جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں فحش کاری کا چرچا ہو، ان کے لیے دردناک عذاب ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ سورہ نمبر 24 آیت 19: ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا حرام ہے۔ اور جب معاملہ مسلمان عورت کا ہو تو اس کی شناعت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ پاک باز مسلم خاتون پر تہمت لگانا سو برس کے عمل کو ڈھا دیتا ہے۔

إِنَّ قَذْفَ الْمُحْصَنَةِ لَيَهْدِمُ عَمَلَ مِئَةِ سَنَةٍ المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 3023۔ بخاری و مسلم کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو۔ " لوگوں نے پوچھا: "اے خدا کے رسول، وہ کیا ہیں؟ " آپ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، اللہ کی حرام کی ہوئی جان کو حق کے بغیر قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدانِ جہاد سے بھاگنا، اور بھولی بھالی پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا، خَسْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ"۔

صحیح البخاری، حدیث نمبر 2766۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 89۔ اس میں ہمارے لیے بہت سے سبق ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں چند اشارے درج کیے جاتے ہیں۔

نمبر ایک: ایک سادہ سے واقعے کو بہانہ بنا کر جن لوگوں نے مذکورہ مہم چلائی، ان کا مقصد رسول یا زوجۂ رسول کو بدنام کرنے سے زیادہ دعوتِ اسلامی کو بدنام کرنا تھا۔ رسول کو اخلاقی حیثیت سے مجتبیٰ ثابت کر کے وہ دراصل رسول کی دعوت کو مجتبیٰ ثابت کرنا چاہتے تھے۔ یہی ہر زمانے میں شیطان کا طریقہ ہے۔ مگر اس قسم کی کوشش، خواہ کتنے ہی بڑے پیمانے پر کی جائے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔

کیونکہ حق کی دعوت جب بھی اٹھتی ہے، وہ براہِ راست خدا کی حمایت کے تحت اٹھتی ہے۔ اس کو مجتبیٰ ثابت کرنے کی کوشش کرنا، گویا خدا کے منصوبے سے ٹکرانا ہے۔ اور کون ہے جو خدا کے منصوبے سے ٹکرا کر کامیاب ہو؟ حق کی دعوت کے لیے مقدر ہے کہ وہ لازماً قائم رہے، یہاں تک کہ وہ حق کو ناحق سے جدا کرنے میں آخری حد تک کامیاب ہو جائے۔

نمبر دو: امتحان کی اس دنیا میں ایک معصوم اور بے قصور آدمی کے ساتھ بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آ سکتا ہے جس کو غلط معنی پہنایا جا سکے، اور اس طرح خدا سے بے خوف لوگوں کو موقع مل جائے کہ وہ اس کے ذریعے اس کو بدنام کر سکیں۔ مگر جو اللہ سے ڈرنے والے لوگ ہیں، ان کو ایسے موقع پر ہمیشہ خوش گمانی کے تحت رائے قائم کرنا چاہیے۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہیے کہ محض سن کر بلا تحقیق اس کو صحیح مان لیں اور اس کو شہرت دینے میں لگ جائیں۔ نمبر تین: ایسے کسی الزام کو درست ماننے کے لیے ضروری ہے کہ چار معتبر آدمی اس کے حق میں گواہی دیں۔

اگر الزام لگانے والا چار گواہ نہ پیش کر سکے تو یقین کیا جائے گا کہ وہ جھوٹا ہے، اور اس جرم میں اس کو 80 کوڑے مارے جائیں گے۔ اس کے بعد اگر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور اپنی اصلاح کر لے تو امید ہے کہ اللہ اس کو معاف کر دے گا۔ مگر مسلمانوں کے معاملات میں گواہ بننے کے لیے پھر بھی وہ نااہل رہے گا۔ اس کے بعد اس کی گواہی کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔

نمبر چار: کسی پاک دامن خاتون پر جھوٹی تہمت لگانا ایسا سنگین جرم ہے جس کی سخت ترین سزا نہ صرف آخرت میں ملتی ہے بلکہ دنیا میں بھی ایسے آدمی کو اس کی سزا مل کر رہتی ہے۔ کسی کی عزت پر حملہ کرنا کمینہ پن کی بات ہے، اور ایسا جرم جس کے ساتھ کمینہ پن شامل ہو، وہ آدمی کو اللہ کی رحمت سے آخری حد تک محروم کر دیتا ہے۔ ایسے شخص سے جہنم اتنی قریب آ جاتی ہے کہ وہ دنیا ہی میں اس کی آنچ سے جلنا شروع ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے پر حملہ سب سے پہلے اپنے آپ پر حملہ ہے۔

آدمی پہلے اپنے آپ کو قتل کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ دوسرے کے قتل کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے۔ نمبر پانچ: اسلامی ماحول خدا پرستی کا ماحول ہوتا ہے۔ اسلامی ماحول وہ ہے جہاں ہر آدمی اس احساس کے ساتھ اپنی زبان کھولے کہ اس کو اپنے بولے ہوئے الفاظ کا حساب اللہ کو دینا ہے۔ ایسے ماحول میں آدمی کو حدر جا محتاط ہو کر رہنا چاہیے۔

ایسے ماحول میں جو لوگ غیر ذمہ دارانہ باتوں کو پھیلائیں، وہ گویا اسلامی ماحول کی خدا پرستانہ فضا کو خراب کر رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں زہر گھول رہے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے نزدیک سخت ترین مجرم ہیں۔ دنیا میں اگر وہ اپنی بارات کے لیے الفاظ پا لیں تو اس بنا پر ان کو ہرگز دھوکے میں نہ رہنا چاہیے کہ وہ خدا کے یہاں بھی اپنی بارات کے لیے الفاظ پا لیں گے۔

آخرت حقیقتوں کے کھل جانے کا مقام ہے۔ وہاں صرف وہ شخص بری الذمہ ٹھہرے گا جو حقیقت کی سطح پر جیے۔ جو حقیقت سے انحراف کرے، وہ آخرت میں اس طرح پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔ نمبر چھ: اس قسم کے کسی واقعے کا پیش آنا بظاہر ایک ناپسندیدہ بات ہے، مگر اس میں خیر کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔

اس قسم کے ایک واقعے کے درمیان یہ ثابت ہوتا ہے کہ کون ذمہ دار ہے اور کون غیر ذمہ دار۔ کون اپنے سینے میں دوسرے بھائیوں کی خیر خواہی لیے ہوئے ہیں، اور کون ہے جس کے دل میں دوسروں کے لیے حسد اور بغض بھرا ہوا ہے۔ کون اللہ کی جواب دہی کے احساس کے تحت بولتا ہے، اور کون جواب دہی کے احساس سے خالی ہو کر کلام کرتا ہے۔ اس طرح ایک طرف یہ ہوتا ہے کہ ان واقعات کے ذریعے بد باطن لوگوں کا بد باطن ہونا کھل جاتا ہے۔

دوسری طرف اہل حق کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ خدا کی توفیق سے صبر کی روش پر قائم رہیں اور اللہ کی مزید عنایتوں کے مستحق بنیں۔ نمبر سات: اس واقعے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حق کی دعوت جب بے آمیز شکل میں پیش کی جائے تو وہ لوگ کتنے زیادہ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں جن پر اس دعوت کی زد پڑتی ہے۔ ان مخالفین میں ایک تو عام دنیا دار ہوتے ہیں، وہ بھی اگرچہ ایسی تحریک کے مخالف ہوتے ہیں، مگر ان کی مخالفت ایک دائرے کے اندر رہتی ہے۔ وہ داعی کو ناکام بنانے کے لیے زور لگاتے ہیں، مگر اس کو بے عزت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔

غزوہ احد کے واقعات میں آتا ہے کہ مکے سے کافروں کا جو لشکر مدینے پر چڑھائی کرنے کے لیے روانہ ہوا تھا، وہ راستے میں ابوا کے مقام پر پہنچا، جہاں پیغمبر اسلام کی والدہ آمنہ بنت وہب کی قبر تھی۔ قریش کے کچھ پرجوش لوگوں نے چاہا کہ قبر کو کھودیں اور پیغمبر کی ماں کی بے حرمتی کریں، مگر خود قریش کے لوگوں نے ان کو برا بھلا کہا اور ان کو اس ارادے سے روکا۔ وہ پیغمبر سے لڑنے جا رہے تھے، مگر ان کی بے حرمتی کے لیے کوئی پست طریقہ اختیار کرنا اور ان کو گوارا نہ ہوا۔ وہ پیغمبر سے لڑنے جا رہے تھے، مگر ان کی بے حرمتی کے لیے کوئی پست طریقہ اختیار کرنا ان کو گوارا نہ ہوا۔

وہ پیغمبر سے لڑنے جا رہے تھے، مگر ان کی بے حرمتی کے لیے کوئی پست طریقہ اختیار کرنا اور ان کو گوارا نہ ہوا۔ مگر یہود جو اپنے کو حق کا اجارہ دار سمجھتے تھے، ان کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انہوں نے بعض چیزوں کو بہانہ بنا کر آپ پر رقیق حملے کیے اور آپ کو اخلاقی حیثیت سے گرانے کی کوشش کی۔ مذکورہ تہمت ترازی کے اصل ذمہ دار یہی لوگ تھے۔

جو لوگ اپنے کو حق کا واحد نمائندہ سمجھتے ہوں، جب وہ اپنی حیثیت پر زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں تو ان کا رد عمل بے حد شدید ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف ایسی تحریک کا زور توڑنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ اس کے داعی کو بے عزت کرنے کی مہم بھی چلاتے ہیں۔ وہ اپنی مذہبی قیادت کو بچانے کے لیے ہر چیز کو اپنے لیے جائز کر لیتے ہیں، خواہ وہ کوئی ذلیل حرکت یا کوئی پست کارروائی کیوں نہ ہو۔ 19 مارچ 1980، کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 77۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.