← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Insaf ka Tareeqa
Urdu · 9 min
انصاف کا طریقہ: مکے کے ابتدائی زمانے میں جب قریش کی زیادتیاں بہت بڑھ گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ مکے کو چھوڑ کر حبش چلے جاؤ۔ حبش میں ایک بادشاہ ہے جس کے یہاں کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا؛ تم لوگ اس کے ملک میں چلے جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دے۔ إن بِ أَرْضِ الْحَبَشَةِ مَلِكًا لَا يُظْلَمُ أَحَدٌ عِنْدَهُ فَالْحَقُوا بِ بِلَادِهِ حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ لَكُمْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا مِمَّا أَنْتُمْ فِيهِ. دلائل النبوة للبیہقی، جلد 2، صفحہ 301۔
چنانچہ صحابہ 100 سے زیادہ تعداد میں اپنا وطن چھوڑ کر حبش چلے گئے۔ قریشِ مکہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے مشورہ کر کے اپنے دو آدمیوں، عمر بن العاص اور عبداللہ ابن ابی ربیعہ، کو حبش روانہ کیا۔ وہاں انہوں نے بادشاہ کے درباریوں کو تحفے دے کر اس پر راضی کر لیا کہ بادشاہ کے یہاں وہ لوگ ان کی سفارش کریں گے۔ اس کے بعد مکے کا وفد حبش کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں داخل ہوا۔
انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ ہمارے شہر کے کچھ نادان لوگ آبائی دین چھوڑ کر آپ کے ملک میں آ گئے ہیں۔ اب ان کے خاندان اور قبیلے کے لوگوں نے ہم کو یہاں بھیجا ہے کہ ہم انہیں ان کے گھروں کی طرف واپس لے جائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اس کی اجازت دے دیں اور ان کو ہمارے سپرد کر دیں۔ تمام درباریوں نے اس مطالبے کی تائید کی۔
مکے کا وفد یہ چاہتا تھا کہ صرف ان کے کہنے پر بادشاہ مسلمانوں کو ان کے حوالے کر دے، اور خود مسلمانوں کو بلا کر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہ کرے۔ جب انہوں نے بادشاہ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو بادشاہ بگڑ گیا۔ اس نے کہا، "خدا کی قسم، نہیں! میں ہرگز ان کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا، جب تک ایسا نہ ہو کہ میں ان کو اپنے یہاں بلاؤں اور ان سے بات کروں، اور دیکھوں کہ ان کا معاملہ کیا ہے۔
" موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ نجاشی کے عمرہ نے مکے کے وفد کے مطالبے کی تائید کی اور بادشاہ کو مشورہ دیا کہ وہ مسلمانوں کو فوراً ان کے حوالے کر دے۔ مگر نجاشی نے کہا کہ "خدا کی قسم، نہیں! میں اس معاملے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک میں ان کی بات سن نہ لوں اور یہ جان لوں کہ وہ لوگ کس چیز پر ہیں۔ " وَذَكَرَ مُوسَى بن عُقْبَةَ أَنَّ أُمَرَاءَهُ أَشَارُوا عَلَيْهِ بِأَنْ يَرُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى أَسْمَعَ كَلَامَهُمْ وَأَعْلَمَ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ هُمْ عَلَيْهِ.
السیرت النبویہ، من البدایة والنهاية، جلد 2، صفحہ 18۔ اس کے بعد شاہ نجاشی نے حکم دیا کہ مکے کے جو مسلمان ہمارے ملک میں آئے ہیں، ان کو میرے دربار میں حاضر کیا جائے۔ چنانچہ وہ لوگ لائے گئے۔ وہ لوگ دربار میں داخل ہوئے تو وہاں کے عام آداب کے خلاف انہوں نے بادشاہ کے سامنے سجدہ نہیں کیا۔
نجاشی ایک عیسائی بادشاہ تھا۔ اپنے سابقہ عقیدے کے مطابق وہ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا مانتا تھا۔ مگر گفتگو کے دوران جب حضرت عیسیٰ کا ذکر ہوا تو صحابہ کے نمائندہ جعفر ابن ابی طالب نے صاف کہہ دیا کہ وہ خدا کے پیغمبر تھے، وہ خدا کے بیٹے نہ تھے، وغیرہ۔ نجاشی نے پوری بات معلوم کرنے کے بعد مکے کے وفد کے ہدیے اور تحفے کو واپس کر دیا۔
اس نے ان سے کہا کہ تم لوگ اپنے ملک کو لوٹ جاؤ۔ میں ان مسلمانوں کو ہرگز تمہارے سپرد کرنے والا نہیں۔ وہ میرے ملک میں جب تک چاہیں گے رہیں گے۔ سیرت ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 22۔
یہی انصاف کا صحیح طریقہ ہے۔ انصاف ایک طرفہ کارروائی کا نام نہیں۔ انصاف دو طرفہ تحقیق کے بعد منصفانہ فیصلہ دینے کا نام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی براہ راست تصدیق کے مطابق نجاشی کا عمل بلاشبہ انصاف کا معیاری نمونہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی ایسا مسئلہ سامنے آئے جو دو فریقوں سے تعلق رکھتا ہو، تو ایسے موقع پر ایک فریق کی بات سن کر فیصلہ کر دینا سراسر ظلم ہے۔ ایسا کرنا کسی بھی شخص کے لیے درست نہیں، خواہ وہ کتنے ہی بڑے منصب پر فائز ہو۔ شاہ نجاشی نے بات کو اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس لحاظ سے نجاشی کا نمونہ ایک عادل اور مسلم بادشاہ کا نمونہ ہے۔
نجاشی اس معاملے میں اہل مکہ کے تحفوں اور نذرانوں سے متاثر ہوا۔ نہ اس نے اپنے مصاحبوں اور قریبی لوگوں کے مشورے اور سفارش کو مانا، حتیٰ کہ شاہ نجاشی نے اس کی پرواہ بھی نہیں کی کہ مسلمانوں نے خود اس کی بھی وہ تعظیم و تکریم نہیں کی جس کا وہ عادی تھا۔ اور اس طرح گویا وہ برسرِ دربار اس کی توہین کے مرتکب ہوئے۔ مزید یہ کہ انہوں نے بادشاہ اور ساری قوم کے مذہبی عقائد کی تردید کی اور اس کو غلط بتایا۔
ان سب ناموافق پہلوؤں کے باوجود نجاشی نے کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ اس نے معاملے کے صرف عدل و انصاف کے پہلو کو دیکھا، دوسرے تمام ذاتی یا غیر ذاتی پہلوؤں کو اس نے یکسر نظر انداز کر دیا۔ اس نے دونوں فریقوں کی بات سن کر معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیق کی، اور پھر جو انصاف کا تقاضا تھا اس کے مطابق اپنا فیصلہ سنا دیا۔ یہ واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ شاہ نجاشی کے اندر جو ہر انسان یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ شاہ نجاشی کے اندر جوہر انسانیت پوری طرح موجود تھا۔
خدا نے جس فطرت پر اس کو پیدا کیا تھا، اس فطرت کو اس نے اپنی اصل حالت پر باقی رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حق جب اس کے سامنے آیا تو اس کو سمجھنے میں اسے دیر نہیں لگی۔ اگرچہ بظاہر وہ اس کے تصورات کے خلاف تھا، مگر اس نے کسی تحفظ ذہنی کے بغیر اس کی صداقت کا اعتراف کیا۔ وہ فوراً اس کے آگے جھک گیا۔
اپنی ان خصوصیات کی بنا پر وہ اس قابل ٹھہرا کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت کی نظر کرے، اس کو ایمان کی توفیق دے کر اس کو آخرت کی ابدی نعمتوں کا مستحق بنائے۔ چنانچہ روایات سے ثابت ہے کہ شاہ نجاشی نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں کیں۔ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی عدل کے مطابق فیصلہ کرے، خواہ اس کے لیے اس کے اوپر کوئی دباؤ نہ ہو، خواہ عادلانہ فیصلہ کرنا اس کے نفس اور اس کے مفاد کے خلاف کیوں نہ ہو۔ یہی وہ بلند روحیں ہیں جن کو قیامت میں عرش خداوندی کے سائے میں جگہ دی جائے گی۔
کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 73۔