← Asbaq-e-TareekhAsbaq-e-Tareekh
Deebacha
Urdu · 5 min
دی باچہ۔ زیرِ نظر مجموعہ عام معنوں میں کوئی "مرتب" کتاب نہیں، وہ مختلف اور متفرق مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ مضامین ماہنامہ الرسالے میں چھپتے رہے ہیں، یہاں ان کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کر دیا گیا۔ ان مضامین کا مشترک پہلو یہ ہے کہ وہ مسلم تاریخ کے مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور ہر واقعے میں کوئی ایسی نصیحت ہے جو اس کو عمومی بنا دیتی ہے۔
تاریخ کے مطالعے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں: مثلاً فخر کے جذبے کی تسکین حاصل کرنا، یا ماضی کی معلومات کے طور پر اس کو دیکھنا۔ زیرِ نظر کتاب میں اس کے بجائے تاریخ کا مطالعہ سبق اور نصیحت کے لیے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مقصد کے تحت تاریخ کو پڑھنا بے حد اہم ہے، اور اگر اس سے صحیح تاثر لیا جائے تو وہ زندگی کی تعمیر کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔ بدقسمتی سے ہماری مدون تاریخ اس نہج پر نہیں لکھی گئی ہے۔
قدیم زمانے میں تاریخ کو زیادہ تر جنگ و فتوحات کی داستان کے طور پر لکھا جاتا تھا۔ یہی انداز ساری دنیا میں پھیل گیا۔ قدیم زمانے میں تاریخ کے موضوع پر جتنی کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب "بادشاہ نامہ" یا "جنگ نامہ" تھیں۔ یہی مروجہ انداز مسلمانوں کے درمیان بھی غیر شعوری طور پر داخل ہو گیا۔
اسلام کے ظہور کے بعد ہزار سال تک اسلام کی تاریخ پر ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر وہ زیادہ تر "فتوحات مسلمین" یا "جنگ نامہ اسلام" کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پہلا شخص جس نے اسلامی تاریخ کی اس کمی کو محسوس کیا، وہ عبدالرحمن ابن خلدون (808 تا 732 ہجری) تھا۔ اس نے نئے اسلوب پر تاریخ نگاری کے اصول وضع کیے، جو اس کی مشہور کتاب "مقدمے" میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس نے ان اصولوں پر تاریخ کو مرتب کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ بھی اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔
اس کمی نے اسلام کی تاریخ کو بظاہر "جنگ و فتوحات" کی تاریخ بنا دیا۔ اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ اسلام ایک "شمشیری مذہب" ہے، حالانکہ اصل حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسلام کی تاریخ وسیع تر معنوں میں حیاتِ انسانی کی تاریخ ہے، مگر عملاً وہ کشور کشائی کی تاریخ بن گئی۔ اسلام نے اپنی 1400 سالہ تاریخ میں کروڑوں انسانوں کو متاثر کیا، زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب کا سبب بنا، انسانی زندگی میں ایسا ہمہ گیر انقلاب صرف شمشیر کے ذریعے وجود میں نہیں آ سکتا۔
مؤرخین عام طور پر اسلامی تاریخ کے جس پہلو سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، وہ اسلام کی استثنائی نوعیت کی انتہائی تیز رفتار جغرافیائی توسیع ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسلام کے دوست اور دشمن دونوں میں سے کوئی بھی اس واقعے سے صحیح سبق نہ لے سکا۔ اسلام کے معترفین نے اسلامی تاریخ کے اس واقعے سے زیادہ تر فخر کی غذا لی۔ اس کے برعکس اسلام کے معترضین نے اس واقعے سے یہ نتیجہ نکالا کہ اسلام کی اصل طاقت اس کی تلوار ہے، نہ کہ اس کی آئیڈیالوجی۔
زیرِ نظر کتاب گویا کہ اسلام کی تاریخ کا درست زاویے سے مطالعہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس اعتبار سے شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ غلط طریقۂ مطالعہ کی تصحیح کی طرف ایک قدم ہے، اگرچہ وہ محدود بھی ہے اور غیر مرتب بھی۔ وحید الدین دہلی، 20 نومبر 1998 عیسوی۔ کتاب "اسباق تاریخ"، صفحہ نمبر 9۔