Maulana Wahiduddin Khan
232 min left
0:00

← Allahu Akbar
Allahu Akbar

خدا کو پانے والے

Urdu · 232 min read

خدا کی زمین پر شاید ایسے لوگ موجود نہیں جنھوں نے خدا کو ان عظمتوں کے ساتھ پایا ہو جس کے اثرات اس ہیجان خیز کیفیت میں ڈھل جاتے ہیں جس کو خدا کی یاد کہا گیا ہے۔ جھوٹی عبادت کی دھوم ہر طرف نظر آتی ہے۔مگر سچی عبادت اتنی نا یاب ہے کہ امکان ہی کے درجہ میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ کہیں موجودہوگی۔

آج ساری دنیا میں دین اوراسلام کا غلغلہ بلند ہے۔مگر وہ انسان شاید خدا کی زمین پر کہیں پایا نہیں جاتا جس نے خدا کو اس طرح دیکھا ہو کہ اس کی ہیبت سے اس کا دل دہل اٹھے اور اس کے جسم کے رونگٹے کھڑ ے ہوجائیں۔جو قرآن کو پڑھے تو اس کی روح پکار اٹھے کہ خدا یہ تیرا کتنا بڑااحسان ہے تو نے میری ہدایت کا ایساانتظام کیا ،ورنہ میں جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا۔وہ رسول کی سنت کو دیکھے تو اس کاوجود اس دریافت سے سرشار ہو جائے کہ یہ خدا کا کیسا غیر معمولی انتظام تھا کہ اس نے پیغمبر کی زندگی میںہدایت کا بے داغ نمونہ قائم کیا اورپھر تاریخ میں اس کوروشنی کے ابدی مینار کی طرح محفوظ کردیا۔جب وہ سجدہ کرتے ہوئے اپنا سرزمین پر رکھے تو اس کو یہ احساس ہونے لگے کہ اس کے رب نے اس کو اپنی رحمت کے آغوش میں لے لیا ہے۔جب وہ کوئی غذا اپنی حلق کے نیچے اتارے تو اس کی پوری ہستی میں اس احسان مندی کی لہر دوڑ جائے کہ کیسا عجیب ہے وہ خدا جس نے میرے جسم کی پرورش کے لیے ایسی ممکن غذا کا اہتما م کیا۔جب وہ پانی پئے تو اس کی آنکھوں سے ایک اورجھرنابہہ پڑے اوروہ بے اختیار ہوکر کہے کہ خدا یا اگر تو مجھے سیراب نہ کرے تو میں سیراب ہونے والا نہیں۔اگر تو مجھے پانی نہ دے توکہیں سے مجھ کو پانی ملنے والا نہیں۔

آہ ،لوگ اپنے کوخدا سے کتنا قریب سمجھتے ہیں مگر وہ خدا سے کتنا زیادہ دور ہیں۔وہ خدا کانام لیتے ہیں۔مگران کے منہ میں خدائی مٹھاس کی شکر نہیں گھلتی۔وہ خدا کو پانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔مگر خدا کے چمنستان کی کوئی خوشبوان کے مشام کو معطر نہیں کرتی۔وہ خدا کے نام پر دھوم مچاتے ہیں مگر خدا کے نورانی سمندر میں نہانے کاکوئی نشان ان کے جسم پر ظاہر نہیں ہوتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی جنتیں ان کے لیے مخصوص ہوچکی ہیں مگر جنت کے باغ کا کوئی جھونکا ان کے وجود کو نہیں چھوتا۔

کیسا عجیب ہوگا وہ خدا جس کی یاد دل ودماغ کی دنیا میں کوئی اہتزاز (Thrill)پیدا نہ کرے۔کیسی عجیب ہوگی وہ جنت جس میں داخلہ کا ٹکٹ آدمی اپنی جیب میں لیے ہوئے ہو مگر جنت کا باسی ہونے کی کوئی جھلک اس کے رفتار وگفتار سے نمایا ں نہ ہو۔کیسے عجیب ہوں گے وہ آخرت والے جن کے لیے آخرت کی ابدی وراثت لکھی جاچکی ہو مگران کی ساری دلچسپیاں بد ستور اسی عارضی دنیا میں اٹکی ہوئی ہوں۔

انکشاف خدا وندی

نکیتا خروشچیوف (1894-1971)نے کہا تھا’’ہمارا راکٹ چاند تک گیامگر اس کو کہیں خدا نہیں ملا ‘‘۔کمیونسٹ روس کے سابق صدر نے یہ بات نعوذ باللہ بطور مذاق کہی تھی۔مگر موجودہ زمانہ کے تمام سیکولر محققین پر وہ پوری طرح صادق آتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانے پر فطرت کے علوم کا مطالعہ کیا گیا ہے۔زمین سے لے کر آسمان تک کی مختلف چیزوں کی تحقیق میں بے شمار لوگوں نے اپنی عمریں صرف کردیں۔مگر ان لوگوں کی کتابیں پڑھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں کہیں ان کی خدا سے ملاقات نہیں ہوئی۔وہ زمین سے لے کر آسمان تک سفر کرتے رہے۔مگر خداکی کوئی جھلک انہیںدکھائی نہیں دی۔انھوں نے خاموش لہروں کے ذریعہ سفر کرنیوالی آوازوں کو پکڑ لیا۔مگر ان کے کان خدا کی آواز سے آشنا نہیں ہوئے۔ان کی خورد بینوں اوردور بینوں نے انہیںایسی چیزیں دکھائیں جو اس سے پہلے انسان نے کبھی نہیں دیکھی تھیں مگر خدا کے فرشتوں سے ان کا کبھی مصافحہ نہیں ہوا جو کائنات میں ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔

عجیب بات ہے کہ یہی واقعہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکر ین اورقائدین کے ساتھ بھی کسی قدربدلی ہوئی شکل میں پیش آیا ہے۔جس طرح سیکولر مفکر ین کو کائنات کا صرف ظاہر ملا ،اس کی اندرونی حقیقت انہیںنہیں ملی۔اسی طرح مسلم مفکرین کے حصہ میں اسلام کا صرف ظاہری ڈھانچہ آیا۔وہ اسلام کی اندرونی حقیقت سے آشنا نہ ہوسکے۔

آپ ان مفکر ین کی تقریریں سنیے ،ان کی سوانح عمریاں پڑھیے۔ان کی کتابوں کا مطالعہ کیجیے۔آپ کو ان میں ہر چیز ملے گی مگروہی چیز نہیں ملے گی جو اسلام کی اصل روح ہے — ان کے یہاں انسانوں سے ملاقات کا ذکر ہوگا مگر خدا کی کبریائی کا احساس اورخدا سے ملاقات کاکہیں ذکر نہ ہوگا۔وہ انسانی آرٹ کی بلندی اورتاثیر سے مسحور نظر آئیں گے، مگر خدائی آرٹ کی بلندی اورتاثیر سے ان کے اندر کوئی تموج پیدا ہوتا ہو ا دکھائی نہیںدے گا۔ دنیا کے واقعات کے چرچے سے ان کی زبان وقلم گونج رہی ہوں گی مگر آخرت کے چرچے کانشان کہیں دکھائی نہیں دے گا۔وہ قومی مسائل اورملّی مفاخر پرولولہ انگیز تقریر کرتے ہوئے نظر آئیں گے مگر خدا کے جلال وجمال پرولولہ انگیزتقریر کبھی ان کے یہاں سنائی نہ دے گی وہ اپنی حیران کن دریافتوں کا انکشاف کریں گے۔مگر کہیں اس کا نشان نہیں ملے گا کہ ان پر خدا کا انکشاف ہوا اورخدا کی دریافت نے ان کے اندر ہلچل پیدا کردی۔

ایمان میں اضافہ

ایک سائنس داں نے کہا ’’فطرت کا مطالعہ میرا مذہب ہے۔جس دن میں فطرت کی کوئی نئی چیز نہیں دریافت کرتا ،میں سمجھتا ہوں کہ وہ دن میں نے ضائع کردیا ‘‘۔یہ اس انسان کا حال ہے جو مخلوقات میں جیتا ہے۔پھر اس انسان کا حال اس سے مختلف کیسے ہوسکتا ہے جو خالق میں جیتا ہو۔جس طرح سائنس دان ہر روز مخلوقات میں کوئی نئی چیزدریافت کرتا ہے، اسی طرح مومن کو ہرروزخالق کی نسبت سے کوئی ایسی چیز پانا چاہیے جو اس کے ایمان میں اضافہ کرنے والی ہو۔مومن جس روز کوئی نئی چیز نہ پائے ،وہ دن گویا اس نے ضائع کردیا ،اس دن گویا خدا سے اس کا ربط قائم نہیںہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایمان خدا کی دریافت کا دوسرا نام ہے۔خداایک مسلسل حقیقت ہے جس کی کوئی حد نہیں ، اس لیے اس کی دریافت بھی ایک مسلسل واقعہ ہے جس کی کوئی انتہانہیں۔جو ایمان اضافہ پذیر نہ ہو وہ غفلت کی ایک قسم ہے ،اس کو حقیقی معنوں میں ایمان نہیں کہا جا سکتا ۔

جس کا ذہن خدا کی طرف متوجہ ہو ،جس کا دل خدا کی طرف لگا ہوا ہو،اس کو باربار خداکی نئی تجلیات کا ادراک ہوتا ہے۔وہ بار بار خدا کی نئی جھلک پاتا رہتا ہے۔جس طرح خدا کے کمالات کہیں ختم نہیں ہوتے ،اسی طرح مومن کا سفر ِمعرفت بھی کسی حد پر ختم نہیں ہوتا۔

یہ نئی معرفت کبھی ایسی ربانی کیفیات کی صورت میں امنڈتی ہے جس سے وہ اس سے پہلے کبھی آشنا نہیں ہواتھا۔کبھی ایسے دعائیہ الفاظ کے روپ میں بے اختیار اس کی زبان پر آجاتی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔کبھی وہ خدا کی حکمتوں میں سے کسی ایسی حکمت کا راز پا لیتا ہے جو اس سے پہلے اس پر نہیں کھلے تھے۔ وہ خدا کی قربت کا ایسا تجربہ کرتا ہے جو اِس سے پہلے کبھی اس کے علم میں نہیں آئے تھے۔کبھی اس پر ایسے نئے معانی کا القاء ہوتا ہے۔جس کے اظہار کے لیے اس کے تمام معلوم الفاظ عاجز نظر آنے لگتے ہیں۔

ہر چیز عجیب

موجودہ قسم کی چھتری لند ن میں سب سے پہلے 1749میں بنائی گئی۔اس وقت اس کا تعارف ایک شخص نے ان الفاظ میں کرایاتھا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

When opened it was like a small tent, and when shut it was all curiously jointed and would fold up to the length of a man's hand.

جب اس کو کھولا جائے توہ ایک چھوٹے خیمے کے مانند ہوجاتی ہے اورجب اس کو بند کیا جائے تو حیرت انگیز طورپر وہ پوری سمٹ جاتی ہے اورلمبائی میں ایک آدمی کے ہاتھ کے برابر ہوجاتی ہے(ٹائمس آف انڈیا،26مئی 1984)۔

other sourceWords of another person or source

موجودہ صدی کی ابتدامیں ہندستان کے ایک دیہات میں ایک زمین دار کے یہاں پہلی بار ہینڈ پمپ(hand pump) لگایا گیا۔جب اس کو چلایاگیا اورزمین سے وہ پانی کھینچ کر نکالنے لگا تو ایک دیہاتی عورت نے اس کو دیکھ کر کہا’’آدمی صرف موت سے ہاراہے ‘‘۔یعنی آدمی سب کچھ کرسکتا ہے۔صرف ایک موت ایسی چیز ہے جس پر قابو پانا اس کے اختیار میں نہیں۔

دوسو سال پہلے چھتری اورہینڈپمپ آدمی کوانتہائی عجیب معلوم ہوتے تھے۔مگر آج آدمی چھتری اورہینڈ پمپ کو دیکھتا ہے اوراس کے اندر کوئی استعجاب پیدا نہیں ہوتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو دیکھتے دیکھتے اب وہ اس کا عادی بن چکا ہے۔کوئی چیز جب باربار آدمی کے سامنے آتی ہے تو وہ اپنا انوکھا پن کھودیتی ہے۔اس کے بعد انتہائی عجیب چیز بھی اس کے لیے غیر عجیب بن کر رہ جاتی ہے۔

یہی معاملہ خداکی تخلیقات کا ہے۔موجودہ دنیا میں جو چیز بھی ہے،نہایت عجیب ہے۔ خواہ وہ ایک چھوٹی پتی ہو یا عظیم سمندر ہو،ایک بے نور ذرّہ ہویا روشن آفتاب ہو۔مگر آدمی پیداہوتے ہی ان کودیکھتا ہے اورساری زندگی ہر روز دیکھتا رہتا ہے۔اس طرح برابر دیکھتے رہنے کی وجہ سے ان کا عجوبہ پن اِس کی نظر میں ختم ہوجاتا ہے۔ان کو دیکھ کر آدمی کے اندراستعجاب پیدا نہیں ہوتا۔اگر انہیںچیزوں میں سے کسی چیز کووہ اچانک ایک روز دیکھے تو وہ احساس حیرت میں ڈوب جائے۔

یہی موجودہ دنیا میں آدمی کا امتحان ہے۔اس کو ایک درخت کو اس طرح دیکھنا ہے جیسے کہ وہ پہلی باراچانک اس کے سامنے کھڑاہوگیاہو۔اس کو ایک سورج کو اس طرح دیکھنا ہے جیسے کے وہ بالکل پہلی باراس کے سامنے چمک اٹھا ہو۔ایک چڑیا کے نغمہ کو اسے اِس طرح سننا ہے جیسے کہ اس کے کان پہلی بار اس کے چہچہے سے آشنا ہوئے ہوں۔

نفی ذات

حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو قرآن میں احسن القصص (بہترین قصہ)کہا گیاہے(یوسف، 12:3)۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی زندگی اس بات کی ایک تاریخی مثال ہے کہ کس طرح خدائی مددواقعات کے دھارے کو پھیر دیتی ہے۔وہ ایک اسوء القصص کو احسن القصص بنا دیتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت یوسف کے دشمنوں نے آپ کو کنویں میںڈال دیا۔مگر خدا نے آپ کو کنویں سے نکال کر مصر کے تخت پر پہنچا دیا۔جہاں آپ کے مخالفین نے آپ کی کہانی ختم کرنی چاہی تھی وہیں سے آپ کی ایک نئی شاندار تر کہانی شروع ہوگئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ سورہ میں حضرت یوسف کا قصہ بیان کرنے کے بعد ارشاد ہواہے یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہوگئے اورخیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آپہنچی پھر ہم نے جس کو چاہا بچا لیااورہمارا عذاب مجرموں سے ٹالا نہیں جاتا (12:110)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے معلوم ہواکہ خدا کی مدد مایوسی کی حد پر پہنچ کر ملتی ہے۔ ’’مایوسی ‘‘سے مراد وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنا سب کچھ دے کر خالی ہوچکا ہو۔اس کے پاس مزید کچھ دینے کے لیے باقی نہ رہے۔جب وہ محسوس کرنے لگے کہ بند گی کی حد ختم ہوگئی۔اب وہ درجہ آگیا ہے جہاں سے خدائی کی حد شروع ہوتی ہے۔عین اس وقت خدا کی مدد آجاتی ہے۔ناکامی کی انتہاکامیابی کا آغاز بن جاتا ہے۔

بیج کا ختم ہونا ایک درخت کو وجود دیتا ہے۔یہی معاملہ خدا اوربندے کابھی ہے۔ آدمی خدا کی مدد کا مستحق اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو خداکے لیے مٹا دے۔ جہاں اعتماد خویش ختم ہو جائے وہاں سے اعتمادعلی اللہ کا آغازہوتا ہے۔

خدا بلا شبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔مگر خدا کو پانا ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔آدمی اپنی نفی نہیں کر پاتااسی لیے وہ خدا کو پانے والا بھی نہیں بنتا۔خدا ہرچیز کا بدل ہے۔خدا کو پانا سب کچھ کو پالینا ہے۔مگر انسان کی یہ نادانی بھی عجیب ہے کہ وہ بے کچھ کے لیے سب کچھ کو کھو دیتا ہے۔وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں خدا سے محروم ہوجاتا ہے۔

اللہ کا ذکر

ذکر کے معنی یاد کے ہیں۔اللہ کے ذکر کا مطلب ہے اللہ کی یاد۔یہ یاد کوئی مصنوعی چیز نہیں ،وہ اللہ کی معرفت کا لازمی اورقدرتی نتیجہ ہے۔

جب کوئی آدمی اللہ کواس کی عظمتوں اورقدرتوں کے ساتھ پاتا ہے تو اس کے اندر ایک روحانی ہلچل پیدا ہوجاتی ہے۔اس کے بعد اس کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ اس کو ہر وقت اللہ کی یاد آتی رہتی ہے۔یہ یادکبھی دل کے اندر تڑپ بن کر ظاہر ہوتی ہے اورکبھی زبان سے حمداورشکر اورخشیت کے الفاظ کی صورت میں بے ساختہ نکل پڑتی ہے۔اسی کیفیت کو اللہ کی یاد کہا جاتا ہے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اتھاہ خلا میں ستاروں اورکہکشائوں کی حرکت پر غور کرتا ہے۔وہ پکاراٹھتا ہے کہ وہ خدا بھی کیسا عظیم خدا ہوگا جو اتنے بڑے کارخانے کو اتنی صحت کے ساتھ متحرک کیے ہوئے ہے۔کبھی وہ درختوں اورپہاڑوں اوردریائوں کے پرُ کشش مناظر کو دیکھتا ہے۔اوران کے حسن اورمعنویت کا ادراک کرکے حیران رہ جاتا ہے۔آدمی کو اس کے گردوپیش کی چیزیں بار باراللہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اس کے اندر اللہ کی یاد کو جگاتی رہتی ہیں۔

اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی حالت پر غور کرتا ہے تو اس کو اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے۔وہ بے تابانہ اپنے رب سے معافی مانگنے لگتا ہے۔وہ خدا سے کہتا ہے کہ وہ اس کو آخرت کے عذاب سے بچائے اوراس دن اپنی رحمتوں کے سایہ میں داخل کرے جب کہ خدا کی رحمت کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا جہاں آدمی پناہ لے سکے۔کبھی آدمی اپنے عجز اوربے چارگی کو دریافت کرتا ہے اوربے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ خدایا تو قادرمطلق ہے تو اپنی قدرت سے میرے عجز کی تلافی فرما۔

انسان کے دل میں انہیںربانی احساسات کا پیدا ہونا اوران احساسات کا الفاظ کی صورت میں ڈھل جانا ،اسی کا نام ذکر ہے۔ذکر اللہ کی یاد ہے ،سب سے بڑی حقیقت کی یاد۔جو چیز سب سے بڑی حقیقت کی یاد ہواس کاتجربہ بھی سب سے بڑا ہوتا ہے۔اس تجربہ کا کسی کے دل پر گزرنا اتنا بڑاواقعہ ہے جس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

کھونے والا پاتا ہے

اگر آپ بمبئی میں ہیں اورکلکتہ جانا چاہتے ہیںتو پہلے آپ کو بمبئی کوچھوڑنا ہوگا۔اس کے بعد ہی آپ کلکتہ میں موجود ہوسکتے ہیں۔جو آدمی خدا کا طالب ہو وہ بھی گویا ایک قسم کا مسافر ہے۔اگروہ اپنی منزل پر پہنچنا چاہتا ہے تو اس کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔یہ کہ وہ اپنی سابقہ جگہ کو چھوڑنے پر راضی ہوجائے۔اس کے بعد ہی وہ اپنی مطلوب خدائی منز ل پر پہنچنے کی خوشی حاصل کرسکتا ہے۔

دنیا کا نظا م اس طرح بنا ہے کہ یہاں لینے کے لیے دینا پڑتا ہے۔یہاں کھونے میں پانے کا راز چھپا ہواہے۔

آپ اگر ایک نفع بخش تجارت کے مالک بننا چاہتے ہیں تو پہلے اپنا اثاثہ اس میں کھپا نا پڑے گا۔اگر آپ اپنے کھیت میں ہری بھری فصل دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے بیج کے ذخیرے کو مٹی میں ملا دینا ہوگا۔اگر آپ منصوبہ بندی کے تحت دور رس عمل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے فوری جذبات کو کچل دینے پر اپنے آپ کو راضی کرناپڑے گا۔اگر آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں تو ضروری ہوگا کہ آپ اپنے کو فضول خرچی سے باز رکھیں۔

جو ذرّہ نہ پھٹے وہ کبھی ایٹمی طاقت نہیں بنتا۔جو دانہ اپنے آپ کو فنا نہ کرے وہ درخت کی صورت اختیار نہیںکرتا۔جو فرد اپنے ذاتی مفاد کو قربان نہ کرے وہ اجتماعی مفاد کو قائم کرنے کا کریڈٹ نہیں پاتا۔

یہی معاملہ خدا کا بھی ہے۔کوئی شخص خد اوالا اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ خداکی خاطر اپنے کو حذف کردے۔جو شخص اپنے وجو دکو حذف کرنے کے لیے تیار نہ ہووہ کبھی خدا والا بھی نہیں بنتا۔

خدا کو پانے کے لیے اپنے آپ کو کھونا پڑتا ہے — اسی ایک لفظ میں خدا کو پانے کا راز ہے۔جو شخص اپنے آپ کو بھی پانا چاہے اورخدا کوبھی ،وہ صرف اپنے آپ کو پائے گا۔ایسا آدمی کبھی خدا کو پانے والا نہیں بن سکتا۔

خدا کا فیصلہ

فیصلہ کے دن

انڈین ایکسپریس بنگلور کی اشا عت مورخہ9 ستمبر1983 کی ایک خبر کاعنوان ہے— چمک دار چیز سونا نہیں :

other sourceWords of another person or source

Glitter is not gold

خبر میں بتایا گیا ہے کہ مس سبل ڈی سلوا(Miss Sybil D'Silva )جو بنگلور میں آرٹیلری روڈ(Artillery Road)پر رہتی ہیں وہ اپنے گھر پر تھیں کہ تقریباً 45سالہ ایک عورت ان کے پاس آئی اس کی گو دمیں چھ مہینہ کا ایک بچہ تھا عورت نے مس ڈی سلوا سے کہا کہ اس کا شوہر بہت زیادہ بیمار ہے اور اس کے علاج کے لیے فوری طور پر 5 ہزار روپیہ کی ضرورت ہے عورت نے سونے کا ایک ہار اپنی جیب سے نکالا اور کہا کہ میں آپ سے بھیک نہیں مانگ رہی ہوں میں صرف اس سونے کے ہار کو بیچنا چاہتی ہوں اگرچہ یہ ہا رمجھے بہت عزیز ہے مگر شوہر کی صحت اس سے زیادہ عزیز ہے اس ہار کی قیمت بازار میں دس ہزار روپے سے کم نہیں ہے میں اپنی ضرورت کی بنا پر آپ کو صرف 5 ہزار روپے میں دے دوں گی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مس ڈی سلوا نے ہار لینے سے انکار کیا لیکن عورت اپنی مجبوری بیان کرتی رہی یہاں تک کہ اس نے مس ڈی سلوا کو متاثر کر لیا۔ انھوں نے روپیہ دے کر ہار خریدلیا۔

اگلے دن مس ڈی سلوا بنگلور کی کمرشل اسٹریٹ پر گئیں اور وہاں ایک سنار کو انھوں نے وہ ہار دکھایا۔ سنارنے وہ ہار لے کر اپنی کسوٹی پر جانچا۔ کسوٹی پر جانچنے کے بعد ہار کی حقیقت کھل گئی۔ مس ڈی سلوا نے بنگلور پولیس کو یہ کہانی سناتے ہوئے کہا کہ سنار نے مجھے بتایا کہ یہ تو پیتل ہے :

He told me it was brass

یہی آخرت کا معاملہ بھی ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے کیے پر مگن ہے ہر آدمی اپنے کام کو سونا سمجھتا ہے۔ مگر کوئی سونا اسی وقت سونا ہے جب کہ وہ سنار کی کسوٹی پر بھی سونا ثابت ہو۔ آخرت میں خدا ہر آدمی کے عمل کو اپنی کسوٹی پر جانچے گا۔ جس کا عمل وہاں کی جانچ میں سونا ثابت ہو اسی کے عمل کی قیمت ہے اور جس کے عمل کے بارے میں یہ کہہ دیا جائے کہ یہ تو پیتل تھا ، اس کا سونااس کے لیے صرف رسوائی اور بربادی کی علامت ہو گا۔ جس چیز کو آدمی آج اتنا قیمتی سمجھے ہوئے ہے کہ وہ اس کو کسی طرح چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، اس دن وہ اس سے اتنا بیزار ہو گا کہ وہ چاہے گا کہ کوئی ایسی صورت ہو کہ اس کے اور اس کے عمل کے درمیان جدائی ہو جائے مگر اس دن جدائی نہ ہو سکے گی۔ جس چیز کو وہ فخر کی چیز سمجھے ہوئے تھا اس دن وہ اس کے لیے صر ف ذلت اور رسوائی کی چیز بن جائے گی۔

اس دن کیاہو گا

خداہر چیز کا مالک ہے دنیا میں کسی کو جو کچھ ملتا ہے خدا کے دئے سے ملتا ہے خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی چیز ہی نہیں جو وہ کسی کو دے سکے ایسی حالت میں اگر کچھ لوگ ایسا کریں کہ ایک شخص کو جائز طور پر ملی ہوئی چیز کو اس سے چھیننے لگیں تو گویا وہ خداکے دئے کو چھین رہے ہیں وہ خدا کے منصوبہ کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔

دنیا میں ایک شخص کو مکان ملے مگر کچھ لوگ اس کو بے گھر کر نے کی سازشیں کریں اس کی معاش کا جائز انتظام ہو مگر لوگ اس کی معاشیات کو تباہ کرنے پر اتر آئیں اس کو عزت کی زندگی حاصل ہو مگر لوگ اس کو بے عزت کرنے کی کارروائیاں کریں وہ سکون و عافیت کے ساتھ اپنے ماحول میں رہ رہا ہو مگر لوگ اس کو جھوٹے مقدمات میں الجھا کر اس کے سکون کو غارت کرنے لگیں۔ایسا ہر واقعہ خدا کے انتظام میں مداخلت ہے یہ بے اختیار مخلوق کا ایسے خالق سے لڑنا ہے جو تنہا اور مکمل طور پر ہر قسم کا اختیار رکھتا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ایسے واقعات کا مطلب یہ ہے کہ —خدا نے چاہا مگر بندوں نے نہ چاہا۔ خدا نے اپنے فیصلہ کے تحت تقسیم رزق کا ایک انتظام کیا مگر بندے اس تقسیم کو ماننے پر راضی نہ ہوئے۔ خدا کے مقابلہ میں بندوں کی یہ سرکشی موجودہ دنیا میں بظاہر کامیاب نظر آتی ہے۔ مگر یہ کامیابی صرف اس لیے ہے کہ موجودہ دنیا میں لوگوں کو امتحان کی آزادی حاصل ہے جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہو گی، آدمی اپنے آپ کو اتنا بے زور پائے گا کہ اس کے پاس الفاظ بھی نہ ہوں گے کہ وہ کسی کے خلا ف بولے، اس کے پاس دل بھی نہ ہو گا کہ کسی کو ملیامیٹ کرنے کا منصوبہ بنائے۔

موجودہ دنیا میں انسان کوآزادی حاصل ہے یہاں کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کے چاہے کو باطل کرے، وہ خدا کے تقسیم رزق کو کھنڈت کرنے کی کوشش کرے مگر ایسے لوگوں کا حال اس وقت کیا ہو گا جب امتحان کی موجودہ آزادی ختم ہو چکی ہو گی جب وہی ہو گا جو خدا چاہے اور وہ نہ ہو سکے گا جو خدا نہ چاہے، اس روز خدا کہے گا — میں دیتا ہوں جس کو چاہوں، اب جس کو کرنا ہے میرے چاہے کوباطل کرے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

دولت کا فریب

کوالالمپور کے اخبار نیو اسٹریٹس ٹائمس (New Straits Times) کی اشاعت 28 جولائی 1984میں ایک خبر نظر سے گزری۔ ایک اطالوی نژا د امریکی کارپینٹر (carpenter) وینر و پیگانو(Venero Pagano) جس کی عمر 63 سال ہے اور وہ نیو یار ک کے قریب رہتا ہے وہ آٹھ سال سے بے روزگار تھا اور یونین کی پنشن سے اپنا کام چلا رہا تھا۔ اس کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ اپنے مکان سے متصل زمین پر حسب منشا ٹماٹر کی کاشت کرسکے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مذکورہ کا رپنٹر نے لاٹری کا ایک ٹکٹ خریدا۔ 27جولائی 1984 کو اچانک اسے معلوم ہوا کہ اس کو اول انعام ملا ہے یہ انعام 20 ملین ڈالر تھا۔ یہ اب تک کے لاٹری انعاموں میں دنیا بھر میں سب سے بڑا انعام ہے۔

انعام کی خبر سب سے پہلے ٹیلی وژن پر آئی۔ اس کے فوراً بعد اس کے لیے پریس کانفرنس کی گئی۔ اس نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ خبر کو سن کر میں ششدر رہ گیا۔ میں بار بار اپنے نمبر کو اعلان شدہ نمبر سے ملا کر چیک کرتا رہا اور ابھی تک مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ انعام مجھ کو ملا ہے خبر سن کر وہ بھاگ کر اندر کمرے میں گیا ا ور اپنی بیوی سےکہا کہ’’ میرا خیال ہے کہ ہم لوگ کروڑ پتی ہوگئے ہیں‘‘۔ اس نے اخبار نویسوں سے کہا کہ مجھ کو جو ضرورت تھی وہ میں نے پالیا میں نے اپنا مکان پالیا میں نے اپنے ٹماٹر پالیے:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

I got whatever I need. I got my house. I got my tomatoes.

دنیا میں آدمی کے پاس دولت ہو تو اس کا ہر کام پور ا ہو جاتا ہے۔ اس لیے آدمی سمجھتا ہے کہ دولت سب کچھ ہے دولت مل جائے تو آدمی سمجھتا ہے کہ اس نے سب کچھ پا لیا۔ حالاں کہ سب کچھ پانایہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی رحمتوں کو پالے۔

موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی جن مسائل سے دو چار ہے ان سے بالکل مختلف وہ مسائل ہوں گے جن سے آدمی موت کے بعد کی زندگی میں دوچار ہو گا۔ آج دولت کی اہمیت ہے، اس وقت ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہو گی۔ آج چیزیں بازار سے حاصل ہوتی ہیں اس وقت تمام چیزیں خدا کی رحمت کے خزانے سے ملیں گی۔ آج مادی قوانین کے تحت آدمی کو مقام ملتا ہے اس وقت اخلاقی قوانین یہ فیصلہ کریں گے کہ آدمی کو کیا ملے اور کیا نہ ملے۔

گھاٹے والا

قرآن میں ارشاد ہوا ہے— کہو،کیا میں بتائوں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں وہ لوگ جن کی کوششیں دنیا کی زندگی میں کھوئی گئیں اور وہ اسی خیال میں رہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوںنے اپنے رب کی نشانیوں کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا۔ پس ان کے اعمال ضائع ہو گیے ہم قیامت کے دن ان کے اعمال کا کچھ وزن قائم نہ کریں گے (18:103-105)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

تمام محرومیوں میں سب سے زیادہ عجیب محرومی وہ ہے جب کہ آدمی کمائی کرے مگر اس کو اس کا حاصل نہ ملے وہ مہینہ بھر محنت کرے مگر وہ کوئی تنخواہ نہ پائے وہ تجارت میں اپنی ساری پونجی لگائے مگر اسے کچھ نفع حاصل نہ ہو وہ ارمانوں کے ساتھ اپنا گھر بنائے مگر اس میں اس کو چین کے ساتھ رہنا نصیب نہ ہو۔

اگر کسی آدمی کے ساتھ ایسا حادثہ گزرے تو وہ بالکل بجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس کے اعضاء شل ہو جاتے ہیں۔ اپنی محنت کے آخری نتیجے کو اپنی آنکھوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھنا اتنا بڑا حادثہ ہے جس کو کوئی بھی شخص برداشت نہیں کر سکتا۔

یہ دنیا میں اعمال کی بربادی کا حال ہے۔ پھر آخرت میں جب آدمی اپنے اعمال کو ابدی طور پر برباد ہوتے ہوئے دیکھے گا تو اس کا کیا حال ہو گا۔

جب وہ دیکھے گا کہ عمر بھر کی محنت سے بنایا ہوا اِس کا ڈ ھانچہ اچانک ڈھ پڑا۔ اِس کی خوش گمانیوں کا قلعہ ایک ہی جھٹکے میں ہمیشہ کے لیے مسمار ہو گیا۔

جب وہ دیکھے گا کہ دنیا میں محنت کے ساتھ حاصل کی ہوئی کمائی آخرت میں اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی۔ دنیا میں کھڑا کیا جانے والا عظمتوں کا گنبد آخرت میں گرا ہوا پڑا ہے۔ دنیا میں جمع کی ہوئی نیک نامی آخرت میں بالکل بے قیمت ہو چکی ہے۔

جس آدمی نے اپنی دوڑ دھوپ کو صرف دنیا میں لگایا ہو اس کا آخرت میں یہی حال ہو گا کہ وہاں وہ بالکل مفلس بن کر کھڑا ہو گا۔ وہاں اس کی حیثیت صرف ایک لٹے پٹے انسان کی ہو گی یہ منظر آدمی کیلیے نا قابل برداشت حد تک سخت ہو گا۔ کا میابیوں پر فخر کرنے والے ناکامی کے گڑھے میں گرے ہوئے ہوں گے۔ ترقیات پر ناز کرنے والے ایسے بد حال دکھائی دیں گے جیسے انھوں نے کبھی ترقی کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

انسان کاالمیہ

ڈاکٹر اتم پر کاش (1928-1982)ہندستان کے ایک نامور سرجن تھے۔ وہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں شعبہ سرجری کے ہیڈ تھے۔ ڈاکٹر پر کاش کو پدم بھوشن کا انعام ملا تھا۔ شعبہ سرجری کی عالمی کانفرنس 17 فروری کو دہلی میں ہونے والی تھی جس کی صدارت کی کرسی ان کا انتظار کر رہی تھی۔ مگر 14 فروری کو ان پر دل کا دورہ پڑا ور اسپتال پہنچتے پہنچتے ان کا انتقال ہو گیا۔اس وقت ان کی عمر صرف 54 سال تھی۔

سرجری پر ہونے والی ورلڈ کانفرنس کی کامیابی ان کے ذاتی وقار کو بہت زیادہ بڑھا دیتی۔ اسی بنا پر وہ اس کے معاملا ت میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے تھے۔ انھوں نے راشٹرپتی سنجیواریڈی(1913-1996) کو آمادہ کر لیا تھا کہ وہ کانفرنس کا افتتاح کریں مگر جب سارے انتظامات مکمل ہو چکے تو راشٹرپتی بھون سکریٹریٹ سے بتایا گیا کہ راشٹرپتی ان کے اجلاس میں صرف اس وقت شرکت کر سکیں گے جب کہ مرکزی وزیر صحت بھی وہاں موجود ہوں۔ پروٹوکول (آداب شاہی ) کے مطابق ایسا ہونا ضروری ہے۔

اس سے پہلے ڈاکٹر پرکاش کے منصوبہ میں وزیر صحت کو بلانا شامل نہ تھا مگر اب ضروری ہو گیا کہ وزیر صحت کو بھی شرکت اجلاس کی دعوت دی جائے۔ ڈاکٹر پرکاش نے وزیر صحت کے دفتر کا طواف شروع کیا مگر اب یہاں دوسری رکاوٹ حائل تھی وزیر صحت اجلاس میں شرکت پر راضی نہ ہو سکے۔ ایک ایسے اجلاس میں شرکت کرنا ان کی عزت نفس کے خلاف تھا جس کے اولین پروگرام میں ان کو شامل نہ کیا گیا ہو۔ یہ صدمات ڈاکٹر اتم پرکاش کے لیے اتنے سخت ثابت ہوئے کہ اجلاس کے تین دن پہلے ان پر دل کا سخت دورہ پڑا ور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ کوئی شخص اپنے وقت سے پہلے نہیں مرتا مگر ایک اخباری مبصر (ہندستان ٹائمس، 16فروری 1982)کے یہ الفاظ بالکل درست ہیںکہ موت کے طویل سفر پر روانہ ہونے سے پہلے وہ دہلی کے سب سے زیادہ پریشان آدمی تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

He was the most worried man in town before he took the long road

آج آدمی وقار کے کھونے کو بھی برداشت نہیں کر پاتا۔ پھر آنے والی دنیا میں آدمی کا کیا حال ہو گا جب اس کو بھوک اور پیاس لگے گی مگر وہاں کھانا نہ ہو گا جس کو وہ کھائے اور پانی نہ ہو گا جس سے وہ اپنی پیاس بجھائے۔ وہ تیز دھوپ میں جل رہا ہو گا مگر اس کے لیے کوئی سایہ نہ ہو گا جس کے نیچے وہ پناہ لے۔ عذاب اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو گا مگر وہاں کوئی مددگار نہ ہو گا جو اس کی مدد کو پہنچے آہ وہ انسان جو کنکری کی چوٹ کو برداشت نہیں کر پاتا حالانکہ اس کے اوپر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ کر گرنے والا ہے۔

موت کا حملہ

سکندر اعظم (356-323ق م)یونانی بادشاہ فلپ کالڑکا تھا۔اس نے تخت ملنے کے بعد دس سال کی مدت میںاس زمانہ کی معلوم دنیا کا بیشتر حصہ فتح کر ڈالا۔مصر کا شہر اسکندر یہ اس کے فتح مصر کی یاد گار کے طور پر اب بھی موجود ہے۔مگر بالآخر اس کا انجام کیا ہوا۔ وہ عراق کے قدیم شہر بابل کے ایک محل میں اس طرح بے بسی کے ساتھ مرگیا جس طرح ایک غریب اورکمزور آدمی اپنی جھونپڑی میں مرتا ہے۔اس نے اپنی زندگی میں جو چا ہا وہ پایا اورپھرسب کچھ پا کر خالی ہاتھ اس دنیا سے چلا گیا۔اس کی وسیع سلطنت اس کے مرنے کے بعد ا س کے تین فوجی سرداروں میں تقسیم ہوگئی۔کیونکہ اس کا واحدبیٹا اس کی زندگی ہی میں قتل کیاجا چکا تھا۔

سکندر کی عظمت کا یہ حال تھا کہ جو لیس سیزرایک بار اسپین میں سکند ر کے مجسمہ کے سامنے سے گزراتو اس کو دیکھ کر وہ بے اختیار رونے لگا۔اس نے کہا سکندر نے جو فاتحانہ کارنامے دس برس کی مدت میں انجام دیے، اس کا دسواں حصہ بھی میں اب تک انجام نہ دے سکا۔

سکند ر مخالفت کو بالکل برداشت نہیں کرتاتھا۔اس کا نظریہ تھا کہ مخالفت شروع ہوتے ہی اس کو فوراً کچل دینا چاہیے۔کہا جاتا ہے کہ سکندر کی غیر معمولی فتوحات کا باعث اس کی برق رفتاری تھی۔اچانک پہنچ کر دشمن کو دبوچ لینے کی صلاحیت اس کے اندر دنیا کے تمام جنرلوں سے زیادہ تھی ،مگر موت اس سے بھی زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی۔13جون323ق م کو جب موت اس کے اوپر حملہ آور ہوئی تواس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو بالکل بے بسی کے ساتھ موت کے حوالے کردے۔

موت اس لیے آتی ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ وہ خداکے آگے کس قدر بے بس ہے۔آدمی ہر روز اپنے چاروں طرف موت کے واقعات کو دیکھتا ہے مگر وہ اس سے کوئی سبق نہیں لیتا۔وہ زندگی کی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھو لارہتا ہے ،یہاں تک کہ موت آکر اس سے خود مہلت کو چھین لیتی ہے کہ وہ سوچے اوراس سے سبق لے۔موت آدمی کے لیے سب سے بڑاسبق ہے۔مگر موت سے آدمی سب سے کم جو چیز لے رہا ہے وہ یہی ہے۔

پانچ سکنڈ کا فاصلہ

3جون 1979 کو راقم الحروف میر ٹھ میں تھا۔ شام کا وقت تھا۔ میں اور مولانا شکیل احمد قاسمی صدر بازار کی سڑک پر ایک ساتھ جا رہے تھے۔

اس کے بعد اچانک ایک واقعہ ہوا۔ ہمارے سامنے ایک مکان کے آگے کا حصہ دھماکہ کے ساتھ گر پڑا۔اینٹ اور پتھر سڑک پر ڈھیر ہو گئے۔ اس وقت ہم دونوں جائے حادثہ سے بمشکل پانچ سکنڈ کی مسافت پر تھے۔ اگر ہم پانچ سکنڈ آگے ہوتے یا مکان پانچ سکنڈ بعد گرتا تو یقیناً ہم دونوں اس کی زد میں آجاتے۔ ہمارا سفر شاید درمیان ہی میں ختم ہو جاتا جس کی منزل ہم نے بہت آگے سمجھ رکھی تھی۔

میں نے سوچا آدمی اور اس کی موت کے درمیان صرف پانچ سکنڈ کا فاصلہ ہے۔ کسی بھی آدمی کے لیے ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ اس کا پانچ سکنڈ کا سفر پورا ہو جائے اور اچانک وہ اپنے آپ کو دوسری دنیا میں پائے۔

آدمی اگر اچھی طرح اس با ت کو جان لے کہ اس کے اور موت کے درمیان صرف پانچ سکنڈ کا فاصلہ ہے تو اس کی دنیا بالکل بدل جائے۔ وہ ایک اور ہی قسم کا انسان بن جائے وہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت میں جینے لگے۔

زندگی کا راز یہ ہے کہ آدمی اس بات کو جان لے کہ وہ ہر وقت موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے ایسی موت جس کے معاً بعد آدمی ،حدیث کے الفاظ میں، یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہو جاتا ہے یا دو زخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں جا گرتا ہے۔ آدمی کا ہر قدم اس کو دو انتہائی انجام میں سے کسی ایک انجام کے قریب پہنچا رہا ہے۔ مگر انسان اتنا بے حس بنا ہوا ہے کہ اس کو اس کی خبر نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لوگ جھوٹی خدا پرستی پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں حالانکہ آخرت میں صرف حقیقی خدا پرستی کسی شخص کے کام آئے گی۔ حقیقی خدا پرستی یہ ہے کہ آدمی اس طرح اللہ سے ڈرنے لگے کہ وہ اس کے ذہن پر چھا جائے وہ اس کے صبح و شام کانگراں بن جائے وہ جو کچھ کرے یہ سمجھ کر کرے کہ وہ خدا کے سامنے ایسا کر رہا ہے اس کو دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ستانے لگے۔

ناتما م کہانی

مسٹر پی این پاٹھک ایک بے حد محنتی آدمی تھے وہ انگریز ی اخبار ہندستان ٹائمس (نئی دہلی ) میں ایک معمولی ملازم کے طور پر1958 میں داخل ہوئے اور آخر میں اس کے کمپوزنگ شعبہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بن گئے۔ و ہ غالباً مزید ترقی کرتے مگر 27 دسمبر 1984ء کو حرکت قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہو گیا مرنے کے وقت ان کی عمر صرف50 سال تھی۔

ہندستان ٹائمس (28 دسمبر 1984 )میں ان کی اچانک موت کی خبر دیتے ہوئے یہ الفاظ درج ہیں کہ وہ اپنے عہدہ پر محض سخت محنت کے ذریعے پہنچے تھے:

other sourceWords of another person or source

He rose to the present position by sheer hard work

مسٹر پاٹھک نے الٰہ آباد میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد پندرہ سال تک وہ ٹائمس آف انڈیا اور انڈین ایکسپریس میں رہے۔ اس کے بعد1958 میں وہ ہندستان ٹائمس کے عملہ میں داخل ہوئے۔ یہاں انہیںجم کر کام کرنے اور محنت کرنے کا موقع ملا 25 سال محنت کے بعد وہ اخبار میں ایک بڑے عہدہ پر پہنچ گئے مگر ابھی وہ اس عہدہ سے متمتع بھی نہیں ہو سکے تھے کہ اچانک موت کا وقت آگیا۔

یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کیسے عجیب المیہ سے دو چار ہے۔ انسان بے پناہ محنت کرتا ہے وہ اپنی پوری طاقت خرچ کر کے ترقی کے اعلیٰ مقام پر پہنچتا ہے۔ مگر اپنی کوششوں کے آخری انجام سے فائدہ اٹھانے کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوتا کہ اس کی موت آجاتی ہے۔

زندگی کا یہ خاتمہ کیسا درد ناک ہے مگر کوئی شخص اس پر غور نہیں کرتا ہر آدمی دوبا رہ اسی درد ناک کہانی کو لکھنا چاہتا ہے جس کو اس کے پیش رو نے لکھنا چاہا تھا اوروہ اس کو لکھنے میں کامیاب نہ ہوا۔ تمام انسانوںکی کہانی نا مکمل کہانی ہے۔ مگر کوئی نہیں جس کو یہ سوال بے چین کرے کہ اس کا راز کیا ہے اور وہ کون سا طریقہ ہے جس کو اختیار کرکے انسان کی کہانی مکمل کہانی بن سکے۔

ہر انسان اس دنیا میں ایک نا تمام کہانی ہے۔ ہر انسان اپنی منزل پر پہنچ کر اچانک بے منزل ہو جاتا ہے۔ زندگی کی یہ بے انجامی کیسی عجیب ہے اور اس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ کسی کو اپنی بے انجامی کی فکر نہیں۔

موت کو یاد کرو

کچھواپانچ سو سال تک زندہ رہتا ہے۔درخت ایک ہزار سال تک زمین پر کھڑارہتا ہے۔پہاڑ اوردریاکروروں سال تک اپنی شان کو باقی رکھتے ہیں۔مگر انسان کی عمر پچا س یا سوسال سے زیادہ نہیں۔انسان جوبظاہر تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اشرف اورافضل ہے وہ سب سے کم زندگی پاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ مختصر زندگی بھی ناکامیوں کی ایک مسلسل داستان کے سوا اورکچھ نہیں۔آدمی کی زندگی غم اوردکھ سے اتنا زیادہ بھری ہوئی ہے کہ خوشی کے لمحات غفلت کی چند جھلکیوں سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔بیماری ،حادثہ ،بڑھاپا ، امیدوں کی مسلسل پامالی کا نام زندگی ہے اوربالآخر اس قسم کے درد ناک ایام گزارتے ہوئے ایک دن موت کے آگے شکست کھاجانا۔

ایک غریب کو یہ حسرت ہوتی ہے کہ اس کے پاس بڑامکان نہیں۔اس کے پاس ضروریات زندگی کے لیے کافی پیسہ نہیں۔مگر دوسری طرف ان لوگوں کا حال بھی بہت مختلف نہیں جن کو ایک غریب آدمی رشک کی نظر سے دیکھتا ہے ،دولت مند آدمی کے لیے پیسہ ہونا اس سے زیادہ بڑے مسائل پیدا کرتاہے جو غریب کو پیسہ نہ ہونے کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ایک مشہور آدمی جس کے گرد انسانو ں کی بھیڑ لگی ہوئی ہو اندر سے اس قدر بے چین ہوتا ہے کہ رات کو گولی کھائے بغیر اسے نیند نہیں آتی۔غرض اس دنیا میں ہر آدمی دکھی ہے ،کوئی ایک صورت میں اورکوئی دوسری صورت میں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بالفرض کوئی شخص ناموافق حالات سے بچ جائے اوراس خوش قسمتی کو حاصل کرلے جس کو سکھ اورچین کہتے ہیں ،تب بھی کتنے دن تک۔اگر کوئی شخص اتفاقی اسباب کے تحت خوشیوں کا خزانہ اپنے گرد جمع کرلے تو وہ بھی بس صبح سے شام تک کے لیے ہوگا۔اس کے بعد اچانک موت کا بے رحم فرشتہ آئے گا اوراس کو اس طرح پکڑے گا کہ نہ اس کی دولت اس کو بچا سکے گی اور نہ اِس کی فوج۔ ہوائی جہاز کے مسافر پر بھی موت اسی طرح قابو پالیتی ہے جس طرح ایک پیدل چلنے والے آدمی پر۔وہ عالی شان محلوں میں بھی اسی طرح فاتحانہ داخل ہوجاتی ہے جس طرح ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں۔ موت آدمی کی سب سے بڑی مجبوری ہے۔

موت آدمی کویاد دلاتی ہے کہ وہ آج سے اوپر اٹھ کر سوچے۔وہ کامیابی کوزندگی کے اُس پار تلاش کرے۔کامیاب وہ ہے جو موت سے یہ سبق لے لے۔جو شخص یہ سبق لینے سے محروم رہے اس کی خوشیوں کے چراغ بہت جلد بجھ جائیں گے۔وہ اپنے کو ایک ایسے بھیانک اندھیرے میں پائے گاجہاں وہ ابدالآ بادتک ٹھوکر یں کھاتا رہے اورکبھی اس سے نکل نہ سکے۔

جب موت ذہنی طلسم کو توڑدے گی

ایران میں فروری 1979میں شاہ مخالفت عناصر غالب آگئے۔اس کے بعد خفیہ انقلابی عدالتیں قائم ہوئیں۔ سرسری سماعت کے بعد ان افسروں کو گولی مارکر ہلاک کیا جانے لگا جنھوںنے شاہ کے حکم کی تعمیل میں شاہ مخالف عناصر کوکچلنے کی کوشش کی تھی۔اس سلسلہ میں جو خبریں آرہی ہیں ان میں بڑی عبرت کاسامان ہے۔

جنرل ربیع شاہ کی خفیہ پولس ساواک (Savak)میں اعلیٰ افسر تھے۔9اپریل 1979کو تہران میں ان لوگوں کو گولی مارکر ہلاک کردیاگیا۔ایران کی نئی انقلابی حکومت میں ان پر مقدمہ چلایا گیاتھا۔رائٹر کے مطابق انھوں نے اپنے بیان میں عدالت سے کہا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

I am sorry I served somebody until it was too late to discover he was nothing.

مجھے افسوس ہے کہ میں شاہ ایران کے احکام کی تعمیل کرتا رہا۔میں اس کے بے حقیقت ہونے کو صرف اس وقت جان سکا جب کہ اس کوجاننے کا وقت نکل چکا تھا — یہی صورت زیادہ بڑے پیمانہ پر موت کے وقت پیش آتی ہے۔آدمی اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑتارہتا ہے۔یہاں تک کہ موت کا وقت آجاتا ہے۔اس وقت اس کی آنکھ کھلتی ہے۔اب اس کومعلوم ہوتا ہے کہ جن خوش نماخیالات اورخوب صورت الفاظ کے سہاے وہ جی رہاتھا ان کی کوئی حقیقت نہ تھی۔موت کے جھٹکے کے بعد اچانک وہ ہوش میں آجاتا ہے۔مگر اب اس کا ہوش میں آنا بے کار ہوتا ہے۔کیونکہ یہ بدلہ پانے کا وقت ہوتاہے نہ کہ عمل کرنے کا۔

اسی طرح،رائٹر کے مطابق ،ایک اورملزم جنرل خواجہ نوری نے عدالت کے سامنے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا:

other sourceWords of another person or source

Because of the heavy censorship. I was unaware of the real situation.

’’خبروں پر بھاری سنسر قائم ہونے کی وجہ سے میں حقیقی صورت حال سے بالکل بے خبر رہا‘‘۔ آخرت کے اعتبار سے بھی انسان کا حال یہی ہے۔آدمی اپنے خیالات میں اس طرح گم رہتا ہے کہ اس کو باہر کے حقائق دکھائی نہیں دیتے۔وہ اپنی خواہشات کے خول میں بند رہتاہے۔وہ لفظی توجیہات وضع کرتاہے اوران کے سہارے جیتا رہتا ہے۔وہ اپنے مطابق حق اور ناحق کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ گھڑتا ہے اوراپنے آپ کو اس کے حسب حال پاکر خوش ہوتا رہتا ہے۔وہ اپنی خوش خیالیوں اوردنیو ی کامیابیوں کے مطابق اپنے گرد ایک فرضی ہالہ بنالیتا ہے اوراس کے اندر اس طرح صبح وشام کرتا رہتا ہے جیسے وہ ابدی حصار میں آگیا ہے ، آدمی اسی طرح اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے ،یہاں تک کہ موت آکر اس کے ذہنی فریب کا پردہ پھاڑ دیتی ہے۔اب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جس فکری گھروندے میں جی رہا تھا وہ فرضی طلسمات کے سوا اورکچھ نہ تھا۔وہ جن الفاظ کولکھ اوربول رہاتھا وہ معانی سے بالکل خالی تھے۔وہ جن کاموں میں مشغول تھا وہ عالم آخرت کے اعتبار سے کوئی قیمت نہ رکھتے تھے۔جن مشاغل پر اس نے خدا اوراسلام کا بورڈ لگا رکھاتھا وہ محض اس کی ایک ذاتی تجارت تھی۔وہ صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے متحرک تھا نہ کہ حقیقہً خد اکی رضا کے لیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ساٹھ کیلومیٹر

جابر حسین ایک ریلوے گارڈ تھے۔ان کی ملازمت کی مدت پوری ہوچکی تھی۔ 17جولائی 1981کو وہ اندور۔بلا سپور ایکسپر س لے کر روانہ ہوئے۔یہ گارڈ کی حیثیت سے ان کا آخری سفر تھا۔کیونکہ اگلے دن 18 جولائی سے وہ ریٹائر ہونے والے تھے۔ ریٹائر منٹ کے بعد انھوں نے اپنی زندگی کا پورانقشہ بنا رکھا تھا۔ان کا خیال تھا کہ اب وہ اپنے اس نقشہ کو زیر عمل لانے کے کنارے پہنچ چکے ہیں۔ریلوے گارڈ کی حیثیت سے اپنی ڈیوٹی کے آخری سفر پر روانہ ہوتے ہوئے انھوں نے اپنے دوستوں سے کہا ’’کل سے میری دوسری زندگی شروع ہوگی‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ سفر جابر حسین کے لیے واقعی آخری سفر تھا اوراس کے بعد ہی ان کی دوسری زندگی شروع ہوگئی۔مگر اس معنی میں نہیں جس میں کہ انھوں نے سمجھا تھاکہ بلکہ کسی اورمعنی میں۔ ان کی ایکسپرس ٹرین اپنی منزل سے ساٹھ کیلومیٹر کے فاصلہ پر تھی کہ پیچھے سے آنے والی مال گاڑی ان کی ٹرین سے ٹکراگئی۔گارڈ کا ڈبہ چکنا چور ہوگیا۔جابر حسین فوراً ہلاک ہوگئے۔ ایک ریلوے افسر نے اس حادثہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Sixty kilometres more and it would have been the end of his official journey.

جابر حسین نے اگر60 کیلومیٹر اورطے کرلیا ہوتا تو ریلوے ملازم کی حیثیت سے ان کا سفر پوراہوجاتا(انڈین ایکسپرس 18جولائی 1981)۔

other sourceWords of another person or source

یہی اس دنیا میں ہر آدمی کا حال ہے۔ہر آدمی اپنی زندگی کولمبی تصو رکیے ہوئے ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کا سفر ’’60 کیلومیٹر ‘‘کے بعد پوراہوگا۔مگر موت کا فرشتہ اس کو60کیلومیٹر سے پہلے ہی پکڑ لیتا ہے۔ہر آدمی موجودہ دنیا میں ’’اپنی کل ‘‘کی تعمیر کا ایک نقشہ لیے ہوئے ہےمگر اچانک موت آکر اس کو بتاتی ہے کہ اس کی ’’کل ‘‘اس دنیامیں شروع نہیں ہوتی جہاں 17جولائی کے بعد 18جولائی اور18جولائی کے بعد 19جولائی کی تاریخیں آتی ہیں۔بلکہ اس کی کل اس ابدی دنیامیں شروع ہوتی ہے جہاں دنیا کے کیلنڈر لپیٹ کررکھ دئے جاتے ہیں۔آدمی جہاں اپنے سفر کو ختم سمجھ رہا ہے وہیں سے اس کے حقیقی سفر کا آغاز ہوتاہے۔

کیساعجیب

کرنا ٹک کے گورنر مسٹر گووند نرائن (1916-2012)کی لڑکی نندنی کی عمرابھی صرف 38سال تھی کہ16ستمبر 1981کو نئی دہلی میںاس کا انتقال ہوگیا۔ایک ہنستی ہوئی زندگی اچانک خاموش ہوگئی۔

نندنی بہت ذہین اور تندرست تھی۔ اس کی تعلیم خالص انگریزی طرزپر ہوئی۔ اس کے بعد اس نے امریکاسے جرنلزم (صحافت ) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ہندستان ٹائمس میں سینئر رپورٹر تھی۔ اپنی مختلف خصوصیات کی وجہ سے نندنی اپنے اخباری ساتھیوں کے درمیان بہت مقبول تھی۔ اس کے ایک ساتھی کے الفاظ میں نندنی کی زندگی کا نظریہ یہ تھا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

She loved life to the full and wanted to live it to the full

وہ زندگی سے آخری حد تک پیار کرتی تھی اور زندگی کے ساتھ آخری حد تک رہنا چاہتی تھی۔

نندنی کی وفات پر اس کے ساتھی رپورٹروں نے ایک یادداشت (ہندستان ٹائمس، 17 ستمبر 1918) شائع کی ہے۔اس یادداشت کے خاتمہ پروہ لکھتے ہیں— نندنی کی موت اس حقیقت کی ایک بے رحم یاد دہانی ہے کہ ہر آدمی کا ایک بے حد مقرر وقت ہے:

It is a cruel reminder of the fact that there is a deadline for everyone.

کیسی عجیب بات ہے ایک جیتی جاگتی زندگی اچانک بجھ جاتی ہے۔ ایک ہنستا ہوا چہرہ ایک لمحہ میں اس طرح ختم ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ مٹی سے بھی زیادہ بے قیمت تھا۔ حوصلوں اور تمنائوں سے بھری ہوئی ایک روح دفعتا اس طرح منظر سے ہٹا دی جاتی ہے جیسے اس کے حوصلوں اور تمنائوں کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔

زندگی کس قدر بامعنی ہے۔ مگر اس کانجام اس کو کس قدر بے معنی بنا دیتا ہے۔ آدمی بظاہر کتنا آزاد ہے مگر موت کے سامنے وہ کتنا مجبور نظر آتاہے۔ انسان اپنی خواہشوں اور تمنائوں کو کتنا زیادہ عزیز رکھتا ہے، مگر قدرت کا فیصلہ اس کی خواہشوں اور تمنائوں کو کتنی بے رحمی سے کچل دیتاہے۔

آدمی اگر صرف اپنی موت کو یاد رکھے تو وہ کبھی سرکشی نہ کرے کامیاب اجتماعی زندگی کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی اپنی حد کے اندر رہنے پر راضی ہو جائے اور موت بلاشبہ اس حقیقت کی سب سے بہتر اور سب سے بڑی معلم ہے۔

موت کا مرحلہ

موت کا لمحہ تمام قابل قیاس اور نا قابل قیاس لمحات سے زیادہ شدید ہے۔ ہر دوسری مصیبت جس کے لیے آدمی پریشان ہو تا ہے اس مصیبت کے مقابلہ میں ہیچ ہے جو موت کی صورت میں اس کے سامنے آنے والی ہے۔

موت زندگی کے سخت ترین مرحلہ کی طرف سفر ہے یہ کامل بے اختیاری کامل بے سروسامانی اور کامل بے مددگاری کے مرحلہ میں داخل ہونا ہے دنیا کی ہر تکلیف کی ایک حد ہوتی ہے موت ہم کو ایک ایسی دنیا میں داخل کر دیتی ہے جس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کی کوئی حد نہیں۔

موجودہ دنیا میں بھی آدمی با اعتبار حقیقت اسی حال میں ہے۔ انسان اپنی ذات کے اعتبار سے اتنا کمزور ہے کہ وہ معمولی نا خوشگواری کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک سوئی کا چبھنا، ایک دن کی بھوک پیاس، چند دن کے لیے نیند نہ آنا بھی اس کے پورے وجود کو تڑ پا دیتا ہے۔ تاہم موجودہ دنیا میں اس کو اس کی ضرورت کے مطابق تمام چیزیں حاصل ہیں ، اس لیے وہ اپنی بے چار گی کو بھولا رہتا ہے وہ اپنی حقیقت سے نا آشنا رہتا ہے۔

اگر آدمی سے موجودہ دنیا چھین لی جائے جہاں پانی اور غذا ہے، جہاں ہوا اور روشنی ہے، جہاںفطرت کی قوتوں کو مسخر کر کے تمدن بنانے کے امکانات ہیں۔ اگر موجودہ دنیا آدمی سے چھین لی جائے تو خلا کے کسی دوسرے مقام پر وہ اپنے لیے اس قسم کی ایک اور دنیا کی تخلیق نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد اس کا انجام اس کے سواکچھ نہ ہو گا کہ وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہے۔

دنیا میں آدمی پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ آہ واویلا کرتا ہے۔لیکن اگر وہ آنے والے دن کو جانے تو وہ کہے گاکہ خدایا جو کچھ بیت رہا ہے اس سے کہیں زیادہ سخت ہے وہ جو بیتنے والا ہے۔ دنیا میں آدمی کو عزت اور آرام حاصل ہو تو وہ فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ آنے والے لمحات کو جانے تو وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا اس عزت اور آرام کی کوئی حیثیت نہیں اگر آنے والے طویل تر مرحلہ میں وہ باقی نہ رہے۔

موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں ، وہ ایک نئے مرحلۂ حیات کا آغاز ہے۔ یہ نیا مرحلہ کسی کے لیے تمام مصیبتوں سے زیادہ بڑی مصیبت کا آغار ہو گا اور کسی کے لیے تمام راحتوں سے زیادہ بڑی راحت کا دروازہ۔

موت کے دروازے پر

موت کا مرحلہ سب سے زیادہ یقینی مرحلہ ہے جس سے آدمی کو لازماً گزرنا ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ کسی کو زندگی نہ ملے مگر جس کو زندگی ملی اس کے لیے موت کا آنا لازمی ہے۔ ہر آدمی جو زندہ ہے وہ ایک روز مرے گا۔ ہر آدمی جو دیکھتا اور بولتا ہے، یقیناً ایک روزاس کی آنکھ بے نور ہو گی اور اس کا بولنا بند ہو جائے گا۔ ہر آدمی پر وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ موت کے دروازہ پر کھڑا کر دیا جائے۔ اس وقت اس کے پیچھے دنیا ہو گی اور اس کے آگے آخرت وہ ایک ایسی دنیا کو چھوڑ رہا ہو گا جہاں وہ دوبارہ کبھی نہیں آئے گا اور ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہا ہو گا جس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہو گا وہ اپنے عمل کے میدان سے ہٹا کر وہاں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ اپنے عمل کا ابدی انجام بھگتتا رہے۔

زندگی ایک بے اعتبار چیز ہے جب کہ موت بالکل یقینی ہے۔ ہم زندہ صرف اس لیے ہیں کہ ابھی ہم مرے نہیں ہیں اور موت وہ چیز ہے جس کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ ہم ہر لمحہ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں حالاں کہ زیادہ صحیح با ت یہ ہے کہ وہ مرے ہوئے ہیں وہ موت جس کا وقت مقرر نہ ہو جو ابھی اگلے لمحہ آسکتی ہو وہ گویا ہر وقت آرہی ہے۔ اس کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ وہ آچکی ہے، بجائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ وہ آنے والی ہے۔ اس لیے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ— اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرووعُدَّ نفسَك في أَهلِ القبورِ(سنن الترمذی، حدیث نمبر2333 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موت ہر چیز کو باطل کر دیتی ہے، وہ ہماری زندگی کا سب سے زیادہ بھیانک واقعہ ہے تا ہم موت اگر صرف زندگی کا خاتمہ ہوتی تو وہ زیادہ بھیانک نہیں تھی۔ موت کا مطلب اگر صرف یہ ہوتا کہ اب آئندہ کے لیے اس انسان کا وجود نہ رہے گا جو چلتا تھا اور جو دیکھتا اور سنتا تھا تو اپنی ساری ہولنا کیوں کے باوجود یہ صرف ایک وقتی حادثہ تھا نہ کہ کوئی مستقل مسئلہ۔ مگر اصل مشکل یہ ہے کہ موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں وہ ایک نئی اور ابدی زندگی کا آغاز ہے۔موت کا مطلب اپنے ابدی انجام کی دنیا میں داخل ہونا ہے۔

ہر آدمی زندگی سے موت کی طرف سفر کررہا ہے۔کسی کا سفر دنیا کی خاطر ہے اورکسی کا آخرت کی خاطر۔ کوئی سامنے کی چیزوں میں جی رہا ہے،کوئی اپنی خواہش اورانا کی تسکین کے لیے دوڑ دھوپ کررہا ہے اورکسی کو خدا کے خوف اورخدا کی محبت نے بے چین کررکھا ہے۔دونوں قسم کے لوگ شام کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی تھکان کو مٹائیں اوراگلے دن دوبارہ صبح کرتے ہیں تاکہ پسندکی دنیا میں دوبارہ سرگرم ہوجائیں۔موجودہ دنیا میں دونوں بظاہر یکساں نظر آتے ہیں۔مگر موت کے بعد آنے والی منزل کے اعتبار سے دونوں کا حال یکساں نہیں۔جو شخص خد ااورآخرت میں جی رہا ہے وہ اپنے کو بچا رہا ہے اورجو شخص دنیا کی دلچسپیوں اوراپنے نفس کی خواہشوں میں جی رہا ہے وہ اپنے کو ہلاک کررہا ہے۔

سب سے بڑا بھونچال

آج لوگو ں کے پاس الفاظ ہیں جن کو وہ بے تکان دہرارہے ہیں مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ چھن چکے ہوں گے۔ ان کو اپنا ہر بول بالکل بے قیمت نظر آئے گا۔ وہاں کوئی سننے والا نہ ہو گا۔ جو اِن کے الفاظ کو سنے۔ کوئی پریس نہ ہو گا جو ان کے الفاظ کو چھاپے۔ کوئی لائوڈ اسپیکر نہ ہو گا جو ان کے الفاظ کو فضا میں بکھیرے۔ ان کی خوش خیالیوں کا محل گر چکا ہو گا۔ وہ حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے اپنے چاروں طرف دیکھیں گے اور کچھ نہ کر سکیں گے۔ اس وقت ان کو نظر آجائے گا کہ دنیا میں حق کا انکار کرنے کے لیے وہ جن الفاظ کا سہارا لیے ہوئے تھے وہ کس قدر بے قیمت تھے یہ دنیا چونکہ امتحان کی دنیا ہے اس لیے یہاں الفاظ ہر معنی کوقبول کر لیتے ہیں۔ ایک نا حق بات کو بھی یہاں شان دار الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے مگر موت کے بعد جو دنیا آئے گی وہاں صرف سچی بات بولنا ممکن ہو گا وہاں الفاظ کسی غلط بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔

حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ— موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہےأَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِيَعْنِي الْمَوْتَ(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر4258 )۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی اگر موت کو یاد کرتا رہے تو اس کے لیے دنیا کی وہ تمام چیزیں بالکل بے حقیقت ہوجائیں جن کی خاطر وہ ظلم اور بے انصافی کرتا ہے اور اپنے لیے جہنم کی آگ میں جلنے کا خطرہ مول لیتا ہے جس مال کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھتا ہے اور اس کے سمیٹنے میں اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے وہ اس کو برت نہیں پاتا کہ موت آجاتی ہے اور اس کو اس کمائے ہوئے مال سے جدا کر دیتی ہے اگر آدمی کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوتو وہ مال کے پیچھے اپنے کو دیوانہ نہ بنائے آدمی کو کسی سے شکایت ہو جاتی ہے اور وہ اس کو مٹانے اور اس کو برباد کرنے میں لگ جاتا ہے مگر ابھی وہ اپنے تخریبی منصوبہ کو پورا نہیں کر پاتا کہ موت اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان حائل ہوجاتی ہے وہ اپنے دشمن کو اس کے حال میں چھوڑ کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ اگر یہ حقیقت آدمی کے ذہن میں تازہ ہوتو وہ کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے، مگر وہ اس کااعتراف نہیں کرتا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے اس کا اعتراف کر لیا تو وہ بڑائی کے مقام سے نیچے آجائے گا۔ اس کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ کر منتشر ہو جائے گا، مگر سچائی کے انکار کے بعد اس پر چند دن بھی نہیں گزرتے کہ موت اس کی بڑائی کو ختم کر دیتی ہے اور اس کا سارا نقشہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔اگر وہ موت سے پہلے اس ہونے والے واقعہ کو یاد کرلے تو کبھی ایسی سچائی کے انکار کی جرأت نہ کرے جس کو چند لمحہ بعد اس کو بہر حال تسلیم کرنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک ایسا گھر جو کل جل کر تباہ ہو جانے والا ہو اس کو کوئی نہیں خریدتا ایک ایسا شہر جو اگلے لمحہ بھونچال کی زد میں آنے والا ہو اس میں کوئی داخل نہیں ہوتا مگر کیسی عجیب بات ہے کہ موت کے عظیم تر بھونچال کے معاملہ میں ہر آدمی یہی غلطی کر رہا ہے۔

موت ہر چیز کو باطل کر دے گی

وہ وقت کیسا عجیب ہو گا جب لوگوں کو معلوم ہو گا کہ عمل کے نام پر دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے وہ بے عملی کی بد ترین شکل تھی لوگ دنیا میں ا پنے آپ کو اوپر اٹھا کر فخر کرتے رہے حالاں کہ ان کے لیے قابل فخر بات یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا دیں۔ وہ اپنی غلطیوں کی توجیہ وتا ویل کو کامیابی سمجھتے رہے حالاں کہ ان کی کامیابی یہ تھی کہ وہ اپنی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کر لیں۔ ان کو الفاظ اس لیے دئے گئے تھے کہ ان کو اللہ کی تعریف میں استعمال کریں مگر وہ اپنے الفاظ کے ذخیرہ کو انسان کی تعریف میں خرچ کرتے رہے۔ ان کے اندر خوف و محبت کے نازک جذبات اس لیے رکھے گئے تھے کہ وہ ان کو خدا کے لیے وقف کردیں مگر وہ دوسری چیزوں کو اپنے خو ف ومحبت کے جذبات کا مرکز بناتے رہے۔ انھوں نے مال جمع کرنے کو سب سے بڑی چیز سمجھا حالاں کہ ان کے لیے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے کر بے مال ہو جائیں۔ ان کا اصلی کمال یہ تھا کہ وہ کمزوروں کا لحاظ کریں مگر وہ کمزوروں کو نظر انداز کر کے طاقت وروں کا استقبال کرتے رہے۔ ان کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ معافی کے خاموش سمندر میں غوطہ لگائیں مگر وہ شوروغل کے ہنگامے کھڑے کرنے میں مشغول رہے ان کی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ اپنی ذات کا احتساب کرنے والے بنیں مگر وہ دوسروں کا احتساب کرنے میں مصروف رہے۔ ان سے یہ مطلوب تھا کہ دنیا کا مال یا دنیا کی عزت پائیں تو اس کو بے حقیقت سمجھیں اور اس سے بے رغبتی کا ثبوت دیں مگر اسی کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھ بیٹھے۔

آج کی دنیا میں لوگ دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے کے بہادر بنے ہوئے ہیں ، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ اصل بہادری یہ تھی کہ وہ خود اپنے ظلم کو جاننے کے بہادر بنیں۔ لوگ کسی نہ کسی غیر خدا کا دامن تھام کر سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اپنے لیے مضبوط پناہ حاصل کر لی، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ خدا کے سوا کوئی نہ تھاجو کسی کے لیے پناہ بن سکے۔ لوگ الفاظ بول کر اپنے کو بری الذمہ سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ یہ صر ف حقائق تھے جو کسی کو بری الذمہ کر سکتے تھے لوگ دنیا کے اسباب کو اکٹھا کر کے مطمئن ہیں کہ جو کچھ ان کو پانا تھا وہ انھوں نے پا لیا، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب موت ان کی ہر چیز کو باطل کر دے گی اور ان کو معلوم ہو گا کہ انھوں نے کچھ بھی نہیں پایا تھا۔ لوگ دوسروں کی غلطیوں کی فہرست مرتب کر رہے ہیں اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب فرشتے خود ان کی غلطیوں کی فہرست ان کے سامنے پیش کریں گے۔ لوگ زندگی کو اصل مسئلہ سمجھے ہوئے ہیں اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہوگا کہ ان کا اصل مسئلہ موت تھا نہ کہ دنیا کی چند روزہ زندگی۔ لوگ اپنے خود ساختہ معیار کے مطابق پا کر اپنے کو برحق سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ حق پر صرف وہ تھا جو اللہ کے مقرر کیے ہوئے معیار کے مطابق تھا لوگ استقبال کرنے والوں کی بھیڑ پا کر اپنے کو خوش قسمت سمجھ رہے ہیں۔اس وقت لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ان کو معلوم ہو گا کہ خوش قسمت صرف وہ تھا جس کے استقبال کے لیے اللہ اور اس کے فرشتے اس کا انتظار کر رہے تھے— ہر آدمی نے اپنی خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا رکھی ہے اور اپنے آپ کو اس کے اندر پا کر مطمئن ہے مگر قیامت ایسے تمام گھروندوں کو توڑدے گی اس وقت صرف وہ شخص محفوظ ہو گا جو خدا کے ’’گھر‘‘میں پناہ پکڑے ہوئے تھا جس نے اپنے لیے خدا کا سایہ حاصل کر لیا تھا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

کل کو یاد رکھیے

لارڈ کرزن(1859-1925) 1898 میں ہندستان کے وائسرائے(Viceroy) ہو کر انگلستان سے یہاں آئے ان کی دولڑکیاں تھیں تیسری پیدائش کے وقت لارڈ کرزن اور لیڈی کرزن کی بہت خواہش تھی کہ ان کے یہاں لڑکا پیدا ہو ۔دونوں بڑی امیدوں کے ساتھ آنے والے وقت کا انتظارکر رہے تھے، مگر تیسری بار بھی مارچ 1904 میں ان کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی اس وقت ان کا قیام نالدرا میں تھا۔ اس مناسبت سے انھوں نے اپنی لڑکی کا نام الکزنڈر نالدرا کرزن رکھا۔ لارڈ کرزن نے اس زمانہ میں اپنی بیوی کے نام جو خطوط لکھے ان میں سے ایک خط وہ ہے جو انھوں نے شملہ سے لندن بھیجا تھا۔ اس خط میں انھوں نے اپنی بیوی کو تسکین دلانے کی کوشش کی۔ ان کے خط کا ایک جملہ یہ تھا— لڑکا یا لڑکی کا کیا فائدہ جب کہ ہم دونوں اس دنیا سے جا چکے ہوں گے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

After all what does sex matter after we are both of us gone.

لارڈکرزن کا یہ جملہ محض اپنی مایوس نفسیات کو چھپانے کی ایک کوشش تھی لیکن یہی بات اگر آدمی کے اندر شعوری طور پر پیدا ہو جائے تو دنیا کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے دولت، اولاد، اقتدار یہی وہ چیزیں ہیں جن کو آدمی سب سے زیادہ چاہتا ہے اور ان کو حاصل کرنے لے لیے سب کچھ کر ڈالتا ہے۔ اگر آدمی یہ سوچ لے کہ کسی چیز کو پانے کا کیا فائدہ جب کہ چند ہی روز بعد اس کو چھوڑ کر چلا جانا ہے تو لوگوں کے اندر قناعت آجائے اور دنیا کا تمام ظلم و فساد ختم ہو جائے یہ ایک حقیقت ہے کہ یہاں پانے اور نہ پانے میں بہت زیادہ فرق نہیں جو پانا اگلے روز کھونا بننے والا ہو اس پانے کی کیا قیمت ہے۔ آدمی اپنی ساری کوشش خرچ کر کے جو چیز حاصل کر تا ہے وہ صرف اس لیے ہوتی ہے کہ اگلے لمحہ وہ اس کو کھو دے۔ ہر زندگی بالآخر موت سے دوچار ہونے والی ہے۔ ہر وہ محبوب چیز جس کو آدمی اپنے گردو پیش جمع کرتا ہے اس کو چھوڑ کر وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے چلا جانے والا ہے۔

آدمی ’’آج‘‘ میں جیتا ہے وہ کل کو بالکل بھولا رہتا ہے آدمی دوسرے کا گھر اجاڑ کر اپنا گھر بناتا ہے حالاں کہ اگلے دن وہ قبر میں جانے والا ہے۔ آدمی دوسرے کے اوپر جھوٹے مقدمے چلا کر اس کو انسانی عدالت میں لے جاتا ہے حالانکہ فرشتے خود اس کو خدا کی عدالت میں لے جانے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ آدمی دوسرے کو نظر انداز کر کے اپنی عظمت کے گنبد میںخوش ہوتا ہے حالاں کہ بہت جلد اس کا گنبد اس طرح ڈھ جانے والا ہے کہ اس کی ایک اینٹ بھی باقی نہ رہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

آہ یہ انسان

تقریباً ایک در جن انڈے سامنے رکھے ہوئے تھے۔ بظاہر سب انڈے اوپر سے دیکھنے میں اچھے لگتے تھے۔ مگر جب توڑا گیا تو ایک کے بعد ایک سب خراب نکلتے چلے گئے۔ آخر میں یہ معلوم ہوا کہ ان میں کوئی ایک بھی اچھا نہ تھا۔ سارے انڈے اندر سے خراب انڈے تھے۔ اگرچہ بظاہر اوپر سے اچھے نظر آتے تھے۔

ایسا ہی کچھ حال آج کل انسانوں کا ہورہا ہے۔بظاہر دیکھنے میں ہر آدمی آدمی ہے۔وہ عمدہ کپڑے پہنے ہوئے ہے۔وہ خوبصورت باتیں کرتا ہے۔اوپر سے ہر آدمی اچھا آدمی معلوم ہوتا ہے۔ ہر آدمی کے پاس اپنے کارناموں کی نہ ختم ہونے والی داستانیں ہیں۔مگر جب تجربہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اندر سے کچھ اورتھا۔اوپر کے خوبصورت خول کے اندر ایک انتہائی بد ہیئت اوربالکل مختلف قسم کا انسان چھپا ہواتھا۔

جب کسی سے لین دین ہوتا ہے،جب کوئی شکایت اورتلخی کا کوئی موقع سامنے آتا ہے، جب کسی کے مفاد اور مصلحت پر ضرب پڑتی ہے تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ اندر کا اصلی انسان وہ نہ تھا جو اوپر سے دکھائی دے رہا تھا۔خوبصورت کپڑوں کے اندر جو چیز چھپی ہوئی ہے وہ گندگی کے سوا اورکچھ نہیں۔ خود غرضی ،سطحیت ،ظاہر داری ،فخر ،حسد ،غرور ،موقع پرستی ، تعصب ،استحصال ،یہی وہ چیزیں ہیں جو لوگ اپنے خوبصورت جسموں کے اند ر چھپائے ہوئے ہیں۔ہر آدمی بظاہر اچھا انڈا ہے۔مگر توڑنے کے بعد ہر آدمی خراب انڈاہے۔

یہی آج کی انسانی دنیا ہے۔گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو آج کی دنیا میں صرف دوچیزیں نظر آتی ہیں۔دکھ کی آہیں،یاظلم کے قہقہے ،کچھ لوگ بے انصافیوں کا شکار ہوکر آہیں بھر رہے ہیں۔کچھ لوگ اپنے حیوانی ارادوں کی تکمیل کرکے فتح کے قہقہے لگا رہے ہیں۔کچھ لوگ بے شعوری کے گڑھے میں پڑئے ہوئے ہیں۔اور کچھ لوگ بے حسی کے گڑھے میں۔مگر یہ صورت باقی رہنے والی نہیں۔بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ انسان اپنے آپ کو ایک اوردنیا میں پائے گا۔ایک ایسی دنیا جہاں فیصلہ کا سارا اختیار خدا کو ہوگا نہ کہ انسان کو۔

زبان والے بے زبان ہو جائیں گے

قدیم عرب میں ایک شخص جمیل بن معمرجمحی تھا۔وہ بہت ذہین آدمی تھا۔اس کے اندر یہ عجیب صلا حیت تھی کہ وہ دو متضاد نقطۂ نظر پر یکساں قدرت کے ساتھ تقریر کرسکتا تھا۔چنانچہ اس کا نام ذوالقلبین (دودل والا) پڑگیا۔

اس قسم کے کردار مختلف شکلوں میں ہرزمانہ میں پائے گئے ہیں، مگر ذوالقلبین ہو نا خدا کے مقرر کیے ہوئے فطر ی نقشہ سے انحراف کر نا ہے۔ یہ خدا کی دنیا میں ایک نا پسندیدہ چیز ہے نہ کہ کوئی پسندیدہ چیز۔ اس لیے قرآن میں فرمایاگیا کہ — اللہ نے کسی انسان کے دودل نہیں بنائے (33:4)۔ یعنی جب عضویاتی تخلیق میں انسان کو دو دل والا نہیں بنایا گیا ہے تو سوچ اور جذبات کے اعتبار سے بھی دو دل والا ہونا اس کے لیے صحیح نہیں ہو سکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا میں چونکہ انسان کو آزادی حاصل ہے اس لیے یہاں کوئی شخص ایسا کر سکتا ہے کہ وہ ایک معاملہ میں ایک طرز پر سوچے اور دوسرے معاملہ میں دوسرے طرز پر سوچے، وہ ایک مجمع میں ایک ڈھنگ پر بولے اور دوسرے مجمع میں دوسرے ڈھنگ پر تقریر کر ے۔ وہ جسم کے اعتبار سے ایک دل والا انسان ہونے کے باوجود ذہن اور زبان کے اعتبار سے دو دل والا انسان بن کر رہے۔ بلکہ کئی دل والا انسان بن جائے۔ مگر ایسی ہر صورت خدا کے تخلیقی نقشہ کی خلاف ورزی ہے۔ وہ فطرت کے مقررہ راستہ سے انحراف کرتا ہے۔ موجودہ دار الامتحان میں کوئی شخص ایسا متضاد رویہ اختیار کر کے کامیاب ہو سکتا ہے مگر آخرت کی حقیقی اور معیاری دنیا میں اس قسم کا خلاف فطرت رویہ بالکل بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔

اس قسم کا انداز اختیار کرنے والا آدمی موجودہ دنیا میں خوب کامیاب رہتا ہے وہ ہر طبقہ کے لوگوں سے ان کے حسب حال بات کرتا ہے۔ وہ جس سے ملتا ہے یا جہاں جاتا ہے ہر جگہ وہی بات کہتا ہے جو وہاں کے لوگوں کی پسند کے مطابق ہو۔ مگر ایسی ہوشیاری صرف موجودہ دنیا میں کسی کے کام آسکتی ہے کیونکہ یہ دنیا سچائی کے ظہور کی دنیا نہیں۔ آخرت سچائی کے ظہور کی دنیا ہو گی وہاں حق حق کی صورت میں اور باطل باطل کی صورت میں ظاہر ہو جائے گا۔ وہاں جمیل بن معمرجمحی جیسے ماہرین بالکل بے قیمت ہو جائیں گے۔ وہ ساری مہارت کے باوجود ایسا محسوس کریں گے جیسے ان کے پاس زبان ہی نہیں جس سے وہ بولیں اور ان کے پاس قلم ہی نہیں جس سے وہ کچھ لکھ سکیں۔

کیسا عجیب

میں شہر کی ایک پررونق سڑک کے کنارے کھڑاتھا۔تیز رفتار سواریاں مسلسل میرے سامنے سے گزررہی تھیں۔وہ انسانوں کو لیے ہوئے اِدھر ے اُدھر جارہی تھیں۔جیسے وہ کسی منزل کی طرف رواں ہوں۔جیسے وہ کسی پہنچنے کی جگہ پر پہنچنا چاہتی ہوں۔

یہ دیکھ کر مجھے ایسا معلوم ہواجیسے یہ سواریاں نہیں ہیں بلکہ خدا کے فرشتے ہیں جوانسانوں کولیے ہوئے تیزی سے بھاگ رہے ہیں تاکہ جلد ازجلد تمام انسانوں کو اس کے خالق ومالک کے دربار میں پہنچادیں۔لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی منزل کی طرف جارہے ہیں۔حالاں کہ وہ خدا کی منزل کی طرف لے جائے جارہے ہیں نہ کہ اپنی کسی منزل کی طرف۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زندگی کیاہے،موجودہ دنیا میں امتحان کی مہلت۔موت کیا ہے ،آخرت کی دنیا میں بجبر داخلہ۔موجودہ دنیا میں ہم ٹھیک ویسے ہی ہیں جیسے طالب علم امتحان ہال میںہوتا ہے۔کوئی طالب علم صرف گھنٹہ بجنے تک امتحان ہال میں رہ سکتا ہے۔گھنٹہ بجتے ہی وہ اس میں قیام کا حق کھودیتا ہے۔اسی طرح موجودہ دنیا میں انسان صرف اس وقت تک ہے جب تک موت یاقیامت کا گھنٹہ نہ بجے۔گھنٹہ بجنے کے بعد نہ دنیا اس کی رہ جاتی ہے اورنہ وہ دنیاکا۔

انسان سمجھتا ہے کہ میں اپنی دنیا میں ہوں۔حالاں کہ وہ صرف خداکی دنیا میں ہے۔انسان کوجوکچھ ملا ہے وہ خدا کے دئے سے ملاہے۔وہ عین اسی لمحہ چھن جائے گا جب کہ خداان کو چھننے کا فیصلہ کرے۔اس کے بعد انسان اپنے آپ کو اس حال میں پائے گاکہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کچھ نہ ہوگاجن کو آج وہ اپنا سمجھ رہاہے۔

انسان پروہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ بھوکا ہوگا مگر اس کے پاس کھانے کو نہ ہوگا جس سے وہ اپنی بھوک مٹائے۔وہ پیاسا ہوگا مگر اس کے پاس پانی نہ ہوگاجس سے وہ اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کرے۔اس پر سخت سردی کا موسم آئے گامگر اس کے پاس گرم کپڑے نہ ہوں گے جن سے وہ اپنے بدن کو گرم کرے۔اس کو سخت گرمی کاسامنا ہوگامگر اس کو کوئی سایہ نہ ملے گاجس کے نیچے جاکر وہ ٹھنڈک حاصل کرے۔

آہ ،کیسا عجیب دن انسان پر آنے والاہے مگر وہ اس سے کتنا زیادہ غافل بنا ہواہے۔

جب حقیقت کھلے گی

دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جن کے دل خداکے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔وہ دکھاوے کے لیے خدا کو سجد ہ کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کا حال آخرت میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہاں جب کہا جائے گاکہ اپنے رب کو سجدہ کروتو وہاں سجدہ نہ کرسکیں گے(القلم،68:42)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سجدہ محض ایک وقتی اوررسمی نوعیت کا جسمانی فعل نہیں۔وہ اپنے آپ کو حقیقت اعلیٰ کے آگے جھکانا ہے ،وہ اپنی پوری زندگی کو حق وصداقت کے تابع بنا دینا ہے۔اس اعتبار سے دیکھیے تومعلوم ہوگا کہ اس آیت میں محدود معنوں میں صرف ’’سجدہ‘‘کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ آیت پوری زندگی کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بتا رہی ہے۔

موجودہ دنیا میں ہر شخص اورہر قوم کا یہ حال ہے کہ ان کے دل سچائی کے آگے جھکے ہوئے نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو حق کے تابع نہیں بنایا ہے۔مگر ظاہر ی رویہ میں ہر ایک یہ دکھارہا ہے کہ وہ حق پر قائم ہے۔ہر ایک اپنی زبان سے ایسے الفاظ بول رہا ہے گویا کہ اس کا کیس انصاف کا کیس ہے نہ کہ ظلم اوراستغلا ل کا کیس۔

مگر اس قسم کی دھاندلی صرف موجودہ امتحانی دنیا میں ممکن ہے۔آخرت کے آتے ہی پوری صورت حال بالکل بد ل جائے گی۔بازار میں کھوٹے سکے چل سکتے ہیں مگر بینک میں کھوٹے سکے نہیں چلتے۔اسی طرح آخرت میں اس کا امکان ختم ہوجائے گاکہ کوئی جھوٹی بات کو سچے الفاظ میں بیان کرے۔کوئی بے انصافی کے عمل کو انصاف کا عمل ثابت کرے۔

آخرت میں ہوگاکہ الفاظ جھوٹے معانی کو قبول کرنے سے انکار کردیں گے۔کسی کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا وہ ظلم کو انصاف بتائے اورباطل کو حق کے لباس میں پیش کرے۔اس وقت ظاہر اورباطن کا فرق ختم ہوجائے گا۔آدمی کی زبان وہی بول سکے گی جو اس کے دل میں ہے۔اس دن ہر آدمی عین اس روپ میں دکھائی دے گا جو باعتبار حقیقت تھا نہ کہ اس روپ میں جو وہ مصنوعی طور پر دوسروں کے سامنے ظاہر کررہاتھا۔

لوگ انسان کے سامنے اپنے آپ کو حق بجانب دکھاکرمطمئن ہیں کہ وہ حق بجانب ثابت ہوگئے۔حالانکہ حق بجانب وہ ہے جو خدا کے سامنے حق بجانب ثابت ہو۔ اور وہاں کا حال یہ ہے کہ وہاں صرف حق حق ثابت ہوگا اورجو باطل ہے وہ وہاں صرف باطل ہوکر رہ جائے گا۔

خدااورآخرت

چھوڑنے کے لیے

برطانوی دورحکومت میں ہندستان کادارالسلطنت کلکتہ تھا۔1911میں برطانیہ نے یہ فیصلہ کیاکہ دار السلطنت کوکلکتہ سے دہلی منتقل کردیا جائے۔انگریز ماہر تعمیرات سرایڈون لیوٹنس (1869-1944)نے نئے دارالسلطنت کا نقشہ بنایا۔1913میں پرانی دہلی کے جنوب میں رائے سینا پہاڑیوں کے علاقہ میں تعمیرات شروع ہوئیں۔بالآخروہ عالی شان آبادی وجود میں آئی جس کو نئی دہلی کہاجاتا ہے۔

یہ زمانہ وہ تھا جب کہ ساری دنیا میں ایک نئی سیاسی لہر آچکی تھی۔یہ قومی تحریکوں کی لہر تھی۔سیاسی افکار کی دنیامیں نئے انقلابات نے نو آبادیاتی نظام کا جو از ختم کردیا تھا۔ ہندستان میںآزادی کی تحریک تیزی سے جڑپکڑرہی تھی۔بظاہر یہ بات کھل چکی تھی کہ ہندستان میں برطانیہ کی حکومت اَب زیادہ دیر تک باقی رہنے والی نہیں۔

نئی دہلی کی تعمیر کے بعد اسی زمانہ میں فرانس کے ایک لیڈر نے ہندستان کا دورہ کیا۔جب وہ نئی دہلی آئے اوریہاں نیا تعمیر شدہ عظیم دار السلطنت دیکھا تو انھوں نے اس پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا —’’انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی ہے ،صرف اس لیے کہ وہ اسے چھوڑدیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

What a magnificent world they built to leave

یہ کہانی صرف برطانیہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کی کہانی ہے۔یہاں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ آرزئووں اورتمنائوں کو لیے ہوئے دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ اپنی تمام قوتوں کا استعمال کرکے وہ اپنا ایک ’’شاندار گھر‘‘بناتا ہے۔مگر عین اس وقت جب کہ اس کی آرزئووں کاگھر بن کر مکمل ہوتا ہے،اچانک موت کا فرشتہ آجاتا ہے اور اس کو اس کی محنتوں سے بنائی ہوئی دنیا سے جدا کر کے وہاں پہنچا دیتا ہے جس کو آرتھر کوئسلر(1905-1983) نے نامعلوم ملک (Unknown Country)کا نام دیاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

زندگی کی کہانی اگر اتنی ہی ہو تو وہ کیسی عجیب دردناک کہانی ہے۔مگر جس طرح دنیا کی ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔اسی طرح موجودہ دنیا کابھی ایک تکمیلی جوڑا ہے،اوروہ جوڑاآخرت ہے۔جو شخص آخرت کو بھولا ہواہے اس کی زندگی یقیناً صرف ایک المیہ ہے۔مگر جو شخص امکان آخرت سے فائدہ اٹھائے اورموجودہ دنیا کے مواقع کو اگلی دنیا کی تعمیر میں صرف کرے اِس کے لیے موجودہ دنیا ایک نئی زیادہ کامیاب زندگی کا قیمتی زینہ بن جائے گی۔

آخرت کے بغیر انسا ن کی زندگی صرف ایک المیہ ہے۔مگر آخرت کو ملانے کے بعد وہ ایک طربیہ میں بدل جاتی ہے۔

کہاں سے کہاںتک

5رمضان1404 ھ کو میںدہلی کے ایک جنازہ میں شریک ہوا موت کے بعد مرنے والے شخص کو نہلایا گیا اس کو نئے کپڑے کا کفن پہنایا گیا لوگوں نے کھڑے ہو کر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور پھر میت کو اپنے کا ندھوں پر لے کر چلے یہاں تک کہ قبر میں احترام کیساتھ لٹا کر اس کو ڈھک دیا گیا

میں نے سوچاکہ ایک مردہ جسم کے ساتھ اتنے زیادہ اہتمام کا حکم اسلام نے کیوں دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم مٹی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، مگر اس کو عام مٹی کی طرح اِدھر اُدھر پھینک نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ انسان کا سا سلوک کیا جاتاہے ’’مٹی ‘‘کے ساتھ’’ انسان ‘‘جیسا معاملہ کرنے کا حکم مرنے والے کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ زندہ رہنے والے کے اعتبار سے ہے۔ مردہ انسان کے ذریعہ زندہ انسانوں کو سبق دیا جاتا ہے کہ بالاآخر ان کا انجام کیاہونے والا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ زندہ لوگ مرنے والے کے روپ میں خود اپنے آپ کو دیکھیں وہ موت سے پہلے موت کا تجربہ کریں۔

یہ تجربہ اس طرح بھی ممکن تھا کہ ایک مقررہ دن کو کاغذ کا انسانی پتلا بنایا جائے اور اس کے ساتھ تمام رسوم ادا کرکے اس کو مٹی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے اسلام نے اس تجربہ کو حقیقی بنانے کے لیے حقیقی انسان کے مردہ جسم کو استعمال کیا۔

ایک انسان ہماری طرح ایک زندہ انسان تھا۔ چلتے چلتے اس کے قدم جواب دے گئے بولتے بولتے اس کی زبان بند ہو گئی۔ دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں بے نور ہو گئیں لوگوں کے نزدیک اس کی جو قیمت تھی وہ سب اچانک ختم ہو گئی۔ اب خدا اس واقعہ کو استعما ل کرتا ہے تا کہ اپنے جیسے ایک انسان کے ذریعہ لوگوں کو زندگی کا سبق یاد دلادے۔

لوگ اس کو اہتمام کے ساتھ تیار کرتے ہیں اور پھر لے کر چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخری مرحلہ میں پہنچ کر جب اس کو قبر کے گڑھے میں لٹا دیا جاتا ہے توہر آدمی یہ کرتا ہے کہ تین بار اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر قبر میںڈالتا ہے۔ پہلی بار مٹی ڈالتے ہوئے کہتا ہے:مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا)جب وہ دوسری بارمٹی ڈالتاہے تو کہتا ہےوَفِيهَا نُعِيدُكُمْ (اسی میں ہم تم کو دوبارہ ڈالیں گے ) اور پھر تیسری بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے:وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى(20:55) ، اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ تین بار مٹی ڈالنا اس پورے قصہ کا کلائمکس(climax) ہے۔ اس طرح ایک زندہ واقعہ کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ انسان کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا۔

قریب مگر دور

ایر انڈیا کا ایک جہاز (Boeing 747) 23 جون 1985 کو مانٹریل سے اڑا ۔اس پر جہاز کے عملہ سمیت 329 آدمی سوار تھے وہ مانٹریل سے لندن ہوتا ہوا دہلی آنے والا تھا۔ دہلی کے پالم ایر پورٹ پر حسب معمول بہت سے لوگ اپنے آنے والے عزیزوں اور مہمانوں کا انتظار کر رہے تھے۔ آنے والے مسافروں میں کچھ وہ لوگ تھے جو کمائی کر کے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے ۔کچھ وہ لڑکے اورلڑکیاں تھیں جو ہندستان میں شادی کرنے کے لیے آرہی تھیں۔ کچھ لوگ اپنے متعلقین سے ملنے کے لیے اپنے وطن پہنچنے والے تھے۔

اچانک خوشیاں غم میں تبدیل ہو گئیں۔ معلوم ہوا کہ جہاز اٹلانٹک کے اوپر پرواز کر رہا تھا کہ آئر لینڈ کے قریب اس کو حادثہ پیش آگیا اور وہ برباد ہو کر سمندر میں گرپڑا ۔ہوائی اڈہ پر مرنے والے مسافروں کی فہرست آویزاں کر دی گئی۔ تمام لوگ جو ہوائی اڈہ پر انتظار کر رہے تھے وہ فہرست دیکھنے کے لیے متعلقہ بورڈ کی طرف دوڑے۔ اس موقع پر ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں:

In their moment of stunned disbelief, each one thought "this could not be happening to me " But, with merciless equality the death list shattered all their hopes.

ہوش اڑا دینے والی بے یقینی کے اس لمحہ میں ہر ایک یہ سوچ رہا تھا کہ ایسا حادثہ میرے ساتھ پیش نہیں آسکتا، مگر بے رحم مساوات کے ساتھ موت کی فہرست نے ان کی تمام امیدوں کو بکھیر دیا(ہندستان ٹائمس، 24جون 1985)۔فہرست نے بتایا کہ ہوائی جہاز کے329مسافر سب کے سب اچانک حادثہ کا شکار ہوکر ختم ہوچکے ہیں۔ان میں سے کوئی بھی نہیں جو اپنے انتظار کرنے والوں تک پہنچنے والا ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہر روز اس دنیا میں بے شمار آدمی مر رہے ہیں۔یہ واقعہ لوگوں کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔مگر آدمی کا حال یہ ہے کہ جب وہ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ موت صرف دوسروں کے لیے ہے ، اس کے اپنے لیے موت نہیں۔اپنے کو الگ کرنے کی اس نفسیات کا نتیجہ ہے کہ آدمی سبق نہیں لیتا۔وہ موت کے عین قریب ہوکر بھی موت کے پیغام کو نہیں سنتا۔

دنیا کی حقیقت

مسٹر آر این پانڈے (35سال) ہندستانی فوج میں سکنڈ لیفٹیننٹ تھے۔وہ 12نومبر 1983کو جموں توی ایکسپریس پر سوار ہوئے۔ٹرین آگے بڑھی تو انہیںاحساس ہواکہ وہ غلط ٹرین پر سوار ہوگئے ہیں۔انہیںدراصل اتکل ایکسپر یس پر سوار ہونا چاہیے تھا۔جب اوکھلا کا اسٹیشن آیا تو وہ فرسٹ کلاس کا دروازہ کھول کر باہر کو د پڑے۔ٹرین اس وقت پوری رفتا رمیں تھی۔وہ پہیہ کے نیچے آگئے اور اسی وقت کٹ کرمرگئے (ہند ستان ٹائمس، 13نومبر 1983)۔

یہ واقعہ موجودہ دنیا میں انسان کی بے بسی کی ایک تصویر ہے انسان ٹرین بناتا ہے جب وہ اس پر بیٹھتا ہے تو وہ اس کو لے کر دوڑتی ہے اورمنزل پر پہنچا دیتی ہے۔مگر اسی ٹرین کے مقابلہ میں انسان اتنا کمزور ہے کہ اس کے پہیہ کے نیچے آنے کے بعد وہ اس کی زد سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔

ایک کامیاب انسان ہے۔وہ ایک بہت بڑے مکان میں رہتا ہے جو اس کی خوش حال زندگی کی علامت ہے۔اس کے گھر کے سامنے موٹر کا ر کھڑی ہوئی ہے جو اس کی شان میں اضافہ کرتی ہے۔وہ ایک کارخانہ کامالک ہے جو اس کی دولت اور ترقی کا سرچشمہ ہے۔اس کے بے شمار ساتھی ہیں جو اس کی قوت وشوکت کا زندہ ثبوت ہیں۔

یہ وہ چیزیں ہیں جن سے آدمی کی دنیوی ترقی کا اندازہ کیاجاتا ہے۔لیکن اگر یہ تمام چیزیں سمیٹ کر اوپر سے آدمی کے سر پر گرائی جائیں تو وہ اس کی بربادی کا ذریعہ بن جائیں گی۔یہ گویا ایک بہت بڑا ملبہ ہوگا جو آدمی کے اوپر پٹک دیا گیا اوراس کے نیچے دب کر اس کا وجود فنا ہوگیا۔

اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیوی ترقی کی حقیقت کیا ہے۔دنیا کی تما م ترقیاں اسی وقت تک ترقیاں نظر آتی ہیں جب تک وہ فریب کے روپ میں ہوں۔جیسے ہی وہ اپنے اصلی روپ میں آئیں وہ صرف بربادی کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔یہ ترقیاں اپنے آخری انجام کے اعتبار سے کسی کے لیے قبرستان تو بن سکتی ہیں مگر وہ کسی کے لیے کامیابی کا شاندار محل نہیں بن سکتیں۔

لذتیں جنت میں لذت ہیں اوردنیا میں صرف فریب لذت۔انسان کی غلطی یہ ہے کہ جو چیز جنت میں ملنے والی ہے اس کو وہ موجودہ دنیا میں پانا چاہتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ آدمی یہاں بھی محروم رہتاہے اوروہاں بھی۔

بے خبر انسان

آئیوری کوسٹ(Ivory Coast) مغربی افریقہ کا ایک ساحلی ملک ہے۔یہاں بجلی افراط کے ساتھ پائی جاتی ہے۔گھروں اوردکانوں کی جگمگاہٹ کی وجہ سے اس کو افریقہ کا شوکیس کہا جاتا تھا (ٹائمس آف انڈیا 4جنوری1984)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دسمبر 1983میں اچانک وہ ایسا ملک بن گیاجہاں لوگ عالی شان ہوٹلوں میں موم بتی کی روشنی میں کھانا کھائیں اورگھروں اوردفتروں کو بھی موم بتی سے روشن کریں۔آئیوری کوسٹ میں 92 فیصد پن بجلی کا رواج تھا مگر بارش رک جانے کی بنا پر ڈیم سوکھ گئے اور اکثر ٹربائن کا چلنا بند ہو گیا ۔چنانچہ بجلی کی کٹوتی کا یہ عالم ہوا کہ بعض اوقات مسلسل 18گھنٹے تک بجلی غائب رہی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صنعتی پیداوارگھٹ کر 35 فیصد رہ گئی کمپیوٹر الکٹرک ٹائپ رائٹر(electric typewriter)ریفریجریٹر اور اکثر بجلی سے چلنے والی چیزیں بند رہنے لگیں۔

بہت سے بڑے بڑے تاجروں نے اس اندیشہ سے دفتر جاناچھوڑ دیا کہ کہیں وہ لفٹ میں اٹک کر نہ رہ جائیں ایک تاجر نے اپنا حال بتاتے ہوئے نیو یارک ٹائمز کے نمائندہ سے کہا کہ سالہا سال سے میرا یہ حال تھا کہ میں اپنے ائیرکنڈیشنڈ مکان سے ائیر کنڈیشنڈ کار میں اور پھر ائیر کنڈیشنڈ دفتر میں جاتا تھا میں نے کبھی یہ جانا ہی نہیں کہ حقیقۃً آئیوری کوسٹ کتنا زیادہ گرم ہے :

For years, I had gone from my air-conditioned villa to my air-conditioned car to my air-conditioned office. I never realised just how hot it really is here.

افریقہ جیسے گرم ملک میں ائیر کنڈیشنڈ ماحول میں رہنے والا تاجر گویا ایک مصنوعی دنیا میں رہ رہا تھا جب بجلی نے اس کا ساتھ چھوڑدیا اس وقت اس کو معلوم ہوا کہ اصل صورت حال اس کے برعکس تھی جس کو وہ اپنے ذہن میں بطور خود فرض کیے ہوئے تھا۔

یہی حال زیادہ بڑے پیمانے پر تمام انسانوں کا ہے انسان موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کی ملکیت ہے جب انسان کی موت آئے گی اس وقت اچانک اس کو معلوم ہوگا کہ یہ محض فریب تھا۔ اس نے امتحان کی آزادی کو استحقاق کی آزادی سمجھ لیا تھا اس نے خدا کے اثاثہ کو اپنا اثاثہ فرض کر لیا تھا وہ اپنے اعمال کے لیے خدا کے یہاں جواب دہ تھا مگر وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ وہ خواہ کچھ بھی کرے کوئی اس سے پوچھ گچھ کرنے والا نہیں۔

انسان ذمہ دار وجود ہے

دوستو وسکی (1821-1881) مشہور روسی ناول نگار ہے۔ اس کاایک کامیاب ناول ’’جرم و سزا ‘‘ ہے۔ اس ناول کا ہیرو ایک بد مزاج، کریہہ المنظر اور لاولد بوڑھی عورت کو اس لیے قتل کر دیتا ہے کہ اس کی بڑھتی ہوئی بے کار دولت کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے حصول کا ذریعہ بنا سکے۔ جب یہ واقعہ ہوتا ہے تو ناول کے تمام کردار اور خود ناول کا قاری اس کو مجرم قرار دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بڑھیا کی دولت اس کے قاتل کے لیے اتنی ہی مفید تھی جتنا کسی شیر کے لیے ہرن کا گوشت ہوتا ہے، مگر شیر ہرن کو مار کر اس کا خون پی جائے تو کسی کو یہ بات عجیب نہیں معلوم ہوتی اور نہ اس کے لیے کوئی تعزیری قانون بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی۔ مگر اسی قسم کا فعل ایک انسان کرتا ہے تو ساری انسانیت چیخ اٹھتی ہے اور چاہتی ہے کہ قاتل کو اس کے فعل کی پوری سزا دی جائے۔

اس کی وجہ کیا ہے اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار وجود ہے۔ اس کے ہر فعل کو صحیح اور غلط کی ترازو پر تولا جاتا ہے۔ جب کہ جانور اپنے اندر اس قسم کا کوئی اخلاقی شعور نہیں رکھتے۔ ان کے یہاں صرف مفید اور غیر مفید کی تقسیم ہے نہ کہ صحیح اور غیر صحیح کی۔ انسان ایک اخلاقی حیوان ہے جب کہ حیوان صرف حیوان۔

انسان اور حیوان کا یہ فرق بتاتا ہے کہ انسان اور حیوان کا معاملہ یکساں نہیں۔ حیوان کو اس کے اعمال کے لیے کسی اخلاقی عدالت میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ جب حیوان کو اعمال کے اخلاقی پہلوئوں کا شعور ہی نہیں تو اس کو اخلاق کی عدالت میں مجرم کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ مگر انسان کا معاملہ سرا سر مختلف ہے۔ انسان کے اندر معاملات کے بارے میں اچھے اور برے کا احساس ہونا ہی یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان اپنے اعمال کے لیے اخلاق کے سامنے جواب دہ ہے۔ جس فعل پر آدمی کا اپنا اندرونی ضمیر اس کو مجرم ٹھہرارہا ہو اس کے لیے باہر کی عدالت میں مجرم ٹھہرانا عین فطری ہے۔

تا ہم موجودہ دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی ایسی عدالت نہیں جو آدمی کا اخلاقی احتساب کر سکے یہاں آدمی اپنی مجرمانہ کا رروائی کو خوبصورت الفاظ میں چھپا سکتا ہے وہ قانونی نکتے نکال کر اپنے کو عدالت کی گرفت سے بچا لیتا ہے وہ زور قوت کے ذریعہ اپنے خلاف تمام زبانوں کو بند کر دیتا ہے یہ صورت حال بتا تی ہے کہ انسان کا اخلاقی احتساب کرنے والی عدالت دنیا کے موجودہ حالات میں قائم نہیں کی جا سکتی اس کے لیے ایک اور دنیا درکار ہے جہاں وہ تمام مواقع کا مل صورت میں جمع ہوں جو اس پیچیدہ کا م کے لیے ضروری ہیں۔

انسان کا المیہ

خدا نے ایک دنیا بنائی ۔بے حد حسین اور انتہائی لذیزدنیا۔ خدا نے اس دنیا میں آدمی کے لیے وہ سب کچھ جمع کر دیا جس کو وہ چاہتا ہے۔ اس کے بعد خدا نے اس پر کیف دنیا میں انسان کو بسایا اور لکھ دیا کہ — انسان اس دنیا کو صرف دیکھے گا وہ اس کو پا نہ سکے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دنیا کا سکھ اور اس کی لذتیں آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا کے سکھ اور اس کی لذتیں آدمی کے لیے نا قابل حصول ہیں۔ ایک شخص جس کو دنیا ابھی حاصل نہ ہوئی ہو وہ اپنے کو جتنا محروم سمجھتا ہے اتنا ہی وہ شخص بھی اپنے کو محروم پاتا ہے جس کو دنیا اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ حاصل ہو گئی ہو۔

بمبئی کا ایک فلم پروڈیوسر ہے گل آنند۔ اس کی شادی ایک خوبصورت عورت سے ہوئی جس کا نام شوبھا تھا۔ بظاہر اس جوڑے کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کی کوئی شحص تمنا کر سکتا ہے۔ بمبئی میں ان کے پاس کئی شاندار مکانات تھے، جہاں وہ خوشیوں کی جنت میں رہنے لگے۔مگر کچھ دنوں کے بعد انہیںایک کمی کا احساس ہونے لگا۔ وہ دو ہونے کے باوجود ابھی تک اولاد سے محروم ہیں۔ اس احساس نے دونوں کے درمیان ایک خاموش دوری پیدا کرنی شروع کی۔

بالآخر انھوں نے ایک مقامی یتیم خانہ سے ایک چھوٹا بچہ اور ایک چھوٹی بچی حاصل کی۔ وہ بیٹے اور بیٹی کے طور پر ان کی پرورش کر نے لگے۔ تا ہم یہ مصنوعی تدبیر ان کی محرومی کے احساس کو ختم نہ کر سکی۔ دوری یہاں تک بڑھی کہ دونوں الگ مکانوں میں رہنے لگے۔

شوبھا کے ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ اس کو ذہنی اختلال ہے۔ دس سال تک وہ اس مفروضہ کے تحت اس کا علاج کرتے رہے، مگر بے سود۔ بالآخر8فروری1983 کو یہ المناک کہانی ختم ہوگئی۔ شوبھا بمبئی میں پیڈار وڈ کے ’’نیلم بار ‘‘میں سولہویں منزل پر ایک اپارٹمنٹ میں رہتی تھی۔ اس نے 8 فروری کو اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ پہلے اپنے بچوں کو کھڑکی سے باہر پھینکا اور اس کے بعد خود بھی چھلانگ لگا دی۔ تینو ں نیچے گرتے ہی مر گئے۔ انگریزی اخبار کی رپورٹنگ کے مطابق شوبھا کے شوہر (گل آنند ) نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا :

unverifiedAttribution could not be verified automatically

I don't know the exact medical terms for my wife's mental disorders.

اپنی بیوی کے ذہنی اختلال کو بیان کرنے کے لیے متعین طبی اصطلاح مجھے معلوم نہیں (ٹائمس انڈیا، بمبئی، 9فروری1983)۔

چالیس سال بعد

31 جولائی 1984 کو دہلی فیض روڈ کے پاس ایک لاش ملی۔ اس کی عمر تقریباً ساٹھ سال تھی اور اس کو بری طرح قتل کر کے ایک پارک میں ڈال دیا گیا تھا۔ پولیس نے کافی کوشش کی اور اشتہارات دیے، مگر مقتول کی شناخت ممکن نہ ہو سکی۔ مقتول کے جسم پر جو قمیض تھی اس پر ’’آزاد ٹیلرس ‘‘ کا لیبل لگا ہوا تھا ۔مزید تحقیق سے معلوم ہواکہ اس پر کوڈ نمبر52بھی درج ہے۔ کافی تلاش و جستجو کے بعد آخر کا رپولیس ساون پارک کی ایک چھوٹی سی دکان تک پہنچی۔ اس دکان کے مالک صلاح الدین نے بڑی مشکل سے ’’پانڈے ‘‘نام کے ایک شخص کی نشاندہی کی۔ اس کے بعد پولیس قریب کے ’’کمال کلاتھ ہائو س‘‘ تک پہنچی جس نے بتایا کہ مذکورہ شخص کا پورا نام دیو نرائن پانڈے تھا۔ اس کا وطن فیض آباد تھا اور کام کے لیے وہ دہلی میں رہتا تھا۔

دیونرائن پانڈے موزا ئک فرش کی پالش(mosaic floor polish) کا کام کرتا تھا۔ پولس کی یہ تحقیق جاری رہی ۔بالاآخر معلوم ہواکہ مذکورہ شخص نے چالیس سال پہلے ایک شخص کو کسی ذاتی رنجش کی بنا پر مار ڈالا تھا۔ اس مقتول کا بھتیجا مہندر کمار چودھری( 23 سال) بچپن سے اپنے گھر میں سنتا آیا تھا کہ پانڈے نے اس کے چچا کو قتل کیا ہے۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکی ہوئی تھی۔ چنانچہ اس نے دیو نرائن پانڈے سے دوستی کی اور ایک دن موقع پا کر اس کا قتل کر دیا۔ قاتل اب پولیس کی حراست میں ہے اور اس نے جرم کا اقبال کر لیا ہے (ہندستان ٹائمس، 14ستمبر 1984 ء) ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مہند ر کمار چودھری کا خاندان چالیس سال بعد بھی اپنے قاتل کو نہ بھلا سکا۔ اس کے انتقام کی آگ اس وقت تک ٹھنڈی نہ ہوئی جب تک اس نے مارنے والے کو مار نہ ڈالا۔

ہر ماحول میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی سے شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا حل بدلہ لینا نہیں بلکہ بھلا دینا ہے۔ شکایت کو بھلا نا مسئلہ کو گھٹاتا ہے اور شکایت کا بدلہ لینا مسئلہ کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

مگر یہ کوئی آسان معاملہ نہیں۔ آدمی ایک کھوئی ہوئی چیز کو اسی وقت بھلا سکتا ہے جب کہ وہ اس سے بڑی چیز اپنے لیے پا لے۔ محرومی کو بھلانے کے لیے ہمیشہ کوئی بڑی چیز درکار ہوتی ہے اوریہ ’’بڑی چیز ‘‘ صرف آخرت ہے۔ آخرت کا عقیدہ آدمی کو وہ سب سے بڑی چیز دے دیتا ہے جس کے مقابلہ میں ہر چیز کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کو پانے والا ہر دوسری چیز کا کھونا گوارا کر لیتا ہے ۔

31دن کے لیے

جنوری 1983 میں آندھرا پر دیش میں تلگو دیسم پارٹی بر سر اقتدار آئی تاہم16 اگست 1984کو گورنر مسٹر رام لال نے تلگو دیسم وزارت کو بر خاست کر دیا اور مسٹر نریندر بھاسکر رائو سے کہا کہ وہ کانگریس سے مل کر وزارت بنائیں۔ گورنر نے از روئے دستور یہ ہدایت کی کہ وہ 30دن کے اندر یہ ثابت کریں کہ 293 رکنی اسمبلی میں ان کی اکثریت ہے۔

اس کے بعدممبروں کو توڑنے کی کوشش شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ایک ممبر کی قیمت 20 لاکھ روپے تک لگا دی گئی (ہندستان ٹائمس، 13 ستمبر 1984 )۔ مگر معزول وزیر اعلیٰ مسٹر این ٹی رامارائو نے وزارت کی برخاستگی کے بعد اپنی پارٹی کے ممبران اسمبلی کو اپنے راما کرشنا اسٹو ڈیوز میں بند کر دیا۔ 30دن گزر گئے اور مسٹر بھا سکر رائو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے قابل نہ ہو سکے۔ ان کی وزارت غیر قانونی ہو گئی۔ چنانچہ نئے گورنر شنکر دیال شرما نے 16 ستمبر 1984 کو نیا حکم جاری کیا جس کے مطابق مسٹر بھا سکررائو کو وزارت چھوڑ دینی پڑی اور مسٹر این ٹی راما رائو دوبارہ حکومت کے ایوان میں داخل ہو گئے ۔

اس سلسلے میں ٹائمس آف انڈیا (19 ستمبر 1984 ) نے ایک خصوصی رپورٹ میں دکھایا ہے کہ مسٹر بھا سکر رائو نے اپنی مختصر وزارت کے دوران کیا کیا۔ انھوں نے حکومت کا ایک سو کرور روپیہ سے زیادہ کا فنڈ ریلیز کر دیا انھوں نے اسمبلی کے ممبروں کو کھلی پیشکش کردی کہ پارٹی چھوڑ کر آئو اور وزیر بن جاو۔

other sourceWords of another person or source

Defect and be a minister

اس قسم کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے اخبار مذکورہ کا نامہ نگار لکھتاہے کہ مسٹر بھاسکر رائو 31 دن تک وزیر اعلیٰ رہے۔ اس غیر یقینی مدت میں انھوں نے اس طرح عمل کیا گویا کہ وہ اس عہدہ پر ایک سو سال تک رہنے کے لیے آئے تھے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

During his 31-day uncertain career as chief minister, Mr. Bhaskara Rao behaved and acted as if he had come to stay for a hundred year.

یہی ہر آدمی کا حال ہے موجودہ دنیا میں ہر آدمی صرف ’’30 دن ‘‘ کے لیے آیا ہے مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ ’’ سو سال ‘‘ سے پہلے یہاں سے جانے والا نہیں۔ کیسا عجیب ہے موجودہ دنیا میں انسان کا آنا اور کیسا عجیب ہے اس کا یہاں سے جانا۔

سب سے بڑی خبر

ایک نوجوان دہلی میں سرکاری ملازم ہیں۔ان سے میری پرانی ملاقات ہے۔ایک روز میں کسی کام سے باہر گیا ہواتھا ،رات کوواپس آیا تو گھر والوں نے بتایا کہ آج مذکورہ نوجوان کئی بارآپ سے ملنے کے لیے آچکے ہیں۔ابھی باتیں ہورہی تھیں کہ گھنٹی بجی۔دروازہ کھولا گیا تو مذکورہ نوجوان تیسری بار مجھ سے ملنے کے لیے دروازے پر موجود تھے۔مجھ کو دیکھتے ہی وہ مسکرا کر بولے ’’آج میںآپ کو ایک خوش خبری دینے آیا ہوں‘‘۔ اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ میرا پروموشن ہوگیا ہے اوراب میری تنخواہ میں سوروپیہ ماہوار کا اضافہ ہوجائے گا۔

میں نے سوچا کہ آدمی کے پاس اگر کوئی اہم خبر ہوتو وہ اس کو چھپانے پر قادر نہیں ہوسکتا۔اہم خبر کو آدمی بتا کر رہتا ہے۔بلکہ وہ ڈھونڈتا ہے کہ کوئی ملے تاکہ وہ اس کو بتا سکے۔کسی نے نئی کار خریدی ہویا نیا مکان بنایا ہو تو اس کا چر چاکیے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔کسی مجلس میں اگر اس کی کاریااس کا مکان موضو ع گفتگو نہ ہو تو وہ کسی نہ کسی طرح موضوع کو بدل کر ایسے رخ پر لاتا ہے کہ وہ اپنی نئی کار اورنئے مکان کی خبر لوگوں کو دے سکے۔یہ انسانی فطرت ہے۔کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی اہم خبر کو دوسروں کو سنانے کے لیے بے قرار نہ رہتا ہو۔

آج بے شمار آوازیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی پیغام ہے جس کو وہ دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔مگر سنانے والوں کی بھیڑ میں کوئی آخرت کی خبر سنانے والا نہیں۔کوئی جنت اورجہنم سے آگاہ کرنے والا نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بولنے اورلکھنے والوں کے پاس آخرت کی خبرہی نہیں۔ہر ایک کے پاس دنیا کی کوئی نہ کوئی خبرہے۔آخرت کی خبر کسی کے پاس موجو د ہی نہیں۔اگرکسی کے پاس آخرت کی خبر ہوتی تو وہ اس کو سنائے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔بلکہ آخرت کی غیر معمولی اہمیت کی بنا پر اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے لیے کوئی دوسری خبر ،خبر نہ ہوتی جس کو سنانے کے لیے وہ لوگوں کے سامنے کھڑا ہو۔وہ اپنی ساری طاقت اورسارا وقت بس آخرت کی خبر سنانے میں لگا دیتا، جہنم سے ڈرانے اورجنت کی خوش خبری دینے کے سواکوئی کام اس کو کام نظر نہ آتا۔

اگر یہ معلوم ہوکہ اگلے چند لمحہ کے بعد بھونچال آنے والا ہے یا آتش فشاں پھٹنے والا ہے تو ہر آدمی اسی کا تذکرہ کرنے میں مشغول ہوگا۔ہردوسری بات کو بھول کر لوگ آنے والے ہولناک لمحہ پر بات کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔مگر تقریر کرنے والے تقریریں کر رہے ہیں اورمضامین لکھ رہے ہیں مگر یہ سب چیزیں قیامت کے تذکرہ سے اس طرح خالی ہوتی ہیں جیسے کہ لوگوں کو آنے والے ہولناک دن کی خبر ہی نہیں۔

آدمی اکثر اپنے گردوپیش کے مسائل میں الجھا رہتا ہے ،ذاتی یا قومی قسم کے معاشی اورسیاسی اورسماجی واقعات جن کا وہ اپنے آس پاس تجربہ کرتا ہے وہ انہیںکو واقعہ سمجھتا ہے اورانہیںکے چرچے میں مشغول رہتا ہے۔مگر سب سے بڑا مسئلہ قیامت کامسئلہ ہے۔ قیامت ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے، مگر وہ ہونے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے ،وہ تمام واقعات سے زیادہ اس قابل ہے کہ اس کاچرچا کیا جائے۔

کل کو جانیے

ضیاء الرحمٰن (1936-1981)سابق صدر بنگلہ دیش ڈھاکہ سے چاٹگام گئے۔وہاں وہ 30مئی 1981کو سرکاری ریسٹ ہائوس میں آرام کررہے تھے کہ رات کے وقت ان پر حملہ کر کے انہیںہلاک کردیا گیا۔ان کو ہلاک کرنے والا بنگلہ دیش کا ایک فوجی افسر میجر جنرل منظور تھا۔میجر جنرل منظورنے یہ گمان کیاتھا کہ صدر ضیاء الرحمٰن کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت پر قبضہ کرلیں گے۔مگر ان کا اندازہ غلط نکلا فوج کے ایک دستہ کے سوا عام فوجیوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔صرف دو دن بعد2جون 1981کو مخالف فوجیوں نے انہیںگولی مارکر ہلاک کردیا۔

جنرل منظور کا جو انجام ہواوہی اس دنیا میں ہر آدمی کا انجام ہورہا ہے۔کسی کابظاہر فوج کی گولی کے ذریعہ ہوتا ہے اورکوئی فرشتوں کے ذریعہ موت کے انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے۔مگر کوئی اس سے سبق نہیں لیتا کوئی ’’جنرل منظور ‘‘یہ نہیں سوچتا کہ اپنے حریف کو قتل کرنے کے اگلے ہی دن وہ بھی قتل کردیا جائے گا۔دوسرے کو موت کے گڑھے میں گرانے کے بعد وہ خود بھی لازمی طور پر موت کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے گا۔

یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔اس دنیا میں ہر آدمی کو کسی نہ کسی دائرہ میں اقتدار دیا جاتا ہے۔کسی کے اختیار کا دائرہ بڑاہے اورکسی کا دائرہ چھوٹا۔مگر عجیب بات ہے کہ ہر آدمی اپنے دائرہ میں وہی بن جاتا ہے جو دوسرا اپنے دائرہ میں بنا ہوا ہے۔یہاں ہر شخص ’’جنرل منظور‘‘ ہے۔ہر شخص دوسرے کی کاٹ میں لگا ہوا ہے۔ہر شخص دوسرے کی نفی پر اپنا اثبات کرنا چاہتا ہے۔ہرشخص اپنی حیثیت کا غلط اندازہ کرکے سمجھتا ہے کہ اگر اس نے دوسرے کو اس کے مقام سے ہٹا دیا تو اس کا خالی مقام اسے مل جائے گا۔وہ بھول جاتا ہے کہ جو چیز اس کاانتظار کررہی ہے وہ کسی کا خالی مقام نہیں بلکہ خود اس کی اپنی قبر ہے۔

ہر شخص جو آج اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے وہ کل اپنے کو ناکام دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔یہ واقعہ ہر روز ہورہا ہے۔مگر کوئی بھی شخص آج کے بعد آنے والے کل کو نہیں دیکھتا۔ہر شخص اپنے ’’آج ‘‘کو جاننے کاماہر ہے ،کسی کو اپنے ’’کل ‘‘کی خبر نہیں۔

اپنے آج کو جاننے والو،اپنے کل کو جانو۔کیونکہ بالآخر تم جس سے دو چار ہونے والے ہووہ تمھارا کل ہے نہ کہ تمھارا آج۔

آنے والا طوفان

11اگست 1979کو موروی (گجرات)میں اچانک ایک سیلاب آیا جس نے پوری بستی کو تہس نہس کردیا۔بستی کے کنارے ایک بڑا بند تھا۔غیر معمولی بارش سے اس کا پانی بہت اونچا ہوگیا۔یہاں تک کہ اس نے بند کو توڑ ڈالا۔ایک مشاہدکے الفاظ میں ’’تقریباً 20فٹ اونچی پانی کی دیوار ‘‘اتنی تیزی کے ساتھ بستی کے اندر داخل ہوئی کہ کوئی اس سے بچ نہ سکتا تھا۔چند گھنٹوںکے اندرپانی کا یہ طوفان بستی کی تمام چیزوں کو برباد کرکے نکل گیا۔اندازہ ہے کہ تقریباً 25ہزار آدمی اس اچانک سیلاب میں مرگئے۔جب کی بستی کی کل آبادی تقریباً 40ہزار تھی بربادی کااندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ دیگر چندوں کے علاوہ صرف مرکزی حکومت نے فوری امداد کے طور پر پانچ کروڑروپے حکومت گجرات کودیے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک انگریزی اخبار کے نامہ نگار ارن کمار نے جو چشم دیدرپورٹ (ہندستان ٹائمس 19اگست 1979)شائع کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ بچے ہیں ان میں سے ہرشخص کے پاس بتانے کے لیے ایک پُر درد کہانی ہے۔ان کو جو صدمہ اورتکلیف پہنچی ہے اس کے احساس سے وہ ابھی تک نکل نہیں سکے ہیں ،کچھ کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی گویائی کھودی ہے۔وہ بالکل سراسیمہ اورہکا بکا دکھائی دیتے ہیں :

other sourceWords of another person or source

Some have lost their speech and look absolutely dazed and blank.

ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے ایک تباہ حال زمین دارکو اس وقت حیرت ناک خوشی ہوئی جب سرکاری ذمے داروں نے اس کو 18ہزار روپے نقد 225گرام سونے کے زیورات یہ کہہ کر دئیے کہ یہ تمھارے گھر کے اندر سے دستیاب ہوئے ہیں (ہندستان ٹائمس 20اگست 1979)۔

other sourceWords of another person or source

اس طرح کے واقعات جو زمین پر روزانہ ہوتے رہتے ہیں ،وہ اس لیے ہوتے ہیں تاکہ آدمی آخرت کے دن کو یاد کرے۔آخرت کا عظیم تر سیلاب بھی بالکل اچانک آئے گا۔بہت سے لوگ اس دن اس طرح بربادہوں گے کہ ان کے الفاظ کے ذخیرے تک ختم ہوجائیں گے جو دنیا میں ہر آدمی کو نہایت وافر مقدار میں حاصل ہیں۔ان کی چلتی ہوئی زبانیں بند ہوجائیں گی۔وہ سراسیمہ نظروں سے اپنی ہولناک بربادی کو دیکھیں گے اور کچھ بول نہ سکیں گے۔دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو یہ خوش خبری دی جائے گی کہ ہلاکت اوربربادی کے عمومی طوفان نے تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا۔تمھارا بہترین اثاثہ اللہ کے مزید انعام کے ساتھ آج تمھارے حوالے کیا جائے گا۔ایک ہی سیلاب کچھ لوگوں کو جہنم میں دھکیل دے گااور کچھ لوگوں کے لیے وہ جنت کی ابدی خوشیوں میں داخلہ کا دن بن جائے گا۔’’سیلاب ‘‘سے پہلے آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ہر ظالمانہ روش کو درست ثابت کرنے کے لیے شاندارالفاظ پالیتا ہے۔مگر ’’سیلاب‘‘ کی ہولناکی کو دیکھتے ہی اس کا سارا زورختم ہوجائے گا اورایسا معلوم ہوگا گویا اس کے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں جن سے وہ اپنی روش کی صفائی پیش کرسکے۔

اس وقت کیا ہو گا

بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہاکہ مجھے قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سنائو۔ میں نے کہا، اے خدا کے رسول میں آپ کو قرآن سنائوں اور وہ آپ کے اوپر اتر ا ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے پسند ہے کہ میں قرآن کو اپنے سوا دوسرے سے سنوں۔ میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی، یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا:فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (4:41)۔ یعنی،پھرکیا ہو گا جب ہم ہر قوم سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور ان لوگوں پر تم کو گواہ بنا کر لائیں گے ۔آپ نے فرمایا بس کرو۔ میں نے دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھےفَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر4582)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

وہ وقت کیسا عجیب ہو گا جب خدا کی عدالت قائم ہو گی۔ کسی کے لیے ڈھٹائی اور انکار کا موقع نہ ہو گا۔ وہی شخص جس کو دنیا میں لوگوں نے بے قیمت سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا اسی کو خدا کی طرف سے اس خاص بندہ کی حیثیت سے سامنے لایا جائے گا جس کو خدا نے اپنی طرف سے لوگوں کو آنے والے دن سے باخبر کرنے کے لیے چنا تھا۔ جس کو لوگوں نے اپنے درمیان سب سے کمزور آدمی سمجھ لیا تھا وہی اس وقت خدا کے حکم سے وہ شخص ہو گا جس کی گواہی پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کا فیصلہ کیا جائے۔

ان لوگوں کا اس وقت کیا حال ہو گا جو دنیا میں بہت بولنے والے تھے مگر وہاں اپنے آپ کو گونگا پائیں گے۔ جو دنیا میں عزت اور طاقت والے سمجھے جاتے تھے وہاں اپنے آپ کو بالکل بے زور دیکھنے پر مجبور ہو ں گے۔ جب ان کا ظاہری پردہ اتارا جائے گا اور لوگ دیکھیں گے کہ دین کا لبادہ پہننے والے دین سے بالکل خالی تھے۔ جب کتنی سفیدیاں کالی نظر آئیں گی اور کتنی رونقیں اتنی قبیح ہو جائیں گی کہ لوگ اس کی طرف نظر کرنے سے بھی گھبرائیں گے۔

موجودہ دنیا میں لوگ مصنوعی غلافوں میں چھپے ہوئے ہیں کسی کے لیے خوبصورت الفاظ اس کی اندرونی حالت کا پردہ بنے ہوئے ہیں اور کسی کے لیے اس کی مادی رونقیں۔ مگر آخر ت میں لوگوں کے الفاظ بھی ان سے چھن جائیں گے اور ان کی مادی رونقیں بھی۔ اس وقت ہر آمی اپنی اصلی صورت میں سامنے آجائے گا کیسا سخت ہو گا وہ دن۔ اگر آج لوگوں کو اس کا اندازہ ہو جائے تو ان کے الفاظ کی شدت ختم ہو جائے ، کسی چیز میں ان کے لیے لذت باقی نہ رہے دنیا کی عزت بھی ان کو اتنی ہی بے معنی معلوم ہو جتنا دنیا کی بے عزتی۔

نامعلوم مستقبل

آدمی اس دنیا میں معصوم کلی کی طرح پیدا ہو تاہے۔ اس کے والدین امنگوں اور حوصلوں کے ساتھ اس کو پالتے ہیں۔ وہ بڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی دنیا میں اپنی زندگی کی جدوجہد شروع کرتا ہے جہاں اس کے لیے تلخ تجربات اور نا خوشگوار یادوں کے سوا اور کوئی چیز موجودہ نہیں۔

انسان آرزئوں کے محل بناتا ہے، صرف اس لیے کہ سنگین حقائق اس کی نفی کر کے اس کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیں وہ حوصلوں کی دنیا آباد کرتا ہے۔ مگر اس کے حوصلے صرف اس کے دماغ میں رہ جاتے ہیں۔ وہ خارجی دنیا میں واقعہ نہیں بنتے۔ وہ امیدیں قائم کرتا ہے، مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی امیدیں فرضی سپنے کے سوا اور کچھ نہ تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ایک نازک شیشہ ہے جو صرف اس لیے دنیا میںآتی ہے کہ حالات کی چٹان سے ٹکرا کر چور چور ہو جائے۔

آدمی موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز سنہری آرزئوں کے ساتھ کرتا ہے۔ مگر بالآخر جو چیز اس کے حصہ میں آتی ہے وہ صرف آرزئوں کا ایک قبرستان ہے جو اس کے سینے میں دفن ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیسی کیسی امیدیں ،کیسی کیسی تمنائیں اور کیسے کیسے خواب ہو تے ہیں جن کی وہ اپنی روح کے سب سے نازک گوشہ میں پرورش کرتا ہے،مگر سب کا سب نا تمام رہتاہے ۔وہ حسرتوں کا قبرستان بنا ہوا زندگی کے دن پورے کرتا ہے۔یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے جب کہ وہ ایک نامعلوم مستقبل کی طرف دھکیل دیا جائے۔

انسان کا ماضی امیدوں اور تمنائوں کا ماضی ہے اس کا حال نا کامیوں اور حسرتوں کا بہت بڑا مزار ہے اور اس کا مستقبل ایک نا معلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ آغاز اور کیسا عجیب ہے اس کا انجام۔

خدا نے ایسا کیوں کیا۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ آدمی زندگی کے بارے میں سنجیدہ ہو ۔وہ زندگی میں کھو جانے کے بجائے زندگی کے آغاز و انجام کے بارے میں سوچے۔ جو شخص سنجیدگی کے ساتھ اس معاملہ میں سوچے گا وہ اس کامل حکمت کو پالے گا جس کی طرف یہ ناقص دنیا ہر آن اشارہ کر رہی ہے۔

الٹا رُخ

ایک مولوی صورت آدمی ایکسپریس ٹرین کے فرسٹ کلاس میں داخل ہوا ۔اس کے سوا کیبن میں تین اور مسافر تھے اور تینوں پورے معنوں میں ’’ مسٹر ‘‘ تھے۔ مذکورہ مسافر کے سادہ لباس اور اس کے چہرے کی شرعی داڑھی نے اس کو اس ماحول میں اجنبی بنا دیا۔

کئی اسٹیشن گزر گئے۔ تینوں مسٹر آپس میں باتیں کرتے رہے مگر کسی نے مولوی کی طرف رخ نہیں کیا۔ مولوی شاید ان کے نزدیک اس قابل نہ تھا کہ اس سے بات کی جائے۔ آخر مولوی نے یہ کیا کہ اگلے اسٹیشن پر ایک انگریزی اخبار خریدا اور اس کو ہاتھ میں لے کر الٹی طرف سے دیکھنے لگا۔ مسٹر صاحبان یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑے۔ ایک شخص نے دوسرے سے انگریزی میں کہا۔ اس مولوی کو دیکھو الٹی طرف سے اخبار پڑھ رہا ہے۔ دوسرا بولا یہ شخص جب انگریزی نہیں جانتا تو اس کو خواہ مخواہ انگریزی اخبار خریدنے کی کیا ضرورت تھی۔

مسٹر صاحبان کو یقین تھا کہ مولوی ان کی گفتگو کو سمجھ نہیں رہا ہے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ مولوی ان سے زیادہ انگریزی جانتا ہے۔ اس کے بعد مولوی ان کی طرف مخاطب ہوا اور انگریزی زبان میں مسلسل بولنا شروع کیا۔ اس نے انگریزی میں کہا کیا یہ کوئی قانونی جرم ہے کہ اخبار کو الٹی طرف سے پکڑا جائے۔ آخر آپ نے کیسے سمجھ لیا کہ میں انگریزی زبان نہیں جانتا۔ اس کے بعد اس نے گفتگو کو دوسری طرف موڑ دیا۔ اس نے کہا:ایک اخبار کو الٹی طرف سے پکڑنا آپ کو اتنا عجیب معلوم ہوا مگر معاف کیجیے آپ اور آپ جیسے بے شمار لوگ پوری زندگی کو الٹی طرف سے پکڑے ہوئے ہیں۔

زندگی کو غیر مادی مقصد کی طرف سے پکڑنا چاہیے اور لوگ اس کو مادی مقاصد کی طرف سے پکڑے ہوئے ہیں۔ اس کو روح کی طرف سے پکڑنا چاہیے اور لوگ اس کو جسم کی طرف سے پکڑے ہوئے ہیں۔ زندگی کو دیکھنے کا صحیح رخ یہ ہے کہ اس کو آخرت کی طرف سے دیکھا جائے۔ مگر لوگ اس کو دنیاکی طرف سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا سب سے اہم مسئلہ موت ہے، مگر تمام لوگ زندگی کو سب سے اہم مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ خدا کی نظر سے انسان کو دیکھا جائے، مگر آج سارے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ انسان کی نظر سے خدا کو دیکھ رہے ہیں۔

اخبار کا الٹا رخ ہر ایک کو دکھائی دے رہا ہے اور زندگی کا الٹا رخ کسی کو نظر نہیں آتا۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اپنے کو دیکھنے والا سمجھتے ہیں، مگر ان کو وہی چیز دکھائی نہیں دیتی جس کو انہیںسب سے زیادہ دیکھنا چاہیے۔

انجینئرنگ کافی نہیں

ڈاکٹر فضل الرحمٰن خاں دنیا کے مشہور ترین تعمیراتی انجینئر تھے۔ وہ ڈھاکہ میں پیدا ہوئے کلکتہ میں تعمیراتی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اس فن میں امریکاسے ڈاکٹر کی ڈگری لی۔ 1963 میں انھوں نے شکاگو میں 43 منزلہ عمارت کا ٹھیکہ لے کر اپنی زندگی کا آغاز کیا۔اپنی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے انھوں نے اس میدان میں مجتہدا نہ کارنامے انجام دئے۔ شکاگو میں 110 منزلہ عمارت سیئرز ٹاور(Sears Tower) بنانے کے بعد انھوں نے جدید تعمیرات میں عالمی شہرت حاصل کی۔دنیا کی یہ سب سے اونچی عمارت ان کے اپنے وضع کردہ غیر روایتی اصولوں پر بنائی گئی ہے جس کو Tubular Designکہا جاتا ہے(ہندستان ٹائمس، 9 مئی 1982)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ڈاکٹر فضل الرحمٰن خاں کو اپنی غیر معمولی کامیابی کے باوجود قلبی سکون حاصل نہ تھا۔ مسٹر کے ایم املادی 1976 میں فضل الرحمٰن خاں کے شکاگو کے دفتر میں ملے تھے۔ مسٹر املادی نے انہیںان کی کامیابیوں پر مبارک باد دی مگر ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اس کو سادہ چہرے کے ساتھ سنا۔ انھوں نے گفتگو کے دوران مسٹر املادی سے کہا کہ زندگی انجینئرنگ سے زیادہ ہے۔

Life is more than engineering.

27مارچ 1982 کو ڈاکٹر فضل الرحمٰن خاں کا اچانک اس وقت انتقال ہو گیا جب کہ ان کی عمر صرف 52 سال تھی۔ فضل الرحمٰن خاں نے تعمیراتی انجینئرنگ میں جو اجتہادی اصول وضع کیے۔ ان کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جرمن انجینئر رابرٹ گیبریل(Robert Gabriel) نے 365 منزلہ عمارت کا منصوبہ بنایا ہے جو زمین سے ایک میل اونچی ہو گی۔مسٹر املادی نے اپنی ملاقات میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن خاں سے پوچھا کہ کیا وہ ایسی عمارت کی تعمیر کو ممکن سمجھتے ہیں۔ فضل الرحمٰن خاں نے اثبات میں جواب دیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے املادی اپنے مضمون کو اس جملہ پر ختم کرتے ہیں کہ آئندہ یورپ اور امریکامیں ایسی اونچی عمارتیں کھڑی ہو چکی ہوں گی، مگر افسوس کہ وہی آدمی ان کو دیکھنے کے لیے موجودہ نہ ہو گا جس نے ایسی عمارتوں کی تعمیر کو ابتدائی طور پر ممکن بنایا تھا۔

The man who laid the foundation for making them possible, alas, will no longer be there to witness them.

دنیا اورآخرت

انسان کی سب سے بڑی طلب کیا ہے۔یہ کہ اس کو خوشیوں سے بھری ہوئی ایک زندگی حاصل ہو۔یہی ہر زمانہ میں آدمی کا سب بڑا خواب رہا ہے۔ہر آدمی اسی تمنا کو لے کر جیتا ہے۔مگر ہر آدمی اس تمنا کی تکمیل کے بغیر مرجاتا ہے۔سارے فلسفے اورنظریات ،تمام انسانی کوششیں اسی ایک چیز کے گرد گھوم رہی ہیں۔مگر آج تک انسان نہ فکری طورپر اس کو دریافت کرسکا اورنہ عملی طور پر اس منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکا۔

اس ناکامی کی وجہ صرف ایک ہے۔تمام لوگ اپنے خواب کی تعبیر اسی موجودہ دنیا میں پانا چاہتے ہیں۔مگر ہزاروں برس کے تجربہ نے صرف ایک چیز ثابت کی ہے۔یہ کہ موجودہ دنیا اس آرزو کی تکمیل کے لیے ناکافی ہے۔موجودہ دنیا کی محدودیت ،موجودہ دنیا میں انسانی آزادی کا غلط استعمال انتہائی فیصلہ کن طورپر اس میں مانع ہے کہ موجودہ دنیا انسانی خوابوں کی تعبیر بن سکے۔

ہم زندگی کو کامیاب بنانے کی طرف ابھی سفر کررہے ہوتے ہیں کہ ہم کو موت آجاتی ہے۔ہم مشینی ترقیاں وجود میں لاتے ہیں مگرصنعتی مسائل پیداہوکر ساری ترقی کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ہم بے پناہ قربانیاں کرکے ایک سیاسی نظام کو وجود میں لاتے ہیں مگر اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والوں کا بگاڑاس کو عملاً بے نیتجہ بنا دیتا ہے۔ہم اپنی پسند کے مطابق ایک زندگی بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر دوسرے انسانوں کا بغض ،حسد ،گھمنڈ،ظلم اورانتقام ظاہر ہوکر ہم کو الجھا لیتا ہے اورہم اپنے آشیانہ کو خود اپنی آنکھوں سے بکھرتا ہوا دیکھ کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

یہ مسلسل تجربات ثابت کرتے ہیں کہ ہمارے خوابوں کی دنیا موجودہ زمینی حالات میں نہیں بن سکتی۔اس کے لیے دوسری دنیا اوردوسرے حالات درکار ہیں۔آدمی کی تمنائیں بجائے خود ایک حقیقی انسانی طلب ہیں۔مگر اس طلب کی تکمیل کی جگہ موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا ہے نہ کہ موت سے پہلے کی موجودہ دنیا۔

یہی واحد چیز ہے جو ہماری دنیا کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔اس کے بعد موجودہ دنیا جدوجہد کی دنیا بن جاتی ہے اوراگلی دنیا جدوجہد کا انجام پانے کی دنیا۔اس کے بعد آدمی اپنی وہ منزل پالیتا ہے جس کی طرف وہ مطمئن ہوکر بڑھ سکے۔موجودہ دنیا کو منزل سمجھنے کی صورت میں آدمی بالآخر مایوسی اورانتشار ذہنی کے سوا اورکہیں نہیں پہنچتا۔جب کہ آخرت کی دنیا کو منزل سمجھنے کا عقیدہ اس کے سامنے ابدی سکون کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ایک ایسی دنیا جہاں کھونے کے سوا اورکچھ نہ ہو۔ وہاں وہی نظریہ صحیح ہوسکتا ہے جوکھونے میں پانے کا راز بتارہاہو۔

کچھ کام نہ آئے گا

ایک صاحب سے بات ہورہی تھی۔20سال پہلے وہ معمولی مکینک تھے۔اب وہ تقریباً دودرجن مشینوں کے مالک ہیں۔ان کے کئی کارخانے چل رہے ہیں۔میں نے ایک ملاقات میں کہا:آپ نے ماشاءاللہ اپنے کاروبار میں ترقی کی ہے۔انھوں نے خوشی اوراعتماد کے لہجہ میں جواب دیا:اتنی کمائی کرلی ہے کہ بچے کچھ نہ کریں تب بھی وہ سو سال تک آرام سے کھاتے رہیں گے۔

یہ ایک انتہائی مثال ہے۔تاہم موجودہ زمانہ میں ہر آدمی کا یہی حال ہورہا ہے۔ہر آدمی اپنے اپنے دائرہ میں یہی یقین لیے ہوئے ہے کہ اس نے اپنے معاملات کو درست کرلیا ہے۔اسے اب کسی خطرہ کی ضرورت نہیں۔کم از کم ’’سو سال ‘‘تک تو بالکل نہیں۔

کوئی اپنے بڑوںکوخوش کرکے مطمئن ہے۔کسی کو یہ فخرہے کہ اس نے اپنے قانونی کاغذات کو پکا کرلیا ہے۔کسی کو اپنے قابل اعتماد ذریعہ معاش اوراپنے بینک بیلنس پر نازہے۔کوئی اپنے بازؤوں کی قوت اوراپنی دادا گیری پر بھروسہ کیے ہوئے ہے۔کسی کے پاس کچھ نہیں تو جس کے پاس ہے وہ اس سے خوشامد اورمصالحت کا تعلق قائم کرکے سمجھتا ہے کہ اس نے بھی ایک چھتری حاصل کرلی ہے ،اب اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔

مگر بھونچال جب آتا ہے تو اس قسم کے تمام بھروسوں کو باطل ثابت کردیتا ہے۔ بھونچال کے لیے پکے محل اورکچی جھونپڑیوں میں کوئی فرق نہیں۔طاقت ور اورکمزور دونوں اس کے نزدیک یکساں ہیں۔وہ بے سہارالوگوں کو بھی اسی طرح تہس نہس کر دیتا ہے جس طرح ان لوگوں کو جومضبوط سہارا پکڑے ہوئے ہیں۔بھونچال یہ یاد دلاتا ہے کہ اس دنیا میں آدمی کس قدر بے بس ہے۔

یہ بھونچال خدا کی ایک پیشگی نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ ہر ایک کے لیے بالآخر کیا ہونے والا ہے۔بھونچال ایک قسم کی چھوٹی قیامت ہے جو بڑی قیامت کا پتہ دیتی ہے۔جب ہولناک گڑگڑاہٹ لوگوں کے اوسان خطا کردیتی ہے۔جب مکانات تاش کے پتوں کی طرح گرنے لگتے ہیں۔جب زمین کا نچلا حصہ اوپر آجاتا ہے اورجو اوپرتھا وہ نیچے دفن ہوجاتا ہے۔اس وقت انسان جان لیتا ہے کہ وہ قدرت کی طاقتوں کے آگے بالکل عاجز ہے۔ اس کے لیے صرف یہ مقدر ہے کہ بے بسی کے ساتھ اپنی بربادی کا تماشہ دیکھے اوراس کے مقابلہ میں کچھ نہ کرسکے۔

قیامت کا بھونچال موجودہ بھونچال سے اربوں اور کھربوں گنازیادہ سخت ہوگا۔اس وقت سارے سہارے ٹوٹ جائیں گے۔ہر آدمی اپنی ہوشیاری بھول جائے گا۔عظمت کے تمام منارے اس طرح گرچکے ہوں گے کہ ان کا کہیں وجودہ نہ ہوگا۔اس دن وہی سہارے والا ہوگا جس نے موجود ہ چیزوں کو بے سہاراسمجھاتھا۔اس دن وہی کامیاب ہوگاجس نے اس وقت خدا کو اپنا یاتھا جب سارے لوگ خدا کو بھول کر دوسری دوسری چھتریوں کی پناہ لیے ہوئے تھے۔

ہرطرف فریب

آج کی دنیا فریب کی دنیا ہے۔آج کے انسان کو ایسے نعرے مل گئے ہیں جن سے وہ اپنی شخصی لوٹ کی سیاست کو قومی خدمت کی سیاست ظاہر کرسکے۔ہر آدمی ایسے الفاظ کا ماہر بنا ہوا ہے جو اس کے ظلم وفسادکو عین حق وانصاف کا روپ دے سکیں۔ہر آدمی کو ایسے قانونی نکتے ہاتھ آگئے ہیں جو اس کے جرم کو بے گنا ہی کا سرٹیفکیٹ عطا کردیں۔

یہ دنیا پرستوں کا حال ہے۔مگر خدا پرستوں کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔یہاں بھی لوگوں نے ایسے فضائل ومسائل کا خزانہ جمع کررکھا ہے جو ان کی بے دینی کو دینی کمال کے خانہ میں ڈال دیں۔جو ان کی بے عملی کوعمل کا شان دار کریڈٹ دے دیں۔

لوگوں نے ایسا خدا دریافت کررکھا ہے جس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لوگوں کو ایسا رسول ہاتھ آگیا ہے جو صرف اس لیے آیا تھا کہ ان کی ساری بد اعمالیوں کے باوجود خدا کے یہاں ان کا یقینی سفارشی بن جائے۔لوگوں کو ایسی آخرت مل گئی ہے جہاں جنت صرف اپنے لیے ہے اورجہنم صرف دوسروں کے لیے۔ لوگوں کو ایسی نمازیں حاصل ہوگئی ہیں جن کے ساتھ کبر اور حسد جمع ہوسکتا ہے۔ لوگوں کو ایسے روزے معلوم ہوگئے ہیں جو جھوٹ اورظلم سے فاسد نہیںہوتے۔ لوگوں کو ایسا دن ہاتھ آگیا ہے جو صرف بحث ومباحثہ کرنے کے لیے ہے نہ کہ عمل کرنے کے لیے۔ لوگوں کو اسلامی دعوت کے ایسے نسخے معلوم ہوگئے ہیں جو ان کی شخصی قیادت اورقومی سیاست کو اسلام کا لباس اوڑھادیں۔

مگر جھوٹا سونا اسی وقت تک سونا ہے جب تک وہ کسوٹی پر کسانہ گیاہو۔اسی طرح فریب کا یہ کاروبار بھی صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ خدا ظاہر ہوکر اپنے انصاف کی ترازو کھڑا نہ کر دے۔آج امتحان کی آزادی ہے۔آج آدمی کو موقع ہے کہ جو چاہے کرے۔مگرجب امتحان کی مدت ختم ہوگی توآدمی اپنے آپ کو بالکل بے بس پائے گا۔وہ بولنا چاہے گامگر اس کے پاس الفاظ نہ ہوگے کہ وہ بولے۔وہ چلنا چاہے گا مگر اس کے پاس پائوں نہ ہوںگے کہ ان کے ذریعہ وہ بھاگ کر کہیں جاسکے۔

یہ سچائی کا دن ہوگا۔اس دن ہرآدمی کے اوپر سے فریب کا وہ لباس اتر چکا ہوگا جس کو آج وہ پہنے ہوئے ہے۔ہر آدمی اپنی اصل صورت میں نمایا ں ہوجائے گاجوفی الواقع اس کی ہے مگر امتحان کی آزادی سے فائدہ اٹھا کر آج وہ اس کو چھپائے ہوئے ہے۔آدمی کی یہ اصل صورت خدا کے سامنے آج بھی عریاں ہے۔مگرآخرت کی دنیا میں وہ تمام لوگوں کے سامنے نمایاں ہوجائے گی۔

کامیابی کی فہرست

سید محمد کیرلا میں پیدا ہوئے۔ ان کی تعلیم لندن میں ہوئی۔ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر ان کے 80سالہ انگریز استاد پروفیسر سٹیونس(Dr. Cleveland Stevans) نے 1957میں کہا تھاکہ اے نوجوان شخص ،ایک دن تم یہاں اپنے ملک کے نمائندہ بن کر آئو گے۔مگر میں اس وقت تم کو دیکھنے کے لیے موجود نہ ہوں گا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Young man, one of these days you will come here to represent your country. But I would not be there to see you.

یہ پیشین گوئی 23سال بعد پوری ہوئی اورسید محمد ہندستان کے ہائی کمشنر بن کر لندن گئے۔

سید محمد نے بیرسٹری سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔اس کے بعد انہیںبہت سے اعلیٰ عہدے ملے۔وہ اقوام متحدہ میں ہندستان کے مندوب تھے۔کیرلاکا بینہ میں وزیر ہوئے۔ مائناریٹیز کمیشن کے چیئرمین مقرر ہوئے۔وغیرہ وغیرہ۔سید محمد کے خاص دوستوں میں ایک مسٹر خوشونت سنگھ بھی تھے۔انھوں نے سید محمد کے بارے میں ایک مضمون لکھتے ہوئے اس کو اس پیرا گراف پر ختم کیاہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Seyyed’s passions were politics and law. He had applied for the Congress-I ticket to fight the last Parliamentary elections. Going by his records he would have undoubtedly won it. Kerala State Congress bosses denied him the ticket. It broke Seyyed’s heart and a month later the setback took his life.

سید محمد کا شوق سیاست اورقانون تھا۔انھوں نے کانگرس آئی کے ٹکٹ کے لیے درخواست دی تھی تاکہ حالیہ پارلیمنٹری الیکشن میں لڑ سکیں۔ اپنے حالات کے لحاظ سے وہ ضرور کامیاب ہوتے۔ کیرلا ریاستی کانگرس کے ذمہ داروں نے انہیںٹکٹ دینے سے انکار کیا۔اس واقعہ نے سید محمد کا دل توڑ دیا اورایک ماہ بعد اس حادثہ نے ان کی زندگی لے لی (ہندستان ٹائمس،23مارچ1985)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آج انسان کامیابیوں کی فہرست میں صرف ایک کمی کو برداشت نہیں کرپاتا۔حالانکہ انسان پر وہ دن آنے والا ہے جب کامیابیوں کی پوری فہرست اس سے چھن جائے گی۔کیسا عجیب ہوگا وہ دن اورکیسا عجیب ہوگا اس دن انسان کاحال۔

چھت گرپڑی

1968کا واقعہ ہے۔میں اعظم گڑھ کی ایک دوکان میں داخل ہوا۔وہاں میرے ایک جانے پہچانے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے ان کو سلام کیا۔مگرانھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔میں نے دوبارہ سلام کیا۔مگر میں نے دیکھا کہ اب بھی وہ خاموش ہیں۔وہ میری طرف دیکھ رہے تھے مگر کچھ بول نہیں رہے تھے۔’’کیا یہ کوئی دوسرے صاحب ہیں‘‘ میں نے سوچا۔مگر میری آنکھیں اس شبہ کی تردید کررہی تھیں۔جو شخص میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا وہ یقینی طور پر وہی شخص تھا جس کو میںپندرہ سال سے جانتا ہوں۔بظاہر یہ بھی ناممکن تھا کہ وہ مجھ کو بھو ل گئے ہوں۔

دکان کے مالک کو جلد ہی حیرانگی کا احساس ہوگیا۔اس نے بتایا کہ اصل قصہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک سخت حادثہ پیش آگیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھے ہیں۔ وہ اپنا نیا مکان بنا رہے تھے۔دیواریں کھڑی ہوگئیں تو حسب قاعدہ ان کے اوپر سانچہ بنا کر چھت ڈلوائی مگر ایک ماہ بعد جب سانچہ کھولا گیا تو ساری چھت دھڑام سے گر پڑی۔اس حادثہ کا ان کے دماغ پر اتنا اثر ہو اکہ وہ نیم پاگل ہوگئے۔اب وہ نہ کوئی کام کرتے ہیں نہ کھانا کھاتے ہیں اورنہ بولتے ہیں۔بس بت کی طرح اِدھر اُدھر پڑے رہتے ہیں جیسا کہ اس وقت آپ ان کو دیکھ رہے ہیں۔ مزید تحقیق کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کچھ لوگوں نے یہ کاروبار کیا ہے کہ سیمنٹ کے رنگ کی مٹی (پنڈول )کو باریک پیس کر بوریوں میں بھر دیتے ہیں۔یہ مٹی دیکھنے میں بالکل سیمنٹ جیسی ہوتی ہے۔اس لیے لوگ اس کو سیمنٹ سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔مذکورہ بزرگ کو بھی اتفاق سے اسی قسم کی سیمنٹ مل گئی۔اوراسی سیمنٹ سے انھوں نے اپنی چھت بنوا دی۔ ظاہر ہے کہ ایسی سیمنٹ سے بنی ہوئی چھت کا وہی انجام ہونا تھاجو ہوا۔

اسی طرح کوئی دولت کو اپنی چھت بنائے ہوئے ہے۔کسی کو اپنے الفاظ پر بھروسہ ہے۔کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھیوں کی مدد اس کے لیے کافی ہے۔کوئی بڑوں کا سہارا پکڑے ہوئے ہے۔مگریہ سب جھوٹے سہارے ہیں۔قیامت جب ظاہری سانچہ کو ہٹائے گی تو اچانک لوگوں کی چھت ان کے اُوپر اس طرح گرپڑے گی کہ وہاں کوئی تنکا نہ ہوگا جو آدمی کا سہارا بن سکے۔

خدا کی دنیا

خدا کی دنیا

جب آپ اپنے کمرہ میں ہوں تو آپ اس کی چھت کو ناپ کر معلوم کرسکتے ہیں کہ اس کی لمبائی کتنی ہے اورچوڑائی کتنی۔مگر جب آپ کھلے میدان میں آسمان کے نیچے ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی چھت کی لمبائی اورچوڑائی کو ناپنے کے لیے آپ کے تمام پیمانے ناکافی ہیں۔یہی حال خدا کی پوری کائنات کا ہے۔ ایک بیج جس طرح بڑھ کر درخت کی ایک دنیا بناتا ہے اس کو کون بیان کرسکتا ہے۔سورج کی روشنی ،ہوائوں کا نظام ، چڑیوں کے نغمے ،پانی کے بہتے ہوئے چشمے اوراسی طرح کی بے شمار چیزیں جن کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

سچائی اس سے زیادہ لطیف ہے کہ اس کو انسانی لفظوں میں بیان کیا جاسکے۔حقیقت یہ ہے کہ جہاں زبان گنگ ہوجاتی ہے وہاںسے حقائق شروع ہوتے ہیں۔جہاں الفاظ ساتھ نہیں دیتے وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔خداچپ کی زبان میں بول رہاہے اورہم اس کو شور کی زبان میں سننا چاہتے ہیں۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ ہم خدا کی آوازوں کو سن سکیں۔اس دنیاکی سب سے قیمتی باتیں وہ ہیں جو چپ کے بول میں نشر ہورہی ہیں مگر جو لوگ صرف شوروغل کی بولیاں سننا جانتے ہوں وہ ان قیمتی باتوں سے اسی طرح ناآشنا رہتے ہیں جس طرح ایک بہرا شخص کسی عمدہ موسیقی سے۔

خدا کی دنیا بے حدحسین ہے۔اس کے حسن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔آدمی جب اس دنیا کو دیکھتا ہے تو بے اختیار اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ خدا کی اس ابدی دنیا کا باشندہ بن جائے۔وہ ہوائوں میں شامل ہوجائے وہ درختوں کی سرسبزیوں میں جا بسے۔وہ آسمان کی بلندیوں میں کھوجائے۔مگر انسان کی محدود یتیں اس کی اس خواہش کی راہ میں حائل ہیں۔وہ اپنی محبوب دنیا کو دیکھتا ہے مگر اس میں شامل نہیں ہوپاتا۔شاید جنت اسی کانام ہے کہ آدمی کو اس کی محدود یتوں سے آزاد کردیا جائے تاکہ وہ خدا کی حسین دنیا میں ابدی طورپر داخل ہوجائے۔

انسان نے جو تمدنی دنیا بنائی ہے وہ خدا کی دنیا سے کس قدر مختلف ہے۔انسان کی بنائی ہوئی سواریاں شور اوردھواں پیدا کرتی ہیں مگر خدا کی دنیا میں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے اورنہ کہیں شور ہوتا ہے اورنہ دھواں۔انسان انسان کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے طرح طرح کی تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں ،مگر خدا کی دنیا میں ہوا اس طرح گزرتی ہے کہ وہ کسی سے نہیں ٹکراتی۔انسان اپنی غلاظت کو کاربن اورپسینہ اوربول وبراز کی صورت میں خارج کرتا ہے مگر خدا نے اپنی دنیا میں جو درخت اُگائے ہیں وہ اس کے برعکس اپنی کثافت کو آکسیجن کی صورت میں خارج کرتے ہیں اورپھول اپنی کثافت کو خوش بو کی صورت میں۔انسان کے بنائے ہوئے تمام شہروں میںکوڑے کو ٹھکانے لگانا ایک ناقابل حل مسئلہ بناہوا ہے۔مگر خدا کی بنائی ہوئی وسیع تر دنیا میں ہر روز بڑے پیمانہ پر ’’کوڑا‘‘نکلتا ہے مگرکسی کو پتہ نہیںچلتا۔کیوںکہ اس کو (Recycle)کرکے دوبارہ کائنات کے مفید اجزاء میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔جو شخص حقیقت کی جھلک دیکھ لے تو وہ اس کے بیان سے اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگتا ہے۔اس پر چپ طاری ہوجاتی ہے نہ یہ کہ وہ لفظوں کا سیلاب بہانے لگے۔

ہم خدا کے ملک میں ہیں

ایک امریکی خاتون سیاحت کی غرض سے روس گئیں۔وہاں انھوں نے دیکھا کہ ہر جگہ کمیونسٹ پارٹی کے چیف کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔یہ بات انہیںپسند نہیں آئی۔ایک موقع پر وہ کچھ روسیوں سے اس پر تنقید کرنے لگیں خاتون کے ساتھی نے ان کے کان میں چپکے سے کہا ’’میڈیم آپ اس وقت روس میں ہیں ،امریکامیں نہیں ہیں ‘‘۔

آدمی اپنے ملک میں اپنی مرضی کے مطابق رہ سکتا ہے۔لیکن اگروہ کسی غیر ملک میں جائے تو وہاں اس کو دوسرے ملک کے نظام کی پابندی کرنی پڑے گی۔اگر وہ وہاں کے نظام کی خلاف ورزی کرے تووہ مجرم قرار پائے گا۔

ایسا ہی کچھ معاملہ وسیع تر معنوں میں دنیا کا ہے۔انسان ایک ایسی دنیا میں پیداہوتا ہے۔جس کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔یہ مکمل طور پر بنائی ہوئی دنیا ہے۔گویا انسان یہاں اپنے ملک میں نہیں ہے بلکہ خدا کے ملک میں ہے۔

ایسی حالت میں انسان کی کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ خدا کی سیکم کو جانے اوراس اسیکم کے مطابق اس دنیا میں رہے۔اگر وہ یہاں خدا کی اسکیم کے خلاف رہے گا وہ باغی قرار پائے گا اور اس قابل ٹھہرے گا کہ خدا اس کو سخت سزا دے کر ہمیشہ کے لیے اپنی تمام نعمتوں سے محروم کردے۔

دنیامیں خدا کی مرضی کے مطابق رہنے کا طریقہ کیا ہے ،یہی وہ سوال ہے جس کا جواب دینے کے لیے خدا نے اپنے پیغمبر کھڑے کیے۔ پیغمبر وں نے انسان کی قابل فہم زبان میں کھول کھول کر بتایا کہ انسان سے خدا کو کیا مطلوب ہے۔اورخدا کی وہ اسکیم کیا ہے جس کی انسان کو پابندی کرنی چاہیے۔

قرآن اسی پیغمبر انہ ہدایت کا مستند مجموعہ ہے۔جو شخص یہ چاہتا ہو کہ خد ااس کو اپنے وفادار بندوں میں شمار کرے اوراس کو اپنی ابدی نعمتوں میں حصہ دار بنائے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن کو پڑھے اوراس کو اپنی زندگی کار ہنما بنالے۔

جو شخص ایسا نہیں کرے گا اس کا انجام شدید ترشکل میں وہی ہوگا جوروس میں امریکا نوازوں کا ہوتا ہے یا امریکامیں روس نوازوںکا۔

ایک موت

23فروری1983کی صبح الرسالہ کے لیے بڑی درد ناک خبر لے کر آئی۔اس دن الرسالہ کے کاتب حافظ امجد علی شاہجہانپوری کا انتقال ہوگیا۔وفات کے وقت ان کی عمر تقریبا ً ستر سال تھی۔ حافظ امجد علی صاحب نے الرسالہ کی کتابت کا کام اتنی دلچسپی اورلگن کے ساتھ کیاکہ ’’الرسالہ ‘‘اور’’امجد علی صاحب‘‘دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی بن گئے۔وہ دہلی کے اعلیٰ درجہ کے کاتب تھے۔الرسالہ کے صفحات نے ان کی خوش نویسی کے جو نمونے محفوظ کیے ہیںوہ ابھی نامعلوم مدت تک باقی رہیں گے۔مگر لکھنے والے کا فن لکھنے والے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔

اگر یہ کہا جائے کہ الرسالہ کی ہر اشاعت سب سے پہلے امجد علی صاحب کی نظر سے گذرتی تھی تو یہ بات بالکل صحیح ہوگی۔کیونکہ وہ الرسالہ کو صرف ’’لکھتے ‘‘نہیں تھے بلکہ وہ اس کو ’’پڑھتے ‘‘بھی تھے۔الرسالہ کے مضامین جب انہیںکتابت کے لیے دیے جاتے تو پہلے وہ ان کا مطالعہ کرتے۔اس کے بعد ان کو لکھنا شروع کرتے۔وہ الرسالہ کے صرف کاتب نہیں تھے،بلکہ وہ اس کے سب سے پہلے قاری بھی تھے۔

موت کی خبر ملنے کے بعد 23 فروری کی دوپہر کو جب میں ان کے گھر پہنچا تو ان کا مردہ جسم ایک چارپائی پر لٹایا ہواتھا۔میں دیر تک تاثرات کے طوفان میں انہیںدیکھتا رہا۔ وہی معصوم چہرہ تھا، مگر اب وہ خاموش ہوچکا تھا۔بظاہر وہی آنکھیں تھیں۔مگر اب وہ ہمیشہ کے لیے بند ہوچکی تھیں۔ہاتھ وہی تھا مگر اب وہ قلم پکڑنے کی طاقت سے محروم تھا۔

23فروری کو نماز ظہر کے بعد جنازہ اٹھا۔لوگ حافظ امجد علی کاجسم کاندھوں پر اٹھائے قبرستان کی طرف جا رہے تھے اورمیرے ذہن میں ایک پوری تصویر جاگ رہی تھی۔جس میں انسان اپنے آغاز سے انجام کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا تھا۔انسان کی کہانی کیسے عجیب طورپر اس دنیا میں شروع ہوتی ہے۔اورکیسے عجیب طورپر ختم ہوجاتی ہے۔

23فروری سے پہلے امجد علی صاحب سے میرا ہر روز ساتھ تھا۔23فروری کو وہ اچانک دوسری دنیا میں چلے گئے۔جب مجھے اس کا خیال آتا ہے تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ ہماری آج کی دنیا اورہماری کل کی دنیا میں کتنا کم فاصلہ ہے۔ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کا ایک قدم اگر اِس دنیا میں ہے تو اس کا دوسرا قدم اُس دنیا میں۔

زندگی کا انجام

ماستی وینکا ٹیساآئنگر(1891-1986)کنڑازبان کے مشہور مصنف ہیں۔تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ میسورسول سروس میں شامل ہوئے۔ اپنی اعلیٰ خدمات کی بنا پر انہیںریاست میسور کا وزیر ہونا چاہیے تھا۔مگر ان کے ساتھ ناانصافی کی گئی۔چنانچہ وہ بددل ہوکر وقت سے پہلے ریٹائر ہوگئے۔

ملازمت سے الگ ہوکر انھوں نے کہانیاں اورناول لکھنا شروع کیا۔اس میدان میں انھیںغیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔آج وہ تقریباً ڈیڑھ سو کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتاب چکاویراراجندر (Chikka Veera Rajendra)پر حکومت ہندنے ان کو گیان پیٹھ کا خطاب اورڈیڑھ لاکھ روپیہ بطور انعام دیا ہے۔

مسٹروی سری دھر موصوف سے ملے اوران سے ایک انٹر ویو(ٹائمس آف انڈیا 12اگست 1984)لیا۔مسٹر ماستی اگرچہ اپنی تمام کتابوں کوادبی شاہکا رسمجھتے ہیں۔مگر حکومت کے اعلیٰ انعام پروہ خوش نہ ہوسکے۔انھوں نے کہا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

I am too old to be happy

یعنی 94سال کی عمر کو پہنچ کر میں اتنا زیادہ بوڑھا ہوچکا ہوں کہ کوئی خوشی میرے لیے خوشی نہیں۔مسٹر ماستی کی پہلی کہانی 1912میں شائع ہوئی تھی۔اس لحاظ سے انہیںاپنے ادبی کمالات کے اعتراف کے لیے 70سال انتظار کرنا پڑا۔مگر لمبی مدت کے بعد جب انہیںعزت اورانعام ملا تووہ وقت تھا جب کہ بڑھاپے نے ان کے چہرے پر جھریوں کی مالا پہنا دی تھی۔

مسٹر ماستی کی کہانی موجودہ دنیا میں ہرشخص کی کہانی ہے۔اس دنیامیں ہر آدمی کایہ قصہ ہے کہ وہ محنت کرتا ہے۔اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے۔بالآخر’’ستر سال ‘‘کی محنت کے بعد وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کو دنیا میں عزت اورانعام ملے۔مگر ا س وقت وہ بوڑھا ہوچکا ہوتا ہے۔مزید یہ کہ کسی بھی صبح یا شام موت آجاتی ہے اوراس کو مجبور کرتی ہے کہ اپنی عمر بھر کی کمائی کو چھوڑ کر ایسی دنیا کی طرف چلا جائے جس کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا تھا۔

کہاں سے کہا ں

31اکتوبر 1984کو صبح سوا نو بجے کا وقت تھا۔نئی دہلی میں وزیراعظم ہند کی سرکاری رہائش گاہ میں حسب معمولی پولیس اوراسٹاف کی سرگرمیاں اپنے شباب پر تھیں۔پیشگی اپائنٹمنٹ کے مطابق وسیع اورشاندار لان میں پیڑاسٹینوف (1921-2004) اپنی پارٹی کے ساتھ آچکے تھے۔ وہ وزیر اعظم اندر اگاندھی (1917-1984)پر ایک فلم تیار کررہے تھے۔ وزیر اعظم اپنے وقت پر اپنے کمرہ سے برآمد ہوئیں۔وہ لان میں داخل ہونے ہی والی تھیں کہ گولیوں کی آواز سنائی دینے لگی۔مسزاندراگاندھی کی حفاظتی پولیس کے دو مسلح جوانوں نے اچانک ان پر حملہ کردیا۔ایک پستول سے فائر کیے ،دوسرے نے اپنے اسٹن گن کی 20 گولیاں ان کے اوپر خالی کردیں۔ خون میں لت پت اندراگاندھی کوئی آخر ی کلمہ نہ بول سکیں۔وہ ’’بے ہوش ‘‘حالت میں اسپتا ل لے جائی گئیں۔صرف اس لیے کہ ڈاکٹر ان کی طبی موت کا آخری اعلان کرسکیں۔اس سلسلہ میں اخبارات میں جورپورٹیں شائع ہوئی ہیں ،ان میں سب سے زیادہ عبرت انگیز مسٹر پیٹر اسٹینوف کا واقعہ تھا:

Peter Ustinov, world renowned actor, director, and writer, was sitting in the lawn at Mrs Indira Gandhi's residence, waiting, to interview her ("I wanted to ask her how as a single child she came to terms with her loneliness") when he heard the 'sound of death'.

مسٹر اسٹینوف جو عالمی شہرت رکھنے والے ایکٹر ،ڈائرکٹر اوررائٹر ہیں ،وہ مسزاندرا گاندھی کی رہائش گاہ کے لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔وہ ان سے انٹرویو کے منتظر تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ واحد اولاد ہونے کے اعتبار سے انھوں نے کس طرح اپنے اکیلے پن کے ساتھ نباہ کیا۔عین اسی وقت اسٹینوف نے موت کی آواز سنی (ہندستان ٹائمس،1نومبر1984)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

راقم الحروف نے جب یہ رپورٹ پڑھی تو معاًمجھ کو یہ خیال آیا کہ اگر الفاظ کے اندر تھوڑی سی تبدیلی کردی جائے تو غالباً یہ اہم ترین سوال تھا جو اس نازک لمحہ میں مسز اندرا گاندھی سے پوچھا جاسکتا تھا۔الفاظ میںمعمولی تبدیلی کے بعد وہ سوال یہ تھااب تک آپ700ملین انسانوں کے ملک کی محبوب وزیراعظم تھیں۔اگلے لمحہ آپ کا کیا حال ہوگا جب کہ آپ اپنے کو ایک ایسی دنیا میں پائیں گی جہاں آپ بالکل تنہا اور بے یارومددگار ہوں گی۔

کیسا عجیب ہے وہ پانا جس کا انجام کھونے کے سوا اورکچھ نہ ہو۔

یہ گونگے شاہکاروں کاعجائب خانہ نہیں

تمام سفروں میں ٹرین کا سفر سب سے زیادہ تجربات سے بھر اہواہوتا ہے۔انسانی قافلوں کو لیے ہوئے تیز رفتار ایکسپریس دوڑی چلی جارہی ہے۔گاڑی کے دونوں طرف قدرت کے مناظر مسلسل ہماراساتھ دے رہے ہیں۔اس طرح ٹرین گویا زندگی کے بڑے سفر کی علامت بن گئی ہے جو نشانیوں سے بھری ہوئی ایک دنیا میں انسان طے کررہا ہے۔مگر جس طرح ٹرین کے مسافراطراف کے مناظر سے بے خبر ہوکر اپنی ذاتی دلچسپیوں میں گم رہتے ہیں۔اسی طرح انسان موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کے دن پورے کررہا ہے۔بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا کی بکھری ہوئی نشانیوں پر غور کرے۔

سورج اپنے روشن چہرہ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اورانسان کے اوپر اس طرح چمکتا ہے جیسے وہ کوئی پیغام سنانا چاہتا ہو۔مگر وہ کچھ کہنے سے پہلے غروب ہوجاتا ہے۔درخت اپنی ہری بھر ی شاخیں نکالتے ہیں ،دریا اپنی موجوں کے ساتھ رواں ہوتا ہے۔یہ سب بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں۔مگر انسان اِن کے پاس سے گزرجاتا ہے۔بغیر اس کے کہ ان کا کوئی بول اس کے کان میں پڑاہو۔آسمان کی بلندیاں ،زمین کی رعنائیاں سب ایک عظیم ’’اجتماع ‘‘کے شرکاء معلوم ہوتے ہیں۔مگر ان میں سے ہر ایک خاموش کھڑا ہواہے۔وہ انسان سے ہم کلام نہیں ہوتا۔

یہ عظیم کائنات کیاگونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ ہے۔نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس خدا کا ایک پیغام ہے اوراس کو وہ ابدی زبان میں نشر کررہا ہے۔مگر انسان دوسری آوازوں میں اتنا کھویا ہواہے کہ اس کو کائنات کاخاموش کلام سنائی نہیں دیتا۔ایک سفر میں ہم ایک درمیانی اسٹیشن پر نماز پڑھنے کے لیے اترے۔اسٹیشن کے آدمیوں سے پوچھا کہ’’پچھم کس طرف ہے ‘‘۔مگر کسی کے پاس اس سادہ سے سوال کا جواب نہ تھا۔میں نے سوچا ’’سورج ایک روشن ترین حقیقت کی حیثیت سے روزانہ ان کے اوپر نکلتا ہے اورڈوبتا ہے۔مگر لوگ اپنے آپ میں اتنا گم ہیں کہ ان کو مشرق ومغرب کا پتہ نہیں۔پھر وہ لطیف پیغام جو سورج اوراس کے کائناتی ساتھی اپنی خاموش زبان میں نشر کررہے ہیں ان سے کیسے کوئی باخبر ہوسکتا ہے‘‘۔

ہماری ٹرین ایک اسٹیشن پر رکی۔میں باہر آکر پلیٹ فارم پر کھڑا ہوگیا۔سورج ابھی ابھی غروب ہواتھا۔ہرے بھر ے درخت ،ان کے پیچھے سرخی ملی ہوئی روشنی اوراس کے اوپر پھیلے ہوئے بادل ،عجیب آفاقی حسن کا منظر پیدا کررہے تھے۔’’ان میں یہ حسن ان کی بلندی نے پیدا کیا ہے ‘‘میں نے سوچا۔’’مگر انسان اس بلندی تک جانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔وہ اس سطح پر نہیں جیتا جس سطح پر درخت جی رہے ہیں۔وہ وہاں بسیرانہیں لیتا جہاں روشنی اوربادل بسیرالیے ہوئے ہیں۔اس کے برعکس وہ سطحی مفادات میں جیتا ہے۔وہ جھوٹی دوستی اورجھوٹی دشمنی میں سانس لیتا ہے۔کائنات کا ہم سفر بننے کے بجائے اپنے آپ کو وہ اپنی ذات کے خول میں بند کرلیتا ہے۔ایک ایسی دنیا جہاں جنتی فضائیں اس کا انتظار کررہی ہیں۔وہاں وہ اپنے آپ کو دوزخ کے ماحول میں ڈال دیتا ہے۔انسانی دنیا کے بگاڑ کی ساری وجہ یہی ہے۔اگر وہ بلند سطح پر جینے لگے تو اس کی زندگی میں بھی وہی حسن آجائے جو قدرت کے حسین مناظر میں دکھائی دیتاہے(16مارچ 1979)۔

زیادہ نازک

ایک مسلم نوجوان نے جدیدتعلیم حاصل کی۔اس کے بعد اس کو باہر کے ایک ملک میں کام ملا وہ اوراس کے لیے روانہ ہوگیا۔اس کے ماں باپ اس کو رخصت کرنے کے لیے ہوائی اڈہ پر آئے۔نوجوان کے مشرقی باپ نے آخری وقت میں نصیحت کرتے ہوئے کہادیکھو بیٹے ،جب ہوائی جہاز کے اندر بیٹھنا تو اپنے چاروں طرف آیتہ الکرسی کاگھیرا بنا لینا۔اوردرودشریف پڑھتے رہنا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ سن کر ایک شخص نے کہا آپ بیٹے کو اس قسم کی نصیحت کیوں کررہے ہیں۔ بزرگ بولے اس لیے یہ ہوائی سواری ہے۔راستہ میں ذراسی بھی کوئی بات پیش آئے توکیا سے کیا ہوجائے۔

other sourceWords of another person or source

’’آپ کو شاید معلوم نہیں کہ ہم میں سے ہر شخص اس سے زیادہ خطر ناک ہوائی سواری پر بیٹھا ہواہے ‘‘۔آدمی نے دوبارہ کہا’’یہ زمین جس پرہم آپ ہیں یہ ہوائی جہاز سے بھی زیادہ نازک سواری ہے۔ہماری زمین کسی ٹھوس چیز پر رکھی ہوئی نہیں ہے بلکہ اتھاہ خلامیں معلق ہے۔وہ ہوائی جہاز سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ دہراحرکت کررہی ہے۔ایک طرف وہ اپنے محور پر20میل فی سکنڈ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔دوسری طرف وہ اپنے مدار پر15سکنڈ فی میل کی رفتار سے دوڑرہی ہے۔ہوائی جہاز تو درمیانی مقامات پر اترتے ہیں۔مگر زمین کا تیز رفتار سفر بغیر رکے ہوئے مسلسل جاری ہے ‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس قسم کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد مذکورہ شخص نے کہا۔’’اگر آپ کو اپنے اس زمینی سفر کاواقعی احساس ہوتو آپ ہر وقت آیتہ الکرسی اوردرودشریف پڑھتے رہیں۔آپ کے اوپر لرزہ طاری ہوجائے۔ہوائی سفر سے کہیں زیادہ آپ کو اپنے زمینی سفر کا فکر لاحق رہنے لگے‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لوگ انسانی واقعات سے متاثر ہوتے ہیں،وہ خدائی واقعات سے متاثر ہونا نہیں جانتے۔کوئی شخص کرتب کے زورسے اپنے آپ کو اس طرح دکھائے کہ اس کا پائوں چھت پر ہو اوراس کا سرنیچے کی طرف لٹکا ہواہوتو بے شمار لوگ اس عجیب واقعہ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوجائیںگے۔مگر لوگوں کی یاد نہیں کہ وہ خود اسی قسم کے عجیب تر واقعہ کی مثال ہیں۔کیونکہ ہم میں سے ہرشخص کا یہ حال ہے کہ وہ زمین کی سطح پر لٹکا ہواہے۔زمین گول ہے۔زمین پر فی الواقع یہ صورت پائی جاتی ہے کہ آدمی اس کے اوپر مذکورہ کرتب باز آدمی کی طرف لٹکے ہوئے ہیں۔ہندستان والوں کے لیے امریکاکے لوگ اس طرح ہیں کہ زمین کی سطح پر ان کا پائوں ہے اور ان کا سر زمین کے نیچے لٹک رہا ہے اسی طرح امریکاوالوں کے لیے ہندستان کے لوگ سرنیچے اورپائوں اوپر کیے ہوئے زمین پر چل پھر رہے ہیں۔

خد ا سے ڈرو

آج کوئی بستی ایسی نہیںہے جہاں ایک آدمی دوسرے آدمی کو ستا نہ رہا ہو۔جہاں ایک آدمی دوسرے آدمی کو اپنے ظلم کا نشا نہ نہ بنائے ہوئے ہو۔مگر لوگ کس آدمی کو ستاتے ہیں۔اس آدمی کو جو ان کی نظر میں کمزور ہو۔جو دادا گیری کرنا نہ جانتا ہو،جس نے اپنے آگے پیچھے ساتھیوں کی فوج نہ جمع کر رکھی ہو،جو پولیس اورکچہری سے دور رہنا چاہتا ہو،لو گ بے زوروں کے لیے بہادر ہیں اورجو شخص لوگوں کو زورآور دکھائی دیتا ہواس کے لیے کوئی بہادر نہیں۔

مگریہ اندھے پن کی آنکھ سے دیکھنا ہے۔اگر ان کے پاس دیکھنے والی آنکھ ہوتو وہ سب سے زیادہ اس سے ڈریں جس کو وہ بے زورسمجھتے ہیں۔کیونکہ جو شخص بے زورہے اس کے پیچھے خدا کھڑا ہواہے۔

دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ آزمائش کے منصوبہ کے تحت ہورہا ہے۔خدا کو جانچ کر ہرشخص کے بارے میں جاننا ہے کہ ان میں سے کون ہے جو اللہ سے ڈرنے والا ہے اوروہ کون ہے جو اللہ سے بے خوف ہے۔اس کی جانچ کیسے ہو۔اس کی جانچ ان شخاص کی سطح پرنہیں ہوسکتی جو اپنی زورآوری کی وجہ سے لوگوں کو مرعوب کیے رہتے ہیں،جن کی طاقت دیکھ کر لوگوں کو ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ان کے خلاف اگر لوگ برائی نہ کریں تو یہ ان کی اپنی طاقت سے ڈرنے کی وجہ سے ہوگا نہ کہ خدا کے ڈرکی وجہ سے۔

مگر ایک شخص ہے جس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں جو لوگوں کو مرعوب اورخوف زدہ کرتی ہے۔اس کو ستانے سے اگر کوئی شخص بچتا ہے تو اس کی وجہ یقیناً اخلاقی ہوگی نہ کہ مادی۔خدا کچھ افراد کو بے زور اوربے حیثیت بنا کر لوگوں کے درمیان رکھتا ہے اورپھر ان کو دیکھتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔جو شخص کمزور آدمی کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈراوہ گویا خدا سے ڈرا،اس کا ٹھکانا جنت ہوگا۔جو شخص کمزور آدمی کے ساتھ بے انصافی کرنے سے نہیں ڈراوہ گویا خدا سے نہیں ڈرا،ایسا شخص جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ڈال دیا جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہر آدمی بری زندگی گزار کر مرجاتا ہے تاکہ موت کے بعد اورزیادہ بری زندگی کی طرف دھکیل دیا جائے۔

کائنات بیان دے گی

مجھے ایک بار لکھنؤ کے ایک علاقہ میں جانا ہوا جہاں آم کے باغات تھے۔ میں نے دیکھا کہ درختوں پر پھل لگے ہوئے ہیں مگر سب کے سب کالے ہورہے ہیں۔دریافت کرنے پر معلوم ہواکہ یہ دھوئیں کی وجہ سے کالے ہوگئے ہیں۔ان باغات کے پا س اینٹ کے بھٹے تھے جن کی چمنیوں سے ہر وقت کوئلہ کا دھواں نکلتا رہتا تھا۔اس دھوئیں کی وجہ سے تمام پھل کالے ہوکر خراب ہوگئے۔ان کی بڑھوتری رک گئی۔وہ منڈی میں بھیجنے کا قابل نہ رہے۔

یہی اس دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔دنیا کے بنانے والے نے اس کو نہایت حکمت کے ساتھ بنایا ہے۔اس کی ہر چیز بے حد نازک اورلطیف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کائنات ایک انتہائی بامعنی کارخانہ ہے۔وہ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں کرتی جو اس کے مزاج کے خلاف ہو،جو اس کی تخلیقی اسکیم کے مطابق نہ ہو۔مگر کائنات کے سب سے زیادہ سرسبزاورقیمتی حصہ پر انسان ہر وقت ظلم فساد جاری کیے ہوئے ہے۔حق کے نام پر حق کو قتل کیا جارہاہے اورکائنات اپنی تمام معنویت کے باوجود خاموش کھڑی ہوئی ہے۔وہ زمین پر سب کچھ ہوتے دیکھتی ہے مگر اس کے بارے میں اپنا کوئی بیان نہیں دیتی۔ا س کی وجہ یہ ہے اس کے خدا نے ایک مقررمدت تک کے لیے اس کو روک رکھا ہے۔جب یہ مدت ختم ہوگی تو اچانک وہ بول پڑے گی۔اس وقت وہ سب کچھ کہہ ڈالے گی جس کو آج وہ دیکھتی ہے مگر نہیں کہتی۔

آدمی اپنے اقتدار کی سیاست چلاتا ہے اوراس کو خدا کی سیاست کانام دیتا ہے۔وہ مکمل اصلاح کے نفاذ کانعرہ لگاتا ہے اورجب آزمایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جزئی اصلاح پر بھی قائم نہیں۔وہ اپنے پڑوسی کو ستاتا ہے اوردورکے ظالم کے خلاف جھنڈالے کر کھڑا ہوتا ہے۔وہ اپنی انا کی پر ستش میں لگا ہوتا ہے اور دوسرے کی انانیت اورتعصب کا اعلان کرنے کے لیے اسٹیج سجاتا ہے۔وہ مفاد پرستی اوراستحصال میں غرق ہوتا ہے اورانصاف اورانسانیت کے عنوان پر تقریریں کرتا ہے۔وہ ضد اورنفرت اورانتقام کے تحت کارروائی کرتا ہے اورزبان سے یہ ظاہر کرتا ہے وہ صرف حق کے لیے ایسا کررہا ہے۔ وہ اپنے بدترین شیطانی کاموں کو بیان کرنے کے لیے بھی نہایت خوب صورت الفاظ پالیتا ہے۔یہ سب کچھ انسانی دنیا میں ہورہا ہے اورکائنات اپنی تمام نفاست اورلطافت کے باجود چپ رہتی ہے۔وہ سچ کوسچ نہیں کہتی اورجھوٹ ہونے کا اعلان نہیں کرتی۔

کیا کائنات کے اندر تضاد ہے ،کیا یہ ایک گونگی کائنات ہے۔جس کائنات کے پاس سریلے نغمے بکھیرنے والی چڑیاں ہوں ،کیا اس کے پاس حق کا اعلان کرنے کے لیے زبان نہیں۔قرآن اس سوال کا جواب دیتا ہے۔قرآن بتاتا ہے کہ کائنات کی یہ خاموشی اس لیے ہے کہ خدا نے اس کو قیامت کے آنے تک خاموش رہنے کا حکم دے رکھا ہے ، جیسے ہی صورپھونکا جائے گا۔تمام زبانوں کی مہریں ٹوٹ جائیں گی۔اس وقت ساری کائنات ایک عظیم الشان ٹیپ ریکارڈربن جائے گی اور پھر خدا کے گواہ کی حیثیت سے وہ سب کچھ بتائے گی جوحق اورعدل کے مطابق اسے بتانا چاہیے۔اس وقت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ جس کائنات کے پاس رات کو دن بنا دینے والا سورج تھااس کے پاس یہ بھی انتظام تھا کہ تاریکی میں چھپے ہوئے اعمال کو اجالے میں لاسکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کیسی عجیب محرومی

آپ کسی شخص کو ایک ڈالر دیں اوراس سے کہیں کہ آگے اسی قسم کے ایک کرورسکے پڑے ہوئے ہیں۔اگر تم تیزی سے جائو تو اس پورے ذخیرہ کو حاصل کرسکتے ہو۔ایسا آدمی ڈالر دیکھ کر کیا کرے گا۔وہ ایک کو بھول کر ایک کرورکی طرف دوڑپڑے گا۔

ایسا ہی کچھ معاملہ دنیا اورآخرت کا ہے۔موجودہ دنیا آخرت کا تعارف ہے۔یہاں آدمی ان نعمتوں اورلذتوں کی ابتدائی پہچان حاصل کرتا ہے جس کو خدا نے کامل طور پر آخرت میں مہیا کررکھا ہے۔یہ اس لیے ہے تاکہ آدمی جزءسے کل کو سمجھے۔وہ قطرہ کو دیکھ کر سمندر کا اندازہ کرے۔

اگر آدمی کو دنیاکی صحیح معرفت حاصل ہوتو اس کے لیے دنیا مذکورہ ایک ڈالر کی مانند ہوجائے گی۔وہ چھوٹی لذت کو چھوڑ کر بڑی لذت کی طرف بھاگے گا۔وہ دنیا کو بھول کر آخرت کی طرف دوڑ پڑے گا۔اس کے برعکس جو شخص دنیا کی صحیح نوعیت کو نہ سمجھے وہ موجودہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے گا۔وہ آخرت کو بھول کر اسی دنیا کی چیزوں میں ہمہ تن مشغول ہوجائے گا۔

سورج اس لیے ہے کہ وہ آخرت کی روشنیوں سے بھری زندگی سے انسان کو متعارف کرے۔مگر انسان سورج کو دیکھ کر یہ کرتا ہے کہ وہ خود سورج ہی کو اپنا معبود بنالیتا ہے۔ پھولوں اوردرختوں کا حسن اس لیے ہے کہ وہ آدمی کو آخرت کے حسن کی یاد دلائے۔ مگر انسان پھولوں اوردرختوں کو آخری چیز سمجھ کر انہیںکے درمیان اپنی مستقل جنت بنانے لگتا ہے۔دنیا کی لذتیں اس لیے ہیں کہ انسان کو ہمہ تن آخرت کا مشتاق بنادیں مگر انسان انہیںلذتوں میں ایسا کھوتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد بھی نہیں آتی۔

جو شخص موجودہ دنیا کی دلفریبیوں میں گم ہوجائے اس نے اپنی آخرت کو کھو دیا۔ایسا شخص آخرت میں پہنچے گا تو وہاں کی ابدی نعمتوں کو دیکھ کر اس کا یہ حال ہوگا گویا اس کا سینہ حسرت ویاس کا قبرستان بن چکا ہے۔وہ کہے گا کہ میں بھی کیسا نادان تھا۔میں نے جھوٹے عیش کی خاطر حقیقی عیش کو کھو دیا۔میں نے جھو ٹی لذت کے پچھے حقیقی لذت گنوا دی۔ میں نے جھوٹی آزادی سے فریب کھا کر اپنے آپ کو حقیقی آزادی سے محروم کرلیا۔

سب چلے گئے

فیبین سو شلزم(Fabian Socialism)ایک سو سال پہلے انگلینڈ میںوجود میں آئی۔ برناڈشا(1856-1950)اوردوسرے بہت سے دانشوراس سے وابستہ تھے۔فیبین کا لفظ ایک رومی جنرل (Fabius Maximus)کے نام سے لیا گیا تھا۔ یہ لوگ غریبی اور جہالت کے خاتمہ پر زور دیتے تھے اور جبر کے بغیر سوشلزم لانے کے علمبردار تھے۔ یہ گروہ فیبین سوسائٹی(Fabian Society) کے نام سے مشہور ہوا۔

اس نظریے کو ماننے والوں میں ایک خاتون بیٹرس ویب(Beatrice Webb) بھی تھیں۔وہ اپنی ڈائری لکھتی رہتی تھیں جو ان کے بعد شائع ہو کر کافی مقبول ہوئی۔ اس ڈائری کے آخری اندراجات میں سے ایک وہ ہے جو انھوں نے 1943 کی کسی تاریخ کو لکھا تھا۔ اس میں مذکور ہ خاتون نے تحریر کیا تھا 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Everything and everyone is disappearing Churchill Roosevelt, Stalin. What an amazing happening, and well worth recording in my diary. But that also will suddenly disappear (1943).

ہر چیز اور ہر شخص غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ چرچل ،روزولٹ، اسٹالن، سب چلے گئے۔کیسے عجیب ہیں یہ واقعات، اور کس قدر زیادہ میری ڈائری میں لکھے جانے کے قابل، مگر وہ بھی اچانک ایک روز غائب ہوجائے گی(ہندستان ٹائمس، 25دسمبر1984) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کیسے کیسے انسان اس دنیا میں آتے ہیں۔ وہ کیسے کیسے کمالات دکھاتے ہیں۔اور پھر اچانک ایک روز اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، جیسے کہ ان کا یہاں آنا اور یہاں سے جانا ان کی اپنی مرضی سے نہ ہو۔ بلکہ کوئی اور ہو جوان کو یہاں لاتا ہواور پھر اپنے یک طرفہ فیصلہ کے تحت انہیںیہاں سے اٹھا لے جاتا ہو۔

اس واقعہ کی کوئی بھی با معنی توجیہ اس کے سوا نہیں ہے کہ پیغمبروں کی اطلاع کے مطابق آخرت کو مانا جائے۔ آخرت کو شامل کرنے کے بعد موجودہ دنیا کی ہر چیز با معنی ہو جاتی ہے اور آخرت کو شامل کیے بغیر موجودہ دنیا کی ہر چیز بے معنی۔

21واں منٹ

موجودہ دنیا میں انسان بظاہر آزادہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جوچاہے کرے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔اس صورت حال نے انسان کو غفلت میں ڈال دیا ہے۔ہر آدمی بے خوف بنا ہوا ہے۔ہر آدمی وہ سب کر ڈالنا چاہتا ہے جس کو کرنے کے لیے اس کا دل کہے۔

مگر یہ صورت حال سراسر وقتی ہے۔آدمی کے پاس صرف ایک محدود مدت ہے۔اس خاص مدت کے اندر ہی وہ سر کشی کر سکتا ہے۔ اس مدت کے ختم ہوتے ہی اس کا مالک اسے پکڑلے گا۔اس کے بعد وہ مجبور ہو گا کہ اپنی سرکشی کا انجام ابدی طور پر بھگتتارہے۔

ہوائی جہاز کو اڑانے کے لیے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔21جولائی 1983 کو یہ واقعہ ہوا کہ ایک ہوائی جہاز اٹلانٹک سمندر کے اوپر اڑرہا تھا۔ عین پرواز کی حالت میں اس کے دونوں پائلٹ(ہوا باز) سو گئے اور مسلسل 20 منٹ تک سوتے رہے۔وہ صرف اس وقت بیدار ہوئے جب کہ پائلٹ کیبن میں ایک خاص طرح کا الارم بجنا شروع ہو گیا (ہندوستان ٹائمس، 22جولائی 1983) ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ہوائی جہاز کسی اتفاقی سبب سے اپنے روانگی کے مقام پر 12 گھنٹے لیٹ ہو گیا تھا۔اس غیر معمولی حادثہ کی وجہ سے پائلٹ بے حد تھکے ہوئے تھے۔ جب انھوں نے ہوائی جہاز کو اڑایا تو اس کے انجن کو انھوں نے ایک خاص رفتار پر سٹ کر دیا۔اب ہوائی جہاز ایک بندھی ہوئی رفتار پر اڑنے لگا۔ اس دوران میں تھکے ہوئے ہوا بازوں کی آنکھ بند ہو گئی۔ اوروہ مسلسل 20 منٹ تک سوتے رہے۔ یہاں تک کہ کنٹرول کا نظام بگڑ گیا اور ہوائی جہاز کی رفتار غیرمعمولی تیز ہوگئی۔اس کے بعد مشینی نظام کے تحت جہاز کا مخصوص الارم بجنے لگا۔الارم کی وجہ سے پائلٹ جاگ اٹھے اور فوراًانجن کو سنبھال لیا۔

فارن بورو(انگلینڈ) کے ہوائی جرنل(Feedback) میں ایک ہوا باز نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہوں کہ کیا کچھ ہو سکتا تھا :

other sourceWords of another person or source

I Shudder to think what could have happened.

موجودہ زندگی کو اگر’’ 20‘‘ منٹ کا لمحہ فرض کریں اور اس کے بعد 21 ویںمنٹ کو آخرت میں داخلہ کے ہم معنی قرار دیں توہم کہہ سکتے ہیں کہ قدرت نے انسان کو صر ف 20 منٹ تک غلطی کرنے کی اجازت دی ہے، اگر وہ آخر وقت تک ہوشیار نہ ہو تو قدرت اس کو 21 ویں منٹ میں غلطی کرنے کی اجازت نہ دے گی۔ 20 منٹ کے بعد اس کے لیے یاتو اپنی اصلاح کرلینا ہے یا موت کی گرفتاری۔

آرزوؤں کی دنیا

جنت کا انکاراپنے آپ کا انکار ہے۔جو شخص جنت کو نہیں مانتا وہ خود اپنی نفی کر رہا ہے۔ جو شخص جنت کو مانتا ہے مگر ٍاس کے لیے عمل نہیں کرتا وہ ایسا خریدار ہے جو ایک چیز خریدنا چاہتا ہے۔ مگر اس کی قیمت دینے کے لیے تیا ر نہیں۔

ہر انسان سب سے زیادہ کیا چاہتا ہے۔ہر انسان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو پاسکے۔ وہ ابدی طور پر جیتا رہے۔ وہ اپنی تمام آرزئوں کی تکمیل کر سکے وہ ایسی زندگی کا مالک بنے جو ہر قسم کی محدودیت(Limitations) اور ناخوشگواری (Disadvantage) سے خالی ہو۔

یہ آدمی کی سب سے بڑی تمنا ہے۔ہرآدمی اپنی اس تمنا کی تکمیل کے لیے دوڑ رہا ہے۔ مگر کوئی بھی آدمی اپنی اس تمنا کو پورا نہیں کر پاتا۔آدمی اپنی صحت بناتاہے مگر بہت جلد اس کی صحت کسی حادثہ یا بڑھاپے کا شکار ہو جاتی ہے۔آدمی دولت جمع کرتاہے مگر دولت اس کے قلب و دماغ کو سکون نہیں دیتی۔وہ اقتدار پر قبضہ کرتا ہے مگر اقتدار صرف اس کے مسائل میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ وہ عیش و عشرت کے سامان اکٹھا کرتا ہے مگر جلد ہی وہ اکتا ہٹ (Boredom)کا شکار ہو جاتا ہے۔

ہر آدمی اپنے لیے ایک جنت کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔مگر وہ اپنی جنت بنا نہیں پاتا کہ اس کی موت آجاتی ہے۔وہ اپنی تمام آرزئوں اور تمنائوں کو لیے ہوئے دنیا سے چلا جاتا ہے۔

آدمی موت کے بعد کہاں جاتا ہے۔وہ وہاں جاتا ہے جہاں اس کے خوابوں کی جنت بنی ہوئی ہے۔ مگر یہ جنت اس شخص کو ملتی ہے جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں اس کی قیمت ادا کی ہو۔ جو شخص موجودہ دنیا میں جنت کی قیمت ادا نہیں کر تا وہ گویا اسی چیز کی محرومی کا خطرہ مول لے رہا ہے جس کو وہ سب سے زیادہ پانا چاہتا ہے۔

جنت ہماری آرزئوں کا محل ہے۔ مگر جنت صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جس نے اس کو آخرت میں تعمیر کیا ہو۔ جو شخص اپنی جنت موجودہ دنیا میں تعمیر کرے اس کے لیے ابدی محرومی کے سوا کچھ اور نہیں۔

کیسی عجیب ہے وہ محرومی جب کہ آدمی عین اِسی چیز سے ابدی طور پر محروم ہو جائے۔ جس کے لیے وہ ساری عمر سب سے زیادہ آرزومند بنا ہوا تھا۔

ہر چیز میں سبق

خواجہ حسن نظامی (1878-1955) کا ایک مضمون ہے’’ مچھر کی کہانی‘‘ خواجہ صاحب نے مچھر سے شکایت کی کہ تم اتنا کیوں پریشان کر رہے ہو۔ ہم کو سونے کیوں نہیں دیتے۔ مچھر نے جواب دیا’’ سونے اور ہمیشہ سونے کا موقع ابھی نہیں آیا ہے۔جب آئے گا تو بے فکر ہو کر سونا۔ابھی تو ہوشیار رہنے اور کچھ کام کرنے کا وقت ہے‘‘ —اگر نصیحت لینے کا ذہن ہو تو مچھر کی بھنبھنا ہٹ میں بھی آدمی کو زندگی کا پیغام مل جاتا ہے۔ اور اگر نصیحت لینے کا ذہن نہ ہو تو بم دھماکے اور ٹینکوں کی گڑ گڑاہٹ بھی جمود کو توڑنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ایسے لوگوں کو قیامت کا طوفان ہی بیدار کر سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ قیامت کے طوفان سے بیدار ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہو گا نہ کہ عمل کرنے کا۔

قرآن میں کہا گیا ہے کہ— جنتی وہ ہے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر آئے (26:89) ۔حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ— اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین کی سمجھ دے دیتا ہے:مَنْ يُرِدِ اللَهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 71 )۔ اس سے معلوم ہواکہ اللہ کی سب بڑی نعمت یہ ہے کہ آدمی کا ذہن کھلاہوا ہو۔وہ حق کو اس کی اصل شکل میں دیکھ سکے۔وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزادہوکر رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ایسے آدمی کے سامنے جب کوئی سچائی یا کوئی سبق کی بات آتی ہے تو اس کو سمجھنے میں اسے دیر نہیں لگتی۔وہ اس کو فوراً پالیتا ہے اوراپنی زندگی میں اس کو شامل کرلیتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دنیا میں ہر طرف اللہ کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں ،کہیں جمادات خاموش زبان میں کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔کہیں ’’مچھر ‘‘اپنی زبان میں کوئی پیغام دیتا ہے۔کہیں انسانوں کے درمیان کوئی واقعہ ہوتا ہے اوراس میں ایک چھپا ہوا سبق موجودہوتا ہے۔کبھی کوئی اللہ کا بندہ کھلی ہوئی نصیحت کی زبان میں کسی امر حق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ان تمام مواقع پر وہی شخص سچائی کو پائے گا جس نے اپنا سینہ سچائی کے لیے کھلا رکھا ہو۔اگر آدمی کے اندر سبق لینے اوربات کوپکڑنے کا مزاج نہ ہو تو کوئی بھی چیزاسے فائدہ نہیں دے سکتی۔کھلے ذہن کا آدمی ’’مچھر ‘‘سے سبق لے سکتا ہے۔اور جس نے اپنے ذہن کی کھڑکیاں بند کرلی ہوں اس کے لیے خداکی کتاب اوررسول کا کلا م بھی ہدایت کوپانے کے لیے ناکافی ہے — سب سے بڑی چیز سبق لینے کامزاج ہے۔جس شخص کے اندر یہ مزاج پیدا ہوجائے اس کے لیے خدا کی ساری دنیا ایک زندہ کتاب بن جائے گئی۔اور جو اس مزاج سے محروم ہووہ ایک قسم کا جانور ہے جو سب کچھ دیکھنے اورسننے کے بعد بھی نہیں جانتا کہ کیا دیکھا اورکیا سنا۔

خرچ سے اضافہ

مسٹر رام رتن کپلا (پیدائش1918)نے 1937میں پندرہ روپیہ ماہوارکی ایک ملازمت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔اب دہلی میں نرائناانڈسٹریل ایریا میں ان کی فیکٹری ہے اور آصف علی روڈ پر بہت بڑاشوروم ہے۔انھوں نے اپنے ابتدائی دورکا ایک واقعہ اس طرح بتایا۔

یہ 1945ء کی بات ہے جب کہ میں ایک میکینک کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔میں نے کافی محنت سے کام کیا اوردھیرے دھیرے 25ہزار روپئے بینک میں جمع کرلیے۔ میں بہت خوش تھاکہ میں نے کارنامہ انجام دیاہے۔اس کے بعد ایسا ہواکہ راولپنڈی کے ایک بزرگ ’’خواجہ صاحب ‘‘انہیںدنوں میرے پاس آئے۔ہمارے ان کے درمیان بہت پرانے مراسم تھے۔میں ان کی بہت عزت کرتا تھا۔انھوں نے مجھ سے میرے کام کے بارے میں پوچھا۔میں نے فخر کے ساتھ انہیںبتایا کہ میں نے 25ہزار روپیہ بچا لیا ہے جو بنک میں جمع ہے۔ مجھے امید تھی کہ وہ مجھ کو شاباش دیں گے اِس کے برعکس انھوں نے مجھ کو لعنت ملامت کی اور کہا کہ تم نے اپنا وقت خراب کیا۔ تم کو شرم آنی چاہیے کہ تمہارے پاس 25 ہزار روپیہ بے کار پڑا ہواہے ،صرف اس لیے کہ بنک کا سود ملتا رہے۔اگر تم یہ بتاتے کہ میرے اوپر بنک کا قرض ہے تو البتہ مجھے خوشی ہوتی۔تم فوراً بمبئی جائو۔ کلکتہ جائو۔وہاں جاکر کاروبار دیکھو،ایجنسی لو،روپیہ کو کام میں لاو۔

شری رام رتن کپلا نے بتایا کہ اس کے بعد میں1945-1946میں بمبئی گیا۔ وہاں ریفریجریٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ایجنسیاں لیں۔ اس کے بعد ہمارا کاروبار خوب بڑھا۔ کافی پیسہ ہاتھ آیا۔اس کے بعد میں نے بارہ روپیہ ماہوار کا گیرج(garage) چھوڑ دیا اور ایک ہزار روپیہ ماہوار کرایہ پر موجودہ شو روم لیا۔

other sourceWords of another person or source

خدا نے اپنی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ یہاں خرچ کرنے سے اضافہ ہوتاہے۔ آپ چند دانے ’’خرچ ‘‘کرتے ہیں تو کھیت اس کے بدلے میں آپ کو ہزاروں دانے لوٹا تا ہے۔ کاروبار میں آدمی روپیہ لگاتا ہے تو وہ کئی گنا زیادہ ہو کر اس کی طرف واپس آتا ہے۔معاشرہ میں صدقات و خیرات کی صورت میں جو خرچ کیا جاتا ہے وہ بھی اس طرح اضافہ ہو کر آدمی کی طرف لوٹتا ہے کہ اس سے سماج میں باہمی اعتماد، ایک دوسرے کا لحاظ ، حقوق کی ادائیگی، دوسرے کے معاملے کو اپنا معاملہ سمجھنا جیسے احساسات پرورش پاتے ہیں اور وہ بے شمار صورتوں میں خود دینے والے کو نفع پہنچاتے ہیں۔

آخرت کے لیے خرچ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اگر آخرت کی راہ میں خرچ کریں تو وہ دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی صورت میں آپ کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ آخرت کی راہ میں خرچ سے جو اضافہ ہوتا ہے وہ سب سے بڑا اضافہ ہے، کیونکہ وہ نہ صرف مقدار میں زیادہ ہے بلکہ وہ دائمی بھی ہے۔ آخرت کے سوا کوئی دوسرا اضافہ دائمی نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب پردہ کھلے گا

خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے ان سب کے ساتھ ایک ہی مشترک حادثہ پیش آیا۔وقت کے اکابر نے ان کو نظر انداز کر دیا۔جو لوگ ماحول کے اندر بڑائی کا مقام حاصل کیے ہوئے تھے انھوں نے ان کو قابل التفات نہیں سمجھا۔

وقت کے یہ اکابر سب کے سب وہ لوگ تھے جو خدا کو مانتے تھے۔وہ اس کو بھی مانتے تھے کہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام دینے والا آتا ہے۔ حتی کہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو آنے والے پیغمبر خدا کا پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔وہ اس کی یاد میں پُر جوش تقریریں کرتے تھے مگر جب وہ آنے والا آیا تو انھوں نے اس کو نہیں پہچانا۔ انھوں نے حقارت کے ساتھ اس کو رو کر دیا۔

چونکہ وہ تقلید آباء کی سطح پر جی رہے تھے، وہ صرف ان پچھلے پیغمبروں کو پہچان سکے جن کا نام ان کے آبائی مذہب میں شامل تھا۔ جو ان کی قومی تقلید کا حصہ بن چکا تھا۔ جو انہیںتاریخی روایات کے تسلسل میں مل رہا تھا۔ وقت کا پیغمبر ابھی ان اضافی خصوصیات سے خالی تھا اس لیے وہ ان کو دکھائی بھی نہیں دیا۔ وقت کے نمائندہ خدا کو پہچاننے کے لیے جو ہرشنا سی کی صلاحیت درکار تھی اور یہ لوگ اس سے محروم تھے ،پھر وہ وقت کے پیغمبر کو کس طرح پہچانتے۔

یہ سب کرتے ہوئے وہ مذہب کا جھنڈا بھی اٹھائے ہوئے تھے۔وہ پچھلے پیغمبروں کا مومن ہونے پر فخر کرتے تھے۔ عوام کے درمیان وہ خدا کے دین کے سب سے بڑے حامی بنے ہوئے تھے۔مگر خدا کے یہاں وہ بالکل بے قیمت قرار پائے۔کیوں کہ ان کا مذہب آباء کی تقلید کی سطح پر پیدا ہوا تھا نہ کہ حقیقت کے اعتراف کی سطح پر۔

آخرت میں جب ان پر کھلے گا کہ انھوں نے جس کو نظر انداز کیا وہی وہ تھاجس کی زبان سے خدا نے اپنا کلام جاری کیا تھا۔ جو دنیا میں خد ا کا نمائندہ بنا کر کھڑا کیا گیا تھا تو یہی واقعہ ان کی ابدی روسیا ہی کے لیے کافی ہو گا۔وہ کہیں گے کہ ہائے ہمارا ندھا پن ،ہم نے اسی کو نہ دیکھا جس کو ہمیں سب سے زیادہ دیکھنا چاہیے تھا۔ ہم نے اسی کو نہ پہچانا جس کو ہمیں سب سے زیادہ پہچاننا چاہیے تھا۔

جھوٹی عظمت

نپولین بونا پارٹ (1769-1821)ایک فوجی افسر تھا۔ حالات سے فائدہ اٹھا کر وہ فرانس کی حکومت پر قابض ہو گیا۔1804میں اس نے فرانس کے تاعمر شہنشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ نپولین نے فتوحات کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں تک کہ انگلینڈ کو چھوڑ کر وہ پورے یورپ کا فاتح بن گیا۔ اس نے فرانس کی ایک دلکش خاتون جوزفین (Josephine)سے شادی کی۔مگر1810 میں اس نے جوزفین سے علیحدگی اختیار کر لی۔ کیونکہ وہ شہنشاہ یو رپ کا جانشین پیدا کرنے میں نا کام رہی تھی۔

اس کے بعد نپولین نے آسٹریا کے بادشاہ کی لڑکی میری لوئی (1791-1847) سے شادی کی۔ 1811 میں اس کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام اس نے فرانسس جوزف چارلس رکھا۔نپولین خوش تھا کہ اس نے اپنی بادشاہت کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے اپنا ایک ولی عہد پا لیا ہے۔ مگر اس کے جلد ہی بعد یہ واقعہ ہوا کہ نپولین کی سیاسی حرص نے اس کو روس سے ٹکرا دیا۔ روس کی فوجیں اگرچہ نپولین کی فوجوں کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ تاہم روس کا جغرافیہ اس کی مدد پر آگیا۔ نپولین کی فوجیں روس کی شدید برفباری کی تاب نہ لاسکیں۔نپولین اس حال میں روس سے واپس آیا کہ اس کی فوج کا بڑا حصہ راستہ میں برباد ہو چکا تھا۔ یہ واقعہ1812 میں ہوا۔ بعد کے حالات اس کے لیے اور بھی نا موافق ثابت ہوئے۔یہاں تک کہ 1815 میں نپولین کو برطانوی فوجوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔اس کو گرفتار کر کے جزیرہ سینٹ ہیلینا بھیج دیا گیا۔ یہاں 1821 میں وہ قید کی حالت میں مر گیا۔

انسان اپنی اولاد تک کے لیے عظمت کا خواب دیکھتا ہے، حالانکہ وہ خود بہت جلد بے عظمت ہو جانے والا ہے۔اس دنیا میں ہر روز کوئی نپولین بے عظمت ہو کر مر رہا ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اس سے سبق لے۔کوئی نہیں جو اس کو اپنی زندگی کے لیے رہنما بنائے۔

موجودہ دنیا میں ہر انسان کو صر ف محدود موقع دیا گیا ہے۔ مگر ہر انسان اپنے لیے لامحدود منصوبہ بناتا ہے۔ ہر شخص کی عظمت آخر کا ر یہاں خاک میں مل جاتی ہے۔ ہر دیکھنے والا اس کو دیکھتا ہے مگر کوئی اس سے سبق نہیں لیتا۔ہر آدمی اس کہانی کو دوبارہ لکھنا چاہتا ہے جس کو اس کے پیش رونے لکھنا چاہاتھا مگر وہ اس کو لکھنے میں ناکام رہا۔

خدا اورانسان

آنے والا دن

موجودہ دنیامیں جب کوئی آدمی خدا کو مانتا ہے تو وہ دلیل کی بنیاد پر خدا کو مانتا ہے۔ آخرت میں جو لوگ خدا کومانیں گے وہ خدا کے زوروقوت کی بنیاد پر خداکو مانیں گے۔گویا موجودہ دنیا میں دلیل خدا کی نمائندہ ہے۔اس کے برعکس آخرت میں یہ ہوگا کہ خداخود اپنی ذات کمال کے ساتھ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے ظاہر ہوجائے گا۔

اس سے یہ معلوم ہواکہ حقیقت میں خدا کو ماننے والا کون ہے اوراس کو نہ ماننے والا کون۔خدا کو ماننے والا وہ ہے جو معقولیت کے وزن کومانے۔جو حق کے آگے اس وقت جھک جائے جب کہ اس کے ساتھ لفظی دلیل کے سوا کوئی اورزورشامل نہ ہو۔اس کے برعکس جس کا یہ حال ہوکہ کوئی بات محض اپنی سچائی کی بنا پر اس کو متاثر نہ کرسکے ،وہ کسی سچائی کو صرف اس وقت مانے جب کہ وہ کسی وجہ سے اس کو ماننے کے لیے مجبور ہوگیا ہو۔جس سچائی کے ساتھ ایسا کوئی دباو موجودہ نہ ہو وہ اس کو ماننے کے لیے بھی تیار نہ ہوتا ہو،ایسا آدمی خدا کو ماننے والا نہیں ہے۔اس کا معبود ظاہری طاقت ہے نہ کہ غیبی خدا۔

خدا اپنے ماننے کا ثبوت غیب کی سطح پر لے رہا ہے اورلوگ اس کو ماننے کا ثبوت شہود کی سطح پر دینا چاہتے ہیں۔خدا چاہتا ہے کہ آدمی حق کے آگے جھک جائے مگر آدمی صرف طاقت کے آگے جھکنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔خدا چاہتا ہے کہ آدی محض خدا کے خوف کی بنا پر انصاف کے طریقہ کو اپنا لے۔مگر انسان صرف اس وقت انصاف کرنے پر راضی ہوتا ہے جب کہ وہ اس کے لیے مجبور ہوگیا ہو۔جہاں مجبوری نہ ہو وہاں وہ فوراً سرکشی کرنے لگتا ہے۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو چھپا لے۔ مگر قیامت ہر آدمی کو برہنہ کردے گی۔اس وقت بہت سے خدا پرست غیر خدا پرستوں کی صف میں نظر آئیں گے ،بہت سے حق کو ماننے والے حق کو نہ ماننے کے مجرم قرار دیے جائیں گے۔بہت سے لوگ جو جنت کا الاٹمنٹ لیے ہوئے ہیں وہ اپنے کو جہنم کے دروازے پر کھڑاہو اپائیں گے۔انسان کتنا زیادہ بے ڈربنا ہواہے ،حالانکہ کتنا زیادہ ڈرکا لمحہ اس کے لیے آنے والا ہے

عجیب یادگار

مسز اندرا گاندھی (1917-1984)پہلی بار1966میں ہندستان کی وزیراعظم بنیں۔ اس وقت ان کی سرکاری رہائش گاہ کے لیے یہ انتظام کیا گیا کہ صفدر جنگ روڈ(نئی دہلی ) کے دو مکانات کوملاکر ایک بڑا مکان بنایا گیا۔یہ وزیراعظم اندراگاندھی کی سرکاری رہائش گاہ تھی۔اس رہائش گاہ میں اوراس کے آس پاس بہت دور تک وزیراعظم کی حفاظت کے لیے انتہائی غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔مگر 31اکتوبر 1984کو مسزگاندھی کا خاتمہ سادہ طورپر اس طرح ہواکہ مسزگاندھی کے حفاظتی دستہ کے دو آدمیوں (بینت سنگھ اورستونت سنگھ) نے انہیںاسی ہتھیار کا نشانہ بنا کر ختم کردیاجو وزیراعظم کی جان کی حفاظت کے لیے انہیںخصوصی طور پر مہیا کیے گئے تھے۔

صفدر جنگ روڈ کے اس مکان کو اب مسز اندراگاندھی کی یاد گارمیں تبدیل کیا جارہا ہے۔اس سلسلہ میں حکومت کے منصوبہ کو بتاتے ہوئے اخباری رپورٹ (ٹائمس آف انڈیا،10نومبر1984)میں یہ الفاظ درج تھے:

.... that the house should be maintained as a place where people could come and pay their tributes to the memory of the most powerful woman in the world who died a martyr.

حکومت کا خیال ہے کہ اس گھر کو ایک ایسے مقام کی حیثیت سے باقی رکھا جانا چاہیے جہاں لوگ آئیں اوراس خاتون کو خراج عقیدت پیش کریں جو دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ورخاتون تھیں اوریہاں ایک شہید کی حیثیت سے مریں۔

مسز اندراگاندھی کی زندگی کے دورخ ہیں۔ایک ان کا ہندستان کا وزیراعظم ہونا۔ دوسرا ان کا بے یارومددگار انسان کی حیثیت سے مارا جانا۔دونوں کو ملا کر دیکھیے تو مسز اندرا گاندھی کی زندگی انسان کے کمال عجز کی داستان سنارہی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ایک وزیر اعظم بھی اتنا ہی کمزورہے۔جتنا ایک معمولی انسان۔مگر جن لوگوں نے مسزگاندھی کے پہلے رخ کو ان کے دوسرے رخ سے الگ کرکے دیکھا ان کے لیے یہ واقعہ بالکل الٹے مفہوم کا حامل بن گیا۔

کیسی عجیب بات ہے۔جو واقعہ انسانی عجز کا سبق دے رہا ہے ،اس سے نادان لوگ انسانی کبریائی کا سبق لے رہے ہیں۔جو واقعہ انسان کے لیے بے طاقت ہونے کا ثبوت ہے اس کو اس بات کی یادگاربنا یا جایا رہا ہے کہ انسان کس قدر طاقت ور ہے۔

یہ سونے والے

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں نے نہیں دیکھا کہ جہنم جیسی چیز سے بھاگنے والا سوگیا ہو اورمیں نے نہیں دیکھا کہ جنت جیسی چیز کو چاہنے والا سوگیا ہو:مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، وَلاَ مِثْلَ الجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2601)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جہنم کا عذاب کتنا ہولناک ہے۔مگر آدمی اس سے غافل ہے۔جنت کی نعمتیں کتنی لذیز ہیں مگر آدمی کواس کا کوئی شوق نہیںیقینا یہ زمین پر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے زیادہ عجیب ہے۔

لوگ سورہے ہیں تاکہ اس وقت جاگیں جب کہ جہنمی آگ کے شعلے ان کے لیے سونے کو ناممکن بنا دیں۔لوگ غافل ہیں تاکہ اس وقت ہوشیار ہوں جب کہ محرومی اور رسوائی ان کے اوپر اس طرح ٹوٹ پڑے کہ ان کے لیے اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ ہو۔

آج ہر آدمی بے ہوش نظر آتا ہے۔ہر آدمی اپنے آپ میں اس طرح گم ہے جیسے اس کے اوپر کوئی اورطاقت نہیں۔حالاں کہ موت ہر روز بتارہی ہے کہ آدمی ایک ایسی حقیقت سے دوچار رہے جس کے مقابلہ میں کسی کا کچھ بس نہیں چلتا۔انسان کتنا زیادہ مجبور ہے مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ بااختیار سمجھتا ہے۔

آدمی وعدہ کرتا ہے مگر اس کے بعد اس کو نظر انداز کردیتا ہے۔اس کے اوپر کسی کا ایک حق آتا ہے مگر وہ اس کو ادا نہیں کرتا ہے۔آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے مگر وہ اس کا اعتراف نہیںکرتا۔وہ دوسرے کے اوپر یک طرفہ الزام لگاتا ہے اوراپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔وہ چھوٹوں کو نظر انداز کرکے بڑوں کا استقبال کرتا ہے۔وہ اپنی زندگی کو اصول کے تابع کرنے کے بجائے خواہشات کے تابع کرتا ہے۔وہ زور آور سے دبتا ہے اوربے زور کو ستاتا ہے۔وہ خدا کو مرکز توجہ بنانے کے بجائے خود اپنی ذات کو اپنا مرکز توجہ بناتا ہے۔وہ جنت کے اشتیاق اورجہنم کے اندیشوں میں جینے کے بجا ئے دنیا کے اشتیاق اور دنیا کے اندیشوں میں جیتاہے۔

آدمی یہ سب کچھ کرتا ہے اوربھول جاتا ہے کہ اپنی اس روش سے اپنے آپ کو جہنم کے قریب لے جارہا ہے اوراپنے آپ کو جنت کے لیے نااہل ثابت کررہا ہے۔

آہ! وہ انسان جس کو اسی چیز کا شوق نہیں جس کا اسے سب سے زیادہ شوق ہونا چاہیے۔ آہ ! وہ انسان جو اسی چیز سے سب سے زیادہ بے خوف ہے جس سے اس کو سب سے زیادہ خوف کرناچاہیے۔

خدا اورانسان

کائنات خدا کا آئینہ ہے۔یہاں خدا اپنی مخلوقات کے روپ میں نمایاں ہے۔آدمی کی حساسیت اگر زندہ ہو تو اپنے گردوپیش وہ خداکو پائے گا۔اپنے چاروں طرف وہ خدا کا مشاہدہ کرے گا۔خدا کی کائنات اس کے لیے خدا کا زندہ ثبوت بن جائے گی۔

دنیا میں زندگی کی سرگرمیاں اس بات کا کھلا ہوااعلان ہیں کہ اس دنیا کا خالق ایک زندہ ہستی ہے۔نہ کہ کوئی ایسی ہستی جو زندگی اورحیات سے محروم ہو۔جب سورج نکلتا ہے اور چھپی ہوئی چیزیں اس کی روشنی میں دکھائی دینے لگتی ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے۔جیسے خدا نے اپنی آنکھیں کھولی ہوں ،جیسے خدا ایک دیکھنے والی ہستی ہو اوراپنی آنکھوں سے سارے عالم کو دیکھ رہا ہو۔دریائوں میںجب پانی کا سیلاب رواں ہوتا ہے تو وہ پُرشور اعلان کرتا ہے کہ اس دنیا کا خالق ایک ایسا خالق ہے جو چلتا ہے اوراقدام کرکے آگے بڑھتا ہے۔جنگل کا شیر جب اپنا پنجہ نکال کر کسی جانور کو اپنی پکڑمیں لیتا ہے تو گویا وہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے والا خدا ایک ایسا خدا ہے جو پکڑنے کی طاقت رکھتا ہے اور چیزوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔خلا کی بے پایاں وسعتیں اس حقیقت کا ابدی اظہار ہیں کہ اس کائنات کا خالق ایک لامحدود ہستی ہے ،وہ اپنی ذات میں بھی اتھاہ ہے اوراپنی صفات میں بھی۔

خدا کا یہ کائناتی مشاہدہ ایک طرف آدمی کے اندر خدا کا یقین پیدا کرتا ہے دوسری طرف اس کو بہت بڑے سوال سے دوچار کردیتا ہے۔اس دنیا کا اگرخدا ہے تو وہ اپنی دنیا میں ظاہر کیوں نہیں ہوتا۔دنیا میں بے پناہ برائیاں ہیں۔یہاں ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے۔ایک شخص موقع پاکر دوسرے شخص کو ذبح کردیتا ہے۔یہ سب خدا کی دنیا میں ہر روز ہورہا ہے مگر خدا ظالموں کا ہاتھ نہیں پکڑتا،وہ مظلوموں کی جانب کھڑانہیں ہوتا۔

اس سوال کو صرف اس وقت سمجھا جاسکتا ہے جب کہ مخلوقات کے بارے میں خالق کی اسکیم کو سمجھ لیاجائے۔موجودہ دنیا خدا کا مستقل بندوبست نہیں ،وہ صرف امتحانی بندوبست ہے۔یہ گویا ایک کھیت ہے جس میں مختلف پودوں کو اگنے کا موقع دے کر یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا درخت ہے اورکون جھاڑ جھنکاڑ۔اس کے بعد اچھے درختوں کو ہر قسم کے بہترین مواقع دے کر تمام برے درختوں کو اکھاڑدیاجائے گااورپھر خداکی دنیا خدا کے معیاری انتظام کے تحت حسن اورلذت کی ابدی بہشت بن جائے گی۔

انسان کی غلطی

انسان نے ہمیشہ خدا کو سمجھنے میں بھی غلطی کی ہے اوراپنے آپ کو سمجھنے میں بھی۔اس نے خدا کو اپنے جیسا سمجھ لیا اوراپنے آپ کو خدا جیسا۔یہی ہر دور کے انسان کی غلطی رہی ہے۔ساری انسانی تاریخ اسی غلطی اوراس کے نتائج کی داستان ہے۔

خدا کو اپنے جیسا سمجھنا یہ ہے کہ خدا کو انسانی سطح پر اتارلایا جائے۔الحاد اورشرک کی تمام قسمیں اسی غلطی کی پیداوار ہیں۔الحاد بھی خدا کو انسان پر قیاس کرنے کا دوسرانام ہے اورشرک بھی۔

انسان ہمیشہ باپ اورماں کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے ،وہ کسی جننے والے کے ذریعہ جنا جاتا ہے۔اس بنا پر گمان کرلیا گیا کہ خدا اگر ہے تو اس کو جننے والا بھی کوئی ہونا چاہیے۔کسی کو خدا سے پہلے ہونا چاہیے جو خدا کو وجود بخشے۔اب چونکہ انسان کوخدا ئے لم یزل پیدا کرنے والا کوئی نظر نہ آیا اس لیے اس نے خدا کے وجود کا انکار کردیا۔انسان اپنی تخلیق کی صورت میں اپنے خالق کو دیکھ رہاتھا۔مگر وہ اپنے ایک غلط مفروضہ کی وجہ سے اس کو ماننے پر تیار نہ ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جن لوگوں نے خداکو مانا انھوں نے یہی غلطی دوسرے انداز سے کی۔انھوں نے دیکھا کہ انسان جب کوئی کام انجام دیتا ہے تو بہت سے لوگوں کی مدد سے انجام دیتا ہے۔ اس بنا پر انھوں نے خدا کے بھی شریک اورمددگار فرض کرلیے۔انسان کے یہاں بڑے لوگوں کی سفارشیں چلتی ہیں۔چنانچہ مان لیا گیا کہ خدا کے بھی کچھ مخصوص اورقریبی لوگ ہیں جو خدا کے دربار میں اثر رکھتے ہیں اورخدا ان کی سفارشیں قبول کرتا ہے۔انسان جذبات سے مغلوب ہوتا ہے۔وہ اکثر حق کے تقاضوں کو چھوڑکر جذباتی میلان کے تحت فیصلے کرتا ہے۔اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ عقیدہ بنالیا گیا کہ خدا محض گروہی تعلق کی بنیاد پر کچھ لوگوں سے ایسا معاملہ کرتا ہے جو معاملہ وہ دوسرے گروہ سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نہیں کرتا۔اس قسم کا ہر عقیدہ خدا کی خدائی کی نفی ہے۔مگر انسان اپنی نادانی سے اکثر اپنے ذہن میں ایسے متضاد خیالات کو جمع کرلیتا ہے جن کا بیک وقت درست ہونا ممکن نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اپنے آپ کو خدا جیسا سمجھنا یہ ہے کہ آدمی یہ گمان کرلے کہ وہ اپنی تقدیر کا مالک آپ ہے۔وہ آزادہے کہ جو چاہے کرے اورجو چاہے نہ کرے۔وہ اپنی زندگی کا اصول آپ وضع کرے اوراپنے حلال وحرام کو خود اپنی عقل سے متعین کرے۔اس قسم کی ہر کوشش گویا اپنے آپ کو خدا کے مقام پر بٹھانا ہے ،جو چیز صرف خدا کا حق ہے اس کا حق دار اپنے آپ کو سمجھنا ہے۔مگر ایسا ہر گمان اس کائنات میں سراسر باطل ہے۔کیونکہ انسان صرف ایک عاجز مخلوق ہے ،وہ کسی بھی اعتبار سے خالق کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا۔

انسا ن کی تلاش

انسان کے اندر ایک عجیب خصوصیت ہے جو کسی دوسری مخلوق میں نہیں۔وہ ہے لامتناہی تلاش کا جذبہ۔ہر آدمی اپنے پیدائشی جذبہ کے تحت ایک ایسی نامعلوم چیز کی تلاش میں رہتا ہے جس کو اس نے پایا نہیں۔کوئی بھی کامیابی اس کو اس طلب کے بارے میں مطمئن نہیں کرتی ،کوئی بھی ناکامی اس کے اندر سے اس جذبہ کو فنا نہیں کرپاتی۔فلاسفہ اس کو آئیڈیل کی طلب کہتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ آئیڈیل کی طلب ہی تمام انسانی سرگرمیوں کی حقیقی اورآخری قوت محرکہ ہے۔اگر یہ طلب نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں اچانک ٹھپ ہوکر رہ جائیں۔انسانی ذہن کی یہی وہ زبردست طلب ہے جس کو فرائڈ(1856-1939)نے غلط طورپر جنسی خواہش سے تعبیر کیا۔ایڈ لر(1870-1937)نے اس کو غلط طورپر حصول طاقت کی خواہش قرار دیا۔میک ڈوگل (1871-1938)نے غلط طورکہا کہ یہ انسان کی تمام حیوانی جبلتوں کے مخلوطہ کا ایک پُراسرار نتیجہ ہے۔ مارکس(1818-1883) نے اس کو غلط طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ انسانی زندگی کی معاشی خواہش ہے اوریہی اس کی تمام سرگرمیوں کو کنڑول کرتی ہے۔مگر ان توجیہات کو غلط قرار دینے کے لیے یہی واقعہ کافی ہے کہ یہ چیزیں جن لوگوں کو پوری طرح ملیں وہ بھی مطمئن نہ ہوسکے۔ان کی اندرونی ہستی بھی اسی طرح بے چین رہی جس طرح ان چیزوں سے محروم رہنے والے بے چین نظر آتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان ہزاروں برس سے اپنے اس آئیڈیل کو دنیا کی چیزوں میں تلاش کررہا ہے ،مگر کوئی بھی شخص اس اطمینان سے دوچار نہیں ہواکہ اس نے اپنی تلاش کا مکمل جواب پالیا ہے ۔اس معاملہ میں بادشاہ یاامیر بھی اتنا ہی غیرمطمئن رہتا ہے جتنا کوئی بے زوراورمفلس آدمی۔یہ لمبا تجربہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ’’نظر آنے والی‘‘دنیا میں آدمی کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔اس کا جواب اس ’’نظر نہ آنے والی‘‘دنیا میں ہے جس کو آدمی محسوس تو کرتا ہے مگر دیکھ نہیں پاتا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ طلب خدا کی طلب ہے۔آدمی جس آئیڈیل کو پانے کے لیے بے قرار رہتا ہے وہ خود اس کا خالق ہے۔ہر آدمی جس چیز کی تلاش میں ہے وہ دراصل وہ خدا ہے جو اس کی روح میں سمایا ہواہے۔ہر آدمی اپنی فطرت کے تحت مسلسل خداکی جستجو میں رہتا ہے وہ اپنے اس اندرونی جذبہ کے تحت دنیا کی مختلف چیزوں کی طرف دوڑتا ہے اورسمجھتا ہے کہ شاید یہ چیزاس کی تلاش کا جواب ہو۔مگر جب وہ اس کو پالیتا ہے اورقریب سے اس کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزوہ نہیں جس کی تلاش میں وہ سرگرداں تھا۔

دو قسم کی روحیں

قرآن کی سورہ الشمس میں ارشاد ہواہے:قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (91:9-10)۔یعنی،وہ شخص کامیاب رہا جس نے اپنے آپ کوپاک کیااوروہ شخص برباد ہوگیا جس نے اپنے آپ کو گنداکیا۔موجودہ زندگی آخرت سے پہلے کاایک امتحانی موقع ہے۔جو شخص یہاں سے نیک اورستھری روح لے کر آخرت کی دنیا میں پہنچے گاوہ وہاں جنت کی پر مسرت فضائوں میں بسایا جائے گااورجو شخص یہاں سے برائیوں میں لپٹی ہوئی روح لے کر آخرت کی دنیا میں جائے گااس کو وہاں جہنم کے پُر عذاب ماحول میں دھکیل دیاجائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا گویا خدا کی نرسری ہے۔نرسری میں مختلف قسم کے پودے اگائے جاتے ہیں۔زمین میں روئیدگی کی قوت بہت زیادہ ہے۔چنانچہ یہاں طرح طرح کے پودے اگ آتے ہیں۔مالی ان سب کی جانچ کرتا ہے۔جو پودے غیر مطلوب پودے ہیں ان کو وہ کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔اور جو پودے اس کے مطلوب پودے ہیں ان کو اہتمام سے نکال کرلے جایا جاتا ہے تاکہ کسی باغ میں ان کو پھلنے پھولنے کے لیے نصب کردیاجائے۔

موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے بیک وقت دونوں مواقع کھلے ہوئے ہیں۔وہ چاہے تو اپنی روح کو پاک کرے اورچاہے تو گندا کرتا رہے۔کوئی وہ شخص ہے جو اللہ کی بڑائی کو مان کراس کے آگے اپنے آپ کو جھکادیتا ہے۔اس کے سامنے جب کوئی حق آتا ہے تو وہ بے جھجھک اس کا اعتراف کرلیتا ہے۔لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ خیر خواہی اور انصاف کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔دوستی ہو یا دشمنی ہر حال میں وہ خدا کی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ اپنے نفس کی مرضی پر۔یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی روح کو پاک کیا۔اس کو اس کا خدا جنت کی پُربہار دنیا میں بسائے گا۔

دوسراآدمی وہ ہے جو خود اپنی لڑائی میں گم رہتا ہے۔اس کے سامنے حق آتا ہے تو وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔معاملات میں وہ سرکشی اور بے انصافی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔وہ اپنی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ خدا کی مرضی پر۔یہی وہ آدمی ہے جس نے اپنی روح کو گندا کیا۔کائنات کا مالک اس کو اپنے پڑوس کے لیے قبول نہیں کرے گا۔وہ اس کو جہنم میں دھکیل دے گا تاکہ وہ ابدی طورپر اپنے جرم کی سزابھگتتا رہے۔

مقبول بندے

جسم میں اگر ایسا خون داخل کیا جائے جو آدمی کے بلڈ گروپ کا نہ ہوتو جسم اس کو قبول نہیں کرتا۔اس کے اندر فوراً ضد جسم (antibodies)پیدا ہوجاتے ہیں۔اوروہ خون باہر نکال دیاجاتا ہے۔اسی طر ح جلے یاکٹے ہوئے حصہ جسم پر قلم بندی ہوتی ہے جس کی محفوظ صورت یہ ہے کہ خود اپنے جسم کی کھال لے کر مقام مائوف پر لگا دی جائے جس کو آٹو گریفٹنگ کہتے ہیں۔اب اگر کسی مقام پر کھال کی قلم بندی (Skin Grafting) کرنی ہے اور وہاں کسی غیر متعلق جسم کی کھال لے کر لگا دی گئی تو وہ چند دن ٹھیک رہے گی۔مگر ایک ہفتہ کے اندر جسم اس کی اجنبیت کو پہچان لے گا۔خون کا دوران اس مقام پر رک جائے گااوربالآخر کھال کا مذکورہ ٹکڑاالگ ہوکر گرجائے گا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر ولیم بائڈ(1885-1979) نے اپنی پیتھا لوجی(pathology) کی کتا ب (صفحہ177) میں لکھا ہے کہ خود ی غیر خود ی کو قبول نہیں کرتی :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Self will not accept not-self.

یہ چھوٹے سِلف (انسان )کی خود داری کی ایک مثال ہے۔اسی پر بڑے سِلف (خدا)کی غیرت اورخودداری کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تمام غیرت مندوںسے زیادہ غیرت مند اورتمام یکتا پسندوں سے زیادہ یکتا پسند ہے۔خدا کسی حال میں بھی کسی قسم کی دوئی کو گوارہ نہیں کرتا۔وہ ہر دوسرے قصور کو معاف کردے گا مگر شرک کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وہ کون خوش قسمت لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے مقبول بندے ٹھہریں گے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے سلف کے خول کو توڑ کر خدا کے سلف میں گم ہونے پر راضی ہوگئے۔جو اپنی یاکسی دوسرے کی یکتا ئی کو بھلا کر خداکی یکتائی کے آگے جھک گئے۔جنھوں نے ہر قسم کے شرک کو چھوڑ کر توحید خالص کو اختیار کرلیا۔انسان کے لیے اگرچہ یہ مشکل ترین کام ہے کہ وہ اپنے سواکسی دوسرے کا اقرار کرے۔جب بھی کوئی شخص کسی دوسرے کومانتا ہوانظر آئے تو وہ یا تو خوف کی بنیاد پر ہوگا یا مصلحت کی بنیاد پر۔تاہم یہی وہ عطیہ ہے جو کوئی انسان کبھی کسی کو نہیں دیتا اوراسی کا مطالبہ انسان کے خالق نے انسان سے کیا ہے۔اور اسی کا نام اسلام ہے۔مسلم وہی ہے جو اپنی خود ی کا اثاثہ اپنے خالق کو دینے پر راضی ہوجائے۔جو اپنے آپ کو پوری طرح خداکی سپردگی میں دے دے۔جو ہر اعتبار سے خداکا تابع فرمان بن جائے۔اس میں شک نہیںکہ یہ انسان کے لیے ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے۔مگر اسی کو خدانے اپنی جنت کی قیمت بنادیاہے۔جنت کی انوکھی نعمت اسی خوش نصیب کے حصہ میں آئے گی جو اس انوکھے عطیہ کی صورت میں اس کی قیمت پیش کردے۔

خوراک

والڑڈی لامیر(Walter De La ‘Mare)ایک انگریز شاعر ہے۔وہ1873میں پیدا ہوا اور1956 میں اس کی وفات ہوئی۔اس نے انسان کے بارے میں ایک طنزیہ نظم کہی ہے جس کا ایک ٹکڑایہ ہے :

It is a very odd thing

As odd as can be

That whatever Miss T eats

Turns into Miss T

یہ ایک نہایت عجیب بات ہے ،اتنی عجیب جتنی کہ کوئی چیز عجیب ہوسکتی ہے۔مس ٹی جو کچھ بھی کھاتی ہے وہ سب مس ٹی بن جاتاہے۔

ہر آدمی کی اپنی ایک منفرد شخصیت ہوتی ہے۔اس کا رنگ ،اس کے بدن کی ساخت ، اس کے بولنے کی زبان ،اس کا طرزفکر ،سب اس حد تک دوسروں سے مختلف ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کے مقابلہ میں پہچانا جاسکے۔آدمی روز انہ طرح طرح کی چیزیں کھاتا ہے۔مگر وہ جو کچھ کھاتا ہے وہ اس کے اند رجاکر اس کی اپنی شخصیت میں ڈھل جاتا ہے۔کوئی کھانے کی چیز باہر خواہ کچھ بھی ہومگر وہ آدمی کے اندر داخل ہونے کے بعد وہی بن جاتی ہے جو وہ خود ہوتا ہے۔ہر آدمی جو خوراک کھاتا ہے یا پانی وہ اپنے جسم میں داخل کرتا ہے اس کو وہ تحلیل کرکے اپنے وجود کا حصہ بنالیتا ہے۔

یہی معاملہ خیالات ونظر یات کا بھی ہے۔آدمی بہت کم ایساکرتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھے یا سنے اس کو اس طرح دیکھے یاسنے جیسا کہ فی الواقع وہ ہے۔اکثروہ چیزوں کو اس شکل میں دیکھتا ہے جیسا کہ وہ خود دیکھنا چاہتا ہے۔ہر بات جو آدمی کے اندر داخل ہوتی ہے وہ اس کے اپنے ذوق کے مطابق بدل کر اس کی فکر کا جزءبن جاتی ہے۔

اسی مثال میں مومن اورغیر مومن کا فرق دیکھا جاسکتا ہے۔دنیاطرح طرح کے واقعات وحقائق سے بھری ہوئی ہے۔یہ واقعات وحقائق مومن کے سامنے بھی آتے ہیں اورغیر مومن کے سامنے بھی مگر دونوں انہیںاپنے اپنے زاویہ نظرسے دیکھتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک کے لیے وہ اس کے ایمان کی غذابن جاتے ہیں۔مگر دوسرے کو ان سے اس کے سواکچھ اورنہیں ملتا کہ اس کی سرکشی اورگمراہی میں اضافہ ہوجائے۔

کم سمجھنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک غیر امیر خاندان میںپیداہوئے۔آپ ابھی ماں کے پیٹ میں تھے کہ آپ کے والد کا انتقال ہوگیا۔پیدائش کے جلد ہی بعد آپ کی والدہ بھی اس دنیا سے چلی گئیں۔آپ کو حلیمہ سعدیہ نے دودھ پلایا۔حلیمہ کے شوہر کو ابوکبشہ کہا جاتا تھا۔یہ ایک نہایت غریب خاندان تھاجو محنت مزودری پر گزرکرتاتھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ایک یتیم بچہ کی حیثیت سے پر ورش پائی۔وہ قلیل معاوضہ پر مکہ والوں کی بکریاں چراتے تھے۔آپ کے ساتھ کوئی عظیم ماضی شامل نہ تھا۔ چنانچہ مکہ والوں کی نظر میں آپ کی تصویر ایک حقیر تصویر بن گئی۔آپ کا شمار مکہ کے بڑے لوگوں میں نہ تھا۔بلکہ ان لوگوں میں تھاجو لوگوں کے نزدیک قابل تذکرہ نہیں ہوتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ کر جب آپ پر وحی آئی اورآپ نے مکہ میں اپنی پیغمبری کا اعلان کیاتو لوگوں کو یہ ایک مذاق کی بات معلوم ہوئی۔مکہ والوں کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ شخص جو کل تک ایک معمولی آدمی تھا وہ آج خداکا رسول کیسے بن گیا۔انھوں نے حقارت کے ساتھ کہا کہ یہ ابوکبشہ کے لڑکے کو دیکھو ،وہ کہتا ہے کہ اس کو آسمان سے وحی آتی ہے:هَذَا ‌ابْنُ ‌أَبِي ‌كَبْشَةَ‌ يُكَلَّمُ ‌مِنَ ‌السَّمَاءِ(نور الیقین ،جلد1، صفحہ 10)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی چیز ہر دور میں پیغمبروں کے ہم زمانہ لوگوں کے لیے پیغمبروں کے انکار کا سبب بن گئی۔خدا نے کبھی بادشاہوںیاوقت کی عظیم شخصیتوں کوپیغمبر نہیں بنایا۔بلکہ غیر معروف لوگوں میں سے ایک شخص کو پیغمبری کے لیے چن لیا۔اب جن لوگوں نے اس شخص کو پیغمبری سے پہلے کم سمجھاتھا وہ پیغمبر ی کے بعد بھی اس کو کم سمجھتے رہے۔خدانے انہیںبڑاکردیا مگرجو لوگ انہیںپہلے چھوٹا دیکھ چکے تھے ان کے لیے ممکن نہ ہو اکہ وہ ان کی بڑائی کو پہچانیں اوران کو اپنا بڑابنائیں۔

یہ سب سے بڑانفسیاتی فتنہ ہے جو ہر دور میں لوگوں کے لیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بنا رہا ہے۔موجودہ دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ حقیقت کو ’’غیب ‘‘کی سطح پر پالے۔وہ سچائی کو اس کے مجرد روپ میں پہچان سکے۔لوگ عظمتوں کی سطح پر اعتراف کا ثبوت دے رہے ہیں۔حالاں کہ اعتراف کا ثبوت وہاں دینا پڑتا ہے جہاں بظاہر دیکھنے والوں کو عظمت دکھائی نہیں دیتی۔لوگ رونقوں کے مقام پر خدا پرستی کا مظاہرہ کررہے ہیں حالانکہ خدا اکثر وہاں ہوتا ہے جہاں کسی قسم کی رونق نظر نہیں آتی۔

خدا سے بغاوت

خدا نے اپنی دنیا کا ایک منصوبہ بنایا۔اس منصوبہ کے مطابق وہ اپنی دنیا کو چلا رہا ہے۔جو لوگ اس منصوبہ سے مطابقت کرکے اس دنیا میں رہیں وہ خداکے فرماں بردار بندے ہیں۔خداان کو اپنے ابدی انعامات سے نوازے گا۔اس کے برعکس جو لوگ اس منصوبہ سے مطابقت نہ کریں وہ خدا کی دنیا میں فساد پھیلانے کے مجرم ہیں۔خدا انہیںعنقریب پکڑلے گااوران کو ایسی سزادے گاجس سے ابد تک نکلناان کے لیے ممکن نہ ہو۔

خداہر صبح سورج کو روشن کرتا ہے تاکہ اس کے بندے اس کی روشنی میں چلیں۔مگر ایک انسان دوسرے انسان کو اندھیرے میں دھکیل دینا چاہتا ہے۔خدا زمین سے رزق اگاتا ہے تاکہ اس کے بندے اس سے اپنی بھوک مٹائیں۔مگر ایک انسان دوسرے انسان کو بھوک سے تڑپا کر خوش ہوتا ہے۔خدا اپنے پاس سے بارش برساتا ہے تاکہ تمام انسان اورجاندار اس سے سیراب ہوں۔مگر انسان اپنے مفروضہ دشمنوں کو پیاس سے تڑپاکر کامیابی کے قہقہے لگاتا ہے۔

خدا لوگوں کے لیے مواقع کھولتا ہے تاکہ وہ ان مواقع کا استعمال کرکے اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔مگر انسان یہ منصوبہ بناتا ہے کہ وہ لوگوں سے ان کے ملے ہوئے مواقع کو چھین لے۔خدا ایک انسان کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔مگر دوسراانسان حسد میں مبتلا ہوکر چاہتا ہے کہ اس کو بے عزت کرکے اوراس کوناکام بنا کر چھوڑدے۔

یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں فساد فی الارض کہا گیا ہے۔یعنی خدا نے اپنی دنیا کا نقشہ جس ڈھنگ سے بنایا ہے اس میں بگاڑ پیدا کرنا۔خدا کی دنیا میں خدا کے منصوبہ کے خلاف زندگی گزارنا۔خدا کی زمین میں خدا کی پسند کو چھوڑ کر وہ روش اختیار کرنا جو آدمی کی پسند اورخواہش کے مطابق ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان خداکی اسکیم کی نفی کرتا ہے۔انسان خدا کے فیصلہ کو بدل دینا چاہتا ہے۔یہ خدا کی دنیا میں خدا کے خلاف بغاوت ہے۔یہ سب سے بڑاجرم ہے جو کوئی انسان اس زمین پرکر سکتا ہے۔آج یہ سب سے بڑاجرم خداکی زمین پر سب سے بڑے پیمانہ پر ہورہا ہے اورحیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس بغاوت کے مرتکب وہ لوگ بھی ہیں جو خدا کی بغاوت کو خداکی زمین سے ختم کرنے کا جھنڈااٹھائے ہوئے ہیں۔

اہلیت

ایک شخص اچھے خاندان میں پیدا ہوا۔بعد کو اس کے حالات خراب ہوگئے۔معاشی اعتبار سے وہ بالکل مفلس ہوکر رہ گیا۔اس زمانہ میں اس کے تمام دوست اوررشتہ دار اس سے جدا ہوگئے۔کوئی اس کا بھی روادارنہ تھا کہ اس سے ملاقات اور سلام کلام کا تعلق رکھے۔

پھر وہ وقت آیا کہ اس کے حالات بدل گئے۔وہ اپنی بستی کا سب سے زیادہ خوش حال آدمی بن گیا۔اب اس کے پرانے دوست اوررشتہ دار اس کے پاس آنے لگے۔وہ اس کو یقین دلاتے کہ ہم تو ہمیشہ تمہارے خیر خواہ تھے۔مگر آدمی پر ان لوگوں کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔اس نے ان میں سے کسی کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔البتہ ایک شخص جو ہر حال میں اس کا ساتھی بنارہا۔اس کو اس نے بہت بڑے پیمانہ پر نوازا۔اس کو اس نے اپنا سب سے قریبی ساتھی اورمشیرکا ربنالیا۔

یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قدر وہ ہے جوناموافق حالات میں قابل قدر ہونے کا ثبوت دے۔جو دعوت حق کو اس وقت پہچانے جب کہ دعوت حق ماحول میں اجنبی بنی ہوئی ہو۔جو دین خداوندی کے ساتھ ایسے حالات میں اپنے کو وابستہ کرے جب کہ دین ظاہربینوں کو بے قیمت نظر آتا ہو۔

اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے نہ کہ جسموں کو۔اللہ کے یہاں حقیقت کی قدر ہے نہ کہ ظاہری دکھاوے کی۔اللہ کو وہ بندے پسند ہیں جو اس وقت جھک گئے ہوں جب کہ اس کی قوتیں ابھی غیب میں چھپی ہوئی ہیں۔اللہ کو وہ بندے درکار ہیں جن کی بصیرت کی نگاہیں کھلی ہوئی ہوں۔اللہ کو وہ بندے درکار نہیں جن کے اندھے پن کا یہ حال ہوکہ وہ پیشانی کی آنکھ سے دکھائی دینے والی چیزوں کے سواکسی اورچیز کو دیکھ ہی نہ سکیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ نہ دینے والے دور میں دئے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے۔پہچاننے والا وہ قرار پاتا ہے جس نے نہ پہچاننے والے حالات میں پہچاننے کا ثبوت دیاہو۔انعام کا مستحق وہ ہے جس نے اس وقت ساتھ دیاہو جب کہ لوگوں نے اس کو غیر اہم سمجھ کر اسے نظر اندازکردیاتھا۔

پانے کے باوجود محروم

چارلی چپلن (1889-1977)فلمی دنیا کا ایک مشہور ترین آدمی تھا۔وہ فلموں میں ہنسانے کا کردار ادا کرتا تھا۔اس نے 52سالہ فلمی زندگی میں بے شمار دولت کمائی۔چارلی چپلن ایک انگریز تھا۔اس نے امریکامیں فلمی ترقی حاصل کی اورپھر سوئزرلینڈ میں اس نے 137ایکڑ زمین خرید کر وہاں اپنے لیے ایک شاندار مکان بنایا۔جب وہ مراتو اس کی ملکیت میں دس ملین پونڈ موجود تھے۔اس کو بڑے بڑے انعامات اورخطابات سے نوازاگیا۔

کہا جاتا ہے کہ چارلی چپلن کو دنیا کے ہر حصہ میں مقبولیت حاصل ہوئی۔اس کی تقریباً 80فلمیں ایسی ہیں جو مسلسل کہیں نہ کہیں دکھائی جاتی ہیں۔حتیٰ کہ 1914-17میں اپنی ابتدائی زندگی میں اس نے جن فلموں میں کام کیاتھا وہ فلمیں بھی ابھی تک تاجرانہ حیثیت سے کامیاب ہیں۔یہ ابتدائی فلمیں بھی آج محض تاریخی یادگار کے طور پر نہیں دکھائی جاتیں بلکہ جدید تفریح کے معیار سے ان کو دیکھا جاتا ہے۔چارلی چپلن موجودہ زمانہ کا واحد فلمی کردار ہے جواب بھی اتنے شوق سے دیکھا جاتا ہے۔اندازہ کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 300ملین ایسے لوگ ہیں جنھوں نے چارلی چپلن کی80فلموں میں سے ایک ایک فلم کو دیکھا ہے۔

چارلی چپلن کی ابتدائی زندگی نہایت غربت میں گزری تھی۔چنانچہ بعد کو کثیر دولت کا مالک ہونے کے باوجود اس کو ہمیشہ یہ ڈر لگا رہتا تھاکہ کہیں وہ دوبارہ مفلس نہ ہوجائے۔ اس نے ایک کے بعد ایک چار شادیاں کیں۔آخر عمر میں وہ بالکل ناکارہ ہوگیا۔ اس کی زندگی وہیل چیر(پہیہ دار کرسی)پر گزرتی تھی۔اس کی نگاہ بے حد کمزورہوگئی تھی۔اس کے بولنے اورسننے کی طاقتیں جواب دے گئی تھیں۔حقیقی چارلی چپلن بستر پر ناکارہ پڑاتھا۔ مگر فلمی چارلی چپلن بدستور سینما ہائوسو ں میں لوگوں کی تفریح کا مرکز بنا ہواتھا۔

چارلی چپلن کے متعلق کہاجاتا ہے کہ ’’اس نے کسی بھی دوسرے انسان کے مقابلہ میں لوگوں کو زیادہ خوشی دی اورزیادہ ہنسایا‘‘مگر اس کا اپنا انجام یہ ہواکہ وہ آخر عمر میں اپنے بڑھاپے کو بے بسی کے ساتھ دیکھا کرتا تھا اوراس کا ہنسنا اس سے رخصت ہوچکا تھا۔ 25دسمبر 1977کو چار بجے صبح اس وقت اس کا انتقال ہوگیا جب کہ صرف چند گھنٹے بعد اس کا خاندان کرسمس کی سالانہ تقریبات منانے کی تیاریاں کر رہا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چارلی چپلن کے ایک سوانح نگار ڈینس گیفرڈ(Denis Gifford)نے اس کے انجام کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں 

other sourceWords of another person or source

وہ جب کام کرتا تھا تو وہ محض فلم سے کچھ زیادہ کی تخلیق کرتا تھا۔ہنسی اورمحبت کے ساتھ جینا ،خواب اورامیدیں۔مگر ہمیشہ خوشیوں پر خاتمہ کہاں تھا،اگر بالآخر وہ کل کی سڑک پر قدم رکھنے سے زیادہ کچھ نہ ہو(آر۔ڈی جون 1978)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

چارلی چپلن کی موت کے بعد ایک مبصر نے اس کی بابت حسب ذیل الفاظ لکھے تھے:

Chaplin's life has been filled to the brim with what most lives consist of yearning after...wealth and fame and creative play and beautiful women...but he does not know how to enjoy any of the four.

Max Eastman in Ladies Home Journal.

چارلی چپلن کی زندگی ان چیزوں سے آخری کنارے تک بھری ہوئی تھی جس کی دوسرے اکثر لوگ صرف تمنا کرتے ہیں — دولت ،شہرت ،تخلیقی اداکاری اورخوبصورت عورتیں۔مگر اس کو نہیں معلوم تھا کہ ان چاروں میں کسی ایک سے بھی وہ کس طرح لطف اندوز ہو۔

چارلی چپلن کی یہ کہانی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ چارلی چپلن کی طرح پاکر محروم رہتے ہیں۔اوردوسرے لوگ پائے بغیر محروم۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں پانے والا بھی اتنا ہی محروم ہے جتنا نہ پانے والا۔مگر بہت کم لوگ ہیںجو اس سب سے بڑی حقیقت کو جانتے ہوں۔

امریکاکی ایک نوجوان عورت نے خود کشی کرلی۔اس کی جیب میں ہاتھ سے لکھا ہواایک پرچہ تھا۔اس میں درج تھامجھے خوشی کی تلاش تھی۔اس کے لیے میںنے نشہ کا استعمال کیا۔میں جنسی آوارگی کی حدتک گئی۔مگر مجھے کہیں خوشی نہیں ملی۔اب میں مایوس ہوکر اپنے آپ کو ختم کررہی ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اکثرآزاد خیال مردوں اورعورتوں کا یہی حال ہے۔وہ خوشی کی تلاش میں سب کچھ کر ڈالتے ہیں۔مگر آخر میں انہیںمعلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔اس کے بعد کچھ مایوسانہ زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں اورکچھ لوگ جھنجھلاہٹ میں آکر خودکشی کرلیتے ہیں۔

کتنے بے خبرہیں وہ لوگ جو اپنے کو جاننے والا سمجھتے ہیں۔کیسے ناکام ہیں وہ لوگ جن کانام کامیاب انسانوں کی فہرست میں سب سے آگے لکھا ہواہے۔

امتحان گاہ

قرآن و حدیث میں زندگی کا یہ تصور دیا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو جو کچھ ملتا ہے وہ صرف بطور آزمائش ملتا ہے۔وہ اس کا حق نہیں ہوتا۔آدمی ان چیزوں سے صرف ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھاتا ہے اس کے بعد موت آتی ہے اوراس کے ساز و سامان سے اسے جداکر دیتی ہے۔موت سے پہلے یہ چیزیں ہر ایک کو ملتی ہیں مگر موت کے بعد صرف اس کو ملیں گی جو آزمائش میں پورا اترے۔اس کو ایک مثال سے سمجھئے۔

ایک طالب علم امتحان کے کمرہ میں ہے۔وہ اپنا تعلیمی امتحان دے رہا ہے۔اس وقت بظاہر وہ ایک مکان میں ہے۔اس کے پاس میزاورکرسی اوردوسرے ضروری سامان ہیں۔اس کے خدمت گار بھی وہاں موجودہیں۔

بظاہر دیکھنے والوں کو وہ صاحب مِلک آدمی نظر آتا ہے۔مگر یہ سب کچھ محض وقتی ہے۔ جیسے ہی وقت پوراہونے کا الارم بجتا ہے۔اچانک معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کا کچھ بھی نہ تھا۔ہر چیز جو وہاں اس کے پاس تھی اس سے واپس لے لی جاتی ہے۔اوروہ بلاتاخیر امتحان گھر کے باہر نکال دیاجاتا ہے۔

یہی معاملہ وسیع ترمعنوں میں دنیا کابھی ہے۔یہ دنیا انسان کے لیے ایک خدائی امتحان گاہ ہے۔یہاں ہر آدمی صرف اس لیے ہے کہ وہ اپنا امتحان دے۔ خدا نے ہرآدمی کے لیے مدت مقرر کر رکھی ہے۔جیسے ہی یہ مدت پوری ہوتی ہے۔فوراًموت کا فرشتہ آتا ہے اورآدمی کو جبراً اس دنیا سے نکال کر خدا کے سامنے حاضر کردیتا ہے تاکہ ہر آدمی کو اس کے عمل کے مطابق اس کا بدلہ دیا جائے۔

موت کا لمحہ امتحان کی مدت ختم ہونے کا لمحہ ہے۔جب یہ لمحہ آتا ہے تو آدمی جان لیتا ہے کہ ان چیزوںمیں سے اس کا کچھ نہ تھا جس کو وہ اپنا سمجھے ہوئے تھا۔جس مکان کو اس نے بنایا تھا وہ اس سے جدا کر دیا جاتاہے۔جس جائیداد کو وہ اپنی چیز سمجھتا تھا وہ اس سے چھین لی جاتی ہے۔جن آدمیوں کو وہ اپنے آدمی سمجھتا تھا وہ اس سے بچھڑجاتے ہیں۔

یہ لمحہ ہر آدمی پر آنے والا ہے۔خوش قسمت ہے وہ جو اس کے آنے سے پہلے اس کو جان لے جو آنے سے پہلے اس کی تیاری کرلے۔

قانون کی حد

26اگست 1978کو دہلی میں بھیانک جرم کا ایک واقعہ ہوا۔ایک فوجی افسر ایم ایم چوپڑاکے دو بچے سنجے (15)اورگیتا(17) انتہائی بے قصور طور پر مارڈالے گئے۔نوجوان بہن بھائیوں کے اس قتل پر ملک کا ضمیر جاگ اٹھا۔مجرمین کی تلاش شروع ہوئی۔بالآخر قتل کے دونوں مجرمین جبیر سنگھ عرف بلا (25) اورکلجیت سنگھ عرف رنگا(23)ایک ٹرین میں سفر کرتے ہوئے آگرہ اسٹیشن پر پکڑلیے گئے۔اس کے بعد دونوں پر قتل کا مقدمہ چلا۔لمبی عدالتی کارروائی کے بعد دونوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا۔مختلف قانونی مراحل سے گزرکر بالآخر دونوں کو 31جنوری 1982کو دہلی کے تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

ایڈیشنل سیشن جج ایم۔کے چاولانے پانچ صفحات کے فیصلہ میں دونوں کے لیے موت کا حکم دیتے ہوئے لکھا:

The ends of justice would be met only if the two accused were put to eternal sleep, thereby allowing others to live in peace.

انصاف کے مقاصد صرف اسی طرح حاصل ہوسکتے ہیں کہ دونوں مجرم ہمیشہ کی نیند سلادیے جائیں تاکہ دوسروں کو امن کے ساتھ جینے کا موقع ملے (ہندستان ٹائمس، 1 فروری1982)۔

other sourceWords of another person or source

جج کے یہ الفاظ انسانی قانون کی حدکو بہت اچھی طرح بتاتے ہیں۔انسانی قانون کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ مجرم اورسماج کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔وہ مجرم کو اس کے جرم کی حقیقی سزانہیں دے سکتا۔ایک شخص جب کسی معصوم جان کو ناحق ذبح کردے تویہ اتنا بڑا جرم ہے کہ موجودہ محدوددنیا کی کوئی سزااس کے جرم کے برابر نہیں ہوسکتی۔دنیا کا جج بس اتنا ہی کر سکتا ہے کہ جس شخص کے اندر اس قسم کا مجرمانہ ذہن دیکھے اس کوآئندہ کے لیے سماج سے ہٹادے۔

موجودہ دنیا کی یہ محدودیت تقاضا کرتی ہے کہ اس کے بعد ایک اورلامحدود دنیا آئے جہاں یہ کمی پوری ہو۔جہاں کے جج کے امکان میں صرف یہ نہ ہو کہ وہ ظالم اورمظلوم میں جدائی کردے بلکہ وہ ظالم کو اس کے ظلم کی ایسی سزادے سکے جو انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے والی ہو۔

دلیل اورشخصیت

قرآن میں حضرت موسیٰؑ اورفرعون کا قصہ مختلف مقامات پر تفصیل سے بیان ہوا ہے۔فرعون نے جب مصر کے جادوگروں کو بلایا اورحضرت موسیٰ سے ان کا مقابلہ ہواتو یہ واقعہ پیش آیا کہ جادو گروں نے اپنی رسیاں اورلاٹھیاں میدان میں ڈالیں۔وہ جادو کے زور سے سانپ کی مانند چلتی ہوئی نظر آنے لگیں۔اس وقت حضرت موسیٰ نے خدا کے حکم سے اپنا عصا ڈالا تو وہ تمام سانپوں سے بڑا سانپ بن کر میدان میں دوڑنے لگا۔اس نے جادوگروں کے جادو کو نگل لیا۔وہ جدھر جدھر گیا۔جادو گروں کی رسیاں اورلاٹھیاں بس رسیاں اور لاٹھیاں بن کر رہ گئیں۔

Qur'anQuotes the Qur'an

یہ دیکھ کر جادوگروں نے سمجھ لیا کہ حضرت موسیٰ کا معاملہ کوئی جادوکا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا معاملہ ہے۔حضرت موسیٰ کے مظاہرے میں جادوگروں کو خدا کی معرفت حاصل ہوگئی۔انھوں نے اسی وقت اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔یہ فرعون کی کھلی ہوئی شکست تھی۔اس نے غصہ میں آکر جادو گروں کے لیے مصر کی سخت ترین سزا کا اعلان کردیا۔وہ یہ کہ جادوگروں کے ہاتھ اورپائوں کو مخالف سمتوں سے کاٹ کر انہیںتڑپایا جائے اورپھر انہیںکھجور کے تنوں پر لٹکا کر سولی دے دی جائے۔

اس سز اکو سن کر جادوگروں کی زبان سے نکلا ___ہم تجھ کو ان دلائل پر ترجیح نہ دیں گے جو ہمارے پاس آئے ہیں:لَنْ نُؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ (20:72)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جادوگروں کے سامنے ایک طرف عظیم شخصیت تھی اوردوسری طرف کھلی ہوئی دلیل شخصیت اوردلیل کے اس مقابلہ میں انھوں نے وہی کیا جو ایک سچے انسان کو کرنا چاہیے۔ انھوں نے شخصیت کو نظر انداز کردیا اوردلیل کو لے لیا۔

جب آدمی کے سامنے ایسی دلیل آجائے جو بات کو اس طرح ثابت شدہ بنا دے کہ وہ اس کی تردید کے لیے کوئی جوابی دلیل پیش کرنے سے عاجز رہے تو اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ دلیل کو لے لے اور اس کے خلاف شخصیتوں کو چھوڑ دے۔دلیل کا اس طرح ظہور دراصل خدا کا ظہور ہے۔جو لوگ دلیل کے مقابلہ میں شخصیت کو ترجیح دیں انھوں نے گویا خدا کے مقابلہ میں غیر خداکو ترجیح دی۔ایسے لوگوں کے لیے زمین وآسمان کے اندر کوئی جگہ نہیں۔یہ غیر خداکو اپنا بنانا ہے۔پھر خدا کی دنیا میںجو لوگ غیر خدا کو اپنا خدا بنائیں وہ کیسے یہاں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

کائنات کا دستر خوان

قرآن میں ہے کہ — اللہ آسمان وزمین کا نور ہے (24:35)۔اس کامطلب یہ ہے کہ دنیا تمام کی تمام خدائی صفات کا مظہر ہے۔حساس قلب کو یہاں کی ہر چیز میں خدا کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ رزق خداوندی کا دستر خوان ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا پر ایمان اگر کسی آدمی کو وہ حساسیت دے دے جو خدا پر سچے ایمان سے پیدا ہوتی ہے تو کائنات میں فی الواقع اس کو ہر طرف خدا کا نور دکھائی دے گا۔ہواکے لطیف جھونکے جب اس کے جسم کو چھوئیں گے تو اس کو ایسا محسوس ہوگا کہ لمس خداوندی کا کوئی حصہ اسے مل رہا ہے۔دریائوں کی روانی میں اس کو رحمت حق کا جوش ابلتا ہوا نظر آئے گا۔ چڑیوں کے چہچہے جب اس کے کان میں رس گھولیں تو اس کے دل کے تاروں پر زمزمۂ خداوندی کے نغمے جاگ اٹھیں گے۔پھولوں کی مہک جب اس کے مشام جان کو معطر کرے گی تو وہ اس کے لیے خدائی خوشبو میں نہانے کے ہم معنی بن جائے گی۔

ساری کائنات مومن کے لیے رزق روحانی کا دستر خوان ہے ،ویسے جیسے جنت اس کے لیے رزق مادی کا دستر خوان ہوگی۔موجودہ دنیا کی تمام چیزوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ان کو دیکھ کر انسان عبرت حاصل کرے،ان کے ذریعہ وہ ان ربانی کیفیات کو پالے جوان کے اندر ان لوگوں کے لیے رکھ دی گئی ہیں جو اللہ سے ڈرنے والے ہوں۔

ڈھاک ایک معمولی درخت ہے۔مگر اس کے اورپر بے حد حسین پھول اُگتے ہیں۔ موسم خزاں کے پت جھڑکے بعد اس کا درخت بظاہر ایک سوکھی لکڑی کی مانند ،اس سے بھی زیادہ ایک سوکھی زمین پر کھڑا ہوتا ہے۔اس کے بعد ایک خاموش انقلاب آتا ہے۔حیرت انگیز طورپر نہایت خوش رنگ پھول اس کی شاخوں میں کھل اٹھتے ہیں۔سوکھی لکڑی کا ایک ڈھانچہ لطیف اوررنگین پھولوں سے ڈھک جاتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ایک محروم اوربے قیمت وجود کے لیے خدانے خصوصی طورپر اپنی خوب صورت چھتری بھیج دی ہے۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کوئی بندہ خدا اس کو دیکھ کر کہے—’’اےخدا !میں بھی ایک ڈھاک ہوں،تو چاہے تو میرے اوپر حسین پھول کھلادے۔میں ایک ٹھنٹھ ہو ں ،تو چاہے تو مجھ کو سر سبزوشاداب کردے۔میں ایک بے معنی وجود ہوں ،تو چاہے تو میری زندگی کو معنویت سے بھر دے۔میں جہنم کے کنارے کھڑاہوں تو چاہے تو مجھ کو جنت میں داخل کردے‘‘۔

صرف ’’کرنا ‘‘کافی نہیں

بالٹی کے پیندے میں سوراخ ہو اور اوپر سے آپ اس میں پانی ڈالیں تو سارا پانی بہہ کر نکلتا رہے گااوربالٹی کے اپنے حصہ میں کچھ نہیں آئے گا۔ایسا معاملہ انسان کا بھی ہے۔آدمی کا وہی عمل حقیقۃً عمل ہے جو خود اس کو کچھ دے رہا ہو۔اگر آدمی بظاہر سرگرمیاں دکھارہا ہواور اس کا اپنا وجود کچھ پانے سے محروم ہوتو اس کی سرگرمیوں کی کوئی حقیقت نہیں۔عمل وہی عمل ہے جس کے دوران آدمی کے ذہن میں شعور کی چنگاری پڑے۔اس کے دل میں سوزوتڑپ کا کوئی لاوا ابلے۔اس کی روح کے اندر کوئی کیفیاتی ہل چل پیدا ہو۔ اس کے اندرون میں کوئی ایسا حادثہ گزرے جو برتر حقیقتوں کی کوئی کھڑکی اس کے لیے کھول دے۔یہی یافت کسی عمل کی کامیابی کا اصل معیار ہے۔وہی عمل عمل ہے جو آدمی کو اس قسم کے تحفے دے رہا ہو۔جس عمل سے آدمی کو یہ چیزیں نہ ملیں وہ ایسا ہے جیسے سوراخ دار بالٹی میں پانی گرانا۔

دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ آپ کیا کررہے ہیں۔دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ آپ کیا ہو رہے ہیں۔اگر آپ کی ’’مصر وفیات ‘‘بہت بڑھی ہوئی ہوں،اگر بتانے کے لیے آپ کے پاس بہت سے کارنامے ہوں مگر آپ کی اندرونی ہستی خالی ہو،آپ خود کچھ نہ ہورہے ہوں تو آپ کی مصرفیات محض بے فائدہ سرگرمیاں (idle business)ہیں۔اس کے سوا اورکچھ نہیں۔ ہوائیںہوں مگر ان سے آکسیجن نہ ملے۔پانی ہو مگراس سے سیرابی حاصل نہ ہو۔غذا ہو مگر اس سے آدمی کو قوت نہ ملے۔سورج ہومگر وہ روشنی نہ دے رہا ہوتو ایسا ہونا ہونا نہیں ہے بلکہ نہ ہونے کی بد ترین شکل ہے۔اسی طرح جو عمل آدمی کی اپنی غذانہ بن رہا ہو وہ عمل نہیں صرف بے عملی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ بے معنی کوئی چیز۔

پتھرکے اوپر آپ پانی ڈالیں تو وہ بظاہر پانی سے بھیگ جائے گا۔اس کے چاروں طرف پانی پانی نظر آئے گا۔مگر پتھر پانی کے مزہ اورتراوٹ کو نہیں جانتا ،اس نے پانی کی اِس دوسری حیثیت کا تجربہ نہیںکیا۔اس کے برعکس ایک زندہ آدمی جب پیاس کے وقت پانی پیتاہے تو اس کی رگیں ترہو جاتی ہیں ،وہ پانی کی حقیقت کا ایک ’’اندرونی تجربہ ‘‘کرتا ہے۔اس مثال سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کرنا کیا ہے اور ہونا کیا۔کرنا یہ ہے کہ آدمی کچھ مقر رہ اعمال کو بس رسمی طور پر دہرالے۔آدمی کی زبان کچھ الفاظ بولے مگر وہ الفاظ اس کے دل کی دھڑکن نہ بن رہے ہوں۔آدمی اپنے ہاتھ پائوں سے کچھ عمل کرے مگر اس کا عمل اس کی روح کو نہ چھوئے۔اس کی حرکات و سکنات اس کے دل ودماغ میں ارتعاش نہ پیدا کریں۔اس کے برعکس ہونا یہ ہے کہ آدمی کا عمل اس کے لیے روحانی تجربہ بن رہا ہو۔اس کی اندرونی ہستی کو باربار کیفی غذائیں مل رہی ہوں۔اس کا جسمانی عمل اس کے غیر جسمانی وجود میں ہل چل پیدا کررہا ہو۔وہی کرنا کرنا ہے جس کے درمیان آدمی خود بھی کچھ ہور ہا ہو۔جوکرنا ہونا نہ بنے ،حقیقت کے اعتبار سے اس کی کوئی قیمت نہیں۔وہ گویا ایک ایسا پتھر ہے جو بظاہر پانی سے بھیگ رہا ہے مگر وہ پانی کا مزہ نہیں پاتا۔

الفا ظ کم ہوجاتے ہیں

مسٹر لزلی برائون شمالی انگلستان کے ایک ٹرک ڈائیور ہیں۔وہ اولاد سے محروم تھے۔ ان کی بیوی کے جسمانی نظام میں بعض حیاتیاتی فرق کی وجہ سے دونوں کا مادۂ حیات رحم مادر میں یک جا نہیں ہوتا تھا۔وہ اولاد کی طرف سے مایوس ہوچکے تھے کہ عین وقت پر سائنس نے ان کی مدد کی۔لندن کے ڈاکٹر پیٹرک اسٹپٹو جوبر سہا برس سے اس میدان میں تجربہ کررہے تھے۔ انھوں نے اپنی لیبارٹری میں لزلی برائون کا مادۂ تولید(sperm ) نکالا اورمسز برائون کے جسم سے ایک بیضہ لیا۔دونوں کو انھوں نے ایک خصوصی قسم کے ٹیسٹ ٹیوب میں رکھا۔قدرتی قانون کے تحت وہ دونوں مل کر زرخیز ہوگئے۔چار روز کے بعد ڈاکٹر نے اس کو مصنوعی طور پر رحم مادر میں پہنچا دیا۔اب رحم مادر میں اس ’’بچہ ‘‘کی پرورش ہونے لگی۔ تجربہ کامیاب رہا۔جولائی1978میں تاریخ کا پہلا ’’test tube baby‘‘وجود میں آگیا۔اس پورے عمل کی تصویر لی جاتی رہی اورپیدائش کے بعد اس کو مکمل طورپر ٹیلی وژن پر دکھا یاگیا۔

ٹیوب بے بی (لوئس برائون ) کے باپ سے اس پورے واقعہ پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو اس نے کہا ’’بیوٹی فل ‘‘یعنی بے حد حسین۔اس ایک لفظ کے سوا وہ کچھ اور نہ کہہ سکا۔

other sourceWords of another person or source

غم کی گھٹنا خوشی سے زیادہ بڑی گھٹنا ہوتی ہے۔انڈین نیوی کے ایک افسر کی اہلیہ مسز اوما چوپڑہ کو 26اگست 1978 کو جب معلوم ہواکہ ان کے دونوں بچے گیتا (17سال) اور سنجے(15سال) کو نئی دہلی میں وحشیانہ طور پر کسی نے قتل کردیا ہے تو اس کے بعد ان کا یہ حال ہواکہ سات گھنٹے تک وہ ایک لفظ نہ بول سکیں۔

حقیقت یہ ہے کہ تاثرجتنا شدید ہو الفاظ اتنا ہی کم ہوجاتے ہیں۔بے حد خوشی ہو تب بھی آدمی زیادہ بول نہیں پاتا اوربے حد غم ہوتب بھی زیادہ بولنا آدمی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔جو لوگ دین وملت کے’’غم ‘‘ میں ہر روز الفاظ کے دریا بہاتے رہتے ہیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ دین وملت کے غم میں وہ سب سے پیچھے ہیں۔جو شخص درد وغم میں مبتلا ہو اس کو تو چپ لگ جاتی ہے نہ یہ کہ وہ لفظی اکھاڑوں میں لسانی پہلوانی کے کرتب دکھانے لگے۔

حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے خدا کو نہ اس کے منعم کے روپ میں پایا ہے اورنہ منتقم کے روپ میں۔اگر وہ دونوں میں سے کسی روپ میں بھی خدا کوپالیتے تویہ صورت باقی نہ رہتی کہ ہر آدمی ایسے الفاظ کا بھنڈار بنا ہوا ہے جو کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آتے۔

امتحان

حضرت ابراہیم کو خواب میں دکھا یا گیا کہ آپ اپنے بیٹے کو ذبح کررہے ہیں۔حضرت ابراہیم خواب کے مطابق بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔مگر جیسے ہی آپ نے بیٹے کے گلے پر چھری رکھی ،آواز آئی کہ بس تم نے خواب کو پوراکر دکھا یا۔اس کے بعد آپ کو خصوصی طور پر ایک مینڈھا فراہم کیا گیا اورآپ نے بیٹے کے بدلے اسی مینڈھے کو ذبح کیا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ — اکثر ایسا ہوتا ہے کہ قربانی مانگی جاتی ہے مگر قربانی لی نہیں جاتی۔ گلے پر چھری رکھی جاتی ہے مگر قبل اس کے کہ چھری آدمی کا گلا کاٹے ،چھری کو گلے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

اس دنیا میں ہر آدمی کا اصل امتحان نفسیاتی امتحان ہے نہ کہ جسمانی امتحان۔خدا انسان کی آمادگی کو دیکھتا ہے نہ کہ کر ڈالنے کو۔خدا کبھی کسی کو غیر ضروری مشقت میں نہیں ڈالتا۔مگر مشقت سے نجات اس کو ملتی ہے جو اپنے آپ کو مشقت کے حوالے کرنے کا واقعی ثبوت دے دے۔

جو لوگ قربانی کے راستہ سے بھاگتے ہیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ وہ خدائے رحمان ورحیم پر یقین نہیں رکھتے۔خدا تمام مہربانوںسے زیادہ مہربان ہے۔وہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ شفیق ہے جتنا کوئی باپ اپنے عزیز بیٹے کے لیے شفیق ہوتا ہے۔ایسی حالت میں قربانی کے راستہ سے بھاگنا خدا کے خلاف بے اعتمادی کا اظہار ہے۔حالاں کہ خدا جتنا لیتا ہے اس سے بہت زیادہ دیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے خدا کو صرف ایک بیٹا پیش کیا تھا اور خدا نے ان کو سارے عالم کی امامت دیدی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان کو چاہیے کہ وہ کسی تحفظ کے بغیر خدا کے راستہ پر چل پڑے۔وہ قربانی کے مواقع پر ہرگز اپنی طرف سے کوئی کمی نہ کرے۔اسی کے ساتھ وہ یقین رکھے کہ شفیق باپ سے بھی زیادہ مہربان اور طاقت ور خدا ہر آن اس کو دیکھ رہا ہے۔خدا آدمی کا امتحان ضرور لیتا ہے مگر قبل اس کے کہ آدمی ہلاکت میں پڑے وہ ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھا لیتا ہے۔

کیسا عجیب ہے وہ بیٹا جو باپ کی پکار پریقین نہ کرے۔کیسا عجیب ہے وہ بندہ جو خدا کے بارے میں اپناا عتماد کھودے۔

کوئی فرق نہیں

ایک آدمی ایک درخت کے نیچے آرام کررہا تھا۔اس کا ایک دوست ادھر سے گزرا۔اس نے پکار کر کہا ’’میرے بھائی ،تم کیوں نہیں جاتے کہ کچھ لکڑیاں کاٹ کر لائو‘‘۔

’’کس لیے ‘‘سوئے ہوئے آدمی نے پوچھا۔

’’تاکہ تم ان لکڑیوں کو بیچ کر پیسہ حاصل کرواوراپنے لیے ایک گدھا خریدو اورپھر لکڑی کو گدھے پر لا دکر گھر گھر بیچو۔اس طرح ایک وقت آئے گا تم اورنفع کما کر ایک ٹرک خرید لوگے۔پھر تم اورترقی کروگے اورتمہارے یہاں آرہ کی مشین اوربہت سے ٹرک ہوجائیں گے ‘‘۔

other sourceWords of another person or source

’’یہ سب کس لیے ‘‘سونے والے نے دوبارہ پوچھا۔

’’تم لکھ پتی ہوجائو گے اورآرام سے رہو گے ‘‘۔

’’پھر تمہارا کیا خیال ہے ،اب میں کیا کر رہا ہوں ‘‘۔

یہ ایک واقعہ ہے کہ جو آرام ایک آدمی کو ٹھی بنا کر حاصل کرنا چاہتا ہے وہی آرام ایک آدمی درخت کے سایہ میں بھی حاصل کررہا ہے۔دیکھنے والوں کے نزدیک ضرور دونوں میں فرق ہے۔مگر خود آرام کرنے والے کے لیے دونوں میںکوئی فرق نہیں۔بلکہ درخت کے نیچے سونے والا جس سکون میں ہے وہ کوٹھی والے کو شاید میسر نہیں۔

ایک تاجر ایک بار مجھے اپنا نیا مکان دکھانے کے لیے لے گئے۔کافی بڑا دومنزلہ مکان تھا۔گھر کے ہر چھوٹے بڑے کے لیے الگ الگ کمرے اوراس کے ساتھ تمام ضروری سہولتیں مہیا تھیں۔سارے گھر میں قیمتی قالین بچھے ہوئے ،تمام دروازے اور کھڑکیاں خوبصورت پردوں سے ڈھکی ہوئی۔ہر کمرہ میں اعلیٰ درجہ کا فرنیچر ایسا معلوم ہوتا تھا گویا پورا گھر جدید سامانوں کی ایک نمائش گاہ ہے۔

مگر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میںایک خوبصورت قید خانہ میں بند کردیاگیا ہوں۔یہ مکان ایک کھلی جگہ پرتھا وہ قدرت کی ہر چیز سے خالی اورقسم قسم کی مصنوعی چیزوں سے بھر اہوا تھا۔ہر طرف بجلی کی روشنی کا اعلیٰ انتظام تھا مگر سورج کی روشنی کو اجازت نہ تھی کہ وہ بند مکان میں داخل ہو۔ہر کمرہ میں ایرکنڈیشنر لگا ہوا تھا مگر قدرتی ہوا کا کہیں گزرنہ تھا۔انسانی آرٹ کے نمونے دیوار پر تھے مگر قدرت کے آرٹ کو دیکھنے کے لیے وہاں کوئی کھڑکی کھلی ہوئی نہ تھی۔کمرہ میں میوزک کا انتظام تھا مگر باہر کے درخت پر چہچہانے والی چڑیوں کی آواز سننے کے تمام راستے بند تھے— جدید تمدن نے انسان کو قدرت سے کتنا دور کردیا ہے۔

پچپن سال کے بعد

طبیہ کالج (قرول باغ،دہلی ) نے ایک باررات کی کلاسیں شروع کی تھیںتاکہ ملازمت پیشہ لوگ اس میں داخلہ لے کر طبی کورس کریں اوراپنے خالی اوقات میں پریکٹس کرسکیں۔انہیں داخلہ لینے والوں میں سے ایک مسٹر رمیش دتہ تھے۔وہ اکائونٹ آفس میں کام کرتے تھے اوراسی کے ساتھ رات کے کلاس میںشریک ہوکر بی آئی ایم ایس (B.I.M.S)کا کورس کررہے تھے۔1955 کا واقعہ ہے ،ان کے استاد ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے ایک بار ان سے پوچھا:دتہ جی ،آپ تو ایک اچھی ملازمت میں ہیں۔پھر آپ بی آئی ایم ایس کا کورس کیوں کررہے ہیں۔انھوں نے جواب دیا:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

’’نوکر ی پچپن سال کی ہے اورزندگی سو سال کی۔پھر نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد کیا کروں گا‘‘۔کہنے والے نے زندگی کی جو تقسیم موجود ہ دنیا کے اعتبار سے کی ہے وہی تقسیم وسیع تر معنوں میںدنیا اورآخرت کے اعتبار سے بھی ہے۔دنیا میںانسان کی عمر کو اگر پچپن سال سمجھیں اورآخرت کی طویل تر زندگی کو علامتی طورپر ’’سو سال ‘‘سمجھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر آدمی وسیع تر معنوں میںاسی سوال سے دوچار ہے۔تاہم ہر آدمی کو صرف اپنے ’’55‘‘سال کی فکر ہے ،کسی کو اپنے ’’سو سال ‘‘کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دنیا کی ’’55سالہ ‘‘ زندگی کے لیے ہر آدمی سرگرم ہے۔ہر آدمی اپنی ساری طاقت خرچ کرکے اس کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔اس معاملہ میںہر آدمی اتنا زیادہ سنجیدہ ہے کہ وہ فوراً اس کے نشیب وفراز کو سمجھ لیتا ہے۔وہ اس کے کسی موقع کو کھونا کسی حال میں گوارانہیں کرتا۔

دوسری طرف ’’سو سالہ ‘‘زندگی جو موت کے بعد شروع ہوتی ہے ،اس کی کسی کو پروا نہیں۔اس معاملہ میں آدمی نہ کچھ سوچنے کی ضرورت محسوس کرتا اور نہ کچھ کرنے کی۔یہاں کوئی یہ کہنے والا نہیں ملتا کہ — موت سے پہلے کی زندگی تو صرف ’’55سال‘‘ کی ہے اورموت کے بعد کی زندگی ’’سو سال‘‘ کی۔پھر اگر ابھی سے میں نے تیاری نہ کی تو موت کے بعد کی ’’سو سالہ زندگی ‘‘میںمیں کیاکروں گا۔کیسا عجیب ہے وہ انسان جو تھوڑی زندگی کے لیے تو بہت زیادہ کر رہا ہے مگر زیادہ زندگی کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں (26جنوری 1984)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غالباً یہی صورت حال ہے جس کی طرف حدیث میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے — میں نے جہنم سے زیادہ سخت چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا سو گیا ہو۔اورمیں نے جنت سے زیادہ قیمتی چیز نہیں دیکھی جس کا چاہنے والا سوگیا ہو (سنن الترمذی، حدیث نمبر2601 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

خدا کی عبادت

پرستش کیا ہے

نیلما دیوی (Nilima Devi)ہندستان کی ایک رقاصہ ہے۔وہ رقص کو ایک خدائی آرٹ (Divine art ) سمجھتی ہے۔وہ اپنے فن میں اتنا ڈوبی ہوئی ہے کہ وہ محسوس کرتی ہے کہ وہ رقص کی صورت میں جو کچھ ظاہر کرنا چاہتی ہے وہ ان کو ظاہر نہیں کرپاتی۔جسمانی حرکات کی محدودیت اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ایک انٹرویو (ہندستان ٹائمس 30 دسمبر 1983)میں اس نے کہا کہ رقص وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں جسمانی حرکات ختم ہوجاتی ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The dance starts where the gymnastics end.

نیلما دیوی کا کہنا ہے کہ وہ رقص کا کام بطور پیشہ کے نہیں کرتی۔یہ میرے لیے ایک طریق زندگی ہے۔انٹرویو لینے والے کے الفاظ میں ،جب وہ رقص نہیں کرتی تو وہ اپنے آپ کو خالی محسوس کرتی ہے۔ایسے لمحات میں اس کے پاس کوئی نقطۂ ارتکاز نہیں ہوتا جس میں وہ اپنی زندگی کو مرتکز کرسکے :

other sourceWords of another person or source

She says when she is not dancing, she feels empty. There is no focal point in her life at such moments.

رقاصہ نے جس چیز کو طریق زندگی ( Way of life)کہا ،اسی کا دوسر انام پرستش ہے۔اوپر کے اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ فن کی پرستش ایک رقاصہ کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ اس کے اندر گہرے جذبات پیدا کر دیتی ہے— وہ رقص کو اس کے لیے زندگی بنا دیتی ہے۔اس کے اندرجذبات کا ایسا طوفان برپا ہوتا ہے جس کے اظہار سے وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے۔اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اپنے رقص کے ذریعہ وہ کچھ کہہ سکی ہے وہ اس سے بہت کم ہے جو وہ کہنا چاہتی ہے۔اس کے بغیر اس کی زندگی خالی ہوجاتی ہے ۔ اس سے الگ ہوکر وہ محسوس کرتی ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسا مرکزی نقطہ باقی نہیں رہا جہاں وہ اپنے وجود کو سمیٹ سکے۔

خدا کی پرستش کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔وہ ایک خدائی رقص ہے۔جب کوئی بندہ اپنے رب کو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے اتنا عظیم واقعہ ہوتا ہے کہ وہ رقص کر اٹھتا ہے۔اس کا وہی حال ہوجاتا ہے جو مذکورہ مثال میں فن کے پرستار کا نظر آتا ہے— خدا اس کے تمام وجود کا مرکزی نقطہ بن جاتا ہے۔خدا سے الگ اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔خدا کے بارے میں اس کے اندر ایسے گہرے جذبات اٹھتے ہیں جن کو بیان کرنے کے لیے وہ الفاظ نہ پاسکے۔

اللہ سے ڈرنے والے

دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اللہ کے ڈر سے خالی ہوں۔ایسے لوگ خواہ زبان سے اللہ کا نام لیتے ہوں ،مگر ان کے سینہ میں اللہ کے ڈر کاکوئی خانہ نہیں ہوتا۔وہ اس طرح رہتے ہیں جیسے کہ وہ آزاد ہیں کہ جو چاہیں کریں۔ان کے سامنے سارا سوال بس دنیا کے نفع نقصان کا ہوتا ہے۔جس کا م میں نفع نظر آئے اس کی طرف دوڑنا اور جس کام میں نقصان کا اندیشہ ہو اس سے رک جانا،یہ ان کا مذہب ہوتا ہے۔کسی چیز کا اصولی طورپر برحق ثابت ہوجانا ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔وہ ہمیشہ ’’دلیل ‘‘ کے بجائے ’’مفاد‘‘کو اصل اہمیت دیتے ہیں۔کوئی کام کرتے ہوئے وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملہ میں اللہ کی مرضی کیا ہے یا یہ کہ وہ اللہ کے سامنے کیوں کربری الذمہ ہوسکتے ہیں۔وہ وہاں جھک جاتے ہیں جہاں ان کا نفس جھکنے کے لیے کہے۔اور وہاں اکڑ جاتے ہیںجہاں ان کا نفس اکڑنے کی ترغیب دے۔وہ اللہ سے بے خوف زندگی گزارتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیںتاکہ اللہ کی عدالت میں حساب دینے کے لیے کھڑے کردیے جائیں۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں حرام وحلال کا لحاظ رہتا ہے۔ان کوخیال آتا رہتا ہے کہ مرنے کے بعد اللہ کے یہاں حساب کتاب کے لیے حاضر ہونا ہے۔عام حالات میںوہ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارتے ہیں۔روز مرہ کی زندگی میں کسی کو ان سے حق تلفی اوربے اخلاقی کا تجربہ نہیں ہوتا۔تاہم وہ اپنی نفسیاتی پیچیدگیوں سے اٹھے ہوئے نہیں ہوتے۔ان کا خوفِ خدا اتنا مکمل نہیں ہوتا کہ وہ ان کے نفس کے اندر چھپے ہوئے جذبات کا احاطہ کرلے۔عام حالات میں وہ خدا ترس زندگی گزارتے ہیں۔مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیش آئے تو اچانک وہ دوسری قسم کے انسان بن جاتے ہیں۔کبھی کسی کی محبت کا لحاظ، کبھی کسی کے خلاف نفرت کا جذبہ ،کبھی اپنی عزت کا سوال ان کے اوپر اس طرح غالب آتا ہے کہ ان کا خوف خدا اس کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے۔یہ عمل چونکہ اکثر غیرشعوری طورپر ہوتا ہے اس لیے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپر نفس کے اس حملہ سے آگاہ ہو ں اوراپنے آپ کو تھامے ہوئے اپنے کو متقیانہ روش پر قائم رکھیں۔معمول کے حالات میں خدا ترسی کی زندگی گزارنے والا غیر معمولی حالات میںوہی کچھ کر گزرتا ہے جو پہلی قسم کے لوگ اپنی عام زندگی میں کرتے رہتے ہیں۔

تیسرا انسان وہ ہے جو پورے معنوں میںاللہ سے ڈرنے والا ہو۔جو اللہ کو پہچاننے کے ساتھ خود اپنے کو بھی پوری طرح پہچان چکا ہو۔ایسا شخص صرف عام حالات ہی میں اللہ سے نہیں ڈرتا بلکہ غیر معمولی حالات میںبھی اللہ کا خوف اس کا نگراں بنا رہتا ہے۔کسی کی محبت جب اس کو بے خوفی کے راستہ پر لے جانا چاہتی ہے تو وہ فوراً اس کو دیکھ لیتا ہے۔ کسی سے چھپی ہوئی نفرت جب اس کے نفس میں تیرتی ہے اور اس کو بے انصافی پر اکساتی ہے تو وہ چونک پڑتا ہے اوراس سے باخبر ہوکر اس کے خلاف کھڑاہوجاتا ہے۔ ذاتی عزت ووقار کا سوال جب اس کے اندر داخل ہوکر اس کو کسی حق کے اعتراف سے روکتا ہے تو وہ بلا تا خیر اس کو جان لیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی تمام خامیوں سے آگاہ ہوکر اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے۔اس کا مسلسل احتساب اس کو ایسے مقام پر پہنچادیتا ہے۔جہاں وہ اپنے آپ کو انتہائی بے لاگ نظر سے دیکھ سکے۔بالفاظ دیگر،وہ اپنے کو اس حقیقی نظر سے دیکھنے لگتا ہے جس نظر سے اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

دین داری

دینداری اصل میں اپنی ذات کی سطح پر دیندار بننے کا نام ہے۔اپنی انا کو کچلنا اوراپنے اندرون میں خدا کو بسانا وہ چیز ہے جو اسلام کا اصل مطلوب ہے۔جب آدمی اپنے آپ میں جینے کے بجائے خدا میں جینے لگے۔جب دنیا کے بجائے آخرت اس کا مقصود بن جائے جب پانے سے زیادہ کھونا اس کو محبوب نظر آتا ہوتو اس نے دین کو پایا ، اس نے اپنے خدا کے ساتھ اپنا تعلق قائم کیا۔

آدمی اکثر حالات میں باہر باہر جیتا ہے اس لیے وہ ایسے دین کو بہت جلد قبول کرلیتا ہے جو اس کو اپنے سے باہر کی زندگی میں کوئی مشغلہ دیتا ہو۔

جو دین لائوڈ اسپیکر کی سطح پر چیخ پکارکا پروگرام دے ،جس دین میں آدمی کو جلسے اورجلوس کی سطح پر کارنامے دکھانے کا موقع ملتا ہو۔جس دین میں سیروسیاحت کی چاشنی موجود ہو۔جس دین میں حکمرانوں سے نوک جھونک کرنے کا جواز ہاتھ آتا ہو۔جو دین بحث ومناظرہ کی دلچسپیاں فراہم کرتا ہو۔جس دین میں شامیانہ سجانے اورکھانے پینے کی دھوم مچانے کے مواقع ملتے ہوں۔جس دین میں دوسروں کو گولی کا نشانہ بنا کر اس کی تڑپتی ہوئی لاش دیکھنے کا منظر نصیب ہوتا ہو۔جس دین میں دوسروںکے پیسہ پر مفت کی لیڈری قائم کرنے کے مواقع ہاتھ آتے ہوں — دین کی یہ تمام صورتیں دین کو اپنے سے باہر پانے کی صورتیں ہیں۔ اس لیے وہ لوگ بہت جلد ایسے دین کی طرف دوڑپڑتے جو اپنے آپ کوبچائے ہوئے ہوں اوراپنے سے باہر دین کا ثبوت دے کر دیندار بننا چاہتے ہوں۔

دین اپنے اندر سفر کرنے کانام ہے۔دین اپنے آپ کو انا نیت کے تخت سے اتارنا ہے۔دین خود اپنے اندر جھانکنے کا نام ہے نہ کہ دوسروں کا ماہر بننے کا۔درخت اپنے آپ میں جینا ہے ،اسی طرح مومن اپنے آپ میں جیتا ہے۔درخت اسی وقت درخت بنتا ہے جب کہ اسکی جڑیں زرخیززمین میں قائم ہوجائیں۔اسی طرح مومن ایک روحانی درخت ہے جو خداکی زمین میں اگتا ہے۔وہ زمین و آسمان سے ایمانی رزق لے کر بڑھتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ خداکی دنیا تک پہنچ جاتا ہے جس کانام جنت ہے۔

محسوس پرستی

قرآن میں خدا کے مقبول بندوں کے بارے میں ارشاد ہواکہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں:يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (2:3)اور غیر مقبول بندوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ صرف دنیا کے ظاہر کوجانتے ہیں:يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا(30:7)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ شرک کیا ہے اور توحید کیا۔اگر لفظ بدل کر کہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ — شرک نام ہے حقائق کو محسوسات کی سطح پر پہچاننے کا ،اورتوحید نام ہے حقائق کو معنویت کی سطح پر پہچاننے کا۔مشرک انسان صرف ان خدائوں کو جانتا ہے جو محسوس طورپر اس کو اپنی آنکھوں سے نظر آتے ہیں۔اس کے برعکس موحد انسان اس خدا کو جان لیتا ہے جو صرف تصور کی آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ موحد مومن بالغیب ہوتا ہے اورمشرک مومن بالشہود۔

غیر مومن دکھائی دینے والی چیزوں میں جیتا ہے اورمومن نہ دکھائی دینے والی چیزوں میں۔غیر مومن کی یافت عضو یاتی یافت ہوتی ہے اورمومن کی یافت ذہنی یافت۔غیر مومن کی پہنچ صرف ان چیزوں تک ہوتی ہے جن کو دیکھ کرجانا جاتا ہے اورمومن کی پہنچ ان چیزوں تک ہوجاتی ہے جن کو صرف سوچ کر جانا جاسکتا ہے۔

تاریخ کے ہر دور میں یہی انسان کی سب سے بڑی گمراہی رہی ہے۔پیغمبرلوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے مگر خدا چونکہ دکھائی نہیں دیتا اس لیے بہت کم لوگ ایسے نکلے جو خدا کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ بیشتر لوگوں نے انہیںمحسوس چیزوں کو اپنا مرکز تو جہ بنالیا جن کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے۔روشن ستاروں کی پرستش سے لے کر دریائوں اورپہاڑوں کی پرستش تک ہر جگہ یہی ذہنیت کارفرمارہی ہے۔ پیغمبروں کی دعوت کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہردور میں یہ تھی کہ ان کے مخالفین صرف محسوس خدائوں سے آشنا تھے ،اس لیے پیغمبروں کی زبان سے غیر محسوس خداکی پکارکو سن کر وہ متاثرنہ ہوسکے۔

بزرگوں اورممتاز شخصیتوں کی پرستش کی نفیسات بھی یہی ہے۔خدا چونکہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا اس لیے لوگ خدا کی عظمت کو پکڑ نہیں پاتے۔بزرگ اورممتاز شخصیتیں دکھائی دیتی ہیں اس لیے لوگ ان کی عظمت کو پکڑلیتے ہیں اوران کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔بزرگ پرستی نام ہے محسوس پرستی کا، اگرچہ بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔

محبت کا نذرانہ

آدمی اپنی فطرت اوراپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ خارجی سہاراچاہتا ہے۔ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے۔اورجو اس کے لیے اعتماد ویقین کی بنیاد ہو۔کسی کو اس حیثیت سے زندگی میں شامل کرنا اس کو اپنا معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اورعقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہوجاتے ہیں۔آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ وہ کسی سے حبّ شدید کرے اورجس سے کوئی شخص حبّ شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔

موجودہ دنیا میں چو ںکہ خد انظر نہیں آتا اس لیے ظاہر پرست انسان عام طورپر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خداکو دینا چاہیے۔یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یاپیشواہوتے ہیں جن کو آدمی ’’بڑا‘‘سمجھ لیتا ہے۔اورپھر وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی توجہات کا مرکز بن جاتے ہیں۔لوگ ان کے اس طرح گرویدہ ہوجاتے ہیں جیسا گرویدہ انہیںصرف خدا کا ہونا چاہیے۔آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقۃ ً اس لیے تھا کہ اس کو خدا سے پرکیا جائے وہاں وہ کسی غیر خداکو بٹھا لیتاہے(البقرہ،2:165)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذہبی احساس جب اپنے اعلیٰ ترین اسٹیج کو پہنچتا ہے تو وہ محبت میں ڈھل جاتا ہے۔خدا ہرقسم کی خوبیوںکا اعلیٰ ترین مجموعہ ہے۔انسان جتنی بھی چیزوں کا مالک ہے وہ سب کی سب خداکاعطیہ ہیں۔کائنات کا گہرامشاہدہ ایک ایسے خالق کا تعارف کراتا ہے ، جو حیرت ناک حد تک حسن وکمال کی خصوصیات رکھنے والا ہے۔

یہ ہے خدااور کوئی آدمی جب ایسے خدا کو پالیتا ہے تو وہ بالکل فطری طورپر اس کی عقیدت ومحبت میں سرشار ہوجاتا ہے۔

انسان کے پاس کسی کو دینے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ محبت ہے۔ایسی حالت میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص خدا جیسی باکمال ہستی کو پائے اوراس کی خدمت میں محبت سے کم تردرجہ کی کوئی چیز پیش کرے۔محبت سے کم کوئی چیز نہ تو خدا قبول کرتااورنہ کسی انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ خدا کے حضور میں محبت سے کم کسی چیز کا نذرانہ پیش کرے۔

خد اکی نصرت

محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں مکی دور کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ قریش نے نضر بن حارث اورعقبہ بن ابی معیط کو مدینہ بھیجا۔وہاں وہ یہود کے علماء سے ملے اوران سے پوچھا کہ ہم کو محمد کے بارے میں بتائو کہ ہم ان کو کیا سمجھیں۔علماء یہود نے کہا کہ ان سے تم اصحاب کہف اورذوالقرنین کا حال پوچھو۔ اگر وہ بتا دیں تو وہ نبی مرسل ہیں اور اگر نہ بتا سکیں تو وہ متقول ہیں۔

other sourceWords of another person or source

یہ لوگ مکہ واپس آئے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ان چیزوں کے بارے میں ہمیں بتائیں۔آپ نے فرمایا کہ تم نے جو سوال کیا ہے اس کا جواب میں تم کو کل دوںگا:أُخْبِرُكُمْ غَدًا بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْهُ۔آ پ نے یہ جملہ کہا مگر ان شا ء اللہ نہ فرمایا۔آپ کو خیال تھاکہ کل کے دن جبریل آئیں گے تو میں ان سے پوچھ کر بتاددں گا۔مگر انشاء اللہ نہ کہنے کی وجہ سے اگلے دن وحی نہ آئی۔یہاں تک کہ پندرہ دن تک وحی رکی رہی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

وحی نہ آنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دن جواب نہ دے سکے۔یہ مکہ کے مشرکین کے لیے سنہرا موقع تھا۔انھوں نے لوگوں سے کہنا شروع کیاکہ محمد نے وعدہ کیاتھا مگر وہ اپنے وعدہ کو پورانہ کرسکے۔دن پر دن گزرتے رہے اورآپ کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔مکہ کے مشرکین نے اس کو خوب استعمال کیا۔انھوں نے لوگوں سے کہا کہ اب ثابت ہوگیا کہ یہ پیغمبر نہیں ہیں۔اگر وہ پیغمبر ہوتے تو ضرور اپنے وعدہ کے مطابق جواب دیتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات دن سخت بے چینی میں گزررہے تھے۔ایک ایک لمحہ پہاڑ ہورہا تھا۔بظاہر یہ سراسر آپ کے خلاف بات تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو زبردست طور پر آپ کے موافق بنادیا۔وہ یہ کہ پندرہ دن وحی رکنے کی وجہ سے قریش نے سارے شہر میں اتنا پروپیگنڈا کیا کہ ایک ایک آدمی اس معاملہ سے باخبر ہوگیا۔ہر آدمی کو اشتیاق ہوگیا کہ وہ جانے کہ اس کی بابت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں۔گویامکہ والوں نے بہت بڑے پیمانے پر سننے کی فضا بنا دی۔ چنانچہ پندرہ دن کے بعد جب سورہ کہف اتری اور اس میںاصحاب کہف اورذوالقرنین کا قصہ تفصیل سے بیان ہوا تو سارے لوگ اس کو سننے کے لیے دوڑپڑے۔سورہ کہف کے اترتے ہی وہ سارے شہر میں ایک ایک آدمی کی زبان پر تھی۔جو تبلیغ مہینوں میں ہوتی وہ صرف ایک دن میں ہوگئی — اگر اللہ چاہے تو وہ اپنے کسی بندے کی غلطی کو بھی صحت کے خانہ میں ڈال دے۔وہ اس کے ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر دے(البدایہ و النھایہ، جلد3، صفحہ69)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

دل کا سکون

آج کی دنیا ترقی یافتہ دنیا کہی جاتی ہے۔مگر یہ تمام ترقیاں صرف’’چیزوں ‘‘کی ہوئی ہیں۔جہاں تک ’’انسان ‘‘کا تعلق ہے ،وہ بدستو غیر ترقی یافتہ حالت میں پڑاہوا ہے۔انسان پیچھے ہے اور چیزیں آگے۔

سب سے بڑی چیز جو انسان چاہتا ہے وہ سکون ہے۔مگر آج کسی کو سکون حاصل نہیں۔جدید مادی ترقیوں نے صرف یہ کیا ہے کہ انسان سے اس کا سکون چھین لیا ہے۔یہ ترقیاں انسان کوسکون دینے میں سراسرناکام ثابت ہوئی ہیں۔

موجودہ دنیا میں ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔یہاں سامانِ سکون ہے مگر سکون نہیں یہاں قہقہوں کا شور ہے مگر دل کا چین نہیں۔یہاں خوشی کے اسباب کے ڈھیر لگے ہوئے ہیںمگر حقیقی خوشی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

اس کی وجہ کیا ہے۔اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ہم روح جیسی برتر چیز کومادہ جیسی کمتر چیز کے ذریعہ خوش کرنا چاہتے ہیں۔اور ایسا ہونا کبھی اس دنیا میں ممکن نہیں۔جو لین آف ناروچ (1342-1416)نے صحیح کہا ہے کہ ہماری روح کبھی ان چیزوں میںسکون نہیں پاسکتی جو خود اس سے نیچی ہوں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Our soul may never rest in things that are beneath itself.

انسان اشرف المخلوقات ہے۔وہ ہماری معلوم دنیا کی سب سے برتر مخلوق ہے۔اس کائنات میں انسان کے اوپر صرف ایک ہی ذات ہے اوروہ خود خالق ہے۔یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان کے لیے سکون اورراحت کا واحد ذریعہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو پالے۔اس سے کمتر کوئی چیز اس کے لیے سکون اورراحت کا سبب نہیں بن سکتی۔

یہی حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے :

الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(13:28)۔

Qur'anQuotes the Qur'an

جو لوگ ایمان لائے اوران کے دلوں کو اللہ کی یادسے اطمینان ملتا ہے۔جان لو،اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شکر کی اہمیت

چارلس رشٹر (1900-1985)ایک امریکی سائنس داں ہیں۔وہ زلزلہ کے ماہرین میں سمجھے جاتے ہیں۔انھوں نے ایک مخصوص پیمانہ دریافت کیا ہے جو آج دنیا بھر میں زلزلہ کی پیدا کردہ طاقت کو ناپنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس کو رکٹر پیمانہ (Richter Scale) کہتے ہیں۔

چارلس رکٹر نے کیلی فورنیا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں نصف صدی تک زلزلہ کا مطالعہ کیا ہے۔انھوں نے کہا ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ زلزلہ کے خطرہ سے بچنے کے لیے آدمی کو کہاں بھاگنا چاہیے۔کیلی فورنیا میں ا س کا جواب بالکل سادہ ہے ،وہ یہ کہ کہیں نہیں۔امریکاکی 48ریاستوں میں زلزلہ کا سب سے کم خطرہ فلوریڈا اورساحلی ٹکساس میںہے۔مگر پھر میں سوال کروں گاکہ طوفان کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔حقیقت یہ کہ ہر علاقہ کے اپنے کچھ خطرات ہیں۔اس لیے واحد بدل یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے مقام پر چلا جائے اورکسی دوسرے خطرہ کو گواراکرے(ہندستان ٹائمس، 7اکتوبر1980)۔

آدمی کا یہ مزاج ہے کہ جو کچھ اس کو ملا ہوا ہے اس پر وہ مطمئن نہیں ہوتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی غیر مطمئن زندگی گزارتا ہے۔کوئی بظاہر خوش نصیب آدمی جس کو لوگ قابل رشک سمجھتے ہیں وہ بھی اندر سے اتنا ہی غیر مطمئن ہوتا ہے جتنا وہ لوگ جو اِس کو رشک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ہر شخص کو کوئی نہ کوئی نعمت ملی ہوئی ہے۔مگر جس کے اندر شکر کی نفسیات نہیں ہوتی وہ غیر حاصل شدہ نعمت کی طرف متوجہ رہتا ہے اورجو نعمت بروقت اسے حاصل ہے اس کو حقیر سمجھتا ہے۔ ایسے آدمی کے اندر اپنے خداکے لیے شکر کا جذبہ نہیں ابھرتا۔وہ عین اسی چیز سے محروم رہ جاتا ہے جس کو اسے سب سے زیادہ اپنے سینہ کے اندر پرورش کرنا چاہیے۔

موجودہ دنیا کو خد انے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مکمل راحت کسی کے لیے نہیں۔ ایک جغرافیہ کا آدمی وہاں کے مسائل سے گھبراکر دوسرے جغرافیہ میں چلا جائے تو اس کو دوسرے جغرافیہ میں پہنچ کر معلوم ہوگا کہ یہاں بھی مسائل ہیں۔ اسی طرح اگر کم آمدنی والے کے مسائل ہیں تو زیادہ آمدنی والے کے بھی مسائل ہیں۔اگر بے زور آدمی کے مسائل ہیں تو ان کے بھی مسائل ہیں جن کو زور و قوت حاصل ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں کسی آدمی کو مسائل سے فرصت نہیں۔آدمی کو چاہیے کہ وہ جن مسائل کے درمیان ہے ان کو گوارا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے۔اس کی توجہات کا مرکز خداکی رضا حاصل کرنا ہونہ کہ مسائل سے پاک زندگی کا مالک بننا ،کیونکہ وہ تو آخرت سے پہلے ممکن ہی نہیں۔

خدا کی یاد

اخبار ہند ستان ٹائمس کے ایڈیٹر نے ایک فیلڈاسٹڈی (15مئی 1982)کے ذریعہ ہندستانی لوگوں کا مزاج معلوم کیا۔وہ اپنے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندستانیوں کا حال یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو خداان کے یہاں سب سے اوپر ہوتا ہے۔ جب ہر چیز ٹھیک ہوتو پیسہ سب سے اوپر آجاتا ہے اورخداکو دوسرے درجہ میں پہنچادیتا ہے :

When a catastrophe strike, God is tops. When all is tranquil, money manages to push God down to the second place.

یہ بات نہ صرف ہندستانیوں کے لیے صحیح ہے بلکہ وہ عام انسانوں کے لیے بھی بڑی حدتک درست ہے۔انسان کا حال یہ ہے کہ تکلیف اوربے بسی کے لمحات میں وہ سب سے زیادہ خدا کو یاد کرتا ہے۔اس وقت اس کی ساری توجہ خداکی طرف لگ جاتی ہے۔مگر جب حالات اچھے ہوں اورکوئی پریشانی سامنے نہ ہوتو وہ اپنے مادی مفادات کو اپنی تمام توجہ کا مرکز بنالیتا ہے۔

مگر اس قسم کی خدا پرستی خدا پرستی نہیں۔وہ صرف آدمی کے اس جرم کو بتاتی ہے کہ وہ اپنے رب کو بھولا ہواتھا۔وہ وقت جب کہ اسے خداکو یاد کرنا چاہیے تھا اس وقت اس نے خدا کو یاد نہیں کیا۔یہاں تک کہ خدانے اس کی حقیقت اس پر کھول دی۔اس کی آنکھ سے غفلت کا پردہ ہٹ گیا۔جب ایسا ہواتو وہ گھبراکر خداکو پکارنے لگا۔

انسان ایک آزاد اوربااختیار مخلوق ہے۔اس سے آزادا نہ خداپرستی مطلوب ہے نہ کہ مجبورانہ۔ انسان کا یاد کرنا وہ یاد کرنا ہے جب کہ اس نے راحت کے لمحات میں خداکو یاد کیاہو۔راحت کے وقت خداکو بھلائے رکھنا اورجب مصبیت آئے تو خدا کی طرف دوڑنا ایک ایسا عمل ہے جس کی خداکے یہاں کوئی قیمت نہیں۔

پھر یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جو لوگ دولت کو سب سے بڑادرجہ دئے ہوئے ہیں وہ جھوٹے معبود کو اپنامعبود بنائے ہوئے ہیں۔جو چیز مصیبت کے وقت آدمی کا سہارانہ بنے،جس کو آدمی خود نازک لمحات میں بھول جائے وہ کسی کامعبود کس طرح ہوسکتی ہے۔

مومن کا ذہن

ایک روز کا واقعہ ہے۔میں انگریزی اخبار پڑھ رہا تھا۔اچانک مجھ پر ایک عجیب تجربہ گزرا۔مجھ کو محسوس ہواکہ کاغذ پر چھپے ہوئے انگریزی زبان کے الفاظ کو میں اردو زبان میں سمجھ رہا ہوں۔میری آنکھ اگرچہ ان کو انگریزی زبان میں پڑھ رہی ہے مگر میراذہن ان کو اردو زبان میں لے رہا ہے۔

یہی ہر شخص کا معاملہ ہے ،خواہ وہ اردوکا آدمی ہویاکسی دوسری زبان کا۔آدمی کسی بات کو ہمیشہ اپنی مادری زبان میں سمجھتاہے۔کان یاآنکھ کے راستہ سے بظاہر آدمی کے اندر ٹیبل کالفظ داخل ہوتا ہے۔مگر اردو کا ایک آدمی ٹیبل کو صرف اس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ اس کا ذہن اس کو میز میں تبدیل کرلے۔اسی طرح انگریزی کا ایک آدمی جب میز کا لفظ سنتا ہے تو وہ اس کو صرف اس وقت سمجھتا ہے جب کہ اس کاذہن اس کو ٹیبل کی صورت میں ڈھال لے۔انسانی ذہن کے اندر ایک اجنبی زبان کا لفظ داخل ہوتا ہے۔اس کے بعد ایک حیرت ناک واقعہ ہوتا ہے۔ذہن اس کوایک انتہائی پیچیدہ نظام سے گزار کر پراسرار طورپر اس کو اپنی مادری زبان میں تبدیل کرلیتا ہے۔

یہ واقعہ تمثیل کے انداز میں بتاتا ہے کہ مومن کا معاملہ اس دنیا میں کیا ہے۔مومن اس دنیا میں اس طرح رہتا ہے کہ ہر چیز جو اس کے اندر داخل ہوتی ہے وہ فی الفور خدائی حقیقت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔باہر جو چیز ایک مادی واقعہ ہے وہ مومن کے ذہنی سانچہ میں آکر روحانی واقعہ بن جاتی ہے۔ایک معاملہ جو باہر بظاہر انسانی معاملہ تھا وہ مومن کے ذہن میں داخل ہوتے ہی خدائی معاملہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک دنیوی چیز مومن کے ذہن میں پہنچ کر اخروی چیز کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔مومن کا ذہن ایک انتہائی پیچیدہ کارخانہ ہے جو ہر واقعہ کو ربانی واقعہ میں تبدیل کردیتا ہے۔

اس خدائی کا رخانہ میں ہروقت ایک عظیم عمل جاری رہتا ہے۔اس کے اندر ’’خام مال‘‘داخل ہوتا ہے اوروہ ’’تیارمال‘‘بن کر باہر آتا ہے۔ایک بظاہر بے معنی چیز اس سے گزرکر ایک انتہائی بامعنی چیزکی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔وہ شخص مومن ہے جس کا وجود اس قسم کا ایک ربانی کارخانہ بن جائے۔

خدائی کارخانہ

سورج گویا قدرت کا ایک کارخانہ ہے جو مادہ کو روشنی میں تبدیل کرتا ہے۔گائے ایک زندہ کارخانہ ہے جس میں گھا س داخل ہوتی ہے اورگوشت اوردودھ میں تبدیل ہوجاتی ہے اسی طرح درخت قدرت کا ایک کارخانہ ہے جس میں مٹی اورپانی اورگیس داخل ہوتے ہیں اور وہ پھول اورپھل میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔

یہ عمل جو سورج اوردرخت اورجانور میںکامیابی کے ساتھ ہورہا ہے ،یہی عمل انسان سے بھی اس کے خالق کو مطلوب ہے۔فرق یہ ہے کہ کائنات کی دوسری چیزوں میں تبدیلی کا عمل قانون قدرت کے تحت مجبورانہ طورپر انجام پاتاہے۔اورانسان میں تبدیلی کا یہ عمل خود انسان کے اپنے ارادہ کے تحت اختیارا نہ طورپر انجام دیاجاتا ہے۔دوسری چیزوں میں تبدیلی مادی اعتبار سے ہورہی ہے اورانسان کے اندر خدائی اعتبار سے۔

انسان سے اس کے پیداکرنے والے کو یہ مطلوب ہے کہ خارجی دنیا کے مشاہدات کو دلائل خداوندی میں تبدیل کرے۔جو چیز اس کے اندر صرف بطور ’’معلومات ‘‘داخل ہوئی تھی اس کو اپنے ذہن میں ’’معرفت ‘‘کی صورت دے سکے۔اس کو جب دنیا میں کوئی کامیابی حاصل ہوتو اس کووہ تمام تر خدا کے خانہ میں ڈال دے۔اس کو جب کوئی ناکامی ہوتو اس کے ذریعہ وہ عجز انسانی کی حقیقت کو دریافت کرے۔اس کو جب کسی سے شکایت ہوتو اس کا اندرونی نظام اس کو معافی اوردرگذرکی صورت میں تبدیل کردے۔وغیرہ

جو زمین اپنی مٹی کو درخت کی صورت میں تبدیل کرے اس کو زخیز زمین کہا جاتا ہے۔اورجو زمین اپنی مٹی کو درخت کی صورت میں تبدیل نہ کرسکے وہ بنجر زمین کہلاتی ہے۔یہی معاملہ انسانوں کا بھی ہے جو انسان اپنے اندرونی نظام کو اس طرح بیدار کرے کہ وہ خام چیزوں کو اعلیٰ چیزوں میں تبدیل کرنے لگے وہ مومن ہے جس انسان کا اندرونی کارخانہ ایسا کرنے میں ناکام رہے وہ کافر ہے۔

زرخیز زمین اوربنجر زمین میں جو فرق ہے وہی فرق مومن اورغیرمومن کے درمیان پایا جاتا ہے۔زرخیز زمین کے حصہ میں شادابی آتی ہے اوربنجر زمین صرف اجاڑ پڑی رہتی ہے۔اسی طرح مومن انسان کے لیے خداکے یہاں ہمیشہ کی جنت ہے اورغیر مومن انسان کے لیے خداکے یہاں ہمیشہ کی جہنم۔

صبر کا بدلہ

قرآن میں صبرکی بے حد تاکید کی گئی ہے ارشاد ہواہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے اوپر زیادتی کرے اورتم صبر نہ کرسکوتو اس کے ساتھ تم اتنا ہی کرسکتے ہوجتنا اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے۔مگر یہ صرف رخصت کی بات ہے۔ورنہ اعلیٰ درجہ تو یہ ہے کہ تم معاف کردو اور انتقام کے بجائے اصلاح کا انداز اختیار کرو۔اگر تم ایسا کروگے تو تمہارااجر اللہ کے ذمہ ہو جائے گا اورتم کوکو ئی نقصان نہ ہوگا:فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (42:40)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دنیا کی زندگی میں بار بارایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کودوسرے شخص سے تکلیف پہنچتی ہے۔کبھی ایک آدمی دوسرے کو ایک قول دیتا ہے مگر بعد کو وہ اسے پورانہیں کرتا۔ کبھی کوئی شخص اپنے کو مضبوط پوزیشن میں پاکر کمزور فریق کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔کبھی کوئی شکایت پیش آنے کی بنا پر ایک شخص دوسرے شخص کو مٹانے اوربرباد کرنے پر تل جاتا ہے۔کبھی کوئی شخص موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے اوراپنے ساتھی کو اس کا ایک جائز حق دینے پر تیار نہیں ہوتا۔کبھی کسی کی ترقی دیکھ کر آدمی کے اندر حسد پیدا ہوتا ہے اور وہ ناحق اپنے بھائی کی بربادی کے درپے ہوجاتا ہے۔

اب اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص مظلوم ہے اس کے دل میں ظالم کے خلاف آگ بھڑک اٹھتی ہے۔وہ اس کی زیادتیوں کو بھولنے اوراس کو معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔اس میں شک نہیں کہ ایسے مواقع پر دل کے زخم کو بھلا دینا انتہائی مشکل کام ہے۔لیکن اگر آدمی ایسا کرے کہ معاملہ کو اللہ کے اوپر ڈال دے ،وہ اللہ کی خاطر اس کو برداشت کرلے تو اس کا یہ عمل کبھی رائیگاں نہیںجائے گا۔جو چیز وہ انسانوں سے نہ پاسکا اس کو وہ خداسے پاکر رہے گا۔

ایک شخص جب کسی کو ایک قول دیتا ہے تو گویا وہ اس کو ایک بینک چیک دے رہا ہے جو عمل کے وقت کیش کیا جاسکے۔مگر جب عمل کے وقت وہ اپنے قول سے پھر جاتا ہے تو گویا اس نے کاغذی چیک تو لکھ دیا مگر جب کھاتہ سے اس کی رقم لینے کا وقت آیا تو اس نے ادائیگی سے انکار کردیا۔ایسا تجربہ کسی انسان کے لیے تلخ ترین تجربہ ہے۔لیکن اگروہ صبر کرلے تو خداکاوعدہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے ا س کا بدلہ دے گا جو چیک انسانی بینک میں کیش نہ ہو سکا وہ خدائی بینک میں کیش ہوگا ،خواہ دنیا میں ہو یاآخرت میں۔

جنت والے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ — اہل ایمان کو جس جنت میں داخل کیا جائے گااس کی معرفت انہیںاسی دنیا میں کرائی جاچکی ہوگی:وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6)۔دوسری جگہ ارشاد ہواہے کہ — جنت کا رزق اس رزق کے مشابہ ہوگا جس کی توفیق انہیںدنیا کی زندگی میں ملی تھیوَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا (2:25)۔حدیث میں کہا گیا ہے کہ جنت دوزخ دراصل انسان ہی کے اعمال ہیں جو آدمی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں:إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ (حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، جلد5، صفحہ 125)۔

quoted sourceQuoted from another author or source

اس سے معلوم ہوتاہے کہ جنت میں داخلہ کا آغاز اِسی دنیا سے ہوجاتا ہے۔جنتی انسان اپنی جنت کو اسی دنیا میں پالیتا ہے۔گویا کہ جنت کا ایک مثنیٰ اسی دنیا میں ہے اور آخرت کی جنت میںوہی شخص جائے گاجس نے دنیا میںجنت کے اس مثنیٰ کو پالیا ہو۔ جنت کا یہ دنیوی مثنیٰ گویا نقد انعام ہے جو اصل انعام سے پہلے اس کی ایک ابتدائی علامت کے طور پر دے دیاجاتاہے۔

یہ جنتی کون ہے۔یہ وہ شخص ہے جس نے دنیا میں ان کیفیات کا تجربہ کیا ہوجو آخرت میں اس کو جنت کا مستحق بنانے والی ہیں۔جس کے رونگٹے کھڑے ہوکر اس کو خدائی محاسبہ کا احساس دلا چکے ہوں۔ جس کے قلب پر ٹکڑے کردینے والی تجلیات کے نزول نے اس کو قربت خداوندی سے آشنا کیا ہو۔ جس نے بغض وانتقام کے جذبات کو اپنے اندر کچل کر عفوخداوندی کا مشاہدہ کیا ہو۔جس نے اپنے ندامت کے آنسوئوں میں وہ منظر دیکھا ہو جب کہ ایک مہربان آقا اپنے خادم کے اعتراف قصور پر اس سے درگزر فرماتا ہے۔جس پر یہ لمحہ گزراہو کہ ایک شخص پر قابو پانے کے باوجود وہ اس کو اس لیے چھوڑدے کہ اس کا خدابھی اس دن اسے چھوڑدے جب کہ وہ اس سے زیادہ عجز کی حالت میں ہوگا۔جو ایک امر حق کے آگے اس طرح گرپڑے جیسے لوگ آخرت میں خدا کو دیکھ کر ڈھ پڑیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ مومن جنت کا ایک پھول ہے۔وہ موجودہ دنیا میں آنے والی دنیا کا ایک ابتدائی شگوفہ ہے۔مومن پر وہ سارے تجربات اسی دنیا میں گزرجاتے ہیں جو دوسروں پر موت کے بعد گزرنے والے ہیں۔آدمی کی زندگی میں مختلف قسم کے جو حالات پیش آتے ہیں انہیں میں ہر آدمی کی جنت اورجہنم چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ان حالات میں شیطانی رد عمل پیش کرکے کوئی شخص جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے اورملکوتی رد عمل پیش کرکے کوئی شخص جنت کا۔

اپنا احتساب

کھیت میں جب فصل بوئی جاتی ہے تو فصل کے ساتھ طرح طرح کے گھاس پھوس بھی اگتے ہیں۔ گیہوں کے ہر پودے کے ساتھ ایک خود روگھاس بھی نکلتی ہے اورسرسوں کے ہر درخت کے ساتھ ایک خودرو پودابھی بڑھنا شروع ہوتا ہے۔یہ اپنے آپ نکلنے والے گھاس پھوس فصل کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ،وہ کھیت کے پانی اورکھاد میں حصہ دار بن جاتے ہیں۔وہ اصلی فصل کو بھر پورطور پر بڑھنے نہیں دیتے۔

کسان اگر ان خودروپودوں کو بڑھنے کے لیے چھوڑدے تو وہ ساری فصل کو خراب کردیں۔کھیت میں دانہ ڈال کر کسان نے جو امیدیں قائم کی ہیں وہ کبھی پوری نہ ہوں۔اس لیے کسان یہ کرتا ہے کہ وہ کھیت میںنرائی (weeding)کا عمل کرتا ہے۔وہ ایک ایک خودروپودے کو نکالتا ہے تاکہ کھیت کو ان سے صاف کردے اورفصل کو بڑھنے کا پورا موقع ملے۔ہر کسان جانتا ہے کہ کھیت میں دانہ ڈالنا ہی کافی نہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ فصل کے ساتھ اگنے والی دوسری گھاسوں کو چن چن کر نکال دیا جائے ،ورنہ کھیت سے مطلوبہ فصل حاصل نہیں ہوسکتی۔

یہ نرائی کا عمل جو کھیت میں کیا جاتا ہے یہی انسانی زندگی میںبھی مطلوب ہے اوراس کا دینی نام محاسبہ ہے۔انسان کا معاملہ بھی یہی ہے کہ اس کو جب کوئی خوبی کی چیز حاصل ہوتی ہے تو اسی کے ساتھ ایک ’’خودرو گھاس ‘‘بھی اس کے اندر سے اگنا شروع ہوتی ہے۔اس خودرو گھاس کو جاننا اوراس کو اپنے اندر سے نکال پھینکنا انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ آدمی کا انجام وہی ہوگا جو بغیرنلائی کیے ہوئے کھیت کا۔

کسی کو اسباب و وسائل ہاتھ آجائیں تو اس کے اندر بے جاخوداعتماد ی کا جذبہ ابھرتا ہے۔اقتدار مل جائے تو گھمنڈ پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح دولت کے ساتھ بخل ،علم کے ساتھ فخر ،مقبولیت کے ساتھ ریا اور سماجی عزت کے ساتھ نمائش کی نفسیات پیدا ہوجاتی ہیں۔یہ تمام چیزیں گویا خود روگھاس ہیں جو کسی آدمی کی خوبیوںکو کھاجانے والی ہیں۔ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اس اعتبار سے اپنا نگراں بن جائے اورجب بھی اپنے اندر کوئی ’’خودرو گھاس‘‘اگتے ہوئے دیکھے تو اس کو اکھاڑکر پھینک دے۔جو شخص اپنے اوپر محاسبہ کا عمل نہ کرے گاوہ یقینی طورپر اس دنیامیں برباد ہوجائے گا۔وہ ایسا کھیت ہوگاجس کی فصل تباہ ہوگئی ،وہ ایسا باغ ہوگا جس کی ساری بہار خزاں میں تبدیل ہوگئی۔

ثواب

جن لوگوں کو اللہ نے پیسہ دیا ہے وہ عام طور ایسا کرتے ہیں کہ اپنے ملازموں اورماتحت کارکنوں کی تو صرف واجبی تنخواہ یا اجرت دیتے ہیں۔دوسری طرف کانفرنس یاریلیف فنڈ یا مشہور اداروں کو بڑی بڑی رقمیں دے کر خوش ہوتے ہیں۔اگر ان سے پوچھئے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو وہ کہیں گے کہ ملازم یا کارکن کو جو رقم دی جاتی ہے تو وہ ان کے کام کی اجرت ہوتی ہے۔اس پر ہم کو ثواب نہیں ملے گا۔انھوں نے ہماری خدمت کی اورہم نے ان کو معاوضہ دے دیا۔اس پر ثواب کیسا۔یہ تو دونوں طرف سے معاملہ برابر ہوگیا۔اس کے برعکس اداروں اورملی کاموں میں رقم دی جاتی ہے ان کے متعلق یقینی ہے کہ ان پر ثواب ملے گا۔

مگر اس کی تہہ میں اصل بات کچھ اور ہے یہ جواب محض اصل بات پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے دل میں چھپی خواہش موجود ہے کہ وہ جو کچھ دے اس کا معاوضہ اس کو اسی دنیا میںملے۔غریب آدمی یہ معاوضہ پیسہ کی صورت میں چاہتا ہے۔مگر جن لوگوں کے پاس کافی پیسہ آجاتا ہے ان کو جس معاوضہ کی تمنا ہوتی ہے وہ سماجی حیثیت (social status)ہے۔یہی وہ چھپی ہوئی خواہش ہے جو اس قسم کے لوگوں کے انفاق کا رخ بڑی بڑی قابل ذکر مدوں کی طرف کردیتی ہے۔

ظاہر ہے کہ غریب ملازم یا کارکن یہ معاوضہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔اس کے پاس نہ اخبار ہوتا ہے نہ اسٹیج۔اس کے پاس اونچی بلڈنگوں والے ادارے ہیں اورنہ استقبال کرنے والا حلقہ۔مگر ایک شخص جب کسی مشہور ادارہ یاکسی ’’عظیم الشان‘‘ملی مہم میں رقم دیتا ہے تو اس کو امید رہتی ہے کہ اس کو شان دار معاوضہ ملے گا۔جلسوں کی صدارت ، عوامی مواقع پر نمایاں نشست ،اداروں میں پر زوراستقبال ،سماجی حیثیت میں اضافہ ، اخباروں میںنام چھپنا اوربڑے بڑے لوگوں کی صف میں جگہ ملنا ،وغیرہ۔

ثواب کا تعلق نیت سے ہے نہ کہ قابل تذکرہ مدوںسے۔ثواب حقیقتہً اس عمل میں ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ثواب یہ ہے کہ اللہ کی خاطر ایسی مدوں میں دیا جا ئے جو لوگوں کو دکھائی نہیں دیتیں۔ان مواقع پر خرچ کیا جائے جہاں ہر قسم کے دوسرے محرکات حذف ہوجاتے ہیں۔جس انفاق کافائدہ اسی دنیا میں وصول کرلیا گیا ہواس کا فائدہ کسی کو آخرت میں ملے گاتو کیوں ملے گا۔

لوگ دکھائی دینے والے مقامات پر انفاق کررہے ہیں حالاں کہ خداان کے انفاق کو قبول کرنے کے لیے اس مقام پر کھڑاہواہے جو ظاہر پرست انسانوں کودکھائی نہیں دیتا۔

نمائشی حق پرستی

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پتھر کے اوپر کچھ مٹی جم جاتی ہے۔اس مٹی کے اوپر سبزہ اگ آتا ہے۔بظاہر دیکھنے میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ کوئی کھیت ہو۔لیکن اگر زور کی بارش ہوجائے تو مٹی سمیت سارا سبزہ بہہ جاتا ہے اوراس کے بعد صرف پتھر کی صاف چٹان باقی رہ جاتی ہے جو ہر قسم کی ہریالی اورنباتات سے بالکل خالی ہوتی ہے۔

یہی معاملہ اکثر انسانوں کا ہے۔وہ دیکھنے میں بظاہر بالکل ٹھیک معلوم ہوتے ہیں۔ظاہری طور طریق میں بہت ’’شاداب ‘‘نظر آتے ہیں۔مگر حالات کا ایک جھٹکاان کی ساری شادابی اورہریالی کو ختم کردیتا ہے۔اس کے بعد ان کی شخصیت ایک سوکھے پتھر کی مانند ہوکر رہ جاتی ہے۔

ایک شخص جو بات چیت میں شرافت اورمعقولیت کی تصویر بنا ہواتھا وہ عملی تجربہ کے وقت اچانک ایک نامعقول انسان بن جاتا ہے۔ایک شخص جو انصاف اورانسانیت کے موضوع پر تقریر کررہا تھا وہ عمل کے موقع پر بے انصافی کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ایک شخص جو مسجد کے رکوع اورسجدہ میں تواضع کا مظاہر ہ کررہا تھا وہ مسجد کے باہر انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں گھمنڈ اورخود پسندی کا مجسمہ بن جاتا ہے۔ایک شخص جو دوسروں کو عالی ظرفی اورحقوق رسی کی تلقین کررہا ہے جب اس کا اپنا وقت آتا ہے تو وہ بغض ،حسد اورظلم کے راستہ پر چلنے لگتا ہے۔

یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔یہاں ہر آدمی کی آزمائش ہورہی ہے۔یہ آزمائش معمول کے حالات میں نہیں ہوتی بلکہ غیرمعمولی حالات میں ہوتی ہے۔مگر عجیب بات ہے کہ آدمی عین اس وقت ناکام ہوجاتا ہے جب کہ اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہیے۔

لوگ باتوں میں حق پرستی کا ثبوت دے رہے ہیں حالانکہ حق پرستی وہ ہے جس کا ثبوت عمل سے دیا جائے۔لوگ دوستی کے وقت خوش اخلاق بنے رہتے ہیں حالانکہ خوش اخلاق وہ ہے جو بگاڑ کے وقت خوش اخلاق ثابت ہو۔لوگ خدا کے سامنے تواضع کی رسم ادا کر کے مطمئن ہیں حالانکہ کسی کا متواضع ہونا یہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تواضع پر قائم رہے۔

چٹان کی مٹی پر کی جانے والی کھیتی نمائشی ہے۔ایسی کھیتی کسی کسان کے کچھ کام آنے والی نہیں۔سیلاب کا ایک ہی ریلا اس کو جھوٹی کھیتی ثابت کردیتا ہے۔اسی طرح نمائشی حق پرستی بھی جھوٹی حق پرستی ہے جس کو قیامت کا سیلاب اس طرح باطل ثابت کردے گا کہ وہاں اس کے لیے کچھ نہ ہوگا جو اس کا سہارابنے۔

زند ہ قبرستان

میں اسپتال کے اندر کھڑا تھا۔میرے سامنے طرح طرح کے مریض تھے۔ہر مریض درد والم کی تصویر بناہواتھا کسی کے ہاتھ میں تکلیف تھی اورکسی کے پائوں میں۔کسی کے پیٹ میں درد ہورہاتھا،کسی کی پیٹھ حادثہ کاشکار ہوگئی تھی۔اسپتال کی دنیا کا ہر آدمی مصیبت زدہ تھا۔یہاں کا ہر باشندہ انسانی عجز کانمونہ پیش کررہا تھا۔

میں نے سوچا ’’جسم کی کوئی ایک بات بگڑ جاتی ہے تو آدمی کا یہ حال ہوجاتاہے۔پھر اس وقت آدمی کا کیاحال ہوگا جب کہ اس کی ساری بات بگڑ جائے گی۔جب انسان سے اس کی ہر وہ چیز چھن جائے گی جس کو وہ اپنی چیز سمجھ کر سرکشی کررہا تھا‘‘۔

پہلے زمانہ میں آدمی عبرت کے لیے قبرستان جاتا تھا۔اب اس کو عبرت کے لیے اسپتال جانا چاہیے۔قبرستان میں ’’مصیبت زدہ ‘‘زمین کے نیچے ہوتا ہے۔اوراسپتال میں مصیبت زدہ زمین کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔قبرستان میںعبرت کی چیز کو سوچ کر تصور میں لانا پڑتا ہے۔اور اسپتال میں عبرت کی چیز بالکل زندہ حالات میں آنکھ کے سامنے موجود ہوتی ہے۔

اسپتال گویا زندہ قبرستان ہے۔اسپتال کی دنیا سراپا عبرت کی دنیا ہوتی ہے۔کوئی آدمی حادثہ کا شکار ہوکر یہاں آیا ہے۔کوئی سخت بیماری میں مبتلا ہے۔کسی کے جسم میں کوئی ضروری چیز کم ہوگئی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کراہ رہا ہے۔کوئی چیخ رہا ہے۔ غرض بے بسی وبے چارگی کے عبرت ناک مناظر ہیں جو اسپتال میں ہر طرف بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ مناظراس لیے دکھائے جاتے ہیں کہ آدمی ان سے سبق لے۔وہ دوسروں کی تکلیف میں اپنی تکلیف کاعکس دیکھے۔وہ جزئی واقعہ میںکلی حقیقت کا مشاہدہ کرے۔وہ دنیا کے واقعہ میں آخرت کے واقعات کا احساس کرلے۔

ایسے مناظر ہر آدمی کے سامنے آتے ہیں۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو ان سے سبق لیتے ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سبق لینے کے لیے غیر کی حالت کو اپنے اوپر طاری کرنا پڑتا ہے۔جو کچھ ابھی پیش نہیں آیا اس کا احساس اس طرح کرنا پڑتا ہے گویا کہ وہ پیش آچکا ہے۔یہ مستقبل کو حال کے اندر دیکھنا ہے اور کتنے لوگ ہیںجو مستقبل کو حال کے اندر دیکھنے والی نظر رکھتے ہوں۔

اسم اعظم کیا ہے

ایک بزرگ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہ اللہ کا اسم اعظم کیا ہے۔بزرگ نے فرمایا جب آدمی کا پیٹ غذ اسے خالی ہواوراس کا دل کینہ سے خالی ہوتو وہ اللہ کے ناموں میںسے جس نام سے بھی اپنے رب کو پکارے گاوہی اسم اعظم ہوگا(تذکرۃ الاولیاء)۔ گویا اسم اعظم کا تعلق ’’اسم ‘‘سے نہیں بلکہ کیفیت سے ہے۔اسم اعظم وہ ہے جو اعلیٰ کیفیات کے ساتھ زبان سے نکلے۔کیفیات کی عظمت کسی اسم کو اسم ِ اعظم بناتی ہے نہ کہ حروف تہجی کی عظمت۔ پیٹ خالی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی مادیات کے غلبہ سے آزاد ہے اور دل میںکینہ نہ ہونا بتاتا ہے کہ آدمی اپنے سینہ میںکسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی لیے ہوئے نہیں ہے۔جب کوئی آدمی اپنے کو مادی رونقوں سے اور انسانی شکایتوں سے اوپر اٹھا لیتا ہے تو وہ خدا کے بہت قریب ہوجاتا ہے۔اس کو خدا کے خصوصی فیضان میں سے حصہ ملنے لگتا ہے۔ایسے وقت میں خدا کے صفاتی ناموں میں سے کوئی نام جب اس کی زبان پر آتا ہے تو وہ ربانی کیفیات میں نہا یا ہواہوتا ہے۔ان کیفیات کے ساتھ جو بہترنام آدمی کی زبان سے نکلے وہی اس کے لیے اسم اعظم ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کچھ لوگ اسلام کے معاملہ کو پاک کلمات کا ایک پراسرار معاملہ سمجھتے ہیں۔ان کاخیال ہے کہ اسلام کے کچھ خاص عربی الفاظ ہیں جن میں طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔اگر کوئی شخص ان پاک الفاظ کو یاد کرلے اورزبان سے ان کو ادا کرے تو ان کی صرف ادائیگی سے کراماتی نتائج ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔دنیا میں آل و اولاد میں برکت ہوگی اور آخرت میں جنتی محل بننے لگیں گے۔ان کے نزدیک ان بابرکت کلمات میں سب سے زیادہ اونچا ’’اسم اعظم‘‘ہے۔مگر یہ محض بے بنیاد خیال ہے جس کا کوئی ثبوت کتاب وسنت میں موجود نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسم اعظم حقیقۃً حروف کے کسی مجموعہ کانام نہیں بلکہ کیفیات کے مجموعہ کانام ہے۔اللہ کو جب کوئی بندہ اس طرح یادکرتا ہے کہ وہ ہردوسری چیز سے اپنا رخ موڑ کر صرف اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔وہ اللہ میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرتا ہے کہ انسانوں کے لیے اس کے دل میں خیرخواہی کے سواکوئی اورجذبہ باقی نہیں رہتا تو اس وقت اس کی زبان سے اللہ کے لیے جو کلمات نکلتے ہیں ،اسی کا نام اسم اعظم ہے۔اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے ترجمہ’’کہو کہ تم اللہ کہہ کر پکارویارحمٰن کہہ کر پکارو،جس نام سے بھی پکاروگے تو اس کے سب نام اچھے ہیں ‘‘(17:110)۔اللہ خالق بھی اور مالک بھی وہ رحیم بھی ہے اور اکبر بھی۔وہ سب کچھ ہے۔جس برتر نام سے بھی آدمی اس کو پکارے وہ اس کے لیے جائز ہوگا۔البتہ پکارنے والے کی زبان سے نکلنے والا ایک لفظ کبھی اس کے لیے ’’اسم اعظم‘‘بن جاتا ہے۔یہ پکارنے والے کی کیفیت پر ہوتا ہے۔اللہ کو اس کی صفتوں میں سے کسی صفت سے پکارنا کبھی سادہ اورعام حالت میں ہوتا ہے اورکبھی اس طرح ہوتا ہے کہ خدا کانام لیتے ہوئے آدمی کی شخصیت پھٹ پڑتی ہے۔خدا کا نام لینا اس کی روح میں برپا ہونے والے طوفان کی آواز ہوتا ہے۔اس طرح دل کے بھونچال کے ساتھ خداکانام لینا عام حالت میں اس کا نام لینے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔وہ اس کی زبان سے ادا ہونے والے اسم کو اسم اعظم بنا دیتا ہے۔بندہ جب اللہ کی عظمتوں کے احساس سے سر شار ہو اور اس کی سرشاری زبان پر لفظ کی صورت میں ڈھل جائے تویہی اللہ کو اسم اعظم کے ساتھ یاد کرنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جھوٹی دھوم

ٹائمس آف انڈیا (30مئی 1985)میںہند ستانی شادیوں کے بارے میں ایک سبق آموز رپورٹ شائع ہوئی ہے۔اس کا عنوان ہے ہیلی کاپٹر بارات(Copter Barat)۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ سوائی مادھوپور کی مینا برادری میں خوش حالی کی علامت اب یہ بن گئی ہے کہ بارات دلہن کے گھر آئے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ آئے ،خواہ دولہا کے گھر سے دلہن کے گھر تک کافاصلہ 10کلو میٹر ہی کیوں نہ ہو۔اس سے پہلے شادیوں میںجہیز اورتلک کی دھوم تھی۔اب اس سے آگے بڑھ کر بمبئی کی ایک فرم سے ہیلی کاپٹر کرایہ پر حاصل کیے جارہے ہیں۔

شادیوں میں ہیلی کارپٹر کا استعمال کیوں کیا جارہا ہے ،اس کا جواب اخباری رپورٹر نے ان الفاظ میں دیا ہے :

other sourceWords of another person or source

The parents of the bride expect the barat to reach village with adequate pomp and show.

دلہن کے والدین امید کرتے ہیں کہ بارات ان کے گائوں میں دھوم دھام کے ساتھ آئے۔

انسان سمجھتا ہے کہ اس کی سواری کسی دولہا یاکسی دلہن کے گھر اترنے والی ہے۔اس لیے وہ شان وشوکت کے ساتھ اپنی سواری لے جانے کا اہتمام کررہا ہے۔اگر انسان کو یہ معلوم ہوکہ اس کی سواری بالآخر جہاں پہنچنے والی ہے وہ مالک کائنات کی عدالت ہے تو انسان کی سوچ یکسر بدل جائے۔اس کو معلوم ہو کہ شان والی شادی اوربے شان والی شادی میںکوئی فرق نہیں۔

کوئی شخص اپنی قتل گاہ کی طرف دھوم مچاتا ہوانہیں جاتا۔کوئی شخص ایک ایسی عدالت میں جشن کے ساتھ داخل نہیں ہوتا جہاں ایک بااختیار جج اس کے خلاف فیصلہ سنانے کے لیے بیٹھا ہواہو مگر اپنی آخری منزل کے بارے میں ہر آدمی اسی نادانی میں مبتلا ہے۔

کامیاب انسان وہ ہے جس کی سواری خدا کے یہاں باعزت طورپر اتاری جائے اورناکام انسان وہ ہے جو خد اکے یہاں اس حال میں پہنچے کہ وہاں اس کی حیثیت ایک غیر مطلوب انسان کی ہو۔وہاں نہ کوئی اس کا استقبال کرنے والا ہواور نہ کوئی اس کی خبر گیری کرنے والا۔

لطیف تجربات

الا صمعی عبدالملک بن قریب کا بیان ہے کہ میں نے بصرہ میں دیکھا کہ دو قبریں ہیں ِ، ان کے درمیان ایک لڑکی بیٹھی ہوئی رورہی ہے۔غم کی وجہ سے اس کا براحال ہورہا ہے۔ میں قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ ان الفاظ میں دعا کر رہی ہے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَمْ تَزَلْ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، وَأَنْتَ الْكَائِنُ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ، وَقَدْ خَلَقْتَ وَالِدَيَّ قَبْلِي وَخَلَقْتَنِي بَعْدَهُمَا مِنْهُمَا أَنِسْتَنِي بِقُرْبِهِمَا مَا شِئْتَ، ثُمَّ أَوْحَشْتَنِي مِنْهُمَا، إِذَا شِئْتَ، فَكُنْ لِي وَلهمَا مُؤْنِسًا، وَكُنْ لِي بَعْدَهُمَا حَافِظًا )ترتيب الأمالي الخميسية للشجري(1454۔یعنی،اے اللہ ،تو ہی سب سے پہلے ہے اورتو ہی سب سے بعد ہے۔تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ،اے میرے رب تو نے ہی میرے ماں باپ کو مجھ سے پہلے پیدا کیا ،اس کے بعد ان دونوں سے مجھ کو پیدا کیا۔تو نے ان کے ساتھ مجھے سکون دیاجب تک تو نے چاہا اورپھر جب چاہا تو نے ان کو مجھ سے جدا کر دیا۔اے اللہ ،تو مجھ پر اور ان دونوں پر رحم فرما اوران کے بعد میری حفاظت فرما۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصمعی کابیان ہے کہ اس لڑکی کے حسن کلام نے میری عقل کو مبہوت کردیا۔میں نے اس سے کہا کہ اے بیٹی اپنے کلام کو پھر ایک باردہرائو۔ یہ سن کر اس نے اپنا سراٹھایا اورمیری طرف دیکھ کر بولی اے شیخ ،خدا کی قسم میں تمہاری بیوی نہیں کہ تم مجھ سے اس قدر بے تکلف ہو۔تم کو اپنے گھر والوں سے بے تکلف ہونا چاہیے۔اصمعی کہتے ہیں خدا کی قسم میں یہ سن کر شرما گیا اوروہاں سے بھا گ آیا(ففررت واللہ عنھا حیاء منھا)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک معمولی لڑکی کے لیے یہ کیسے ممکن ہواکہ وہ اتنے گہرے انداز میں دعا کر ے۔ اس کی وجہ وہ حادثہ تھا جو اس پر گزرا۔آدمی جب کسی جھٹکے سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے اندر چھپے ہوئے لطیف جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔وہ ایسی باتیں پالیتا ہے جو اس نے اس سے پہلے نہیں پائی تھی۔وہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جو اس سے پہلے کبھی اس کی زبان پر نہیں آئے تھے۔آدمی طبعی طور پر آسودگی کے حالات کو پسند کرتا ہے۔مگر آسودگی کسی آدمی کو صرف اس قیمت پر ملتی ہے کہ وہ ان ربانی تجربات سے محروم رہ جائے جواس کی فطرت کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے تھے۔

دعا

’’میرے لیے بائیسکل خریددیجیے ‘‘ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا۔باپ کے لیے بائیسکل خریدنا مشکل تھا۔اس نے ٹال دیا۔لڑکا باربار کہتا رہا اور باپ باربار منع کرتا رہا۔آخر کار ایک روز باپ نے ڈانٹ کرکہا ’’میں نے کہہ دیاکہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا۔آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا‘‘۔

یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسوآگئے۔وہ کچھ دیر تک چپ رہا۔اس کے بعد روتے ہوئے بولا ’’آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں۔پھر آپ سے نہ کہیں تو اورکس سے کہیں ‘‘اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا۔اچانک اس کا انداز بدل گیا۔اس نے کہا ’’اچھا بیٹے ،اطمینا ن رکھو۔ میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا ‘‘یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔اگلے دن اس نے پیسہ کا انتظام کرکے بیٹے کے لیے نئی بائیسکل خریددی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہاتھا۔مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی۔جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے۔یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑاکر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لیے تھی۔

یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سی دعا ہے جو لوٹائی نہیں جاتی۔یہ وہ دعا ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین وآسمان بھی نہ کرسکیں۔جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کردیتا ہے کہ ’’بیٹا‘‘اور’’باپ‘‘دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔

یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتی ہے۔اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں۔قادرمطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔

خدا ئی اخلاقیات

کائنات کی شاہراہ

انسان ایک کامل دنیا کے اندر غیر کامل وجود ہے۔ستارے اورسیارے ،ہوااورپانی ، درخت اورجانور سب ویسے ہی ہیں جیساکہ انہیںہونا چاہیے۔وہ فطرت کی مقرر شاہراہ سے نہیں ہٹتے۔اس کے برعکس انسان فطرت کی شاہراہ سے ہٹ جاتا ہے۔انسان ویسا بنتا ہے جیسا اسے نہیں بننا چاہیے۔انسان وہ کرتا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیے۔

انسان کا یہ تضاد سوال بھی ہے اوراسی کے اندر اس کاجواب بھی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کے تمام مسائل کاسبب یہ ہے کہ وہ کائنات کی شاہراہ سے ہٹ گیا ہے۔اور اس کے تمام مسائل کاحل یہ ہے کہ وہ کائنات کی شاہراہ کو دوبارہ اختیار کرلے۔

فطرت کی جو شاہراہ بقیہ چیزوں کے لیے اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ ان کو ایک معیاری دنیا میں ڈھال دے ،وہی شاہراہ یقینی طورپر اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ وہ انسانی معاشرہ کو معیاری معاشرہ میں تبدیل کرسکے۔

ہماری غیر معیاری دنیا کے باہر جب ایک وسیع ترمعیاری دنیا موجود ہے تو یقینی طور پر ہمارے لیے پہلا صحیح ترین انتخاب یہی ہوسکتا ہے کہ ہم اس دنیا کو سمجھیں اوراس کے اصولوں کواپنی زندگی پر منطبق کریں۔

کائنات کے مطالعہ سے جو واضح ترین بات سامنے آتی ہے، وہ یہ کہپوری مادّی کائنات ایک متعین قانون فطرت میںجکڑی ہوئی ہے۔وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتی۔ہائیڈروجن اورآکسیجن کے مالیکیول سے پانی بننے کا جو اصول ہے وہ ہمیشہ یکساں رہتا ہے۔مختلف عناصر کے امتزاج سے کیمیائی مرکبات ہمیشہ ایک ہی لگے بندھے اصول کے تحت بنتے ہیں۔معدنیات کا پگھلنا اورپانی کا بھاپ بننا ہمیشہ ایک ہی معلوم قانون فطرت کے مطابق وقوع میں آتے ہیں۔یہی انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کے کردار کو اس حدتک معلوم اورمتعین ہونا چاہیے کہ اس کی پیشین گوئی کی جا سکے۔ انسان کا کردار قابل پیشین گوئی کردار ہونا چاہیے ،نہ یہ کہ خواہشات کے تحت وہ کبھی ایک قسم کے کردار کا مظاہرہ کرے اورکبھی دوسرے قسم کے کردار کا— اخلاقیات کا ایک ہی صحیح معیار ہے۔انسان کے لیے بھی اوربقیہ کائنات کے لیے بھی۔

حسن سلوک

سماج میں جو لوگ بے سہارا ہوگئے ہوں ان کا سہارا بننا بہت بڑی عبادت ہے۔ ماں باپ آخری عمر کو پہنچ جائیں۔ایک بچہ یتیم ہوگیا ہو۔ایک شخص اپنے وطن سے دور سفر کی حالت میں کسی مشکل میں پھنس جائے۔اس طرح کی دوسری صورتیں جب کہ آدمی کی ضروریات تمام تر دوسروں کے اوپر منحصر ہوجاتی ہیں ،اس وقت کسی کی مدد کرنا ،ایسے نازک وقتوں میں کسی کے کام آنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس کا بہت ثواب ہے۔ اس کی اہمیت قرآن سے بھی ثابت ہے اور حدیث سے بھی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس طرح کے عمل کی اتنی افضلیت کیوں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی عاجزانہ حیثیت کا عملی اقرار ہے۔ہرانسان خدا کے سامنے کا مل طورپر عاجز ہے۔ہر آدمی کو خدا کے دئے سے ملتا ہے اور اسی کے چھیننے سے چھن جاتا ہے۔اسی کی معرفت کانام ایمان ہے اور اسی کو مراسم عبودیت کی شکل میں ادا کرنے کانام پرستش ہے۔

لیکن آدمی اپنے ایمان اوراپنی عبادت میںسچا ہے یا نہیں ،اس کی صحیح جانچ اس وقت ہوتی ہے جب کہ ایک کمزور اوربے سہارا انسان سے اس کا سابقہ پڑے۔ایسے ہر موقع پر گویا ایک شخص ہمارے سامنے اسی حالت عجز میں لایا جاتا ہے جس حالت عجز میں خود ہم کو خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔اپنے جس احتیاج کی بنا پر ہم کسی خدا سے اپنے لیے مدد کے طلب گارہیں اسی احتیاج میں مبتلا ایک شخص ہمارے سامنے کردیاجاتا ہے تاکہ ہم کسی استحقاق اوردبائو کے بغیر اس کے ساتھ اچھا سلوک کرکے خدا سے کہیں کہ خدا یاتو بھی ہمارے ساتھ بہتری کا معاملہ فرماجب کہ تیرے اوپر نہ ہماراکوئی حق ہے اورنہ کوئی دبائو۔

عاجز انسان کے ساتھ حسن سلوک دراصل خداکے سامنے اپنی حیثیت عجز کا اقرار ہے۔یہ اپنی دعا کو خداکے آگے عمل کی صورت میںدہرانا ہے۔یہ خدا کے سامنے اپنی بےیارومددگار حیثیت کی دریافت ہے ایک مومن جب کسی ایسے آدمی کو دیکھتا ہے تو اس کے روپ میں وہ خود اپنے آپ کو خداکے مقابلہ میں دیکھنے لگتا ہے۔

یہ ادراک اس کو تڑپا دیتا ہے۔وہ چاہنے لگتا ہے اس بے سہاراآدمی کو وہ سب کچھ دے دے جو اس کے پاس ہے تاکہ وہ اپنے خداسے وہ سب کچھ پاسکے جو خدا کے پاس ہے۔دوسرے کی مدد کرنا گویا خداسے یہ دعا کرنا ہے کہ خدایا تو بھی اسی طرح میری مدد کر۔

سرسبز درخت

درخت جب بلند ہوکر فضا میں اپنی شاخیں پھیلاتا ہے اورایک ہرے بھرے وجود کی صورت میں زمین پر کھڑا ہوجاتا ہے تو وہ دیکھنے والوں کی نظر میں کتنا حسین ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک کامل وجود ہے۔اس نے وہ سب کچھ پالیا ہے جو اسے پانا تھا ،اس نے کائنات میں اپنے لیے وہ جگہ حاصل کرلی ہے جو اسے درکار تھی۔

اس کے برعکس انسان کو دیکھیے تو انسان ایک محروم اورناکام وجود نظر آتا ہے۔یہاں پائے ہوئے لوگ بھی اندر سے خالی ہیں۔کامیاب لوگ بھی مستقل طورپر ناکامی کے احساس سے دوچار ہیں۔انسان اس کائنات کی اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔وہ دوسری تمام چیزوں سے برتر اوصاف اپنے اندر رکھتا ہے۔ایسی حالت میں اس کا دوسری انواع سے پیچھے ہونا کس قدر عجیب ہے۔

ایک درخت کا دوسرے درخت سے کوئی ٹکرائو نہیں ،جب کہ ایک انسان دوسرے انسان سے لڑتا ہے۔جس درخت سے جس پھل کی امید کی جاتی ہے وہ ہمیشہ اپنی شاخ پر وہی نکالتا ہے۔جب کہ انسان کا حال یہ ہے کہ اس سے جو امید کی جائے اس پر وہ پورانہیں اترتا۔درخت اپنے دشمن کوبھی سایہ دیتا ہے اور اپنے دوست کوبھی۔جب کہ انسان اپنے دوست کے لیے کچھ ثابت ہوتا ہے اورغیر دوست کے لیے کچھ۔

اس فرق کاکوئی پراسرار سبب نہیں۔اس کا سبب دونوں کے مطالعہ سے بہ آسانی معلوم کیا جاسکتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ درخت اوردوسری چیزیں اپنے خالق کے نقشہ پر قائم ہیں۔اس کے برعکس انسان اپنے خالق کے نقشہ پر قائم نہیں۔

یہ کائنات ایک مرکزی اورمجموعی نقشہ کے مطابق بنی ہے۔یہاں امن وسکون اس مرکزی اورمجموعی نقشہ سے مطابقت کے ذریعہ ہی حاصل کیاجاسکتا ہے۔یہاں کامیابی کائناتی منصوبہ سے ہم آہنگی کی قیمت ہے اورناکامی اس سے ہم آہنگ نہ ہونے کی قیمت۔

خداکی طرف سے جو پیغمبر آتے ہیں وہ دراصل اسی خلا کو پرکرنے کے لیے آتے ہیں۔پیغمبروں کی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ انسان کس طرح اپنے آپ کو کائنات کی مجموعی اسکیم سے ہم آہنگ کرے۔وہ کس اسلوب حیات کو اختیار کرسے کہ وہ بھی خداکی دنیا میں ایک ’’ہرابھرادرخت ‘‘بن کر کھڑاہوسکے۔

چڑیا اورانسان

سالم علی (1896-1987)چڑیوں کے مطالعہ کے بہت بڑے ماہر ہیں۔ابھی وہ صرف دس سال کے تھے کہ انہیںچڑیوں کے مطالعہ سے دلچسپی ہوگئی۔انھوں نے اپنی زندگی کا بڑاحصہ اس طرح گذارا ہے کہ ہاتھ میں دور بین ہے۔ایک کندھے سے کیمرہ لٹک رہا ہے اورچڑیوں کے مشاہدہ اورمطالعہ میں مصروف ہیں۔کہاجاتا ہے کہ انھوں نے اس سلسلے میںجو اہرلال نہرو سے بھی زیادہ سفر کیے۔حتیٰ کہ لوگ انہیںچڑیاوالا (Birdman) کہنے لگے۔اس فن میں مہارت کی وجہ سے ان کو بہت سے ملکی اورغیر ملکی انعامات مل چکے ہیں۔

ہندستان میں دو ہزارسے زیادہ اقسام کی چڑیاں پائی جاتی ہیں۔سالم علی نے ان کا مطالعہ کرکے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ان کی ایک کتاب کانام (The Handbook of Indian Birds)ہے۔ یہ کتاب انھوں نے 20سال کے مطالعہ کے بعد لکھی۔

ایک اخبار کانمائندہ بمبئی میں ان کے مکان پر ان سے ملا۔اس نے سالم علی کو نہایت شریف اورمہذب انسان پایا۔اس کا خیال ہے کہ سالم علی میں یہ غیرمعمولی شرافت چڑیوں کے مطالعہ سے آئی ہے۔اس نے اپنی رپورٹ (ٹائمس آف انڈیا،25ستمبر1983)میں لکھا کہ انسان کو زیادہ انسانیت والا بنانے کے لیے غالباً یہ تجویز کیاجانا چاہیے کہ چڑیوں کے مطالعہ کوداخل نصاب کردیا جائے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Perhaps a course in birdwatching should be recommended to make men more human.

دنیا میں بے شمار قسم کی چڑیاں اورجانور پائے جاتے ہیں۔قدیم زمانہ کا انسان ان کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔مگر موجودہ زمانہ میں زمین پر پائے جانے والے مختلف جانوروں کا وسیع مطالعہ کیا گیا ہے اوران سے متعلق معلومات جمع کی گئی ہیں۔جانوروں کے طرززندگی سے انسان کو باخبر کرنے کے لیے آج کل مختلف ذریعہ اختیار کیے گئے ہیں۔جانور کے کھلے پارک اورچڑیاگر قائم کرنے کا مقصد یہ بھی ہے۔حتیٰ کہ اب بہت سی یونیورسٹیوں میں جنگلی جانوروں کی زندگی کے مضامین باقاعدہ نصاب میں شامل کیے گئے ہیں۔جانوروں میں انسان کے لیے بہتر نمونے موجود ہیں۔ہرجانور نہایت صحیح فطری زندگی گذارتا ہے۔جب کہ انسان باربار فطرت کے راستہ سے ہٹ جاتا ہے۔انسان اگر جانوروں کی تقلید کرے تو یہی اس کی نجات کے لیے کافی ہوجائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it