Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Asbaq-e-Tareekh
Asbaq-e-Tareekh

Do Namuney

Urdu · 4 min

دو نمونے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جس شخص کے سامنے بھی اسلام کو پیش کیا، اس نے اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ تردد کا اظہار کیا۔ مگر ابوبکر کا معاملہ مختلف تھا؛ ان کے سامنے جب میں نے اسلام کی دعوت پیش کی تو انہوں نے کسی شبہ یا تردد کا اظہار نہیں کیا، بلکہ فوراً ہی اسلام قبول کر لیا۔ سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 232: حضرت ابوبکر اپنی اسی صفت کی بنا پر "الصدیق" کہے گئے۔ اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میں ایک نمونہ حضرت ابوبکر صدیق کا ہے۔

دوسرا نمونہ وہ ہے جو حضرت عمر فاروق کی زندگی میں ملتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، حضرت عمر نے پہلے اسلام کی سخت مخالفت کی۔ اس کے بعد ایک وقت آیا جب کہ انہوں نے قرآن کے کچھ حصے کو پڑھا اور اس پر غور کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے رویّے کو بدلنے کا فیصلہ کیا اور شرح صدر کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔

یہ دو علامتی نمونے ہیں۔ یہ دونوں "رہنما نمونے" کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حق کے معاملے میں انسان کو ان دو میں سے کسی ایک کی مانند ہونا چاہیے۔ ان دو کے بعد کوئی تیسرا نمونہ مطلوب نمونہ نہیں۔

پہلے نمونے کے مطابق آدمی کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ گہرے غور و فکر کے ذریعے اپنے ذہن کو اتنا پختہ بنائے کہ وہ خود ہی حقیقت کو اس کی گہرائی تک سمجھ جائے۔ وہ فکری اعتبار سے خود یہ اہلیت رکھتا ہو کہ شکوک و شبہات کے پردے کو پھاڑ سکے، اور غیر متعلق بحثوں میں الجھے بغیر چیزوں کو ان کی اصل صورت میں دیکھ لے۔ یہ فکری پختگی کا اعلیٰ درجہ ہے، اور حضرت ابوبکر صدیق اسی درجے کی آخری تکمیلی مثال ہیں۔ دوسرے نمونے کے مطابق: آدمی کو متعصبانہ فکر اور بے اعترافی سے آخری حد تک پاک ہونا چاہیے۔

اس کو نفسیاتی پیچیدگیوں سے اتنا زیادہ خالی ہونا چاہیے کہ جب بھی دلیل کی زبان میں اس کی کسی کوتاہی کی نشاندہی کی جائے تو وہ فی الفور اس سے باخبر ہو جائے، اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اپنی غلطی کا اعتراف کر لے۔ حضرت عمر فاروق اس دوسرے نمونے کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ چنانچہ کئی بار ایسا ہوا کہ آپ نے ایک ایسا فیصلہ فرمایا جو درست نہ تھا۔ اس کے بعد کسی شخص نے دلیل کی زبان میں اس کی وضاحت کی تو آپ نے فوراً ہی اس کو مان لیا، اور شدتِ اعتراف کے تحت آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: "لولا فلان لهلك عمر" السنن الکبریٰ للبیہقی، اثر نمبر 1558۔

کتاب "اسباق تاریخ"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 15۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.