زمانی فرق۔ مکی دور کا ایک واقعہ ہے: حضرت ابوبکر صدیق نے اسلام قبول کیا تو ایک روز وہ کعبے میں گئے اور انہوں نے اسلامی طریقے کے مطابق نماز پڑھنا شروع کیا۔ مکے کے مشرکین نے ان کو کعبے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو وہ دوڑ کر آئے اور ان کے اوپر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان کو بری طرح مارا پیٹا، حتیٰ کہ یہ ممکن نہ رہا کہ وہ وہاں اپنی نماز کو پورا کر سکیں۔
19 اکتوبر 1996 عیسوی کو راخیم الحروف کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، جس کو یہاں میں بلا تقابل درج کر رہا ہوں۔ اس دن بمبئی میں جو چوپاٹی کے میدان میں تقریباً 10 لاکھ ہندو حضرات اکٹھا تھے، ایک سرے پر بہت اونچا اور بہت وسیع منچ بنایا گیا تھا جس پر مسٹر ایل کے ایڈوانی اور دوسرے بہت بڑے بڑے ہندو لیڈر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی مقرر کے طور پر وہاں مدعو تھا۔ اس دوران مغرب کا وقت ہو گیا۔
میں نے منچ کے ایک طرف کھڑے ہو کر سب کے سامنے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس وقت سواڈھائی تحریک کے چیئرمین دادا جی پانڈورنگ شاستری کی تقریر ہو رہی تھی۔ انہوں نے اپنی تقریر روکی اور دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھے پرنام کیا۔ ان دونوں واقعات میں یہ فرق کیوں ہے؟
دورِ اول کے واقعے میں غیر مسلموں نے ایک مسلمان کو نماز پڑھنے نہیں دیا تھا۔ آج خود غیر مسلموں کے بڑے مجمعے میں ایک مسلمان آزادی کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے۔ اس فرق کا سبب زمانے کی تبدیلی ہے۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر کا نظام قائم تھا، اور موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔
اس بنا پر آج مذہب کے حق میں ایسے امکانات کھل گئے ہیں جو کبھی پائے نہیں جاتے تھے۔ پہلے تشدد کے ماحول میں مذہب پر عمل کیا جا سکتا تھا، آج امن کے ماحول میں مذہب پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ پہلے آزادانہ طور پر مذہبی سرگرمیاں جاری نہیں کی جا سکتی تھیں، آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کامل آزادی کے ساتھ مذہبی سرگرمیوں کو جاری کیا جائے۔ کتاب: اسباقِ تاریخ، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 14۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.