Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Hukm aan-e-ke bad

Urdu · 6 min

حکم آنے کے بعد شراب اور جوا اسلام میں حرام ہیں، مگر ان کے بارے میں احکام بتدریج اتارے گئے۔ شروع میں یہ آیت اتری کہ شراب اور جوا گناہ کے فعل ہیں، اگرچہ اس میں لوگوں کے لیے کچھ ظاہری فائدے بھی ہیں۔ سورہ نمبر 2، آیت 219۔ اس وقت عرب کے لوگ جوے اور شراب کے عادی تھے؛ انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں صاف لفظوں میں منع نہیں کیا گیا ہے، تو یہ کہہ کر بدستور ان میں مشغول رہے کہ یہ دونوں چیزیں ہم پر حرام نہیں کی گئی ہیں، صرف یہ کہا گیا ہے کہ ان میں گناہ ہے اور کچھ فائدہ بھی۔

فَقَالَ النَّاسُ مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا إِنَّمَا قَالَ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 161۔ اس کے بعد سورۃ المائدہ میں صاف حکم اترا کہ شراب اور جوا گندی چیزیں ہیں اور شیطانی فعل ہیں، تم ان سے بچو۔ سورہ نمبر 5، آیت 91۔ یہ حکم دیتے ہوئے جب قرآن میں یہ الفاظ آئے کہ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ یعنی "کیا تم ان سے باز آؤ گے؟

" تو صحابہ کرام بول اٹھے: إِنْ تَحَيْنَا رَبَّنَا إِنْ تَحَيْنَا رَبَّنَا یعنی "اے ہمارے رب، ہم باز آئے"۔ اے ہمارے رب، ہم باز آئے۔ تفسیر الطبری، جلد 10، صفحہ 572۔ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کو اسے سنایا، وہ شراب پیتا تھا اور اس کے گھر میں شراب موجود تھی۔

اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "يَا فُلَانُ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ عَلَى غُلَامِهِ فَقَالَ: اِذْهَبْ فَبِعْهَا" فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: "یا فلاں، بماذا أَمَرْتَهُ؟ " فقال: "أَمَرْتُهُ أَنْ يَبِيعَهَا" قال: "إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَأُفْرِغَتْ فِي الْبَطْحَةِ" مسند احمد، حدیث نمبر 2041۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: "اے شخص! کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام کر دیا ہے؟

" اس کے بعد اس شخص نے اپنے لڑکے سے کہا کہ جاؤ شراب کو بیچ دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے شخص! تم نے اپنے لڑکے کو کیا حکم دیا ہے؟ آدمی نے کہا کہ میں نے یہ حکم دیا ہے کہ وہ شراب کو بیچ دے۔

آپ نے فرمایا: "جس چیز کا پینا حرام ہے، اس کا بیچنا بھی حرام ہے۔ " اس کے بعد اس نے حکم دیا اور اس کی شراب بطحہ میں بہا دی گئی۔ مومن کے اندر بھی وہی جذبات ہوتے ہیں جو دوسرے انسانوں میں ہوتے ہیں؛ کبھی خواہش کے زیر اثر وہ لفظی تاویل کرتا ہے، کبھی اس کے اوپر مال کی محبت غالب آ جاتی ہے۔ مگر یہ سب اس وقت تک ہے جب تک خدا کا حکم اس کے سامنے نہ آئے۔

خدا کا واضح حکم سامنے آتے ہی وہ اس کے آگے جھک جاتا ہے، اس کے بعد وہ لفظی تاویلوں کو بھی بھول جاتا ہے، اور اسی کے ساتھ مال یا کسی دوسری چیز کی محبت کو بھی۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان یہ نہیں ہے کہ وہ فرشتہ ہونے کا ثبوت دے؛ یعنی کبھی کوئی غلطی نہ کرے اور نہ کبھی کوئی برا خیال اس کے دل میں آئے۔ اس قسم کی پارسائی فرشتوں سے مطلوب ہے، نہ کہ انسان سے۔ انسان سے اس کے رب کو جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ تنبیہ کے بعد غلطی پر اصرار نہ کرے۔

انسان کو جن جذبات کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اور جس قسم کی دنیا میں اس کو رکھا گیا ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے دل میں غلط خیالات آئیں گے، وہ غلط باتیں سوچے گا اور عملاً بھی غلط کام کر گزرے گا۔ مگر اس قسم کی کسی غلطی کو وقتی غلطی ہونا چاہیے، نہ کہ مستقل۔ جب بھی آدمی کا ضمیر ٹوکے یا کوئی خارجی آواز اس کی غلطی پر اس کو متنبہ کرے، تو اس وقت اس کو ضد اور ہٹ دھرمی کے بجائے سیدھے طریقے پر اپنی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہیے اور فوراً اپنی اصلاح کی کوشش میں لگ جانا چاہیے۔ انسان کا کمال غلطی کر کے دوبارہ پلٹ آنے میں ہے، نہ کہ سرے سے غلطی نہ کرنے میں۔

غلطی ہو جانا جرم نہیں ہے، بلکہ غلطی پر قائم رہنا جرم ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جنت ان متقیوں کے لیے ہے جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ کوئی برائی کر بیٹھیں یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر ڈالیں، تو وہ اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرے؟ اور وہ جانتے ہوئے اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔

سورہ نمبر 3، آیت 135۔ کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 55۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.