← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Maqam kaisay mila
Urdu · 11 min
مقام کیسے ملا؟ حمزہ بن عبدالمطلب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ ان کے متعلق اسلامی تاریخ میں لکھا گیا کہ حمزہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کے ذریعے اللہ نے دین کو طاقت دی۔ فَكَانَ حَمْزَةُ مِمَّنْ أَعَزَّ اللَّهُ بِهِ الدِّينَ.
البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 233۔ حضرت حمزہ کو یہ مقام بلا سبب نہیں مل گیا، بلکہ وہ اُن کے حقیقی عمل کے نتیجے میں انہیں حاصل ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حکم ہوا کہ اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو آگاہ کرو—سورہ نمبر 26، آیت 214—تو آپ نے خصوصی طور پر حمزہ کے سامنے دینِ توحید کو پیش کیا۔ مگر اُن کے ذہن پر باپ دادا کے دین کا اتنا غلبہ تھا کہ ابتدا میں کئی سال تک اسلام کی صداقت اُن کو سمجھ میں نہ آ سکی۔
آخر کار، نبوت کے چھٹے سال، انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ایک روز وہ شکار کھیل کر واپس آئے، اُن کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی۔ عین اس وقت ایک عورت نے آ کر اُن سے کہا کہ ابھی میں نے صفا پہاڑی کے پاس محمد کو دیکھا ہے۔ وہاں عمر بن ہشام، یعنی ابوجہل، بھی تھا اور وہ تمہارے بھتیجے کو گالی دے رہا تھا اور بہت زیادہ برا کہہ رہا تھا۔
حمزہ خاندانی غیرت کے تحت گھر سے نکلے، کعبے میں انہوں نے ابوجہل کو پا لیا۔ وہ ابھی تک غصے میں تھے۔ انہوں نے لوہے کی کمان ابوجہل کے سر پر اتنے زور سے ماری کہ خون نکل آیا۔ انہوں نے ابوجہل سے کہا کہ تم میرے بھتیجے کے دشمن بنے ہوئے ہو، تو سن لو کہ میرا دین بھی وہی ہے جو محمد کا دین ہے۔
یعنی دینِ دین محمد۔ ابوجہل کا تعلق قبیلے بنو مخزوم سے تھا، اور حمزہ کا تعلق قبیلے بنو ہاشم سے۔ گھر واپس آئے تو قوم کے کچھ لوگ اُن سے ملے۔ انہوں نے حمزہ کو شرم دلائی کہ تم صابی یعنی بددین ہو گئے۔
تم نے اپنے باپ دادا کے طریقے کو چھوڑ دیا۔ ایک بھتیجے کی خاطر تم قوم کے تمام اکابر سے کٹ گئے۔ وغیرہ۔ اس طرح کی باتوں سے حمزہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو گئے۔
انہیں شبہ ہونے لگا کہ شاید میں نے خاندانی حمایت کے جوش میں آ کر غلطی کر دی ہے۔ وہ رات بھر بے چین رہے۔ انہیں ساری رات نیند نہیں آئی۔ صبح ہوئی تو اسی بے چینی کے عالم میں خانہ کعبہ میں گئے۔
وہاں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے پورے تضرع اور انابت کے ساتھ دعا کی۔ فَقَالَ: مَا صَنَعْتُ اللَّهُمَّ إِن كَانَ رُشْدًا فَاجْعَلْ تَصْدِيقَهُ فِي قَلْبِي وَإِلَّا فَاجْعَلْ لِي مِمَّا وَقَعْتُ فِيهِ مَخْرَجًا. سیرت ابن اسحاق، صفحہ 172۔ یعنی میں نے جو کچھ کیا، اے اللہ، اگر وہ ہدایت ہے تو اس کی تصدیق میرے دل میں ڈال دے۔
ورنہ میں جس میں پڑ گیا ہوں، اس سے میرے لیے نکلنے کی صورت پیدا فرما۔ اسی کے ساتھ اگلے دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ انہوں نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے، میں ایک معاملے میں پڑ گیا ہوں اور اس سے نکلنے کی صورت مجھے نظر نہیں آتی۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ ہدایت ہے یا گمراہی ہے۔
اس لیے آپ اس معاملے میں مجھے بتائیے۔ اے بھتیجے، میں تم سے اس معاملے میں سننا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے اُن کو نصیحت کی، انہیں خوف دلایا، اور اُن کو اللہ کے انعام کی خوشخبری دی۔
اس کے بعد اللہ نے اُن کے دل میں یقین ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صادق ہیں۔ اے میرے بھتیجے، اپنے دین کا اعلان عام کرو۔ خدا کی قسم، اگر مجھے وہ سب کچھ دیا جائے جس پر آسمان نے سایہ کیا ہے، تب بھی میں اس دین کو نہیں چھوڑوں گا۔
سیرت ابن اسحاق، صفحہ 172۔ اس کے بعد حضرت حمزہ آپ کے مکمل ساتھی بن گئے۔ زمانہ جاہلیت میں وہ ایک دولت مند شخص تھے۔ اسلام میں آنے کے بعد اُن کی دولت ختم ہو گئی۔
انہیں اپنے وطن مکے کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا۔ اسلام کی خاطر انہیں اپنی قوم سے لڑائی لڑنی پڑی، یہاں تک کہ احد کی جنگ میں وہ شہید ہو گئے۔ تاہم آخر تک وہ پوری وفاداری کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وابستہ رہے۔ یہ وہ عظیم سعادت ہے جو حضرت حمزہ کو حاصل ہوئی۔
تاہم یہ سعادت انہیں سادہ طور پر نہیں مل گئی۔ انہوں نے اپنے غیرت کے جذبات کو خدا کے دین کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے اپنے غیرت کے جذبات کو خدا کے دین کے لیے استعمال کیا۔ جب شیطان نے اُن کے اندر شبہ ڈالا تو انہوں نے اس شبہ کو قبول نہیں کر لیا، بلکہ اس کے لیے گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں کیں۔
رسول اللہ سے مل کر اس کی وضاحت معلوم کی، اور جب بات واضح ہو گئی تو پھر کوئی چیز اُن کے لیے اعتراف میں معنی نہیں ہوئی۔ انہوں نے نہ صرف کھلے دل سے اعتراف کیا، بلکہ ہر نقصان اور مصیبت کو برداشت کرتے ہوئے برابر اس پر قائم رہے۔ یہ ہے حضرت حمزہ کی وہ قربانی جس کے نتیجے میں ساری دنیا کے مسلمان ہر ہفتہ جمعہ کے خطبے میں سید الشہداء حمزہ کہہ کر اُن کی دینی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں۔ جواں مردی یا مردانگی سے عربوں کی کیا مراد ہوتی تھی، اس کو قدیم عربی اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے۔
جس کو عہدِ جاہلی کا کلام کہا جاتا ہے، اس جاہلی کلام کا ایک منتخب مجموعہ وہ ہے جو الحماسہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں ہم حماسہ سے کچھ اشعار بطور نمونہ نقل کرتے ہیں۔ إِذَا هَمَّ قَوْمًا لَمْ يَرَ اللَّيْلَ غُمَّةً عَلَيْهِ وَلَمْ تَصْعُبْ عَلَيْهِ الْمَرَاكِبُ قَلِيلُ التَّشَكِّيِّ لِلْمُهِمِّ يُصِيبُهُ كَسِيرُ الْهَوَى شَتَّى النَّوَابَ الْمَسَالِكِ إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدْنَسْ مِنَ اللُّؤْمِ عِرْزُهُ فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيهِ جَمِيلٌ يَسُرُّكَ مَظْلُومًا وَيُرْزِيكَ ظَالِمًا وَكُلَّ الَّذِي حَمَلْتُهُ فَهُوَ حَامِلُهُ إِذَا هَمَّ لَمْ تُرْدَ عَظِيمَةُ حَمْمِهِ وَلَمْ يَأْتِ مَا يَأْتِ مِنَ الْأَمْرِ هَائِبًا لَا مُطْرِفًا إِنْ رَخِيَ الْعَيْشُ سَاعَدَهُ وَلَا إِذَا حَلَّ مَكْرُوهُ بِهِ خَشَعًا لَا يَسْأَلُونَ أَخَاهُمْ حِينَ يَنْذُبُهُمْ فِي النَّائِبَاتِ عَلَى مَا قَالَ بُرْهَانًا فَذَاكَ قَرِيعُ الْدَّهْرِ مَا عَاشَهُ اَوَّلُ إِذَا سُدَّ مِنْهُ مِنْ خَرٍ جَاشَ مِنْ خَرٍ۔ ترجمہ: جب وہ کسی بات کا ارادہ کر لیتا ہے تو رات اس کو غمگین نہیں کرتی، اور نہ سواری پر چلنا اس کے لیے مشکل ہوتا۔
سخت معاملہ پیش آنے پر وہ شکایت نہیں کرتا۔ وہ بہت باحوصلہ ہے اور بہت منزلوں اور بہت راستوں والا ہے۔ جب آدمی کی آبرو ملامت زدہ بات سے گندی نہ ہوئی ہو تو وہ جو چادر بھی اوڑھے، وہ اس کے لیے اچھی ہے۔ وہ تم کو مظلومی میں خوش کر دے گا، اور تم ظالم ہو تو تم کو راضی کرے گا۔
اور تم جو ذمہ داری بھی اس پر ڈالو، اس کو وہ ضرور کرے گا۔ جب وہ ارادہ کر لے تو اس کے پختہ ارادے سے اس کو ہٹایا نہیں جا سکتا، اور آنے والی چیزوں میں سے کوئی چیز اس کو خوف زدہ نہیں کرتی۔ اگر اس کو زندگی کی اسودگی ملے تو وہ عیش پرست نہیں بنتا، اور اگر اس کو تنگی پیش آ جائے تو وہ پست ہمت نہیں ہوتا۔ ان کا بھائی کسی مصیبت پر ان کو پکارے تو وہ اس سے دلیل نہیں پوچھتے، بلکہ فوراً اس کی مدد پر دوڑ پڑتے ہیں۔
یہی انتخابِ زمانہ شخص ہے۔ وہ جب تک جیتا ہے، متحرک رہتا ہے۔ اس پر ایک راستہ بند ہوتا ہے تو وہ دوسرے راستے میں چل پڑتا ہے۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 33۔