Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Meyaar ki Tabdili

Urdu · 5 min

معیار کی تبدیلی: ہجرت کے دوسرے سال بدر کے مقام پر مسلمانوں میں اور قریش میں جنگ ہوئی۔ قریش کی سرداری ابوجہل کو حاصل تھی؛ جنگ سے ایک دن پہلے اس نے خدا سے اپنی فتح کی دعا کی تو اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: "خدایا، دونوں فریقوں میں سے جو سب سے زیادہ رشتے رحم کا کاٹنے والا ہو، تو کل کے دن اس کو ہلاک کر دے۔ " خدایا، دونوں فریقوں میں سے جو سب سے زیادہ رشتے رحم کا کاٹنے والا ہو، تو کل کے دن اس کو ہلاک کر دے۔ اللهم اقطعنا للرحم فاحن الغدات سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 628۔

ابوجہل کو خدا سے یہ کہنا تھا کہ وہ قریش کو مسلمانوں کے اوپر فتح دے۔ اس کی یہ بات اسی وقت باوزن ہو سکتی تھی جب کہ وہ یہ بھی دکھا سکے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں اس کا گروہ حق پر ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے قطع رحم کو فیصلے کی بنیاد بنایا، کیونکہ اسلام کی دعوت نے قریش کے خاندانوں میں باپ کو بیٹے سے اور بھائی کو بھائی سے جدا کر دیا تھا۔ اس معیار پر جانچنے کی صورت میں یہ ثابت ہوتا تھا کہ اس کا اپنا گروہ حق پر ہے اور مسلمانوں کا گروہ باطل پر ہے۔

روس کے سابق وزیراعظم نیکیتا خروشچوف نے بھی اسی طریقے کو اختیار کرتے ہوئے خدا کے وجود سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ معیار قائم کیا کہ خدا اگر ہے تو اس کو چاند پر سے نظر آنا چاہیے۔ جب روس کے راکٹ نے اپنے چاند کے سفر کی رپورٹ میں خدا کا کوئی نشان نہیں بتایا تو خروشچوف نے اعلان کر دیا: "خدا کا کوئی وجود نہیں، کیونکہ ہمارا راکٹ چاند تک گیا مگر اس کو کہیں خدا نظر نہیں آیا۔ " یہی غلطی مختلف شکلوں میں خود اسلام میں پیدا ہو سکتی ہے: کون اسلام پر ہے اور کون اسلام پر نہیں ہے، اس کا ایک خدائی معیار ہے۔

لیکن اگر آپ اس معیار کو بدل دیں تو آپ کے لیے سارا معاملہ کچھ سے کچھ ہو جائے گا۔ آپ اپنے ذاتی معیار کی بنا پر دین کو بے دینی سمجھ لیں گے اور بے دینی کو دین۔ اگر آپ نے یہ سمجھ لیا ہو کہ دعوت دین کی بنیاد اکابر کے ملفوظات ہیں، تو آپ کو وہ دعوت دینی دعوت نظر نہ آئے گی جس کی بنیاد قرآن و سنت پر رکھی گئی ہو۔ اگر آپ یہ معیار قائم کر لیں کہ دین وہ ہے جو بزرگوں سے عقیدت پیدا کرے، تو آپ کو وہ دین دین معلوم نہ ہوگا جو خدا سے عقیدت پیدا کرنے والا ہو۔

اگر آپ کا ذہن یہ ہو کہ کامل دین وہ ہے جو سیاسی انقلاب کا علمبردار ہو، تو آپ کو وہ دین ناقص دین دکھائی دے گا جو فرد کے اندر نفسیاتی انقلاب پر زور دیتا ہو۔ اگر آپ کا خیال یہ ہو کہ جہاد اور عظمت کے مقام پر وہ ہے جو حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے اکھیڑ پچھاڑ کی مہم چلائے، تو آپ کو وہ شخص جہاد اور عظمت کے مقام سے گرا ہوا نظر آئے گا جو یہ کہے کہ حکمرانوں سے تصادم نہ کرتے ہوئے غیر سیاسی دائرے میں کام کرو۔ اگر آپ یہ معیار بنا لیں کہ جو شخص فروعی مسائل اور فنی موشگافیوں میں کمال رکھتا ہو، وہی ماہر دینیات ہے، تو آپ کو وہ شخص علم دینیات کا ماہر نظر نہ آئے گا جو خوفِ خدا اور فکرِ آخرت کی باریکیوں کو بیان کرتا ہو۔ اگر آپ نے یہ سمجھ لیا ہو کہ احتجاج اور حقوق طلبی کی مہم احیائے ملت کی مہم ہے، تو آپ ملت کے اندر خود تعمیری کی تحریک کو احیائے ملت کی تحریک سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔

کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 53۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.