مسجد کو دیکھ کر۔ مولانا محمد علی ہندوستانی مسلمانوں کے انتہائی مشہور لیڈر تھے۔ ان کے زمانے میں دہلی کے ایک مسلمان پینٹنگ کا کام کرتے تھے، وہ مختلف تصویریں بنا کر بیچتے تھے، یہی ان کا معاشی ذریعہ تھا۔ ایک بار انہوں نے ایک تصویر بنائی اور یہ تصویر مولانا محمد علی کے سامنے پیش کی تاکہ وہ اس کو خرید لیں۔
اس تصویر میں جامعہ مسجد دہلی کو دکھایا گیا تھا۔ دہلی کی جامعہ مسجد کافی اونچائی پر ہے، اس کی سیڑھیوں کا کام اس کی سیڑھیوں کا عام منظر گدا گھروں کی موجودگی ہے۔ چنانچہ انہوں نے جو تصویر بنائی اس میں مسجد کے ساتھ یہ بھی دکھایا گیا تھا کہ اس کی سیڑھیوں پر ایک بھیک مانگنے والی عورت اپنے ایک بچے کو لیے ہوئے کھڑی ہے۔ محمد علی نے تصویر دیکھی تو کہا کہ میں ایک شرط پر اس کو خرید لوں گا، وہ شرط یہ ہے کہ تم تصویر کے نیچے یہ جملہ لکھ دو کہ اس کے ابا اجداد نے اسے بنایا تھا۔
Her father's built it. اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے میں جو بڑے بڑے مسلم لیڈر مختلف ملکوں میں اٹھے وہ کس چیز سے سب سے زیادہ متاثر تھے، وہ دراصل اپنے کھوئے ہوئے ماضی کے لیے بے چین تھے اور اس کو واپس لانے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریکوں کو اگرچہ احیائے اسلام کا عنوان دیا مگر ان کی تحریک کا نشانہ ان کا سیاسی ماضی تھا نہ کہ حقیقتاً احیائے اسلام۔ موجودہ زمانے کے مسلم لیڈروں کی یہی نفسیات تھی جس کی وجہ سے وہ کوئی دور رس تعمیری کام نہ کر سکے۔
مثلاً دہلی میں گزرے ہوئے دور کی بنی ہوئی کم از کم 100 نہایت بڑی مسجدیں تھیں جن میں سے اکثر نیم آباد یا غیر آباد پڑی ہوئی تھیں۔ ان مسجدوں میں اکثر کے پاس بڑی بڑی ملحق زمینیں بھی تھیں۔ یہ لیڈر ان مسجدوں کو مرکز بنا کر زبردست دعوتی اور تعمیری کام کر سکتے تھے مگر وہ مسلمانوں کے سیاسی ماضی کو واپس لانے کے لیے بے فائدہ قربانیاں دیتے رہے اور اس قسم کے تعمیری امکانات غیر استعمال شدہ پڑے رہ گئے۔ ایک مسلمان جو قومی ذہن رکھتا ہو وہ دہلی کی جامعہ مسجد اور لال قلعے کو دیکھ کر صرف اپنے سیاسی ماضی کو یاد کرے گا مگر جو مسلمان دعوت و تبلیغ کا ذہن رکھتا ہو وہ جب اس قسم کی عمارتوں کو دیکھے گا تو اس کے اندر یہ جذبہ بھڑک اٹھے گا کہ یہ یہاں دوسری قوموں تک خدا کے دین کا پیغام پہنچانے کا مرکز قائم کیا جائے۔
کتاب اسباق تاریخ مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 450۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.