← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Muttahida Mahaaz ki Siyasat
Urdu · 18 min
متحدہ مہاس کی سیاست؟ یہ 2ویں صدی ہجری کے وسط کا واقعہ ہے، لوگ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آ چکے تھے، اور ہر صبح شام ایک نئی حکومت کے منتظر تھے، جس کی ایک روایت کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔ دوسری طرف ہاشمی یا عباسی خاندان کے کچھ لوگ بنی امیہ کے کھنڈر پر اپنی شاہی عمارت اٹھانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اس صورتحال نے ایک طرف عوام اور دوسری طرف عباسی حوصلہ مندوں کے لیے ایک مشترک نقطہ فراہم کر دیا: بنی امیہ کا خاتمہ، اگرچہ مظلوم عوام کے لیے اس کا محرک کچھ اور تھا اور عباسی حوصلہ مندوں کے لیے کچھ اور۔
اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں 132 ہجری میں خلافتِ بنو امیہ کا خاتمہ ہو گیا، اور سفاح تخت نشین ہوا، جو عباسیوں کا پہلا خلیفہ تھا۔ سفاح کے بعد اس کا بھائی ابو جعفر منصور خلیفہ ہوا، 136 ہجری میں اس کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ بنو امیہ کے آخری زمانے میں جو لوگ ان کے خلاف تحریک چلا رہے تھے، ان میں محمد ابن عبداللہ یعنی نفس زکیہ اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ خاص طور پر مشہور ہیں۔ یہ لوگ امام حسن ابن علی کی اولاد سے تھے۔
بنو عباس، جو نسلی وجوہ سے اپنے آپ کو خلافت کا مستحق سمجھتے تھے اور اموی سلطنت کو ختم کرنا چاہتے تھے، جب انہیں مذکورہ بالا دونوں بھائیوں کی خفیہ تحریک کا علم ہوا تو وہ ان سے مل گئے، حتیٰ کہ خود المنصور، جو بعد کو خلیفہ ہوا، نے نفس زکیہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اموی سلطنت ختم ہوئی اور عباسی سلطنت اس کی جگہ قائم ہو گئی، مگر اس صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ مظالم اور زیادہ بڑھ گئے، حتیٰ کہ شاعر کو کہنا پڑا: «فمهلاً يا بني العباس مهلاً، لقد كُوِيَّتْ بِغَدْرِكُمْ الصُّدُورُ» اے بنی عباس، اپنا ظلم چھوڑ دو، تمہاری غداری سے سینے داغدار ہو چکے ہیں۔ الفخري فی الاداب السلطانيہ و الدول الاسلامیہ صفحہ 147۔ چنانچہ نفس زکیہ اور ان کے بھائی دونوں روپوش ہو گئے، اور جو انقلابی تحریک پہلے وہ بنی امیہ کے خلاف چلا رہے تھے، اس کو اب بنو عباس کے خلاف چلانے لگے۔
یہاں تک کہ موقع پا کر انہوں نے خروج، یعنی سلطنت سے بغاوت کا اعلان کر دیا، اور مدینے میں اپنی آزاد حکومت قائم کر لی۔ اس کے بعد ان کا جو انجام ہوا وہ یہ کہ نفس زکیہ 145 ہجری میں مارے گئے اور ان کا سر منصور کے دربار میں پیش کیا گیا، وہی منصور جس نے ان کے ہاتھ پر نوجوانی کی عمر میں بیعت کی تھی۔ عباسی سلطنت کے قیام سے پہلے نفس زکیہ کی تحریک اور عباسی تحریک دونوں کا مشترک دشمن ایک تھا، یعنی بنو امیہ۔ مگر جب عباسی تحریک نے بنو امیہ کی تحریک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور عباسی سلطنت قائم ہو گئی، تو اب صورتحال بدل گئی۔
اب عباسی سلطنت کے لیے نفس زکیہ دشمن کی حیثیت رکھتے تھے، کیونکہ وہ موجودہ عباسی سلطنت سے بھی مطمئن نہیں تھے۔ وہی المنصور، جو انقلاب سے پہلے نفس زکیہ کا حلیف تھا، اب ان کا دشمن بن گیا۔ اس نے ان کی تحریک کو ختم کرنے میں اتنی سرگرمی دکھائی کہ دو مہینے تک لباس نہیں بدلا اور بستر پر نہیں سویا۔ اس کو اس وقت تک چین نہیں آیا جب تک اس نے اس تحریک کو ختم نہ کر لیا۔
تاریخ کا یہ تجربہ ایک ہزار سال پہلے پیش آ چکا تھا، جو بتا رہا تھا کہ مختلف محرکات رکھنے والے لوگ جب کسی مقصد کے لیے متحدہ محاذ بناتے ہیں تو اس کا فائدہ ہمیشہ اس فریق کو حاصل ہوتا ہے جو زیادہ زورآور اور ہوشیار ہو۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس تجربے سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا، اور لوگ بار بار اسی ناکام تجربے کو دہراتے رہے۔ جمال الدین افغانی 1838 تا 1897 نے مصر میں احیائے ملت کا علم بلند کیا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے قوم پرستوں کی ایک انجمن، الحزب الوطنی کے نام سے، قائم کی، جس کے ممبرز کی تعداد کافی وسیع تھی۔
اس میں شیخ محمد عبدہ، سعد زغلول پاشا، عبداللہ نعیم، عبداللہ نعیم بے اور احسان بے جیسے ممتاز لوگ شامل تھے۔ عبداللہ نعیم بے اور احسان بے جیسے ممتاز لوگ شامل تھے۔ مصر میں جمال الدین افغانی کا اثر و رسوخ اتنا بڑھا کہ وہاں کی بااثر جماعت، جمعیت مانوسیہ، نے ان کو اپنا صدر نامزد کیا، یہاں تک کہ وہ وقت بھی آیا جب جمال الدین افغانی کی انجمن کا ایک خفیہ رکن، توفیق پاشا، مصر کے تختِ حکومت پر متمکن ہو گیا۔ اگرچہ اس کامیابی میں فرانس اور برطانیہ کا زیادہ ہاتھ تھا۔
اس واقعے کے بعد جمال الدین افغانی اور ان کے قوم پرست ساتھی بہت خوش ہوئے۔ انہیں نظر آیا کہ ان کی دیری نہ آرزوئیں اور تمنائیں پوری ہو رہی ہیں۔ مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ یہ محض سراب تھا۔ توفیق پاشا نے تخت پر بیٹھتے ہی جمال الدین افغانی اور ان کے مخصوص خادم، ابو تراب، کو مصر سے جلاوطنی کا حکم دے دیا۔
توفیق پاشا سید جمال الدین افغانی کی خفیہ مجلسوں میں شریک ہو چکا تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ لوگ ایمپیریلزم کے شدید مخالف ہیں۔ چونکہ توفیق پاشا کو انہیں ایمپیریلسٹ طاقتوں، یعنی فرانس اور برطانیہ کی حمایت سے کام کرنا تھا، اس لیے اس نے مصر میں ان کی موجودگی کو حکومت کے لیے ایک خطرہ سمجھا۔ اس نے فوج اور پولیس کی کڑی نگرانی میں جمال الدین افغانی اور ان کے خادم کو سوئز بھیج دیا، اور وہاں انہیں بجبر کشتی پر سوار کر کے روانہ کر دیا گیا۔
عجیب بات ہے کہ صرف نصف صدی بعد اسی حصے میں ٹھیک اسی غلطی کو دوبارہ، اس سے زیادہ بری شکل میں، دہرایا گیا۔ 1952 عیسوی میں جب مصر میں شاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹ گیا اور فوجی افسروں نے ملک میں حکومت قائم کر لی، تو ایک صاحب مجھ سے ملے: "مولانا، مصر جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں؟ " انہوں نے بہت رازدارانہ انداز میں کہا۔ "کیوں، خیریت تو ہے؟
" میں نے پوچھا۔ "یہ جو مصر میں انقلاب ہوا ہے، بظاہر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ فوجی انقلاب ہے، مگر حقیقتاً اخوانی اس انقلاب کے ہیرو ہیں۔ اب مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت ہوگی۔ مولانا اس لیے جانا چاہتے ہیں کہ اس نازک اور تاریخی موقع پر اخوانی لیڈروں کو نصیحت کریں اور اسلامی نظام کی تعمیر کے لیے انہیں مفید مشورے دیں۔
" یہ واقعہ ہے کہ مصر میں جو فوجی افسر انقلاب لائے تھے، ان میں ایسے بھی تھے جن کے اخوان المسلمین سے تعلقات تھے۔ وہ اخوانی تحریک کی تائید کرتے تھے، حتیٰ کہ خود جمال عبدالناصر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اخوانیوں کے اجتماعات میں شریک ہوتے تھے۔ صدر سادات کا بیان ہے کہ فوجی افسروں کی انقلابی کونسل نے ان کو مامور کیا تھا کہ وہ اخوانیوں سے رابطہ قائم کریں اور انقلابی جدوجہد کے سلسلے میں ان کی تائید حاصل کریں۔ چنانچہ جس رات کو شاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹا گیا ہے، اخوانی رضاکار قاہرے کی سڑکوں پر پہرہ دینے میں مشغول تھے۔
وہ ان خفیہ باتوں کے بھی رازدار تھے جن میں شاہ فاروق کو تخت سے معزول کرنے کی اسکیم بنائی گئی تھی۔ جب اخوان المسلمین اور فوجی افسروں کے اشتراک سے مصر میں انقلاب آیا تھا، تو کیوں ایسا ہوا کہ فوجی افسروں نے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اخوانیوں کو ختم کر دیا؟ یہ سوال اکثر لوگوں کو پریشان کرتا ہے، جو اب بالکل سادہ ہے: یہ اشتراک اسی قسم کی ایک غلطی تھی جس کا نمونہ اوپر کی مثالوں میں آپ دیکھ چکے ہیں۔ شاہ فاروق کی فوج کے کچھ جونیئر افسر فاروق کی قبر کے اوپر اپنی حکمرانی کا تخت بچھانے کا خواب دیکھ رہے تھے، مگر انہیں شبہ تھا کہ وہ تنہا اپنے اس خواب کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔
دوسری طرف اخوان المسلمین مصر میں اسلامی طرز کی حکومت قائم کرنے کے خواہشمند تھے، مگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اپنی اس تمنا کو کس طرح واقعہ بنائیں۔ دونوں کی راہ کی رکاوٹ بظاہر صرف ایک چیز تھی: شاہ فاروق کی حکومت۔ اس صورتحال نے دونوں گروہوں کے لیے ایک مشترک نقطہ اتحاد فراہم کر دیا۔ باہم ملاقاتیں اور دوستیاں شروع ہو گئیں۔
خفیہ مجالس میں شاہ کے خلاف اسکیمیں بننے لگیں۔ دونوں خوش ہو گئے کہ مقصد کے حصول کا قریبی موقع ہاتھ آ گیا ہے۔ مگر جب حکومت بدلی تو فطری طور پر وہ ان لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی جو زیادہ ہوشیار اور عملی طور پر حکومت سے قریب تر تھے۔ اور اتفاق سے یہ وہی لوگ تھے جن کو اسلامی یگانگت سے زیادہ ذاتی حوصلوں کی تکمیل کے شوق نے فریق ثانی سے قریب کیا تھا۔
انقلاب کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ ان حوصلوں کی تکمیل میں پہلے جہاں شاہ فاروق کی شخصیت حائل تھی، وہاں اب یہ قدیم دوست آ کر کھڑے ہو گئے ہیں، یا کم از کم کھڑے ہو سکتے ہیں۔ حل بہت آسان تھا: پہلے کے فوجی افسر اب ملک کے حکمران بن چکے تھے۔ انہوں نے اپنے قدیم دوستوں کو اس سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ اپنی راہ سے ہٹا دیا، جس کا مظاہرہ انہوں نے شاہ فاروق کی معزولی کے وقت کیا تھا۔ اسی اتحادی سیاست کو مزید بدتر شکل میں پاکستان میں دہرایا گیا ہے۔
1951 عیسوی میں پاکستان میں فوجی انقلاب ہوا اور صدر ایوب کی ڈکٹیٹرشپ ملک میں قائم ہو گئی۔ یہ صورتحال ملک کے بہت سے لوگوں کے لیے پریشان کن تھی۔ ان میں ایک طبقہ اسلام پسند حضرات کا تھا۔ یہ لوگ پاکستان میں اسلامی نظام لانے کے علمبردار تھے، اور صدر ایوب اور ان کی بنیادی جمہوریت ان کے نزدیک اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔
دوسرا گروہ سیکولر اور سوشلسٹ ذہن رکھنے والوں کا تھا۔ ان کو بھی یہی محسوس ہو رہا تھا کہ بنیادی جمہوریت کے ہوتے ہوئے وہ ملک کے اقتدار پر قبضہ نہ کر سکیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کو ختم کیا جائے۔ دونوں گروہ آخری منزل کے بارے میں ایک دوسرے سے مختلف نقطہ نظر رکھتے تھے، تاہم دونوں محسوس کرتے تھے کہ صدر ایوب کی ذات دونوں کے لیے یکساں رکاوٹ ہے۔
اشتراک کی اس منفی بنیاد نے دونوں کو ایک متحدہ سیاسی پلیٹ فارم پر یکجا کر دیا۔ اور پھر دونوں نے مل کر ملک میں وہ طوفان مچایا کہ خود ملک دو ٹکڑے ہو کر رہ گیا۔ یہ متحدہ محاذ، جو بڑے بڑے وعدے کے ساتھ بنایا گیا تھا، جب اپنے آخری انجام کو پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کا سارا فائدہ سیکولرزم اور سوشلزم کے علمبرداروں کے حصے میں آیا ہے، اور اسلام پسند گروہ کو اس کے سوا کچھ نہیں ملا کہ ساری طاقت خرچ کر کے سیاست کے صحرا میں ملوم مدحورا، یعنی ملامت زدہ اور ٹھکرائے ہوئے، بنے رہیں۔ اب اسی نادان سیاست کو ہندوستان کے کچھ مسلم قائدین نے اس ملک میں درآمد کیا ہے۔
وہ معاہداتی سیاست کے نعرے لگا رہے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر وہ ایک سیاسی پارٹی سے مل کر دوسری پارٹی کو شکست دیتے ہیں، مگر قوم کے بے شمار وسائل کو خرچ کرنے کے بعد ان کے حصے میں جو آخری چیز آئی ہے، وہ صرف یہ کہ الیکشن کے بعد جب لوگ اسمبلیوں پر قبضہ کر لیں اور وزارتیں بنا لیں، تو ہمارے لیڈر اسٹیج پر نمودار ہو کر یا پریس کانفرنس کر کے یہ انکشاف کریں کہ جیتنے والوں نے ہم سے فلاں فلاں وعدے کیے تھے جو پورے نہیں کیے گئے۔ 1966 عیسوی کے الیکشن میں معاہداتی سیاست کے رہنماؤں نے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر ریاستوں میں حکمران کانگریس کو شکست دی۔ 1977 عیسوی کے الیکشن میں اندرا گاندھی کی شکست کے بعد ایک مسلم رہنما نے کہا: "آج ہم نے ظلم کا بیڑا غرق کر دیا، مگر ان فتوحات کے باوجود اصل صورتحال آج بھی ویسی ہی ہے جیسے کہ وہ پہلے تھی۔
" سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ہی غلطی کو ہم کب تک دہراتے رہیں گے۔ اصل سیاست یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو طاقتور اور مستحکم بنایا جائے۔ سیاسی اشتراک یا متحدہ محاذ ہمیشہ اس فریق کے لیے مفید ہوتا ہے جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ فیصلہ کن پوزیشن کا حامل ہو۔ اندرونی کمزوری اور انتشار کو درست کرنے سے پہلے متحدہ محاذ کی طرف دوڑنا نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔
اگست 1972 عیسوی۔ اس سلسلے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ جہاں تک جزئی امور میں تعاون کا تعلق ہے، اس قسم کا تعاون ہر ایک سے لیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ کافر و مشرک سے بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے نازک سفر میں عبداللہ بن عریق کو رہنما بنایا، جو کہ مشرک تھا۔ صفوان ابن امیہ آپ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک ہوئے، حالانکہ اس وقت تک وہ مشرک تھے۔
امام زہری نے روایت کیا ہے: "ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استعان بناس من الیہودی فی حربہ فاسحملہ"۔ سنن سعید ابن منصور، اثر نمبر 2793۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض یہودیوں سے جنگ کے موقع پر مدد لی تو ان کے لیے مال غنیمت میں حصہ مقرر کیا۔ مگر یہ جزئی اور انفرادی تعاون کی مثالیں ہیں۔
کلی جدوجہد کے سلسلے میں کبھی اغیار پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر وہ جدوجہد جو غیر صالح حکمران کو ہٹا کر اس کی جگہ صالح حکمران کو لانے کے لیے کی جائے۔ اس قسم کے سیاسی جدوجہد تمام تر جماعت صالحہ کی اپنی طاقت پر ہونا چاہیے۔ کوئی جماعت صالح، کوئی جماعت، کوئی جماعت صالح اگر اپنے بل پر انقلاب لانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اس کا غیر سیاسی دائرہ عمل میں کام کرنے پر قانع رہنا اس سے بہتر ہے کہ وہ غیر صالح عناصر کو لے کر عملی سیاست کے میدان میں کود پڑے۔ غیر صالح عناصر اپنے مزاج کی بنا پر ایسا کبھی نہیں کر سکتے کہ غیر صالح حکمران کو بے دخل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور خالی شدہ تخت کو تمام تر جماعت صالحہ کے حوالے کر دیں۔
وہ لازماً یہ چاہیں گے کہ تخت پر خود قبضہ کریں۔ اس وقت متحدہ محاذ کے اندر باہمی کشمکش شروع ہوگی، جو یقینی طور پر غیر صالح عناصر کے غلبے پر ختم ہوگی۔ ساری تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے۔ کتاب "اسباق تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 60۔