Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Imtehan ki Qeamat

Urdu · 8 min

امتحان کی قیمت: تین عورتیں انسانی تاریخ کی معیاری عورتیں ہیں، آسیہ، مریم، اور خدیجہ۔ یہ وہ نیک بندیاں ہیں جنہوں نے کبھی کوئی برائی نہیں کی، ان کی ذات سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچی۔ مگر عجیب بات ہے کہ تینوں کو دنیا میں بے پناہ دکھ جھیلنا پڑا۔ حضرت آسیہ کا یہ انجام ہوا کہ مصر کے فرعون نے مخالف سمتوں سے ان کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹوایا، اور اس کے بعد انہیں سولی پر چڑھا دیا۔

حضرت مریم کو فلسطین کے یہودیوں نے ذلیل کیا اور ان پر زنا کا الزام لگایا۔ حضرت خدیجہ کو مجبور کیا گیا کہ وہ 3 سال تک عرب کے گرم پتھروں کے درمیان اس طرح رہیں کہ ان کا رنگ کالا پڑ جائے۔ درخت کی جڑیں اور پتیاں کھانے کی وجہ سے جانوروں کی طرح مینگ نیاں کریں، اور آخر کار شدید تکلیف میں اس دنیا سے چلی جائیں۔ یقیناً خدا کے علم میں تھا کہ یہ تینوں خواتین جنتی ہیں۔

وہ ان کو اچھے حالات میں رکھ سکتا تھا جس طرح وہ انہیں آخرت میں اچھے حالات میں رکھے گا۔ اس کے باوجود خدا نے گوارا کیا کہ یہ پاکیزہ ترین نسوانی روحیں انسانی بھیڑیوں کے قبضے میں آئیں، اور وہ ان کے ساتھ وہ وحشیانہ سلوک کریں جو انہوں نے کیا۔ اس کی واحد وجہ خدا کی سنتِ امتحان ہے۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ وہ ظالموں کا ظالم ہونا ثابت کرے، اور ان کے معاشرے کو اس بات کا مجرم ٹھہرائے کہ انہوں نے کھلے ہوئے فساد کو دیکھا، پھر بھی فسادیوں کو روکنے کے لیے نہیں اٹھے۔

انہوں نے بے گناہ زندگیوں پر گنہگاروں کو شیطانی قہقہے لگاتے ہوئے پایا، مگر وہ خاموش رہے۔ ایسا واقعہ کسی بے داغ انسان ہی کے ذریعے ظہور میں آ سکتا ہے، جس طرح چیزوں کو ہمیشہ صحیح ترین باٹ سے تولا جاتا ہے، اسی طرح لوگوں کے ظلم و فساد کو ایسے انسانوں ہی کے ذریعے ثابت کیا جا سکتا ہے جو خود بے داغ ہوں، جو انتہائی بے ضرر ہوں۔ اس کے باوجود لوگ ان کے ساتھ شیطانی حرکتیں کریں، جن کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے، پھر بھی لوگ ان کو اپنی بد باطنی کا نشانہ بنائیں۔ زیادہ تر لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کا معاملہ ملا جلا ہوتا ہے۔

وہ مظلوم ہوتے ہیں تو اسی کے ساتھ وہ ظالم بھی ہوتے ہیں۔ انہیں کسی سے برائی پہنچی ہے تو انہوں نے خود بھی اس کو برائی پہنچائی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ خدا کی ترازو نہیں بنائے جا سکتے۔ اگر آپ دوسرے کے ساتھ اشتعال انگیز کارروائی کریں، اور اس کے نتیجے میں دوسرا شخص آپ کے خلاف فساد کرنے لگے، تو آپ کا واقعہ دوسرے شخص کے ظلم کو ناپنے کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔

اگر آپ کسی سے چھین جھپٹ کریں، اور اس کے بعد وہ آپ سے مارپیٹ کرنے پر اتر آئے، تو آپ کبھی وہ آدمی نہیں بن سکتے جس کے ذریعے خدا دوسرے شخص کے ظلم کو ناپے اور اس کو اس کی بدکرداری کی سزا دے۔ ترازو ایک طرفہ طور پر اپنے آپ کو درست بناتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اس قابل ٹھہرتا ہے کہ وہ نادرست چیزوں کو ناپے اور تولے۔ اگر ترازو میں بھی کچھ فرق ہو، جیسے دوسری چیزوں میں فرق ہوتا ہے، تو ایسا ترازو ترازو بننے کے لائق نہیں۔ یہی معاملہ انسان کی اخلاقی پیمائش کا بھی ہے۔

انسانوں کی اخلاقی حالت کو ناپنے کے لیے ایسے انسان درکار ہیں جو ایک طرفہ طور پر اپنے کو دوسروں کے لیے بے ضرر بنا لیں، جو اپنے صابرانہ انداز کی وجہ سے اس بات کو ناممکن بنا دیں کہ کوئی شخص ردعمل کی بنیاد پر ان کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔ ان کی زندگی اتنی بے داغ ہو کہ ان کے خلاف کیا ہوا ہر ظلم سراسر ایک طرفہ ہو۔ ان کے خلاف برپا ہوا ہر فساد محض ایک فریق کی شرارت کا نتیجہ ہو۔ فرعون کے ظلم اور گھمنڈ کو ثابت شدہ بنانے کے لیے ضرورت تھی کہ حضرت آسیہ جیسی معصوم خاتون اس کے عقد نکاح میں دی جائیں۔

وہ ان کی معصومیت کو پوری طرح دیکھے، اس کے باوجود بالکل بے بنیاد طور پر وہ ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائے۔ یہودیوں کی شیطانیت کو ثابت کرنے کے لیے حضرت مریم جیسی پاکیزہ روح درکار تھی، جس کا معاملہ یہودیوں کے حوالے کیا جائے، اور وہ اس کو ناحق ذلیل کریں اور اس پر زنا کا الزام لگائیں۔ ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی کو درجہ ثبوت تک پہنچانے کے لیے ضرورت تھی کہ حضرت خدیجہ جیسی بے داغ سیرت کی خاتون ان کے قبضے میں دی جائیں، اور وہ ان پر بلا سبب وحشیانہ سلوک کر کے انہیں موت کے کنارے پہنچا دیں۔ یہ مصیبت جو خدا کے کچھ بندوں کو جھیلنی پڑتی ہے، یہ اس عمل کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔

ترازو اسی وقت ترازو بنتا ہے جب کہ وہ تول کا بوجھ اٹھائے۔ یہی معاملہ انسانوں کے درمیان اخلاقی ترازو بننے کا بھی ہے۔ یہاں بھی آدمی کو بوجھ اٹھانا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان خدا کی ترازو بن سکے۔ ظالم کے ظلم کو تولنے کے لیے ایک آدمی کو مظلومیت کا وار سہنا پڑتا ہے۔

مفسد کا مفسد ہونا اس وقت معلوم ہوتا ہے جب کہ کوئی شخص اس کے فساد کا شکار ہو۔ دھوکہ دینے والے کے لیے کوئی آدمی درکار ہوتا ہے جو دھوکہ کھا کر اس کی دھوکہ بازی کو ثابت شدہ بنائے۔ مزید یہ کہ ایسے ہر واقعے میں قصور تمام تر ایک طرف ہو، اور بے قصوری تمام تر دوسری طرف۔ بے داغ انسانوں کے ساتھ ظلم کیا جانا دراصل خدا کی سنتِ امتحان کی قیمت ہے۔

بے داغ انسان گویا خدا کے صحیح ترین ترازو ہیں، جن پر لوگوں کی بدکرداریوں کو تولا جاتا ہے۔ لوگوں کے ایمان و اخلاق کو تولنے کی یہی واحد صورت ہے۔ یقیناً یہ بڑا اندوہناک معاملہ ہے، مگر ان ستائی ہوئی پاکیزہ روحوں کو خدا کل کے دن اتنا زیادہ اجر دے گا کہ وہ آج کی تمام تکلیفوں کو بھول جائیں گے۔ وہ کہہ اٹھیں گے کہ خدایا تیرا احسان ہے کہ تو نے ہم سے ایک بہت چھوٹی قیمت لے کر ہم کو ایک بہت بڑے انعام کا مستحق بنا دیا۔

کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 69۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.