← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Ittehad ki Shart
Urdu · 7 min
اتحاد کی شرط: خلیفہ چہارم علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمانوں کی اجتماعیت ٹوٹ گئی، اور لوگوں میں کثرت سے اختلاف پیدا ہو گیا۔ اس وقت ایک شخص نے حضرت علی سے پوچھا کہ مسلمانوں کا کیا معاملہ ہے کہ آپ کے زمانے میں لوگ اختلافات میں پڑ گئے ہیں، جبکہ ابوبکر و عمر کے زمانے میں یہ اختلافات نہ تھے۔ حضرت علی نے جواب دیا: لأن أبا بكر وعمر كانا واليين على مثلي، وأنا اليوم والٍ على مثلك. تاریخ ابن خلدون، جلد 1، صفحہ 264۔
یعنی اس کا سبب یہ ہے کہ ابوبکر و عمر میرے جیسے لوگوں کے اوپر حکمران تھے، اور میں تمہارے جیسے لوگوں کے اوپر حکمران ہوں۔ ابن خلدون نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دینی حکومت کے قیام کے لیے اس کے مطابق دینی رجحان، یعنی الواضع الواضع الدینی، کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر معاشرے کی سطح پر غالب دینی رجحان موجود نہ ہو تو محض حاکم کے اسلامی ہونے سے کامیاب اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ حضرت علی کے اس جواب میں آپ کا اشارہ اسی دینی محرک اور رجحان کی طرف تھا۔
المامون کو دیکھو، جب اس نے علی ابن موسی ابن جعفر الصادق کو اپنا ولی عہد نامزد کیا اور ان کو الرضا الرضا کا لقب دیا، تو کس طرح عباسیوں نے اس پر شدید ناگواری ظاہر کی۔ انہوں نے ان کی بیعت کو توڑ کر المامون کے چچا ابراہیم بن المہدی کے ہاتھ پر بیعت کر لی، اور اس کے ردعمل میں ایسا اختلاف پیدا ہوا اور بغاوت پر آمادہ شورش پسند گروہوں کی ایسی کثرت ہو گئی کہ قریب تھا کہ پورا حکومتی نظام کلادم ہو جائے۔ یہاں تک کہ المامون پیش قدمی کر کے خراسان سے بغداد پہنچا، اور علی الرضا کی ولی عہدی کو منسوخ کر کے اپنے خاندانی شخص کو ولی عہد نامزد کیا۔ ابن خلدون نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ خلفائے راشدین ایسے زمانے میں تھے جبکہ ملوکیت کا مزاج ابھی پیدا نہیں ہوا تھا، اور معاشرے پر دینی محرک اور رجحان کا غلبہ تھا۔
چنانچہ لوگوں نے اپنے اندرونی محرک کے تحت صرف ایسے ہی فرد کو خلافت کی ذمہ داری سونپی جو دینی اعتبار سے قابل قبول تھا، اور اس کو دوسرے کے اوپر ترجیح دی۔ اس کے علاوہ دوسرے افراد جن کی نگاہیں خلافت کی طرف اٹھ رہی تھیں، انہیں ان کے اپنے رجحان اور محرک کے حوالے کر دیا۔ تاہم اس کے بعد حضرت معاویہ کے زمانے سے عصبیت اپنی انتہا کو پہنچ گئی، اقتدار پر اسی مزاج کا تسلط ہو گیا، دینی رجحان کمزور پڑ گیا، اس کی جگہ ملوکیت اور گروہی رجحان کی ضرورت کا احساس بڑھ گیا۔ چنانچہ اگر ایسے شخص کو اقتدار سونپا جائے جو گروہی عصبیت کے اعتبار سے ناقابل قبول ہو، تو اس کو رد کر دیا جاتا۔
تھوڑے ہی عرصے میں اس کی حکومت انتشار کا شکار ہو جاتی اور جماعت میں اختلاف پڑ جاتا، جیسا کہ بعد کے زمانے میں پیش آیا۔ مقدمہ ابن خلدون، صفحہ 211۔ دور اول کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ ملت میں اتحاد کس طرح آتا ہے اور کن اسباب سے وہ ختم ہو جاتا ہے، وہ ہے ابن خلدون کے الفاظ میں واضح دینی کا ہونا یا نہ ہونا۔ گویا اتحاد کبھی اتحاد کی اپیلیں کرنے سے نہیں آتا، بلکہ اس وقت آتا ہے جبکہ پورے معاشرے میں اس کے موافق غالب دینی رجحان موجود ہو۔
اتحاد ملت کا کام دراصل اصلاح ملت سے شروع ہوتا ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ معاشرے میں دینی فضا پیدا کی جائے۔ لوگوں کو اس اعتبار سے باشعور بنایا جائے کہ تمہیں آخرت میں اپنے قول و عمل کا حساب اللہ تعالیٰ کو دینا ہے۔ لوگوں میں گہری آخرت پسندی پیدا کی جائے تاکہ وہ آخرت کے فائدے کے لیے دنیاوی نقصان کو برداشت کر سکیں۔ لوگوں کو اسلام کے بارے میں اس حد تک ایجوکیٹ کیا جائے کہ جب خدا اور رسول کا حکم سامنے آ جائے تو وہ اپنی گردن جھکا دیں، خواہ وہ ان کے ذوق کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
ان میں یہ مزاج ہو کہ اللہ کی خاطر وہ اختلاف کے باوجود متحد ہو جائیں۔ کسی گروہ میں اتحاد پیدا ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اتحاد ہمیشہ زیر اتحاد افراد کی قربانیوں سے قائم ہوتا ہے۔ رائے کی قربانی، مفادات کی قربانی، اپنے کو پیچھے کر لینے کی قربانی، اپنے اختلاف کو ختم کرنے کی قربانی، الفاظ رکھتے ہوئے چپ ہو جانے کی قربانی۔
اس لیے پہلے ذہن بنایا جاتا ہے، اس کے بعد اتحاد قائم ہوتا ہے۔ کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 30۔