Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Ba Shuoor Afraad

Urdu · 6 min

باشعور افراد: عبداللہ ابن ابی قدیم مدینے کا سب سے بڑا سردار تھا، حتیٰ کہ مدینے کے باشندے اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اس کو اپنا بادشاہ بنا لیں۔ مگر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکے کو چھوڑ کر مدینہ آ گئے تو آپ ہی کو مدینے کے لوگوں نے بڑا مان لیا۔ مدینے میں ابتداً مہاجرین اقلیت میں تھے، مگر مختلف مقامات سے لوگ ہجرت کر کے آتے رہے، یہاں تک کہ مدینے میں ابتداً مہاجرین کی اکثریت ہو گئی اور انصار اقلیت میں ہو گئے، جن کا عبداللہ ابن ابی سردار چلا آ رہا تھا۔ تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 370: ان باتوں کی وجہ سے عبداللہ ابن ابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین سے سخت بغض ہو گیا۔

وہ کسی نہ کسی طرح آپ کو اور مہاجرین کو متون کرتا اور انہیں نیچا دکھانے کی کوشش کرتا۔ اسی سلسلے کا ایک واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بنی المصطلق میں عبداللہ ابن ابی اپنے قبیلے کے بہت سے لوگوں کے ساتھ تھا۔ راستے میں ایک واقعے سے فائدہ اٹھا کر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کے خلاف دشنام ترازی کی۔ اپنے قبیلے کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہم لوگ مدینے کے عزت والے لوگ ہیں، اگر ہم مدینہ پہنچ جائیں تو ہم لوگ اپنے شہر سے ان ذلت والوں کو نکال دیں گے۔

سورہ نمبر 6، سورہ نمبر 63، آیت 8: یہ ایک لمبا قصہ ہے، خلاصہ یہ ہے کہ یہ قافلہ چلتا رہا یہاں تک کہ وہ مدینے کے قریب پہنچ گیا۔ اس وقت ایک نہایت غیر معمولی واقعہ ہوا، جو راوی کے الفاظ میں یہ تھا: إن ابنه عبدالله رضي الله عنه وقف لأبيه عبدالله ابن أبي بن سلول عند مضيق المدينة فقال: قف، فوالله لا تدخلها حتى يأذن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم في ذلك. فلما جاء رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم استأذنه في ذلك فأذن له فأرسله حتى دخل المدينة. البداية والنهاية، جلد 6، صفحہ 188: اس کے لڑکے عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ عبداللہ ابن ابی ابن سلول کے لیے مدینے کے دروازے پر کھڑے ہو گئے۔

عبداللہ ابن ابی وہاں پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ٹھہرو، خدا کی قسم تم شہر میں داخل نہیں ہو سکتے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اجازت دے دیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو عبداللہ ابن ابی نے آپ سے اجازت مانگی، آپ نے اس کو اجازت دے دی۔ اس کے بعد عبداللہ نے اس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مدینے میں داخل ہو گیا۔ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابہ کرام اتنے دانشمند لوگ تھے کہ وہ بتائے بغیر باتوں کو جان لیتے تھے۔

حضرت عبداللہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا تھا، انہوں نے بطور خود یہ جان لیا کہ اس موقع پر انہیں کیا کردار ادا کرنا ہے۔ اس وقت موضوع ترین بات یہ تھی کہ عبداللہ ابن ابی کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ ہو جائے۔ اس کا عملی مظاہرہ ہو جائے کہ اب مدینے کے بڑے تم نہیں ہو، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کے بڑے اور مدینے کے سردار ہیں۔ حضرت عبداللہ نے اس بات کے مظاہرے کا ابتدائی بروقت اور صحیح طریقہ اختیار کیا۔

اس کام کو کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ تھا کہ عبداللہ ابن ابی کا بیٹا اسے انجام دے۔ حضرت عبداللہ نے اس حقیقت کو سمجھا اور عین وقت پر وہ مطلوبہ کردار ادا کیا جو اس موقع پر انہیں ادا کرنا چاہیے تھا۔ کسی مشن کی کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ اس کو باشعور افراد کی ایک ٹیم مل جائے۔ اس طرح کی باصلاحیت ٹیم کے بغیر کوئی بھی مشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔

اس ٹیم کے افراد میں دو صفت لازمی طور پر ہونا چاہیے: ایک یہ کہ اس کا ہر فرد اطاعت گزار ہو، اس سے جو کچھ کہا جائے وہ ہر حال میں اس کی تعمیل کرے، وہ کسی عذر کو عذر نہ بنائے، خواہ وہ ذاتی عذر ہو یا خارجی عذر۔ دوسری صفت یہ ہے کہ اس ٹیم کے افراد اتنے باشعور ہوں کہ وہ کہے بغیر باتوں کو جان لیں، وہ بتائے بغیر صورتحال کو سمجھ لیں۔ اس دوسری صفت کی اہمیت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں بہت سی باتیں بتائی نہیں جا سکتیں۔ جب مشن پھیلتا ہے اور نئے نئے تقاضے سامنے آتے ہیں تو یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ لوگوں کو ساری ضروری باتیں بتا دی جائیں۔

ایسے وقت میں قابل عمل صورت صرف یہ ہوتی ہے کہ آدمی خود اپنی عقل سے باتوں کی گہرائی کو سمجھے، وہ خود ہر موقع پر اس کے موافق ضروری اقدام کر سکے۔ کوئی بھی دوسری چیز اس شعوری پختگی کا بدل نہیں بن سکتی۔ کتاب اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.