Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Jab Admi Aql Khodey

Urdu · 4 min

جب آدمی عقل کھو دے۔ پندرہویں صدی قبلِ مسیح تک مصر میں امالیکہ کی حکومت تھی، جو مصر کے باہر سے آ کر مصر کی حکومت پر قابض ہو گئے تھے۔ یوسف علیہ السلام اسی قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد مصر میں قومی انقلاب ہوا، امالیکہ کی حکومت ختم ہو گئی، اور ایک ملکی خاندان نے مصر کی حکومت پر قبضہ کر لیا اور اپنا لقب فرعون اختیار کیا۔

موسیٰ علیہ السلام سابق حکمران قوم یعنی بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھے، اور فرعینہ میں سے ایک فرعون کے پاس خدا کا پیغام لے کر بھیجے گئے۔ فرعون اپنے زمانے میں بڑے جاہ و جلال کا بادشاہ تھا۔ حضرت موسیٰ جب اس کے دربار میں آ کر کھڑے ہوئے تو فرعون نے ان کو حقیر سمجھا۔ دبے ہوئے فرقے کا ایک فرد، جس کے پاس نہ شاندار کپڑے تھے اور نہ پرشکوہ سواری، نہ اس کے آس پاس دنیاوی اہمیت کی اور کوئی چیز موجود تھی۔

اچانک بادشاہ کے دربار میں آ کر کہتا ہے کہ میں تمہارے پاس خدا کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری ہنس پڑے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کی بات کو مذاق سمجھا۔ ان کے لیے ناقابلِ فہم تھا کہ اتنی معمولی حیثیت کا آدمی خدا کا نمائندہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے حضرت موسیٰ کے پیغام کو اس کے دلائل کے اعتبار سے نہیں دیکھا، بلکہ اس اعتبار سے دیکھا کہ اس کا پیش کرنے والا کیسا ہے۔ اور جب انہیں نظر آیا کہ پیش کرنے والا ایک معمولی آدمی ہے تو انہوں نے ان کی بات کو، دلائل کی عظمت کے باوجود، حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ حضرت موسیٰ کی بات ملک میں پھیلنے لگی اور بہت سے لوگ اس کے وزن کو محسوس کرنے لگے۔ اس وقت فرعون نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس کی باتوں پر دھیان دے رہے ہو؟

یہ شخص تو عجیب الجھی ہوئی باتیں کرتا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہ ہو سکا کہ اس کا مقصد کیا ہے۔ دوسری طرف میرا معاملہ ہے کہ میں صاف اور سمجھ میں آنے والی بات کہتا ہوں۔ میرے برسرِ حق ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ خدا نے مجھ کو بڑائی عطا کی ہے۔

اس ملک کا اقتصادی نظام میرے حکم کے تحت چل رہا ہے۔ موسیٰ اگر خدا کے نمائندے ہیں تو کیوں نہ ان پر سونے کے کنگن اتارے گئے، یا فرشتوں کا دستہ ان کے ساتھ ہوتا؟ فرعون کی یہ باتیں اس حد تک کارگر ہوئیں کہ اس نے اپنی قوم کی عقل کھو دی، اور قوم نے اس کا کہنا مان لیا۔ وہ پہلے ہی سے فاسق لوگ تھے۔

سورہ نمبر 43 آیت 54: جب بھی حق کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو اس کی زد سب سے پہلے ان لوگوں پر پڑتی ہے جو کسی چلے ہوئے مذہب کے بل پر عوامی قیادت حاصل کیے ہوں۔ ایسے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ داعی کی باتوں سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں، تو وہ کچھ دلفریب باتیں کہہ کر لوگوں کے ذہن کو اس سے پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ داعی کے کھلے ہوئے دلائل کے مقابلے میں ان کی پرفریب باتوں کی کوئی حقیقت نہیں کرتے۔ اور قائدین کی خوشنما باتوں میں آ کر ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں، اور حق کے داعی کو چھوڑ دیتے ہیں۔

کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 57۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.