Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Ziyada Sawab

Urdu · 7 min

زیادہ ثواب۔ قرآن کی سورہ النور میں 6 ہجری میں پیش آنے والے اس واقعے کا ذکر ہے جو اسلام کی تاریخ میں "عفق" کے نام سے مشہور ہے۔ اس موقع پر مدینے کے کچھ شرپسندوں نے حضرت عائشہ صدیقہ پر ایک جھوٹا الزام لگایا تھا۔ اس کے نتیجے میں پورے شہر میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔

وقتی طور پر مسلمانوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ "تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے"۔ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ سورہ نمبر 24، آیت 11۔ اس قسم کا فتنہ یا اس قسم کی شر انگیزی کیوں اہل ایمان کے لیے خیر ثابت ہوتی ہے؟

اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ تاہم اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ ایسا ہر فتنہ سچے مومن کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس اعلیٰ ایمانی عمل کا ثبوت دے جس کو قرآن میں "ذن خیر" کہا گیا ہے۔ سورہ نمبر 24، آیت 12۔ افواہوں کی آندھی میں حسنِ زن کا طریق اختیار کر کے وہ مزید ثواب کمائے۔

وہ زیادہ بڑا عمل کر کے اللہ کی نظر میں زیادہ مقبول بندہ بن جائے۔ مثلاً الزام تراشی کی اس مہم میں جو لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر شریک ہو گئے، ان میں سے ایک حسان ابن ثابت انصاری بھی تھے۔ چنانچہ بات کو جب متحقق ہو گیا کہ یہ پورا قصہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا، تو حسان ابن ثابت کو ان کی غلطی پر کوڑے مارے گئے۔ مگر جہاں تک حضرت عائشہ کا تعلق ہے، وہ کبھی حسان ابن ثابت سے متنفر نہیں ہوئیں۔

روایات میں آتا ہے کہ وہ اس کو سخت ناپسند کرتی تھیں کہ ان کے سامنے حسان کو برا کہا جائے۔ قَالَ عُرْوَةٌ: كَانَتْ عَائِشَةٌ تَكْرَهُ أَنْ يَسُبَّ عِنْدَهَا حَسَّانٌ قَالَ عُرْوَةٌ: كَانَتْ عَائِشَةٌ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانٌ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4141۔ وہ حسان کے اشعار پڑھ کر کہا کرتی تھیں کہ "حسان وہ ہیں جنہوں نے اسلام کی مدافعت میں ایسے اور ایسے اشعار کہے ہیں"۔ التفسیر المظہری، جلد 6، صفحہ 273۔

حضرت عائشہ کا یہ قول شرافت اور بلند اخلاقی کی نہایت عظیم مثال ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ "ایسا ایک کلمہ آدمی کو جنت میں پہنچانے کے لیے کافی ہے"۔ مگر اس قسم کے جنتی کلام کا کریڈٹ کسی کو ٹھنڈے حالات میں نہیں مل سکتا۔ یہ تو اسی وقت مل سکتا ہے جب کہ اس کے خلاف شر انگیزی اور فتنہ پردازی کا طوفان کھڑا کیا جائے، مگر وہ مشتعل نہ ہو۔

اس کے باوجود وہ انصاف اور خیرخواہی کی روش نہ چھوڑے۔ اس کے باوجود اس کی زبان سے دوسروں کے لیے خیر کا کلمہ نکلے۔ اس کے باوجود وہ دوسروں کا اعتراف کرے۔ اس کے باوجود وہ دوسروں کے حق میں نیک دعا کرے۔

وہ اپنے آپ کو پوری طرح منفی ردعمل سے بچائے اور ہر حال میں تقویٰ کی مثبت روش پر قائم رہے۔ اسی طرح روایت میں آتا ہے کہ مدینے میں جب یہ بیہودہ خبر پھیلی تو حضرت ابو ایوب انصاری اپنے گھر میں آئے۔ ان کی بیوی نے کہا کہ "اے ابو ایوب! آپ نے سنا کہ عائشہ کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے؟

" ابو ایوب انصاری نے کہا کہ "ہاں، میں نے سنا، مگر وہ جھوٹ ہے"۔ پھر انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ "اے ام ایوب! کیا تم ایسا کرو گی؟ " انہوں نے کہا کہ "خدا کی قسم نہیں"۔

ابو ایوب انصاری نے کہا: "پھر عائشہ، خدا کی قسم، تم سے افضل ہیں"۔ ان کی بیوی نے جواب دیا کہ "ہاں، آپ نے صحیح کہا"۔ تفسیر القرطبی، جلد 12، صفحہ 202۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے صفوان ابن المعطل السلمی کا نام لیا، جن کے ساتھ ظالموں نے حضرت عائشہ صدیقہ کو ملوث کیا تھا۔

ابو ایوب انصاری نے کہا کہ "میں خود اپنے بارے میں سوچتا ہوں کہ اس وقت اگر میں صفوان کی جگہ پر ہوتا تو میرے دل میں اس طرح کا خیال تک نہیں آ سکتا تھا"۔ پھر صفوان تو مجھ سے اچھا مسلمان ہے، وہ کیوں کر ایسا سوچ سکتا تھا؟ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں "قولِ سدید" کہا گیا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری نے یہ کہا کہ "ایک سادہ منطق کو استعمال کر کے اسے پہلے ہی مرحلے میں رد کر دیا"۔

انہوں نے سوچا کہ کوئی بھی شریف انسان ایسا خیال اپنے دل میں نہیں لا سکتا۔ پھر کیسے مان لیا جائے کہ عائشہ صدیقہ جیسی شریف خاتون یا صفوان جیسا مخلص مومن اس قسم کی ذلیل بات کے مرتکب ہو سکتے ہیں؟ یہ ہنگامی واقعہ اگر نہ پیش آتا تو ابو ایوب انصاری کو اس عظیم عمل کا انعام کیسے ملتا کہ ذہنی بھونچال کے وقت بھی انہوں نے اعتراف کا ثبوت دیا؟ ناموافق پروپیگنڈوں کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو فکری اعتدال پر باقی رکھا۔

زلزلہ خیز حالات بھی اس میں کامیاب نہیں ہوئے کہ ان کے قدم کو حق و صداقت سے ہٹا دیں۔ حسنِ زن ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے آدمی کو خود اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے حسنِ زن کو خدا کی نظر میں ایک عظیم عمل بنا دیا ہے۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 23۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.