برتر تدبیر، برتر تدبیر۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ کو خلیفہ ہشام بن عبدالملک اموی نے بلایا، اور ان کو مصر کے محکمۂ خراج کے افسر کا عہدہ پیش کیا۔ حضرت ابراہیم بن عیلہ نے عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ خلیفہ ہشام کو غصہ آ گیا، اس نے کہا کہ آپ کو یہ عہدہ قبول کرنا ہوگا، ورنہ آپ کو سخت سزا دی جائے گی۔
حضرت ابراہیم بن عیلہ نے نہایت نرمی کے ساتھ کہا: "اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ہم نے زمین و آسمان کو امانت پیش کی، مگر انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کر دیا۔ " إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا سورہ نمبر 33 آیت 72۔ پھر جب خدائے بزرگ و برتر ذمہ داری قبول نہ کرنے پر خفا نہیں ہوئے، تو آپ کیوں مجھ پر خفا ہو رہے ہیں؟ خلیفہ ہشام بن عبدالملک یہ سن کر چپ ہو گیا اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔
حلیۃ الاولیاء، جلد 5، صفحہ 244۔ ابراہیم بن عیلہ کے مذکورہ جواب سے پہلے، خلیفہ ہشام کو غلطی ابراہیم بن عیلہ کی طرف نظر آ رہی تھی۔ اس جواب کے بعد خلیفہ کو محسوس ہوا کہ غلطی خود اس کی اپنی طرف ہے۔ اس احساس نے اس کی سوچ کو بدل دیا، اور اس نے اپنے متشددانہ حکم کو واپس لے لیا۔
یہ ایک عظیم الشان فطری ہتھیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے لیے اور ہر آدمی کے خلاف مہیا کیا ہے، خواہ اس کا حریف بادشاہ بادشاہِ وقت ہی کیوں نہ ہو۔ آدمی اگر ردِعمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو، وہ تیز و تن الفاظ بول کر یا مخالفانہ کارروائی کر کے معاملے کو مزید نہ بگاڑے، تو یقینی طور پر وہ اس امکان کو اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب بھی اپنے خلاف کوئی صورتحال پیش آئے، وہ ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر کارروائی کرے۔ وہ فریقِ ثانی کے اندر احساسِ خطا کو جگانے کی کوشش کرے۔
اگر فریقِ ثانی کے اندر احساسِ خطا بیدار ہو گیا، تو گویا وہ خود ہی اپنے ہتھیاروں سے زخمی ہو گیا۔ فریقِ ثانی کے اندر چھپی ہوئی فطرت کو جگانا، اس کے اوپر سب سے بڑا حملہ ہے۔ کوئی بھی شخص نہیں جو اس حملے کی تاب نہ لا سکے۔ تاہم یہ حملہ وہ لوگ کر سکتے ہیں جو اپنے آپ کو ردِعمل کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی کر لیں۔
جو لوگ اشتعال کی بات پر مشتعل ہو جائیں، وہ کبھی اس اعلیٰ تدبیر کو استعمال نہیں کر سکتے۔ کتاب "اسباقِ تاریخ" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 13۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.