← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Do Insan
Urdu · 6 min
دو انسان۔ مسیلمہ کذاب 12 ہجری نجد کے علاقے میں یمامہ کا رہنے والا تھا، اس مقام کو اب جبیلہ کہا جاتا ہے۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا، اسی لیے وہ کذاب یعنی جھوٹا کہا جاتا ہے۔ عربی میں مثل ہے: أَكْذَبٌ مِنْ مُسَيْلَمَةٍ.
جمہرت الامثال جلد 2 صفحہ 137۔ یعنی مسیلمہ سے بھی زیادہ جھوٹا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر ابن العاص نے یمامہ جا کر مسیلمہ سے ملاقات کی۔ مسیلمہ نے پوچھا کہ تمہارے صاحب پر حال میں اترنے والی وحی کیا ہے؟
عمر ابن العاص نے کہا کہ آپ پر ایک سورہ اتری ہے جو نہایت مختصر اور نہایت بلیغ ہے۔ اس نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ عمر ابن العاص نے اس کو سورہ العصر سنائی۔ والعصر إن الإنسان لفي خسر إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر.
سورہ نمبر 103 آیت 1 تا 3۔ یعنی قسم ہے زمانے کی، بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔ مگر جو لوگ کہ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی، اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ اس کو سن کر مسیلمہ کچھ دیر چپ رہا، اس کے بعد بولا کہ میرے اوپر بھی اسی قسم کا کلام اترا ہے۔
عمر ابن العاص نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ مسیلمہ نے حسب ذیل الفاظ سنائے: يا وَبْرُ، يا وَبْرُ، إِنَّمَا أَنْتِ أُذُنَانِ وَصَدْرٌ، وَسَائِرِكَ حَفْرٌ نَقْرٌ. تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 224۔ اس کے بعد اس نے پوچھا کہ اے عمر، تمہارا کیا خیال ہے؟
عمر ابن العاص نے جواب دیا: خدا کی قسم، تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں تم کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ مسیلمہ کو معلوم تھا کہ اس کے یہ الفاظ بالکل لغو ہیں، مگر اس نے نعوذ باللہ قرآن کا مذاق اڑانے کے لیے ان کو موضوع کر کے سنایا۔ اب دوسری مثال لیجیے: یہ سورہ العصر مکے میں نازل ہوئی تھی۔ جب وہ اتری تو بعض صحابہ نے اس کو ایک تختی پر لکھا اور اس کو کعبے کی دیوار پر آویزاں کر دیا۔
اس کے بعد مختلف لوگوں نے اس کو پڑھا۔ انہی میں سے ایک لبید ابن ربیعہ العامر 41 ہجری تھے، وہ بھی نجد کے علاقے کے رہنے والے تھے۔ ان کا شمار اصحاب المعلقات میں ہوتا ہے۔ بعد کو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیعت کر کے اسلام قبول کیا۔
کہا جاتا ہے کہ اسلام سے ان کا پہلا تاثر سورہ العصر کے ذریعے ہوا تھا۔ وہ مکہ آئے اور کعبے کی دیوار پر لکھی ہوئی مختصر سورہ العصر کو پڑھا۔ ان پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ جوش میں آ کر اسی وقت کعبے کا طواف کرنے لگے۔ آخر میں انہوں نے کہا: والله ما هذا من كلام البشر.
یعنی خدا کی قسم، یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ السیرت الحلبیہ جلد 3 صفحہ 393۔ اس کے بعد وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ وہ عرب کے ایک ممتاز شاعر تھے، مگر انہوں نے شاعری چھوڑ دی۔
کسی نے پوچھا کہ شاعری کیوں چھوڑی؟ تو جواب دیا: أبعد القرآن. کیا قرآن کے بعد بھی؟ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے صرف ایک شعر کہا: ترك الشعر فلم يقل في الإسلام إلا بيتًا واحدًا.
الاعلام للذرقلی جلد 5 صفحہ 240۔ ایک ہی واقعہ ایک شخص کے لیے گمراہی کا سبب بن گیا، اور دوسرے آدمی کو اسی سے ہدایت مل گئی۔ اس فرق کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ انانیت ہے۔
مسیلمہ اپنے سینے میں انانیت لیے ہوئے تھا۔ وہ اپنے کو سب سے بڑا سمجھتا تھا۔ وہ خود اپنی ذات میں گم تھا، اس لیے وہ حق کو دیکھنے سے محروم رہا۔ اس نے اپنے آپ کو جانا، اور اس کی ذات کے باہر جو زیادہ بڑی حقیقت تھی، اس کا ادراک کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔
اس کے برعکس معاملہ لبید کا تھا۔ وہ حق کو سب سے بڑا سمجھتے تھے۔ ان کا سینہ خود پسندی سے پاک تھا۔ وہ ذاتی مصالحے سے اوپر اٹھ کر حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
اس بنا پر جب حق آیا تو فوراً وہ اس کو پہچان گئے، اور اپنے آپ کو فوراً اس کے حوالے کر دیا۔ اس دنیا میں سب سے بڑا جرم حق کا انکار ہے، اور سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف۔ پہلی چیز آدمی کو جہنم میں لے جاتی ہے، اور دوسری چیز اس کو جنت کا مستحق بنا دیتی ہے۔ کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 16۔