← Allahu AkbarAllahu Akbar
جنت صبر کے اُس پار ہے
Urdu · 174 min read
صالح سماج بنانے کا سارادارومدار اس چھوٹی سی بات پر ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ اس طرح رہے کہ دونوں اپنے آپ کو قابو میں رکھے ہوئے ہوں۔
جس چیز کو اسلامی نظام کہاجاتا ہے وہ کسی قسم کے سیاسی اکھیڑ پچھاڑسے وجود میں نہیں آتا۔اورنہ گولی اورپھانسی کی منطق سے اس کو برپا کیا جاسکتا ہے۔جو لوگ اس قسم کی کارروائیوں سے اسلامی نظام قائم کرنے کا اعلان کرتے ہیں،وہ یقینی طور پر یا تو غیر سنجیدہ ہیں یا مجنون ہیں۔
اسلامی نظام یااسلامی سماج اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی انسانی مجموعہ کی قابل لحاظ تعداد میں یہ مزاج پیدا ہوجائے کہ وہ اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر زندگی گزارنے لگے۔یہ وہ لوگ ہیںجو شکایتوں اورتلخیوں سے اوپر اٹھ کر جینا جانتے ہوں۔جو اپنے خلاف مزاج باتوں کو نظر اندازکردینے کی طاقت رکھتے ہوں۔جو اپنی غلطی کو فوراً محسوس کرلیں اوراس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔جو دوسروں کو الزام دینے کے بجائے خود ذمہ داری قبول کرلیں۔جو غلط فہمی کے مواقع پر خوش فہمی سے کام لینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔جو کسی انسان کو اس کے ’’آج ‘‘کے بجائے اس کے ’’کل‘‘کے لحاظ سے دیکھ سکیں۔
یہ سب کچھ ٹھنڈے طریقہ سے نہیں ہوتا۔اس کے لیے آدمی کو برداشت کی تلخیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ الفاظ رکھتے ہوئے آدمی نہ بولے۔وہ ہر وار کو اپنے اوپر سہے۔ وہ اپنے سینہ کو دبے ہوئے جذبات کا قبرستان بنادے۔مختصر یہ ہے کہ اپنے تمام حقوق کو وہ آخرت کے خانہ میں ڈال دے اوراپنی تمام ذمہ داریوں کو دنیا کے خانہ میں۔
حدیث میں ارشاد ہواہے کہ جہنم کولذتوں سے ڈھانک دیاگیا ہے اورجنت کو ناخوش گواریوں سے ڈھانک دیاگیاحُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الجَنَّةُ بِالْمَكَارِه (صحیح البخاری، حدیث نمبر6487)۔جو آدمی اپنے جی کی راہ پر بے روک ٹوک چلے وہ سیدھا جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔اس کے برعکس جو شخص جنت میں اپنی جگہ لینا چاہے اس کو اپنی خواہشات پر روک لگانا ہوگا۔اپنے اٹھنے والے محرکات کو دبانا ہوگا۔ناپسندیدہ باتوں کو برداشت کرنا ہوگا۔اپنی ذمہ داریوں کو پوراکرنا ہوگا،خواہ ان کا پورا کرنا اس کے لیے کتنا ہی تلخ ہو۔حقیقت یہ ہے کہ جنت صبر کے اُس پار ہے ،اگرچہ لوگ اپنی نادانی سے اس کو بے صبری کے اُس پار سمجھ لیتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عمل کا فرق
ایک ایسا کمپیوٹربنا یاجاسکتا ہے جو اپنی صورت کے اعتبار سے بالکل انسان کی طرح دکھائی دیتا ہو۔اس سے آپ کہیں کہ ’’پانی لائو‘‘اور وہ چل کر مقررہ مقام پر جائے اوروہاں سے پانی کا گلاس لاکر آپ کو پیش کردے۔مگر کمپیوٹر کے اس عمل پر اس کے لیے کوئی جزانہیں ہے۔
دوسری طرف ایک انسان ہے۔اس نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس سے بیتاب ہے۔اس کی حالت دیکھ کر اسے رحم آگیا۔وہ روانہ ہوا کہ ٹھنڈاپانی لاکر اس پیاسے آدمی کو پلائے۔اس وقت اس کے دل میںجذبات کا طوفان برپاتھا۔اس کی زبان سے نکلا خدایاتو اس دن مجھے ٹھنڈا پانی پلا جس دن تیرے سواکسی کے پاس پانی نہیں ہوگا۔ اس دن مجھ کو اپنے سایہ میں لے لے جس دن تیرے سوا کسی کے لیے سایہ نہ ہو گا۔اس نے ٹھنڈے پانی کا گلاس لیااوراس کو لے کر پیاسے کے پاس اس حال میں آیاکہ ایک طرف بھرے ہوئے پانی سے گلاس چھلک رہا تھا۔اوردوسری طرف خداکے خوف سے آنسوئوں کا طوفان اس کی آنکھوں میں امڈرہا تھا۔عین ممکن ہے کہ آدمی کا یہ عمل اللہ کو اتنا زیادہ پسند آجائے کہ اس عمل پر اس کی بخشش ہوجائے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
کمپیوٹراورانسان میں یہ فرق کیوں ہے۔جو کام انسان نے کیا وہی کام کمپیوٹر نے بھی کیا۔مگر انسان کو ایک گلاس پانی کے بدلے جنت دے دی گئی۔جب کہ کمپیوٹر کو اسی قسم کے ایک گلاس پانی پر کوئی انعام نہیں ملا۔ اس کی وجہ جذبہ کا فرق ہے۔کمپیوٹر کا عمل بے شعوری کی سطح پرتھا اورانسان کا عمل شعورکی سطح پر۔کمپیوٹر نے بے حسی کے تحت اپنا کام انجام دیااورانسان نے احساس کے تحت۔اسی فرق کا یہ نتیجہ تھا کہ ایک کواپنے کام پر کوئی جزانہیں ملی اوردوسرے کو اسی عمل پر ابدی جنت لکھ دی گئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی وہ فرق ہے جس کو شریعت میں قساوت اوراحتساب کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
قساوت کا مطلب ہے بے حسی۔اس سے مراد وہ عمل ہے جو محض ظاہری اعضاء سے انجام دیاجائے ،جس میں انسان کی اپنی نفسیات شامل نہ ہو۔اس کے مقابلہ میں احتساب کا مطلب ہے اللہ کی رضا کو سامنے رکھ کرکوئی کام کرنا۔
قساوت اوراحتساب کا یہ فرق تمام معاملات میں ہے۔کوئی بھی دینی عمل اللہ کے یہاں اسی وقت مقبول ہوتا ہے جب کہ وہ حساسیت کی سطح پر انجام دیاگیا ہو،بے حسی کی سطح پر کیا ہواعمل ایک قسم کا مشینی عمل ہے اورمشینی عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مطلوب نہیں۔
پلاسٹک کے پھل اورپھول
آجکل پلاسٹک کے پھول اورپھل بنتے ہیں۔دیکھنے میں بالکل پھول اورپھل کی طرح معلوم ہوںگے لیکن سونگھئے تو اس میں پھول کی خوشبونہیں اور منہ میں ڈالیے تو اس میں پھل کا مزہ نہیں۔اسی طرح موجودہ زمانہ میںدین داری کی عجیب وغریب قسم وجود میں آئی ہے۔بظاہر اس میں دھوم کی حدتک دین دکھائی دے گا۔لیکن قریب سے تجربہ کیجئے تو وہی چیز موجودنہ ہوگی جو دین کا اصل خلاصہ ہے اللہ کا ڈر اورانسان کادرد — پلاسٹک کے دور میں شاید دین داری بھی پلاسٹک کی دین داری بن کررہ گئی ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
لوگ دین دار ہیں مگر کوئی شخص اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں۔کوئی شخص اللہ کی خاطر اپنی اکڑختم کرنا نہیں جانتا۔ذاتی فائدہ کی خاطر بے شمار لوگ اپنے اختلاف اورشکایت کو بھول کر دوسروں سے جڑے ہوئے ہیں مگر خداکی زمین پرکوئی نہیں جو خدا کے لیے اپنے اختلاف وشکایت کو بھول کردوسروں سے جُڑ جائے۔
دین اصلاً اس کانام ہے کہ آدمی اس حقیقت کو پاجائے کہ اس کا ئنات کا ایک خدا ہے۔اسی نے تمام چیزوں کو بنایا ہے۔وہ موت کے بعد تمام انسانوں کو جمع کرکے ان سے حساب لے گااورپھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یاتو ابدی جنت میں داخل کرے گایاابدی جہنم میں۔یہ حقیقت اتنی سنگین ہے کہ اگر وہ فی الواقع کسی کے دل ودماغ میں اتر جائے تو اس کی زندگی کچھ سے کچھ ہوجاتی ہے۔وہ ان تمام چیزوں کے بارے میں انتہائی حساس ہوجاتا ہے جو آدمی کو جہنم کی آگ میں پہنچانے والی ہیں اوران تمام چیزوں کا انتہائی مشتاق ہوجاتا ہے جو آدمی کو جنت کے باغوں کا مستحق بنانے والی ہیں۔وہ ہر چیز سے زیادہ اللہ سے ڈرنے لگتا ہے اورہر چیز سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے لگتا ہے۔وہ اپنی انفرادی ہستی کو خدا کی عظیم ترہستی میں کھودیتا ہے۔
خدا اورآخرت کے بارے میں اس بڑھی ہوئی حساسیت اس کو بندوں کے بارے میں بھی انتہائی محتاط اور ذمہ دار بنا دیتی ہے۔ایک انسان سے بد خواہی کرتے ہوئے اسے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ اپنے آپ کو جہنم کے گڑھے میں گرارہا ہے۔بندوں کے ساتھ سرکشی کو سلوک کرتے ہوئے وہ اس طرح ڈرنے لگتا ہے جیسے کہ ہر آدمی اپنے ساتھ جہنم کے فرشتوں کی فوج لیے ہوئے ہے۔اپنے صاحب معاملہ افراد سے بے انصافی کرنا اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس نے اپنے آپ کو جہنم کے گہرے غار میں دھکیل دیا ہے۔اب کوئی انسان اس کی نظر میں محض ایک انسان نہیں ہوتا بلکہ ہر انسان ایک ایسا وجود ہوتا ہے جس کے ساتھ خدا اپنے تمام فرشتوں کے ساتھ کھڑاہواہو۔
دونوں ایک سطح پر
31مارچ 1981کو تمام دنیا کے اخبارات کی پہلی سرخی یہ تھی ’’صدرامریکاپر قاتلانہ حملہ‘‘۔ ایک نوجوان نے خود کارگن سے صدر رونالڈریگن پر حملہ کیا اوردوسکنڈمیں چھ فائر کیے۔ ایک گولی صدر کے سینہ کو چھید کر ان کے پھیپھڑے میںلگی۔اسپتال تک پہنچتے پہنچتے ان کے جسم کا آدھا خون بہہ چکا تھامگر فوری طبی مدد کارگر ثابت ہوئی اوررونالڈریگن کی جان بچ گئی۔
رونالڈریگن اس سے پہلے ایک فلم ایکٹر تھے۔فلم کی دنیا میں وہ کوئی ممتاز مقام حاصل نہ کرسکے۔اس کے بعد انھوں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیااوربالآخر1980کے الیکشن میں امریکاکے صدر منتخب ہوگئے۔گولی لگنے کے بعد صدر ریگن نے واشنگٹن کے اسپتال میں ڈاکٹروں اورنرسوں سے بات کرتے ہوئے کہا:
If I'd got this much attention in Hollywood, I would never have left.
اگر میںہالی وڈ(فلمی دنیا )میںاتنی زیادہ توجہ کا مرکز بناہوتا تو میں فلمی دنیا کو کبھی نہ چھوڑتا (ہندستان ٹائمس،1 اپریل 1981)۔دوسری طرف نوجوان حملہ آور جان ہنکلے (1955)کی روداد کے ذیل میں آیا ہے کہ اس کو نوجوان فلم ایکٹرس جاڈی فاسٹر(1962)سے محبت ہوگئی تھی۔وہ اس کو خطوط لکھتا رہا مگر مس فاسٹر نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔بالآخر اس نے حملہ سے ایک دن پہلے مذکورہ ایکٹر س کو خط لکھا جس میں یہ فقرہ تھا:
unverifiedAttribution could not be verified automatically
Now you'll know who I am (Hindustan Times, April 2, 1981)
اب تم جان لوگی کہ میں کون ہوں۔اس خط کے اگلے دن اس نے صدر امریکاپر قاتلانہ حملہ کیا۔اس کے بعدایک گمنام نوجوان اچانک ساری دنیا کے اخباروں کی شاہ سرخی بناہواتھا۔ریڈیو اورٹیلی ویژن کی خبروں میں اس نے پہلا مقام حاصل کرلیا۔صرف ایک بندوق کی لبلبی دبا کر اس نے وہ شہرت حاصل کرلی جو بے شمار لوگوں کو ساری عمرکام کرنے کے بعد بھی نہیں ملتی۔
ایک آدمی بظاہر مجرم ہواوردوسرابظاہر بے قصور مگر دونوں شہرت کے طالب ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے جینے کی سطح ایک ہے۔دنیا کا قانون لوگوں سے ان کے ظاہر کے اعتبار سے معاملہ کرتا ہے،آخرت وہ مقام ہے جہاں لوگوں سے ان کے باطن کے اعتبار سے معاملہ کیاجائے گا۔ایک شخص نام و نمود کے لیے دین کا علم بردار بنے ،دوسرا شخص نام ونمود کے لیے لیڈری کرے تو دین دار کاانجام بھی وہی ہوگا جو خود پسند لیڈروں کا خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔
جانور سے بدتر
شیخ سعد ی نے کہا تھا ’’میں خدا سے ڈرتا ہوں۔اورخدا کے بعد اس شخص سے ڈرتا ہوں جو خدا سے نہیں ڈرتا ‘‘۔اسی بات کو شیکسپیئر نے ایک اورانداز سے اس طرح کہا ہے— ’’انسان ہی ایک ایسا جانور ہے جس سے میں بزدل کی طرح ڈرتا ہوں‘‘۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس دنیا میں ہر چیز قابل پیشین گوئی کردار رکھتی ہے۔آگ کے بارے میں آپ پیشگی طور پر یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر آپ نے اس کے اندر ہاتھ ڈالا تبھی وہ آپ کو جلائے گی۔اگر آپ اپنے ہاتھ کو اس سے دور رکھیں تو وہ ایسا نہیں کرے گی کہ وہ کو دکر آپ کے ہاتھ پر آگر ے۔یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے حتیٰ کہ موذی جانوروں کے بارے میں بھی ہم کو پیشگی طورپر معلوم ہے کہ وہ یک طرفہ طور پرکسی کے اوپر حملہ نہیں کرتے۔ان کا حملہ ہمیشہ دفاعی ہوتا ہے نہ کہ جارحانہ۔
اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی ہر چیز ایک لگے بندھے قاعدہ کے تحت کام کررہی ہے اوراس قاعدہ کی رعایت کرکے آپ اس کے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔مگر انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جس کے عمل کا کوئی اصول اور قاعدہ نہیں۔وہ مکمل طور پر آزاد ہے اورجس وقت جو چاہے کرسکتا ہے۔
اس دنیا میں انسان ہی ایک ایسا وجود ہے جو یک طرفہ طورپر دوسرے کے خلاف کارروائی کرتا ہے جو کسی واقعی سبب کے بغیر دوسرے کے اوپر حملہ کرتا ہے۔انسان کے حرص اورانتقام کی کوئی حد نہیں۔آپ خاموشی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہوں اورمحض ذاتی محنت کی بنیاد پر ترقی کریں تب بھی آپ محفوظ نہیں۔کیونکہ دوسروں کے اندر حسد کا جذبہ پیدا ہوگااوروہ آپ کو گرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔انسان لامحدود طورپر اپنی خواہشیں پوری کرناچاہتا ہے اوربے حساب حدتک دوسرے کو برباد کرکے اس کی بربادی کاتماشا دیکھنا چاہتا ہے۔
کوئی بدترین موذی جانور بھی اس کو نہیں جانتا کہ وہ کسی کو ذلیل کرنے کامنصوبہ بنائے۔وہ کسی کو نیچا دکھا کر اپنے غرور کے لیے تسکین کا سامان فراہم کرے۔کسی کو خواہ مخواہ مصیبتوں میں پھنسا کر اس کی پریشانی کا تماشا دیکھے۔یہ صرف انسان ہے جو ایسا کرتا ہے۔ خدا نے انسان کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا ہے۔مگر انسان اپنی نادانی سے اپنے آپ کو اسفل سافلین کی پستی میں گرالیتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امتحان کا کام
کالج میں امتحان ہورہا تھا۔ایک طالب علم امتحان ہال میں داخل ہوا۔مگر اس نے امتحان کی کاپی پر کچھ نہیں لکھا۔وہ بس بیٹھا ہواسگریٹ پیتا رہا اورتین گھنٹہ گزار کرباہر چلا آیا۔اس کے بعد وہ لائبریری پہنچا اوروہاں کتابوں کے درمیان بیٹھ کر پرچہ حل کرنا شروع کردیا۔امتحان ہال میں اس نے اپنی کاپی سادہ چھوڑ دی تھی مگر لائبریری میں اس نے اپنی کاپی بھرڈالی۔
آپ کہیں گے کہ یہ فرضی کہانی ہے۔کوئی طالب علم اتنا بے وقوف نہیں ہوسکتا کہ امتحان ہال میں پرچہ حل نہ کرے اورلائبریری میں بیٹھ کر کاپی بھرنے لگے۔اوراگر یہ واقعہ سچا ہوتو یقینا وہ کوئی ایسا طالب علم ہوگا جس کا دماغ صحیح نہ ہو۔
یہ درست ہے کہ اس قسم کی حرکت کوئی پاگل طالب علم ہی کرسکتا ہے۔مگر دنیا کے امتحان کے معاملہ میں جوبات لوگوں کواتنی عجیب معلوم ہوتی ہے ،آخرت کے معاملہ میں ہر شخص اسی طریقہ پر عمل کررہا ہے۔ کالج کے ذمہ دار طلبہ کا امتحان جہاں لینا چاہتے ہیں وہ امتحان ہال ہے نہ کہ لائبریری۔اسی طرح خداکے بھی امتحان لینے کے مقامات ہیں۔مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا نے امتحان کے جو مقامات مقرر کیے ہیںوہاں لوگ امتحان میں پورا اترنے کی کوشش نہیںکرتے۔اس کے بجائے وہ دوسرے مقامات پر خدا پرستی اوردین داری کا کمال دکھارہے ہیں۔
خدا آدمی کے ایمان کا ثبوت دل کی انابت میں دیکھنا چاہتا ہے اورلوگ اپنے ایمان کا ثبوت کلمہ ایمان کے مخارج میںدے رہے ہیں۔خداآدمی کی عبادت کوخشوع کے معیار پر جانچ رہا ہے اورلوگ مسائل کی پابندی میں اپنی عبادت گزاری کا ثبوت فراہم کررہے ہیں۔خدا لوگوں کے دین کو کردار اورمعاملات کی سطح پر جانچ رہا ہے اورلوگ اشراق اور چاشت کے فضائل میں اپنی دین داری کامظاہرہ کررہے ہیں۔خدا چاہتا ہے کہ آدمی اپنے آپ پر خدا کی حکومت قائم کرنے والا بنے اورلوگ کسی خارجی شخص کے خلاف اکھیڑ پچھاڑ کرکے حکومت خداوندی کے قیام کا کریڈٹ لینے میںمصروف ہیں۔ خداکسی آدمی کو جہاں مظلوموںکی حمایت کرنے والا دیکھنا چاہتا ہے وہ مظلوم فرد ہے مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ظلم وفساد کے اجتماعی واقعات پر تقریریں اوربیانات پیش کرکے اپنے کو مظلوموں کے حامی ثابت کرنے لگے ہوئے ہیں۔
ہرآدمی جانتا ہے کہ کسی طالب علم کی وہ کاپی بالکل بے کار ہے جو امتحان ہال کے بجائے لائبریری میں بیٹھ کر بھری گئی ہو۔کاش لوگ جانتے کہ ٹھیک اسی طرح وہ عمل بےحیثیت ہے جو خداکے مطلوبہ مقام کے علاوہ کہیں اورپیش کیاگیاہو۔
عمل کے بغیر
آج کا غذ کی اتنی افراط ہے کہ جہاں بھی دیکھیں کاغذ کا ایک ٹکڑاپڑاہواملے گا۔مگر کاغذ کے ان ٹکڑوں کی کوئی قیمت نہیں۔نوٹ بھی کاغذ کا ایک ٹکڑاہے۔مگر اس کی قیمت ہے۔اس کی قیمت اتنی یقینی ہے کہ کوئی بھی آدمی اس پر شبہ نہیں کرتا۔اس فرق کی وجہ یہ کے عام کاغذ ٹکڑے کی کسی نے ضمانت نہیں لی ہے جبکہ نوٹ کے پیچھے سرکاری بینک کی ضمانت ہے۔ہر نوٹ پرسرکاری بینک کی یہ ضمانت ثبت ہوتی ہے کہ وہ اس کے پیش کرنے والے کو وہ رقم پوری اداکر دے گاجو اس پر چھپی ہوئی ہے۔یہی ضمانت ہے جس نے نوٹ کے کاغذکو لوگوں کے لیے قیمتی بنادیاہے۔
یہی معاملہ الفاظ کا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آج جتنے الفاظ بولے جارہے ہیں تاریخ کے کسی دور میں اتنے الفاظ نہیں بولے گئے۔مگر ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں ،کیونکہ ان کے پیچھے اٹل ارادہ کی ضمانت شامل نہیں ہے۔آپ سے ایک شخص وعدہ کرتا ہے کہ وہ آپ کافلاں کام کردے گا،مگر جب آپ مقررہ وقت پر اس کی حمایت مانگتے ہیں تو وہ بہانہ کر دیتا ہے۔آپ مذکورہ شخص کے پاس جو چیز لے کرگئے،وہ اس کے بولے ہوئے الفاظ تھے۔ جب اس نے اپنا وعدہ پورا نہیںکیا توگویا اس نے اپنے الفاظ کی قیمت ادانہیں کی۔ اس نے الفاظ کا کاغذ تو دے دیا، مگر جو عمل اس کاغذ کی قیمت تھا اس کو دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اس کے بولے ہوئے الفاظ ردی کاغذ کے ٹکڑے تھے نہ کہ بینک کاجاری کیاہوا نوٹ۔
آج کی دنیا کا سب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کی سطح پر ہر آدمی بڑے بڑے الفاظ بول رہا ہے مگر اپنے الفاظ کی عملی قیمت دینے کے لیے کوئی شخص تیار نہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کے بولے ہوئے الفاظ اسی طرح ردی کے پرزے بن کر رہ گئے ہیں جیسے پرزے گلی کوچوں میں ہر وقت پڑے رہتے ہیں اورہر آدمی ان کو بے قیمت سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔
ایک شخص مظلوموں کی حمایت میں بیانات اورتجویزوں کے انبار لگارہا ہے مگر جب اس کے قریب کا ایک شخص اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میری مظلومیت پر میری مدد کروتو وہ اس کو برف کی طرح بالکل سردپاتا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی جو لفظ بول رہا تھا اس کے پیچھے اس کا حقیقی ارادہ شامل نہ تھا۔وہ محض زبانی الفاظ تھے نہ کہ کوئی حقیقی فیصلہ۔ایک شخص لوگوں کے سامنے شرافت اورتواضع کی تصویر بنارہتا ہے مگر جب اس کی انا پر چوٹ لگتی ہے تو اچانک وہ حسد اورگھمنڈ کامظاہرہ کرنے لگتا ہے۔اس سے معلوم ہواکہ اس کی شرافت محض ظاہری تھی ،وہ اس کی روح میں اتری ہوئی نہ تھی۔
دنیا کی خاطر عمل کرنے والے
لوگ خوش اخلاق ہیں۔وہ ہدیے دیتے ہیں اوردعوتیں کرتے ہیں۔وہ دوسروں کے کام آنے کے لیے دوڑتے ہیں۔وہ دوسروں کے مسئلہ کواپنا مسئلہ بناتے ہیں۔وہ غمی کے موقع پر اظہار درد کے لیے پہنچتے ہیں اورخوشی کے موقع پر مبارک باد دینے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔وہ اختلاف کے باوجود اختلاف کو بھول جاتے ہیں اورشکایت کے باوجود شکایت کو پی جاتے ہیں۔
لوگ خوش ہیں کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔وہ ویسے ہیں جیسا کہ انہیںہوناچاہیے۔
مگر لوگوں کی یہ خوش معاملگی کس کے ساتھ ہے۔صرف ان لوگوں کے ساتھ جن سے ان کا کوئی فائدہ وابستہ ہے۔جن سے انہیںامید ہے کہ وہ وقت پر ان کے کام آسکتے ہیں۔جن سے وہ ڈرتے ہیں۔جن کے زورقوت کا رعب ان کے اوپر چھایا ہوا ہے۔جن سے کٹ کروہ سمجھتے ہیںکہ سارے لوگوں سے کٹ جائیں گے،جن سے جڑکر وہ سمجھتے ہیں کہ سارے لوگوں سے جُڑ ے رہیں گے۔
لوگوں کی یہ خوش اخلاقی تمام ترمفاد پرستانہ خوش اخلاقی ہے۔اس کا راز اس وقت معلوم ہوجاتا ہے جب کہ معاملہ ایسے شخص سے پڑے جس کے ساتھ خوش اخلاقی برتنے کے لیے مذکورہ محرکات میں سے کوئی محرک موجود نہ ہو۔ایسے موقع پر اچانک وہی آدمی بالکل بد اخلاق بن جاتا ہے جو اس سے پہلے نہایت خوش اخلاق دکھائی دے رہا تھا۔
اب اس کو یہ شوق نہیںہوتاکہ وہ سلام میں پہل کرے۔اب وہ اپنی دعوتوں میں اس کوبلانا بھول جاتا ہے۔اب وہ اس کی مشکلوں میںکام آنے کے لیے نہیں دوڑتا۔ اب وہ معمولی شکایت پر بگڑکر بیٹھ جاتا ہے۔ اب اس کو یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اس کے جذبات کی رعایت کرے۔ دنیوی فائدہ کے لیے اخلاق دکھانے والا آدمی اس وقت بے اخلاق ہوجاتا ہے جب کہ اس میں کوئی دنیوی فائدہ نظر نہ آتا ہو۔
لوگوں کوجاننا چاہیے کہ اس قسم کی خوش اخلاق اورانسانیت کی خداکے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔وہ کسی آدمی کو جہنم کی آگ سے بچانے والی نہیں خواہ وہ کتنی ہی زیادہ بڑی مقدار میں آدمی کے اندر پائی جارہی ہو۔خداکے ہاں جو کچھ بدلہ ہے صرف اس عمل کاہے جو خالص خداکی رضا اورآخرت کی نجات کے لیے کیاگیاہو۔اورجو عمل دنیا میں اپنا معاملہ درست رکھنے کے لیے کیا جائے اس کا خدا کے یہاں کوئی بدلہ نہیں۔ایسے اعمال لے کر خدا کے یہاں پہنچنے والوں سے خدا کہہ دے گا — تم نے جوکچھ کیا وہ اپنی دنیا کے لیے کیا۔تم دنیا میں اس کا بدلہ پاچکے۔اب آخرت میں تمہارے لیے اس کے بدلے میں کچھ نہیں۔
شکار کرنے والے
کرنل جے پال نے اپنی شکاری یادداشتوں پر ایک کتاب شائع کی ہے جس کانام ہے عظیم شکار:
other sourceWords of another person or source
Great Hunt, Lt. Col. Jaipal, Carlton Press. New York 1982.
جم کاربٹ (Jim Corbett)ایک شکاری تھا ،وہ شیر کو گولی مارکر ہلاک کرنے سے خاص دل چسپی رکھتا تھا،تاہم اپنے اس قاتلانہ فعل کے لیے اس کے پاس ایک خوبصورت توجیہ تھی۔’’میں گائوں والوں کو مردم خورشیروں سے بچانے کے لیے ان کا شکار کرتا ہوں ‘‘اسی طرح اکثر شکاریوں کے پاس اپنے وحشیانہ کھیل کی خوبصورت تاویلات موجود ہوتی ہیں۔مگرکرنل جے پال کو اس قسم کی فرضی توجیہات تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔انھوں نے صفائی کے ساتھ اس بات کو تسلیم کرلیا ہے جس کو دوسرے لوگ صفائی کے ساتھ تسلیم نہیں کرتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کرنل جے پال کے لیے گھڑیال کومارنا ایک پسندیدہ کھیل تھا۔وہ لکھتے ہیں کہ وہ منظربڑادلچسپ ہوتاتھا جب کہ میں گھڑیال کے پیچھے رینگ کرچلتا۔پھر کبھی گھڑیال چھپ سے پانی میں کودپڑتا۔اورجب اس کو گولی لگتی تو وہ عجیب طریقے سے اپنی دم پٹکتا اوراپنا منہ کھول دیتا۔یہ سب چیزیں مجھ کوبڑی عجیب قسم کی پُرجوش مسرت دیتی تھیں :
All this gave me quite a lot of thrills.
انسان کے مزاج میں یہ بات داخل ہے کہ وہ دوسرے کی گھات میں لگے۔وہ دوسرے کو ستانے کے منصوبے بنائے اورجب دوسرے کوستانے میں کامیاب ہوجائے تو اپنی کامیابی پر خوشی کے قہقہے لگائے۔یہی مزاج انسان کے امتحان کا اصل پرچہ ہے۔جو اپنے اس مزاج سے مغلوب ہوکر اپنے بھائی کاشکار کرنے لگے وہ جہنمی ہے اورجو شخص اپنے اس مزاج پر قابو پالے اوردنیا میں اس طرح رہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لیے رحمت بناہواہووہی وہ شخص ہے جس کے لیے آخرت میںجنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔
دو قسم کے انسان
قرآن میں ہے کہ ہر جی اپنے کیے میں پھنسا ہواہے:كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ (74:38)۔لوگ خود اپنے کیے کے حوالے کردیے جائیں گے:أُولَئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا (6:70)۔قیامت میںلوگوں سے کہا جائے گاکہ چکھو جو تم کماتے تھے:ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ (39:24)۔یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ یہ تمہارااپناکیاہے جو تمہاری طرف لوٹایا جائے گا:إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُم (حیاۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء، جلد5، صفحہ 125)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی ایک انڈسٹری (کارخانہ)ہے۔مومن خداکی انڈسٹری ہے اورغیر مومن شیطان کی انڈسٹری۔ہر آدمی جو کچھ ہے اس کے مطابق وہ اپنی پیداوار کاڈھیرلگارہا ہے۔خدا کے علم کے مطابق آدمی جب اپنے حصہ کاکام کرچکا ہوتا ہے تو اس پر موت آجاتی ہے۔اس کے بعد اس کی اگلی زندگی شروع ہوتی ہے جہاں وہ ابدی طورپر اپنی اگائی ہوئی فصل کے حوالے کردیا جاتا ہے۔جس نے کانٹوں کی فصل اگائی تھی وہ اپنے آپ کو کانٹوں میں پھنسا ہواپاتا ہے اورجس نے پھول اورخوشبو کی فصل اگائی تھی وہ پھول اورخوشبووالے باغوں میں ہمیشہ کے لیے چلاجاتا ہے۔
انڈسٹری کیا ہے۔انڈسٹری وہ نظام ہے جس کے اندر خام مال ڈالا جائے اورپھر وہ تیار شدہ سامان کی صورت میں برآمدہ ہو۔ایک انسان وہ ہے جس کو خدانے بڑائی دی تواس نے تواضع کی صورت میں اس کا ردعمل پیش کیا۔اس کا احتساب کیاگیا تو اس نے عجز کی نفیسات کے ساتھ اس کو قبول کیا۔اس کے پاس دولت آئی تو اس نے خداکے راستہ میں اس کا استعمال ڈھونڈنکالا۔اس کو مواقع ملے تو وہ ان مواقع میں اپنے آپ کو خداکی خاطر دفن کرنے پر راضی ہوگیا۔اس نے لوگوں کے اوپر قابو پایا تو وہ ان کے لیے انصاف اورخیرخواہی کاپیکر بن گیا۔یہ وہ شخص ہے جس نے اس بات کا ثبوت دیاکہ اس نے اپنے اندر خداکی انڈسٹری قائم کی تھی۔جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوئی وہ ربانی پیکر میں ڈھل کرباہر نکلی۔
دوسرا انسان وہ ہے جس کی انڈسٹری سے صرف زہر اورانگارے برآمد ہوئے۔اس کو جب موقع ملا تو اس نے اپنی بڑائی کا جھنڈابلند کیا۔اس کے پاس دولت آئی تو اس کو اس نے اپنی نمودونمائش میںخرچ کیا۔اس نے کسی کے اوپر غلبہ پایا تواس کی بربادی کے منصوبے بنائے۔اس کو کسی سے اختلاف ہواتو اس کو اس نے زہریلے کلام اور آتشیں عمل کا مزہ چکھایا۔اس سے جب کسی کا معاملہ پڑاتو اس کو اس سے خود غرضی ،بے انصافی اوردھاندلی کا تجربہ ہوا۔
ایسا آدمی گویا اپنے اندر شیطان کی انڈسٹری قائم کیے ہوئے ہے۔جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوتی ہے وہ زہراورآگ اوربدبو بن کر اس کے باہر آتی ہے۔موت کے بعد اس کی یہ پیداوار اسے گھیرلے گی۔وہ اپنے آپ کو خود اپنے بنائے ہوئے جہنم میں پھنسا ہواپائے گا۔
آپریشن
فونکس (امریکہ)کے اسپتال میں ایک شخص نے داخلہ لیا۔اس کے پیٹ میں نہایت سخت تکلیف تھی۔ڈاکٹروں نے اس کو آپریشن کا کیس قرار دیا۔چنانچہ اس کے پیٹ کا آپریشن کیاگیا۔ڈاکٹروں نے حیرت انگیز طورپر پایاکہ اس کے پیٹ میں ایک ہیرا اٹکا ہواہے۔یہی ہیرااس کے ناقابل برداشت درد کا سبب تھا۔ہیرااس کے پیٹ سے نکال کرالگ کیاگیا۔اس ہیرے کے ساتھ اب بھی قیمت کا پرچہ لگاہواتھا۔اس پرچہ پرلکھا ہواتھا— 6500ڈالر۔
فوراً پولیس طلب کی گئی۔پوچھ گچھ کے دوران مریض نے بتایا کہ اس کو انعام میں یہ ہیراملاتھااورغلطی سے وہ اس کے پیٹ میں چلاگیا۔تاہم بہت جلد معلوم ہوگیاکہ اصل حقیقت کچھ اورہے۔یہ شخص ایک بارہیرے کی ایک دکان میں داخل ہوااوروہاں ایک ہیراچرالیا۔مگرجب وہ نکلنے کی کوشش کررہا تھاتو دکان دار کو شبہ ہوا۔اس نے آدمی کا پیچھا کیا۔جب آدمی نے دیکھا کہ وہ پکڑاجانے والا ہے تو اس نے ہیرے کو جلدی سے منہ میں ڈالا اورنگل لیا۔پولیس اس کی تلاش میں تھی مگر وہ ابھی تک پولیس کے ہاتھ نہیں آیاتھا۔اس کے بعد فوراً اس کو گرفتار کرلیاگیا(ہندستان ٹائمس، 5نومبر1981ء)۔
ناجائز طورپر حاصل کیاہواہیراآدمی کے پیٹ میں ہضم نہ ہوسکا۔وہ مجبور ہوگیا کہ چھپائے ہوئے ہیرے کونکال کرباہر لائے اورخود اپنے جرم کازندہ ثبوت بن جائے۔یہی معاملہ شدید ترصورت میںلوگوں کے ساتھ آخرت میں ہوگا۔
دنیا میں آدمی ایک شخص کا حق دباتا ہے ،وہ کسی کو وہ کلمہ اعتراف دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا جو ازروئے واقعہ سے دینا چاہیے۔یہ سب کرکے بھی آدمی موجودہ دنیا میں کامیاب رہتا ہے۔زوراورہوشیاری کے ذریعہ وہ اپنے جرم کو چھپالیتا ہے۔مگر یہ صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی موت سے دوچار نہیں ہوتا۔موت ہر آدمی کے لیے گویا قدرت کاآپریشن ہے جو اس کے اندر کوباہر کردیتا ہے اوراس کے چھپے کوکھلابنادیتا ہے۔جس طرح ہیراآدمی کے پیٹ میں ہضم نہیں ہوتا۔اسی طرح ظلم اوربے انصافی کو بھی خدا کی یہ کائنات کبھی قبول نہیں کرتی۔
آدمی پر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدائی آپریشن اس کی حقیقت کوکھول دے اوراس کے لیے اپنے جرائم کے اقرار کے سواکوئی چارہ نہ رہے۔
یہ جہنمی قافلے
’’ہرآدمی جنت کی تلاش میں ہے مگر ہر آدمی اپنی جنت کو دوزخ میں تلاش کررہا ہے‘‘ میری زبان سے بے ساختہ نکلا’’لوگ کانٹوں میںپھول کو ڈھونڈرہے ہیں ،وہ اپنی زندگی کو کھنڈرکررہے ہیں اورسمجھتے ہیںکہ بہت جلد ان کے لیے ایک شان دار محل کھڑاہونے والا ہے ‘‘۔
ہر آدمی اپنی زندگی کوسنوارنے میں لگاہواہے۔کوئی تجارت اورملازمت کے میدان میں محنت کررہا ہے۔کوئی قیادت کے میدان میں اپنا نام اونچا کرنے کے لیے سرگرم ہے۔کسی کا دماغ خوبصورت الفاظ کاکارخانہ بناہواہے تاکہ وہ عوام کی بھیڑکوزیادہ اپنے گرد جمع کرسکے۔ہر آدمی اپنے ذہن میں اپنے مستقبل کاایک سہانا خواب لیے ہوئے ہے اورہر آدمی اپنے خواب کو واقعہ بنانے میں رات دن مصروف ہے۔مگر لوگوں سے قریب ہوکر ان کودیکھیے تو معلوم ہوگاکہ اپنے خوابوں کی دنیا کو حاصل کرنے کے لیے لوگوں کے پاس عملِ غیر صالح کے سواکوئی سرمایہ نہیں۔
آدمی اپنے رشتہ داروں کے حقوقسے بےپرواہوکراپنےبچوںکامستقبلسنوارنا چاہتا ہے۔وہ اپنے پڑوسیوں کو دکھ پہنچا کردورکے لوگوں میںخوش نام ہونے کی تدبیریں کررہا ہے۔وہ اپنے ذاتی معاملات میں بے انصافی کرکے باہر کی دنیا میں انصاف کا علم بردار بنا ہواہے۔وہ اپنے خلاف ایک لفظ سننے کے لیے تیار نہیں مگر دوسروں کے خلاف سب کچھ کہنے اورکرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو خدائی فوجدارسمجھتا ہے۔
خدانے اپنی دنیا میں انسان کے لیے وہ سب کچھ رکھا ہے جو وہ چاہتا ہے۔بلکہ اس سے زیادہ بھی۔ مگر خداکی دنیا میں ہراچھی چیز کو پانے کا ذریعہ اچھا عمل ہے— خداکاانعام ان لوگوں کو ملتا ہے جو اپنے متعلقین کے حقوق اداکریں۔جو اپنے پڑوسیوں کو اپنے شرسے بچائیں۔جو اپنے اہل معاملہ کے ساتھ انصاف کریں۔جو خود پسندی کے بجائے خداپسندی کے اوپر اپنی زندگیوں کو اٹھائیں۔جو لوگوں سے حق اورعدل کی بنیاد پر معاملہ کریں نہ کہ اکڑاورخود غرضی کی بنیاد پر۔جو حق کے آگے جھک جائیں چاہے وہ ان کے خلاف کیوں نہ ہو۔جو اپنی اناکو خداکے حوالے کردیں اورخداکی دنیا میں بے انا بن کررہنے پر راضی ہوجائیں۔
لوگ جہنمی انگاروں میں کودتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ وہ خوبصورت پھولوں سے کھیل رہے ہیں۔ وہ دوزخ کے راستوں میں دوڑرہے ہیں اورخوش ہیں کہ بہت جلد وہ جنت کے باغوں میں پہنچنے والے ہیں۔آہ وہ قافلہ جس کے پاس جھوٹی خوش فہمی کے سوا اورکوئی سرمایہ نہیں۔آہ وہ لوگ جو خداکی دنیا میںاپنے لیے ایک ایسی دنیا بنانا چاہتے ہیں جس کی خدانے اجازت نہیںدی۔
دوسرے درجہ پر
آئن سرویوچ تور جنیف (1818-1883)روس کا مشہور ناول نگار ہے۔اس کے ایک دوست نے ایک باراس کو لکھا ’’میرے نزدیک اپنے آپ کو ہمیشہ دوم درجہ میں رکھنے پر رضا مند کرلینے ہی میں زندگی کی ساری اہمیت پوشیدہ ہے ‘‘یہ بات صد فی صد درست ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تمام اجتماعی اورقومی برائیاں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلہ میں دوم درجہ پر رکھنے کے لیے راضی نہیں ہوتے۔ہر ایک اپنے آپ کو اول درجہ پر دیکھنا چاہتا ہے۔اور جہاں ہر شخص اورہر قوم اپنے کو اول درجہ پر رکھنا چاہے وہاں لازماً یہی ہوگا کہ باہمی ٹکرائو ہو،اورکوئی دوسرے کا خیرخواہ نہ رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسانیت کے اکثر فلسفے اسی بنیادی فکر کے گرد گھومتے ہیں۔سماجی مفکرین کی کوششوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کے سامنے کچھ ایسے اعلیٰ معیار رکھ دئے جائیں جن کو آدمی ہر حال میں اپنے سے بالا تر سمجھے ،وہ اپنی ذات کو مرکز بنانے کے بجائے ان معیاری قدروں کو اپنے فکر وتوجہ کا مرکز بنالے۔مگر عملاً کوئی فلسفی اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس چیز کو بھی انھوں نے اس حیثیت سے دریافت کیا کہ وہ انسان کی توجہات کا مرکز اول بنے (مثلاً امن ،محبت،خیرخواہی)وہ خود انسان کی اپنی تخلیق تھی۔انسانی ذہن کے باہر ان کاکوئی ذاتی وجود نہ تھا۔پھر اپنے تخلیق کیے ہوئے معبود کے بارے میںکوئی شخص سنجیدہ ہوتا تو کیوں ہوتا۔
اس مسئلہ کا واحد حل خداکا عقیدہ ہے۔خداایک حقیقی وجود ہے۔وہ ہماراخالق اورمالک ہے۔وہ آج بھی ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے سارے عالم کو اپنے قبضہ میںلیے ہوئے ہے۔تمام چیزیں مکمل طورپر اس کی محتاج ہیں ،وہ کسی کا محتاج نہیں۔ایسے خداکو ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کائنات میں آدمی اپنے آپ کو ’’دوسرے درجہ ‘‘پر رکھ رہا ہے۔وہ خداکو ہر اعتبار سے اول حیثیت دے کر خود ہر اعتبار سے دوسری حیثیت پر راضی ہوگیاہے۔جس آدمی کے اندر یہ خیال پوری طرح بیٹھ جائے ،جو اپنے سارے دل ودماغ کے ساتھ خداکے مقابلہ میں اپنے کو دوسرے درجہ کی حیثیت دینے پر راضی ہو جائے۔ وہ عین وہی انسان بن جاتا ہے جس کو تمام دنیا کے مفکرین تلاش کررہے ہیںمگر وہ اس کو کہیں نہیںپاتے۔
انسان کی نفسیات ایک بسیط شے ہے۔نفسیات میں تقسیم ممکن نہیں۔اگر کسی کی نفسیات حقیقی معنوں میں یہ بن جائے کہ اس کائنات میںوہ خداکے مقابلہ میں ’’دوسرے درجہ ‘‘پر ہے تو انسانوں کے مقابلہ میں بھی اس کے اندر یہی مزاج بنے گا۔اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کہ اس کائنات میںوہ دوسرے درجہ کی حیثیت رکھتا ہے ،اس سے ’’اول درجہ ‘‘ والا بننے کا احساس چھین لے گا۔اس کی انانیت بے نفسی میں تبدیل ہوجائے گی۔اس کی سرکشی تواضع کی صورت اختیار کرلے گی۔اس کی ڈھٹائی اعتراف کے روپ میںڈھل جائے گی۔اوریہی وہ اوصاف ہیں جو بہتر سماج بناتے ہیں۔جہاں لوگوں کے اندر یہ مزاج آجائے وہاںنہ انفرادی جھگڑوں کاکوئی وجود ہوگااورنہ قومی جھگڑوں کا۔
دو قسم کی غذائیں
قرآن میںارشاد ہواہے کہ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لیے آیا ہے کہ وہ پاک چیزوں کو جائز بتائے اورگندی چیزوں کو حرام قرار دے:وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ (7:157)گویا ایمان سے آدمی کے اندر ایسی روح پیداہوتی ہے جو خبیث چیزوں کو قبول نہ کرے، وہ صرف طیب چیزوں کو اپنی غذابنائے۔اس کے برعکس غیر مومن وہ ہے جو خبیث چیزوں پر جی رہا ہواورطیب چیزیں اس کی روح کی غذانہ بنتی ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جانوروں میں دو قسم کے جانور ہوتے ہیں۔ایک وہ جو مردار اورغلیظ چیزیں تلاش کرکے کھاتے ہیں۔دوسرے وہ جو ستھری غذائوں سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ایک وہ جو خبیث جذبات پر جیتے ہیں۔ دوسرے وہ جو طیب جذبات پر پرورش پاتے ہیں۔ ایک انسان و ہ ہے جو نفرت اورعداوت میںجی رہا ہے۔جو ذاتی نمائش اورشخصی مصالح کی ہوائوں میں سانس لیتا ہے۔جس کی روح کو اس سے غذاملتی ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہ کرے۔جس کے قلب ودماغ کو انانیت ،خود پرستی ، اظہار برتری سے خوراک ملتی ہے۔ وہ کسی کو تکلیف پہنچاکر خوش ہوتا ہے۔ کسی کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس پر وار کرتا ہے اورپھر کامیابی کے قہقہے لگاتا ہے — ایسے لوگ خداکی دنیا میں طیب خوراک کو چھوڑ کر خبیث خوراک پر جی رہے ہیں۔
دوسرا انسان وہ ہے جو قلب سلیم کے ساتھ جی رہا ہے۔اس کی روح دوسروں کی کامیابی سے خوش ہوتی ہے۔وہ دوسرے پر قابو یافتہ ہوکر بھی اس کو چھوڑدینے میں راحت محسوس کرتا ہے۔اس کا دل دوسروں کے لیے خیرخواہی اورمحبت کے جذبات سے بھراہوتا ہے۔اس کی ہستی کو عجز اورتواضع میںلذت ملتی ہے۔وہ خدا اورآخرت کی فضا میں سانس لیتا ہے۔ اختلاف کے وقت اپنے کو جھکالینے میں اس کو سکون ملتا ہے۔جب کوئی اس پر تنقید کرتا ہے تو تنقید کو قبول کرلینے میں اس کا دل ٹھیرائو پاتا ہے۔کسی کاحق اس کے ذمہ ہوتو جب تک وہ اس کا حق ادانہ کرلے تو اس کو راتوں کو نیند نہیںآتی— ایسے لوگ خداکی دنیا سے اس کی طیب خوراک لے رہے ہیں اوراس کی خبیث خوراک سے اپنے کو بچائے ہوئے ہیں۔
دنیا میںایسا ہوتا ہے کہ ہر شخص کی زندگی میں باربار غیر معمولی حالات آتے ہیں ،کبھی کسی سے معاملہ پڑنے کی صورت میں ،کبھی کسی سے شکایت پیدا ہوجانے کی صورت میں۔یہ غیر معمولی مواقع وہ غیر معمولی لمحات ہیں جب کہ خدادونوں قسم کی روحوں کوچھانٹتا ہے تاکہ ایک کے لیے جنت کا اوردوسرے کے لیے جہنم کا فیصلہ کرے۔جنت پاک روحوں کی آبادی ہے جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے دنیا کی جانچ میںتواضع اورانصاف کا ثبوت دیااورجہنم ناپاک روحوں کا جیل خانہ ہے جہاں وہ لوگ داخل کیے جائیںگے جو معاملہ کے وقت بے انصاف ہوگئے اورخداکے دئے ہوئے وسائل کو اس لیے خرچ کیاتاکہ اس کے ذریعہ سے اپنی متکبر انہ نفسیات کی تسکین حاصل کریں۔جنتی اخلاقیات کے لوگ جنت میںہوں گے اورجہنمی اخلاقیات کے لوگ جہنم میں۔
خداکی قدرت
ابو العلاء المعری کا ایک شعر ہے :
تَبَارَكَتْ أَمْوَاهُ البِلَادِ بِأَسْرِهَا عِذَابٌ وَخُصَّتْ بِالمُلُوحَةِ زَمْزَمُ
Qur'anQuotes the Qur'an
’’خدا یا تیری برکت ،دنیا کی تمام نہریں میٹھا پانی لے کر بہہ رہی ہیں اورزمزم ہی کو خاص طورپر کھاری بنادیاگیا) ‘‘الدر الفريد وبيت القصيد (6303۔
other sourceWords of another person or source
یہ تمثیل کے انداز میں گہری حقیقت کا اظہار ہے۔دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں تمام سطحی چیزیں مزہ دار ہیں اورتمام گہری چیزیں بے مزہ ہیں۔ اگر آپ کو اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دینا ہوتو آپ کو غصہ اورنفرت کا کڑواگھونٹ پینا پڑے گاجب کہ تنگ ظرفی کے لیے اس کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیںکہ آدمی کے اندر جو تلخی یا کڑواہٹ پیدا ہووہ اس کودوسرے کے اوپر انڈیل دے۔اگر آپ کوکوئی حقیقی کام کرنا ہو تو آپ کو بااصول آدمی بننے کی سختی برداشت کرنی ہوگی ،جب کہ بے مقصد انسان بن کر جینے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ جہاں جیسا موقع ہووہاں اسی روش کا مظاہرہ کردیا جائے۔اگر آپ کو کسی اعلیٰ مقصد کے لیے جینا ہے تو پوری زندگی پر طرح طرح کی روک لگانی پڑے گی،جب کہ بے مقصد زندگی گزارنے کے لیے صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو بے لگام چھوڑدیاجائے۔
آزادی کے بعد ہندستان کی جو پہلی منتخب پارلیمنٹ بنی اس کے ممبر پروفیسر ہیریندر ناتھ مکھر جی(1907-2004) تھے۔ پارلیمنٹ کے ایک اجلاس میں شرکت کے بعد جب وہ دہلی سے کلکتہ کے لیے روانہ ہوئے تو ان پر ایک عجیب کیفیت گزری۔تیز رفتار ٹرین کی فرسٹ کلاس بوگی ان کولیے ہوئے دہلی کے جنوبی علاقہ سے گزررہی تھی۔انھوں نے دیکھا کہ ریلوے لائن کے کنارے جھگی جھونپڑیوں اورگندے محلّوں کا سلسلہ ہے جو دورتک چلاگیا ہے۔ان کو یہ سوچ کر سخت صدمہ ہواکہ آزادی کے انقلاب نے چند خوش قسمت لوگوں کو تو بہت کچھ دیا ہے مگر کروڑوں عوام کے لیے اس انقلاب کے پاس کوئی چیزنہیں ہے۔کلکتہ پہنچ کر انھوں نے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہرلال نہروکو ایک خط لکھا جس میں اپنے مذکورہ تاثر کا ذکر کرتے ہوئے یہ درج تھا کہ جب میں دہلی کی ان غریب بستیوں سے گزراتو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ لوگ اگر مجھ سے پوچھیں کہ تمہاری آزادی سے ہم کو کیا ملاتو میرے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔پنڈت نہرو نے پروفیسر مکھرجی کے اس خط کو جو جواب دیا اس کا ایک فقرہ یہ تھا—’’تم اپنے حساس ہونے کی قیمت اداکررہے ہو‘‘
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
You are paying the price of being sensitive.
بے ضمیر انسان کو کروڑوں جھونپڑیوں کا منظر کسی پریشانی میںمبتلا نہیںکرتا۔مگر جس شخص کا ضمیر زندہ ہو اس کو یہ گندی جھونپڑیاں اس طرح تڑپادیں گی کہ اس کا نرم گدّا اس کے لیے کانٹوں کا بستر بن جائے — اعلیٰ انسانیت ہمیشہ تلخ گھونٹ پی کر ملتی ہے جب کہ گھٹیا انسان بننے کے لیے سطحیت اورموقع پرستی کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔
خدا کی طرف سفر
جب سفر ختم ہوگا
ایکسپریس ٹرین لمبا سفر طے کرنے کے بعد منزل پر پہنچ رہی تھی۔سٹرک کے دونوں طرف ظاہر ہونے والے آثار بتارہے تھے کہ آخری اسٹیشن قریب آگیا ہے۔ٹرین کے سینکڑوں مسافروں میں نئی زندگی پیداہوگئی تھی۔کوئی بستر باندھ رہاتھا۔کوئی کپڑے بدل رہاتھا۔کوئی اشتیاق بھری نظروں سے کھڑکی کے باہر دیکھ رہاتھا۔ہر ایک کے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی ،ہر ایک آنے والے پُر مسرت لمحہ کا منتظر تھا جبکہ وہ ٹرین سے اتر کر اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے۔
اچانک زور کا دھماکا ہوا۔ایکسپریس ٹرین یارڈمیں کھڑی ہوئی دوسری ٹرین سے ٹکراگئی۔اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں — خوشیاں اچانک غم میں تبدیل ہوگئیں۔زندگیاں موت کی آغوش میں سو گئیں ،امیدوں کے محل کی ایک ایک اینٹ بکھر گئی۔ایک کہانی جس کا اختتام بظاہر طربیہ (Comedy) پر ہور ہاتھا ،اپنے آخری نقطہ پر پہنچ کر اچانک المیہ(Tragedy)میں تبدیل ہوگیا۔
ایسا ہی کچھ معاملہ زندگی کا ہے۔آدمی بے شمار کوششوں کے بعد پُر اعتماد معاشی زندگی بناتا ہے۔وہ اپنے حوصلوں کو ایک بنے ہوئے گھر کی صورت میں تعمیر کرتا ہے۔وہ اپنے لیے ایک کامیاب زندگی کا مینار کھڑاکرتا ہے۔مگر عین اس وقت اس کی موت آجاتی ہے۔اپنے گھر کو سونا چھوڑکر وہ قبر میں لیٹ جاتا ہے۔اس کا چکنا جسم مٹی اورکیڑے کی نذرہوجاتا ہے۔اس کی کوششوںکا حاصل اس سے اس طرح جدا ہوجاتا ہے جیسے آدمی اوراس کے درمیان کبھی کوئی تعلق ہی نہ تھا۔
’’کوٹھی ‘‘کا خواب دیکھنے والا مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ’’قبر ‘‘میں داخل ہو،وہ قبر کے راستہ سے گزرکر حشر کے میدان میں پہنچ جائے۔یہ دوسری دنیا اس کی آرزوئوں کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔یہاں وہ اتنا مفلس ہوتا ہے کہ اس کے جسم پر کپڑابھی نہیںہوتا۔ اس کی ساری کمائی اس سے جداہوجاتی ہے۔اس کے ساتھی اس سے بچھڑ جاتے ہیں۔اس کا زور اس سے رخصت ہوجاتا ہے۔ان چیزوں میں سے کوئی چیز وہاں اس کا ساتھ دینے کے لیے موجود نہیں ہوتی جن کے بل پروہ دنیا میں گھمنڈکررہا تھا۔
آہ وہ سفر بھی کیسا عجیب ہے جو عین اختتام پر پہنچ کر حادثہ کا شکار ہوجائے۔
25واں گھنٹہ
ایک فرانسیسی مصنف نے ایک کتاب شائع کی ہے۔اس کا نام ہے 25واں گھنٹہ :
other sourceWords of another person or source
25th Hour
اس کتاب میں مصنف نے دنیا کی موجودہ حالت کا جائزہ لیاہے۔انھوں نے دکھایا ہے کہ دنیادو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔دونوں ایک دوسرے کو مٹانے کی ایسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جس کا آخری نتیجہ صرف انسانیت کی مجموعی ہلاکت ہو۔ہتھیاروں کی اندھادھند ریس نے دنیا کو خطرناک ہتھیاروں کا گودام بنادیا ہے۔مسلسل جنگی تیاریوں نے دنیا کو اپنی بربادی کے آخری کنارے پہنچا دیاہے۔
مصنف لکھتا ہے کہ ہمارا 24واں گھنٹہ ختم ہوچکا ہے( 24th hour is past )۔ اب پچیسواں گھنٹہ (خاتمہ کا گھنٹہ)شروع ہونے والا ہے۔
مصنف نے جوبات ’’انسانی جنگ ‘‘کے بارے میں کہی ہے وہ ’’خدائی قیامت ‘‘کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔خدانے موجودہ دنیا کو محدودمدت کے لیے امتحان کے واسطے پیدا کیاہے۔یہ مدت صرف خداکے علم میں ہے ،وہ ہم کو تعین کے ساتھ معلوم نہیں۔کسی بھی لمحہ خدااس مدت کے خاتمہ کا اعلان کرسکتا ہے۔اور اس کے بعد دنیا اور اس کا سارا تمدن عظیم زلزلہ کے ذریعہ تباہ ہوجائے گا۔اور اس کے بعد ایک نئی ابدی اورکامل دنیا تخلیق کی جائے گی۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو موجودہ زمین پر ہماراہر لمحہ گویا آخری لمحہ ہے۔اگر ہم اپنی صبح میں ہیں تو اندیشہ ہے کہ ہم شام نہ کرسکیں۔اگر ہم اپنی شام میں ہیں تو اندیشہ ہے کہ ہمیں دوبارہ صبح دیکھنے کو نہ ملے۔
موجودہ دنیا میں ہماراہر لمحہ آخری لمحہ ہے۔ہر وقت یہ امکان ہے کہ انسانیت اپنی مہلت عمر پوری کرچکی ہو۔انسان اپنے ’’24ویں گھنٹے ‘‘کو ختم کرکے 25ویں فیصلہ کن گھنٹے میں داخل ہوجائے۔
لوگ نیو کلیر جنگ کے خطرہ سے ڈر رہے ہیں۔حالاں کہ انہیںخداکی طرف سے قیامت کا صور پھونکاجانے سے ڈرنا چاہیے۔کیوں کہ نیو کلیر جنگ کا ہونا یقینی نہیں۔مگر قیامت کا آنا یقینی بھی ہے اوراس کا انجام ابدی بھی۔
آخری منزل
ماؤنٹ ایورسٹ(Mount Everest) دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ہمالیہ کی یہ مشہور چوٹی سطح سمندر سے 29028فٹ (8848میٹر)بلند ہے۔کہا جاتا ہے کہ پہلا قابل ذکر شخص جس نے اس بلند چوٹی پراپنا قدم رکھنے کی سنجیدہ کو شش کی وہ ایک انگریز موریس ولسن (1898-1934) تھا۔اس نے 1934میں اس کے اوپر چڑھائی کی۔مگرجس چیز کو اس نے اپنی زندگی کا کلائمکس سمجھا تھا وہ اس کے لیے اینٹی کلائمکس (Anti-climax) بن گیا۔
موریس ولسن پہلی جنگ عظیم میں ایک سپاہی تھا۔اس کو دنیا کی’’ آخری بلند ی‘‘پر پہنچنے کا اتنا زیادہ شوق تھا کہ اس نے اپنے خاندان کی کامیاب تجارت کو اس کے اوپر قربان کردیا۔اس نے اپنا تمام سرمایہ خرچ کرکے ذاتی طورپر ایک سکنڈ ہینڈ ہوائی جہاز خریدا۔وہ انگلستان سے ہند ستان تک چھ ہزار میل کا سفر طے کرکے پورنیہ میں اترا۔اس کو اپنا ہوائی جہاز آگے لے جانے کی اجازت نہیں ملی۔چنانچہ اس نے اپنا جہاز فروخت کردیا۔اس کے بعد اس نے دارجیلنگ اورتبّت کے راستے سے ایورسٹ کی طرف سفر شروع کردیا۔
آخر میں اس کے پاس ایک چھوٹا خیمہ، کچھ چاول، ایک خود کارکیمرہ اور چند دوسری چیزیں باقی رہ گئیں۔تاہم وہ اوپر چڑھتا رہا۔وہ کامیابی کے ساتھ19500فٹ کی بلندی تک چڑھ گیا۔21 اِپریل 1934کو اس کی 36ویں برتھ ڈے تھی۔اس کا منصوبہ تھا کہ وہ اپنی زندگی کے اس تاریخی دن کو ایورسٹ کی چوٹی پر کھڑاہو۔اس نے اپنی ڈائری میں چند دن پہلے یہ الفاظ لکھے:
Only 1300 feet more go. I have the distinct feeling that I'll reach the summit on April 21
صرف تیرہ ہزار فیٹ جانا اورباقی ہے۔مجھے یہ واضح احساس ہورہا ہے کہ میں 21اپریل (1934)کو چوٹی پر پہنچ جائوں گا۔
ان پُر فخر سطروں کو لکھنے کے بعد ہمالیہ کا سخت طوفان اورموسم کی شدت اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔وہ مجبور ہوگیا کہ پیچھے لوٹے۔چنانچہ وہ اترکر اپنے نچلے ٹھکانہ پر آگیا۔مگر اس کے بعد اس کو دوبارہ اوپر چڑھنا نصیب نہ ہوا۔اس کے بعد اس کے ساتھ کیا پیش آیا۔اس کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ایک سال بعد تِن زِنگ نارگے(1914-1986) اوپر چڑھ رہاتھا کہ اس کو ایک مقام پر موریس ولسن کی لاش ملی اوراسی کے ساتھ اس کی ڈائری بھی۔جس کا آخری اندراج وہ جملہ تھا جس کو ہم نے اوپر نقل کیاہے۔
موریس ولسن ہمالیہ کی بلند ترین چوٹی پرخود کارکیمرہ کے ذریعہ اپنی تصویر کھینچنا چاہتا تھا۔اس کو امید تھی کہ کیمرہ کی آنکھ اس کو فتح کی چوٹی پر دیکھے گی۔جب یہ تاریخ آئی تو وہاں نہ کوئی ولسن تھا جو اپنی فتح وکامیابی کو دیکھ کر خوش ہو،اورنہ کوئی کیمرہ تھا جو اس کی فتح وکامیابی کے واقعہ کو ریکارڈ کرے۔
یہ کہانی بدلی ہوئی صورت میں ہر آدمی کی کہانی ہے۔ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کامیابی کی چوٹی پر پہنچنے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔یہاں ہر آدمی صرف ایک ایسی منزل کی جانب چلا جارہا ہے جہاں موت کے سوا کوی دوسری چیز نہیںجو اس کا استقبال کرنے کے لیے موجودہو۔
موجودہ دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جو دنیوی کامیابیوں کی صرف تمنا کرتے رہتے ہیں۔اور بالآخر اس طرح مرجاتے ہیںکہ انھوں نے اپنی خوابوں کی دنیا کی طرف سفر بھی شروع نہیں کیا تھا۔
دوسرے لوگ وہ ہیں جو اپنی زندگی میں ،کم یازیادہ ،ان خواہشوں کو پالیتے ہیں۔مگر پانے والے بھی ان چیزوں سے اتنا ہی دور ہتے ہیں جتنا کہ نہ پانے والے۔کیونکہ ان کو پالینے کے بعد آدمی پر کھلتا ہے کہ اس کو وہ طاقت اورموقع حاصل نہیں جو ان چیزوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہیں۔اس دنیا میں پانے والا بھی اتنا ہی محروم ہے جتنا نہ پانے والا۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔
انسان کتنا زیادہ محروم ہے۔مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ پانے والا سمجھتا ہے۔زندگی کس قدر غیریقینی ہے مگر آدمی اس کو کس قدر یقینی سمجھ لیتا ہے۔آدمی صرف نامعلوم کل کے راستہ پر جارہا ہے مگر وہ گمان کرلیتا ہے کہ وہ معلوم آج میں اپنی کامیاب دنیا تعمیر کررہا ہے۔
کتنے بے خبر ہیں وہ لوگ جو اپنے کوجاننے والا سمجھتے ہیں۔کیسے ناکام ہیں وہ لوگ جن کا نام کامیاب انسانوں کی فہرست میں سب سے آگے لکھا ہواہے۔
موت کے دوسری طرف
سکندر اعظم نے بڑی بڑی فتوحات کیں۔مگر جب آخر وقت آیا تو اس نے کہا ’’میں دنیا کو فتح کرنا چاہتا تھا۔مگر موت نے مجھ کو فتح کرلیا۔افسوس کہ مجھ کو زندگی کا وہ سکون بھی حاصل نہ ہوسکا جو ایک معمولی آدمی کو حاصل ہوتا ہے‘‘۔نپولین بونا پارٹ(1769-1821) کے آخری احساسات یہ تھے ’’مایوسی میرے نزدیک جرم تھی مگر آج مجھ سے زیادہ مایوس انسان دنیا میں کوئی نہیں۔میں دو چیزوں کا بھوکا تھا۔ایک حکومت ،دوسری محبت۔ حکومت مجھے ملی مگر وہ میراساتھ نہ دے سکی۔ محبت کومیں نے بہت تلاش کیامگر میں نے اسے کبھی نہیں پایا۔ انسان کی زندگی اگر یہی ہے جو مجھ کو ملی تو یقینا انسانی زندگی ایک بے معنی چیزہے۔ کیونکہ کہ اس کا انجام مایوسی اوربربادی کے سوا کچھ نہیں‘‘۔ہارون الرشید ایک بہت بڑی سلطنت کا حکمران تھا۔مگر آخر عمر میں اس نے کہا ’’میں نے ساری عمر غم غلط کرنے کی کوشش کی ،پھر بھی میں غم غلط نہ کرسکا۔میں نے بے حد غم اورفکر کی زندگی گزاری ہے۔زندگی کا کوئی دن ایسا نہیں جومیں نے بے فکری کے ساتھ گزاراہو۔اب میں موت کے کنارے ہوں۔ جلد ہی قبر میرے جسم کو نگل لے گی‘‘۔یہی ہر انسان کا آخر ی انجام ہے۔مگر ہر انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے۔خلیفہ منصورعباسی کی موت کا وقت آیا تو اس نے کہا:اگر میں کچھ دن اورزندہ رہتا تو اس حکومت کو آگ لگادیتا جس نے مجھے باربار سچائی سے ہٹادیا۔حقیقت یہ ہے کہ ایک نیکی اس ساری حکومت سے بہتر ہے۔مگر یہ بات مجھ کو اس وقت معلوم ہوئی جب موت نے مجھے اپنے چنگل میں لے لیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دنیا کے اکثر کامیاب ترین انسانوں نے اس احساس کے ساتھ جان دی ہے کہ وہ دنیا کے ناکام ترین انسان تھے۔حقیقت یہ ہے کہ موت کے قریب پہنچ کر آدمی پر جو کچھ گزرتا ہے اگر وہی اس پر موت سے پہلے گزرجائے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ہر آدمی جب موت کے کنارے کھڑاہوتا ہے تو اس کو وہ تمام رونقیں راکھ کے ڈھیرسے بھی زیادہ بے حقیقت معلوم ہوتی ہیں جن میں وہ اس قدر گم تھا کہ کسی اورچیز کے بارے میں سوچنے کی اسے فرصت ہی نہ ملی۔اس کے پیچھے ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس کو وہ کھوچکا اورآگے ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا۔
موت جب سر پر آجائے اس وقت موت کو یاد کرنے کاکوئی فائدہ نہیں۔موت کو یاد کرنے کا وقت اس سے پہلے ہے۔جب آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ دوسروں پر ظلم کرے اوراپنی ظالمانہ کارروائیوں کو عین انصاف کہے اس وقت وہ کچھ سوچنے کے لیے تیار نہیںہوتا۔اس وقت وہ اپنی انا کی تسکین کے لیے وہ سب کچھ کر ڈالتا ہے جو اس کو نہیں کرنا چاہیے۔مگر جب اس کی طاقت ختم ہوجاتی ہے ،جب اس کے الفاظ جواب دینے لگتے ہیں ، جب اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ موت کے بے رحم فرشتہ کے قبضہ میں ہے اس وقت اس کو اپنی غلطیاں یاد آتی ہیں۔حالاں کہ یاد آنے کا وقت وہ تھا جب کہ وہ غلطیاں کررہا تھا۔اورکسی نصیحت کی پرواکرنے کے لیے تیار نہ تھا۔
آخرت تک جانا ہے
مولانا اشرف علی تھا نوی ایک بارٹرین سے سفر کررہے تھے۔ان کو اعظم گڑھ جانا تھا۔ایک ریلوے گارڈجوان کا معتقدتھا اسٹیشن پر ان سے ملنے کے لیے آیا۔اتنے میں ایک دیہاتی آدمی بھی آگیا۔اس نے گنّے کا ایک گٹھّا تحفہ کے طور پر مولانا کو پیش کیا۔ مولانا نے قبول کرلیا اوراپنے ساتھی سے کہا کہ ان گنوں کا وزن کراکے ان کو بک کروا لو۔ گارڈنے کہا:بک کروانے کی کیا ضرورت ہے۔اس ٹرین سے جو گارڈجارہا ہے میں اس سے کہہ دیتا ہوں۔وہ خیال رکھے گا۔مولانا نے کہا کہ تمہاراگارڈتو اسی ٹرین تک ساتھ رہے گااورمجھے آگے جانا ہے۔گارڈ نے سمجھا کہ مولانا کو آگے کسی اسٹیشن پر یہ ٹرین بدل کر دوسری ٹرین پکڑنا ہے۔ اس نے کہا:کوئی ہرج نہیں۔میں گارڈ کو بتادیتا ہوں وہ آگے والے گارڈ سے بھی کہہ دے گااور آپ کوکوئی زحمت نہ ہوگی۔مولانا نے کہامجھے اس سے بھی آگے جانا ہے۔ گارڈ نے حیرت سے پوچھا آخر آپ کہاں تک جائیں گے ۔ابھی تو آپ نے کہا کہ آپ اعظم گڑھ جارہے ہیں۔مولانا نے کسی قدر خاموشی کے بعد کہا:مجھے آخرت تک جانا ہے ، وہاں تک کون ساگارڈ میرے ساتھ جائے گا‘‘۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ معاملہ محض ریل کے سفر کا نہیں بلکہ تمام معاملات کا ہے۔آدمی کا ہر معاملہ آخرت کا معاملہ ہے۔ دنیا میں کوئی ’’گارڈ ‘‘وقتی طورپر آپ کا ساتھ دے سکتا ہے۔مگر آخرت کی منزل پر پہنچ کرکوئی گارڈساتھ دینے والا نہیں۔ جس کا ذہن یہ ہوکہ مجھے آخرت تک جانا ہے وہ ہر اس چیز کو بے قیمت سمجھے گاجو آخرت میں بے قیمت ہوجانے والی ہو ،خواہ آج وہ کتنی ہی قیمتی نظر آئے۔اسی طرح وہ ہر اس چیز کو وزن دینے پر مجبور ہوتا ہے جو آخرت میں باوزن ثابت ہونے والی ہو،خواہ آج کی دنیا میں بظاہر وہ کتنی ہی بے وزن دکھائی دے۔
آدمی حق کاانکار کرنے کے لیے آج خوبصورت الفاظ پالیتا ہے۔مگر آخرت میں اس کو معلوم ہوگا کہ وہ اس کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ گئے۔آدمی طاقت کے بل پر بے انصافی کرتا ہے اورخوش ہوتا ہے کہ مظلوم اس کا کچھ بگاڑنہیں سکتا۔مگر آخرت میں وہ دیکھے گاکہ اس کی طاقت پیچھے کی دنیا میں رہ گئی ہے ،آخرت میںوہ اس کا ساتھ دینے کے لیے موجود نہیں ہے۔آدمی کے سازوسامان اس کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ اپنے گھمنڈ کا مینار کھڑاکرتا ہے۔ مگر آخرت میںوہ پائے گا کہ اس کے وہ سازوسامان اس سے بہت دور ہوچکے ہیں جن کے اوپر وہ گھمنڈ کیاکرتا تھا۔
مومن اورغیر مومن کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ غیر مومن یہ سمجھ کر زندگی گزارتا ہے کہ اس کو اسی دنیا میں رہنا ہے۔اورمومن اس نفسیات کے ساتھ جیتا ہے کہ ا س کو آخرت تک جانا ہے۔نفیسات کا یہ فرق دونوں کی زندگیوں میںاتنا زیادہ عملی فرق پیدا کردیتا ہے کہ ایک جہنم کا مستحق ہوجاتا ہے اور دوسراجنت کا۔
موت کی طرف
آج وہ بے وقت مجھ سے ملنے آگیا تھا اور بہت کم میرے پاس ٹھہرا۔خلافِ معمول اس نے چائے بھی قبول نہیں کی۔’’مجھے بہت جلد گھر پہنچنا ہے۔وہاں میری بیوی میراانتظار کررہی ہوگی ‘‘۔اس نے کہا اوراپنا اسکوٹر اسٹارٹ کرکے تیزی سے روانہ ہوگیا۔اس کی واپسی کو بمشکل آدھ گھنٹہ ہواتھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔اس کی بیوی گھبرائی ہوئی آواز میں بول رہی تھی ’’آپ کے دوست کا....‘‘اس نے کہا۔بظاہر اس کا جملہ ادھوراتھا۔مگر اس کے رونے کی آواز نے اس کو پوراکردیا۔میں ٹیلی فون بند کرکے فوراً اس کے گھر کی طرف بھاگا۔معلوم ہواکہ اس کا انتقال ہوچکا ہے۔مجھ سے رخصت ہوکر وہ اپنے گھر پہنچا۔ابھی سیڑھیوں ہی پر تھا کہ لڑھک کر گرپڑا۔لوگ اٹھا کر اندر لے گئے۔فوراًڈاکٹر بلایا گیامگر ڈاکٹر نے آکر صرف یہ خبر دی کہ وہ اس دنیاسے جاچکا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسکوٹر پر سوار ہوکر وہ میرے یہاں سے روانہ ہواتو بظاہر وہ اپنے گھر جارہا تھا۔مگر حقیقتہً وہ موت کی طرف جارہا تھا۔یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔اس طرح کے واقعات ہر روز اورہر جگہ پیش آرہے ہیں۔26مئی 1979کو امریکاکا ایک بڑاجیٹ جہاز جس میں 271مسافر سوار تھے ،اوہرے(O'Hare)ہوائی اڈے سے اڑا۔تھوڑی ہی دیر بعدوہ زمین پر گرگیا۔جہاز سمیت سارے مسافر جل کر راکھ ہوگئے۔یہ معاملہ چند انسانوں کا نہیں بلکہ یہی معاملہ تمام انسانوں کا ہے۔سارے انسان جو زمین پر چلتے اوردوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ سب موت کی منزل کی طرف جارہے ہیں۔ہر آدمی سب سے زیادہ جس چیز کے قریب ہے وہ موت ہے۔ ہر آدمی موت کے کنارے کھڑاہواہے۔ہر آدمی ہر آن اس خطرہ میں مبتلا ہے کہ اس کا آخری وقت آجائے اوروہ اچانک اس دنیا سے اٹھا کر اگلی دنیا میں پہنچا دیا جائے ،جہاں سے کسی کو واپس نہیں آنا ہے۔جہاں آدمی کے لیے یا تو جنت ہے یا جہنم۔
ایک اندھا آدمی چلتے چلتے کنویں کے کنارے پہنچ جائے تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اس وقت سب سے بڑاکام یہ ہے کہ اس کو کنویں کے خطرہ سے آگاہ کیا جائے۔حتیٰ کہ ایسے نازک موقع پر آدمی قبلہ وکعبہ کی زبان اور نحووصرف کے قواعد تک بھول جاتا ہے اوربے اختیار پکار اٹھتا ہے ’’کنواںکنواں ‘‘۔مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ساری انسانیت اس سے بھی زیادہ خطرناک ’’کنویں ‘‘کے کنارے کھڑی ہوئی ہے۔مگر ہر آدمی دوسرے دوسرے کاموں میں لگا ہواہے۔کوئی شخص ’’کنواں کنواں ‘‘پکارنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی دیوانہ اس قسم کی پکار بلند کرے تو لوگوں کی طرف سے جواب ملتا ہے— ’’یہ شخص قوم کو بزدلی کی نیند سلانا چاہتا ہے ،وہ جہاد کے جذبہ کو ختم کررہا ہے ،وہ حقیقی مسائل سے لوگوں کو ہٹادینا چاہتا ہے ،وہ زندگی کا پیغام بر نہیں بلکہ موت کا داعی ہے۔وہ مایوسی اور بے ہمتی کا سبق دے رہا ہے ‘‘۔
لوگ کنویں کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ وہ محفوظ مکان میں ہیں۔لوگ موت کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر خوش ہیں کہ وہ زندگی کا سفر طے کر رہے ہیں۔
موت سے قریب
ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے۔ہمارااصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم انسانوں کے درمیان اپنی جگہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔حالاں کہ عنقریب ہم خداسے دوچار ہونے والے ہیں۔ہم دنیا میں عزت اورکامیابی ڈھونڈرہے ہیں۔حالاں کہ بہت جلد ہم آخرت میں داخل ہونے والے ہیں۔ہم میں سے ہر شخص زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہے مگر ہر شخص زندگی کے مسائل میں الجھا ہواہے ،موت کے مسائل کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت کوئی محسوس نہیں کرتا۔وہ اسلام جس نے اصحاب رسول کو سراسیمہ بنا دیا تھا وہ اسلام آج لوگوں کو صرف قناعت اوربے فکری کا تحفہ دے رہا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ایسا کیوں ہے۔قرآن کے الفاظ میں اس کی وجہ تزئین (فاطر،35:8)ہے۔ہر آدمی کو کچھ ایسے الفاظ مل گئے ہیں جن سے وہ اپنی غیر اسلامیت کی خوبصورت اسلامی توجیہ کرسکے۔ہر آدمی نے اپنے گرد خوش خیالیوں کاایک گھر وندابنالیا ہے اوراس کے اندر وہ جی رہا ہے۔اس کو یہ احساس نہیں کہ موت کا دھماکہ اچانک اس کے گھروندے کو توڑدے گااوراس کے بعد اس کے پاس ایک تنکا بھی نہ ہوگا جس سے وہ خدا کے غضب کے مقابلہ میں اپنا بچائو کرسکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک قائد ملت ایک مسلمان کے اوپر ظلم کرتا ہے مگر اس کو اپنے ظالم ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔کیوں کہ وہ جلسوں میں اوراخبارات کے صفحات میں اپنے کو اسلام کا چیمپئن بنا ہوادیکھتا ہے۔اس کے لیے ناقابل قیاس ہوجاتا ہے کہ ایک شخص جو دنیا میں ناخدائے ملّت بنا ہوا دکھائی دے رہا ہووہ آخرت میں ظالمِ ملّت کی حیثیت سے اٹھا یا جائے۔ایک لیڈر مسلمانوں کے درمیان ایسی سیاست چلاتا ہے جس سے مسلمان دوگرہوں میںبٹ کرایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں۔ملک کی دینی اورتعمیری سرگرمیاں تہس نہس ہوجاتی ہیں۔دنیا کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر قائم ہوتی ہے کہ اسلام وحشیوں کا مذہب ہے جو آپس میں لڑائی جھگڑے کے سوا اورکچھ نہیں سکھاتا۔اس کے باوجود لیڈرکی راتوں کی نیند نہیں اچٹتی۔اس کا دن کا سکون غارت نہیں ہوتا۔کیوںکہ وہ دیکھتا ہے کہ اپنی زبان وقلم کے ذریعہ اس نے جو اشاعتی کارنامے انجام دیے ہیں وہ اس کو لاکھوں معتقدین کے درمیان نجات دہندۂ اسلام بنائے ہوئے ہیں۔اپنی علمی اورتقریری خدمات کی بدولت وہ ایک اسلامی ہیرو کی سی زندگی گزار رہا ہے۔ایسی حالت میں اس کے لیے ناقابل فہم بن جاتا ہے کہ خداکے یہاں اس کو بے قیمت قرار دے دیاجائے ،دنیا میں اعزازات پانے والا آخرت میں صرف محرومی کی خندق میں ڈال دیا جائے۔
اسی طرح ایک شخص وعدہ خلافی کرتا ہے ،اپنے پڑوسی کو ستاتا ہے۔اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا نہیں کرتا۔لین دین میں اس کے معاملات لوگوں سے صاف نہیں ہیں۔اس کے باوجود سمجھتا ہے کہ جنت اس کے لیے ضرور ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ میں نماز روزہ کا اہتمام کررہا ہوں۔حج کی سعادت بھی میں نے حاصل کرلی ہے۔مسجد اورمدرسہ کے چندہ دہندگان میں بھی میرا نام چھپا ہوا ہے۔اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے ایک دین دار آدمی کا بھی یہ انجام ہوسکتا ہے کہ آخرت میں وہ بے دین قرار دے کر خداکی رحمتوں سے دور پھینک دیا جائے۔
قبر نہیں دروازہ
’’حافظ جی کے لڑکے کا انتقال ہوگیا ہے۔جنازہ کی نمازتیار ہے۔میں آپ کو بلانے کے لیے آیا ہوں‘‘۔سنتے ہی میں نے کتاب بند کی اوروضو کرکے ان کے ساتھ روانہ ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قبرستان پہنچا تو وہاںمیرے سوا تھوڑے سے آدمی اور کھڑے تھے۔گنا تو چھوٹے بڑے سترہ آدمی تھے جن میں میت کے گھر کے افراد بھی شامل تھے۔مجھے ایک مہینہ پہلے کی بات یاد آئی جب کہ سیٹھ فضل علی کے ایک رشتہ دار کا جنازہ اسی قبرستان میں آیا تھا اور قبرستان کے خصوصی حصہ میں دفن ہوا تھا۔اس دن آدمیوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ شمار کرنا مشکل تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا گویابستی کی تمام مسلم آبادی نکل آئی ہے۔
میرے پہنچنے کے چند منٹ بعد محلہ کے امام صاحب نماز جنازہ کے لیے کھڑے ہوگئے۔میں نے بھی صف میں شامل ہوکر نیت باندھ لی مگر امام صاحب نے اتنی تیزی سے نماز پڑھائی کہ میں کوئی دعا بھی پوری نہ پڑھ سکا۔بس جلدی جلدی چار بار اللہ اکبر کی آواز آئی اورتھوڑی دیر بعد انھوں نے سلام پھیردیا۔لوگ اپنے جوتے پہن کر اطمینان کے ساتھ اس طرح کھڑے ہوگئے گویا ’’نماز جنازہ ‘‘کے نام سے جو کام انہیںکرنا تھا اس کو انھوں نے پوری طرح انجام دے دیا ہے۔
قبر قریب ہی تھی۔وہاں پہنچے تو معلوم ہواکہ ابھی کھودی جارہی ہے۔لوگ دودو چار چار کرکے اِدھر اُدھر کھڑے ہوگئے۔کوئی فرقہ وارانہ مظالم کی داستان سنانے لگا۔کسی نے موسم کی سختی کا ذکر چھیڑ دیا۔کوئی بازار بھائو کے متعلق اپنی معلومات پیش کرنے لگا۔غرض اِدھر اُدھر کی باتیں شروع ہوگئیں۔
میں قبر کے سامنے خاموش کھڑاتھا۔میرے ذہن میںوہ آیتیں اورحد یثیں گھوم رہی تھیں جن میں قیامت ،حشر ،جنت ،دوزخ وغیرہ کے حالات بتائے گئے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا گویا قبر ایک کھلا ہوا دروازہ ہے جس کے سامنے کھڑے ہوکر میں دوسری دنیا کے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔میرا دل بے قرار ہوگیا۔میری زبان سے نکلا ’’زندگی کا اصل مسئلہ وہ نہیں ہے جس میںلوگ الجھے ہوئے ہیں۔بلکہ اصل مسئلہ وہ ہے جو موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔کاش لوگوں کو معلوم ہوتا کہ وہ اس وقت کس واقعہ کے درمیان کھڑے ہوئے ہیں۔یہ ایک شخص کی عارضی دنیا سے حقیقی دنیا کی طرف روانگی کی تقریب ہے۔یہ قبر جو ہمارے سامنے کھو دی جارہی ہے ،یہ قبر نہیں ہے بلکہ یہ ایک دروازہ ہے جو ایک شخص کو دوسری دنیا میں داخل کرنے کے لیے کھولا گیا ہے۔جانے والا ابھی اس دروازہ میں داخل ہوکر اُس پار چلا جائے گا۔
جب بھی کوئی شخص مرتا ہے تو یہ ایک خاص وقت ہوتا ہے۔اس وقت گویا تھوڑی دیر کے لیے اس دنیا کادروازہ کھو لا جاتا ہے جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے۔اگر دیکھنے والی آنکھ ہوتو اس کھلے ہوئے دروازہ سے دوسری دنیا کی جھلک صاف دیکھی جاسکتی ہے جہاں ہم میں سے ہر شخص کو ایک روز جانا ہے۔مگر آج کی دنیا کے مناظر نے لوگوں کی نگاہوں کو اس قدر الجھا رکھا ہے عین دروازہ پر کھڑے ہوکر بھی انہیںاس پار کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔وہ حقیقت کے انتہائی قریب پہنچ کر بھی حقیقت سے بے خبر رہ جاتے ہیں۔
موت کا سبق
ایک مجرم کو بتایا گیا کہ عدالت اس کے خلاف فیصلہ کرچکی ہے اورکل صبح اس کو پھانسی دے دی جائے گی۔پھانسی اگرچہ کل کے دن ہونے والی تھی مگر آج ہی اس کا یہ حال ہواگویا اس کو پھانسی دی جاچکی ہو۔زندگی اس کے لیے بے قیمت ہوگئی۔اس کا ہنسنا اوربولنا ختم ہوگیا۔اس کے ہاتھ جو دوسروں کے خلاف اٹھتے تھے ،اب اس قابل نہ رہے کہ کسی کے خلاف اٹھیں۔اس کے پائوں جو ہر طرف دوڑنے کے لیے آزاد تھے ،اب ان میں یہ طاقت بھی نہ رہی کہ وہ کہیں بھاگنے کی کوشش کریں۔
موت بتاتی ہے کہ یہی معاملہ ہر ایک کا ہے۔ہر آدمی جو آج زندہ نظر آتا ہے ،کل کے دن اسے ’’پھانسی ‘‘کے تختہ پر لٹکنا ہے۔مگر ہر آدمی اس سے بے خبر ہے۔ہر ایک اپنے آج میں گم ہے ،کسی کو اپنے کل کا احساس نہیں۔یہاں ہر آدمی ’’مجرم‘‘ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اپنے مجرم ہونے کو جانتے ہوں۔
آدمی زمین پر چلتا پھرتا ہے۔وہ دیکھتا اورسنتا ہے۔وہ اپنے مال اور اپنے ساتھیوں کے درمیان ہوتا ہے۔اس کے بعد ایک عجیب واقعہ پیش آتا ہے۔اس سے پوچھے بغیر اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔اس کے چلتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں۔اس کی دیکھنے والی آنکھیں بے نور ہوجاتی ہیں۔وہ اپنی ہر چیز سے جدا ہوکر قبر کی تنہائی میں چلا جاتا ہے۔
موت کا یہ واقعہ آدمی کی حقیقت کو بتا رہا ہے۔وہ بتاتا ہے کہ آدمی اختیار سے بے اختیاری کی طرف جارہا ہے۔وہ اجالے سے اندھیرے کی طرف جارہا ہے۔وہ سب کچھ سے بے کچھ کی طرف جارہاہے۔موت سے پہلے وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں وہ اپنے ارادہ کا آپ مالک ہے۔موت کے بعد وہ ایک ایسی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں وہ کسی اور کی ماتحتی قبول کرنے پر مجبور ہوگا۔
آدمی اگر اس حقیقت کو یاد رکھے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔کسی پر قابو پاکر اسے ستانااس کو مضحکہ خیز معلوم ہو۔کیونکہ جو شخص خود کل دوسرے کے قابو میں جانے والا ہے وہ کسی کو ستاکر کیاپائے گا۔اپنے کو بڑاسمجھنے پر اسے شرم آئے گی۔کیونکہ جو بڑائی بالآخر چھن جانے والی ہو اس کی کیا حقیقت۔
زندگی کا سفر
مصطفیٰ رشید شیروانی ،مشہور مجاہد آزادی اورصنعت کار اور ممبر راجیہ سبھا ،ٹرین کے ذریعہ الہ آباد سے دہلی جارہے تھے۔گورنر کشمیر مسٹربی کے نہرو(1909-2001) بھی انہیںکے کمپارٹمنٹ میں تھے۔ٹرین غازی آباد پہنچی تھی کہ مصطفیٰ رشید شروانی پر دل کا سخت دورہ پڑا۔قبل اس کے کہ انہیںکوئی طبی امداد پہنچے ،فوراً ہی ٹرین میں ان کا انتقال ہوگیا۔یہ 8اپریل 1981کا واقعہ ہے۔انتقال کے وقت مرحوم کی عمر 59سال تھی۔
اس طرح کے واقعات مختلف شکلوں میں ہر روز ہوتے ہیں۔ہر دن بے شمار زندہ لوگ موت کے دروازہ میں داخل ہوجاتے ہیں۔ہر روز لاکھوں آدمیوں کے ساتھ یہ واقعہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقام سے نکل کر کسی ’’دہلی ‘‘کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔مگر درمیان ہی میں ان کو خدا کے فرشتے پکڑ لیتے ہیں اور ان کو ’’دہلی ‘‘کے بجائے آخرت کی منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔
ہرآدمی امیدوں اورتمنائوں کی ایک دنیا اپنے ذہن میںلیے ہوئے ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی امیدوں کی دنیا کی طرف بڑھ رہا ہوں۔میںاپنے خوابوں والے ’’کل ‘‘کی طرف چلا جارہا ہوں۔مگر بہت جلد اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمنائوں والی دنیا کے بجائے خداکی دنیاکی طرف بڑھ رہا تھا ،وہ دنیا کی منزل کی طرف نہیں بلکہ آخرت کی منزل کی طرف چلا جارہاتھا۔آدمی کہاں جارہا ہے اور کہاں پہنچ رہا ہے ،مگر کسی کو اس کی خبر نہیں۔
آدمی اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے مگر قبل اس کے کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کو دیکھ کر خوش ہو وہ خود اپنے اس مستقبل کی طرف ہانک دیا جاتا ہے جس کے لیے اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔آدمی اپنے آرام کے لیے ایک شان دار مکان کھڑاکرتا ہے مگر ابھی وہ وقت نہیں آتا کہ وہ اپنے خوابوں کے مکان میںسکھ چین کے ساتھ رہے کہ موت اس کے اور اس کے مکان کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔آدمی اپنی معاش کو بڑھاتا ہے ،وہ سمجھتا ہے کہ میں عزت وترقی کی بلندیوں پر اپنے کو بٹھانے جارہا ہوں مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا دن اس کے لیے جس چیز کا انتظار کررہا تھا وہ ایک سنسان قبر تھی نہ کہ عزت وترقی کی رونقیں۔
خداہر دن کسی ’’دہلی ‘‘کے مسافر کو ’’قبر‘‘میں پہنچا رہا ہے۔مگر آدمی ان واقعات سے سبق نہیں لیتا۔اس کے باوجود ہر آدمی یہی سمجھتاہے کہ وہ ’’دہلی ‘‘کی طرف چلا جارہا ہے ،قبر کی منزل اس کے لیے کبھی آنے والی نہیں۔
کیسا عجیب
ایئر انڈیا کا ایک جہاز3جون 1984کو بینکاک سے بمبئی کے لیے اڑا۔یہ بوئنگ 747 تھا۔اس میں چار انجن نصب تھے اورعملہ کے علاوہ152مسافر سوار تھے۔جہاز ابھی فضا میں پہنچا تھا کہ اس کے ایک انجن میں آگ لگ گئی۔تاہم کیپٹن ورمانے ہوشیار ی کی اور جہاز کو قریب کے ہوائی اڈہ ڈون موانگ(Don Muang)پر اتارلیا۔اڑنے کے 20 منٹ بعد جہاز دوبارہ زمین پر تھا۔
پائلٹ کی ہوشیار ی سے جہاز حفاظت کے ساتھ رن وے پر اتر گیا جہاں ریڈ یائی اطلاع پا کر پہلے سے آگ بجھانے والے انجن موجود تھے۔تاہم بہت سے مسافر زخمی ہو گئے اور انہیںفوری طورپر اسپتال پہنچا یاگیا۔اس کی وجہ جہاز کا حادثہ نہیں تھا۔بلکہ اخباری رپورٹ(ٹائمس آف انڈیا،4 جون 1984)کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Most of the injuries were due to passengers rushing for the emergency exit from where they descended through a chute.
یعنی بیشتر زخمیوں کی وجہ مسافروں کا آپس کا ٹکر ائو تھا۔کیوں کہ جب جہاز اترا تو مسافر تیزی سے دروازہ کی طرف دوڑ پڑے جہاں انہیں ایک ڈھلوان گاڑی سے نیچے اترنا تھا۔
جہاز کی آگ نے ابھی کسی کو پکڑ انہیں تھا۔صرف یہ اندیشہ تھاکہ شاید پکڑلے اور آدمی جل کر مرجائے۔تاہم اس اندیشہ نے لوگوں کو اتنا بد حواس کردیا کہ وہ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ان میں سے ہر شخص یہ چاہنے لگا کہ سب سے پہلے وہ بھا گ کر آگے نکل جائے۔
مگر ایک اس سے زیادہ ہولناک خطرہ آدمی کا پیچھا کررہا ہے۔وہ موت اوراس کے بعد قیامت کا خطرہ ہے۔لیکن کسی کو اس کے اندیشہ سے بدحو اسی نہیں۔کوئی اس سے بھاگنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔کس قدر سچ فرمایا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے جہنم کی آگ سے خوفناک چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا بے خبر سوگیا ہو:مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا(سنن الترمذی، حدیث نمبر2601)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آدمی کو موجودہ دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز متحرک کرتی ہے وہ ’’خوف‘‘ہے۔ خوف کی نفسیات عمل کا سب سے بڑاسر چشمہ ہے۔آخرت کا خوف تمام خوفوں میں سب سے بڑاخوف ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آخرت کا خوف واقعی معنوں میں کسی کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ آدمی کی پوری شخصیت کو جگا دے گا۔وہ اس کی تمام قوتوں کو متحرک کردے گا۔
جنازہ کو دیکھ کر
مرحوم کا جنازہ لوگ کا ندھوں پر اٹھائے ہوئے قبرستان کی طرف جارہے تھے۔ اور میرے ذہن میں ایک پوری تصویر جاگ رہی تھی۔مرحوم کے اس آخری سفر میںمجھے انسان اپنے آغاز سے اپنے انجام کی طرف جاتا ہوانظر آرہا تھا۔
آدمی پیدا ہوکر دنیا میں آتا ہے تو فوراً ہی اس کو ماں کی شفقت اور باپ کی سر پرستی حاصل ہوجاتی ہے۔وہ عزیزوں اوردوستوں کے درمیان پرورش پاتا ہے۔پھر وہ بڑاہوکر ایک بااختیار انسان کی حیثیت سے زمین پر اپنی زندگی بناتا ہے۔
آدمی کا یہ سفر جاری رہتا ہے۔یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔اب اس کے وہی دوست اوررشتہ دار جو دنیا میں اس کے مددگاربنے ہوئے تھے ،اس کو اٹھا کرلے جاتے ہیں اورزمین کے ایک ایسے گڑھے میں ڈال کر بند کردیتے ہیں جہاں آدمی بالکل اکیلا ہوتا ہے۔جہاں وہ ہوتا ہے اور اس کا خدا۔
آدمی اب تک اپنے جیسے انسانوں کے سامنے تھا ،اب وہ برتر خدا کے سامنے ہوتا ہے۔اب تک وہ اختیار کی دنیا میں تھا ،اب وہ بے اختیاری کی دنیا میں اپنے آپ کو پاتا ہے۔کیسا عجیب ہوگا وہ لمحہ جب ایک عاجز مطلق ایک قادر مطلق کے سامنے کھڑا ہوگا۔
موت کا یہ واقعہ ہر روز زمین کے اوپر ہوتا ہے۔ہر روز آدمی کسی نہ کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے ،مگر اس کو کچھ احساس نہیں ہوتا۔
’’احساس تو جب ہو جب کہ آدمی کے دماغ میںجنت اور جہنم ہو‘‘میں نے سوچا۔ لوگوں کی سوچ بالکل دوسرے رخ پر چل رہی ہے۔لوگوں کے ذہن میں دوستی ،رشتہ داری ، کمانا اورگھر بنانا ،جیسے مسائل بھرے ہوئے ہیں۔وہ کسی آدمی کو اسی حیثیت سے جانتے ہیں۔ جب کوئی آدمی مرتا ہے تو وہ اس کے متعلق بس اتنا سوچ پاتے ہیں کہ ایک ساتھی بچھڑ گیا۔ ایک کمانے والا فرد ہم سے رخصت ہوگیا۔وہ صرف دنیا کے ساتھ انسان کے تعلقات کو جانتے ہیں۔وہ آخرت کے ساتھ انسان کے تعلقات کو نہیں جانتے ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ وہ جنازہ میں انسان کی خدا کے سامنے حاضری کو دیکھیں۔وہ موت کے سفر میں انسان کے آخرت کی طرف سفر کا مشاہدہ کریں۔
روپیہ سے راکھ تک
گھنشیام داس برلا (1894-1983)ہندستان کے مشہور ترین صنعت کا رتھے۔ان کی اعلیٰ کامیابی کا راز ان کی بے حد بااصول زندگی تھی۔انھوں نے 12سال کی عمر میںمعمولی کاروبارسے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔پھر وہ عظیم ترقی تک پہنچے آج ان کا خاندان ہندستان کا واحد سب سے بڑا کاروباری خاندان ہے۔
مسٹر برلا کا معمول تھا کہ صبح5بجے اٹھتے اورشام9بجے تک مسلسل کام میں مشغول رہتے۔ان کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔وہ شراب کے بجائے کافی پیتے تھے۔دو کھانے کے درمیان پانی کے سوا اورکچھ نہیں لیتے تھے۔اکثر اپنا کھانا خود اپنے ہاتھ سے پکاتے۔
مسٹر برلا روزانہ صبح کو ٹہلنے کے لیے نکلتے تھے۔اس معمول میں کوئی فرق نہیں تھا، خواہ وہ ہندستان میںہوں یا ہندستان کے باہر۔11جون 1983کو وہ لندن میں تھے۔ وہ حسب معمول صبح کے ناشتہ کے بعد ریجنٹ اسٹریٹ پر ٹہلنے کے لیے نکلے۔تھوڑی دیر چلنے کے بعد انہیںتکلیف محسوس ہوئی۔انھوں نے اپنے مددگاروں کو بتا یا جو اس وقت ان کے ساتھ تھے۔وہ انہیںفوراً گھر واپس لائے۔گھر آتے ہی وہ بے ہوش گئے۔اس کے بعد انہیںلندن کے مڈل سکس اسپتال(Middlesex Hospital) پہنچایا گیا۔اسپتال میں انہیںتھوڑی دیر کے لیے ہوش آیا ،وہاں انھوں نے کہا — ڈاکٹر ،مجھے کیا تکلیف ہے۔
What is wrong with me, Doctor?
ڈاکٹروں نے کہاہم پانچ منٹ میں معائنہ کرکے بتاتے ہیں۔مگر قبل اس کے کہ ڈاکٹروں کا معائنہ مکمل ہوان کا انتقال ہوچکا تھا۔مسٹر برلا کی وصیت تھی کہ جہاں میراانتقال ہو وہیں میرے آخری مراسم ادا کیے جائیں۔چنانچہ مسٹر برلا کی لاش کو لندن میں بجلی کے ذریعہ جلا دیا گیا ،اور ان کی راکھ ہندستان لاکر یہاں کی ندیوں میں بہادی گئی۔مسٹر برلا کی اسکول میں تعلیم نہیں ہوئی ،تاہم بعد کو انھوں نے ذاتی محنت سے اپنے اندر لیاقت پیدا کی۔وہ کئی کتابوں کے مصنف بنے۔ان کی ایک کتاب کا ہندی نام ہے — روپیہ کی کہانی۔
other sourceWords of another person or source
مسٹر برلا نے ’’روپیہ کی کہانی ‘‘لکھی ‘حالانکہ بالآخر وہ خود’’راکھ کی کہانی ‘‘بننے والے تھے۔یہی ہر آدمی کا معاملہ ہے۔ہر آدمی اپنی کا میابی کی داستان لکھ رہا ہے۔حالانکہ آخر کار وہ جہاں پہنچنے والا ہے وہ مکمل بربادی کے سوا اورکچھ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جہنم کا خطرہ
خدانے انسان کو اس کی بناوٹ کے اعتبار سے جنتی نفسیات کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کے بعد اس کو موجودہ دنیا میں ڈال دیا جہاں ایسے حالات ہیں جو آدمی کے اندر جہنمی نفسیات کو ابھارتے ہیں۔اب جو شخص اسفل سافلین میںرہتے ہوئے اپنے کو احسن تقویم کی سطح پر لے جائے ،با الفاظ دیگر جہنمی نفسیات کو ابھارنے والے ماحول میں دوبارہ اپنے اندر چھپی ہوئی جنتی نفسیات کو بیدار کرے تو وہی وہ شخص ہے جو مرنے کے بعد اللہ کے پڑوس میںاور اس کی نعمتوں میں جگہ پائے گا۔باقی لوگ دھوئیں اور آگ کی دنیا میں عذاب سہنے کے لیے چھوڑدئے جائیں گے (التین،95:1-5) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔اس لیے اس کو اسی ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں باربار آدمی کے لیے آزمائشی حالات پیدا ہوں۔یہاں نفع اورنقصان کے معاملات ہیں جو آدمی کے اندر حرص ،طمع اورخود غرضی کے احساسات ابھارتے ہیں۔یہاں سطحی دل چسپیاں ہیں جو آدمی کو شہوت پرستی ،نشہ بازی اور لذتیت کی طرف لے جاتی ہیں۔یہاں ایک آدمی اوردوسرے آدمی کا مقابلہ پیش آتا ہے جس کی وجہ سے آدمی کے اندر خود پرستی اورانانیت کا شیطان جاگتا ہے۔یہاں مفادات کا ٹکرائو ہے جس کی وجہ سے غصہ ،نفرت اورکمینہ پن کے جذبات بھڑکتے ہیں۔یہی موجودہ دنیاکا ’’اسفل سافلین ‘‘ہونا ہے۔آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے اوپر اٹھائے اوراپنے کو ’’احسن تقویم ‘‘کی سطح پر لے جائے جو باعتبار پیدائش اس کی حقیقی سطح ہے۔
ایک پھل اندر سے اچھا ہے یا خراب ،اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ اسے توڑاجائے۔یہی حال انسان کا ہے۔کوئی انسان جنتی نفسیات میں جی رہا ہے یا جہنمی نفسیات میں،اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ اس کی ہستی کو توڑاجائے۔جب آدمی کے ساتھ کسی قسم کی ناموافق صورت حال پیش آتی ہے تو اس وقت اس کی ہستی ٹوٹ جاتی ہے۔ایسے مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنتی تقویم کی سطح پر تھا یاجہنمی تقویم کی سطح پر۔جب دو آدمیوں کے درمیان روپیہ یا جائیدار کا جھگڑا کھڑا ہوتا ہے۔ جب دوصاحب معاملہ افراد کے درمیان کوئی کھٹ پٹ پیدا ہوجاتی ہے۔جب دو الگ الگ خیال رکھنے والوں کے درمیان رائے کا اختلاف ہوجاتا ہے۔جب ایک منصب کے دو دعویداروں کے درمیان ٹکرائو شروع ہوجاتا ہے تو یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جب کہ یہ پتہ چلتا ہے کہ آدمی حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے۔ایسے مواقع پر جو شخص نفرت ،خود غرضی ، بے انصافی اورانانیت کا مظاہرہ کرے وہ اپنے اس عمل سے ثابت کرتا ہے کہ وہ جہنمی نفسیات میںجی رہا تھا ،وہ ابلیس اور شیطان کا پڑوسی تھا۔اس کے برعکس جس شخص کا ردعمل ان مواقع پر محبت ،بے غرضی ،انصاف پسندی اورتواضع کی صورت میں ظاہرہو وہ ثابت کررہا ہے کہ وہ جنتی نفسیات میں جی رہا ہے ،اس کے روز وشب خدا اور اس کے فرشتوں کے پڑوس میں گزرتے ہیں۔جو شخص دنیا میں شیطان کا پڑوسی ہے ،آخرت میں بھی اس کو شیطان ہی کا پڑوس حاصل ہوگا اورجو شخص دنیا میں خدا اورفرشتوں کا پڑوسی ہے ،وہ آخرت میںبھی خدا اورفرشتوں کے پڑوس میںرہے گا۔
گڑھے میں پاوں
مسٹر پی ،وی وینکٹیشورن ایک سرکاری ادارہ میں چیف مارکٹنگ مینجر تھے۔29مئی 1982 کی شام کو انھوں نے دہلی کے گوپالا ٹاور میں ایک میٹنگ میں شرکت کی۔آٹھویں منزل پر اپنی میٹنگ سے فارغ ہوکر وہ دفتر سے باہر نکلے تو بجلی فیل ہوچکی تھی ،وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ لفٹ تک آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ اس کا دروازہ کھلا ہواہے۔وہ سمجھے کہ لفٹ آئی ہے حالاں کہ لفٹ ابھی اوپر نویں منزل پر تھی۔مسٹر وینکٹیشور لفٹ کے دروازے کی طرف لپکے۔اس وقت وہ میٹنگ کے فیصلوں سے اتنا خوش تھے کہ وہ صورت حال کی نزاکت کا اندازہ نہ کرسکے۔انھوں نے اپنا ایک پائوں لفٹ کے اندر ڈال دیا۔مگر وہاں خالی تھا۔وہ اچانک آٹھویں منزل سے زمین پر آگئے۔ان کا ذاتی ڈاکٹر ان کے ساتھ تھا، مگر وہ صرف یہ خدمت انجام دے سکا کہ نیچے اتر کر ان کی لاش کو دیکھے اور ان کے مردہ ہونے کا اعلان کرے۔موت کے وقت ان کی عمر 51 سال تھی (ہندستان ٹائمس، 30مئی 1982)۔
مسٹر وینکٹیشور ایک نہایت کامیاب افسر تھے۔ حال میں ایک سرکاری جرنل میں ان کے بارے میں الفاظ چھپے تھے— ایک بہادر کارکن ،ایک مستعد اوراختراعی منتظم ،جس کے اندر میں آگ لگی ہوئی ہو اورجس کے دماغ میں نظر یات کا خزانہ ہو ،ایک ہوشیار جنرل
A thoroughbred professional and a dashing innovative manager with fire in his belly and ideas in his mind, an astute general.
دنیا کے اعتبار سے مسٹر وینکٹیشور کا کیس ایک انوکھا کیس ہے۔مگر آخرت کے اعتبار سے ہر آدمی یہ فعل انجام دے رہا ہے ۔ہر آدمی عقل مندی اورکامیابی کے جوش میں ایسی جگہ اپنا پائوں رکھ رہاہے جو اس کو سیدھے آخرت کے گڑھے میں گرادینے والا ہے— کسی کو بے عزت کرنے والے الفاظ بولنا ،کسی کوستانے کے لیے اقدام کرنا ،کسی کے خلاف ضد اور انتقام کے تحت کارروائی کرنا ،کسی کے ساتھ ظلم اوربے انصافی برتنا ،کسی کو ناحق اپنے زور طاقت کا نشانہ بنانا ،کسی کا بے دلیل مذاق اڑانا ،یہ سب گویا ’’آٹھویں منزل ‘‘کے خالی مقام پر پائوں رکھنا ہے۔ایسا ہر اقدام آدمی کو تباہی کے نچلے گڑھے میں پہنچا دیتا ہے۔اس کے بعد نہ اس کے ساتھ اس کو بچانے والے ثابت ہوسکتے ہیں نہ اس کی خوش فہمیاں — ہر آدمی گڑھے میں پائوں رکھ رہا ہے۔ اگرچہ بطور خود وہ سمجھتا ہے کہ وہ محفوظ تختہ پر اپنا قدم جمائے ہوئے ہے۔
کتنا سنگین
اخبار ایک اعتبار سے موت کا خبر نامہ ہے۔ہر روز اخبار میں لوگوں کی موت کی خبریں ہوتی ہیں۔مثلاً میرے سامنے 24فروری1985کا اخبار ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ چکردھرپور ناگپور کی دوبوگیوں میں آگ لگ گئی۔یہ آدھی رات کا وقت تھا۔تیز ہواچل رہی تھی۔آگ تیزی سے پھیلی۔مگر بریک کام نہ کرنے کی وجہ سے مسافر ٹرین کو فوراً ٹھہرانہ سکے۔اگلے اسٹیشن پر ٹرین رکی تو بھرے ہوئے ڈبہ کے تقریباً ایک سو آدمی جل کر مرچکے تھے۔
دوسری خبروں میں صرف دہلی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ہندی ادیب چندرگپت ودیا لنکر 78سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔اجیت سنگھ (14سال) جیپ میں سفر کرتے ہوئے ایکسیڈنٹ کا شکار ہوا اورمرگیا۔25سال کے ایک آدمی کی لاش بورے میں بند پائی گئی وغیرہ وغیرہ ۔
اس طرح کے واقعات ہر روز اورہر جگہ پیش آتے ہیں۔وہ سادہ معنوں میں صرف موت کے واقعات نہیں ہیں۔یہ مخلوق کی اپنے خالق ومالک کے سامنے حاضری ہے۔یہ ایک انسان کا خداکی عدالت میں پہنچا یاجانا ہے۔یہ امتحان کے مرحلہ کو پور اکرکے ابدی انجام کے مرحلہ میں داخل ہونا ہے۔
موت کایہ پہلو کتنا ہولناک ہے۔یہ موت کے واقعہ کو انتہائی سنگین بنادیتا ہے۔اتنا سنگین کہ اس سے زیادہ سنگین کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔
موت کے اس پہلو کا تقاضا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ موت کے بارے میں سوچے۔لکھنے اوربولنے والے سب سے زیادہ اس کے بارے میں لکھیں اوربولیں۔ انفرادی مجلسوں اورعوامی اجتماعات میں سب سے زیادہ اس کا چرچا ہو۔مگر عملاً صورت حال اس کے برعکس ہے۔موت ہر آدمی کو صرف یہ بتاتی ہے کہ ’’فلاں شخص اس دنیاسے چلا گیا‘‘وہ کسی کو یہ نہیں بتاتی کہ ’’میں بھی اس دنیا سے جانے والا ہوں ‘‘ہر آدمی موت کے سفر کو دوسروں کا سفر سمجھتا ہے۔کسی کو موت کے واقعہ میں اپنا سفر دکھائی نہیں دیتا۔
آہ وہ انسان ،جو اس وقت تک ہو ش میں آنے کے لیے تیار نہیں جب تک اس کو ہوش میں آنے کے لیے مجبور نہ کردیاگیا ہو۔
الفا ظ ختم نہیں ہوتے
الرسالہ اپریل 1984(آخری سفر)کے بارے میں ہم کو کئی خطوط ملے ہیں جن میں شکایت کی گئی ہے کہ اس شمارہ میں ’’کچھ مضامین دوبارے چھاپ دیے گئے ہیں ‘‘ایسے لوگوں سے ہم کہیں گے کہ آپ نے ابھی اس شمارہ کو نہیں پڑھا۔اگرآپ واقعۃ ً اس کو پڑھتے تو آپ کے ہوش وحواس گم ہوجاتے۔اس شمارہ میں زندگی کے جس انتہائی سنگین مسئلہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ اگر انسان کی سمجھ میں آجائے تو اس کے اوپر ایسی سراسیمگی طاری ہوکہ اس کو یہ یاد ہی نہ رہے کہ کون سامضمون پہلی بارچھپا ہے اورکون سامضمون دوسری بار۔کون سی بات پہلے کہی جاچکی تھی اورکون سی دوبارہ کہی جارہی ہے۔
اگر آپ راستہ چل رہے ہوں اوراچانک کوئی شخص چیخ کرکہے ’’تمہارے آگے سانپ ہے سانپ ‘‘توکیا اس وقت آپ کو یہ ہوش رہے گا کہ آپ اس شخص سے بحث کریں کہ تم نے سانپ کالفظ دوبارہ کیوں کہا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگوں کی بے خبری ہے جس نے انہیںتکرار اوربے تکرار جیسی باتوں میں مشغول کررکھا ہے۔اگر انہیںخبر ہوجائے تو ’’تکرار ‘‘ کا لفظ وہ اس طرح بھول جائیں جیسے کہ انھوں نے کبھی اس لفظ کو جانا ہی نہ تھا۔
ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ الرسالہ کے قارئین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو واقعتاً اس کو پڑھتے ہیں۔اوراس سے وہ اثرلیتے ہیں جو انہیں لینا چاہیے۔چنانچہ اگر ہم کو ایک طرف مذکورہ بالا قسم کے خطوط ملے تو اسی کے ساتھ ہم کو دوسری قسم کے خطوط بھی موصول ہوئے ہیں۔مثال کے طور پر الرسالہ کے ایک پرانے خریداراپنے خط مورخہ 16پریل 1984میں آکولہ سے لکھتے ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’اپریل کا پرچہ (آخری سفر) ملا۔پڑھ کر ہوش وحواس گم ہوگئے۔واقعی اللہ نے آپ کے قلم میں جادو کا اثر رکھا ہے۔رسالہ پڑھتے ہوئے کئی مرتبہ میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ الرسالہ کی تعریف کے لیے تو میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔صرف دعا کرسکتا ہوںکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھ نصیب فرمائے اورآپ کے قلم میں دلوں کو پلٹ دینے کی تاثیر رکھ دیں ‘‘۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آہ ،لوگوں کو اپنے ’’آخری سفر‘‘کی ہولناکی کا اندازہ نہیں۔اگر انہیںاس کا اندازہ ہو تو ان کی زبان بند ہوجائے۔حتی کہ ان کے پاس یہ کہنے کے لیے الفاظ نہ رہیں کہ — تم نے چھپے ہوئے مضمون کو دوبارہ چھاپ دیاہے۔
آہ کس قلم سے لکھا جائے
کوئی جہاز مشکل میں پھنس جائے تو وہ ریڈیو کے ذریعہ خاص سگنل بھیجتا ہے۔اس کو اصطلاح میں ایس اوایس (SOS)کہتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم مصیبت میںہیں، ہماری مدد کرو۔ مگر اس قسم کے سگنل کی قیمت اسی وقت ہے جب کہ اس کو وصول کرنے والا اسٹیشن اسے اہمیت دے۔ اگر وصول کرنے والا اسٹیشن اسے اہمیت نہ دے تو وہ فضا میں بکھر کر رہ جائے گا۔وہ ایسا کلام بن جائے گا جس کو بولنے والے کے سواکسی اورنے سنا ہی نہ ہو۔
موجودہ زمانہ میں ہمارے لکھنے اوربولنے والے بھی خداکے نام گویا’’ایس اوایس ‘‘بھیج رہے ہیں۔وہ کہہ رہے ہیں کہ خدا یا ظالموں کے خلاف ہماری مدد کر۔مگر سو سالہ پکار کے باوجود ہماری مصیبت ختم نہیں ہوتی۔اس سے ظاہر ہے کہ ہم جس خدائی اسٹیشن کو اپنا ایس او ایس بھیج رہے ہیں اس کے نزدیک ہمارے ایس او ایس کی کوئی قیمت ہی نہیں۔
ہم خدا سے دوسروں کی بربادی مانگ رہے ہیں مگر خدااس کا منتظر ہے کہ ہم اس سے دوسروں کی ہدایت مانگیں۔ہم اپنے قومی مقاصد کے لیے خدا کو پکار رہے ہیں۔مگر خدا صرف اس پکار کو سنتا ہے جو دینی مقاصد کے لیے کی گئی ہو۔ہم لوگوں کو آگ میں ڈالنے کی دعا کررہے ہیں حالانکہ خداکی مرضی یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آگ سے بچانے کی دعا کریں۔ایسی حالت میں ہمارا ’’ایس او ایس ‘‘خداکے یہاں کیسے قابل لحاظ ہوسکتا ہے۔جو فائر بریگیڈ پانی لیے ہوئے بیٹھا ہوا س سے ہم کہیں کہ آگ برسائو تو وہ کیسے ہماری بات کو سنے گا۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی جنتیں رزرو (reserve)ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انہیںدوسروں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی فکر نہیں۔اگر لوگوں کو اللہ کا ڈر ہو تو وہ جان لیں کہ قیامت میں اللہ کی پکڑسے وہی شخص بچے گاجس نے دوسروں کو اللہ کی پکڑ سے بچانے کی فکر کی ہو۔
لوگوں کے پاس الفاظ ہیں ،صرف اس لیے کہ وہ قیامت کی ہولناکی کو دوسروں کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔اگر وہ جانیں کہ وہ خود بھی قیامت کی ہولناکی کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں تو ان کی زبانیں بند ہوجائیں۔خدا کی پکڑکا خوف ان کو اتنا ہلکان کردے کہ وہ ہنسنے سے زیادہ روئیں۔وہ بولنے سے زیادہ خاموش دکھائی دینے لگیں۔
خدا کا قانون
قانون کی زد
ہمارے ملک میں قانون کی پکڑسے بچنے کا یقینی ذریعہ رشوت ہے۔رشوت کے زور پر یہاں سب کچھ کیا سکتا ہے۔جس آدمی کی جیب میں کافی پیسہ موجودہے اس کے لیے کوئی بھی غلط کام کرکے اس کے قانونی انجام سے دو چار ہونے کا اندیشہ نہیں ۔
مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں اگرچہ اس قسم کی رشوت کارواج نہیں۔مگر اصل برائی وہاں بھی پوری طرح موجود ہے۔ان ملکوں میں قانون کی پکڑسے بچنے کے لیے ایک مستقل ’’کاروبار‘‘قائم ہے جس کو لوپ ہول کاروبار(Loophole Business)کہا جاتا ہے۔
امریکاکے دارالسلطنت واشنگٹن میں ایک شخص نے دیکھا کہ شہر میں بہت سی نئی آفس بلڈنگیں کھڑی ہورہی ہیں۔اس کو تعجب ہوا۔کیوں کہ حال میں اس نے اخبار میں پڑھا تھاکہ صدر امریکانے دفتری کارکنوں میںکمی کا اعلان کیا ہے۔اس نے ایک عمارتی ٹھیکیدار سے پوچھا کہ ان عمارتوں کو کس قسم کے لوگ کرایہ پر لے رہے ہیں۔ٹھیکیدار نے کہا کہ وہ لوگ جو لوپ ہول بزنس سے تعلق رکھتے ہیں۔آدمی نے حیران ہوکر پوچھا کہ یہ لوپ ہول بزنس کیا ہے۔ٹھیکیدار نے جواب دیا،کیا آپ نہیں جانتے۔واشنگٹن میں دنیا کی سب سے بڑی لوپ ہول انڈسٹری ہے :
Washington has the largest loophole industry in the world.
اس نے مزید بتایا کہ امریکاکی مجلس قانون ساز قانون بناتی ہے۔اب کچھ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے اوپر ان قوانین کی زد پڑرہی ہے۔انہیں تلاش ہوتی ہے کہ ان میں ایسے قانونی شگاف (Legal loopholes)دریافت کریں جن کے ذریعے وہ ان کی پکڑسے بچ سکیں۔ان دفاتر میںہزاروں کی تعداد میں ایسے اعلیٰ دماغ بیٹھے ہوئے ہیں جن کا کام یہی قانونی شگاف تلاش کرنا ہے۔چنانچہ لوپ ہول بزنس آج امریکاکا بہت بڑا اورمنظم بزنس بن چکا ہے (دی ہند و16دسمبر1984)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دنیا میں انسان کا مقابلہ انسان سے ہے۔یہاں وہ جرم کرتا ہے اورپھر رشوت دے کر یا قانون میں لوپ ہول تلاش کرکے اس کی زد سے بچ جاتا ہے۔پھر اس وقت انسان کا کیا حال ہوگا جب کہ وہ اپنے آپ کو خد اکے مقابلہ میںپائے گا جہاں نہ کوئی مال کسی کے کام آنے والا ہے اورنہ کسی قسم کی قانونی مہارت۔
خدا کی دنیا میں
ایک نو مسلم انگریز نے اپنے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے 1974میں حج کا فریضہ ادا کیا۔ یہ سفر میںنے اپنے وطن انگلینڈ سے بذریعہ موٹر کا ر کیا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دسمبر 1973کی کوئی تاریخ تھی۔میںاپنی گاڑی چلاتا ہوا سوئزرلینڈ پہنچا۔وہاں زیورک میں میری بہن تھی جس سے مجھے ملنا تھا۔انگلینڈمیں بائیں چلو(Keep left)کا اصول ہے اورسوئزر لینڈ میں دائیں چلو(Keep right)کا اصول۔میں جب زیورک میں داخل ہواتومجھے یاد نہ رہا کہ یہاں مجھ کو اپنی گاڑی سڑک کے دائیں طرف چلانا چاہیے۔ سابقہ عادت کے مطابق میں سڑک کے بائیں طرف اپنی گاڑی دوڑانے لگا۔
جلد ہی ایک مقام پر ٹریفک کانسٹیبل نے ویسل دے کر مجھے روکا۔ جب میں رکاتو وہ میرے قریب آیا۔اس نے میری گاڑی کی پلیٹ دیکھی۔میرا حلیہ دیکھا۔وہ فوراً سمجھ گیا کہ یہ انگلش آدمی ہے اورانگلش ہونے کی وجہ سے بائیں طرف گاڑی دوڑارہا ہے۔اس نے معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا اورکہا جناب ،اس وقت آپ انگلینڈمیں نہیں ہیں :
Sir, you are not in England now.
یہ واقعہ بظاہر ایک ٹریفک کا واقعہ ہے۔مگر اس میں آخرت کا ایک بہت بڑا سبق چھپا ہواہے۔موجودہ دنیا جس میں ہم ہیں وہ خدا کی دنیا ہے۔مگر انسان اکثر اوقات اس کو اپنی دنیا سمجھ لیتا ہے۔وہ خدا کی مرضی کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی مرضی اورخواہش کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔
جس طر ح سٹرک کے کنارے ٹریفک کانسٹیبل کھڑا ہوالوگوں کو بتاتا ہے کہ ’’تم اپنے ملک میں نہیں ہوبلکہ دوسرے کے ملک میں ہو‘‘اسی طرح خدا کے پیغمبر لوگوں کو یہ وارننگ دے رہے ہیں کہ ’’تم انسان کی دنیا میں نہیں ہوبلکہ خدا کی دنیا میںہو‘‘کامیاب انسان وہ ہے جو اس وارننگ پر دھیان دے۔وہ خود سری کو چھوڑ دے اورخدا کی دنیا میں خداکے حکم کا پابند بن کر رہے۔اس کے برعکس ناکام انسان وہ ہے جو خدا کو بھول جائے اورخدا کی دنیا میں اپنی خواہش کے رخ پر دوڑنے لگے۔
دنیا میں ٹریفک کے قانون کے خلاف ورزی کا انجام فوراً سامنے آجاتا ہے۔اس لیے آدمی یہاں ٹریفک کانسٹیبل کی وارننگ پاتے ہی اپنے کو درست کرلیتا ہے۔مگر خداکے قانون کی خلاف ورزی کا انجام آخرت میں سامنے آئے گا اس لیے اس معاملہ میںوہ وارننگ سن کر بھی اس کی پروانہیں کرتا، مگر اس سے بڑی بھول اورکوئی نہیں۔
تولے جانے سے پہلے تول لو
موجودہ دنیا میں چیزوں کے دو روپ ہیں۔ایک ظاہر اوردوسرا باطن۔یہاں ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے باطنی وجود میں برائی لیے ہوئے ہومگرزبان سے خوبصورت الفاظ بول کر اپنے کو اچھی صورت میں ظاہر کرے۔قیامت اس لیے آئے گی کہ ظاہر وباطن کے اس فرق کو مٹادے۔ قیامت کا زلزلہ تمام ظاہر ی پردوں کو پھاڑدے گاتاکہ ہر انسان کے اوپر سے اس کا خول اتر جائے اوروہ اپنی اصلی اورحقیقی صورت میں سامنے آجائے۔
وہ دن بھی کیسا عجیب ہوگا جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا۔کتنے لوگ جو آج انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اس دن وہ مجرموں کے کٹہرے میں نظر آئیں گے۔ کتنے لوگ جو آج اہم ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں اس دن وہ کیڑوں مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔کتنے لوگ جن کے پاس آج ہر بات کا شاندار جواب موجود ہوتا ہے اس دن وہ ایسے بے جواب ہوجائیں گے جیسے کہ ان کے منہ میں الفاظ ہی نہیں۔
آج ایک شخص کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو ستائے اس کے باوجود اس کو دینداری کے اسٹیج پر بیٹھنے کے لیے نمایاں جگہ ملی ہوئی ہو۔ایک شخص اپنی شان وشوکت دکھانے کے لیے سرگرم ہوپھر بھی وہ مجاہد اسلام کے نام سے شہرت پائے۔ایک شخص اپنے اہل معاملہ سے بے انصافی کا طریقہ اختیار کرے اس کے باوجود امن وانصاف کے اجلاس میں اس کو صدارت کرنے کے لیے بلایا جائے۔ ایک شخص کی خلوتیںاللہ کی یاد سے خالی ہوں مگر اجتماعی مقامات پر وہ اللہ کے نام کا جھنڈااٹھانے والا سمجھا جاتاہو۔ایک شخص کے اندر مظلوم کی حمایت کا کوئی جذبہ نہ ہو اس کے باوجود اخبارات کے صفحہ پر اس کو مظلوموں کے حامی کی حیثیت سے نمایاں کیا جارہا ہو۔
ہر آدمی کی حقیقت خدا کے علم میں ہے مگر دنیا میںخدا لوگوں کی حقیقت چھپائے ہوئے ہے۔آخرت میں وہ ہر ایک کی حقیقت کھول دے گا۔وہ وقت آنے والا جب کہ خداکی ترازوکھڑی ہواورہر آدمی کو تول کر دکھا دیا جائے کہ کون کیا تھا اورکون کیا نہیں تھا۔اس وقت کا آنا مقدر ہے۔کوئی شخص نہ اس کوٹال سکتا اورنہ کوئی شخص اپنے آپ کو اس سے بچا سکتا۔کامیاب صرف وہ ہے جو آج ہی اپنے کو خدا کی ترازو میں کھڑاکرلے۔کیونکہ جو شخص کل خداکی ترازو میں کھڑاکیا جائے اس کے لیے بربادی کے سوااورکچھ نہیں۔
آج بونا کل کاٹنا
گھنشیام داس برلا(1894-1983)راجستھان کے ایک گائوں پلانی میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ ایک معمولی آدمی تھے اورکلکتہ میں جو ٹ کے دلال کے طور پر کام کرتے تھے۔ چودہ سال کی عمر میں مسٹر برلا بھی کلکتہ چلے گئے اوروہاں اپنے باپ کے کام میں مدد کرنے لگے۔
مسٹر برلاکو ایک روز کلکتہ کے کسی تجارتی دفتر کی عمارت میں اوپر جانا تھا۔وہ جب لفٹ میںسوار ہونے لگے تو انہیںروک دیاگیا۔کیوں کہ یہ لفٹ صرف انگریز افسروں کے استعمال کے لیے تھی۔جب وہ سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر پہنچے تو وہاں بھی ان کو کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ملی۔ان کو ایک بنچ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا جو چپراسیوں کے لیے مخصوص تھی۔تاہم نوجوان برلا اس بنچ پر نہیں بیٹھے اورکام ہونے تک برابر کھڑے رہے۔
انگریز ی دور میں مذکورہ بالا قسم کے تجربات نے مسٹر برلا کے اندر قومی آزادی کے خیالات پیدا کردئے۔وہ تحریک آزادی میں مہاتما گاندھی کے ساتھی بن گئے۔یہ وہ دورتھا جب کہ سرمایہ دار طبقہ کانگرس کے قریب آنے سے گھبراتا تھا۔مگر مسٹر برلا نہایت دوربین اورحوصلہ مند آدمی تھے۔انھوں نے 1947سے پہلے کی کانگرس میں 1947کے بعد کی کانگرس کی جھلک دیکھ لی۔انھوں نے قومی تحریک کے دور کے ہندستان میں آزادی کے دور کے ہندستان کا مشاہدہ کرلیا۔انھوں نے اس راز کو پالیا کہ آج کے ’’لیڈر ‘‘کل کے ’’وزیر‘‘ ہوں گے ، آج اگروہ ان لیڈروں کی مدد کریں۔توکل وہ ان سے زبر دست فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے آزادی کی تحریک کی باقاعدہ مالی مدد شروع کردی۔کہا جاتا ہے کہ 1947 تک وہ اس سلسلے میں گاندھی جی کو اورکانگرس پارٹی کو تقریباً 20کرور روپے دے چکے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آزادی کے بعد مسٹر برلا کو اس کا زبردست فائدہ حاصل ہوا۔نئی حکومت کی طرف سے ان کو ہرقسم کی غیر معمولی سہولتیں ملنا شروع ہوگئیں۔انھوں نے اتنی تیزی سے ترقی کی کہ آزاد ہندستان کے سب سے بڑے صنعت کا ربن گئے۔آج برلا کا خاندان ہندستان کا سب سے زیادہ دولتمند خاندان سمجھا جاتا ہے۔
جو آدمی آج بوتا ہے وہی آدمی کل کاٹتا ہے۔یہ بات آج کی دنیا کے لیے بھی صحیح ہے اور یہی کل کی دنیا کے لیے بھی۔
موجودہ دنیا ناکافی
گرسن ولوریا(Gerson Viloria)فلپائن کا ایک باشندہ ہے جس کی عمر 34سال ہے۔ وہ ایک ٹریثرری میں کلرک تھا۔ اس نے لوگوں کی طرف سے فرضی دستخط کرکے بہت سے لوگوں کی رقم وصول کرلی۔اس کا مقدمہ فلپائن کی ایک عدالت میں پیش ہوا۔جج کانام رومیواسکاریل (Romeo M.Excareal)تھا۔جج نے تفصیلی سماعت کے بعد گرسن ویوریا کو 17معاملات میں مجرم پایا۔قانون کے مطابق اس طرح کے ایک جرم میں آدمی کو10سال قید بامشقت کی سزا ملنی چاہیے۔اس کے مطابق جج نے مجرم کو170سال کی سزا دی۔اسی کے ساتھ اس نے مجرم پر4625ڈالر جرمانہ عائد کیا۔جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں سزا ئے قید میں اضافہ ہوجائے گا(ٹائمس آف انڈیا،9نومبر 1979)۔
مجرم کی عمر 34سال ہوچکی ہے۔اگر ’’قبل از وقت‘‘اس کا خاتمہ نہ ہو بلکہ وہ اپنی عمر طبعی کو پورا کرکے مرے تب بھی اس کی موت کے وقت اس کی سزا کی مدت میں کم از کم سو سال باقی رہ جائیں گے ۔
انسان کا ضمیر کسی عمل کا جو بدلہ یاکسی جرم کی جو سزاچاہتا ہے وہ موجودہ محدود دنیا میں ناممکن ہے۔جوہونا چاہیے اورجو ہورہا ہے کے درمیان یہ تضادبتاتا ہے کہ موجودہ دنیا نامکمل ہے۔اس کی تکمیل کے لیے ایک اوردنیا ہونی چاہیے جہاں یہ تضاد ختم ہوجائے اورجو کچھ ہونا چاہیے وہی عملاً بھی ہونے لگے۔
اسی قسم کاایک واقعہ تھائی لینڈ میں ہوا۔تھائی لینڈ کی ایک عدالت میں ایک خاتون پولیس کامقدمہ پیش ہوا۔اس کانام مسزامساپ (Mrs. Phenphanchong Imsap) ہے۔ وہ سرحدی علاقہ پٹچابون (Petchabun)میں تعینات تھی۔اس کا تعلق بیرونی افرادکے رجسٹریشن آفس سے تھا۔اس نے رجسٹریشن کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینااوران سے رشوت لینا شروع کیا۔وہ ستر ہ سال تک حکومت کو اوراسی کے ساتھ لوگوں کو فریب دیتی رہی۔اس مدت میں اس نے ناجائز طورپر تقریباً 25ہزار ڈالر کمایا۔عدالت نے خاتون پولیس کو مجرم قرار دیتے ہوئے اس کو ایک ہزار ایک سال کی قید بامشقت کی سزادی۔جج نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا کہ مجرم کو پیرول پر رہائی یا رحم کی درخواست کی رعایت نہ دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو(ٹائمس آف انڈیا،21مارچ 1981ء)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ظاہر ہے کہ خاتون پولیس عدالت کی سزا بھگتنے کے لیے مزید ایک ہزار سال تک زندہ نہیں رہے گی۔وہ یقینی طور پر اس سے بہت پہلے مرجائے گی۔پھر جج نے کیوں اس کو اتنی لمبی سزادی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کا جذبہ انصاف چاہتا ہے کہ جو شخص کوئی بڑاجرم کرے اس کواس جرم کے بقدر لمبی سزادی جائے۔مگر موجودہ دنیا میں کوئی جج عملاً ایسا کر نہیں پاتا۔وہ مجرم کو ’’ایک ہزار سال ‘‘کی سزا دینا چاہتا ہے مگر آدمی کی محدود عمر اس کو ایسا کرنے نہیںدیتی۔آدمی کے جرم کی عمر ’’ایک ہزار سال ‘‘ہے اس کے جینے کی عمر صرف ’’پچاس سال ‘‘آدمی کے عمل اوراس کی عمر دونوں میں یکسانیت نہیں۔یہ صورت حال ایک اوروسیع تر دنیا کا تقاضا کرتی ہے جہاں آدمی زیادہ لمبی عمر پائے تاکہ وہ پورے انصاف کے ساتھ اپنے عمل کا انجام پاسکے۔
عقیدۂ آخرت
جب بارش ہوتی ہے اس کا پانی دریائوں میں بہہ نکلتا ہے۔یہ پانی اگر حد کے اندر ہوتو اس سے انسان کو مختلف قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔اگر حد سے بڑھ جائے تو سیلاب آجاتا ہے اورنقصانات کا باعث ہوتا ہے۔اس سے بچنے کے لیے دریائوں پر بند بنائے جاتے ہیں۔
بند (Dam)کا مقصد یہ ہے کہ دریاکے اندر پانی کے بہائو پر روک قائم کی جائے اورجب بھی پانی حدسے بڑھتا ہوا نظر آئے تو اس کے رخ کو موڑ کر دوسری طرف کردیا جائے تاکہ وہ دریا میںبہنے کے بجا ئے علیحدہ بنے ہوئے عظیم گڑھے میں پہنچ جائے جس کو عام طور پر ذخیرۂ آب ( Reservoir)کہا جاتا ہے۔
ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کابھی ہے۔مختلف انسان جب مل جل کررہتے ہیں تو بار بار شکایت کی باتیں پیدا ہوتی ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں تلخیاں ابھرتی ہیں۔اگر اس شکایت اور تلخی کو بڑھنے دیا جائے تو اختلاف،باہمی عناد اورجنگ ومقابلہ کی نوبت آجاتی ہے۔انسانی معاشرہ یا انسانی جماعت کا درست طور پر کام کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
ان حالات میں انسان کے لیے بھی ایک ایسی چیز کی ضرورت ہے جس کی طرف اس کے بڑھے ہوئے منفی جذبات کو موڑاجاسکے۔خدا اورآخرت کا عقیدہ یہی کام کرتا ہے۔وہ اجتماعیت کو نقصان پہنچانے والے جذبات کو انسان سے ہٹا کر خدا کی طرف موڑ دیتا ہے۔
حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے آپ کو باپ سے جدا کر دیا۔اس کے بعد آپ کے دوسرے بھائی بنیامین کے ساتھ یہی حادثہ پیش آیا۔ان واقعات کے بعد قدرتی طور پر حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب کے اندر شدید جذبات پیدا ہوئے۔آپ اپنے ان جذبات کا نشانہ اگر حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں کو بناتے تو زبر دست انتشار اوراختلاف پیدا ہوتا۔مگر آپ نے سارے جذبات کو خدا کی طرف موڑ دیا۔آپ نے فرمایا:إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ(12:86)۔یعنی، میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ کسی انسانی معاشرہ کے لیے عقیدۂ آخرت کی بہت بڑی دلیل ہے۔آخرت کا عقیدہ ہر آدمی کے پاسڈائیورژن پول (Diversion pool)رکھ دیتا ہے جس کی طرف اپنے جذبات کے سیلاب کو پھیر سکے اس کو نقصان ہوتو خدا سے حسن تلافی کی امید قائم کرلے۔اس کو غصہ آئے تو خدا کی خاطر وہ اپنے غصہ کو پی جائے اس کو کسی سے شکایت ہوتو اس کے معاملہ کو خدا کے حوالے کردے۔
راکھ کی گواہی
دہلی کا ایک محلہ ہے جس کا نام نبی کریم ہے۔یہاں ایک نوجوان مزدور اشوک نام کارہتا تھا۔5ستمبر1980کو وہ اپنے گھر کے پاس مرا ہواپایا گیا۔ اچانک دل کی حرکت بند ہونے کی وجہ سے اس کا انتقال ہوگیا۔اس واقعہ کی کوئی رپورٹ پولیس میںدرج نہ ہوسکی۔اگلے دن اشوک کی لاش جمنا کے کنارے لے جائی گئی اوراس کو جلا کر دریا رمیں بہا دیاگیا۔
بظاہر معاملہ ختم ہوچکا تھا۔اور اگر اس میں کوئی مجرمانہ سازش ہوتو اس کا پتہ لگانے کاکوئی امکان اب باقی نہیں رہاتھا۔مگر جلائی ہوئی لاش کی راکھ نے وہ بات بتادی جو معروف ذرائع نہیں بتا سکے۔
اشوک کی ماں چمیلی دیوی کو بعض وجوہ سے یہ شبہ ہواکہ اشوک طبعی موت نہیں مرا ہے بلکہ اس کے ایک دوست سریش (26سال) نے اس کو شراب میں زہردے کر مارا ہے۔ ماں نے 7ستمبر کو پولیس میں رپورٹ درج کرائی۔پولیس کے لیے اب واحد صورت یہ باقی تھی کہ وہ مردہ کی راکھ حاصل کرکے اس کی چھان بین کرے۔رپورٹ کے بعد اسی دن ایک پولیس پارٹی لاش جلانے والے گھاٹ پرپہنچی۔یہ ستمبر کی سات تاریخ تھی۔مگر خوش قسمتی سے شمشان بھومی کے مذکورہ پلیٹ فارم پر ابھی تک کوئی دوسری لاش نہیں جلائی گئی تھی۔پولیس نے راکھ جمع کی اوراس جلی ہوئی راکھ کو سنٹرل فارنسک سائنس لیبارٹری (آرکے پورم)میں جانچ کے لیے بھیج دیا۔وہاں سے چھ ماہ بعد 13مارچ 1981کو رپورٹ نے تصدیق کردی کہ مرنے والا طبعی موت نہیں مرا بلکہ زہر کے سبب سے مرا ہے۔16مارچ کو سریش کو قتل کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا (ہند ستان ٹائمس، 17مارچ 1981)۔
اخباری رپورٹر نے اس واقعہ کی روداد درج کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں — مرے ہوئے آدمی کوئی بات نہیں بتاتے مگران کی جلی ہوئی راکھ بتاسکتی ہے:
other sourceWords of another person or source
Dead men tell no tales, but their ashes may.
انسان ظلم کرتا ہے اور’’ریکارڈ‘‘جلا کر سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے عمل کا ثبوت مٹا دیا۔وہ برائی کرتا ہے اوراپنی ہوشیاری اورطاقت سے اس پر پردہ ڈال کر یقین کر لیتا ہے کہ اس نے برائی کو ہمیشہ کے لیے چھپا دیا۔مگر وہ بھول جاتاہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہے بلکہ خداکی بنائی ہوئی دنیا میں ہے۔اورخدا نے اپنی دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر عمل وجود میں آتے ہی کائناتی صفحہ پر اس طرح ثبت ہوجاتاہے کہ اس کے بعد اس کو مٹانا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ہر آدمی عمل کرنے کے لیے آزاد ہے، مگر وہ اپنے عمل کا نشان مٹانے کے لیے آزاد نہیں۔آدمی اگرا پنی اس بے بسی کو جان لے تووہ ظلم اوربرائی کے قریب بھی نہ جائے۔
انسان کا المیہ
یہ جولائی کی ایک حسین صبح تھی۔سورج ابھی نکلا نہیں تھا مگر آسمان کی وسعتوں میں اس کی پھیلتی ہوئی روشنی بتا رہی تھی کہ وہ جلد ہی نکلنے والا ہے۔افق پر بادل کے ٹکڑوں کے پیچھے سے پھوٹنے والی سورج کی ابتدائی شعائیں عجیب رنگ برنگ منظر پیش کررہی تھیں۔ درختوں کی سرسبزی ،چڑیوں کے چہچہے اورصبح کی ہوا کے لطیف جھونکے ماحول کی رعنائی میں مزید اضافہ کررہے تھے۔میری زبان سے بے اختیار نکلا خدا کی دنیا انتہائی حد تک با معنی ہے ،مگر وہ اس وقت انتہائی حدتک بے معنی ہوجاتی ہے جب کہ اس کے ساتھ آخرت کو شامل نہ کیا جائے۔
دنیا بے حد لذیذ ہے مگر اس کی لذتیں چند لمحے سے زیادہ باقی نہیں رہتیں۔دنیا بے پناہ حد تک حسین ہے مگر اس کو دیکھنے والی آنکھ بہت جلد بے نور ہوجاتی ہے۔دنیا میں عزت اورخوشی حاصل کرنا انسان کو کتنا زیادہ مرغوب ہے مگر دنیا کی عزت اورخوشی آدمی ابھی پوری طرح حاصل نہیں کرپاتا کہ اس پر زوال کا قانون جاری ہوجاتا ہے۔دنیا میں وہ سب کچھ ہے جس کو انسان چاہتاہے مگر اس سب کچھ کو حاصل کرنا انسان کے لیے ممکن نہیں،حتیٰ کہ اس خوش قسمت انسان کے لیے بھی نہیں جو بظاہر سب کچھ حاصل کرچکا ہو۔
انسان ایک کامل وجود ہے۔مگر اس کا المیہ یہ ہے کہ اسی کے ساتھ وہ طرح طرح کی محدودیت کاشکار ہے اوربہت سے ناموافق حالات اس کوگھیرے ہوئے ہیں ،انسان کی زندگی کامل زندگی ہونے کے باوجود اس وقت تک بے معنی ہے جب تک اس کو ایسی دنیا نہ ملے جو ہر قسم کی محدودیت اورناموافق حالات سے پاک ہو۔
خدا نے یہ کامل اورابدی دنیا جنت کی صورت میںبنائی ہے۔مگر یہ دنیا کسی کو اپنے آپ نہیں مل سکتی۔اس آنے والی مکمل دنیا کی قیمت موجودہ نامکمل دنیا ہے۔جو شخص اپنی موجودہ دنیا کو آنے والی دنیا کے لیے قربان کرسکے وہی آنے والی جنتی دنیا کو پائے گا۔جو شخص اس قربانی کے لیے تیار نہ ہو وہ بھی اگرچہ موت کے بعد ابدی دنیا میں داخل ہوگا۔مگر اس کے لیے یہ ابدی دنیاحسرتوں اورمایوسیوں کی دنیا ہوگی نہ کہ خوشیوں اورلذتوں کی دنیا۔
موت کے آگے
فرانس کے لوئی یازدہم (1423-1483)نے ساٹھ سال تک بادشاہ کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ وہ مرنا نہیں چاہتا تھا۔چنانچہ آخر عمر میںوہ ایک بند قلعہ میں رہنے لگا جہاں بہت کم لوگوں کو داخلہ کی اجازت تھی۔قلعہ کے چاروں طرف گہری خندق کھوددی گئی تھی تاکہ کوئی اس کے قریب نہ پہنچ سکے۔قلعہ کی دیواروں پر ہر وقت چالیس تیر انداز بیٹھے رہتے تھے۔اس کے علاوہ چالیس گھڑسواردن رات اس کے چاروں طرف گشت کرتے رہتے تھے۔بادشاہ کا حکم تھا کہ جو بھی بلااجازت قلعہ کے اندر آنے کی کوشش کرے اس کو پکڑکراسی وقت قتل کردیا جائے۔قلعہ کے اندر بادشاہ کے لیے ہر قسم کا عیش وعشرت کا سامان کیا گیا تھا تاکہ بادشاہ کا دل کبھی غمگین نہ ہونے پائے۔
لوئی یازدہم کو زندہ رہنے کا اتنا شوق تھا کہ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ موت کا لفظ اس کے سامنے ہرگز نہ بولا جائے۔ایک ماہر ڈاکٹرہرآن بادشاہ کی خدمت میں حاضر رہتا تھا۔ اس ڈاکٹر کو دس ہزار سنہری کراون ماہواردیے جاتے تھے۔اس وقت یورپ کے کسی میدان جنگ میںچالیس سال کام کرکے بھی ایک فوجی افسر اتنی تنخواہ حاصل نہیں کرسکتا تھا۔
تاہم ان میںسے کوئی چیز بادشاہ کو بڑھاپے اورکمزوری سے نہ بچا سکی۔آخر عمر میں وہ اتنا کمزورہوچکا تھا کہ مشکل سے وہ کھانے کی کوئی چیز اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال سکتا تھا۔ اس کے باوجود اس کی جینے کی خواہش وہم کی حدتک پہنچ گئی تھی۔اس کو کسی نے بتایا کہ کچھوے پانچ سو سال تک جیتے ہیں اوروہ زندگی بخش خواص کے مالک ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس نے کچھ لوگوں کو تین بحری جہازدیکر جرمنی اوراٹلی روانہ کیاتا کہ وہاں سے اس کے لیے بحری کچھوے لے آئیں۔یہ کچھوے اس کے قریب ایک بڑے حوض میںرکھے گئے تاکہ اس کو زندگی کا فیضان عطا کر سکیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آخر کار لوئی پر فالج کاحملہ ہوااور30اگست 1483کو موت نے اس پر قابوپالیا۔اس کو معلوم ہوگیا کہ کوئی شخص موت کو نہیں جیت سکتا۔اس کی زبان سے جو آخری الفاظ مرنے سے پہلے نکلے وہ یہ تھے :
’’میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں ‘‘
تاہم اس کی تمام کوششیں بے کار ہوگئیں۔30اگست 1483کو وہ مرگیا۔آخر کار بادشاہ فرانس کو معلوم ہوگیا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا۔
عقل مند کون
انسان کواس کے پیدا کرنے والے نے بہترین بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا ہے۔مگر بڑھاپاآتا ہے اوراس کی بہترین بناوٹ کو کھا جاتا ہے۔انسان کو اعلیٰ ترین لذتوں کا احساس دیاگیاہے۔مگر ہزار کوشش کے بعدجب وہ ان لذتوں کو پالیتا ہے تواس کو معلوم ہوتاہے کہ اپنی پیدائشی محدودیتوں(Limitations)کی وجہ سے وہ ان لذتوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔انسان کو ایک ایسی زمین دی گئی ہے جو اپنی حسین فضائوں اور قیمتی سازوسامان کے ساتھ ساری کائنات میں ایک انتہائی نادراستثناء ہے مگر آدمی اس دنیا کو استعمال نہیںکرپاتا کہ موت آتی ہے اوراس کو اس کی پسند کی دنیا سے جدا کر دیتی ہے۔
ایسا کیوں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا ہماری اصل دنیا نہیں۔اصل دنیا وہ ہے جو موت کے بعد آنے والی ہے۔موجودہ دنیا اس آئندہ آنے والی دنیا کا ابتدائی تعارف ہے۔یہ لذتوں کے اصل خزانہ کا لمحاتی تجربہ ہے۔یہ ابدی بہشت کا صرف ایک وقتی مظاہر ہ ہے۔یہ اس لیے ہے کہ آدمی حال کے آئینہ میں مستقبل کے عظیم امکانات کو دیکھے۔وہ ناقص فلاح میںکامل فلاح کاراز پالے۔
عقلمند انسان وہ ہے جس کو دنیا کایہ وقتی تجربہ اس کو ابدی دنیا کی یاد دلائے۔وہ اپنے آپ کو زندگی کے آنے والے دور کے لیے تیار کرے۔وہ اپنی عمر کے موجودہ مرحلہ کو اس طرح استعمال کرے کہ وہ اس کے لیے عمر کے اگلے مرحلہ میں کامیابی کا زینہ بن جائے۔
اس کے برعکس نادان وہ ہے جو وقتی اورفانی لذتوں میں گم ہوجائے۔جو’’آج ‘‘میں مشغول ہو کر’’کل ‘‘کو بھول جائے۔ایسا آدمی اس نادان مسافر کی طرح ہے جو ریلوے اسٹیشن کی بنچ خالی پاکر اس پر سوجائے۔وہ اسی طرح بے خبر پڑارہے۔یہاں تک کہ اس کی ٹرین اپنے وقت پر آئے اوراس کو لیے بغیر آگے چلی جائے۔
موجودہ دنیا آخرت کے سفر کاراستہ ہے۔جس طرح ایک عام مسافر اس وقت اپنی منزل پر نہیں پہنچتا جب کہ وہ راستہ کی چیزوں میں کھو گیا ہو۔اسی طرح جو شخص دنیا کی دل فریبیوں میں گم ہوجائے وہ کبھی آخرت کے اعلیٰ مقامات تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔وہ دنیا میں بھٹک کر رہ جائے گااوربالآخر اس کے حصہ میں حسرت کے سوااورکچھ نہیں آئے گا۔
ناکام موت
مسٹر بی ڈی کھوبر اگاڑ(پیدائش 1925) 9 اپریل 1984کو دہلی کے پنت اسپتال میں مرگئے۔وہ ایک ہریجن لیڈرتھے۔انھوں نے اپنی قوم کے ساتھ اونچی ذات والوں کے امتیازی سلوک کودیکھا۔ان کے اندر اس کے خلاف آگ بھڑک اٹھی۔جب انہیںمعلوم ہواکہ اس امتیاز کی بنیا دخود اس ہندستانی مذہب میں ہے جس سے وہ اب تک اپنے کو منسوب سمجھے ہوئے تھے تو انھوں نے مذہب کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔ڈاکٹرا مبیڈ کر (1891-1956) اور لاکھوں دوسرے ہریجنوں کے ساتھ وہ بدھزم میں داخل ہوگئے۔مگر اس کے باوجود ہریجنوںکے ساتھ سماجی امتیاز ختم نہیں ہوا۔
اب کھوبر اگاڑاوران کے ساتھیوں نے دوسری تدبیر کی۔انھوں نے ری پبلکن پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی۔انھوں نے چاہاکہ جو مسئلہ تبدیلیٔ مذہب سے حل نہیں ہوا،اس کو تبدیلی حکومت کے ذریعہ حل کیا جائے۔مگر یہ اقدام بھی کامیاب نہیں ہوا۔خود ری پبلکن پارٹی میں اندرونی اختلاف پیداہوگئے۔وہ کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ مایوس کھوبر اگاڑ59سال کی عمر میں اس دنیا سے چلے گئے۔
مسٹر کھوبراگاڑاپنی زندگی کے مسئلہ کا حل تلاش کرتے رہے جو’’59سال‘‘میں ختم ہوجانے والی تھی۔ آج اگر کوئی شخص ان سے پوچھے تو یقیناً وہ کہیں گے — افسوس کہ میں وقتی زندگی کے مسائل میں الجھا رہا اوراپنی اس زندگی کے لیے کچھ نہیںکیا جس سے ابدی سابقہ پیش آنے والا تھا۔
لوگ آج کے مسائل میں اتنا مشغول ہیںکہ انہیںکل کے مسائل پر سوچنے کی فرصت نہیں۔وہ حال کے اندر اتنا گم ہیں کہ ان کو یہ پروانہیں کہ وہ مستقبل کے بارےمیں سوچیں۔لوگ اسی طرح غفلت میں پڑے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کی موت آجاتی ہے۔ انسانوں میں الجھا ہواآدمی اچانک اپنے آپ کو خداکے سامنے کھڑاہواپاتاہے۔دنیا کے مسائل کو سب کچھ سمجھنے والا آدمی وہاں پہنچادیاجاتاہے جہاں صرف آخرت کے مسائل کسی آدمی کے لیے سب کچھ ہوں گے۔ظواہرکو اہمیت دینے والا آدمی اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتاہے جہاں حقیقت کے سوا کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔
انسان کو دیکھیے تو وہ کتنا حیرت انگیز وجود معلوم ہوتاہے۔انسان کی صلاحیتیں اتنی عجیب ہیں کہ ساری کائنات میں اس سے زیادہ عجیب کوئی چیز نہیں۔مگر کیسا درد ناک انجام انسان کے حصہ میں آیاہے۔کیسی قیمتی زندگی کیسے بے قیمت انجام پر ختم ہوجاتی ہے۔مگر کوئی نہیں جو اس کو سوچے ،کوئی نہیں جو زندگی کو بامعنی بنانے کے لیے فکر مند ہو۔
کوئی بچانہ سکے گا
مغربی ملکوں کے لوگ عام طور پر گائے کا گوشت کھانا بہت پسند کرتے ہیں۔آج کل کے زمانہ میں مغرب کے لوگ کثرت سے ہندستان آتے ہیں۔یہ لوگ جب یہاں کسی ’’فائیواسٹار ہوٹل ‘‘میں ٹھہرتے ہیں تووہ توقع رکھتے ہیںکہ ہوٹل کی طرف سے ان کو ان کی تمام مطلوب چیزیں فراہم کی جائیں گئی جن میں اپنی پسند کی غذابھی لازمی طورپر شامل ہے۔چنانچہ ہوٹل والے اپنے بیرونی گاہکوںکے سامنے جو مینو کارڈ پیش کرتے ہیں ان کی غذائی فہرست میں گائے کا گوشت (Beef steak)کا لفظ شامل رہتاہے۔
چوںکہ ہندستان میں گائے کا گوشت ممنو ع ہے،اس کی خبر اخبار میںچھپی تو اس پر سخت تنقید ہوئی۔ ایک ایم پی نے پارلیمنٹ میں اس پر سوال کردیا۔حکومت ہند نے اس سلسلے میںہوٹل والوں سے بازپرس کی۔ہوٹل والوں کا جواب یہ تھا کہ ہم اپنے گاہکوں کو ’’بیف‘‘دیتے ہیں اوربیف انگریزی ڈکشنری کے مطابق گائے اوربھینس دونوں کے گوشت کے لیے استعمال ہوتاہے۔
اخباری رپورٹ (ٹائمس آف انڈیا، 5مئی 1984)کے مطابق حکومت ہند کے وزیر سیاحت نے 4مئی 1984کو پارلیمنٹ میں بیان دیا۔انھوں نے آکسفورڈڈکشنری میں اس لفظ کے معنی پڑھ کرسنائے جس میں بھینس کا گوشت بھی شامل تھا نہ کہ صرف گائے یابیل کاگوشت:
other sourceWords of another person or source
The minister read out Oxford dictionary meaning of ''beef'' which included the flesh of buffalo as well, and not, merely that of cow or ox.
other sourceWords of another person or source
اس خبر پر اخبار نے یہ سرخی لگائی ہے ’’ڈکشنری نے فائیو اسٹار ہوٹل کو بچالیا‘‘ موجودہ دنیا میں اس قسم کے واقعات دیکھ کرآدمی غلط فہمی میں پڑجاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ موت کے بعد کی دنیا بھی ویسی ہی ایک دنیا ہوگی جیسی موت سے پہلے کی دنیا۔جس طرح’’ڈکشنری ‘‘موجودہ دنیا میں ہم کو بچالیتی ہے ،اسی طرح وہاں بھی ہم کوئی نہ کوئی ڈکشنری پالیں گے جو ہم کو وہاں کی آفتوں سے بچالے۔مگراس سے بڑی بھول اورکوئی نہیں۔ موجودہ دنیا میں آدمی کا معاملہ اپنے جیسے انسان سے ہے اس لیے وہ لفظی کرتب دکھا کر اس سے بچ جاتاہے۔مگر آخرت میں اس کا معاملہ مالک کائنات سے ہوگا۔اور مالک کائنات کے سامنے کسی قسم کا کوئی کرتب کام آنے والا نہیں۔
آخرت کی دنیا میں حقیقی تدبیر آدمی کو بچائے گی نہ کہ کوئی لفظی تدبیر۔
رات کے بعد دن
كَلَّا وَالْقَمَرِ ۔ وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ ۔ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ ۔ إِنَّهَا لَإِحْدَى الْكُبَرِ ۔ نَذِيرًا لِلْبَشَرِ ۔ لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّر۔كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ (74:32-38)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
’’قسم ہے چاند کی اوررات کی جب وہ جانے لگے اورصبح کی قسم جب وہ روشن ہوجائے۔وہ دوزخ بڑی بھاری چیز ہے جو انسان کے لیے بڑاڈر اواہے ،تم میں سے ہر اس آدمی کے لیے جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے ہر آدمی اپنے کیے میں پھنسا ہواہے ‘‘۔
Qur'anQuotes the Qur'an
زمین پر ہر روز ایسا ہوتا ہے کہ یہاں رات آتی ہے اورزمین گہری تاریکی میں ڈوب جاتی ہے۔اس کے بعد دن نکلتا ہے اورہر چیز دوبارہ سورج کی روشنی میں دکھائی دینے لگتی ہے۔یہ واقعہ آخرت کے معاملہ کی تمثیل ہے۔موجودہ دنیا میں آدمی کی اصل حقیقت چھپی ہوئی ہے ،آخرت میں ہرآدمی کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔آج ہماری زندگی ’’رات‘‘کے دورسے گزررہی ہے ،موت کے بعد ہم ’’دن ‘‘کے دور میں پہنچ جائیں گے۔
آج آدمی ایک قسم کے پردہ میں ہے۔وہ دلیل پر قائم نہ ہونے کے باوجود خوش نما الفاظ بول کر لوگوں کو اپنے بارے میں غلط فہمی میں ڈالے ہوئے ہے۔کسی کی دنیوی شہرت ومقبولیت اس کی مجرمانہ حیثیت کے لیے پردہ بن گئی ہے۔کسی کے دولت واقتدار نے اس کو موقع دیا ہے کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے مفلس ہونے کے باوجود مادی رونقوں میں اپنے معنوی افلاس کو ڈھانک سکے۔کوئی اند ر سے بے دین ہے مگر کچھ رسمی اعمال کا اہتمام کرکے ظاہر کررہا ہے کہ وہ خدا پرست اوردیندار ہے۔لو گ ظلم اوربے انصافی میں جی رہے ہیں مگر اپنی نمائشی تدبیروں سے وہ عوام کو اس دھوکے میں ڈالے ہوئے ہیں کہ وہ عین حق وانصاف پر قائم ہیں۔
مگر جب آخرت کا سورج طلوع ہوگا تو وہ تاریکی کے ان تمام پردوں کو پھاڑدے گا۔اس وقت ہر آدمی اپنی اصلی صورت میں دکھائی دینے لگے لگا۔اس وقت صاف نظر آئے گاکہ کون شخص اندر سے جانور تھااوربظاہر انسانی صورت میں چل رہاتھا۔کون شخص ناحق پر تھا اگرچہ وہ خوبصورت الفاظ بول کر اپنے کو حق پرست ثابت کیے ہوئے تھا۔کون شخص اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش میں مبتلا تھا اگرچہ زبان سے وہ اللہ کانام لیتے ہوئے نہیں تھکتاتھا۔
اس کے مقابلہ میں کچھ اور لوگ ہوں گے جن کی حقیقت آخرت کے دن لوگوں کے سامنے آئے گی۔وہ دیکھیں گے کہ ایک شخص جس کو انھوں نے اس کے معمولی حالات کی بنا پر غیر اہم سمجھ لیاتھا وہ اپنے اندر اہمیت کا پہاڑ لیے ہوئے تھا۔ایک شخص جس کو دنیا کی پررونق مجلسوں میں کہیں عزت کی جگہ نہیں ملتی تھی وہ فرشتوں کی زیادہ باعزت مجالس میں اپنے صبح وشام کے اوقات گزاررہاتھا۔ایک شخص جس کو وقت کے بڑوں نے اپنے نزدیک رد کر دیا تھاوہی وہ شخص تھا جس کو خدا کی طرف سے مقبولیت کی سند ملی ہوئی تھی۔ایک شخص جس کو دنیا کے لوگ بے دین قرار دے کر حقارت کے خانہ میں ڈالے ہوئے تھے اس کانام خدا کے یہاں دین داروں کی فہرست میں سب سے اوپر لکھا ہواتھا۔
سب سے بڑا فریب
ایک نوجوان نے سی اے کاکورس کیا۔اس کے بعدامریکاسے ایم بی اے کی ڈگری لی۔ دونوں امتحانوں میں وہ فرسٹ آئے۔اس کے بعد ان کے لیے ترقیات کے دروازے کھل گئے۔وہ عرب امارات گئے۔وہاں ان کو پانچ ہزار درہم ماہوار کی ملازمت مل گئی۔جلد ہی بعد انہیںایک سعودی وفد نے انٹرویو کے لیے بلایا۔ انٹرویو کامیاب رہا۔فوراً ہی ان کو عرب میں ایک جگہ مل گئی جہاں ان کی تنخواہ 15ہزار ریال ماہوار تھی۔وہ اسی طرح ترقی کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی آمدنی ہندستانی سکہ میں ایک لاکھ روپیہ ماہوار تک پہنچ گئی۔
ترقی کے یہ مواقع جو موجودہ زمانہ میں کھلے ہیں وہ وقت کا سب سے بڑا فتنہ ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹی بنیادوں پر اپنے کو ’’فرسٹ کلاس ‘‘سمجھتا ہے۔حالاں کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ ’’تھرڈ کلاس ‘‘ہوتا ہے۔وہ جھوٹی بنیادوں پر اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے ، حالاں کہ وہ کامیابی کی منزل سے بہت دور ہوتاہے۔
موجودہ زمانہ کے ان امکانات نے بہت سے لوگوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسے ماحول میں پائیں جہاں ان کے رہنے کے لیے سجے ہوئے مکانات ہوں۔ سفر کے لیے شاندار گاڑیاں ہوں۔بینک بیلنس ہو۔ان کی جیب میں کریڈٹ کارڈ ہوجس کے ذریعے وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں اپنے لیے حسب منشاء رقم حاصل کرسکیں۔
یہ چیزیں جدید انسان کے لیے زبر دست فتنہ بن گئی ہیں۔ہر آدمی اپنے آپ کو مادیت کے وقتی بازار میں فروخت کررہا ہے۔ہر آدمی کامیابی کے جھوٹے فریب میں مبتلا ہے۔ہر آدمی فرضی خوش خیالیوںکا ایک محل اپنے گرد بنائے ہوئے ہے۔
مگر حقیقت کے اعتبار سے ان چیزوں کی کوئی قیمت نہیں۔امریکی وفا داری کا تمغہ روس میں بے قیمت ہوتا ہے۔اسی طرح موجودہ دنیا کی مہارتیں آخرت میں بالکل بے وزن قرار پائیں گی۔آہ وہ انسان جو جھوٹے فریب میں جی رہا ہے۔اس کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ وہ حقیقت کے پہاڑ پر اپنا محفوظ قلعہ بنائے ہوئے ہے۔
آخرت کے بغیر
ارنسٹ ہیمنگوے(1899-1961)ایک امریکی فوجی تھا۔وہ 1961میں انتقال کر گیا۔وہ 1918میں اٹلی کی جنگ میں شریک تھا۔اس نے اپنی فوجی زندگی کے درمیان جو خطوط لکھے تھے وہ کتابی صورت میں شائع کردیے گئے ہیں۔
اٹلی کی جنگ میں جب وہ زخمی ہوگیا تو اس نے اسپتال سے اپنے گھر والوں کے نام کچھ خطوط لکھے ان میں سے ایک خط میں حسب ذیل الفاظ درج تھے:
There are no heroes in this war. All the heroes are dead. And the real heroes are the parents. They suffer a thousand times more. And how much better to die in all the happy period of disillusioned youth, to go out in a blaze of light, than to have your body worn out and illusions shattered.
اس جنگ میںکوئی ہیرو نہیں۔تما م ہیرو مرچکے ہیں اوراصل ہیرو ان کے والدین ہیں، ایک ہزار گنا زیادہ مصیبت اٹھاتے ہیں۔اوریہ کتنا اچھا ہے کہ جوانی کے پر کیف زمانہ میں آدمی کی موت آجائے۔ روشن شعلہ میں داخل ہونا اس سے بہتر ہے کہ تمہاراجسم بوڑھا اورفرسودہ ہوجائے اورسارے فریب منتشر ہوچکے ہوں(لائف، جون 1981)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ان الفاظ کے پیچھے زندگی کا کتنا مایوس تصور چھپا ہوا ہے۔ایک شخص دیکھتا ہے کہ جو آدمی اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے اس کا آخری انجام یہ ہے کہ سو سال یااس سے کم مدت میں وہ بوڑھا اورناکارہ ہوکر مرجائے۔وہ سوچتا ہے کہ اگر زندگی بالآخر اسی کانام ہے تو اس سے بہتر ہے کہ جوانی کے امید بھرے دور میں آدمی ہیرو انہ اقدام کرکے اپنا خاتمہ کرلے۔
زندگی کو آخرت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بوڑھا ہوکر مرنا بھی بامعنی ہوجاتاہے اورروشن شعلہ میں داخل ہونا بھی۔مگر جب ایک شخص زندگی کو آخرت سے الگ کرکے دیکھتا ہے تو اس کو اپنے چاروں طرف مایوسی کے سوااورکچھ نظر نہیںآتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت کے تصور کو شامل نہ کیا جائے تو موجودہ زندگی اپنی تمام معنویت کھو دیتی ہے۔اس کے بعد اتنی ناقابل فہم ہوجاتی ہے کہ اس دنیا میں زندہ رہنا بھی آدمی کو بے معنی نظر آنے لگے۔
جاننے کے بعد
پروفیسر مجیب (1902-1985)ہند ستان کے چوٹی کے دانشوروں میں سے تھے۔ان کی تعلیم خالص مغربی طرز کے اداروں میں ہوئی۔انہیںشیکسپیئر کے ڈراموں کے بڑے بڑے حصے زبانی یاد تھے۔ہندستان میں تعلیم کے بعد بیرونی ملکوں میں مزید تعلیم کے لیے گئے۔وہ ایک خوش فکر آدمی تھے۔وہ اپنے کسی ساتھی کو رنجیدہ دیکھتے تو کہتے کہ بھئی مسکرائیے اوردور تک دیکھیے۔وہ اردو انگریزی ،فرانسیی ،جرمن اور روسی زبانیں یکساں طور پر جانتے تھے۔
دسمبر 1972میں پروفیسر مجیب بیمار ہوئے۔ڈاکٹر وں کی تشخیص کے مطابق ان کے دماغ کا آپریشن ہوا۔آپریشن کامیاب ہوامگر اس کے بعد ان کا حافظہ جاتارہا۔پروفیسر مجیب پانچ زبانوں کے ماہر تھے مگر آپریشن کے بعد وہ تمام زبانیں بھو ل گئے۔حتی کہ اردوسمیت تمام زبانوںکے حروف تہجی تک انہیںیاد نہ رہے (جامعہ، دسمبر 1984)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دس سال سے زیادہ عرصہ تک وہ اسی حال میں اپنے اوکھلا (دہلی ) کے مکان میں پڑے رہے۔یہاں تک کہ 20جنوری 1985کو ان کا انتقال ہوگیاجب کہ ان کی عمر82سال ہوچکی تھی۔وہ 1948سے 1973 تک جامعہ اسلامیہ کے وائس چانسلر رہے۔
قرآن میں انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ — اللہ نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہ تم کو موت دیتا ہے۔اور تم میں سے بعض وہ ہیں جونا کارہ عمرتک پہنچ جاتے ہیںکہ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانیں۔بے شک اللہ علیم وقدیر ہے (16:70)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
جوانی کے بعد بڑھاپا آنے کا واقعہ آدمی کے لیے ایک یاد دہانی ہے۔وہ اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی اپنی اصل حقیقت کو جانے۔وہ جانے کہ اس کا علم ذاتی نہیں ہے۔بلکہ وہ دوسرے کا دیا ہواہے۔وہ جب چاہے دے اورجب چاہے چھین لے۔آدمی کی قوت اگر اس کی ذاتی ہوتو وہ کبھی اس سے نہ چھنے۔ مگر قوت کا ملنا اورپھراس کا چھن جانا اس بات کی علامت ہے کہ انسان دئے سے پاتا ہے۔دینے والا اگرنہ دے تو وہ خود سے نہیں پاسکتا۔
یہ واقعہ ہر روز پیش آتاہے مگر نہ ’’بوڑھے ‘‘اس سے نصیحت لیتے ہیں جن پر یہ واقعہ گزرتاہے اورنہ ’’جوان ‘‘اس سے سبق حاصل کرتے ہیںجو اس کو اپنے سامنے ہوتا دیکھتے ہیں۔
آزمائش کاقانون
کوئی آدمی حقیقی معنوں میں مومن اورمسلم ہے یانہیں ،اس کا فیصلہ فتنہ (آزمائش ) کے ذریعہ ہوتاہے۔اللہ کو اگرچہ ہر ایک کے دل کا حال معلوم ہے مگر اللہ کی سنت یہ ہے کہ آزمائش کے حالات پیدا کرکے ہر آدمی کے اندر کو باہر لایا جائے تاکہ اللہ آخرت میں اس کے بارے میںجو فیصلہ کرے اس سے انکارکی مجال کسی کو نہ ہو۔
آزمائش کا مطلب ایسی صورت حال آدمی کے سامنے لانا ہے جہاں حسن عمل کے تمام اضافی اسباب حذف ہوگئے ہوں ،صرف ایک ہی سبب (اللہ کا ڈر)باقی رہ گیا ہو۔ اسی لیے معمول کے حالات یاروز مرہ کے عمل میں آدمی کی آزمائش نہیں ہوسکتی۔آزمائش کے لیے ضروری ہے کہ غیر معمولی حالات سامنے لائے جائیں۔
اگریہ دیکھنا ہوکہ آپ خوش اخلاق ہیں یا نہیں ،تو اس کا تجربہ ایک ایسے آدمی کے ذریعہ نہیں کیاجاسکتاجو آپ سے نیاز مندی کی باتیں کرتاہو۔کیوں کہ نیازمندی دکھانے والے کے ساتھ تو ہر آدمی خوش اخلاقی ہی کے ساتھ پیش آتا ہے۔اسی طرح اس کا تجربہ ایک طاقتور آدمی کے ذریعہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ طاقتور شخصیت کے سامنے ہر آدمی خوش اخلاق بن جاتاہے۔کسی کی خوش اخلاقی کو جانچنے کا ذریعہ ایک ایسا شخص ہی بن سکتا ہے جو کمزور اور معمولی آدمی ہو اور اسی کے ساتھ وہ ایسے انداز میں کلام کرے جو ناگواری پیدا کرنے والا ہو۔
اسی طرح کسی کی انسانیت دوستی کی جانچ اس طرح نہیں ہوسکتی کہ ایک شان دار اجلاس کیا جائے اوراس کے بعد اس آدمی سے کہا جائے کہ سجے ہوئے اسیٹج پر کھڑے ہوکر تم انسانیت کے موضوع پر ایک تقریر کرو۔کسی کی انسانیت دوستی کی جانچ اس وقت ہوتی ہے جب ایک بے قیمت آدمی اس کے دروازے پر پہنچتا ہے اوراس سے کہتا ہے کہ میں فلاں مصیبت میں پھنس گیا ہوں تم انسانیت کے ناتے میری مدد کرو۔کوئی شخص فیاض ہے یا نہیں اس کا اندازہ اس وقت نہیں ہوتاجب ایک شان دار موقع سامنے آئے اوراس میں پیسہ دے کر لوگ آناً فاناً شہرت وعزت کی منزلیں طے کر رہے ہوں۔آدمی کی فیاضی کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کو ایک ایسی خاموش مد میں پیسہ دینا ہوجس میں اخباری شہرت کا کوئی موقع نہیں۔کسی شخص کے انصاف کا حال اس وقت معلوم نہیں ہوتا جب کہ متعلقہ فریق سے تعلقات خوش گوار ہوں بلکہ آدمی کی انصاف پسند ی یا بے انصافی اس وقت کھلتی ہے جب کہ دونوں فریقوں کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی اورانصاف کرنا بظاہر اپنے حریف کو فائدہ پہنچانے کے ہم معنی بن گیا ہو۔آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یانہیں اس کا حقیقی اندازہ ان اعمال میں نہیں ہوتا جو آدمی انسانو ں سے دور تسبیح ونوافل کی صورت میں کرتا ہے۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کا سابقہ انسانوں سے پڑے اورایک شخص کے معاملہ میں اللہ سے ڈرنا اس قیمت پر ہوکر آدمی اپنی انا کو کچلے اوراپنی مصلحتوں کو برباد کرے — آدمی معمول کے حالات میں خدا پرستی والے عمل کرتاہے۔مگر خدا جب غیر معمولی مواقع پیدا کرکے اس کی خدا پرستی کو جانچنا چاہتاہے تو عین اس وقت وہ خدا پرستی کا ثبوت دینے میں ناکام ہوجاتاہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
موت جب آتی ہے
جے۔اے دیو1923ء میں شملہ میں پیدا ہوئے۔انھوں نے نہایت محنت سے تعلیم حاصل کی۔بالآخر انھوں نے آئی۔اے۔ایس کا امتحان پاس کیاوہ مزید تعلیم کے لیے برطانیہ بھی گئے۔اس کے بعد ان کو حکومت میں اچھی ملازمت مل گئی۔جولائی 1979میں وہ اپنی اعلیٰ ترین ترقی کے منصب پر پہنچ گئے جب کہ ان کو ڈیفنس سکریٹری کے عہدہ پر مقر ر کیاگیا۔مگر اس ترقی پر ان کوایک سال بھی نہیں گزراتھا کہ 10اپریل 1980کو 57سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔11اپریل کو مسٹردیو کا جسم نگم بودھ گھاٹ پر اس وقت جلادیاگیا جب کہ ہند ستانی فوج کے تینوں سپہ سالا ران کے اظہار عقیدت کے لیے گھاٹ پر موجود تھے۔بری اوربحری اورہوائی فوجوں کے اعلیٰ ترین افسران جو ساٹھ کروڑ انسانوں کے اس ملک پر کسی بھی حملہ کو پسپا کرنے کی پوری طاقت رکھتے تھے وہ اپنے حاکم اعلیٰ کو موت کے حملہ کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے بے بس ہوگئے۔
1980میںمرکزی پارلیمنٹ اورریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں اندر اگاندھی اوران کے بیٹے سنجے گاندھی کی پارٹی کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔اس کے بعد عام طورپر سمجھاجانے لگاکہ اب سنجے گاندھی ہندستان کے وزیر اعظم ہوں گے۔مگر وزارت عظمیٰ کی عین چوکھٹ پر پہنچ کر اچانک 33سال کی عمر میں ان کاخاتمہ ہوگیا۔23جون 1980کی صبح کو سنجے گاندھی ایک نئے امریکی ہوائی جہاز میں تفریحی سواری (Joy Ride)کے لیے نکلے۔ان کا دوسٹیوں کا جہاز صفدر جنگ کے ہوائی اڈے سے اڑ کر ابھی فضا میں پہنچا ہی تھا کہ اچانک اس کے انجن نے کام کرنا بند کردیااوردھماکہ کے ساتھ زمین پرگرپڑا۔جہاز کے ملبہ سے اس کے دونوں مسافر(سنجے گاندھی اورکیپٹن سکسینہ)مردہ اورکچلی ہوئی حالت میں باہر نکالے گئے۔سنجے گاندھی کو اپنے اوپر اتنا اعتماد تھاکہ حادثہ سے صرف ایک دن پہلے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر مسٹر جگ موہن کے ساتھ کارپرسفر کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا’’پریشانی کی کوئی بات نہیں۔کارہویاہوائی جہاز ،وھیل پراگر میں ہوں تو کچھ نہیں ہوگا‘‘۔ ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ اگلے دن آنے والی صبح صرف اس لیے آرہی ہے کہ ان کے اس اعتماد کی ہمیشہ کے لیے تردید کردے۔
ٹائمس آف انڈیا (24جون 1980)نے ان شاندار امکانات کا ذکر کیا ہے جن کے بالکل کنارے سنجے گاندھی پہنچ چکے تھے۔ اس کے بعد وہ لکھتاہے :
other sourceWords of another person or source
What an irony that he should die so soon afterwards.
عین اس وقت جب کہ آدمی اپنی ترقی کے عروج پرپہنچ چکا ہوتاہے ،موت اس کے اور اس کی کامیابیوں کے درمیان حائل ہوجاتی ہے۔گویا کہ وہ اس کامیابی کی نفی کررہی ہو جس کو آدمی اپنے لیے کامیابی سمجھ کر اس کی طرف بڑھ رہاتھا۔
یہ بے قیمت انسان
آدمی زندگی چاہتا ہے مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتاہے کہ دنیا میں صرف موت ہے جو اس کا استقبال کرنے لیے کھڑی ہوئی ہے۔24جون کی شام کو ایک طرف شانتی ون میں سنجے گاندھی کا مردہ جسم جلایا جارہاتھا ،دوسری طرف وہاں کھڑے ہوئے ان کے ہزاروں معتقدین یہ نعرہ لگارہے تھے:
جب تک سورج چاند رہے، سنجے تیرا نام رہے
انسان ’’سورج چاند کے رہنے تک ‘‘زندہ رہنا چاہتا ہے مگر موت اس قدر بے رحمی کے ساتھ اس کو اس دنیا سے اٹھالیتی ہے جیسے اس کے نزدیک نہ انسان کی کوئی اہمیت ہے اورنہ اس کی خواہشوں کی۔
انسان اپنی عظمت کا قلعہ تعمیر کرتاہے مگر موت کا طوفان اس کو تنکوں کی طرح اڑاکر یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میںکوئی قدرت حاصل نہیں۔انسان کہتا ہے کہ میں اپنا مالک ہوں مگر تقدیر اس کو کچل کربتاتی ہے کہ تیرا مالک کوئی اور ہے۔انسان موجودہ دنیا میں اپنی آرزئووں کا با غ اگانا چاہتا ہے مگر موت اس کے منصوبہ کو مٹاکر یہ سبق دیتی ہے کہ اپنے لیے دوسری دنیا تلاش کروکیونکہ موجودہ دنیا میں تمہاری آرزئووں کی تکمیل نہیں۔
زندگی کا سب سے بڑا سبق وہ ہے جو موت کے ذریعہ ملتا ہے۔موت ہماری زندگی کی سب سے بڑی معلم ہے۔موت ہر آدمی کو ایسے سوال کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے جس کے جواب میں زندگی کا تمام راز چھپا ہواہے۔موت ہم کو بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا وہ مقام نہیں جہاں ہم اپنی تمنائوں کو حاصل کرنے کی امید کرسکیں۔موت دراصل زندگی کا پیغام ہے۔موت ہم کو جینا سکھاتی ہے۔موت ہم کو بتاتی ہے کہ اپنی حقیقی زندگی کی تعمیر کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
موت انسانی زندگی کا سب زیادہ عبرت ناک واقعہ ہے۔وہ آدمی کو آسمان میں اٹھا کر زمین پر گرادیتی ہے۔وہ آدمی کو زمین پر ختم کرکے اس کی راکھ کوہوا میں اڑادیتی ہے۔ موت کے سامنے ہر آدمی بالکل بے بس ہے،موت کے سامنے کسی بھی شخص کی کوئی قیمت نہیں۔یہ واقعہ ہماری زمین پر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں پیش آتا ہے۔مگر انسان غفلت کی ایسی شراب پئے ہوئے ہے کہ اس کے باوجود اس کی مد ہوشی ختم نہیں ہوتی۔آدمی دوسرے کو مٹانے کا منصوبہ بناتا ہے حالاںکہ موت خود اس کو مٹانے کے لیے اس کے پیچھے کھڑی ہوئی ہے۔آدمی دوسرے کو برباد کرنے کی سازش کرتا ہے حالاں کہ اپنی سازش کی تکمیل سے پہلے وہ خود موت کا شکار ہوجاتا ہے۔آدمی دوسرے کا اعتراف نہیں کرتا ،وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنی بڑائی کا تحفظ کررہا ہے۔حالاں کہ اگلے ہی لمحہ موت آکر اس کی بڑائی کو خاک میں ملا دیتی ہے۔انسان ’’خدا ‘‘بننا چاہتا ہے مگر موت اس کو بتاتی ہے کہ وہ صرف ایک بے قیمت ’’آدمی‘‘ہے ‘اس کے سوا اورکچھ نہیں۔
خدائی منصوبہ
خدا کا منصوبہ
خدا نے اپنی پسند کی ایک دنیا بنائی اوراس کا نام جنت رکھا۔یہ جنت ابدی خوشیوں اورراحتوں کی دنیا ہے۔وہاں نہ دکھ ہے اور نہ شورو غل۔نہ رنج ہے اورنہ حادثہ۔وہ ہرقسم کی کلفتوں سے آزاد دنیاہے ہر قسم کی نعمتیں وہاں بے حساب مقدار میں اکٹھا کی گئی ہیں۔وہاں آدمی نہ مرے گااورنہ کبھی اکتائے گااورنہ کبھی کسی طرح کے غم سے دوچار ہوگا۔
یہی وہ دنیا ہے جس کی طلب ہر شخص کی فطرت میں موجود ہے۔ہر آدمی ایک نادیدہ جنت کی تلاش میں ہے۔مگر یہ لا محدود جنت کوئی شخص موجودہ محدوددنیا میں نہیں پاسکتا ہے۔ خدا نے اس جنت کو موت کے بعد آنے والی دنیا میں رکھ دیا ہے۔
تاہم یہ جنت اپنے آپ کسی کو نہیں مل جائے گئی۔یہ صرف اس خوش نصیب آدمی کا حصہ ہے جو موجودہ زندگی میںجنت والے عمل کرے۔خدا نے ہماری زندگی کو دوحصوں میں بانٹ دیا ہے۔ہماری زندگی کا مختصر حصہ موجودہ دنیا میں ہے اوراس کا بقیہ تمام حصہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں — موجودہ دنیا کو خدا نے عمل کی جگہ بنایا ہے اوربعد کی دنیا کو عمل کا بدلہ پانے کی جگہ۔
امتحان کی مصلحت کی بنا پر موجودہ دنیا میں آدمی کو اختیار دے دیا گیا ہے۔وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔مگر یہ آزادی برائے آزمائش ہے نہ کہ برائے انعام۔جو آدمی وقتی آزادی کی بنا پر غلط فہمی میں نہ پڑے اوراپنے آپ کو حقیقتِ حال کے مطابق بنائے وہ جنت میں بسایا جائے گا۔اورجو شخص آزادی پاکر سرکشی کرے اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
اس کائنات میں سارا اختیار حقیقۃً صرف ایک خدا کوحاصل ہے۔وہی ہر چیز کا مالک ہے۔ہر آدمی ہر لمحہ اس کی مٹھی میں ہے۔جو آدمی اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ارادہ سے اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دے وہ جنت کا مستحق بنا۔اورجو شخص حقیقت واقعہ سے انحراف کرکے خود ساختہ طریقوں پر چلے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔آخرت کی نعمتوں میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔
مستقبل کا یقین
ڈارٹنگٹن ہال(Darington Hall) انگلینڈ کا ایک ممتاز اسکول ہے۔وہاں ایک طالب علم کو (1983 میں) سالانہ پانچ ہزار پونڈ تعلیمی فیس دینی پڑتی ہے۔اس کے پرنسپل ڈاکٹر بلیکشا (Dr. Lyn Blackshaw) نے 11جولائی 1983کو اسکول اسٹاف کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ موجود ہ حالات میں طلبہ کو اپنی ڈگری بے قیمت معلوم ہونے لگی ہے۔ان کو یقین نہیں ہے کہ وہ تعلیم کے حصول کے بعد اپنی پسند کے مطابق کوئی روز گار حاصل کرلیں گے۔اس بے یقینی کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے اندر جھنجھلاہٹ کی نفسیات پیدا ہورہی ہے۔ اور وہ کثرت سے جرائم کرنے لگے ہیں۔انھوں نے کہا:
The worst thing we can do for our children is to destroy their faith in the future.
سب سے بری چیز جو ہم اپنے بچوں کے لیے کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ مستقبل کے بارے میں ان کے یقین کو برباد کردیں (سنڈے ٹائمس ،لندن4ستمبر 1983)۔
other sourceWords of another person or source
پرنسپل کے اس جملہ پرہم یہ اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ تعلیم کے بعد روز گار حاصل کرنے کا مسئلہ انسان کے ’’مستقبل‘‘ کا صرف ایک چھوٹا ساجزءہے۔مستقبل کا مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔وہ زندگی کے موجودہ مرحلہ سے لے کر موت کے بعد کی ابدی زندگی تک چلا گیاہے۔
انسان کو کامل اطمینان اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ اس کو اس کے پورے مستقبل کے بارے میں پر امید نقطہ نظر مل جائے۔جدید انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے جتنے غالب افکار ہیں سب نے موت کے بعد ابدی مستقبل کے بارے میں انسان کے یقین کو برباد کردیا ہے یہی جدید انسان کے عدم اطمینان کی سب سے بڑی نفسیاتی وجہ ہے۔
انسان کو جب تک ایک ایسا کامل نقطۂ نظر نہ دیا جائے جو اس کے حال اورمستقبل کو ابدی طور پر پُرامید بناتا ہو وہ کبھی حقیقی معنوں میں مطمئن نہیں کرسکتا۔نوجوان کو اپنے دنیوی مستقبل کا مسئلہ پریشان کرتاہے مگر جب وہ اپنا دینوی مستقبل تعمیر کرچکا ہوتا ہے تو اس کے بعد مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔اب دوسرے سوالات اس کو پریشان کرنے لگتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پریشانیوں سے آدمی اسی وقت نجات پاسکتا ہے جب کہ وہ ابدی عمر تک کے لیے اپنے سوالات کا جواب پالے نہ کہ صرف وقتی عمرتک کے لیے۔
حقیقت انسانی
سب سے بڑی نیکی حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ اس دنیا میں سارا اختیار صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔اس کے مقابلہ میں انسان بالکل عاجز اوربے بس ہے۔مگر اس دنیا میں انسان کو بظاہر ایسے حالات میں رکھاگیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح آزاد اورخودمختار محسوس کرے۔یہی انسان کا امتحان ہے۔جو آدمی حقیقی صورت حال کو سمجھے اور اس کا اعتراف کر کے خدا کے آگے جھک جائے ،وہ قابل انعام ٹھہرا۔اس کے برعکس جو آدمی امتحانی پردے کو پھاڑنے میں کامیاب نہ ہو اورخدا کی بڑائی کے آگے اپنے کو نہ جھکائے وہ مجرم ہے۔ایسا شخص عنقریب سخت ترین عذاب میں ڈال دیا جائے گا۔
دنیا میںوہ مسئلہ بہت بڑے پیمانے پر پایا گیا ہے جس کو خرابی کا مسئلہ (Problem of evil) کہا جاتا ہے۔انسان کے ساتھ موجود دنیا میں بے شمار قسم کے دکھ لگے ہوئے ہیں۔ایک شخص تندرست وتوانا ہے اوراچانک موت آکر اس کو دبوچ لیتی ہے۔ایک شخص کے ساتھ حادثہ پیش آتا ہے اوراس کے شاندار جسم کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔اسی طرح بیماریاں،قحط،زلزلے اورطرح طرح کی آفتیں انسان کے منصوبوں کو اس طرح تہس نہس کرتی رہتی ہے جیسے ان کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔
بظاہر یہ بڑا بے رحمی کا معاملہ ہے۔مگر اس کے اندر زبردست حکمت چھپی ہوئی ہے۔یہ تمام ناخوشگوار واقعات اس لیے پیش آتے ہیں کہ انسان کی آنکھ کھولیں۔وہ انسان کو یاددلائیں کہ بظاہر بااختیار ہونے کے باوجود وہ کس قدر بے بس ہے۔سب کچھ کا مالک ہونے کے باوجود وہ کتنا زیادہ بے کچھ ہے۔یہ خرابیاں دراصل بڑی قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت ہیں۔اس طرح ظواہر کا پردہ پھاڑ کر انسان کو اصل حقیقت کا مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔قیامت میں جو پردہ مکمل طور پر پھاڑاجانے والا ہے وہ حادثات کے ذریعہ جزئی طور پر پھاڑدیاجاتاہے۔
دنیا کی مصیبتیں انسان کو اس کی بے بسی کی یاد دلاتی ہیں۔وہ اس کو ذہنی طور پر اس قابل بناتی ہیںکہ وہ حقیقت واقعہ کو پالے اوراس کو مان کر خدا کے انعامات کا مستحق بنے۔ آنے والی ابدی دنیا میں انسان حقیقی طور پر آزاد اورخود مختار ہوگا۔وہاں وہ ہر قسم کے دکھ اورغم سے مکمل طور پر محفوظ رہے گا۔مگر یہ درجہ کسی کو بطور انعام ملے گانہ کہ بطور استحقاق۔ جس نے اپنے عجز کو جان لیا وہی اس قابل ہے کہ اس کو آزادی کی نعمت عطا ہو۔جو اپنی بے اختیاری پر راضی ہوگیا اسی نے اس اہلیت کا ثبوت دیا کہ خدا اس کو اپنی معیاری دنیا میں بااختیار بنا کررکھے۔
یہ تضاد کیوں
آسمان کے نیچے ہونے والے تمام واقعات میں سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہ ہے کہ یہاں دادا گیری کی صلاحیت کا استعمال ہے مگر سنجیدگی کی صلاحیت کا کوئی استعمال نہیں۔یہاں شاطر آدمی اپنی پوری قیمت پالیتا ہے۔مگر شریف آدمی کو یہاں کوئی قیمت نہیں ملتی۔ہر ایک کو خوش کرنے والی زبان بولنے والے کو یہاں خوب مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔مگر جو شخص غیر مصلحت پر ستانہ انداز میں بولے اورحق کو حق اورباطل کو باطل کہے اس کو یہاں کوئی عزت اورمقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔
یہ سب ایک ایسی دنیا میں ہورہا ہے جو اپنی ذات میں بالکل بے عیب ہے۔جہاں درخت کمال کا ایک انتہائی خوش منظر نمونہ بنے ہوئے کھڑے ہیں۔جہاں چڑیاں اس کے سوا کوئی اوربولی نہیں جانتیں کہ وہ حسن اورسلامتی کے نغمے گائیں۔جہاں سورج اورچاند صرف روشنی بکھیرتے ہیں ،ان کو تاریکی بکھیرنا اوراندھیرنا پھیلانا نہیں آتا جہاں ستارے صرف اپنے مدار میں گھومتے ہیں ،کوئی ستارہ دوسرے کے مدار میں داخل ہوکر وہاں اپنا جھنڈاگاڑنے کے لیے نہیں دوڑتا۔
انسان اوربقیہ کائنات میں یہ تضاد دیکھ کر کچھ لوگوں نے کہا کہ یہاں دو خدا ہیں ،ایک نور کا اوردوسرے ظلمت کا۔کسی نے کہا کہ یہاں کوئی خدا ہی نہیں۔اگر کوئی خداہوتا تودنیا میں الل ٹپ نظام کیوں کرجاری رہتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر صحیح یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔مثالی دنیا اس کے بعد آنے والی ہے اورانسان کے سوا بقیہ کائنات اسی کا ایک ابتدائی تعارف ہے۔امتحان کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ انسان کو عمل کی پوری آزادی ہو۔اسی آزادی کا یہ نتیجہ ہے کہ کوئی شخص سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے اورکچھ لوگ ٹیڑھے راستہ پر چلتے ہیں ،مگر قیامت کے بعد جب مثالی دنیا قائم ہوگی تو وہاں وہی لوگ جگہ پائیں گے جنھوں نے موجودہ دنیا میں اس بات کا ثبوت دیا ہوگا کہ وہ مثالی انداز میں سوچنے اور مثالی کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔بقیہ تمام لوگ چھانٹ کر اسی طرح دور پھینک دئے جائیں گے جیسے کوڑا کرکٹ سمیٹ کر پھینک دیا جاتاہے۔
کائناتی منصوبہ بندی
موجودہ زمانہ میں آواز کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے والے ہوائی جہاز بنائے گئے ہیں۔یہ جہاز بننے کے بعد جب امریکامیں اڑائے گئے تو معلوم ہواکہ وہ انسانی صحت کے لیے خطرہ ہیں۔کیونکہ ان کی وجہ سے ہوا میں گیسوں کا قیمتی تناسب بدل جاتا ہے۔ چنانچہ امریکامیں اس قسم کے جہازوں کی پروازپر پابندی لگا دی گئی۔
یہی معاملہ انسان کے تمام منصوبوں کا ہے۔آدمی ایک گھر بناتا ہے مگر جب وہ اس میں رہنا شروع کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں فلاں فلاں کمی رہ گئی۔وہ سڑکیں اورلائنیں بچھاتا ہے مگر کچھ عرصہ کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ضرورت کے مطابق کرنے کے لیے اس میں فلاں فلاں ترمیم کی ضرورت ہے۔اسی طرح انسانی تمدن کے ہر شعبہ میں ترمیم واصلاح کا کام مسلسل جاری رہتا ہے۔
یہ انسانی تعمیرات کا حال ہے مگر کائنات کے عظیم کارخانے کا معاملہ اس سے سراسر مختلف ہے۔ کائنات میں بے شمار چیزیں ہیں۔ستارے ،زمین ،معدنیات ،پہاڑ ،عرقیات ، گیسیں ،درخت ،جانور ،روشنی ،حرارت ،کشش ،انسان وغیرہ۔یہ چیزیں بے شمار صورتوں میں وسیع کائنات کے اندر پھیلی ہوئی ہیں۔مگر وہ اول روز سے انتہائی کامل صورت میں موجود ہیں۔ان کے خالق کو انہیںپیدا کرنے کے بعد نظر ثانی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
سورج اورزمین کا فاصلہ ،معدنیات میں جواہر کی ترکیب ،پانی اورہوا میں گیسوں کا تناسب، درخت اورپودوں کی نشوونما کا اصول ،حیوان اورانسان کا جسمانی ڈھانچہ ،غرض ہر چیز اول روز سے کامل اورمکمل ہے۔کسی چیز میں بھی ادنیٰ نظر ثانی کی ضرورت نہیں۔ہر چیز عین ویسی ہے جیسا کہ فی الواقع اسے ہونا چاہیے۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے جس ہستی نے کائنات کو بنایا ہے وہ قادر مطلق ہے اور اسی کے ساتھ عالم الغیب بھی۔مکمل قدرت اورغیب سے کامل آگہی کے بغیر ایسا معیاری منصوبہ بنانا ممکن نہیں جس میں کبھی نظر ثانی کی ضرورت پیش نہ آئے۔
تخلیق کی حکمت
ہندستان نے 1984میں روس کے تعاون سے اپنے دو آدمی خلا میں بھیجے۔ان کے نام ہیں :مسٹر رویش ملہوتر ا(پیدائش 1943)اورمسٹرراکیش شرما (پیدائش 1949)۔ان دونوں ہوا بازوں نے 1983میں دس مہینے روس کے خلائی سنٹر (Star City)میں گزارے۔دس مہینہ کی ٹریننگ میں ان کو جو چیزیں سکھائی گئیں ان میں سے ایک روسی زبان بھی تھی۔
بنگلور کی ایک پریس کانفرس (ہندستان ٹائمس، 24جولائی 1983)میں ان خلابازوں نے خلا کے بارے میں بعض دلچسپ چیزیں بتائیں۔انھوں نے بتایا کہ خلائی پرواز کے دوران آدمی تقریباً چھ سنٹی میٹر لمبا ہوجاتا ہے۔مگر اس کی اصل لمبائی اس وقت واپس آجاتی ہے جب کہ وہ دوبارہ زمین پر اترتا ہے۔لمبائی کا یہ فرق جسم کے اوپر فضا کے دبائو کی وجہ سے ہوتاہے :
other sourceWords of another person or source
One would gain about six centimetres in height during a space flight but would get back to one's normal height soon after returning to earth with the atmospheric pressure acting on the vertebrate.
خلامیں انسانی جسم کا لمبا ہوجانا بے وزنی کی وجہ سے ہوتا ہے۔وزن یا بے وزنی دونوں قوت کشش کے اثر سے پیدا ہوتے ہیں۔ہماری زمین بے حد صحیح اندازہ کے مطابق بنائی گئی ہے۔اس لیے یہاں ہر آدمی کا قدنہایت متناسب ہوتاہے ،نہ چھوٹا اورنہ بڑا۔زمین کی جسامت اگر موجودہ جسامت کے مقابلہ میں نصف ہوجائے تو اس کی کشش گھٹ جائے گئی۔اس کے نتیجہ میں انسان غیر متناسب طورپر لمبے قد کے ہونے لگیں گے۔ موجودہ معتدل قد کے انسانوں کے بجائے ہر طرف لمبے لمبے انسان دکھائی دیں گے۔ ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے جہاں موجودہ معتدل قد کے انسانوں کے بجائے ہر طرف اونٹ جیسے انسان کھڑے ہوئے نظر آتے ہوں۔
اس کے برعکس اگر ایسا ہوکہ زمین کی جسامت موجودہ جسامت کے مقابلہ میں دونا ہوجائے تو اس کی قوت کشش بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جسم کا بڑھنا رک جائے گا۔شیرکی جسامت گھٹ کر بلی جیسی ہوجائے گی اورانسان کا یہ حال ہوگا کہ وہ اپنے موجودہ خوب صورت قد کو کھودے گااورزمین ان چھوٹے چھوٹے انسانوں کی بستی بن جائے گئی جن کو ہم بوناکہہ کر مسکراتے ہیں۔
تخلیق خداوندی کی یہی وہ حکمت ہے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے :
وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ (13:8)۔یعنی،او ر ہر چیز اس کے یہاں ایک انداز پر ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
زندگی کا اسیٹج
حیدرآباد کا واقعہ ہے 21ستمبر 1981کو مسٹر بی کے راماریڈی(90سال)اوران کی 80سالہ بیوی پھولا بائی رات کے وقت اپنے گھر واقع بنجارہ ہلز میں سو رہے تھے۔ان کے علاوہ ان کے گھر میں ا س وقت صرف ان کا ملازم رامیا(50سال )تھا۔رامیا نے عین نیند کی حالت میں کلہاڑی سے بوڑھے میاں بیوی پر حملہ کیا اورنہایت بے دردی کے ساتھ دونوں کو مار ڈالا۔اس کے بعد رامیا نے بکس سے تقریباً ایک لاکھ روپے کے ہیرے اور زیورات نکالے اوررات کی تاریکی میں گھر سے باہر نکل گیا۔
راستہ چلتے ہوئے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچاجہان پولیس کے دو آدمی رات کی ڈیوٹی میں پہرہ دے رہے تھے۔ان کو شبہ ہو اچنانچہ انھوں نے رامیا کو پکڑ لیا۔پوچھ گچھ اور ڈرانے دھمکانے کے بعد اس نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا اورچرایا ہوا مال پولیس کے حوالے کر دیا۔دونوں پولیس کے آدمیوں نے رامیا کو اوراس سے برآمدہ شدہ مال کو لے جاکر تھا نہ میں جمع کردیا۔ان کانام شیخ محبوب اورایس ایم رشید بتایا گیاہے۔
محکمہ پولیس کے افسران کے علم میں یہ واقعہ آیا تو وہ شیخ محبوب اورایس ایم رشید کی کارکردگی اوردیانت داری سے بہت خوش ہوئے اس کے بعد دونوں کو نقد انعامات دئے گئے اوراسی کے ساتھ دونوں کو ترقی بھی دے دی گئی۔شیخ محبوب کو اسٹیشن آفیسر کے عہدہ پر متعین کردیا گیا اورایس ایم رشید کو ہیڈ کانسٹیبل بنا دیاگیا۔
یہ ایک مثال ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ایک واقعہ بیک وقت دو آدمیوں کے لیے دو معنی کا حامل ہوتا ہے۔ایک واقعہ پیش آتا ہے مگر اسی ایک واقعہ سے ایک شخص کو کریڈٹ دیا جاتا ہے اوردوسرے شخص کو ڈسکریڈٹ کیا جاتا ہے۔ایک شخص کو قاتل ثابت کرکے مجرم کے خانہ میں ڈال دیا جاتا ہے اوردوسرے شخص کو ایماندار اور فرض شناس ظاہر کر کے انعام کا مستحق بنا دیا جاتا ہے۔
دنیا میں جتنے واقعات پیش آتے ہیں سب کی نوعیت یہی ہے۔یہاں کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں۔یہاں کوئی شخص کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتا اورنہ نقصان۔نہ کوئی کسی کو زندگی دے سکتا اورنہ موت۔تاہم یہ سارے واقعات یہاں ایک یا دوسرے کے ہاتھ سے پیش آتے ہیں۔دنیا ایک قسم کا خدائی اسٹیج ہے۔یہاں مختلف حالات پیدا کرکے خدا ہر ایک کویہ موقع دیتا ہے کہ اس کے اندر جو کچھ ہے اس کو وہ علی الا علان ظاہر کر دے۔جو شخص مجرمانہ ذہن لیے ہوئے ہے وہ اپنے موافق حالات پاکر جرم کرے اورخدا کے قانون کے مطابق سزا کا مستحق ہو۔جو شخص اپنے اندر حق پرستی کا ذہن لیے ہوئے ہے وہ اپنے موافق حالات میں حق اورانصاف کامعاملہ کرے تاکہ وہ خدا کے یہاں انعام اورقدرافزائی کے لائق ٹھہرے۔
اندھیر اختم ہوگا
خدا کی دنیامیںانسان بظاہر ایک تضاد ہے۔ایک ایسی دنیا جہاں سورج ہر روز ٹھیک اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے وہاں انسان کا حال یہ ہے کہ آج ایک بات کہتا ہے ،اورکل وہ اس سے پھر جاتا ہے۔ جس دنیا میں سخت پتھروں کے اندر سے بھی پانی نکل پڑتا ہے وہاں ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ بدترین بے دردی کا ثبوت دیتا ہے۔جس دنیا میں اس کا چاند تمام مخلوقات کے اوپر بلا امتیاز چمکتا ہے وہاں انسان ایک کے ساتھ کچھ سلوک کرتا ہے اوردوسرے کے ساتھ کچھ۔جس دنیا کا ضمیراپنے آپ کو پھولوں کی لطافت کی صورت میں ظاہر کرتا ہے وہاں انسان کانٹوں سے بھی زیادہ برے کردار کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جس دنیا میں ہوائوں کے جھونکے ہر طرف بے غرض خادم کی طرح پھر رہے ہیں وہاں انسان اس طرح رہتا ہے جیسے ذاتی غرض پوری کرنے کے سوا اس کا اورکوئی مقصد ہی نہیں۔جس دنیا میں ایک درخت دوسرے درخت کو دکھ نہیں دیتا وہاں ایک انسان دوسرے انسان کو ستاتا ہے ،ایک انسان دوسرے انسان کو برباد کرکے خوشی کے قہقہے لگاتا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ سب کچھ اس دنیا میں ہر روز ہورہا ہے مگر خدا یہاں مداخلت نہیں کرتا ،وہ اس تضاد کو ختم نہیں کرتا۔ مخلوقات کے آفاتی آئینہ میں خدا کتنا حسین معلوم ہوتا ہے مگر انسانی زندگی کے الم ناک گوشہ میں اس کا چہرہ کتنا مختلف ہے۔خدا کے سامنے درندگی کے واقعات آئے ہیں مگر اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوتی۔خدا انسانوں کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھتا ہے مگر اسے اس کی کوئی پروانہیں ہوتی۔وہ کائنات کے سب سے زیادہ حساس باسیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کا مشاہدہ کرتا ہے مگر اس کے خلاف اس کے اندر کوئی بے چینی نہیں ابھرتی۔کیا خدا پتھر کی مورتی ہے ،کیا وہ ایک انتہائی کامیاب اسٹیچو ہے جو سب کچھ دیکھتا ہے مگر اس کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کرتا۔
اس سوال نے ہر زمانہ کے سوچنے والوں کو سب سے زیادہ پریشان کیا ہے۔مگر یہ سوال صرف اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ مخلوقات کے بارے میں ہم خالق کی حکمت کو ملحوظ نہیں رکھتے۔خالق کی اسکیم میں دنیا دار الا متحان ہے مگر ہم اس دارالجزا کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔جو کچھ کل کے دن پیش آنے والا ہے اس کو ہم چاہتے ہیں کہ آج ہی کے دن ہماری آنکھوں کے سامنے آجائے۔
جس طرح ہر روزرات کے اندھیرے کے بعد سورج کی روشنی پھیلتی ہے اسی طرح لازماً یہ بھی ہونے والا ہے کہ زندگی کا اندھیر اختم ہو۔ظالم اورمظلوم ایک دوسرے سے الگ کیے جائیں۔سرکش انسانوں کی گردنیں توڑی جائیں اورسچے انسانوں کو ان کی سچائی کا انعام دیا جائے۔یہ سب کچھ اپنی کامل ترین صورت میں ہوگا ،مگر وہ موت کے بعد ہوگا نہ کہ موت سے پہلے۔
تاریکی میں سفر
لندن کے اخبار گار جین (13مارچ 1983)کے ایک تین کالمی مضمون کی سرخی ہے— تاریکی میں ایک بہادر انہ سفر:
A brave journey through the dark.
یہ مضمون آرتھر کوئسلر (1905-1983)کے بارے میں ہے۔آرتھر کوئسلر انگلستان کا ایک مشہور ادیب اورمفکر تھا۔اس نے اوربیوی سنتھیا(Cynthia) نے مارچ1983میں اپنے لندن کے مکان میں خود کشی کرلی۔موت کے وقت آرتھر کوئسلر کی عمر 77سال تھی۔
آرتھر کوئسلر بہت سی کتابوں کا مصنف تھا۔اس کی ایک کتاب کانام ہے — دوپہر میں تاریکی (Darkness at Noon) ۔ یہ کتاب32زبانوں میںشائع ہوچکی ہے،جوکہ کمیونزم کے خلاف ہے۔اس میں مصنف نے دکھایا ہے کہ نام نہاد عوامی نظام میں بھی کس طرح انسان کے اوپر انسان کاظلم جاری رہتا ہے۔ایک انسان دوسرے انسان کا استغلال کرتا ہے۔
آرتھرکوئسلر کو ذاتی طور پر وہ تمام دنیوی چیزیں حاصل تھیں جن کی ایک انسان تمنا کرتا ہے۔وہ مشہور عالم تھا۔اپنے پیچھے اس نے چار لاکھ پونڈ چھوڑے ہیں جن کے بارے میں اس نے وصیت کی کہ وہ ایک برطانی یونیورسٹی کو دے دئے جائیں جو اس رقم کو (Parapsychology) کی تحقیق میں لگائے۔
آرتھر کوئسلر نے کیوں خود کشی کرلی۔اس کی وجہ اس کی مایوسی تھی۔وہ دنیا میں برُائیاں دیکھ کر بے حد پریشان تھا۔اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان برائیوں کی کیا توجیہ کرے۔1974میں اس کے مقالات کا ایک مجموعہ چھپا تھا جس میں اس نے کہا تھا تکنیکی ترقیوں اوراخلاقی سلوک کے درمیان بہت نمایا ں قسم کی علامتی نابرابری پائی جاتی ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
There is a striking. symptomatic disparity between the growth-curves of technological achievement on the one hand and of ethical behaviour on the other.
اس کے بعد وہ جدید تہذیب سے اپنی مایوسی کا اظہار ان لفظوں میں کرتا ہے کہ ہم دور سیاروں کے گرد گھومنے والے خلائی جہازوں کی حرکت کو کنٹرول کرسکتے ہیں مگر شمالی آئر لینڈ کے حالات کو کنٹرول کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں :
We can Control the motions of satellites, orbiting the distant planets, but cannot control the situation in Northern Ireland.
دونو ں ایک سطح پر
جانور اپنی نوع کو ہلاک نہیں کرتے۔مگر انسان خود اپنے ہم جنسوں کو ہلاک کرتا ہے۔اس کی وجہ کیا ہے۔اس سوال کی تحقیق کرتے ہوئے آرتھر کوئسلر اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ کے مختلف حصوں میں ارتقا کے دوران عدم توازن (Imbalance) پیدا ہو گیا ہے۔یہی عدم توازن مردم کشی کے بڑے بڑے واقعات کا اصل سبب ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تاہم یہ تحقیقات اس کو سکون نہ دے سکیں۔وہ بالآخر اس رائے پر پہنچا کہ انسان کے لیے موجودہ حالات میں سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ خود کشی کرلے۔اس کا آخری فلسفہ یہ تھا کہ موت اس شخص کے لیے قابل استقبال اورقدرتی ریلیف ہوسکتی ہے جس کا واحد بدل غم اورمصیبت ہو:
Death could be a welcome and natural relief for someone whose only alternative was pain and suffering.
The Guardian (London) March 13, 1983
آرتھر کوئسلر نے اپنے اس نظریہ پر خود عمل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس دنیا سے الگ کرلیا جو نہ اس کی مرضی کے مطابق تھی اورنہ وہ اس کو بدلنے کی قدرت رکھتا تھا۔ا س نے دیکھا کہ انسان ایک روشن فضا میںآنکھ کھولتا ہے۔پھر وہ موت کی اندھیری دنیا میں داخل ہوجاتا ہے۔اس نے دیکھا کہ ٹکنالوجی میں غیر معمولی ترقی کے باوجود انسان کی اخلاقی ترقی ممکن نہ ہوسکی۔ا س نے دیکھا کہ جانور تک اپنے ہم جنسوں کو ہلاک نہیں کرتے مگر انسان خود اپنے ہم جنسوں کو ہلاک کرنے کے منصوبے بناتا ہے۔اس نے دیکھا کہ انسان اپنے سارے وسائل کو استعمال کرکے فلاحی نظام بناتا ہے مگر وہ نظام روشنی میں تاریکی کے ہم معنی ہوجاتا ہے۔ان حالات نے اس کو مایوس کردیا اوراس نے خود کشی کرلی۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے آخرت کا تصور نہ ہو تو اس کی زندگی کتنی بے معنی ہوجاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موجود دنیا کی معنویت اسی وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اس کو آخرت کے ساتھ ملا کردیکھا جائے۔آخرت کے بغیر یہ دنیا اتنی بے معنیٰ معلوم ہوتی ہے کہ ایک حساس مفکر یہی کرسکتا ہے کہ وہ خود کشی کرلے تاکہ اس کے خیال کے مطابق اس کو موجودہ ناقابل فہم دنیا سے چھٹی مل جائے۔
حادثات کیوں
ٹرین جب پلیٹ فارم سے روانہ ہونے والی ہوتی ہے تو سیٹی دیتی ہے۔اس سیٹی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ آگاہ ہوجائیں۔اگرکچھ مسافر پلیٹ فارم پرہوں تو وہ فوراً اپنے ڈبہ میں آکر بیٹھ جائیں۔تاہم اس سیٹی کو دو زاویے سے دیکھا جاسکتا ہے۔اگر آپ محض آواز کے معنی میں لے کر اس کو شور یا صوتی آلودگی (Noise pollution) کہیں تو وہ بالکل بے معنی معلوم ہوگی لیکن اگر آپ اس کو ’’الارم‘‘کہیں تووہی چیز آپ کی نظرمیں بالکل درست اوربامعنی بن جائے گی۔
یہی معاملہ فطرت کے حادثات کا ہے۔ فطرت کے حادثات کو دوزاویہ نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ہماری زمین پر قحط ،زلزلے ،طوفان آتے ہیں اوردوسری قسم کی آفتیں پیش آتی ہیں۔بعض فلسفیوں نے ان کو مطلق طورپر دیکھا تو ان کو ان واقعات میںکوئی معنویت نظر نہیں آئی۔ان کو انھوں نے مسئلہ فساد (Problem of evil) کانام دے دیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر پیغمبر ان واقعات کو ایک اورزاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔یہ دوسرازاویہ نصیحت اورعبرت کا زاویہ ہے۔اس اعتبار سے دیکھنے میں اس قسم کے تمام واقعات فطرت کا الارم بن جاتے ہیں۔
پیغمبر کی تشریح کے مطابق یہ واقعات بڑی قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت ہیں۔وہ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ ایک بڑے سخت دن کو طرف بڑھ رہا ہے جب کہ خدا اپنی عظیم طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔تمام انسان مجبور اوربے بس حالت میں اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔اس دن آدمی بھاگنا چاہے گامگر کوئی جگہ نہ ہوگی جہاں وہ بھاگ کر پناہ لے سکے۔اس دن آدمی مدد کے لیے پکارے گا مگر وہاں کوئی نہ ہوگا جو اس کی مدد کے لیے دوڑے۔
یہ واقعات جو زیادہ بڑی شکل میں قیامت میں پیش آئیں گے وہی بہت چھوٹی شکل میں موجودہ دنیا میں پیش آتے ہیں۔وہ قیامت سے پہلے قیامت کی یاد دہانی ہیں۔کل کے دن جو پردہ کامل طور پر پھاڑا جانے والا ہے اس کو آج ان حادثات کے ذریعہ جزئی طور پر پھاڑ دیا جاتا ہے۔
عقلمند انسان وہ ہے جو اس قسم کے واقعات کو فطرت کا الارم سمجھے نہ کہ فطرت کا بگاڑ۔ ان کو الارم کی نظر سے دیکھا جائے تو تواضع اوراصلاح کا جذبہ ابھرے گا۔اوراگر ان کو اس نظر سے دیکھا جائے کہ یہ نظام فطرت کی خرابی ہے تو اس سے ذہنی انتشار اور بغاوت کے جذبات ابھرتے ہیں۔پہلا ذہن آدمی کو جنت کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا ذہن جہنم کی طرف۔
حقیقت سے بے خبری
امتحان ہال میںہر طالب علم کو یکساں طور پر داخل ہونے اوربیٹھنے کے مواقع دئے جاتے ہیں۔مگر سند کی تقسیم کے وقت سند پانے کی خوشی ہر ایک کے حصہ میںنہیں آتی۔یہ خوشی صرف اس طالب علم کا حصہ ہوتی ہے جو محنتی ہو۔جس نے سال بھر کے وقت کو ضائع کرنے کے بجائے استعمال کیا ہو۔ایسا طالب علم کامیابی کے ساتھ تمام سوالات کو حل کرتا ہے اورامتحان میں پاس ہوکر سند کا مستحق بنتا ہے۔
یہی حال وسیع تر معنوں میں زندگی کا بھی ہے۔موجودہ دنیا بے شمار نعمتوں سے بھری ہوئی ہے۔اورہر آدمی اس سے متمتع ہورہا ہے۔مگر موجودہ دنیا میں ہر چیز جو آدمی کومل رہی ہے وہ امتحان کی قیمت میںمل رہی ہے۔اس کے برعکس آخرت میں ہر چیز آدمی کو عمل کی قیمت میں ملے گی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر آدمی خدا کی نعمتوں میںسے کچھ اپنے لیے پالیتا ہے۔مگر آخرت میں صرف وہی لوگ خدا کی نعمتوں کو پائیں گے جو اپنے عمل سے اس کا استحقاق ثابت کریں۔باقی تمام لوگ اس سے محروم کرکے چھوڑدئے جائیں گے۔
انسان زمین کے اوپر کس طرح اکڑکر چلتا ہے۔وہ بھول جاتا ہے کہ زمین پر چلنا اس کا حق نہیں یہ صرف خد اکی طرف سے امتحان کی مہلت ہے۔انسان یہاں دھوپ اورہو ا اورپانی اورغذااوربے شمار دوسروی چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب چیزیں اس کے لیے ہیں۔حالانکہ یہ صرف وقفہ امتحان تک اس کے لیے ہیں۔اس کے بعد وہ صرف اس شخص کے لیے ہوں گی جس نے ان کا حق ادا کیا ہو۔باقی تمام لوگوں کے حصہ میں ابدی محرومی کے سوا اورکچھ نہیں آئے گا۔انسان اختیار واقتدار پاکر گھمنڈکرنے لگتا ہے۔اس کو خبر نہیں کہ یہ اختیار واقتدار خدا کی امانت ہے۔اور اس کو پا کر گھمنڈ کرنا خدا کی امانت میں خیانت کرنا ہے۔جس کی کم سے کم سزایہ ہے کہ اس کو دائمی طور پر ہر قسم کے عزت اوراقتدار سے محروم کردیا جائے۔
یہ ایک بے حد نازک صورت حال ہے۔ہر آدمی ایک انتہائی بھیانک انجام کے کنارے کھڑاہواہے۔اس دنیا کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ لوگوں کو اس صورت حال سے باخبر کیا جائے۔
موجودہ دنیا کی چیزوں کو جو لوگ ذاتی چیز سمجھ کر اس میں بے روک ٹوک تصرف کررہے ہیں ان کا حال آخرت میں وہی ہوگا جو کسی بینک کے اس اکائونٹنٹ کا ہوتا ہے جو بینک کی الماری میں بھرے ہوئے نوٹوں کو اپنی ذاتی چیز سمجھ لے۔
ظاہر فریبی
ایئرمارشل عبداللطیف ہوائی جہاز چلانے کا چالیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔25اگست 1981کو انھوں نے روسی ساخت کا آواز سے تیز چلنے والا لڑاکا جہاز مگ 25آزمائشی طور پر اڑایا۔آدھا گھنٹہ تک پرواز کرنے کے بعد انھوں نے جہاز کو نیچے اتارا ۔ایئرمارشل جب ہوائی جہاز سے باہر آئے تو انھوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:
The flight made even the Himalayas look small
ہماری پرواز کے سامنے ہمالیہ پہاڑ بھی چھوٹا دکھائی دیتا تھا (ٹائمس آف انڈیا، 26اگست1981)۔
آواز سے تیز رفتار جہاز ہمالیہ کے اوپر اڑانیں بھر رہا ہو تو اس وقت جہاز کے اوپر بیٹھے ہوئے آدمی کو ہمالیہ واقعی حقیر دکھائی دیتا ہے،اوراپنی عظمت کا ایک عجیب احساس پیدا کرتا ہے مگر یہ غلط فہمی اس وقت ختم ہوجاتی ہے جب کہ جہاز ہمالیہ کی کسی چوٹی سے ٹکرا جائے۔چٹان کے معمولی ٹکرائو سے بھی فی الفور جہاز میں آگ لگ جاتی ہے اور اچانک جہاز اوراس کا مسافردونوں اس طرح راکھ کا ڈھیر بن جاتے ہیںجیسے کہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہ تھی۔
موجودہ دنیا میں کسی کو کوئی بڑائی ملتی ہے تو وہ بہت جلد غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔حالاں کہ دنیا کی ہر بڑائی ایسی ہی ہے جسے تیز رفتار ہوائی جہاز کے اوپر سے کسی آدمی کاپہاڑ کو دیکھنا۔ایسے مسافر کو بظاہر اپنی سواری عظیم معلوم ہوتی ہے۔مگر یہ ایک خیالی فریب کے سوا اورکچھ نہیں۔حالات کا معمولی فرق بھی اس کو یہ بتانے کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ اس کی کوئی حقیقت نہ تھی۔
دنیا میں کسی چیز کو پانے کے لیے جن بے شمار اسباب کی موافقت ضروری ہے ان کی فراہمی کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔یہ صرف خدا ہے جو تمام موافق اسباب کو یکجا کرکے کسی واقعہ کو ظہور میںلاتا ہے۔تاہم اس سارے معاملہ پر ظاہری اسباب کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خدا کی خدائی اوراس کے مقابلہ میں اپنی بندگی کا اعتراف کرلے۔وہ بظاہر اپنی کو ششوں سے پائے مگر اس کو خدا کی طرف سے آیا ہواسمجھے۔وہ بظاہر بڑا بنا ہواہومگر اپنے کو چھوٹا یقین کرے۔وہ بظاہر بلندی پر اڑرہاہومگر اپنے کو پستی میں اتراہوامحسوس کرے۔
آدمی کا امتحان یہ ہے کہ وہ ظاہری فریب سے گزرکر اصل حقیقت کو پالے ،یہاں کی ہر بڑائی کو جھوٹی بڑائی سمجھے۔مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس فریب کا پردہ پھاڑنے میں کامیاب ہوتے ہوں۔
تضاد فکری
قرآن میں ارشاد ہواہے’’اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہیں بنائے اورنہ تمہاری بیویوں کوجن کو تم ماں کہہ بیٹھے ہوتمہاری مائیں بنایا اورنہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنایا۔یہ تمہارے اپنے منہ کی بات ہے۔اوراللہ حق کہتا ہے اوروہ صحیح راہ دکھاتا ہے۔منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو،یہی پوراانصاف ہے اللہ کے یہاں‘‘ (33:4)۔
Qur'anQuotes the Qur'an
قدیم عربوں میں یہ رواج تھا کہ اگر کوئی شخص نادانی میں اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتا:أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي(مسند احمد، حدیث نمبر 27319 )تو وہ اس کے لیے حقیقی ماں کی طرح حرام ہوجاتی۔گویا اس لفظ کے بولنے سے وہ سچ مچ اس کی ماں بن گئی ہے۔اسی طرح اگر ایک شخص کسی کو منہ بولا بیٹا (تبنیٰ)بنالیتا تو وہ اس کو صُلبی بیٹے کی طرح سمجھنے لگتے اوراس پروہی احکام صادر کرتے جو حقیقی بیٹے کے لیے ہوتے ہیں۔اسلام نے اس جاہلی رواج کے خاتمہ کا اعلان کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ایک سینہ میں دو دل ‘‘کا مطلب کسی شخص کا بیک وقت دو متضاد نقطۂ نظر رکھنا ہے۔خدا نے جب انسان کے سینہ میں دو دل نہیں رکھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے کے انداز میں بھی دوئی نہیں ہونی چاہیے۔یہ بات خدا ئی اسکیم کے خلاف ہے کہ کوئی شخص بیک وقت دو مختلف اورمتضاد نظریہ کو اپنے اندر جگہ دے۔ایک طرف وہ حقیقی ماں اوربیٹے کو ماں اوربیٹا سمجھے اوردوسری طرف محض زبان سے کسی کو ماں یا بیٹا کہہ دینے کی بنا پر بھی اس کو ماں یا بیٹا ماننے لگے۔
جو شخص ایسا کرے اس نے گویا فکری دوئی کا مظاہرہ کیا۔اس نے ایک طرف ایک حقیقی چیز کو حقیقت سمجھا اوردوسری طرف ایک بے حقیقت چیزکو بھی حقیقت قرار دیا۔یہ متضاد خیالات کو ایک دل میں جگہ دینا ہے جو فطرت کے وحدانی نقشہ کے سراسرخلاف ہے۔یہ سچائی اور تعصب کو ایک ساتھ ماننا ہے۔حقیقت پسندی اورتو ہم پرستی کو بیک وقت اپنے ذہن میں جگہ دینا ہے۔ایک رواجی نقطۂ نظر کو بھی اسی طرح تسلیم کرنا ہے جس طرح خالص عقلی نقطۂ نظر کو تسلیم کرنا چاہیے۔اسی طرح توحید کے عقیدہ کے ساتھ مشرکا نہ خیالات کوماننا ،حقیقت واقعہ اورتو ہمات کو ایک ساتھ اپنے ذہن میں جگہ دینا ،اصولی صداقت کا اقرار کرنے ساتھ شخصیت پرستی کو اختیار کرنا،قرآن کی محکم آیتوں پر عقیدہ رکھتے ہوئے پُرعجوبہ قصے کہانیوں میں مشغول ہونا،سب ایک دل والے سینہ کو دو دل والا سینہ بنانا ہے جو سراسر تضادہے اورایسا ہر تضاد خدا کی اس بے تضاد دنیا میں جگہ پانے کے قابل نہیں۔
کائنات کو پڑھیے
قرآن کتاب کائنات کی ڈکشنری ہے۔یہی بات قرآن مین ان لفظوں میں کہی گئی ہے: يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ (13:2)۔یعنی، خدا کائنات کا انتظام کررہا ہے اورقرآنی آیتوں کے ذریعہ اس کی تفصیل بیان کرتاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک شخص کائنا ت کو دیکھتا ہے۔وہ اپنی کم فہمی سے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ کا نیتجہ ہے۔یہاں قرآن اس کو بتاتا ہے کہ نہیں ،کائنات ایک صاحب ارادہ کے ارادی منصوبہ کے تحت وجود میں آئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک شخص دیکھتا ہے کہ کائنات بظاہر کچھ اسباب کے تحت چل رہی ہے۔وہ سمجھ لیتا ہے کہ کائنات ایک عظیم خود چالو مشین ہے۔یہاں قرآن اس کو بتاتا ہے کہ نہیں ،کائنات کو خدا کے فرشتے خدا کے حکم سے چلا رہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک شخص انواع حیات کے بعض ظاہری پہلووں کی بنا پر یہ رائے قائم کرلیتا ہے کہ زندگی کی تمام قسمیں سلسلۂ ارتقا کے تحت وجود میں آئی ہیں۔یہاں قرآن اس کی رہنمائی کرتا ہے اوراس کو بتاتا ہے کہ نہیں۔زندگی کی مختلف قسمیں ایک خالق کی تخلیق سے ظہور میں آئی ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کائنات کو دیکھیے تو یہاں آرٹ اورکمال کے حیرت انگیز نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ایٹم رقص کررہے ہیں۔یہاں دوبے جان مادے باہم مل کر تیسری نئی چیز میں ڈھل جاتے ہیں۔یہاں بے شمار ستارے سفر کررہے ہیں ان کی رفتار میں ایک سکنڈ کابھی فرق نہیں ہوتا۔یہاں ایک بیج سر سبز درخت کی صورت اختیار کررہا ہے۔یہاں زندگی کا سیلاب چاروں طرف نظر آتا ہے۔اس قسم کے بے شمار عمل یہاں جاری ہیں مگر تمام عمل خاموشی کے ساتھ انجام پارہے ہیں۔کائنات کا کوئی کردار اپنا تعارف نہیں کراتا ،وہ انسان سے ہم کلام ہوکر اپنے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔
آدمی یہ دیکھ کر سوچنے لگتا ہے کہ کائنات شاید گونگے شاہکاروں کا عجائب خانہ ہے۔یہاں قرآن اس کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا کے ہنگامے بے مقصد نہیں۔ایک وقت آنے والا ہے جب کہ دنیا کی معنویت پوری طرح ظاہر ہو۔اس وقت تما م چیزیں بول پڑیں گی جس طرح خاموش ریکارڈ گرامو فون کی سوئی کے نیچے آتے ہی بولنے لگتا ہے۔اس دن تمام کمیوں کی تلافی ہوگی جو موجود ہ دنیا میں نظر آتی ہیں۔انسان اپنے تمام سوالات کا جواب پالے گا۔ہر انسان اپنے اس انجام کو پہنچ جائے گاجہاں باعتبار حقیقت اسے پہنچنا چاہیے۔
معیاری دنیا
آدمی پیدائشی طور پر معیار پسند (Idealist) ہے۔ہر آدمی ایک معیاری دنیا (Ideal world)کی تلاش میں ہے۔مگر اس دنیا میں معیاری دنیا کا بننا ممکن نہیں۔اس دنیا میں آدمی کو صرف معیاری نظریہ دیا جاسکتا ہے نہ کہ معیاری دنیا۔
معیار ی دنیا بننے کی جگہ صرف آخرت ہے۔موجودہ دنیا امتحان کی حکمت کے تحت بنائی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں بہت سی محدودیتیں (Limitations)ہیں۔یہ محدودیتیں خود خالق کی طرف سے ہیں اوران کی موجودگی میں یہاں معیاری دنیا بننا ممکن نہیں۔اسی کے ساتھ امتحان کی مصلحت کے تحت یہاں سے ہر شخص کو آزادی حاصل ہے۔یہاں اگر نیک لوگوں کو عمل کی آزادی ہے تو یہاں برے لوگوں کو بھی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں۔چنانچہ باربار ایسا ہوتا ہے کہ نیک لوگ ایک نقشہ بناتے ہیں اور برے لوگ شرارتیں کرکے اس نقشہ کو توڑ ڈالتے ہیں۔
امتحان کا تصور موجودہ دنیا کو سمجھنے کی کنجی ہے۔فلاسفہ اورمفکرین اس کنجی کو نہ پاسکے۔ اس لیے دنیا کو سمجھنے میں بھی وہ ناکام رہے۔انھوں نے موجودہ دنیا میں اپنی پسند کی دنیا بنانی چاہی۔مگر ’’ناقص دنیا‘‘میں ’’کامل دنیا‘‘نہیںبن سکتی تھی ،چنانچہ ان کے حصہ میں ذہنی انتشار کے سوا اورکچھ نہ آیا۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں معیاری دنیا نہیں بن سکتی۔معیاری بننے کی جگہ آخرت ہے۔یہاں صرف یہ ممکن ہے کہ لوگوں کو خد اکی اسکیم سے آگاہ کیاجائے اوران کو آخرت پسند ی کی زندگی گزارنے کی طرف متوجہ کیا جائے اس دعوت کے نتیجہ میں اگر انسانوں کی بہت بڑی تعداد دین حق پر آجائے تو ان کے اجتماع سے یقینا ایک ایسا معاشرہ بن جائے گا جو نسبتاً بہتر معاشرہ ہوگا۔نیز اگر حالات نے مساعد ت کی تو یہ گروہ غیر دینی نظام کے اوپر غلبہ بھی حاصل کرسکتا ہے۔اوروہ چیز بھی قائم ہوسکتی ہے جس کو دینی حکومت کہا جاتا ہے۔
تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ معاشرہ یقینی طورپر ’’معیاری ‘‘معاشرہ ہوگا۔اورنہ اس کی کوئی ضمانت ہے کہ وہ مستقل طورپر باقی رہے گا۔یہ ساری چیزیں خدانے آخرت کی دنیا میں رکھ دی ہیں اورجو چیزیں مالک کائنات نے اگلی دنیا میں رکھ دی ہوں ان کو ہم موجودہ دنیا میں کبھی نہیں پاسکتے۔
غلط استعمال
جون 1984میں امرت سرکے سورن مندر (Golden Temple) کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی۔ہندستانی فوج کی اس کارروائی کا خفیہ نام آپریشن بلیو اسٹار (Operation Blue Star)تھا۔ سورن مندر سکھوں کا انتہائی متبرک مقام ہے۔اس واقعہ کے بعد کچھ پرجوش سکھوں میں ’’شہید ‘ ‘ ہونے کا جذبہ بھڑک اٹھا۔چنانچہ 31اکتوبر 1984کو خود انہیںسکھ جوانوں نے گولی مارکر اندرا گاندھی کو قتل کردیا جو حفاظت کی خاطر وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں متعین کیے گئے تھے۔
اس کے بعد مقدمہ چلا۔ 11فروری 1985کو چیف میڑوپولٹین مجسٹریٹ مسٹر ایس ایل کھنّہ کی عدالت میں ملزمین کے خلاف20صفحات کی چارج شیٹ پیش کی گئی۔اس سلسلہ میں اخبارات میں جو رپورٹ آئی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Satwant Sing has further been charged under section 27of the Arms Act for using a weapon lawfully supplied to him to commit murder.
قاتل ستونت سنگھ(1962-1989) پر اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 27کے تحت مزید یہ الزام ہے کہ ایک ہتھیار جو اس کو جائز طور پر دیاگیا تھا اس کو اس نے قتل کرنے کے لیے استعمال کیا(ٹائمس آف انڈیا، 12فروری 1985) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ستونت سنگھ کو جو قیمتی آٹو میٹک ہتھیار دیاگیا تھا وہ وزیر اعظم کی حفاظت کے لیے تھا نہ کہ وزیراعظم کو قتل کرنے کے لیے۔یہ اگرچہ اس کے لیے جائز قانونی ہتھیار تھا مگرجب اس نے اس کا غلط استعمال کیا تو وہ قانون کی نظر میں مجرم قرار پایا۔وہی ہتھیار جس کا صحیح استعمال اس کو انعام کا مستحق بناتا اس کے غلط استعمال نے اس کو سزاکا مستحق بنادیا۔
اسی طرح خدا کی طرف جو چیز یں انسان کو دی گئی ہیں وہ اس کا جائز حق ہیں۔مگر وہ صرف صحیح استعمال کے لیے ہیں۔آدمی اگر ان چیزوں کا غلط راہ میں استعمال کرے تو وہ خداکی نظر میں مجرم قرارپائے گا اورآخرت کی عدالت میں وہ ایسی سخت سزا کا مستحق ہوگا جس سے وہ کبھی نجات نہ پاسکے۔
کامیاب زندگی
اسٹوارٹ کیلی (Stuart Kelly)اونٹار یوکا ایک ٹرک ڈرائیور تھا اس نے لاٹری کا ایک ٹکٹ خریدا۔جنوری 1984میں اس کے نتیجہ کا اعلان ہوا تو اس کو پہلا انعام ملاجو 13.9ملین ڈالر تھا۔یہ کناڈا میں ملنے والے اب تک کے تمام لاٹری انعامات میں سب سے زیادہ تھا۔
اسٹوارٹ کیلی کے یہاں کوئی اولاد نہ تھی۔اس کو اتنا بڑاانعام ملاتو اس نے کہا کہ یہ میری تمام ممکن ضرور تو ں سے بھی زیادہ ہے مگر اس کو خوشیوں کاابھی آغاز بھی نہیں ہوا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے غم میں مبتلا ہوگیا۔انعام ملنے کے صرف تین ماہ بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کو کینسر ہوچکا ہے۔ لاٹری انعام ملنے کےسات ماہ بعد وہ مرگیا۔ اس کی عمر 57سال تھی۔وہ 35سال تک ٹرک ڈرائیور رہا اورانعام ملنے کے صرف سات ماہ بعد وہ اس دنیا سے چلاگیا۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی دولت چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے لیے ایک کامیاب زندگی کی تعمیر کرے۔مگر موجودہ دنیا میں انسان کا اصل مسئلہ دولت نہیں بلکہ اس کا مسئلہ محدودیت ہے کوئی انسان خواہ کتنی ہی زیادہ دولت اپنے لیے حاصل کرلے وہ محدودیت سے خالی نہیں ہوسکتا۔اسی لیے کوئی شخص اس دنیا میں اپنی دل پسند زندگی بھی نہیں بنا سکتا۔
دولت کی کوئی مقدار آدمی کو اس سے نہیں بچاسکتی کہ وہ بیمار نہ ہو۔اس کو حادثہ نہ پیش آئے۔ایک مختصر مدت کے بعد وہ مرنہ جائے۔اورجب بیماری اورحادثہ اورموت پر انسان کو قدرت نہیں تو اپنے لیے پسند یدہ زندگی بنانے پر وہ کیسے قادر ہوسکتا ہے۔
دولت زندگی نہیں ہے۔دولت زندگی کا ایک وسیلہ ہے۔وسیلہ کی اہمیت ہمیشہ دوسرے درجہ کی ہوتی ہے۔زندگی ہے تو وسیلہ کی بھی اہمیت ہے۔اور اگر زندگی نہیں تووسیلہ کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔مگر اکثر انسان اس فرق کو بھول جاتے ہیں۔وہ دنیا کی دولت حاصل کرنے میں اتنا مشغول ہوتے ہیں جیسے کہ دنیا کی دولت بذات خود مقصود ہو،جیسے کہ دنیا کی دولت ہی کا دوسرا نام زندگی ہو۔
انسان کے لیے کامیاب زندگی کا کوئی نقشہ آخرت کو شامل کیے بغیر نہیں بن سکتا۔ انسان کو دو میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہے۔موجودہ دنیاکو سب کچھ سمجھ کرنا کامی کی موت مرنا یا موجودہ زندگی کو آخرت تک وسیع کرکے اپنے لیے کامیاب زندگی کا راز دریافت کرنا۔
امتحان
انسان کی آنکھ کیسی عجیب چیز ہے۔اگر آپ اپنی آنکھ بند کرلیں تو آپ کوکچھ دکھائی نہیں دے گا۔ ساری دنیا آپ کے لیے ایک نامعلوم اندھیرا بن کررہ جائے گی۔ دنیا ہوگی مگر آپ اس کو نہیں دیکھیں گے۔چیزیں ہوں گی مگر آپ ان کو محسوس نہیں کریں گے۔
مگرجب آپ اپنی آنکھ کھولتے ہیں تو حیرت انگیز طورپر چیزوں کو دیکھنے لگتے ہیں۔ اب کالی چیز آپ کو سفید چیز سے الگ دکھائی دینے لگتی ہے۔اب متحرک چیز آپ کو متحرک دکھائی دیتی ہے اور جامد چیز جامد حالت میں نظر آتی ہے۔آپ انسان کو انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں اور جانور کو جانور کے روپ میں۔
یہی انسان کا خصوصی امتیاز ہے۔وہ چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے پہچانتا ہے۔وہ خیر اورشر کا فرق کرنا جانتا ہے۔وہ روشنی کو تاریکی سے اورتاریکی کو روشنی سے جدا کر کے دیکھتا ہے۔وہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ حق کو حق کے روپ میں دیکھے اورباطل کو باطل کے روپ میں پہچان لے۔وہ اس فرق سے آشنا ہے کہ کون سی چیز دلیل سے ثابت ہوئی اورکون سی چیز دلیل سے ثابت نہیں ہوئی۔
انسان کی یہی خصوصیت اس کے لیے اس کے امتحان کاپرچہ ہے۔یہی وہ خاص مقام ہے جہاں اس کا خدا اس کا امتحان لے رہا ہے۔انسان کو اس دنیا میں یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے خیر کو شر سے الگ کرکے دیکھا۔اس نے ظلم اورانصاف کے فرق کو پہچانا۔ اس کے سامنے جب کوئی بات آئی تو اس نے اس کو دلیل کی سطح پر جانچا۔اگر وہ بے دلیل تھی تو اس نے اسے رد کردیا اوراگر وہ دلیل سے ثابت ہورہی تھی تو اس نے کھلے طور پر اس کا اعتراف کرلیا۔
یہ امتحان بظاہر بہت آسان ہے مگر اس کی ایک قیمت دینی پڑتی ہے۔یہ قیمت اپنی نفی ہے۔حق کسی آدمی کو اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر ملتا ہے۔آدمی یہ قیمت نہیں دے پاتا ، اس لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ امتحان میں ناکام ہوجاتا ہے۔
آدمی کے سامنے حق ظاہر ہوتا ہے مگر وہ اس کو دیکھ نہیں پاتا۔اس کے پاس حق کی آواز گونجتی ہے مگر وہ اس کو سن نہیں پاتا۔حق خود چل کر اس کے پاس آتا ہے مگر اس سے اس کی ملاقات نہیں ہوتی۔آہ ،وہ انسان جو عین اس مقام پر سب سے زیادہ ناکام ہوجاتا ہے جہاں اس کو سب سے زیادہ کامیاب ہونا چاہیے۔
دو قسم کے بیج
زمین میںایک سٹرا ہوبیج ڈالا جائے تو وہ مزید سٹرگل کر ختم ہوجاتا ہے۔اس کو نہ کوئی ہرا لباس ملتا اورنہ اس پر کبھی بہار آتی۔اس کے اجزاء اگرچہ زمین میں موجودہ رہتے ہیں مگر ان کے وجود کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔دنیا میں نہ ان کا کوئی مقام ہوتا اورنہ دنیا کی چیزوں میں ان کا کوئی حصہ ہوتا۔
اس کے برعکس زمین میں اگر ایک اچھا بیج ڈالا جائے تو وہ دوبارہ ایک زندہ وجود کے طور پر باہر آتا ہے۔وہ ایک ہرا بھرادرخت بن کر پہلے سے زیادہ بہتر صورت میں زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔ساری کائنات اس کے لیے غذائی دستر خوا ن بن جاتی ہے۔وہ ایک انتہائی مکمل وجود کی صورت میں زمین کے اوپر اپنی جگہ حاصل کرتا ہے۔
یہ خدا کی ایک نشانی ہے جو آخرت کے معاملہ کو ہمیں واقعات کی زبان میں بتاتی ہے۔وہ آخرت کے معاملہ کو ہماری آنکھوں کے سامنے مصّور کرتی ہے۔
ایک انسان وہ ہے جو غیر صالح ہے۔ایسے انسان کی مثال خراب بیج کی ہے۔وہ مرنے کے بعد زمین میں دفن ہوگا ،صرف اس لیے کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجائے۔ایک سٹرے ہوئے وجود کے سوا اس دنیا میں اس کی کوئی حیثیت باقی نہ رہے۔
دوسرا انسان وہ ہے جو صالح انسان ہے۔اس کی مثال عمدہ بیج کی ہے۔وہ بھی اگرچہ مرنے کے بعد زمین میں دفن ہوگا۔مگر وہ اس لیے دفن ہوگا کہ پہلے سے زیادہ شاداب ہوکر ایک نئی زندگی کی صورت میں نمایاں ہو۔وہ کائنات میں اپنے لیے دوبارہ بہترین مقام پاسکے۔وہ خدا کے باغ میں سرسبز درخت کی طرح نشوونما پائے۔
اسی سے جہنم کا معاملہ اورجنت کا معاملہ سمجھا جاسکتا ہے۔جہنم گویا ایک خراب زمین ہے جہاں تمام سٹرے ہوئے بیج پھینک دئے جائیں گے۔اسکے برعکس جنت گویا بہترین زرخیززمین ہے جہاں تمام بہترین بیج چھانٹ کر ڈالے جائیں گے تاکہ وہ سر سبز وشاداب فصل کی صورت میں اُگیں اوربہترین موافق ماحول میں لہلہائیں۔
اگلا پیرا گراف
ایک ناول نگار کا واقعہ ہے۔اس نے ایک ناول لکھا۔یہ ناول بہت زیادہ ضخیم تھا۔اس کو دیکھ کر اس کے ایک دوست نے کہا —’’اف اتنا لمبا ناول،اس کو لکھتے لکھتے تم اکتا نہیں گئے ‘‘ناول نگار نے فوراً جواب دیا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ہرگز نہیں۔میری توجہ ہمیشہ اگلے پیراگراف پرلگی رہتی تھی ‘‘۔
انسانی زندگی بھی اسی قسم کی ایک طویل اکتا دینے والی کہانی ہے جو ہماری کامیابیوں اورناکامیوں کے واقعات کے ساتھ ہر آن لکھی جارہی ہے۔اس لمبی اورخشک کہانی سے مسلسل دل چسپی باقی رکھنے کی ایک ہی صورت ہے۔وہ یہ کہ آدمی کی توجہ ،ہمیشہ کہانی کے اگلے پیراگراف پر لگی رہے۔
یہی بات آخرت کے اعتبار سے بھی درست ہے۔ایک شخص یہ فیصلہ کرے کہ وہ موجودہ دنیا میں حق کے مطابق زندگی گزارے گا۔وہ وہی کرے گا جو کرنا چاہیے اوروہ نہیں کرے گاجو نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے شخص کو بہت جلد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ’’پانے‘‘ کے بجائے ’’کھونے ‘‘کی راہ اختیار کی ہے۔ اس کو موجودہ دنیا میں اپنی محنتوں اورقربانیوں کا صلہ نہیں ملتا۔
جن لوگوں کو اس نے ملانا چاہاتھا وہ شکاتیں لے کر الگ ہوجاتے ہیں۔جن لوگوں کواس نے اپنا ساتھی سمجھا تھا وہ اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔جن لوگوں کی خاطر اس نے اپنی زندگی ویران کردی تھی ان سے اسے صرف الزامات کے تحفے حاصل ہوتے ہیں۔ دوسرے لوگ اس سے کم محنت کرکے اپنا ’’محل‘‘کھڑا کرلیتے ہیں اوراس کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ محنت کرنے کے باوجود اس کا ’’جھونپڑا ‘‘بھی تیار نہیں ہوتا۔
ایسی حالت میں حق کے راستہ پر قائم رہنے کی ایک ہی صورت ہے۔وہ یہ کہ آدمی اپنی توجہ آخرت کی طرف لگالے۔اس کی نظر کہانی کے ’’اگلے پیراگراف‘‘پر مرتکز رہے۔کوئی بڑی کامیابی اسی شخص کے حصہ میں آتی ہے جو ’’آج‘‘کی محرومی کے بجائے ’’کل‘‘کی یافت پر نگاہ رکھے۔جو کچھ کل ملنے والا ہے اس کی خاطر وہ آج کو نظر انداز کردے۔
خداکی پکار
خدا کا داعی
ایک سائنس داں ایک بلڈنگ کے اندر ہے۔اس کے آلات اس کو بتاتے ہیں کہ چند منٹ کے اندر یہاں بھونچال آنے والا ہے۔ دوسری طرف وہ دیکھتا ہے کہ بلڈنگ کے اندر بعض دوسرے انسانی مسائل بھی ہیں۔ایسی حالت میں سائنس داں کیا کرے گا۔ اس وقت دوسرے مسائل اس کی نظر میں چھوٹے ہوجائیں گے۔وہ ان کو بھول جائے گا۔ وہ صرف ایک ہی آواز دے گا — لوگو،چند لمحہ میں بھونچال اس بلڈنگ کو ڈھادینے والا ہے۔تم لوگ فوراً بلڈنگ سے نکل کر باہر آجائو۔سائنس داں اس وقت بلڈنگ کے مسائل پر تقریر نہیں کرے گابلکہ وہ بلڈنگ کو چھوڑنے کا مبلغ بن جائے گا۔
اب دوسری مثال لیجیے۔ایک ایسے آدمی کا تصور کیجیے جو کائنات میں ایسے مقام پر کھڑاہوا ہے جہاں سے وہ ایک طرف ہماری موجودہ دنیا کو دیکھ رہا ہے اوردوسری طرف جنت کا باغ اورجہنم کی آگ کے مناظر بھی اس کو بخوبی طور پر نظر آرہے ہیں۔ایسا آدمی اس وقت کیاکرے گا۔وہ کون سی بات ہوگی جس کے متعلق وہ چاہے گاکہ لوگوں کو اس کی خبر دے۔
یقینی طورپر وہ ایسا نہیں کرے گا کہ دنیا کے مسائل پر تقریر شروع کردے یا فلاح تمدن کا نسخہ لوگوں کو بتانے لگے۔اس کے پاس کہنے کو جو سب سے بڑی بات ہوگی وہ صرف یہ ہوگی کہ لوگو،جہنم کی آگ سے بھاگو اوراپنے آپ کو جنت کا مستحق بنائو۔
ایک شخص اگر اس سے بے خبر ہوکہ ایک سخت بھونچال اگلے لمحہ عمارت کو ڈھادینے والا ہے تو وہ دوسری باتوں کو مسئلہ سمجھ سکتا ہے۔مگر جو شخص بھونچال کو آتے ہوئے دیکھ رہا ہو اس کو بھونچال کے سوا کوئی اوربات یاد نہیں رہے گی۔حتیٰ کہ وہ ادبی تقاضے کے مطابق شاید جملہ کہنا بھی بھول جائے کہ لوگو،بھونچال آرہا ہے ،تم لوگ اپنے آپ کو بھونچال سے بچائو۔وہ سب کچھ بھول کر صرف یہ پکارتا ہوا بھاگے گا کہ — بھونچال ،بھونچال۔
خدا کے داعی کا معاملہ بھی یہی ہے۔خدا کا داعی وہ ہے جس کو پردہ کے اس پارسے جنت کی خوشبو آرہی ہواور وہ جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہو۔ایسا شخص یقینی طور پر صرف آخرت کی باتیں کرے گا۔دوسری چیزیں اس کے ذہن سے اس طرح نکل جائیں گی۔جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔
کرنے کا کام
زندگی میں سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ خوف کا جذبہ ہے۔خوف کا جذبہ آدمی کے فکروعمل کی صلاحیتوں کو جتنا جگاتا ہے کوئی دوسری چیز اس کو اتنا نہیں جگاتی۔
دنیا کی تمام سرگرمیاں کسی نہ کسی خوف کا نتیجہ ہوتی ہیں — معاشی بدحالی کا خوف ، بےعزت ہونے کا خوف ،برتر طاقت کا خوف ،قوی دشمن کا خوف یا اورکوئی خوف۔ہر آدمی کسی دیکھے یا ان دیکھے خوف کے تحت عمل کرتا ہے۔خواہ وہ اس کو شعوری طورپر جانتا ہویا نہ جانتا ہو۔
مگر یہ تما م جھوٹے خوف ہیں۔اصلی خوف جس کے تحت آدمی کو متحرک ہونا چاہیے۔ وہ صرف ایک خداکا خوف ہے۔خدا ہی اس قابل ہے کہ اس سے ڈراجائے اوراس سے تمام اندیشے وابستہ کیے جائیں۔وہ تمام سرگرمیاں باطل ہیں جو کسی دوسرے خوف کی بنیاد پر ابھری ہوں۔اورصرف وہی سرگرمی سچی سرگرمی ہے جو اللہ کے خوف کی بنیاد پر قائم ہو۔
خدانے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے۔وہی ہر چیز کا مالک ہے۔اسی کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔یہ واقعہ کافی ہے کہ آدمی صرف ایک خدا سے ڈرے۔مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔اس سے زیادہ سخت بات یہ ہے کہ خدا نے انسان کو صرف پیدا کرکے چھوڑ نہیں دیا ہے۔وہ ہر شخص کو بالآخر اپنے پاس بلائے گا۔ اس دن وہ ہر ایک سے اس کے قول وعمل کا حساب لے گااورہر ایک کو اس کے کارنامہ زندگی کے مطابق اچھا یا برابدلہ دے گا۔
واقعہ کا یہ پہلو زندگی کے معاملہ کو بے حد سنگین بنا دیتا ہے۔اس کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی ماتحتی میں دے دے۔اگر اس نے ایسا نہ کیا تو وہ سخت ترین سزاسے کسی طرح بچ نہیں سکتا۔
کرنے کا کام کیا ہے ،اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ہے اوروہ یہ کہ اپنے آپ کو اوردوسرے بندگان خدا کو آگ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ خدا کے پیغمبر وں نے زندگی کی جو حقیقت بتائی ہے اس کے مطابق زندگی کا اصلی مسئلہ یہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچ سکے۔ اس آنے والے دن کی سختیوں سے اپنے آپ کو بچانا اوردوسرے انسانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرنا،یہی موجودہ دنیا میں کرنے کا اصل کام ہے۔اس کے سوا جومطلوب چیزیں ہیں وہ سب اسی کام کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔
مقبولیت کا راز
بنجامن فرینکلن(Benjamin Franklin)اپنے بچپن میں نااہلی (tactlessness) کے لیے مشہور تھا۔مگر بعد کو اس نے اتنا مقام پیدا کیا کہ وہ امریکاکی طرف سے فرانس میں سفیر بناکر بھیجا گیا۔ اس کی کامیابی کا راز کیا تھا۔صرف یہ کہ تجربات سے اس نے جانا کہ لوگ اپنے خلاف تنقید سے بہت برہم ہوتے ہیں۔اس نے طے کیاکہ میں کبھی کسی کی کوئی خرابی نہیں بیان کروں گا۔میں ہر ایک کی صرف خوبیاں بیان کروں گا:
I will speak ill of no man and speak all the good I know of everybody.
یہی وجہ ہے کہ بااصول آدمی ہمیشہ سب سے زیادہ مبغوض ہوتا ہے اوربے اصول آدمی کو لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔بااصول آدمی ہمیشہ حق کہتا ہے ،خواہ وہ کسی کے موافق ہویاکسی کے خلاف۔جب کہ بے اصول آدمی ہر موقع کے لحاظ سے وہ بات کہتا ہے جس کو سن کر لوگ خوش ہوجائیں۔سب کی پسند کی بات کہنے کی اسے یہ قیمت ملتی ہے کہ وہ سب کی نظر میں پسند یدہ شخص بن جاتاہے۔
یہ طریقہ تاجر کے لیے یقیناً مفید ہے مگر وہ داعی اورمصلح کے لیے زہر کی حیثیت رکھتا ہے۔اس طرح بولنے والے کے اندر وہ کردارا بھرتا ہے جس کو شریعت کی زبان میں منافق کہا گیا ہے۔وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جو اند رسے کچھ ہوتا ہے اورباہر سے کچھ۔وہ دل میں ایک چیز کو حق سمجھتا ہے اورزبان سے اس کے خلاف بولتا ہے۔ اس کی عقل اس کو ایک طریقہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے مگر محض اپنی قیادت کو باقی رکھنے کی خاطروہ لوگوں کے سامنے دوسرے طریقہ کی وکالت کرتا ہے۔اس کی آنکھ اس کو جو چیز اندھیرے کی صورت میں دکھاتی ہے اس کو وہ اپنی زبان سے اجالا بناکر پیش کرتا ہے۔ ایسا انسان باعتبار حقیقت ایک مردہ انسان ہے۔اگرچہ بظاہر وہ زندہ اورخوش پوش دکھائی دیتا ہو۔
داعی خدا کا سفیر ہوتا ہے۔مگر دنیوی حکومتوں کے سفیر میں اورخدا کے سفیر میں بہت بڑا فرق ہے۔ دنیوی حکومت کا سفیر وہ بات کہنے کے لیے بھیجاجاتا ہے جس سے لوگ خوش ہوں۔مگر خدا کا سفیر لوگوں کے سامنے اس لیے آتا ہے کہ انہیںوہ بات بتائے جس سے خدا خوش ہوتا ہے۔ایک مصلحت کو سامنے رکھ کر بولتا ہے۔دوسرا حق کے تقاضے کو سامنے رکھ کر بولتا ہے۔خواہ اس کی وجہ سے وہ لوگوں کے درمیان غیر مقبول ہوجائے ۔
داعی کون
داعی پیغمبر نہیں ہوتا مگر وہ خدا کا پیغام دینے والا ہوتا ہے۔اس کو وہ بات کہنی پڑتی ہے۔جو خداکی بات ہے۔اس کو وہ حق پیش کرنا ہوتا ہے جس میں غیر حق کی کوئی ملاوٹ شامل نہ ہو۔دعوت خدا کے بندوں کے سامنے خدا کی نمائندگی ہے اورخدا کی نمائندگی کبھی مصلحت اورملاوٹ کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔
داعی وہ شخص بنتا ہے جس کے اوپر قرآن کے معانی اس طرح کھلیں جیسے کہ قرآن اس کے اوپر ازسرنو اتررہا ہے۔داعی وہ شخص ہے جس کے لیے کائنات جبریل امین کی قائم مقام بن جائے۔وہ خدا کی دنیا میں اسی طرح خدا کا پیغام اخذ کرنے لگے جس طرح ریڈیو سٹ نشرگاہ کے پیغام کو اخذ کرتا ہے۔سائنس داں کائنات میں قانون فطرت کو پڑھتا ہے۔ داعی وہ ہے جو کائنات میں قانون ربانی کو پڑھنے لگے۔
دعوت خدا کے کلام کو انسانی کلام میں ڈھالنا ہے۔دعوت خدا کی اس تسبیح کو الفاظ کا روپ دینا ہے جو کائنات میں خاموش صورت میں بیان ہورہی ہے۔دعوت وہی دعوت ہے جس میں حق کو بالکل برہنہ صورت میں دکھادیاجائے۔مگرحق کو برہنہ کرنے کے لیے داعی کو خود بھی ’’نذیر عریاں‘‘بن جانا پڑتا ہے۔داعی بننا ہمیشہ اپنی ہلاکت کی قیمت پر ہوتا ہے۔ ماں کے پیٹ سے پیدا شدہ انسان ہلاک ہوجاتا ہے اوراس کے اندر سے ایک نیا انسان ظہور میں آتا ہے اسی کانام داعی ہوتا ہے۔ داعی انسان کے روپ میں غیر انسان ہوتا ہے۔ داعی لوگوں کے درمیان رہ کرا پنے آپ کو لوگوں سے جداکرتا ہے ،اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ خداکاداعی بنے۔
داعی بننے کے لیے اپنے آپ کو حذف کرنا پڑتا ہے۔دین کو اپنا فخر بنانے کے بجائے دین کو اپنا درد بنانا پڑتا ہے۔اس کے بعد ہی کسی کو داعی کا مقام ملتا ہے۔ دوسرے انسانوں کو اس دین سے دلچسپی ہے جو آپ کا درد ہو۔ان کو اس دین سے دلچسپی نہیں ہوسکتی جو آپ کا فخر ہو۔دعوت اورفخردونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔
داعیانہ اخلاق کی ضرورت
ایک شخص تاجر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے،دوسرا شخص دادا گیری کو اپنا پیشہ بنائے ہوئے ہوتو دونوں کا اخلاق یکساں نہیں ہوسکتا۔تاجر کا اخلاق اورہوگا اور داداگیری کرنے والے کا اور۔یہی معاملہ داعی کا ہے۔جو شخص یاگروہ حق کا داعی بنے ضروری ہے کہ اس کی اخلاقیات بھی اس کے مطابق ہوں۔اگر وہ زبان سے داعی ہونے کا مدعی ہومگر اس کا اخلاق غیر داعیانہ ہوتو وہ لوگوں کی نظر میں مسخرہ بن کر رہ جائے گا،وہ داعی کی حیثیت سے اپنا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔
انتہائی لازمی طورپر ضروری ہے کہ داعی اورمدعوکے درمیان غیر دعوتی امورپر جھگڑے نہ کھڑے کیے جائیں۔غیر دعوتی جھگڑے اس فضا ہی کو ختم کردیتے ہیں جس میں داعی اپنی دعوت پیش کرے اورمدعواس کو سنجیدگی اورہمدردی کے ساتھ سنے۔
تاہم یہ دعوتی فضا داعی سے بہت بڑی قیمت مانگتی ہے۔یہ قیمت صبر ہے۔داعی کو ارادی اورشعوری طورپر یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ وہ نقصانات اورتکلیفوں پر صبر کرے گا۔حضرت مسیح کے تمثیلی الفاظ میں مدعواگراس کا کرتا چھینے تو وہ اس کواپنا چغہ بھی دینے کے لیے تیار رہے۔مدعو اگر ایک کو س بیگار چلنے کو کہے تو وہ دوکوس بیگارچلا جائے۔تاکہ کوئی غیر متعلق جھگڑاکھڑاہوکر دونوں کے درمیان ایسی صورت نہ پیداکردے کہ سننے اورسنانے کا ماحول ہی ختم ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ماں اپنے بچہ کو دواکھلانا چاہتی ہواوراس وقت بچہ کوئی دوسری ضد شروع کردے تو ماں بچہ کی اس ضد کی راہ میں حائل نہیں ہوتی کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ دوا کھلانے کا کام رک جائے اوربچہ اورماں کے درمیان ساری نزاع ایک غیر متعلق ضد پر ہونے لگے۔اسی طرح داعی کو چاہیے کہ مدعوکے ہر وار کو اپنے اوپر سہتارہے تاکہ دونوں کے درمیان اعتدال کی فضا قائم رہے اورداعی اپنی اصل بات کو مدعو کے دل میں اتار سکے۔مدعو گروہ سے دوسری دوسری شکایتوں پر کش مکش صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے ذہنوں میں اپنے داعی ہونے کا شعور ختم ہوگیا ہو۔جنھوں نے اپنی داعیانہ حیثیت کھودی ہو اوروہ دوسری قوموں کی طرح محض ایک قوم بن کررہ گئے ہوں۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر سے داعیانہ شعور ختم ہوگیاہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام سرگرمیاں بالکل قومی بن کر رہ گئی ہیں۔اس روش نے مسلمانوں کو خداکی نصرت سے محروم کردیاہے۔کیونکہ خدا کی نصرت دعوت الی اللہ کے لیے اٹھنے والوں کو ملتی ہے نہ کہ قومی جھگڑاکرنے والوں کو۔
رہنماکی ضرورت
ہم کو بھوک لگتی ہے۔ہم اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کھانا موجود تھا جو ہماری بھوک کو مٹائے۔ہم اپنی پیاس کو بجھانے کے لیے عمل کرتے ہیں۔یہاں تک کہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہاں پانی موجودتھا جو ہماری پیاس کو بجھائے۔ایسا ہی معاملہ سچائی کا ہے۔آدمی ہمیشہ سچائی کا تلاش میں ہے۔یہ تلاش ہی اس بات کو ثابت کررہی ہے کہ یہاں کوئی سچائی ہے جسے آدمی کو جاننا چاہیے۔سچائی کھانے اورپینے سے زیادہ بڑی ہے۔پھرجب ہماری چھوٹی طلب کا جواب اس دنیا میں موجود ہے تو ہماری بڑی طلب کاجواب یہاں کیوں نہ موجودہوگا۔
سچائی کا سوال اپنی حقیقت کو جاننے کا سوال ہے۔آدمی اچانک ایک روز پیدا ہوجاتا ہے۔حالاں کہ اس نے خود کو پیدانہیں کیاہے۔وہ اپنے آپ کو ایک دنیا میں پاتا ہے جو اس سے الگ خود اپنے آپ قائم ہے۔وہ پچاس سال یا سو سال اس دنیا میں رہ کر مرجاتا ہے۔ اس کو نہیں معلوم کہ وہ مرکر کہاں جاتا ہے۔زندگی اورموت کی اسی حقیقت کو جاننے کا سوال سچائی کا سوال ہے۔
مگر ایک شخص جس طرح کھانا اورپانی کو جان لیتا ہے اسی طرح وہ سچائی کو نہیں جان سکتا۔سچائی یقینی طورپر لامحدوداورابدی ہے۔سچائی اگر لا محدود اورابدی نہ ہو تو وہ سچائی نہیں۔مگر آدمی کی عقل اوراس کی عمر دونوں محدودہیں۔محدود عقل لامحدود سچائی تک نہیں پہنچ سکتی۔محدودعمر کا آدمی ابدی سچائی کو دریافت نہیں کرسکتا۔
آدمی کی یہی نارسائی یہ ثابت کرتی ہے کہ سچائی کو جاننے کے لیے اسے پیغمبر کی ضرورت ہے۔’’پیغمبری‘‘کیاہے۔پیغمبری کا مطلب یہ ہے کہ وہ سچائی جہاں تک آدمی اپنے آپ نہیں پہنچ سکتا تھا وہ خود آدمی تک پہنچ جائے۔جس سچائی کو ہم اپنی کو ششوں سے نہیں جان سکے ،وہ خود ظاہر ہوکر اپنے بارے میں ہمیں بتادے۔
حقیقت سے لوگوں کو پیشگی طور پر باخبر کرنے کے لیے اس کو خدانے پیغمبر کے ذریعہ کھولا۔موجودہ امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کو براہ راست ہر آدمی پر کھول دیاجائے گا۔پیغمبر نے بتایا کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ جس خداکی اطاعت ساری کائنات جبر کے تحت کررہی ہے اسی خداکی اطاعت انسان ارادہ کے تحت کرنے لگے۔ وہ اپنے اختیار سے خود کو خدا کے آگے بے اختیار بنالے۔خداکی دی ہوئی آزادی کے باوجود جو لوگ خدا کے محکوم بن جائیں ان کے لیے جنت اورجو لوگ آزادی پاکر سرکش بن جائیں ان کے لیے جہنم۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خداکاداعی
داعی بننا خدا کا پیغام بر بننا ہے۔خدا کاپیغام بروہی بن سکتا ہے جو خدا سے پاکر بولے اورخدا سے سن کر کلام کرے۔
خدا ملفوظ کلام میں بھی بولتا ہے اورغیر ملفوظ کلام میں بھی۔خداکا ملفوظ کلام رسولوں کے لیے خاص ہے اوروہ آخری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہوگیا۔موجودہ دنیا میں اب خدا کسی سے ملفوظ زبان میں کلام کرنے والا نہیں۔
مگر خداکا غیر ملفوظ کلام بدستورجاری ہے۔جس طرح کسی شخص کے پیغمبر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خدا کا ملفوظ کلام پہنچے۔اسی طرح داعی وہی شخص بن سکتا ہے جو خداکے غیر ملفوط کلام کا آخذ( Recipient)ہو۔جس کو خدا کا غیر ملفوظ کلام مسلسل مل رہا ہو۔کوئی شخص وحی کے بغیر پیغمبرنہیں بن سکتا۔اسی طرح کوئی شخص خداکاداعی نہیں بن سکتا جب تک اس کی رسائی خداکے غیر ملفوظ کلام تک نہ ہوجائے۔
خداہوائوں کو اپنا سفیر بناکر بھیجتا ہے۔خدا چڑیوں کی صورت میں اپنا نغمہ بکھیرتا ہے۔خدادریا کے تموج کے ذریعہ آواز دیتا ہے اورسورج کی روشنی کے ذریعہ اپنی مرضی سے مطلع کرتا ہے۔ وہی شخص داعی ہے جو خداکے ان اعلانات کو سن کر اسے دوسروں کو سنانے کے لیے اٹھے۔جو شخص اس کے بغیر خداکا داعی بن کر کھڑاہواجائے وہ خداکا مجرم ہے نہ کہ خداکا داعی۔
داعی حقیقتاً وہ ہے جس کے بارے میں خداکے فرشتے گواہی دیں کہ خدایاتیرا یہ بندہ وہ ہے جو دوسروں کو وہ چیزدینے کے لیے اٹھا جس کو اس نے تجھ سے پایا تھا۔تو آسمانوں کے ذریعہ جس حقیقت کا اعلان کررہا تھااس کو اس نے سنا اورتیرے بندوں کو اسے سنایا۔تو نے سورج اورچاند کے ذریعہ جس ہدایت کو کھولا اس کو تیرے بندے نے پڑھا اورلوگوں کو اسے پڑھوایا۔تو درختوں اورپہاڑوں کے ذریعہ اپنی جس مرضی کو ممثل کررہا تھا۔اس کو اس نے پہچانا اورلوگوں کو اس سے آگاہ کیا۔
دعوت کا عمل ایک انتہائی زندہ عمل ہے۔داعی کو ہر روز نئی چیز دریافت کرنا چاہیے۔ اس کو ہر روز خدا کا نیا فیضان ملنا چاہیے۔ساری کائنات کو اس کے لیے نہ ختم ہونے والا دستر خوان بن جانا چاہیے۔اگر ایسا نہ ہو تو داعی جمودکاشکار ہوجائے گا۔اورجو شخص جمود کا شکار ہوجائے وہ خود مو ت سے دوچار ہوچکا ہے۔وہ دوسروں کو زندگی کاپیغام کیادے گا۔
غلط فہمی
حضرت موسیٰ اورحضرت ہارون نے جب فرعون مصر کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو اس نے کہا کہ تم دونوں چاہتے ہوکہ زمین میں بڑائی تمھارے لیے ہو(یونس،10:78)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی دعوتی تقریر میںصرف خدا کی بڑائی بیان کی تھی پھر فرعون نے اس کو اس معنی میں کیوں لے لیا کہ موسیٰؑ اوراس کے بھائی خود اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔اس نے خدا کی بڑائی کی بات کو خود متکلم کی بڑائی کے ہم معنی کیوں سمجھ لیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ فرعون خدا کی بڑائی سے واقف نہ تھا۔وہ صرف انسان کی بڑائی کو جانتا تھا۔اس کو بس اتنی ہی خبر تھی کہ انسان بڑے ہواکرتے ہیں۔اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ خداسب سے بڑاہے۔
ایسے لوگوں کی طرف سے دعوت حق کا رد عمل ہمیشہ اسی شکل میں ہوتا ہے۔وہ خدا کی بڑائی سے واقف نہیں ہوتے۔اس لیے داعی جب خدا کی بڑائی بیان کرتا ہے تو وہ اس کو اس کے سوا کسی اورمعنی میں نہیں لے پاتے کہ داعی خود اپنی بڑائی بیان کررہا ہے۔
وہ بے آمیز سچائی کو نہیں جانتے۔وہ صرف اس سچائی سے آشنا ہوتے ہیں جس کے اوپر ان کی محبوب شخصیتوں کی مہر لگی ہوئی ہو۔ اس لیے داعی جب ان کے سامنے بے آمیز سچائی بیان کرتا ہے جس کے اوپر خدا کی مہر لگی ہوئی ہوتو اس کو وہ پہچان نہیں پاتے۔اس کو وہ داعی کے اپنے احساس برتری پر محمول کرکے نظر انداز کردیتے ہیں۔
وہ برتر صداقت سے آشنانہیںہوتے۔وہ صرف اس صداقت کو جانتے ہیں جو ان کے قومی تقاضوں کے ساتھ لپٹی ہوئی ہو۔اس لیے داعی جب برتر صداقت کا اعلان کرتا ہے تو اس کو سن کر وہ متوحش ہوجاتے ہیں۔ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسی بھی کوئی صداقت ہوسکتی ہے جو ان کے قومی عزائم سے الگ اپنا وجود رکھتی ہو۔
ایسے لوگ اپنی بے خبری کا الزام داعی کے اوپر ڈال دیتے ہیں۔ وہ یہ کہہ کر اس کو نظراندازکر دیتے ہیں کہ وہ کبر میں مبتلا ہے۔ وہ اپنا نام بلند کرنا چاہتا ہے۔ داعی خدا کی بڑائی کا اعلان کرتا ہے اور بے خبر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ داعی خود اپنی بڑائی کا اعلان کر رہا ہے۔ داعی خدا کی ذات کمال کی حمد بیان کرتا ہے مگر بے خبر لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی خودستائی میں مشغول ہے۔ داعی حق کی یکتائی پر زور دیتا ہے اور بے بصیرت لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنی انانیت کا اظہار کر رہا ہے۔
حق کی دعوت
آج کل ہر آدمی دعوت حق کا نام لیتا ہے مگر دعوت حق ابھی تک وجود میں نہیں آئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہ اس کی قیمت ادا کرنا نہیں چاہتے۔ہر چیز کی ایک کی قیمت ہوتی ہے اوردعوت حق کی بھی ایک قیمت ہے۔جب تک وہ قیمت ادا نہ کی جائے دعوت حق کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔
حق کی دعوت دینے کی لازمی شرط یہ ہے کہ غیر حق کو چھوڑدیا جائے — خدا کی بڑائی بیان کرنے کے لیے اٹھنا اورانسانوں کی بڑائی میں گم رہنا ،آخرت کاداعی بننا اوردنیا کے مفادات کے لیے قوموں سے کش مکش کرنا ،ابدی مسائل کی بات کرنا اوراسی کے ساتھ وقتی مسائل میں الجھے رہنا ،یہ سب تضاد کی باتیں ہیں اورجو لوگ اپنے اندر تضاد لیے ہوں وہ کبھی حق کے داعی نہیں بن سکتے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس قسم کا ہر واقعہ بتاتا ہے کہ لوگ ’’داعی حق‘‘کا ٹائٹل لینے کے لیے تو دوڑ پڑے ہیں مگر وہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیارنہیں۔
لوگوں کو اپنی مفروضہ شخصیتیں اتنی زیادہ محبوب ہیں کہ ان پر ادنیٰ تنقید سننا بھی انہیںگوارانہیں۔لوگوں کو اپنے دنیا کے مفادات اورمصلحتوں سے اتنی دلچسپی ہے کہ وہ ان کو کسی حال میں چھوڑنا نہیں چاہتے۔جو قومیں اسلام کے پیغام رحمت کی مخاطب ہیں ان سے وہ قومی اورمادی لڑائی چھیڑ کر انہیںاسلام سے بدکائے ہوئے ہیں۔اس قسم کی چیزوں کے ساتھ حق کی دعوت کا نام لینا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ آدمی حق کی دعوت کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حق کی دعوت ابدی صداقتوں کی دعوت ہے۔حق کی پکار خدااورآخرت کی پکار ہے۔یہ ایک نہایت نازک کام ہے جس کے ساتھ کوئی دوسرا کام جمع نہیں ہوسکتا۔
حق کا داعی لوگوں کو موت اورقیامت کے بھیانک مسئلہ سے آگاہ کرتا ہے۔اس کو ہر واقعہ میں آخرت کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔وہ گرمی کی شدت دیکھتا ہے تو اس میں اس کو نارجہنم کی شدت دکھائی دیتی ہے۔ اس کو معاشی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے تو وہ بھی اس کو آخرت کی تکلیف یاد دلانے والا بن جاتا ہے۔وہ لوگوں کو ’’ظلم ‘‘کے خلاف چیختے ہوئے دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ لوگو،اس دن کو یاد کروجب تمہارے پاس زبان بھی نہ ہوگی کہ تم بولواورپانی کا ایک گلاس بھی نہ ہوگا جس سے تم اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آخرت کی پکار
ایک مسئلہ آدمی کے ذہن پر بہت زیادہ چھایا ہواہوتو دوسرے تمام مسائل سے اس کی نظریں ہٹ جاتی ہیں۔وہ اپنے مخصوص مسئلہ کا اس طرح مبلغ بن جاتا ہے جیسے کہ بس وہی سارا مسئلہ ہے۔اس کے سواکسی اورمسئلہ کا کوئی وجود نہیں۔
کارل مارکس کے ذہن پر ’’معاش ‘‘کا مسئلہ چھاگیا۔اس کا نتیجہ یہ ہواکہ مذہب ، اخلاق ،فلسفہ ،ہر دوسری چیز کو اس نے نظر اندازکردیا۔ٹالسٹائی کے ذہن پر ’’انسانیت‘‘ کا غلبہ تھا۔اس نے انسانیت کی باتیں اس طرح بتکرارکہیں گویادوسرے سیاسی اوراقتصادی پہلوئوں کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔ہندستان میں بہت سے لیڈروں پر آزادی وطن کا خیال چھاگیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری تمام چیزیں ان کے یہاں غفلت کے خانہ میں چلی گئیں۔
یہی معاملہ ایک اورصورت میں حق کے داعی کا ہے۔حق کے داعی کی نظر میں سب سے زیادہ اہمیت آخرت کی ہوتی ہے۔وہ جہنم سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے اورجنت کا سب سے زیادہ مشتاق ہوتا ہے۔اس کے قدرتی نتیجہ کے طورپر یہ ہوتا ہے کہ دوسرے تمام مسائل اس کی نظر میں ایسے بن جاتے ہیں جیسے کہ ان کا کوئی وجود نہیں۔
مزدوراورصنعت کار کے معاملات کیا ہیں۔ملک پرکس شخص یاکس قوم کی حکومت ہے۔عہدوں کی تقسیم میں کس کو زیادہ حصہ مل رہا ہے اورکس کو کم۔ایک قوم نے دوسری قوم کے خلاف کیا جارحانہ منصوبے بنارکھے ہیں۔اس طرح کی تمام چیزیں داعی حق کی نظر میں غیر اہم ہوتی ہیں۔دنیا کے مسائل اس کے لیے اسی طرح ناقابل ذکر بن جاتے ہیں جس طرح عام قائدین کے لیے موت اورآخرت کے مسائل ناقابل ذکر بنے ہوئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہاں صرف دوہی پکار یں ہیں۔ایک دنیا کی پکار ،دوسری آخرت کی پکار،آج تمام پکارنے والوں کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں کو دنیا کی طرف بلارہے ہیں۔ وہ لوگوں کو سیاسی اورمعاشی اورسماجی خطرات سے آگاہ کررہے ہیں۔بظاہر ان میں سے کوئی سیکولر اصطلاحوں میں بول رہا ہے اوراورکوئی مذہب کی اصطلاحوں میں۔مگر حقیقت کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں۔کیوں کہ سب کے سب دنیا کے مسائل کو اپنی توجہات کا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔
نازک سوال
آرتھرکوئسلرموت کی طرف سفرکونامعلوم ملک(Unknown Country)کی طرف سفر کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت ہماری زندگی کا سب سے عجیب اورپراسرارواقعہ ہے۔ہر آدمی متجسس ہوتا ہے کہ یہ معلوم کرے کہ مرکروہ کہاں پہنچنے والا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امریکاکے مشہور مشنری ڈاکٹر بلی گرہم(1918-2018) کی ایک کتا ب ہے جس کا نام ہے مسرت کا راز ( The Secret of Happiness ) اس کتا ب میں بلی گرہم نے لکھا ہے کہ ایک بار مجھے دنیا کے ایک بہت بڑے لیڈرکا ارجنٹ پیغام ملا۔پیغام میں کہا گیا تھا کہ فوراً مجھ سے ملاقات کرو۔
میں روانہ ہوکر مذکورہ لیڈرکے یہاں پہنچا۔جب میں لیڈرسے اس کے دفتر میں ملاتو وہ فوراً مجھے الگ کمرہ میں لے گیااورمجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے بڑئے موثرلہجہ میں کہا:
I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the Unknown. Young man. can you give me a ray of hope.
میں ایک بوڑھا آدمی ہوں۔زندگی نے اپنی تمام معنویت کھودی ہے۔عنقریب میں نامعلوم دنیا کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں۔اے نوجوان شخص ،کیا تم مجھے امید کی کوئی کرن دے سکتے ہو۔
موت ہر آدمی کا پیچھا کررہی ہے۔بچپن اورجوانی کی عمر میں آدمی اسے بھولا رہتا ہے۔مگر بالآخر تقدیر کا فیصلہ غالب آتا ہے۔بڑھاپے میں جب اس کی طاقتیں گھٹ جاتی ہیں۔تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب میں بہرحال جلد ہی مرجائوں گا۔اس وقت وہ مجبور ہوتا ہے کہ سوچے کہ ’’موت کے بعد کیا ہونے والا ہے ‘‘اسے تلاش ہوتی ہے کہ وہ کوئی امید کی کرن پالے جو موت کے بعد آنے والے حالات میں اس کی زندگی کو تابناک کرسکے۔
حقیقت یہ ہے کہ خداکے پیغمبر اسی امید کی روشنی کو دینے کے لیے آئے۔پیغمبروں نے انسان کو بتایا کہ موت کے بعد ایک اوردنیا ہے جو ابدی بھی ہے اورمعیاری بھی۔موت کے بعد کی اس کامل دنیا میں اس کو داخلہ ملے گاجو موت سے پہلے کی دنیا میں صالح اعمال سے اس کا استحقا ق ثابت کرے۔
حقیقت یہ ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں۔موت دوسری دنیا کی طرف ایک چھلانگ ہے۔ موت ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف سفر ہے۔کامیاب انسان وہ ہے جس کی موت اس کو اس کی منزل مقصود تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائے۔
داعی بننے کے لیے
مائیکل فیراڈے(1791-1867ء) اورلارنس براگ(1890-1971ء) عہد جدید کے بہت کامیاب معلم سمجھے جاتے ہیں۔یہ دونوں لندن کے رائل انسٹی ٹیوٹ میں لکچر دیاکرتے تھے۔
کامیاب لکچر کا راز کیا ہے ،اس کے بارے میں دونوں کی یادداشتیں شائع ہوئی ہیں۔ ہم بالترتیب دونوں کا ایک ایک فقرہ یہاں نقل کرتے ہیں جو گویاان کے تجربات کا خلاصہ ہے۔
I am sorry to say that the generality of mankind cannot accompany us one short hour unless the path is strewn with flowers.
میں افسوس کے ساتھ یہ کہوں گاکہ بیشتر انسان ایک گھنٹہ کے مختصر وقت میں بھی ہمارے ہم سفر نہیں بن سکتے الاّ یہ کہ راستہ پھولوں سے سجادیاگیاہو۔
The essential feature for success of the lecture is the emotional contact between the lecturer and the students.
لکچر کی کامیابی کے لیے ضروری بات یہ ہے کہ استاد اورطالب علم کے درمیان جذباتی ربط قائم ہوجائے۔
فیراڈے اوربراگ نے جو بات کامیاب معلم بننے کے لیے لکھی ہے ،وہی زیادہ شدت کے ساتھ کامیاب داعی بننے کے لیے ضروری ہے۔ داعی اورمدعو کا تعلق بے حد نازک تعلق ہے۔وہ اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک اس کی نزاکتوں کی پوری رعایت نہ کی جائے۔اپنے مدعو کو اپنا ہم سفر بنانے کے لیے آپ کو اس کے راستہ میں پھول بکھیرنا ہوگا۔راستہ میں کانٹے اورپتھر بچھا کر آپ مدعو کو اپنا ہم سفر نہیں بناسکتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح اپنی بات کو اس کے لیے قابل سماعت بنانے کی خاطر آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ اس کو اتنے موثر انداز میں کہیں کہ آپ کی بات محض ایک خشک تلقین نہ معلوم ہوبلکہ وہ سننے والے کے لیے ایک ایسا تجربہ بن جائے جس میں وہ اپنے لیے ایک کیفیاتی کشش پاتا ہو۔
حق کی پکار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت حق کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ نے مکہ کے باشندوں کو صفا پہاڑی کے پاس جمع کیا اورفرمایا کہ اے لوگو،جس طرح تم سوتے ہواسی طرح تم مروگے۔اورجس طرح تم جاگتے ہواسی طرح تم دوبارہ اٹھائے جائو گے۔اس کے بعد یاتو ابدی جنت ہے یاابدی جہنم ۔یہ سن کر ابو لہب نے کہا ،تمہارابراہو،کیاتم نے ہم کو اسی لیے بلایاتھا:تَبًّا لَكَ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلَّا لِهَذَا(صحیح مسلم، حدیث نمبر208)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ کے سردار بن کر مدینہ میں داخل ہوئے تو اس وقت بھی آپ نے اسی قسم کی تقریر فرمائی۔اس وقت بھی آپ کے پاس کہنے کی جو سب سے بڑی بات تھی وہ یہ تھی کہ اے لوگو! اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو:اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر1417)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہمارامقصد اسی پیغمبر انہ دعوت کو زندہ کرنا ہے۔لوگ مسائل زندگی کے لیے اٹھتے ہیں۔ہم مسائل موت کے لیے اٹھے ہیں۔کیاکوئی ہے جو اس مشن میں ہمارا ساتھ دے۔ لوگوں کو جنگ اورفساد کے شعلے دکھائی دیتے ہیں۔کیا کوئی ہے جس کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلے دکھائی دیتے ہوںتاکہ وہ ہماراساتھ دے کر دنیا والوں کو جہنم کے شعلوں سے ڈرائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لوگوں کو شہروں کی رونقیں دکھائی دیتی ہیں۔ہم ان انسانوں کی تلاش میںنکلے ہیں جن کو قبرستان کے ویرانے دکھائی دیں۔ایسے انسانوں سے دنیا پٹی ،ہوئی ہے جن کو یہ محرومی بیتاب کیے ہوئے ہے کہ ان کو کسی ادارہ میں داخلہ نہیں ملا۔ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو یہ غم بدحواس کردے کہ کہیں وہ جنت کے داخلہ سے محروم نہ ہو جائیں۔ لوگ دنیا کی بربادی کا ماتم کررہے ہیں۔ہم ان انسانوں کو ڈھونڈرہے ہیں۔جو آخرت کی بربادی کے اندیشے میں دیوانے ہوچکے ہوں۔
خداکی دنیا میں آج سب کچھ ہورہا ہے۔مگروہی ایک کام نہیں ہورہا ہے جو خداکو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔یعنی آنے والے ہولناک دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔اگر انسان اس پکار کے لیے نہ اٹھیں تو اسرافیل کا صوراسے اٹھائے گا۔مگر آہ،وہ وقت جاگنے کا نہیں ہوگا۔وہ ہلاکت کا اعلان ہوگا نہ کہ آگاہی کا الارم۔
یہ انسان
حضرت مسیح کے وعظوں میں سے ایک وعظ میں داعی اورمدعو کی تمثیل ہے۔یہاں ہم اس تمثیل کا عربی اوراردوترجمہ نقل کرتے ہیں: بِمَنْ أُشَبِّهُ هَذَا الْجِيلَ؟ إِنَّهُمْ يُشْبِهُونَ أَوْلاداً جَالِسِينَ فِي السَّاحَاتِ الْعَامَّةِ، يُنَادُونَ أَصْحَابَهُمْ قَائِلِينَزَمَّرْنَا لَكُمْ، فَلَمْ تَرْقُصُوا! وَنَدَبْنَا لَكُمْ، فَلَمْ تَبْكُوا(متی، 11:16-17)۔ترجمہپس اِس زمانہ کے لوگوں کو میں کس سے تشبیہ دوں وہ ان لڑکوں کی مانند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے اپنے ساتھیوں کو پکارکر کہتے ہیں۔ہم نے تمہارے لیے بانسری بجائی اورتم نہ ناچے۔ہم نے ماتم کیا اورتم نہیں روئے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خداکا داعی خداکے سمندر میں نہاتا ہے۔اس طرح اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ خداکی دنیا میں خداکے گیت گائے۔وہ فطرت کے سازپر خداکے ابدی نغمے چھیڑے۔ان نغمات میں ایک طرف خداکے حسن وکمال کی تجلیاں ہوتی ہیں جن کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کو سن کر آدمی رقص کر اٹھے۔ دوسری طرف ان نغمات میں خداکی پکڑکی تنبیہات ہوتی ہیں جو ایک حساس انسان کو تڑپا کر اسے رلادیں۔داعی خداکے جمال وجلال کا مظہر ہوتا ہے۔مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ان چیزوں سے کوئی اثر نہیں لیتا۔داعی کے کلام کی صورت میں خدا بالکل اس کے قریب آجاتا ہے،مگر اس وقت بھی وہ خداکو نہیں پاتا۔اس میں نہ حمدخداوندی کی کیفیات جاگتیں اور نہ خوف خدا سے اس کی آنکھیں ترہوتیں۔وہ نازک ترین پیغامات کوبھی پتھر کی طرح سنتا ہے نہ کہ اس انسان کی طرح جس کو خدا نے وہ عقل دی ہے جو باتوں کی گہرائی کو پالے اوروہ دل دیا ہے جو درد سے تڑپ اٹھے۔
خدا کی طرف سے پکار نے والے کا وجو دمیں آنا کسی مشین پر بجنے والے ریکارڈ کا وجود میں آنا نہیں ہے۔یہ روح انسانی میں ایک ایسے انقلاب کا برپا ہونا ہے جس کی شدت آتش فشاں پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے۔داعی کا بولنا اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر لانا ہوتا ہے۔ اس کا لکھنا اپنے خون کو سیاہی بنانے کے بعد وجود میں آتا ہے۔اس کے نغمے محض نغمے نہیں ہوتے بلکہ روح انسانی میں ایک خدائی بھونچال کی آواز ہوتے ہیں۔ مگر اس دنیا کا شاید یہ سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے کہ ایسے ربانی کلمات بھی انسان کو متاثر نہیں کرتے۔ داعی اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کے سامنے ’’نذیر عریاں ‘‘بن جاتا ہے ، اس کے باوجود وہ اندھابہرابنا رہتا ہے۔انسان کے سامنے جنت کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں، پھر بھی وہ وجد میں نہیں آتا۔ اس کو بھڑکتے ہوئے جہنم کا نقشہ دکھایا جاتا ہے، پھر بھی اس پر گریہ طاری نہیں ہوتا۔اس کے سامنے خدا خود آکر کھڑاہوجاتاہے، پھر بھی وہ سجدہ میں نہیںگرتا۔ انسان سے زیادہ نازک مخلوق خدانے کوئی نہیں بنائی، مگر انسان سے زیادہ بے حسی کا ثبوت بھی کوئی نہیں دیتا۔