← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Ghalat Fahmi
Urdu · 6 min
غلط فہمی۔ صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب عرض الإنسان ابنتہ أو أخته على أهل الخير میں ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر اپنے والد حضرت عمر ابن الخطاب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: "جب ان کی صاحبزادی حفصہ بیوہ ہو گئیں، جن کا نکاح خنبس ابن حذافہ السهمی سے ہوا تھا، اور وہ مدینے میں وفات پا گئے، حضرت عمر نے کہا کہ پھر میں عثمان ابن عفان کے پاس آیا اور میں نے ان کو حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا۔ " انہوں نے جواب دیا کہ میں اس پر غور کروں گا۔
چند دن کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس وقت میں نکاح نہیں کر سکوں گا۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ پھر میں ابوبکر صدیق سے ملا اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی لڑکی حفصہ کا نکاح آپ سے کر دوں۔ ابوبکر خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ فصمت أبو بكر فلم يرجع إليّ شيئًا.
حضرت عمر کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابوبکر پر مجھے عثمان سے بھی زیادہ غصہ آیا۔ وكنت أوجد عليه مني على عثمان. صحیح البخاری، حدیث نمبر 5122۔ وفي رواية: فغضب على أبي بكر وقال فيها: "كنت أشد غضبًا حين سكت مني على عثمان." الطبقات الکبری، حدیث نمبر 4129۔
پھر میں کچھ دن تک ٹھہرا رہا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا، تو آپ کے ساتھ میں نے حفصہ کا نکاح کر دیا۔ اس کے بعد میری ملاقات ابوبکر سے ہوئی، انہوں نے کہا کہ شاید تم مجھ پر— انہوں نے کہا کہ شاید تم مجھ پر غصہ ہوئے ہو گے، جبکہ تم نے مجھ سے حفصہ کا پیغام دیا تھا، اور میں نے تم کو کوئی جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابوبکر نے کہا کہ اس معاملے میں جواب سے مجھے صرف اس چیز نے روکا تھا کہ میں جانتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کا ذکر کیا ہے، اور میں نہیں چاہتا— اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میں رسول اللہ کا راز کھول دوں۔
اگر آپ ان کو چھوڑ دیتے تو میں ضرور انہیں قبول کر لیتا۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 5122۔ طبقات ابن سعد، جلد 10، صفحہ 80۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر دونوں انتہائی جلیل القدر صحابی ہیں۔
اس کے باوجود ایسا ہوتا ہے کہ ایک صحابی دوسرے صحابی کے رویے کو اتنا زیادہ غلط سمجھ لیتا ہے کہ اس پر اس کو غصہ آ جاتا ہے، حالانکہ حقیقت کے اعتبار سے اس میں کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل غلط فہمی کا معاملہ تھا، نہ کہ غلط کاری کا۔ اصل یہ ہے کہ حضرت عمر ابتدائی مرحلے میں مذکورہ واقعے کو محض ظاہر کے اعتبار سے لے رہے تھے۔ ظاہر کے اعتبار سے انہیں دکھائی دیا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان نے نامناسب رویہ اختیار کیا، مگر جب معاملے کی اصل حقیقت معلوم ہوئی تو پتہ چلا کہ ان کا رویہ بالکل درست تھا۔
اس میں غصہ ہونے کی کوئی بات سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ ایک صحابی کو جب دوسرے صحابی کے معاملے میں غلط فہمی ہو سکتی ہے، تو عام مسلمان کو دوسرے مسلمان کے معاملے میں بھی یقیناً غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ کسی کے متعلق بری رائے قائم کرنے میں وہ انتہائی محتاط ہو۔ عین ممکن ہے کہ بعض ظاہری چیزوں کو دیکھ کر وہ بری رائے قائم کر رہا ہو، حالانکہ زیادہ گہرے اسباب بتا رہے ہوں کہ یہ سراسر غلط فہمی کی بات ہے۔
کیونکہ وہاں سرے سے کوئی غلط فعل پایا نہیں جا رہا ہے۔ موجودہ دنیا میں باہمی تعلقات میں بگاڑ کا سبب اکثر حالات میں غلط فہمی ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ظاہر حالات کے اعتبار سے غلط فہمی بالکل درست معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ بالکل بے بنیاد ہوتی ہے۔ یہ غلط فہمی دو مخلص افراد یا دو بے قصور گروہوں کے درمیان بھی ہو سکتی ہے۔
اس لیے آدمی کو چاہیے کہ جب بھی غلط فہمی کی صورت پیدا ہو تو ایسا نہ کرے کہ اس پر یقین کر کے بیٹھ جائے، بلکہ متعلق افراد سے مل کر اس کی تحقیق کرے۔ کامل تحقیق کے بغیر ہرگز وہ اس کو تسلیم نہ کرے۔ تحقیق کا طریقہ غلط فہمی سے پیدا ہونے والی برائیوں کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیق کے بعد جب غلط فہمی بے بنیاد ثابت ہو تو فوراً اپنے دل و دماغ سے اس کو نکال دے۔
اپنے آپ کو دوبارہ اسی طرح معتدل بنا لے جس طرح وہ غلط فہمی کی صورت پیدا ہونے سے پہلے تھا۔ تحقیق کو اپنا اصول بنا لیجیے، اور پھر آپ کو کسی سے شکایت نہیں ہو گی۔ کتاب: اسباق تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 21۔