← Allahu AkbarAllahu Akbar
حق کی پکار
Urdu · 125 min read
یہ انسان
خدا کا وجود
خد اکوپانے والا
خدا کوپانا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے۔کوئی آدمی جب خد اکو پاتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک ایسی زلزلہ خیز دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ہلا دیتی ہے۔
وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے۔وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔اس کی سوچ نئے رخ پر چلنے لگتی ہے۔اس کا عمل کچھ سے کچھ ہوجاتاہے۔اس کی تمام کارروائیاں ایک ایسے انسان کی کارروائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہو رسے پہلے خدا کو دیکھ لے۔جو قیامت کی ترازوکھڑی ہونے سے پہلے اپنے آپ کو قیامت کی ترازو پر کھڑاہوامحسوس کرنے لگے۔
مومن اورغیر مومن کافرق یہ ہے کہ غیر مومن پر جو کچھ قیامت میں گزرنے والا ہے وہ مومن پر اسی دنیا میں گزرجاتا ہے۔غیر مومن جو کچھ آخرت میں دیکھے گاوہ مومن اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔غیر مومن کل کے دن جو کچھ مجبور ہوکر مانے گا اس کومومن آج کے دن کسی مجبوری کے بغیر مان لیتا ہے۔
خدا کا وجود
خدا کے وجود کا سب سے بڑاثبوت انسان کاخود اپنا وجود ہے۔خدا جیسی ہستی کو ماننا جتنا مستبعد ہے اتنا ہی مستبعد یہ بھی ہے کہ انسان جیسی ہستی کو مانا جائے۔اگر ہم ایک انسان کو مانتے ہیں تو ایک خدا کو ماننے میں بھی ہمارے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔
قرآن میں بتایا گیاہے کہ خدانے انسان کے اندر اپنی روح پھونکی (الحجر،15:29)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خداکی صفات کا ایک بشری نمونہ ہے۔وجود ،زندگی ،علم ، قدرت ،ارادہ ،اختیار اوردوسری صفات کمال جن کا حقیقی مظہر صرف خداکی ذات ہے۔ ان کا ایک عکس (نہ کہ حصہ )انسان کو ودیعت کیا گیاہے۔انسان کسی بھی اعتبار سے خداکا جزء نہیں مگروہ اپنی ذات میں اس خداکی محسوس دلیل ہے جس کو غیبی طورپر ماننے کا اس سے مطالبہ کیا گیاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کے اندر وہ ساری خصوصیات شہود کے درجہ میں موجود ہیں جن خصوصیات کے ساتھ ایک خداکو غیب کے درجہ میں ماننے کا اس سے مطالبہ کیاگیا ہے۔
انسان کا ایک مستقل وجود ہے۔وہ دیکھنے اورسننے اوربولنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ وہ سوچتاہے اورمنصوبہ بناتاہے۔وہ اپنے ذاتی ارادہ کے تحت حرکت کرتاہے۔وہ مادہ کو تمدن میں تبدیل کرتاہے۔وہ ریموٹ کنٹرول سسٹم کے ذریعہ خلائی مشین کو چلاتاہے۔وہ اپنی ذات کا شعور رکھتاہے۔وہ جانتاہے کہ ’’میں ہوں‘‘ انہیںصفات کی کامل ہستی کا نام خداہے۔
انسان اورخدا میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا وجود غیر حقیقی ہے اورخداکا وجود حقیقی۔یہ مخلوق ہے اوروہ خالق۔یہ محدود ہے اوروہ لامحدود۔ یہ بے اختیار ہے اوروہ بااختیار ۔ یہ فانی ہے اوروہ غیر فانی۔ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ عطیہ ہے جب کہ خداکے پاس جو کچھ ہے وہ اس کا ذاتی ہے ،وہ کسی دوسرے کا دیا ہوا نہیں۔
انسان کو ماننا بلاتشبیہ ’’چھوٹے خدا‘‘کو ماننا ہے۔پھر کیا وجہ ہے وہ ’’بڑے خدا‘‘کو نہ مانے ہر شخص جو خدا کو نہیں مانتا وہ یقینا اپنا اقرار کرتا ہے۔وہ انسانی وجود کو تسلیم کرتا ہے۔ جو شخص انسان کو مان رہاہو اس کے لیے خدا کو نہ ماننے کی کوئی دلیل نہیں۔ انسان کے وجود کا اقرا ر کرکے وہ خداکے وجود کا بھی اقرار کر چکا ہے ،خواہ وہ اپنی زبان سے اس کا اظہار کرے یانہ کرے۔حقیقت یہ ہے کہ خداکا انکار خود اپنا ا نکار ہے۔اورکون ہے جو خود اپنا انکار کرسکے۔
عجیب کرشمہ
انسان کا جسم چند مادی چیزوں سے مل کر بنا ہے پانی ،کاربن ،آکسیجن اورکچھ مزید کیمیائی عناصر۔ ظاہری تجزیہ کے اعتبار سے انسان بس اسی قسم کی چند چیزوں کا مجموعہ ہے۔ رابرٹ پیٹیسن (R. Pattison)نے انسانی جسم کے ان مادی عناصر کاحساب لگایاتو اس نے پایا کہ بازارکی شرح کے لحاظ سے ان کی کل قیمت ساڑھے چھ ڈالر ہے یعنی ہندستانی سکہ میں تقریباً ستر روپیہ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر اسی ’’ستر روپیہ‘‘کے سامان سے اللہ تعالیٰ نے ایسا انمول آدمی بنایا ہے جو اتنا قیمتی ہے کہ سکہ میں اس کی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی۔ ستر کھرب روپئے بھی ایک انسان کی قیمت نہیں ہوسکتے۔
انسان کے انتہائی قیمتی ہونے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کا کوئی عضو اس سے چھن جائے۔ انسان کاایک ہاتھ کٹ کراس سے جداہوجائے تواربوں ڈالر ادا کر کے بھی دوبارہ ویسا ہاتھ اس کو نہیں مل سکتا۔انسان کی آنکھ اگربے نور ہو جائے تو ساری دنیا کی دولت بھی اس کو وہ آنکھ نہیں دے سکتی جس سے وہ دوبارہ دیکھنے لگے۔ انسان کی زبان اگر جاتی رہے تو کوئی بھی قیمت ادا کرکے وہ بازار سے ایسی چیز نہیں پا سکتا جس سے وہ بولے اوراپنے خیالات کا اظہار کرسکے۔
کیسی عجیب ہے خدا کی کاریگری کہ وہ بے قیمت چیزوں سے انتہائی قیمتی چیز بناتا ہے۔ وہ مردہ چیز کو زندہ چیز میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ بے شعور مادہ سے باشعور مخلوق وجود میں لاتا ہے۔ وہ نہیں سے ہے کی تخلیق کرتا ہے۔
کسی جادوگر کی چھڑی سے ایک پتھرکوئی آواز نکالے تواس کو دیکھ کرسارے لوگ حیران رہ جائیں گے۔مگر خدا بے شمار انسانوں کو مادّہ سے بنابنا کر کھڑاکر رہا ہے۔اور وہ نہایت بامعنی الفاظ میں کلام کررہے ہیں۔ مگر اس کو دیکھ کر کسی پر حیرانی طاری نہیں ہوتی۔کیسے اندھے ہیں وہ لوگ جن کو جادو گر کے کرشمے دکھائی دیتے ہیں، مگر خداکے کرشمے دکھائی نہیں دیتے۔کیسے بے عقل ہیں وہ لوگ جو جھوٹے کرشمے دکھانے والوں کے سامنے سراپا عقیدت مندبن جاتے ہیں ،مگر جو ہستی سچے کرشمے دکھارہی ہے اس کے لیے ان کے اندر عقیدت ومحبت کا جذبہ نہیں امنڈتا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر خدا کو پالے تو وہ اس کے کمالات میں گم ہوجائے۔ خداکے سواکسی دوسری چیز کا اس کو ہوش نہ رہے۔
خداکا عقیدہ
میں نئی دہلی میں انڈیا گیٹ کے سامنے کھڑا تھا۔انڈیاگیٹ تعمیر اورسنگ تراشی کا بے حد حسین نمونہ ہے۔ وہ مشاہدہ کی زبان میں بتارہا ہے کہ انسان کیسی انوکھی صلاحیتوں کا مالک ہے وہ ’’ انڈیاگیٹ ‘‘جیسی ایک چیز کو پیشگی طور پر سوچتا ہے۔وہ اس کا منصوبہ بناتاہے اورپھر عملاً اس کو وقوع میں لاتا ہے۔
اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ اگر تمام ستاروں اورسیاروں اورتمام درختوں اورجانوروں سے کہا جائے کہ وہ ایک ’’انڈیاگیٹ ‘‘بنادیں توسب مل کر بھی اس کے جیسی ایک عمارت نہیں بناسکتے۔
یہی دوسرے تمام انسانی واقعات کا حال ہے۔انسان جو کام کرتاہے وہ اس کی انتہائی نادراستثنائی خصوصیت ہے۔ معلوم کائنات میں کوئی بھی دوسری مخلوق اس قسم کے کام کو انجام نہیں دے سکتی جس کو انسان اپنی عقل اور اپنے ہاتھ پائوں کو استعمال کر کے انجام دیتا ہے۔ خواہ وہ ایک انڈیا گیٹ کو بنانا ہویا ایک پیچیدہ مشین کو چلانا۔
انسان سے خداکو یہ مطلوب تھا کہ وہ خدا کی شعوری معرفت حاصل کرے۔وہ اپنی عقل سے خد اکو پہچانے۔اس لیے اس نے انسان کو ایسی ممتاز تخلیق کے ساتھ پیدا کیا۔ جس طرح انسان ساری کائنات سے ممتاز ایک ہستی ہے ،اسی طرح خداانسان کے مقابلہ میں ایک ممتاز تر ہستی ہے۔انسان اگر اس فرق پر غور کرے ،جو اس کے اوربقیہ کائنات کے درمیان ہے تواسی پر وہ اس فرق کو قیاس کر سکتا ہے جو اس کے اور خدا کے درمیان ہے۔ خدا اِسی امتیازی فاصلے کی آخری اور انتہائی شکل ہے جس کا آدمی اپنے اور کائنات کے درمیان فاصلہ کے ذریعہ تجربہ کررہاہے۔خدا کو سمجھنا اتنا ہی آسان ہے جتنا اپنے آپ کو سمجھنا۔
حقیقت یہ ہے کہ خد اکو ماننا ایک مانی ہوئی چیز کو ماننا ہے۔ خدا کو دیکھنا ایک دیکھی ہوئی چیز کو دیکھنا ہے۔انسان جس واقعہ کا ہرآن تجربہ کررہا ہے۔اسی واقعہ کی توسیع کا دوسرانام خداکا عقیدہ ہے۔انسان اس کائنات میں ’’فل اسٹاپ ‘‘ نہیں۔ پھر اگر کائنات کے آگے انسان کا درجہ ممکن ہے تو انسان کے آگے خداکا درجہ کیوں ممکن نہیں۔
خدا سب کچھ
ممتاز ریاضی داںسرمائیکل فرانسس اتیا(1929-2019) حال میں بمبئی آئے تھے۔انھوں نے کہا کہ خداایک ریاضی داں ہے۔خداکو ریاضی داں قرار دینے کا نظریہ نیا نہیں ہے۔تقریباً 50 سال پہلے سزجیمس جینس(1877-1946) نے کہا تھا کہ کائنات ایک ریاضی داں کا عمل ہے۔اس سے بھی صدیوں پہلے فیثا غورث (570BC-495BC)نے کہا تھا کہ تمام چیزیں دراصل گنتیاں ہیں۔پکا سوکے نزدیک خداایک آرٹسٹ ہے۔اس نے کہا خدا فی الواقع دوسرا آرٹسٹ ہے۔اس نے زرافہ ایجاد کیا۔اس نے ہاتھی بنایا۔اس نے بلی بنائی۔آئن سٹائن (1879-1955)نے کہا تھا کہ خدا لطیف ہے اور اگرچہ وہ کسی کا بُرا چاہنے والا نہیں مگر وہ بہت ہوشیار ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The distinguished mathematician. Sir Michael Francis Atiyah. Who was recently in Bombay said that ‘'God was a mathematician''. The idea of God being a mathematician is not new. About 50 years ago. Sir James Jeans suggested that the universe was the handiwork of a mathematician and centuries before him Pythagoras said all things are numbers. To Picasso God was an artist. ''God is really. Another artist'' ,ؔ he said. ‘‘He invented the giraffe. the elephant and the cat.’’ Einstein has said that the Lord is subtle and though not malicious, very clever.
جو شخص بھی کائنات کو زیادہ گہری نظر سے دیکھتا ہے اس کو ایک چیز کا یقینی احساس ہوتا ہے— یہاں کوئی اورہےجو سب سے بڑا ہے اورخود اس کی اپنی ذات سے بھی۔ ریاضی داںکو کائنات میں ایسی اونچی ریاضی نظر آتی ہے جہاں اس کو اپنی ریاضی بھول جاتی ہے۔وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدا بہت بڑا ریاضی داں ہے۔ایک آرٹسٹ جب کائنات کو اپنی نظر سے دیکھتاہے تو یہاں اس کو اتنا اعلیٰ آرٹ نظر آتا ہے کہ اس کا اپنا آرٹ اس کی نگاہ میں ہیچ ہوجاتا ہے۔اوروہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدا سب سے بڑا آرٹسٹ ہے۔ایک عقل والا آدمی جب کائنات کی حکمتوں پر نظر ڈالتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ یہاں کوئی اورہے جو تمام عقلوں سے زیادہ بڑی عقل والا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خد اسب سے بڑا ریاضی داں ،سب سے بڑا آرٹسٹ ،سب سے بڑا عاقل ہے اور اسی کے ساتھ وہ مزید بہت کچھ ہے۔جو شخص کائنات میں خدا کے نشان کو نہ دیکھے وہ اندھا ہے اور جو شخص دیکھ کر بھی اس کو نہ مانے وہ مجنون ہے۔
خدا کی موجودگی کا تجربہ
اپالو 15 (Apollo 15)میں امریکاکے جوتین خلاباز چاند پر گئے تھے ، ان میں سے ایک کرنل جیمز ارون (James Irwin)تھے۔ انھوں نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ اگست 1972کا وہ لمحہ میرے لیے بڑا عجیب تھا جب میں نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔میں نے وہاں خدا کی موجودگی (God's Presence)کو محسوس کیا۔ انھوں نے کہا کہ میری روح پر اس وقت وجدانی کیفیت طاری تھی اورمجھے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا بہت قریب ہو۔خدا کی عظمت مجھے اپنی آنکھوں سے نظر آرہی تھی۔ چاند کا سفر میرے لیے صرف ایک سائنسی سفر نہیں تھا بلکہ اس سے مجھے روحانی زندگی نصیب ہوئی(ٹریبون 27 اکتوبر1972)۔
کرنل جیمز ارون کا یہ تجربہ کوئی انوکھا تجربہ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ خدا نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اتنا حیرتناک ہے کہ اس کو دیکھ کر آدمی خالق کی صناعیوں میں ڈوب جائے۔ تخلیق کے کمال میں ہر آن خالق کا چہرہ جھلک رہا ہے۔مگر ہمارے گرد وپیش جودنیا ہے اس کو ہم بچپن سے دیکھتے دیکھتے عادی ہوجاتے ہیں۔اس سے ہم اتنا مانوس ہوجاتے ہیں کہ اس کے انوکھے پن کا ہم کو احساس نہیں ہوتا۔ہوا اورپانی اوردرخت اور چڑیا غرض جو کچھ بھی ہماری دنیا میں سب کا سب حددرجہ عجیب ہے ،ہر چیز اپنے خالق کا آئینہ ہے۔مگر عادی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے عجوبہ پن کو محسوس نہیں کرپاتے۔ مگرایک شخص جب اچانک چاند کے اوپر اترا اورپہلی باروہاں کے تخلیقی منظر کو دیکھا تووہ اس کے خالق کو محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس نے تخلیق کے کارنامہ میں اس کے خالق کو موجود پایا۔ ہماری موجودہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں یہاں بھی ’’خدا کی موجودگی ‘‘کا تجربہ اسی طرح ہوسکتا ہے جس طرح چاند پر پہنچ کرکرنل ارون کو ہوا۔مگر لوگ موجودہ دنیا کو اس استعجابی نگاہ سے نہیں دیکھ پاتے جس طرح چاند کاایک نیا مسافر چاند کو دیکھتا ہے۔اگرہم اپنی دنیا کو اس نظر سے دیکھنے لگیں تو ہر وقت ہم کو اپنے پاس’’خدا کی موجودگی ‘‘کاتجربہ ہو۔ہم اس طرح رہنے لگیں جیسے کہ ہم خدا کے پڑوس میں رہ رہے ہیں اورہر وقت وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔
اگر ہم ایک اعلیٰ درجہ کی مشین کو پہلی بار دیکھیں توفی الفور ہم اس کے ماہر انجینئر کی موجودگی کووہاں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم دنیا کو اوراس کی چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو اسی وقت ہم وہاں خدا کی موجودگی کو پالیں گے۔خالق ہم کو اس طرح نظر آئے گا کہ ہم خالق اورتخلیق کو ایک دوسرے سے جدانہ کرسکیں۔
موجودہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ خدا کو دیکھنے لگے ،وہ اپنے پاس خدا کی موجودگی کو محسوس کرلے۔اگر آدمی کا احساس زندہ ہوتوسورج کی سنہری کرنوں میں اس کو خدا کا نور جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا ہرے بھرے درختوںکے حسین منظر میں وہ خدا کا روپ جھلکتا ہواپائے گا۔ہوائوں کے لطیف جھونکے میں اس کو لمسِ ربانی کا تجربہ ہوگا۔اپنی ہتھیلی اوراپنی پیشانی کو زمین پر رکھتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوگا گویا اس نے اپنا وجود اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ خدا ہر جگہ موجودہے بشرطیکہ دیکھنے والی نگاہ آدمی کو حاصل ہوجائے۔
خدا کا ثبوت
اگرایک انسان کا وجود ہے تو ایک خدا کا وجود کیوں نہیں ہوا اورپانی ،درخت اورپتھر ، چاند اورستارے موجود ہیں توان کو وجود دینے والے کا وجود مشتبہہ کیوں ہو۔حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کی موجودگی عمل تخلیق کا ثبوت ہے اورانسان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ایک ایسا خالق موجود ہے جو دیکھے اورسنے ،جو سوچے اورواقعات کو ظہور میں لائے۔
اس میں شک نہیں کہ خدا ظاہر ی آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا ،مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اس دنیا کی کوئی بھی چیز ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی۔پھر خدا کو ماننے کے لیے دیکھنے کی شرط کیوں ضروری ہو۔
آسمان پر ستارے جگمگاتے ہیں۔عام آدمی سمجھتا ہے کہ وہ ستاروں کودیکھ رہا ہے۔ حالانکہ خالص علمی اعتبار سے یہ صحیح نہیں۔ جب ہم ستاروں کو دیکھتے ہیں تو ہم ستاروں کو براہ راست نہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کے اثرات کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جو ستاروں سے جداہوکر کروروں سال کے بعد ہماری آنکھوں تک پہنچے ہیں۔
یہی تمام چیزوں کا حال ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز جس کو انسان ’’دیکھ‘‘رہاہے۔وہ صرف بالواسطہ طور پر اسے دیکھ رہا ہے۔ براہ راست طور پر انسان کسی چیز کو نہیں دیکھتا۔ اور نہ ہی اپنی موجودہ محدودیت کے ساتھ کبھی دیکھ سکتا۔
پھر جب دوسری تمام چیزوں کے وجود کو بالواسطہ دلیل کی بنیاد پر مانا جاتا ہے تو خدا کے وجود کو بالواسطہ دلیل کی بنیا د پر کیوں نہ مانا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا اتنا ہی ثابت شدہ ہے جتنا کہ اس دنیا کی کوئی دوسری چیز۔ اس دنیا کی ہر چیز بالواسطہ دلیل سے ثابت ہوتی ہے۔اس دنیا میں ہر چیز اپنے اثرات کے ذریعہ سے پہچانی جاتی ہے۔ ٹھیک یہی نوعیت خدا کے وجود کی بھی ہے۔
خدا یقیناً براہ راست ہماری آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتا۔مگر خدا اپنی نشانیوں کے ذریعہ یقیناً دکھائی دیتا ہے۔اوربلا شبہ خدا کے علمی ثبوت کے لیے یہی کافی ہے۔
کائناتی مشین
1965میں دوملکوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ایک کے پاس کمتر ہتھیار تھے۔ دوسرے کے پاس بہتر ہتھیار۔ایک کے وجینت ٹینک(Vijayant tanks) کے مقابلہ میں دوسرے کا برطانی ساخت کا پیٹن ٹینک(Patton tanks) زیادہ اعلیٰ تھا۔ایک طرف معمولی نیٹ جہاز تھے اوردوسری طرف فرانسیی سیبر جٹ(Sabrejet) جو زیادہ طاقت کے ساتھ وار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔پھر بھی اوّل الذکر کے مقابلہ ثانی الذکر ہارگیا۔
اس کی وجہ کیاتھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اوّل الذکر کے ہتھیار اس کے اپنے بنائے ہوئے تھے۔ وہ ان کو استعمال کرنے کی پوری مہارت رکھتا تھا۔جب کہ ثانی الذکر کے ہتھیار بیرونی ملکوں کے بنے ہوئے تھے۔چنانچہ ثانی الذکر ملک کے سپاہی ان کو مہارت کے ساتھ استعمال نہ کرسکے اورہارگئے۔
ایک جنگی تبصرہ نگار نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
Even the most sophisticated technology of warfare is handled ultimately by men engaged in the profession of soldiering. Its use in combat depends therefore greatly on their skill, training, morale, and ingenuity. The doctrine of the supremacy of the man behind the gun thus remains valid even in this age of push button wars.
جنگ کی انتہائی پیچیدہ مشینری بھی آخر کار متعلقہ فوجی آدمیوں ہی کے ذریعہ چلائی جاتی ہے۔ اس لیے جنگ میں ان کا استعمال بڑی حد تک ان کی مہارت ،تربیت ،جرأت اور تدبیر پر منحصر ہوتا ہے۔قدیم اصول کے مطابق بندوق کا استعمال کرنے والے آدمی کی اہمیت آج بھی باقی ہے، حتی کہ اس بٹن دبانے والے دورمیں بھی(ٹائمس آف انڈیا ، 2فروری 1984ء)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ قسم کے واقعات کائنات کی مشینی تعبیر کی تردید ہیں۔ ہماری مشینوں کو چلانے کے لیے ہمیشہ ایک ’’انسان ‘‘درکار ہوتا ہے۔ پھر کیوں کر کہا جاسکتا ہے کہ کائنات کی عظیم مشین کسی چلانے والے کے بغیر چل رہی ہے۔ اس قیاس کے لیے کوئی نظیر موجود نہیں۔ کائنات ایک سائنس داں کے الفاظ میں بالفرض ایک ’’گریٹ مشین‘‘(Great Machine) ہو تب بھی اس کو چلانے کے لیے ایک ’’گریٹ مائنڈ‘‘(Great Mind) چاہیے۔انسان مجبور ہے کہ خدا کو مانے ، خواہ مذہبی زبان میں خالق ومالک کی حیثیت سے یا سائنسی الفاظ میں مشین کو چلانے والے انجینئر کی حیثیت سے۔
کائناتی وحدت
کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پوری کائنات ایک مرکز کے گرد گھوم رہی ہے۔ایٹم کا ایک نیو کلیس ہے۔ اور ایٹم کا پورا ڈھانچہ اس نیو کلیس کے گرد گھومتا ہے۔شمسی نظام کا مرکز سورج ہے اوراس کے تمام سیارے اورسیارچے مسلسل اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔اسی طرح کہکشاں کا ایک مرکز ہے اورکہکشاں کے اربوں ستارے اس مرکز کے گرد حرکت کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ پوری کائنات کا ایک مرکز ہے اور پوری پھیلی ہوئی کائنات اپنی ذیلی حرکتوں کے ساتھ اس آخری مرکز کے گرد حرکت کررہی ہے۔
سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ کائناتی مرکز ایک روز اپنے گرد کی تمام چیزوں کو کھینچنا شروع کرے گا اورپھر یہ ناقابل قیاس حد تک پھیلی ہوئی عظیم کائنات اپنے مرکز کی طرف سمٹنا شروع ہوگی اور بالآخر وہ وقت آئے گا کہ سارے کائناتی اجسام اس طرح سمٹ کرایک مرکزی گولے کی صورت اختیار کرلیں گے جیسے بکھری ہوئی کیلوں کے درمیان مقناطیس لایا جائے اور سب کیلیں سمٹ سمٹ کر اس سے جڑ جائیں— كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُه(21:104)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس طرح کائنات گویا دین توحید کا عملی مظاہر ہ بن گئی ہے۔وہ عمل کی زبان میں بتا رہی ہے کہ انسان کی زندگی کو کیسا ہونا چاہیے۔انسان کی زندگی کو ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا صرف ایک مرکز ہو۔اوروہ ایک خدا ہو۔آدمی کے جذبات،اس کی سوچ ، اس کی سرگرمیاں ،اس کا سب کچھ خدا کے گرد گھومنے لگیں۔
آدمی اگر اپنی زندگی کا مرکز و محور اپنی ذات کو بنائے توکائنات بزبان حال اس کو ردکر رہی ہے۔اسی طرح اگروہ اپنی ذات کے باہر کسی کو اپنی توجہات کا مرکز ومحور بنائے توموجودہ کائنات کے ڈھانچہ میں وہ قابل رد قرار پا رہا ہے۔کائنات کا موجودہ ڈھانچہ ایک ہستی کے سوا کسی دوسرے کی مرکزیت کوقبول کرنے سے انکار کرتاہے۔
کائنات زبان حال سے کہہ کر رہی ہے کہ —’’ایک‘‘ کو اپنا مرکز توجہ بنائو نہ کہ ایک کے سوا ’’کئی‘‘کو۔
فطرت کی پکار
برٹرینڈرسل(1872-1970) ایک انگریز مفکر ہے۔وہ موجودہ زمانہ کابہت بڑا ملحد سمجھاجاتا ہے۔ مگراس کی سوانح عمری بتاتی ہے کہ انسان بظاہر خواہ کتنا ہی بڑا ملحد ہوجائے وہ اپنے آپ کو خدا ئی فطرت سے آزاد نہیں کرسکتا۔
برٹرینڈرسل 1952ء میں یونان گیا۔اس سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ اپنی سوانح عمری میں لکھتا ہے کہ یہ یونان کا میرا پہلا سفر تھا اورجو کچھ میں نے دیکھا وہ میرے لیے بے حد دلچسپی کا باعث تھا۔ایک پہلو سے تو مجھے خود تعجب ہوا۔ وہ عظیم اور ٹھوس کا میابیاں جن کو دیکھ کر ہر شخص متاثر ہوتا ہے میں بھی متاثر ہوا۔پھر میں نے اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے چرچ میں پایا۔یہ اس وقت کی یادگار تھا جب کہ یونان بازنطینی سلطنت کا حصہ تھا۔مجھے سخت حیرانی ہوئی جب میں نے دیکھا کہ اس سے میں نے اپنے آپ کو اس سے زیادہ مانوس پایا جتنا کہ میں یونان کی قبل مسیح دورکی یادگاروں سے متاثر ہواتھا۔میں نے اس وقت محسوس کیاکہ مسیحی نقطہ نظر میرے اوپر اس سے زیادہ غالب ہے جتنا کہ میں نے سمجھا تھا۔یہ غلبہ عقائد پر نہیں تھابلکہ میرے احساسات پرتھا
other sourceWords of another person or source
To my astonishment, I felt more at home in this little church than I did in the Parthenon or in any of the other Greek buildings of Pagan times. I realised then that the Christian outlook had a firmer hold upon me than I had imagined. The hold was not upon my belief, but upon my feelings. (P.561)
other sourceWords of another person or source
یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جس کی ملحد انہ کتابوں میں سے ایک کتاب وہ ہے جس کا نام ہے میں عیسائی کیوں نہیں (Why I Am Not A Christian) حقیقت یہ ہے کہ برٹرینڈرسل کے الفاظ اس کی فطرت کی پکار ہیں۔ ہر انسان کی فطرت میں خدا اور مذہب کا شعور ابدی طور پر پیوست ہے، وہ چاہے بھی تو اس کو اپنے اندر سے نکال نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے ملحد اورمنکر بھی اندر سے اپنے الحاد و انکار پر غیر مطمئن رہتے ہیں۔ وہ خاص لمحات میں بے تابانہ طور پر اسی چیز کی طرف دوڑ پڑتے ہیں جس کا بظاہر وہ اپنی زبان سے انکار کررہے تھے۔
کائنات مشین نہیں
موجودہ زمانہ میں مشینی انسان بنائے گئے ہیں جن کو عام طورپر روبوٹ (Robot) کہا جاتا ہے۔ روبوٹ بظاہر بالکل آدمی کی شکل کا ہوتا ہے۔وہ چلتا ہے، وہ بولتا ہے ،وہ کام کرتا ہے۔مگر حقیقتہً وہ ایک مشین ہوتا ہے نہ کہ کوئی شعور۔ وہ اسی طرح میکانکی انداز میں عمل کرتا ہے جیسے انسان کی بنائی ہوئی دوسری تما م مشینیں۔
لندن کے ایک دفتر میں ایک روبوٹ رکھا گیا تاکہ وہ چپراسی (office Boy)کے طور پر کام کرسکے یہ روبوٹ جب تیار ہوکر دفتر میں آیا تو دفتر کی خاتون سکرٹیری مس جینی سیف (Jennie Seff) نے اس کو آزمائشی حرکت (Trial Run)دینا چاہا۔وہ روبوٹ کی بیٹری جانچ رہی تھیں کہ روبوٹ حرکت میں آگیا۔وہ سکرٹیری کے پیچھے چلنے لگا۔ اب یہ صورت ہوئی کہ خاتون سکرٹیری آگے آگے بھا گ رہی ہیں اورآہنی مشین ان کو پیچھے سے دوڑارہی ہے۔روبوٹ اس طرح چل رہا تھا گویا اس نے کنٹرول قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔اس بھاگ دوڑ میں نیا ٹائپ رائٹر ٹکراکرزمین پر گر پڑا اورٹوٹ گیا۔بالآخر بڑی مشکل سے روبوٹ کو قابو میں لایا گیا(ہندستان ٹائمس، 30جون1981ء)۔
موجودہ زمانہ میں جو لوگ خدا کو نہیں مانتے ان کا کہناہے کہ کائنات اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بہت بڑی مشین ہے۔وہ بس اسی طرح چل رہی ہے جس طرح کوئی ’’روبوٹ ‘‘ میکانکی طور پر چلتا ہے۔مگر کائنات کا کھرب ہاکھرب سال سے انتہائی منظم طور پر یکساں حالت میںچلنا اس مفروضہ کی تردید کررہا ہے۔اگر کائنات محض ایک میکانکی مشین ہوتی جیسے روبوٹ ،تو یقینا اس میں بار بار اسی قسم کے ٹکرائو ہوتے جیسا کہ لندن کے آفس میں مذکورہ بالا واقعہ کی صورت میں ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں ارشاد ہواہے اورسورج اپنے ایک معین مدار پرگردش کرتا ہے۔یہ زبردست علیم ہستی کا مقررکیا ہوااندازہ ہے۔اورچاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرادی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کی مانند رہ جاتا ہے۔ نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کوجا پکڑے اورنہ رات دن پر سبقت کرسکتی۔ ہر ایک اپنے خاص دائرہ میں گردش کرتے ہیں (36:38-40)۔قرآن کا یہ بیان موجودہ زمانہ میں ایک ثابت شدہ انسانی مشاہدہ بن چکا ہے اوریہی واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ یہاں ایک باشعور ہستی ہے جو کائنات کو کنٹرول کررہی ہے۔ اس کے بغیر کائنات کے اندر یہ تنظیم اور یہ باقاعدگی اتنی کامل صورت میںممکن نہ ہوتی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
معبود کی طلب
روس کے خلائی مسافراندرن نکولائیف(1929-2004ء) اگست1962میں جب ایک خلائی پرواز سے واپس ہوئے تو 21 اگست کو ماسکوکی ایک پریس کانفرنس میںانھوں نے کہا
جب میں زمین پر اترا تو میرا جی چاہتا تھا کہ میں زمین کو چوم لوں
انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے زمین پر جو بے حساب موافق سامان جمع ہیں وہ معلوم کائنات میں کہیں بھی نہیں۔روسی خلا باز جب زمین سے دور خلا میں گیا تو اس نے پایا کہ وسیع خلا میں انسان کے لیے صرف حیرانی اورسرگشتگی ہے۔وہاں انسان کے سکون اور حاجت برآوری کا کوئی سامان نہیں۔اس تجربہ کے بعد جب وہ زمین پر اترا تو اس کو زمین کی قیمت کا احساس ہوا،ٹھیک ویسے جیسے شدید پیاس کے بعد آدمی کو پانی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔زمین اپنے تمام موافق امکانات کے ساتھ اس کو اتنی محبوب معلوم ہوئی کہ اس کا جی چاہا کہ اس سے لپٹ جائے اور اپنے جذبات محبت کو اس کے لیے نثار کردے۔
یہی وہ چیز ہے جس کو شریعت میں الٰہ بنانا کہا گیا ہے۔آدمی خالق کو نہیں دیکھتا ،اس لیے وہ مخلوق کو اپنا الٰہ بنا لیتا ہے۔مومن وہ ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچ جائے ،جو اس حقیقت کوجا ن لے کہ یہ جو کچھ نظر آرہا ہے۔یہ کسی کا دیا ہوا ہے۔زمین میں جو کچھ ہے وہ سب کسی برتر ہستی کا پیدا کیا ہوا ہے۔وہ مخلوق کو دیکھ کراس کے خالق کو پالے اورخالق کو اپنا سب کچھ بنا لے۔وہ اپنے تمام بہترین جذبات کو خدا کے لے نثار کردے۔
روسی خلا باز پر جو کیفیت زمین کو پاکر گزری وہی کیفیت مزید اضافہ کے ساتھ آدمی پر خدا کو پاکر گزرنا چاہیے۔مومن وہ ہے جو سورج کو دیکھے تو اس کی روشنی میں خدا کے نور کو پالے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں خدا کی لامحدودیت کا مشاہدہ کرنے لگے۔وہ پھول کی خوشبو میں خدا کی مہک کو پائے اورپانی کی روانی میں خدا کی بخشش کودیکھے۔مومن اورغیر مومن کا فرق یہ ہے کہ غیر مومن کی نگاہ مخلوقات میں اٹک کر رہ جاتی ہے اور مومن مخلوقات سے گزر کر خالق تک پہنچ جاتا ہے۔ غیرمومن مخلوقات کے حسن کو خود مخلوقات کا حسن سمجھ کر انہیںمیں محو ہوجاتا ہے۔مومن مخلوقات کے حسن میں خالق کاحسن دیکھتا ہے اور اپنے آپ کو خالق کے آگے ڈال دیتا ہے۔غیر مومن کا سجدہ چیزوں کے لیے ہوتا ہے اورمومن کا سجدہ چیزوں کے خالق کے لیے۔
خدا کی تلاش
ایک بے حدذہین شخص تھا۔ وہ مستقل طور پر اسی احساس میں مبتلارہتا تھا کہ میں زندگی میں اپنے واقعی مقام کو نہ پاسکا۔بالآخر اس نے خود کشی کرلی۔اس نے اپنی خود کشی کی تحریر میں لکھا تھا
’’میں اپنی زندگی کو ختم کررہا ہو ں۔کیوں کہ میں شاید ایسی دنیا میں بھٹک آیا جس کے لیے میں پیدا نہیں کیاگیا تھا ‘‘۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
کمی کا یہ احساس اکثر ان لوگوں کا پیچھا کیے رہتا ہے جو فطرت سے غیر معمولی ذہن لے کر پیدا ہوئے ہوں۔وہ یا تو مایوسی اور ناکامی کی زندگی گذار کر طبعی موت مرتے ہیں یاخود کشی کر لیتے ہیں۔کم ترذہن رکھنے والوں میں ایسے لوگ کافی مل جائیں گے جو بظاہر مطمئن زندگی گذارتے ہوں۔مگر برتر ذہن رکھنے والوں میں مشکل ہی سے کوئی شخص ملے گاجو مطمئن زندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہواہو۔
اس کی وجہ انسان کی معیار پسندی ہے۔ہر انسان فطری طورپر آئیڈیل کی تلاش میں ہے۔مگر موجودہ دنیا میں آئیڈیل کو پانا اتنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ یہ مثل بن گئی ہے کہ معیار کبھی حاصل نہیں کیاجاسکتا:
Ideal cannot be achieved
اب ہوتا یہ ہے کہ کم تر درجہ کا ذہن رکھنے والوں میں چونکہ شعور بہت زیادہ بیدار نہیں ہوتا۔وہ آئیڈیل اورغیر آئیڈیل کے درمیان بہت زیادہ فرق نہیں کرپاتے۔وہ اپنے موٹے ذوق کی وجہ سے غیر آئیڈیل میں بھی اس طرح مشغول ہوجاتے ہیں جیسے کہ وہ ان کا آئیڈیل ہو۔مگر جو لوگ زیادہ ذہین ہیں وہ آئیڈیل اورغیر آئیدیل کے فرق کو فوراً محسوس کرلیتے ہیں اور اس بنا پر آئیڈیل سے کم کسی چیز پر اپنے کو راضی نہیں کر پاتے۔
انسان کا آئیڈیل ایک ہی ہوسکتا ہے اوروہ اس کا خالق اوررب ہے۔اعلیٰ ذہن کے لوگ جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ ربانی مشن کے سوا اورکچھ نہیں۔خدا کا وجود ہی آئیڈیل وجود ہے اورخدا کے مشن میں اپنے کو مشغول کرکے ہی ہم اس چیز کو پاسکتے ہیں جو ہماری پوری ہستی کو تسکین دے اورآئیڈیل کے بارے میں ہمارے ذہنی معیار پر مکمل طور پر پورا اتر ے۔
انسان کا آئیڈیل اس کا خدا ہے ،مگر وہ اپنے اس آئیڈیل کو ناکام طور پر غیر خدا میں تلاش کررہا ہے۔
تو ہم پرستی
امریکاکی ری پبلکن پارٹی(Republican Party)کے ایک عہد یدار مسٹرسیلر (1921-2021ء)نے بتایا کہ امریکی صدررونالڈ ریگن (1911-2004)ہر وقت اپنی جیب میں ایک چھوٹی سی سونے کی نعل رکھتے ہیں۔یہ نعل ان کو صدر بننے سے تقریباً پانچ سال پہلے ان کے ایک دوست نے دی تھی۔صدر ریگن کو یقین ہے کہ اس سنہری نعل میں طلسماتی اثرات چھپے ہوئے ہیں۔وہ ان کو ہر آفت سے بچاتی ہے۔ چنانچہ مارچ 1981ء میں جب ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تو ان کے خیال کے مطابق اسی نعل نے ان کو اس سے محفوظ رکھا تھا۔
other sourceWords of another person or source
یہ نعل ہر وقت صدر ریگن کے ساتھ رہتی ہے۔جون 1981ء کی ایک ملاقات میں مسٹر سیلر نے ان سے پوچھا کیا آپ اب بھی اس نعل کواپنی جیب میں رکھتے ہیں۔صدر ریگن نے کہا ہاں ضرور:
I sure do
اس کے بعد انھوں نے اپنی بائیں جیب میں ہاتھ ڈالا اورمذکورہ نعل نکال کر دکھائی (ٹائمس آف انڈیا،24جون1981)۔
other sourceWords of another person or source
یہ بلا شبہ توہم پرستی (Superstition)ہے۔مگر اس توہم پرستی کا ایک معلوم سبب ہے۔وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ جو واقعا ت پیش آتے ہیں وہ ایسے پر اسرار ہوتے ہیں کہ آدمی پوری طرح ان کی توجیہ نہیں کرپاتا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ چھپے ہوئے عوامل ہیں جو کسی کو کامیاب اورکسی کو ناکام کردیتے ہیں۔
کوئی شخص ایک نتیجہ سے دوچار ہوتا ہے اورکوئی شخص دوسرے نتیجہ سے۔اوردونوں میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں نہیں بتا سکتا کہ اس کے ساتھ جو ہواوہ کیوں ہوا۔ایک بار میں نے ایک بڑے تاجر سے پوچھا کہ تجارت میں کامیابی کا راز کیا ہے۔وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔آخر میں کہا کہ ’’قسمت ‘‘اگر کوئی شخص اس کا تین سبب بتائے تو میں کہوں گا کہ— قسمت ، قسمت،قسمت۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ پر اسراریت اس لیے ہے کہ سب کچھ کرنے والا خدا ہے۔مگر انسان چوں کہ غیبی خدا کو دیکھ نہیں پاتا اس لیے وہ کسی نہ کسی دکھا ئی دینے والی چیز کو اپنا خدا بنالیتا ہے۔خواہ وہ سونے کی ایک نعل ہویا پتھر کی ایک انگوٹھی۔
انسان مجبور ہے کہ وہ کسی کو اپنا معبود بنائے۔خدا کو یا خدا کو چھوڑکر کسی اورکو۔
مشینی تعبیر
جولائی 1983میں امریکی بحریہ نے فوجی مشقیں کی تھیں۔یہ فوجی مشقیں سان فرانسسکو (San Francisco)کے ساحل پر ہوئیں۔یہ پوراعمل کمپیوٹروں کے ذریعہ ہورہا تھا۔اس دوران میں بحریہ کے توپ خانہ کو فائر کرنا تھا۔ فائرنگ کے دوران کمپیوٹر میں کچھ خرابی پیدا ہوگئی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کمپیوٹر عقب کی جانب گولے برسانے لگا۔یعنی جس طرف فائرنگ مطلوب تھی اس کے بالکل الٹی طرف۔
ابتدائی پروگرام کے مطابق اس مشقی گولہ باری میں امریکی بحریہ کے توپ خانہ کے گولے دورسمندر میں جاکر گرتے مگر توپوں کا رخ الٹا ہو جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے گولے میکسکو کے ایک مال بردارجہاز کے پاس جاکر گرنے لگے۔
کمپیوٹر میں اس طرح کے لطیفے باربار پیش آتے ہیں جن کی اطلاع اخبارات ورسائل میں آتی رہتی ہے۔کمپیوٹر کے عمل میں ایسی غلطیاں کیوں ہوتی ہیں۔اس کی وجہ صرف ایک ہے۔کمپیوٹر صرف ایک مادی مشین ہے۔اس کے پاس عقل نہیں ہے۔اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ کائنات اگر ایک مادی مشین ہوتی جیساکہ جدید ملحدین کا دعویٰ ہے۔ تو وہ کبھی اس طرح انتہائی درست طور پر نہ چل سکتی جیسا کہ وہ چل رہی ہے۔ایسی حالت میں زمین اور اس کی آبادیاں اسی طرح برباد ہوچکی ہوتیں جس طرح زلزلہ کے بعد زلزلہ کامقام برباد ہوجاتا ہے۔کائناتی حادثات کے نتیجہ میں کائنات بھی تباہ ہوچکی ہوتی اور وہ انسان بھی جو کائنات کی مادی تعبیر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’کائنات کا کوئی خد انہیں،وہ صرف ایک مادی مشین ہے ‘‘یہ جملہ گرامر کے لحاظ سے بظاہر درست ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ درست نہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر داخلی تضاد پایا جاتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ جملہ اس وقت صحیح ہوتا جب کہ ایسی کوئی مادی مشین ہوتی جو کسی بنانے والے کے بغیر بن جائے اورکسی چلانے والے کے بغیر چلنے لگے۔ہم جن مشینو ں سے واقف ہیں ان کو ’’انسان‘‘ بناتا اورچلاتا ہے۔اس کے باوجود یہ حال ہے کہ یہ مشین نقص سے خالی نہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ کائنات جیسا بے عیب کارخانہ اپنے آپ وجود میں آجائے اوراپنے آپ نہایت درست طور پر مسلسل چلتا رہے۔
خدا کا بندہ
بجلی کے بلب کا کنکشن ایک پاور ہائوس سے جُڑ نا کوئی عام قسم کا واقعہ نہیں۔یہ ایک غیر روشن چیز کا ایسی چیز سے جڑنا ہے جو دوسری چیزوں کو روشن کرنے کی غیر معمولی طاقت رکھتی ہے۔اس ک فوری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ’’مردہ ‘‘بلب ’’زندہ‘‘بلب بن جاتا ہے۔ ایک تاریک بلب میں روشنی کا فوارہ پھوٹ پڑتا ہے۔ایسا ہی کچھ معاملہ بندے اورخدا کے تعلق کا بھی ہے۔
خدا ہماری دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔اسی لیے خدا کو پانا محض سادہ واقعہ نہیں۔یہ نفسیات انسانی میں پیش آنے والا سب سے بڑا واقعہ ہے۔یہ ایک بھونچال ہے جس سے آدمی کا پورا وجود ہل جاتا ہے۔یہ ایک سیلاب ہے جس سے آدمی کی پوری شخصیت نہا اٹھتی ہے۔خد ا کو پانے کے بعد کوئی شخص ویسا نہیں رہتا جیسا وہ خدا کو پانے سے پہلے تھا۔خدا کا مومن وہ ہے جو اس کے بعد ایک نیا انسان بن جائے۔
خدا کو پانا جس کو شریعت کی اصلاح میں ایمان کہا جاتا ہے ،کسی انسان کے لیے اس کی زندگی کا سب سے بڑا تجربہ ہے۔خدا پر ایمان یہ ہے کہ ایمان آدمی کو اس طرح ملے کہ وہی اس کی زندگی بن جائے۔وہ ایسی روشنی ہو جس سے اس کا پورا وجود چمک اٹھے۔وہ ایسا رنگ ہو جس میں اس کے سارے معاملات رنگے ہوئے نظر آئیں۔
ایمان خدا کی موجودگی کو پالینے کا دوسرانام ہے۔ایمان یہ ہے کہ آدمی خدا کی عظمتوں میں گم ہوجائے۔وہ احساس خداوندی میں سرشار ہوجائے۔ایمان آدمی کے جذبات کا حمد خدا وندی میں ڈھل جانا ہے۔یہ دنیا میں رہتے ہوئے خدا تک پہنچ جانا ہے۔
ایمان ایک زلزلہ ہے جو خدا کی معرفت سے آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ ایمان ایک سیلاب ہے جو خدا کے فیضان کو پاکر آدمی کے سینہ میں بہہ پڑتا ہے۔ایمان خدا کو پالینا ہے اورخدا کو پانا سب کچھ کو پانا ہے۔پھر کیا چیز ہے جو خدا کو پانے کے بعد آدمی کو نہ ملے۔
فطر ت کی تصدیق
’’پتھر اورلکڑی کو کوٹ پیس کر ملا دو تو وہ پٹرول بن جائے گا ‘‘۔اس قسم کی بات بظاہر بالکل مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔یقیناً انسان اس طرح کاکوئی واقعہ ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ مگر اسی قسم کے اس سے زیادہ عجیب واقعات اس دنیا میں ہر دن ظہور میں آرہے ہیں۔ قدرت کی کیمسٹری ہر دن ایسے بے شمار واقعات ظہور میں لاتی ہے جو انسان کے لیے صرف ایک ناقابل فہم عجوبہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آکسیجن اورہائڈروجن دو گیسیں ہیں۔قدرت ان کو ایک خاص تناسب سے ملاتی ہے تو ان کا مجموعہ پانی جیسے سفید سیال کی صورت اختیارکرلیتا ہے۔کاربن اورہائڈروجن مخصوص حالات میں باہم ملتے ہیں تو تیل جیسی قیمتی چیزوجود میں آتی ہے۔کاربن کے ساتھ کچھ نمکیات اورمعدنیات جمع ہوتی ہیں تو زندگی وجود میں آجاتی ہے۔
مقناطیسی فیلڈاورحرکت کو یک جاکیا جاتا ہے تو بجلی جیسی حیرت ناک طاقت پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح مقناطیسی فیلڈاور بجلی کواکھٹا کیا جاتا ہے توانتہائی تیز حرکت وجود میں آجاتی ہے۔ایک بیج کو مٹی میں ملا دیا جاتا ہے تو اس سے لکڑی اورپتی اورپھول اورپھل کا ایک مجموعہ نکل کر کھڑاہوجا تا ہے۔وغیرہ ،وغیرہ۔
اس قسم کے بے شمار کرشمے کائنا ت میں ہر لمحہ ظاہر ہورہے ہیں۔انسان ان کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ نہ خود ان چیزوں میں اپنے آپ کو ظہور میں لانے کی طاقت ہے اورنہ انسا ن اس پر قادرہے کہ وہ بطور خود کسی واقعہ کو پیدا کرسکے۔’’پھر یہ سب کیسے ہورہا ہے ‘‘اس سوال کے جواب میں وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ سب خدا کا انش ہے۔یہ خود خدا ہے جو اَن گنت صورتوں میں اپنے آپ کو ظاہر کررہا ہے۔
قرآن اس قسم کے جواب کو گمراہی قرار دیتا ہے۔قرآن کے نزدیک یہ چیزیں خدا کا انش نہیں بلکہ خدا کا حکم ہیں۔خدا نے اپنی قدرت سے ان کو پیدا کیاہے۔نہ کہ خود خدا ان کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’ستار ے ‘‘قدیم زمانہ سے شعراء کے حسین تخیلات کا مرکز رہے ہیں۔’’چاند ‘‘کو انسان دیوتا کے روپ میں دیکھتا رہا ہے۔مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ستارے ہیبت ناک آگ کے شعلے ہیں اورچاند اور دوسرے سیارے محض خشک چٹانیں جن پر پانی کا ایک قطرہ یا درخت کا ایک پتہ بھی نہیں۔کائنات انتہائی وسیع ہونے کے باوجود انسان جیسی مخلوق کے لیے انتہائی طور پر غیر موافق ہے۔ ساری معلوم کائنات میں صرف زمین ہی ایک ایسا کرہ ہے جہاں انسان زندہ رہتا ہے اورتمدن کی تعمیر کرتا ہے۔بے حد وسیع کائنات میں زمین کا استثناء واضح طور پر ایک ذی شعور ہستی کے وجود کا ثبوت ہے جس نے بالا رادہ زمین پر استثنائی حالات پیدا کیے۔
خدا کی نشانیاں
ستمبر 1984ء کی سات تاریخ تھی۔میں افریقہ کے ایک پہاڑی علاقہ میں درخت کے سامنے کھڑا تھا۔یہ درخت میرے لیے نیا تھا۔اس سے پہلے میں نے اس قسم کا درخت نہیں دیکھاتھا۔
درخت اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی نشانی معلوم ہورہا تھا۔اس کی ہر چیز میری نظر میں عجیب تھی ،اس کا نازک پھول ،اس کا ترشا ہوا پھل، ریاضیاتی کاریگری کے ساتھ بنی ہوئی اس کی پتیاں تمام چیزیں پکار رہی تھیں کہ وہ اپنے آپ نہیں اگ آئی ہیں بلکہ کسی بنانے والے نے ان کو بنایا ہے۔اس دنیا کا ہر درخت خدا کی صنعت گری کا نمونہ ہے۔مگر مذکورہ درخت پہلی بار میرے سامنے آیا اس لیے وہ خصوصی طورپرمیرے لیے اثر انگیز ثابت ہوا۔
افریقہ کے اس عجیب اورحسین درخت کو دیکھ کربے ساختہ میری زبان سے نکلا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا میں جو چیزیں بنائیں ان میں سے ہر چیزپر اس نے یہ لکھ دیا — خدا کا بنایا ہوا:
Made by God
خدا نے چیزوں پر یہ لکھا اوراس کے بعد اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ تاکہ لوگ مخلوق کو دیکھ کرخالق کو پہچانیں ،تاکہ غیب کے باوجود اس دنیا میں خدا کی موجودگی کو پالیں۔
ایک شخص جو مشینوں کا ماہر ہو وہ ایک مشین کو دیکھ کرکہہ دیتا ہے کہ یہ مشین روس کی بنی ہوئی ہے یا امریکاکی ،برطانیہ کی بنی ہوئی ہے یا جاپان کی۔یہی کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں بے شمار قدرتی مشینیں موجود ہیں اورہر ایک مسلسل اپنا کام کر رہی ہے۔ان ’’مشینوں ‘‘پر بظاہر ان کی ساخت کا ٹھپہ نہیں لگا ہوا ہے، مگر اپنی غیر معمولی بناوٹ اورناقابل بیان حد تک ممتاز کارکردگی کی وجہ سے وہ اپنی ساخت کا آپ اعلان ہیں۔ مخلوقات خود اپنے خالق کو بتارہی ہیں۔
کائنات کی کسی چیز کے اوپر لفظوں میں یہ نہیں لکھا ہوا ہے کہ اس کو کس نے بنایا۔مگر معنوی طورپر ہر ایک کے اوپر لکھا ہوا موجود ہے۔اگر دیکھنے والی نگاہ ہو تو آدمی ہر چیز کو دیکھ کر پکار اٹھے گا بلا شبہ یہ خدا کی بنائی ہوئی ہے۔کوئی دوسرا اس کو بنا نہیں سکتا۔
خلائی تہذیب
مغربی دنیا پچھلے 20 سال سے ایک انوکھی تحقیق میں مشغول ہے۔یہ ہے خلا میں زندہ مخلوقات کی آواز کو سننا:
Listening for life in space
بظاہر اس تلاش کامحرک جدید علماء کا وہ مفروضہ ہے جس کو ارتقاء کہا جاتا ہے۔مغربی علماء نے زندگی کی جو ارتقائی توجیہ کی ہے ،ا س کے مطابق لازم آتا ہے کہ وسیع خلا میں دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح زندگی کی انواع موجود ہوںجس طرح وہ ہماری زمین پر پائی جاتی ہیں۔ خلا میںسفر کا ایک خاص مقصد ان زندگیوں سے ملاقات ہے۔اس مفروضہ پر ان کو اتنا یقین ہے کہ اس کا ایک خاص نام بھی دے دیا گیاہے۔ یعنی بالائے خلا تہذیب (Extra-terrestrial civilisation)۔
اس کے علاوہ امریکامیں اوردوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں خاص طرح کے بہت بڑے بڑے اینٹینا (Antenna)لگائے گئے ہیں جن کو عام زبان میں ریڈ یائی کان (Radio ears) کہتے ہیں۔ان مشینوں سے بالائے خلامیں سگنل بھیجے جاتے ہیں اور حساس قسم کے آلات ہر وقت تیار رہتے ہیں کہ اوپر سے آنے والے متوقع سگنل کو سن سکیں۔
ایک مبصر نے ان کو ششوں پر تبصرہ (ٹائم میگزین 21مارچ 1983)کرتے ہوئے اس کی روح کو ان مختصر لفظوں میں بیان کیا ہے اگر تم واقعۃً وہاں ہوتو اپنے دوستوں سے بولو:
other sourceWords of another person or source
If you are really there, please call your friends.
زمین پر زندگی اورشعور کا وجود ساری معلوم کائنات میں ایک انتہائی نادر اور مستثنیٰ واقعہ ہے۔چونکہ یہ شعور اپنا خالق آپ نہیں۔اس لیے اس کا وجود لازمی طورپر تقاضا کرتا ہے کہ یہاں زندگی اورشعور کا ایک اورخزانہ زیادہ بڑی سطح پر موجود ہو جو زمین کی زندگی اورشعور کا سرچشمہ ہو۔حقیقت یہ ہے کہ زندہ انسان کی موجودگی زندہ خدا کی موجودگی کا ثبوت ہے۔جدید انسان اس امکان کو بالواسطہ انداز میں تسلیم کرتا ہے۔البتہ وہ اس وجود کو خلائی زندگی قرار دے کر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ یہ وجود ہماری ہی طرح کا ایک وجود ہے نہ کہ ہم سے برتر کوئی وجود۔وہ محض ایک تہذیب ہے نہ کہ کوئی خالق اورمالک خدا۔
یہ ماہرین
پروفیسر راج کرشنا (1925-1985)ہندستان کے پچاس انتہائی اعلیٰ اذہان میںشمار ہوتے تھے۔علم اقتصادیات میں غیرمعمولی مہارت کی وجہ سے وہ بین اقوامی شہرت کے مالک تھے۔وہ ملک کے بڑے بڑے معاشی عہدوں پر فائز رہے۔آخرعمر میں وہ ایف اے او (فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن)کے ایک پروجیکٹ کے تحت تین مہینہ کے لیے روم(اٹلی)گئے تھے۔ابھی وہ اپنے کام کی تکمیل نہیں کرسکے تھے کہ 21 مئی 1985ء کو اچانک حرکت قلب بند ہونے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ وفات کے وقت ان کی عمر صرف 89سال تھی(ٹائمس آف انڈیا،22مئی 1985ء)۔
پروفیسر راج کرشنا زرعی اقتصادیات کے ایک مانے ہوئے اکسپرٹ تھے۔ انھوں نے اس مسئلہ کا اختصاصی مطالعہ کیاتھا کہ تیسری دنیا کے غربت کے ماحول میں روزگارکا مسئلہ کس طرح حل کیا جائے:
other sourceWords of another person or source
He was an acknowledged expert in agricultural economics and had specialised in the study of employment conditions of poverty in the third world.
کیسے عجیب ہوںگے مسائل عالم کے وہ ماہرین جن کو خود اپنے مسئلہ کی خبر نہ ہو۔
انسان کا حال بھی کیسا عجیب ہے۔وہ اپنے کل کو نہیں جانتا اوردوسروں کے مستقبل پر ریسرچ کرتا ہے۔
وہ خود فکری افلاس میں مبتلا ہوتا ہے اوردوسروں کے معاشی افلاس پر تقریر کے کارنامے دکھاتا ہے۔مسائل عالم کی مہارت پر اس کو بڑے بڑے خطابات دئے جاتے ہیں۔مگر جب تجربہ ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اپنے قریبی مسئلہ سے بھی ناآشنا تھا کیسا عجیب ہے لوگوں کا جاننا اورکیسا عجیب ہے ان کا نہ جاننا۔
محبت کا نذرانہ
قرآن کی ایک آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’اوربعض انسان وہ ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ سے کرنا چاہیے۔اورجو ایمان والے ہیں وہ اللہ ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب کو دیکھیں گے کہ ساری قوت اللہ ہی کے لیے ہے اوراللہ سخت عذاب دینے والا ہے ‘‘ (2:165)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آدمی اپنی فطرت اوراپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ خارجی سہاراچاہتا ہے ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے۔اور اس کے لیے اعتماد ویقین کی بنیاد ہو،کسی کو اس حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کومعبود بنانا ہے۔جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طورپر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اورعقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہوجاتے ہیں۔آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ وہ کسی سے حُبِّ شدید کرے اور جس سے کوئی شخص حبّ شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔
موجودہ دنیا میں چوں کہ خدا نظر نہیں آتا اس لیے ظاہر پرست انسان عام طور پر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل خدا کو دینا چاہیے۔ یہ ہستیاںاکثر وہ سردار یا پیشو اہوتے ہیں جن کو آدمی ’’بڑا‘‘سمجھ لیتا ہے اورپھر وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی توجہات کا مرکز بن جاتے ہیں۔لوگ اس طرح ان کے گرویدہ ہوجاتے ہیں جیسا گر ویدہ انہیںصرف خدا کا ہونا چاہیے۔آدمی کی فطر ت کا خلا جو حقیقہً اس لیے تھا کہ اس کو خدا سے پُرکیا جائے وہاں کسی غیر خدا کو بٹھالیا جاتا ہے۔
انسان کے پاس کسی کو دینے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ محبت ہے۔ایسی حالت میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص خدا جیسی باکمال ہستی کو پائے اوراس کی خدمت میںمحبت سے کم تر درجہ کی کوئی چیز پیش کرے۔محبت سے کم کوئی چیز نہ تو خدا قبول کرتا اورنہ کسی انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ خدا کے حضور میںمحبت سے کم کسی چیز کا نذرانہ پیش کرے۔اپنی چیزوں میںکم تر چیز کاہدیہ خدا کو پیش کرنا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے خدا کو اس کے جلال وکمال کے ساتھ پایاہی نہیں۔
قیمت جو ادا نہیں کی گئی
بائبل میںہے’’میں نے بانسری بجائی ،تو نے رقص نہ کیا ‘‘(متی ،11:17)۔کائنات ایک عظیم نمائش گاہ ہے۔ وہ قدرت اور حکمت اور معنویت کا ایک اتھا ہ کارخانہ ہے۔وہ اس قدر حسین ہے کہ اس کے حسن کو کسی بھی طرح لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔کائنات اپنے تمام جلووں کے ساتھ خدا کی ابدی طرب گاہ ہے۔تاہم معلوم کائنات میں صرف انسان ہی وہ مخلوق ہے جو اس طرب گاہ کوسمجھ سکتا ہے اور اس کو دیکھ کر اس کے جمال وکمال پر رقص کرسکتا ہے۔مگر وہی واحد مخلوق جس کو خدا نے اپنے دست خاص سے اس لیے بنایا تھا کہ وہ کائنات کی بے پناہ فن کاریوں کو دیکھے اوراس سے بے خودہوکر رقص کرنے لگے ،وہی سب سے زیادہ اس سے اعراض کرتا ہے۔انسان سب کچھ کرتا ہے مگروہی کام نہیں کرتا جس کو اسے سب سے زیادہ کرناچاہیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
تمام مخلوقات میں صرف انسان کو اس قسم کا احساس وشعور دینا ظاہر کرتا ہے کہ انسان سے اس کے خدا کو کیا مطلوب ہے۔انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کے ’’طرب پر رقص کرے‘‘۔وہ کائنات میں خدا کے کرشموں کو اس طرح پالے کہ اس پر وجد کی سی کیفیت طاری ہوجائے۔وہ بے اختیار پکار اٹھے:فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ(23:14)۔یعنی،کیسی بڑی شان ہے اللہ کی جو سب سے بہتر بنانے والا ہے ۔انسان کی اصل قیمت یہی ہے۔اگر وہ ایسا نہ کرے تو گویا وہ اس کائنات میں اپنے آپ کو بے قیمت کررہا ہے۔وہ اپنے وجود کو بے معنی بنا رہا۔ خدا نے ایک عظیم آفاتی اسٹیج بنایا اور اس میںاپنے بہترین جلووں کے ساتھ ظاہر ہوا اوریہ سب کچھ جس کے لیے کیا گیا وہ وہی تھا جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ایسی حالت میں انسان اگر اس کی طرف سے آنکھیں بند کر لے ، اگر اس کی طرف سے حمد کا ظہور نہ ہوتویہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی جو سزابھی دی جائے وہ کم ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کی دنیا بے حد حسین ہے۔وہ جنت کی فضائوں سے بھری ہوئی ہے۔ وہ خدا کے جمال وکمال کا آئینہ ہے۔ مگر انسان اس کے حُسن کو دیکھ نہیں پاتا۔انسان کے جہنمی سائے نے اس کو ڈھانپ رکھا ہے۔کائنات کو اس کے جنتی روپ میں دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے بنائے ہوئے جھوٹے خول سے باہر آئے۔وہ ’’انسانی دنیا ‘‘سے اوپر اٹھ کر خدائی دنیا میں جھانک سکے۔انسان اپنے خول سے باہر نکلنے پر تیار نہیں ہوتا ،اس لیے وہ خدا کی دنیا کو دیکھ بھی نہیں پاتا۔
وہی انسان انسان ہے جو تمام دیکھی جانے والی چیزوں سے زیادہ کائنات کو دیکھے۔کائنات کے آئینہ میں اس کو خدا کا جلوہ نظر آنے لگے جب کسی بندۂ خدا پر یہ تجربہ گزرتا ہے تو اس کا وہ حال ہوتاہے جس کو انسانی لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔اس کی زبان خدا کی حمد وثنامیں تر رہنے لگتی ہے۔یہاں تک کہ وہ خدا کے نور میں ڈوب جاتا ہے۔اس کے الفاظ جواب دینے لگتے ہیں۔اس کا شدت احساس آنکھوں کی راہ سے بہہ نکلتا ہے۔خدا کی خدائی کے اعتراف میں اس کا پوراوجود خاکستر ہوجاتا ہے۔
انسان اپنے آپ میں اتنا مشغول ہے کہ اس کو خداکی خدائی کی خبر نہیں۔وہ اپنی ’’مصنوعات ‘‘میں اتنا الجھا ہواہےکہ اس کو خداکی مصنوعات دکھائی نہیں دیتیں۔وہ اپنے جلووں میں اتنا گم ہے کہ اس کو خدا کے جلوے نظر نہیں آتے۔انسان کی سب سے بڑی محرومی یہی ہے اورجو شخص دنیا میں محروم ہو وہ آخرت میں پانے والا کس طرح بن سکتا ہے۔
قومی ہیرو
مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ناظم دینیات کے دفتر میں بی ایس سی کا ایک مسلمان طالب علم داخل ہوا’’یہ مسلم یوینورسٹی ہے ‘‘اس نے پر جو ش انداز میں کہنا شروع کیا۔’’یہاں آپ دینی امور کے ذمہ دار ہیں۔میں آپ کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ یہاں کی آ زاد لائبریری میں انگریزی کی ایک کتاب ہے جس میں ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصویر ہے۔آپ اس کتاب کو فوراً لائبریری سے ہٹوادیں ورنہ …‘‘۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ناظم دینیات نے کہا’’تم جانتے ہوکہ آزاد لائبریری بہت بڑی لائبریری ہے۔ یہاں دنیا کے مختلف اداروں سے کتابیں آتی رہتی ہیں۔ایسی حالت میں یہاں ایسی کتابیں بھی آسکتی ہیںجن میں اللہ میاں کا مذاق اڑایا گیا ہو۔کیا تم ایسی سب کتابوں کو دیکھ کر مشتعل ہوتے رہوگے‘‘۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
’’سر اللہ میاں تو سب کے ہیں اوررسول اللہ تو ہمارے ہیں ‘‘(احتساب، علی گڑھ، 15مئی 1984ء)۔
other sourceWords of another person or source
مسلمان طالب علم کوکیوں خدا سب کا نظر آیا اوررسول صرف اپنا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے رسول کو اپنا قومی ہیرو سمجھ لیا۔ہر قوم کا اپنا الگ ایک ہیرو ہوتاہے جس پر وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں فخر کرتی ہے۔ خدا میں اشتراک ممکن ہے مگر قومی ہیرومیں اشتراک ممکن نہیں۔یہی قومی نفسیات تھی جس کی وجہ سے مسلمان طالب علم خدا کے خلاف بات پر نہیں بھڑکا مگر رسول اللہ کے خلاف بات کو دیکھ کر بھڑک اٹھا۔
مذکورہ طالب علم کا واقعہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی صحیح نمائندگی کررہا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان کبھی ’’جشن خداوندی ‘‘نہیں مناتے۔البتہ وہ ’’جشن محمدی‘‘خوب دھوم کے ساتھ ساری دنیا میں مناتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنی قومی نفسیات کی بنا پر انہیںخدامیں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔کیونکہ خدا میں وہ اپنے لیے ذاتی فخر کاسامان نہیں پاتے۔البتہ ’’محمد‘‘تاریخی طور پر چوں کہ ان کے ہیرو یا ان کا قومی فخر بن چکے ہیں۔ اس لیے ان کے نام پر خوب دھوم مچاتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے پر فخر قومی جذبات کی تسکین حاصل کرسکیں۔
آج ہر طرف الحاد کا غلبہ ہے مگر مسلمانوں کے اندر یہ جوش نہیں ابھرتا کہ وہ الحاد کے فکری غلبہ کو ختم کرکے توحید کا فکری غلبہ قائم کریں۔البتہ پیغمبر کی تصویر دیکھ کر وہ فوراً بھڑک اٹھتے ہیں۔یہ یقینی طور پر ہیرو پرستی ہے نہ کہ خدا پرستی۔
فطرت کی تلاش
ایک آدمی جس کے پاس دولت اوراقتدار ہواس کے گرد پررونق سازوسامان جمع رہتے ہیں۔باہر سے دیکھنے والوں کو وہ اپنے سے مختلف بڑی چیز دکھائی دیتا ہے مگر خود اس شخص کاحال اس کے برعکس ہوتا ہے۔وہ جب اپنی تنہائیوں میںجاتاہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بھی ویسا ہی ایک کمزورانسان ہے جیسا کہ دوسرے انسان۔
امریکاکی مشہور فورڈ کمپنی کے موجودہ وارث مسٹرالفرڈفورڈ (پیدائش 1950)بے پناہ دولت کے مالک ہیں۔مگر ان کی روح کوئی اورچیز پانے کے لیے بے چین تھی۔اس دوران ان کا تعارف ہرے کرشنا موومنٹ سے ہوا جس کے مراکز امریکااوردوسرے مغربی ملکوں میں موجود ہیں۔انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی روح یہاں تسکین پاسکتی ہے۔وہ اس میںشریک ہوگئے۔مسٹرفورڈ نے 27 دسمبر 1984ء کو کرشنا موومنٹ کی ایک ہندولڑکی شرمیلا بھٹاچاریہ (39)سے شادی کرلی۔شادی کی یہ رسم ہرے کرشنا موومنٹ کے آسٹریلیا کے ایک مرکز میںانجام پائی۔ٹائمس آف انڈیا (یکم جنوری 1985ء)کی ایک تصویرمیں مسٹرفورڈ سادھوئوں جیسے بغیر سلے ہوئے کپڑے میں ملبوس نظر آتے ہیں۔اے پی کے نامہ نگار نے اس سلسلہ میں جو رپورٹ دی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے :
Mr. Alfred Ford said he was only a Ford by name. ‘I’m not a car. I’m a spiritual soul, just like anyone else,'' he said.
other sourceWords of another person or source
مسٹر فورڈنے کہا کہ وہ بس نام کے اعتبار سے فورڈ ہیں۔’’میں ایک کار نہیں ہوں۔ میں ایک روحانی وجود ہوں ویسے ہی جیسے کہ کوئی دوسرا شخص (ہندستان ٹائمس، 28 دسمبر1984ء)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کسی آدمی کو دولت اوراقتدار کی خواہ کتنی ہی بڑی مقدار حاصل ہوجائے ،وہ اس کی ہستی کا جزء نہیں بنتی۔سازوسامان کے ہجوم میں وہ اپنے آپ کو اکیلا اوربے سہارا محسوس کرتا ہے۔اس کے باوجود وہ کسی ایسی چیز کی تلاش میں رہتا ہے جو اس کی ہستی میں شامل ہوجائے۔جس کو وہ اپنے داخلی وجود کی سطح پر اپنا بنا سکے۔اس تلاش کا جواب صرف وہ کامل اوربرتر خدا ہے جو انسان کا خالق اورمالک ہے۔ مگر انسان جب حقیقی خدا کو نہیں پاتا تو وہ غیر خدا میں مشغول ہوجاتا ہے تاکہ وہ مصنوعی طور پر اپنے اس مطلوب کوحاصل کرسکے جس کو وہ حقیقی طورپر نہ پاسکا۔
یہ انسان
لوگوں کو دیکھیے تو وہ یاتو ’’ملت ‘‘کے مسائل پر باتیں کرتے ہوئے ملیں گے یا زیادہ سے زیادہ دین کے ظاہری پہلو ئوں پر۔دین کے معنوی پہلوئوں پر بات کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔اس کی وجہ شاید انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ صرف دکھائی دینے والی چیزوں میں اپنی توجہ لگاپاتا ہے۔جو چیز دکھائی نہ دے اس میں توجہ لگانا اس کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام رہاہے۔ماضی میں بھی اورآج بھی۔
انسان ان چیزوں کو اپنا معبود بناتا ہے جو اس کو دکھائی دیتی ہیں اورجو چیز دکھائی نہیں دیتی ، اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح اس کو اپنا معبود بنائے۔وہ ان کاموں میں بآسانی مشغول ہوجاتا ہے جو دکھائی دیں مگر جوکام بظاہر دکھائی نہ دیتے ہوں ان میں مشغول ہونا وہ نہیں جانتا۔جو چیز محسوس طورپر سامنے موجود ہو اس کی اہمیت کو وہ خوب جان لیتا ہے مگر جو چیز محسوس طور پر اس کے سامنے موجود نہ ہو اس کو وہ اس طرح نظر انداز کردیتا ہے۔جیسے وہ اس کو جانتا ہی نہیں۔
یہ ظاہر پرستی ہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔اس کمزوری کا آخری اظہار وہ ہے جس کو شرک کہا جاتا ہے۔نیز اس کمزوری کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ آدمی دین پر ایمان لانے کے باوجود دین میں ترقی نہیں کرتا۔
مشرک وہ ہے جو نہ دکھائی دینے والے خدا کو مانتے ہوئے کچھ دکھائی دینے والی چیزوں کو بھی خدا بنالے۔ملحد وہ ہے جو یہ کہہ کر سرے سے کسی خداکا اانکار کردے کہ وہ اس کو دکھائی نہیں دیتا۔یہ گمراہی کی زیادہ سنگین قسمیں ہیں۔
مگر یہاں ایک اورچیز ہے جو اپنے انجام کے اعتبار سے کم اہم نہیں۔وہ ہے ایمان کے باوجود ایمان کابے اثر رہنا۔ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آدمی خدا پر ایمان لائے مگر وہ خدا کو دیکھ نہ سکے۔وہ خد ا کو مانے مگر اس نے گہرائی کے ساتھ اس کا ادراک نہ کیا ہو۔ وہ خدا کا معتقد ہو مگر محسوسات سے بلند ہوکر وہ خدا کو اپنا مرکز توجہ نہ بناسکے۔
مزید یہ کہ غیر محسوس خدا کو نہ پانا گویا چھپی ہوئی معنویت کو نہ پانا ہے۔ایسا شخص انھیںانسانوں کو پہچان پاتا ہے جو اپنے گرد ظاہری اشیاء کا ڈھیرجمع کیے ہوئے ہوں۔ جو انسان اپنے اندر معنویت کا خزانہ لیے ہوئے ہووہ اس کے لیے لامعلوم رہتا ہے۔خدا کو کھونے والا بالآخر معنویت کو بھی کھو دیتاہے۔
خدا کی عظمت
شرک اورکبر
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا (4:48)۔ یعنی،بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے۔اور اس کے سواجس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔اورجو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے اس نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَقَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لَا يدْخل الْجنَّة من كَانَ فِي قلبه مِثْقَال ذرة من كبر قيل فَمَا الْكبر يَا رَسُول الله قَالَ أَن تسفه الْحق وَتغمضُ النَّاس أَي تحقرهم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 91)۔یعنی،رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت میں وہ شخص نہیں جائے گا جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہو۔ پوچھا گیا کہ کبر کیا ہے۔ آپ نے فرمایا حق کو نظر انداز کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس دنیا میں سب سے زیادہ خلاف واقعہ بات یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی اور کو بڑائی کا درجہ دیاجائے۔یہی خدا کے نزدیک سب سے بڑاجرم ہے۔آدمی اگراپنے آپ کو بڑاسمجھ لے تویہ کبر ہے اوراگروہ کسی دوسرے کو بڑاقراردے تواسی کا نام شرک ہے۔
خدا کی معرفت خدا کے سوا دوسری تما م عظمتوں کو ڈھا دیتی ہے بشمول اپنی عظمت کے۔خداکے سوا دوسروں کی عظمت ماننے کا نام شرک ہے اوراپنی عظمت ماننے کا نام کبر۔
موجود ہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔اس لیے یہاں ہر قسم کے لوگوں کو بسنے کے مواقع ملے ہوئے ہیں۔مگر آخرت کی دنیا آئیڈیل دنیا ہوگی۔وہاں صرف وہی لوگ عزت کامقام پائیں گے جنھوں نے موجودہ آزمائشی دنیا میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ حقیقت واقعہ کی سطح پر جینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کبر اورشرک کی سطح پر جینا غیر حقیقی سطح پر جینا ہے۔اس لیے جو لوگ کبر اورشرک کی سطح پر زندگی گزاریں گے وہ آخرت کی ابدی دنیا میں بسنے کے لیے سراسرنا اہل ٹھہریں گے۔
جنت ان اعلیٰ انسانوں کے لیے ہے جو خدا کی بڑائی میں جیتے ہوں۔جہنم ان پست لوگوں کا مقام ہے جو غیر خدا کی بڑائی میں جئیں ،خواہ یہ جینا خود اپنی بڑائی میں ہو یا اپنے سواکسی دوسرے کی بڑائی میں۔
عقید ۂ خدا
شیر کو دیکھنے کی صورت یہ ہے کہ آپ اس کو مردہ عجائب خانہ میں دیکھیں۔ اور دوسرا شیر وہ ہے جو کھلے جنگل میں نظر آتا ہے۔مردہ عجائب خانہ میں شیر کی کھال کے اندر بھس وغیرہ بھر کر اس کو کھڑا کردیتے ہیں۔بظاہر وہ شیر کی مانند ہوتا ہے مگر وہ صرف شیر کی صورت ہوتی ہے ،نہ کہ فی الواقع شیر۔ ایسے شیر کو لوگ صرف تفریح کے طور پر دیکھتے ہیں۔کوئی بھی شخص اس سے ڈرنے یا بھا گنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
مگر جنگل کا شیر ایک زندہ شیر ہے وہ ناقابل تسخیر قوت کا نشان ہے۔وہ جب چلتاہے توساراجنگل سہم اٹھتا ہے۔وہ جب دھاڑتا ہے تو جانور دہشت زدہ ہو کر گرپڑتے ہیں۔ کوئی آدمی اگر جنگل میں زندہ شیر کو دیکھ لے تووہ سر سے پائوں تک کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے تمام ہوش وحواس گم ہوجاتے ہیں۔وہ ویسا نہیں رہتا ہے جیسا وہ اس کو دیکھنے سے پہلے تھا۔
اس مثال سے خدا کے معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔خدا پر عقیدہ کی بھی دوصورتیں ہیں۔ ایک ہے خدا پر تقلیدی عقیدہ۔ دوسرا ہے خدا پر زندہ عقیدہ۔
خدا پر تقلیدی عقیدہ ایک بے جان عقیدہ ہے۔ایسا عقیدہ آدمی کی روح کو نہیں تڑپاتا۔وہ اس کی رگوں میں بجلی بن کر نہیں دوڑتا۔وہ آدمی کے اندر کوئی ہلچل پیدا نہیں کرتا۔خدا کے تقلیدی عقیدہ میں خدا کو ماننا ہوتا ہے۔مگر خدا سے ڈرنا نہیںہوتا۔
مگر خدا پر زندہ عقیدہ کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔خدا پر زندہ عقیدہ خد اکو اس کی اتھاہ قوتوں کے ساتھ اس کو دیکھ لینے کا نام ہے۔جو شخص اس طرح خدا کو پالے وہ پانے کے بعد ویسا نہیں رہ سکتا جیسا کہ وہ پانے سے پہلے تھا۔خدا کو پانے کے بعد اس کے سارے وجود کے اندر بھونچال آجاتا ہے۔خوف کی شدت سے اس کی روح سہم اٹھتی ہے۔اس کے ذہن سے تمام دوسرے مسائل حذف ہوجاتے ہیں۔وہ صرف ایک ہی مسئلہ کو جانتا ہے اوروہ خد اکا مسئلہ ہے۔
خدا کا زندہ عقیدہ اورخدا کا خوف دونوں ناقابل تقسیم ہیں۔آپ خداکے زندہ عقیدہ سے خدا کے خوف کو الگ نہیں کرسکتے۔جہاں یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوں وہاں سمجھ لیجیے کہ خدا کا زندہ عقیدہ نہیں بلکہ صرف تقلیدی عقیدہ ہے اور تقلیدی عقیدہ کی کوئی قیمت نہیں۔
عظمت خداوندی
ہر ایک کےپاس اپنی عظمت کی داستانیں ہیں ،خدا کی عظمت کی داستان کسی کے پاس نہیں۔ایک آدمی اپنی محبوب شخصیت کے حق میں لمبا نثری قصیدہ پڑھے گا جس میں یہ خبر دی جائے گی ’’آپ کی ذات گرامی کے آفتاب سے گوشے گوشے جگمگارہے ہیں ‘‘مگر طویل تحریر میں کہیں بھی یہ محسوس نہ ہوگا کہ کہنے اورسننے والے خدا کی عظمت وجلال کے احساس سے لرزرہے ہیں اوررب العالمین کے بے پایا ں کرشموں کو دیکھ کر محو حیرت ہیں۔البتہ خاتمہ کلام پر یہ فقرہ ادا کردیا جائے گاوآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔کلام کے پورے مجموعہ میں دیکھیے توعربی کا یہ فقرہ ایک بے جوڑ سا فقرہ معلوم ہوگا۔جس کلام میں انسانی عظمت کے آبشار برسائے جارہے ہوں وہاں ’’تمام تعریف صرف اللہ کے لیے ہے ‘‘ کہنے کا کیا مقام۔اس قسم کا فقرہ ہمیشہ رسمی ہوتا ہے نہ کہ حقیقی۔انسان کی عظمت کا طویل قصیدہ پڑھنے کے بعد یہ مختصر عربی فقرہ حقیقۃً اللہ کی حمد کے جذبہ سے نہیں نکلتا بلکہ صرف تبرک یا رسم کی خانہ پری کے لیے ہوتا ہے۔کسی دوسرے مذہب کا آدمی ہو اوروہ اپنی محبوب شخصیت کا قصیدہ پڑھے تووہ اپنے کلام کے آخر میں اپنے مذہب اورروایات کے لحاظ سے کوئی فقرہ بول دے گا اورمسلمان اپنے مذہب اورروایات کے لحاظ سے۔بظاہر دونوں ایک دوسرے سے مختلف معلوم ہوتے ہیں۔ایک فقرہ ’’اسلامی ‘‘فقرہ ہے اوردوسرے کا ’’غیر اسلامی ‘‘فقرہ مگر جس نفسیاتی حالت کے تحت یہ فقرے نکلے ہیں ،اس کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ اندرونی کیفیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ایک شخص اپنی روایتی تسکین کے لیے عربی فقرہ کا تلفظ کررہا ہے ،دوسراکسی غیر عربی فقرہ کا۔
جو لوگ اپنے ان مشغلوں پر خوش ہیں اوران کو کارنامہ سمجھتے ہیں وہ بہت جلد جان لیں گے کہ ان کی یہ سرگرمیاں خدا کی نظر میں اس سے بھی زیادہ بے قیمت تھیں جتنا کہ مٹی کے ڈھیر میں ایک چیونٹی کا رینگنا۔یہ زمین کسی کے ’’اکابر‘‘کی جلوہ گاہ نہیں۔یہ خدا کی تجلیات کا ظہور ہے۔ جب بھی خدا کے سوا کسی اورکی تعریف اس زمین پر کی جاتی ہے تو وہ سب سے بڑاجھوٹ ہوتا ہے جو کوئی شخص بولتا ہے۔
انسانی عظمت کے قصیدے جب پڑھے جاتے ہیں تو زمین وآسمان کی ہر چیز پڑھنے اورسننے والوں پر لعنت بھیجتی ہے مگر جب خد اکی عظمت کا چرچا کیا جا ئے تو زمین وآسمان اس کے ہم آواز ہوجاتے ہیں۔انسانی عظمت کے قصیدے جھوٹی زبانوں سے نکلتے ہیں اور جھوٹے کانوں سے سنے جاتے ہیں۔مگر جب کسی کو خدا کی عظمت بیان کرنے کی توفیق ملتی ہے تو یہ ایک ملکوتی کلام ہوتا ہے جو فرشتوں کے ہم نشینی سے کسی کی زبان سے ابلتا ہے۔ جو لوگ کسی انسان کی عظمت سے مسحور ہوں وہ اس کی شان میں الفاظ کے دریا بہاتے ہیں جب کہ خدا کی عظمت سے مسحور ہونے والے شخص پر چپ لگ جاتی ہے۔ انسانی عظمت کے چرچے پُررونق مجلسوں اورعمدہ چھپے ہوئے کاغذوں میں ہوتے ہیں اوراللہ کی عظمت کا چرچا ایک بندۂ خداکے قلب میں ابلتاہے اورصرف اس کی تنہائیوں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اس کو سنیں اوردیکھیں۔خدا کی عظمتوں میں جینے والے اورانسان کی عظمتوں میں جینے والے میں وہی فرق ہے جو خود خدا ا ورانسان میں ۔
کارخانہ کائنات
آپ کسی انسانی کارخانہ میں داخل ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں ہر چیز کے بارے میں بتایا جارہا ہے۔اس کے ہر شعبہ میں تعارفی تختیاں لگی ہوئی ہیں۔ہر جگہ آدمی کھڑاہوا ہے جو آپ کے ہرسوال کاپوراجواب دیتاہے۔کارخانہ کی طرف سے آپ کو ایسا تعارفی لٹریچر بھی دیا جائے گا جس میں ضروری معلومات درج ہوں۔
کائنات تمام کارخانوں سے زیادہ بڑاکارخانہ ہے۔مگر یہاں نہ کہیں کوئی تعارفی بورڈ نظر آتا اورنہ کوئی گائڈ۔یہاں منصوبہ بندی بھی ہے اورتعمیرات بھی۔یہاں پیداوار بھی ہے اورپیکنگ اورسپلائی کاانتظام بھی۔ یہاں رسد اورطلب میںتناسب کا لحاظ بھی کیا جارہا ہے اورصنعتی فضلات کو دوبارہ استعمال میں لانے کا اہتمام بھی۔یہاں ضبط اورتوازن کا نظام بھی ہے اورخام سامانوں کی مسلسل فراہمی کابندوبست بھی۔یہ سب کچھ ہے مگر نہ کہیں کوئی اعلان کرنے والا ہے اورنہ بتانے والا۔
پہاڑوں کی بلندیاں کائناتی اسٹيج کی مانند نظر آتی ہیں مگر وہاں کوئی بولنے والا نہیں۔ چڑیاں چہچہاتی ہیں تو شبہ ہوتا ہے کہ وہ شایدکسی بات کی خبر دے رہی ہیں مگر ان کی بولی سمجھ میں نہیں آتی۔بجلی چمکتی اوربادل گرجتے ہیں تو گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ کائنات کا آلۂ مکبرالصوت ہے جس کے ذریعہ کچھ اعلان کیاجا رہاہے مگر اس کے الفاظ آدمی کے لیے قابل فہم نہیں ہوتے۔
’’ایمان ‘‘کسی آدمی کے اندر اسی خلا کوپُر کرتا ہے۔وہ آدمی کو کائنات کے بھیدوں کا راز داں بناتا ہے۔مومن ایک قسم کا سائنس داں ہے۔ سائنس داں بکھرے ہوئے کُرّوں میں نظام شمسی کا پتہ لگاتا ہے وہ مادہ کے اند رچھپی ہوئی توانائی کو دریافت کرتا ہے۔وہ غیر متحرک دھات میں متحرک مشین کو دیکھ لیتا ہے۔اسی طرح مومن عالَم ظاہر میں عالَم غائب (غیب)کو دیکھ لیتا ہے۔وہ مخلوقات میں اس کے خالق کو پالیتا ہے۔وہ نظم کو دیکھ کر اس کے ناظم کا پتہ لگالیتاہے۔
ایمان جب اپنی آخری انتہاکو پہنچتا ہے تو وہ دعوت بن جاتا ہے۔دعوت دوسرے لفظوں میں کائنات کے غیر ملفوظ نغمہ کو الفاظ کی صورت دینا ہے۔داعی خدا کی خاموش نشریات کو با آوازاعلان میں منتقل کرتاہے۔وہ خدائی پیغام کو سن کر اسے انسانوں تک پہنچاتا ہے دعوت خداکی دنیا میں خداکی نمائندگی ہے۔
تقویٰ کیا ہے
ہٹلر کی حکومت کے زمانہ میں جرمنی میں جب یہودی پکڑے جانے لگے تو وہاں بہت لطیفے مشہور ہوئے۔ایک لطیفہ یہ تھاکہ شہر کی ایک سڑک پر ایک یہودی بھاگا جارہا تھا۔دوسرے یہودی نے اس کو دیکھ کر پوچھا کہ تم کیوںبھاگ رہے ہو۔اس نے کہا ’’تم بھی بھاگو‘‘اس نے دوبارہ پوچھا ’’آخر کیوں ‘‘بھاگنے والے یہودی نے جواب دیا ’’چڑیا گھر سے ایک بھیڑیا بھاگ نکلا ہے اوراس کو گولی مارنے کاحکم ہوا ہے۔ دوسرے یہودی نے حیران ہوکر کہا ہم کو کیا ڈرہے ،ہم بھیڑئے تو نہیں ہیں ،پھر ہم کیوں بھاگیں ‘‘پہلے یہودی نے جواب دیا ہاں ہم بھیڑئے نہیں ہیں۔مگر کیا ہم اس کو ثابت کر سکتے ہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈرکی نفسیات سے جوانسان بنتا ہے وہ کیسا انسان ہوتا ہے۔وہ مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے۔کیوں کہ اس کو ڈرہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے کہیں میں نہ پکڑلیا جائوں۔کسی سے ڈرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اپنے کو کمزورپارہاہے۔وہ فیصلہ کا سرادوسرے کے ہاتھ میں سمجھتا ہے۔اور جب بھی فیصلہ کا سرا دوسرے کے ہاتھ میں ہوتو لازماً ایسا ہوگا کہ آدمی اندیشہ میں مبتلارہے گا۔اس کو یہ ڈر لگا رہے گا کہ کہیں میں ہی مجرم نہ قراردے دیا جائوں۔ایک بکری جو مجھ سے بہت دور فرات کے کنارے مری ہو،اگر اس کے مرنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی جائے تو میرے پاس کیا جواب ہوگا۔اورمیں کس طرح اپنے کوبری الذمہ ثابت کرسکوں گا۔
اللہ تمام طاقتوں سے بڑھ کر طاقت ور ہے۔تمام فیصلوں کا سرااسی کے ہاتھ میں ہے۔ایسی حالت میں جوشخص اللہ کو پالے وہ اس کی طرف سے مستقل اندیشہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ہر معاملہ میں وہ سوچنے لگتا ہے کہ خدا کی عدالت میں کہیں مجھ کو اس کا ذمہ دار نہ قرار دے دیا جا ئے۔اپنے کو بچانے کا جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ لوگوں سے معاملہ کرنے میں وہ حددرجہ محتاط رہے ،لوگوں کے ساتھ وہ ہمیشہ فیاضی کا سلوک کرے ،وہ لوگوں کے حق سے زیادہ انہیںدے۔ اس کاکوئی ساتھی یا اس کا ماتحت اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا خطرہ وہ اپنے اوپر محسوس کرتا ہے ،کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ خدااگر قیامت میںکہہ دے کہ تمہاری وجہ سے اس کو یہ جرأت ہوئی تو میرے پاس کیا عذر ہوگا۔اس کی لاعلمی میں ظلم کا ایک واقعہ ہوتب بھی وہ کانپ جاتا ہے کہ اگر خدا کے یہاں یہ کہا جائے کہ تم عوامی قائدبنے ہوئے تھے تو تم اس سے باخبر کیوں نہ ہوئے تو میں خدا کو کیا جواب دوں گا۔اس کے دائرہ میں کوئی شخص کسی کو ستاتا ہے تو وہ بے تاب ہوجاتا ہے کیوں کہ وہ ڈرجاتا ہے اگر خدا یہ کہے کہ تم نے اپنی کارروائیوں سے جو ماحول بنایا اس کی وجہ سے ایساواقعہ ممکن ہوسکا تو میں کس طرح اپنے کو بری الذمہ ثابت کروں گا۔کوئی شخص اس کو مدد کے لیے پکارتا ہے اوروہ ایک عذر کرکے آگے بڑھ جاتا ہے تو وہ لرزاٹھتا ہے۔کیوں کہ یہ احساس اس کو پریشان کردیتا ہے کہ قیامت میں اگر خدا یہ کہہ دے کہ تم نے اپنے جس کام کو عذربنایا اس سے زیادہ ضروری یہ تھا کہ تم اس کو چھوڑ کر میرے بندے کا ساتھ دیتے تو میں کیاکہہ کر چھوٹ سکوں گا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
خرابی کی جڑ
ہر آدمی حق کا نام لیتا ہے ،اس کے باوجود دنیا میں ہرطرف بگاڑکیوں ہے۔اس کی وجہ قرآن کے لفظوں میں الحاد (انحراف )ہے۔ یعنی بات کو صحیح رخ سے غلط رخ کی طرف موڑدینا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
الحاد کی ایک صورت جو موجود زمانہ میں بہت زیادہ رائج ہے ،وہ ہے — انفرادی حکم کا رخ اجتماعیات کی طرف کردینا۔جس حکم کا خطاب آدمی کی اپنی ذات سے ہے اس کا مخاطب دوسروں کو بنا دینا۔مثلاً قرآن میں ہے کہ:وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ۔ وَثِيَابَكَ فَطَهِّر(74:3-4) یعنی، اپنے رب کی بڑائی کر اور اپنے اخلاق کو پاک کر‘‘۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس آیت میں اگروَثِيَابَكَ فَطَهِّر کو وَثِيَابَ غیركَ فَطَهِّر(اور دوسروں کے اخلاق کو پاک کر )کے معنی میں لے لیا جائے تو سارا معاملہ الٹ جائے گا۔جو آیت ذاتی اصلاح کا سبق دے رہی ہے وہ صرف دوسروں کے خلاف اکھاڑپچھاڑ کے ہم معنی بن کر رہ جائے گی۔
اسی طرح تمام احکام کا حال ہے۔ہر حکم جوخداکی طرف سے دیا گیا ہے اس کا سب سے پہلا خطاب آدمی کی اپنی ذات سے ہے۔مگر موجودہ زمانہ کے انقلابی دینداروں نے تمام احکام کا رخ دوسروں کی طرف کررکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دین ومذہب کے نام پر بے شمار ہنگاموں کے باوجود کوئی اصلاح نہیں ہوتی۔
ہر قسم کی اصلاح اورہر قسم کے بگاڑ کا خلاصہ دو لفظ میں یہ ہے :
1۔خدابڑاہے ،اس لیے میں بڑانہیں ہوں۔
2۔خدابڑاہے ،اس لیے تم بڑے نہیں ہو۔
’’پہلاجملہ’’اللہ اکبر ‘‘کے کلمہ کو صحیح رخ سے لینا ہے اوردوسراجملہ’’اللہ اکبر‘‘کے کلمہ کو غلط رخ سے اختیار کرنا ہے۔اگر آپ کہیں کہ’’خدا بڑاہے اس لیے میں بڑانہیں ہوں‘‘تو آپ کے اندراپنی ذات کے بارے میں ذمہ دار ی کا احساس جاگے گا۔آپ کے اندر سے گھمنڈ نکلے گا اورسنجیدگی اورذاتی اصلاح کا جذبہ پیدا ہوگا۔آپ کے اندر تو اضع ابھر ے گی جو تمام بھلائیوں کی جڑہے۔
اس کے برعکس جب آپ کا نعرہ یہ ہوکہ ’’خدا بڑاہے اس لیے تم بڑے نہیں ہو‘‘تو اس سے گھمنڈ کی نفیسات پیدا ہوتی ہے اورتوڑ پھوڑ اوردوسروں کے خلاف اکھیڑپچھا ڑ کی سیاست ابھرتی ہے۔اصلاح کے نام پر ایسا فساد ظہور میں آتا ہے جوکسی حد پر رکنے والا نہ ہو۔
خد اسے غافل
کسی شخص سے اس کے عزیز بیٹے کا ذکر کیجئے تو اس کے پاس اپنے بیٹے کے بارے میں کہنے کے لیے اتنی زیادہ باتیں ہوںگی جو کبھی ختم نہ ہوں۔مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا تذکرہ کیجئے تو وہ اس طرح غیر متحرک بنارہے گا جیسے کہ اس کے پاس خدا کے بارےمیں کہنے کے لیے کوئی بات ہی نہیں۔جیسے کہ وہ خداکے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں۔
کسی شخص کو اس کے خاندانی بزرگ کی یاد دلادیجیے تووہ اس قدر پر جوش طورپر بولنے لگے گاجیسے کہ اس کے تمام اندرونی احساسات جاگ اٹھے ہوں۔ مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا ذکر کیجئے توہ جذبات سے اس طرح خالی نظر آئے گا جیسے کہ اس کو معلوم ہی نہیں کہ خدا کے بارے میں کیا کہا جائے۔
کسی شخص کے سامنے اس کے جماعتی اکابر کا نام لے لیجیے۔ اچانک الفاظ کا دریا اس کی زبان سے بہہ پڑے گا۔ وہ اس وقت تک چپ نہ ہو گا جب تک آپ مداخلت کر کے موضوع کو بدل نہ دیں۔ مگر اسی شخص کے سامنے خدا کا نام لیجیے تو ا س کے اندر کوئی جوش پیدا نہ ہو گا۔ ایسا معلوم ہو گا جیسے اس کے پاس خدا کے بارے میں بولنے کے لیے کوئی چیز ہی نہیں۔
ایک شخص کے سامنے اس کے قومی ہیرو کاچرچا کر دیجیے اورپھر آپ دیکھیں گے کہ اچانک وہ بادشاہ سخن بن کر ظاہر ہوگیا ہے۔مگر اس کے سامنے خدا کا چرچاکیجئے تو وہ ایسا نظر آئے گا جیسے کہ اس کے اندر خداکا نام سن کر کوئی ہلچل ہی پیدا نہیں ہوئی جواس کو بولنے پر مجبور کردے۔
آہ وہ لوگ جن کے پاس رجال کی تعریف کے لیے الفاظ ہوں مگر خد اکی تعریف کے لیے ان کے پاس الفاظ نہ ہوں۔انسانوں کے بارے میںوہ معلومات کا خزانہ بنے ہوئے ہوں مگر خدا کے بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات نہیں جو ان کے زبان یا قلم سے جاری ہو۔کیا سینوں میں ایمان کے سوتے خشک ہوگئے۔
کیا لوگوں نے خدا کی عظمت کو محسوس نہیں کیا جس کو وہ لوگوں سے بیان کریں۔کیا لوگوں کو خدا کے کمالات کا کوئی مشاہدہ نہیں ہو ا۔کیا انہیںصرف مخلوقات کی خبر ہے ،خدا وند ذالجلال کی انہیںکوئی خبر نہیں۔
تضادختم ہوگیا
میں آبادی سے دورایک پہاڑ کے کنارے کھڑاتھا۔سرسبز درخت میرے سامنے پھیلے ہوئے تھے۔چڑیوں کی بولیاں کانوں میںآرہی تھیں۔مختلف قسم کے جانور چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔یہ دیکھ کر میرے اوپر عجیب تاثر ہوا۔کیسا عظیم اورکیسا کامل ہوگا وہ خدا جس نے اتنی بڑی دنیا بنائی اورپھر اس کو مجبور کردیا کہ وہ اس کے بتائے ہوئے نقشہ کی انتہائی پابندرہتے ہوئے حرکت کرے۔
کتنی حسین اورکتنی معصوم ہے یہ دنیا۔یہاںچڑیاں وہی آوازیں نکالتی ہیں جو ان کے خالق نے انہیںسکھایا ہے۔یہاں بلّی اوربکری بالکل اسی طرح اپنا اپنا رزق کھاتے ہیں جو پیدائشی طور پر ان کے لیے مقررکردیا گیا ہے۔ یہاں درخت عین اسی منصوبہ کے مطابق اُگتے اوربڑھتے ہیں جو ازل سے ان کے مالک نے ان کے لیے متعین کردیا ہے۔یہاں دریا ٹھیک اسی قانون کے مطابق رواں ہوتا ہے جو اس کے لیے ابدی طورپر مقدر ہے۔خدا کی کائنات انتہائی کامل مجموعہ ہے اوریہاں کی ہرچیز ادنیٰ انحراف کے بغیر عین اسی طرح عمل کرتی ہے جس کا حکم اس کے خدا نے اسے دے رکھا ہے۔
مگر انسان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔وہ اپنے منہ سے ایسی آوازیں نکالتاہے جس کی اجازت اس کے خدانے اسے نہیں دی۔وہ ایسی چیزوں کو اپنا رزق بناتاہے جس سے اس کے مالک نے اس کوروک رکھا ہے۔وہ اپنے سفرحیات کے لیے ایسے راستے اختیار کرتاہے جہاں کاتب ازل نے پیشگی طورپر اس کے لیے لکھ دیا ہے کہ ’’یہاں سے گزرنا منع ہے ‘‘انسان خدا کی کائنات کابہت چھوٹا حصہ ہے۔مگر وہ عظیم کائنات کے مجموعی نظام سے بغاوت کرتا ہے ،وہ خدا کی اصلاح یافتہ دنیا میں فساد برپاکرتا ہے۔
یہ خدا کی بے تضاد دنیا میں تضاد کودخل دینا ہے۔یہ ایک ہم آہنگ مجموعہ میں بےآہنگی کا جوڑلگانا ہے۔یہ ایک حسین تصویر میں بدصورتی کا دھبہ ڈالنا ہے۔یہ ایک کامل دنیا میں ناقص چیز کا اضافہ کرنا ہے۔یہ فرشتوں کی سرگرمیوں کے ماحول میںشیطان کو سرگرم ہونے کا موقع دینا ہے۔
خدا کی قدرت اوراس کے حسنِ ذوق کا ثبوت جو عظیم تر کائنات میں ہر لمحہ نظر آتاہے وہ اس گمان کی تردید کرتاہے کہ یہ صورت حال اسی طرح باقی رہے۔ خد اکی قدرت یقینا اس ظلم کی اجازت نہیں دے سکتی۔خدا کا حسن ذوق ہر گز اس کو برداشت نہیں کرسکتا۔ضروری ہے کہ وہ دن آئے جب کائنات کا یہ تضاد ختم ہو،خدا کی مرضی انسانی دنیا میں بھی اسی طرح پوری ہونے لگے جس طرح وہ بقیہ دنیا میںپوری ہورہی ہے۔
خد اکی نشانیاں
میکسویل(1831-1879ء) وہ شخص ہے جس نے فطرت میں برقی مقناطیسی تعامل کے قوانین کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ریاضیاتی مساوات میں بیان کیا۔کہا جاتاہے کہ جب عظیم جرمن سائنسداں بولٹنر مین(1844-1906) نے اس کو دیکھا تواس نے تعجب کے ساتھ کہا کہ کون وہ خدا ہے جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Maxwell put the laws of electromagnetic interactions into equations so marvellous that when the great German physicist, Boltzmann, saw them he exclaimed, who was the God who wrote these signs?
other sourceWords of another person or source
کائنات کا مطالعہ کرنے والے کے لیے سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ہر مطالعہ بالآخر ایک ایسی چیز پر ختم ہوتاہے جوانتہائی پر اسرار طورپر حکیمانہ ہوتی ہے۔ کائنات اپنے آخری مطالعہ میں ایک حددرجہ منظم واقعہ ہے نہ کہ کوئی بے ترتیب انبار۔یہ حقیقت ہر واقف کارکویہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ کائناتی واقعات کے پیچھے کوئی برتر ذہن کام کررہاہے۔
آ ئن سٹائن(1879-1955) ایک خالص سائنسی مزاج کا آدمی تھا۔تاہم اس نے اقرار کیا ہے کہ میں طبیعیات داں سے زیادہ ایک فلسفی ہوں۔کیونکہ میرایقین ہے کہ ہمارے باہر بھی ایک حقیقت ہے:
I am more a philosopher than a physicist,
for I believe there is a reality outside of us.
The World as I See it.
آئن سٹائن اپنے اس ذہن کی وجہ سے کہتا ہے کہ اس معنی میں میں بھی ایک پکا مذہبی آدمی ہوں :
In this sense, I belong to the ranks of devoutly religious men.
کائنات خد اکی نشانی ہے۔وہ مخلوق کے روپ میں خالق کی تصویر دکھاتی ہے۔جو شخص کھلے ذہن کے ساتھ کائنات کو دیکھے گا وہ اس کے اندر اس کے خدا کو پا لے گا۔البتہ جن کے ذہن میںٹیڑ ھ ہووہ عین روشنی کے درمیان بھی اندھیرے میں رہیں گے ،وہ خداکے قریب کھڑے ہوکر بھی خدا کو نہ پائیں گے۔
قدرتی مناظر
مسٹر یو۔کے مو کھاپادھیا ئے لند ن گئے۔وہاں ان کی ملاقات ایک معمر انگریز سے ہوئی جو پچاس سال پہلے برٹش راج کے زمانہ میںرائل ایر فورس کے افسر کی حیثیت سے ہندستان میں مقیم تھا۔اس نے مسٹر موکھاپا دھیائے سے بہت دل چسپی کے ساتھ ہندستان کے حالات پوچھے۔اس نے بتایا کہ اس کا قیام زیادہ تربمبئی اورپونہ میں تھا۔اس نے عجیب محویت کے انداز میںبتایا کہ بمبئی اور پونہ کے درمیان ٹرین کاسفر اس کو بہت پسند تھا۔یہ پوراسفر دریائوں ،جنگلوں اورقدرت کے مناظر کے درمیان ہوتاتھا۔ اس نے کہا کہ میںدوبارہ ہندستان جانا چاہتا ہوں تاکہ ان مناظر کو دیکھ کرخوشی حاصل کروں۔
مزید سوالات کے درمیان مسٹر موکھاپادھیا نے مذکورہ انگریز کو بتایا کہ اب پونہ پہلے جیسا پونہ نہیں ہے۔اب وہ پونے کہا جاتاہے۔اس کی آبادی دس گنا بڑھ گئی ہے۔نئی نئی سڑکیں اورروشنیوں کے انتظام نے اس علاقہ میں قدرتی مناظر سے زیادہ مشینی مناظر کاماحول پیداکردیاہے یہ سن کر اچانک اس انگریز کا ساراشوق ختم ہوگیا۔اس نے کہا:
NO. I don't think I will go to India
My India probably does not exist
نہیں،میں نہیں سمجھتا کہ مجھے انڈیا جانا چاہیے۔میراانڈیااب غالباًموجودنہیں (ٹائمس آف انڈیا، 3فروری1984)۔
مشینی مناظردیکھنے سے ’’انسان ‘‘یاد آتا ہے اورقدرتی مناظر کو دیکھنے سے ’’خدا‘‘یاد آتاہے۔مشینی مناظر میں انسان کی کاریگری کادھیان آتا ہے اورقدرتی مناظر میں خدا کی کاریگری کا ۔مشینی مناظر انسان کوانسان سے ملا تے ہیں اورقدرتی مناظر انسان کو خدا سے ملاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مشینی مناظر میںانسان کووہ سکون نہیں ملتاجو قدرتی مناظر میں اس کو ملتا ہے — أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ(13:28)۔ سنو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قدرتی مناظر کیاہیں۔وہ خداکی صفات کا آئینہ ہیں۔آسمان کی وسعت خدا کی بے پایاں ہستی کا تعارف ہے۔سورج خدا کے سراپانورہونے کا اعلان کررہا ہے۔دریا کی روانی خداکے جوش رحمت کی گویا ایک تمثیل ہے۔پھو لوں کی مہک اورخوبصورتی خدا کے حسن کی ایک دور کی جھلک ہے۔اگر دیکھنے والی آنکھ ہوتو اس کو قدرتی مناظر میں خدا کا جلوہ دکھائی دے گا۔
شناختی کارڈ کے بغیر
دیہات کا ایک لڑکاشہر آیا۔سڑک پر چلتے ہوئے وہ ایک اسکول کی عمارت کے سامنے سے گزرا۔یہ اسکول کے جشن کا دن تھا۔سیکڑوں لڑکے ایک کھڑکی کے سامنے لائن لگائے ہوئے تھے۔دیہاتی لڑکے نے قریب جاکردیکھا تو معلوم ہواکہ اس کھڑکی پر مٹھائی تقسیم ہورہی ہے۔اور ہر ایک اس کو لے کر باہر آرہا ہے۔دیہاتی لڑکا بھی لائن میں شامل ہوکر کھڑاہوگیا۔وہ لائن کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔وہ سمجھتا تھا کہ جب میری باری آئے گی تومٹھائی کا پیکٹ اسی طرح میرے ہاتھ میں بھی ہوگا جس طرح وہ دوسروں کے ہاتھ میں دکھائی دے رہا ہے۔
لائن ایک کے بعد ایک آگے بڑھتی رہی۔یہاں تک کہ دیہاتی لڑکا کھڑکی کے سامنے پہنچ گیا۔اس نے خوش خوش اپنا ہاتھ کھڑکی طرف بڑھایا۔اتنے میں کھڑکی کے پیچھے سے آواز آئی ’’تمہارا شناختی کارڈ ‘‘۔لڑکے کے پاس کوئی کارڈ نہ تھا۔وہ کارڈ پیش نہ کرسکا۔چنانچہ وہ کھڑکی سے ہٹادیا گیا۔اب لڑکے کو معلوم ہواکہ یہ مٹھائی ان لوگوں کو تقسیم ہوری تھی جو سال بھر اسکول کے طالب علم تھے نہ کہ کسی ایسے شخص کے لیے جو اچانک کہیں سے آکرکھڑکی پر کھڑاہوگیاہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایسا ہی کچھ معاملہ آخرت میں پیش آنے والاہے۔آخرت کا دن خدائی فیصلہ کا دن ہے۔اس دن سارے لوگ خدا کے یہاں جمع کیے جائیں گے۔وہاں لوگوں کو انعامات تقسیم ہورہے ہوںگے۔مگر پانے والے صرف وہ ہوں گے جنھوں نے اس دن کے آنے سے پہلے پانے کا استحقاق پیدا کیاہو،جواپنا ’’شناختی کارڈ ‘‘لے کر وہاںحاضر ہوئے ہوں۔
وہ وقت آنے والا ہے جب کسی آنکھ کے لیے سب سے زیادہ پُر کیف منظر یہ ہوگا کہ وہ اپنے رب کو دیکھے۔کسی ہاتھ کے لیے سب سے زیادہ لذید تجربہ یہ ہوگا کہ وہ اپنے رب کو چھوئے۔ کسی سرکے لیے سب سے زیادہ عزت اورفخر کی بات یہ ہوگی کہ وہ اس کو رب العالمین کے آگے جھکادے۔مگر یہ سب کچھ صرف ان لوگوں کے لیے ہوگاجنھوں نے اس دن کے آنے سے پہلے اپنے خداکی نظر عنایت کا مستحق ثابت کیاہو۔بقیہ لوگوں کے لیے ان کی غفلت ان کے اور ان کے خدا کے درمیان حائل ہوجائے گی۔وہ خداکی دنیا میں پہنچ کر بھی خدا کو نہ دیکھیں گے۔وہ پانے والے دن بھی اپنے لیے کچھ پانے سے محروم رہیںگے۔
جب پردہ اٹھے گا
امریکی صدر رونالڈریگن(1911-2004) 30مارچ 1981کوپر اعتماد چہرہ کے ساتھ اپنے صدارتی محل (وھائٹ ہائوس) سے نکلے۔کاروں کا قافلہ ان کو لے کرواشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل کی طرف روانہ ہوا۔پروگرام کے مطابق انھوں نے ہوٹل کے شان دارہال میں ایک تقریر کی۔تحسین و آفر یں کی فضامیں ان کی تقریر ختم ہوئی۔وہ آدمیوں کے ہجوم میں ہنستے ہوئے چہرہ کے ساتھ باہر آئے۔وہ اپنی بلیٹ پر وف لیموزین (کار) سے صرف چند قدم کے فاصلہ پر تھے کہ اچانک باہر کھڑے ہوئے مجمع کی طرف سے گولیوں کی آواز یں آنے لگیں۔ایک نوجوان جان ہنکلے نے دو سکنڈکے اندر چھ فائر کیے۔ایک گولی مسٹرریگن کے سینہ پر لگی۔وہ خون میں لت پت ہوگئے اورفوراًاسپتال پہنچائے گئے۔اچانک گولی لگنے کے بعد صدر امریکاکا جوحال ہوا وہ اے پی کا رپورٹر اِن الفاظ میں بیان کرتا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Mr Reagan appeared stunned. The smile faded from his lips.
مسٹرریگن جیسے سن ہوگئے۔مسکراہٹ ان کے ہونٹوں سے غائب ہوگی (ٹائمس آف انڈیا، 31مارچ 1981)۔ یہ واقعہ اس صورت حال کی ایک تصویر ہے جو موت کے ’’حملہ ‘‘کے وقت اچانک آدمی پر طاری ہوگی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آدمی موجودہ دنیا میں اپنے کو آزاد سمجھ رہا ہے۔وہ نڈرہوکر جو چاہے بولتا ہے اورجو چاہے کرتا ہے۔اگر کسی کو کچھ مال ہاتھ آگیا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میرا مستقبل محفوظ ہے۔کسی کو کوئی اقتدار حاصل ہے تو وہ اپنے اقتدار کو اس طرح استعمال کرتا ہے جیسے اس کا اقتدار کبھی چھننے والانہیں۔ہر آدمی پُر اعتماد چہرہ لیے ہوئے ہے۔ ہر آدمی ہنستے ہوئے اپنی ’’لیموزین ‘‘کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس کے بعد اچانک پردہ اٹھتا ہے۔ موت کا فرشتہ اس کو موجودہ دنیا سے نکال کر ا گلی دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔
یہ ہر آدمی کی زندگی کا ایک انتہائی بھیانک لمحہ ہے۔جب یہ لمحہ آتا ہے تو آدمی اپنے اندازہ کے بالکل خلاف صورت حال کو دیکھ کر دہشت زدہ ہوجاتا ہے۔اچانک اس کو محسوس ہوتاہے وہ سب کچھ محض دھوکا تھا جس کو اس نے سب سے بڑی حقیقت سمجھ لیا تھا۔میں نے اپنے کو آزاد سمجھا تھا مگر میں تو بالکل بے اختیار نکلا میں اپنے کو مال و جائیداد والا پارہا تھا مگر میں تو بالکل خالی ہاتھ تھا۔میں سمجھتا تھاکہ میرے ساتھ بہت سے لوگ ہیں مگر یہاں تو میراکوئی ایک بھی نہیں۔
آہ وہ انسان جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کواسے سب سے زیادہ جاننا چاہیے۔
جھوٹی بڑائی
حضرت عمر فاروقؓبحیثیت خلیفہ مدینہ میں تقریر کر رہے ہیں۔ایک شخص اٹھ کرکہتا ہے کہ خداکی قسم اگر ہم تمہارے اندر کوئی ٹیڑھ پائیں گے تو ہم تم کو تیر کی طرح سیدھا کر دیں گے:لَو فَعَلت ذَلِكَ قَوَّمْنَاكَ تَقْوِيمَ القِدْحِ(کنز العمال، حدیث نمبر 14197) بظاہر یہ نہایت سخت تنقید ہے اوربڑی گستاخی کی بات ہے مگر نہ عمر فاروق اس کو برامانتے اورنہ سارے مجمع سے کوئی ایک شخص اٹھ کر یہ کہتاکہ تم نے ایسا کیوں کہا۔اس طرح کے تنقیدی واقعات صحابہ کے دمیان روزانہ پیش آتے تھے۔صحابہ کے بعد تابعین اورتبع تابعین کے زمانہ میں بھی یہ صورت حال باقی رہی۔مگر کبھی کسی نے اس کو برا نہ مانا۔اگر کہا تو صرف یہ کہا کہ جوبات کہو تحقیق کے ساتھ کہو،نہ کہ بے تحقیق باتوں پر ایک دوسرے کے خلاف رائے زنی کرنے لگو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کی وجہ کیا ہے۔اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ لوگ انسانوں کی عظمت میں نہیں جیتے تھے بلکہ صرف ایک خدا کی عظمت میں جیتے تھے۔ان کے دل پر اس سے چوٹ نہیں لگتی تھی کہ کوئی شخص کسی انسان پر کیوں تنقید کرتا ہے۔کیوں کہ وہ بڑائی کا سارا حق صرف خدا کو دئے ہوئے تھے۔اورانسانوں پر تنقید کرنے سے خداکی بڑائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
اس کے برعکس موجودہ زمانہ میں اگر کسی شخصیت پر تنقید کردیجیے تو خوا ہ وہ تنقید کتنی ہی علمی اورتحقیقی کیوں نہ ہو ،اس کے معتقدین فوراً برہم ہوجائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ انسانوں ہی کو اپنا بڑابنائے ہوئے ہیں پھر وہ کیسے گوارا کرسکتے ہیں کہ ان کی بڑائی کا مینا ر گرجائے۔لوگوں کا حال یہ ہے کہ نماز اوراذان میں وہ اللہ اکبر (اللہ بڑا ہے )کہتے ہیں مگر یہ صرف الفاظ ہیں جن کو لوگ زبان سے ادا کرتے ہیں ورنہ حقیقتہً لوگ جس بڑائی میں جی رہے ہیں وہ انسان کی بڑائی ہے نہ کہ خدا کی بڑائی۔
لوگوں کو جاننا چاہیے کہ غیراللہ کی بڑائی میں جینے کا موقع صرف اس وقت تک ہے جب تک امتحان وآزمائش کی مدت ختم نہ ہو۔اس کے ختم ہوتے ہی اس کا موقع بھی ختم ہو جائے گا۔پھر جن لوگوں کی غذاانسان کی جھوٹی بڑائی ہو۔وہ اس وقت کس چیز کواپنی غذا بنائیں گے جبکہ تمام دوسری بڑائیاں ختم ہوجائیں گی اورخدا کی سچی بڑائی کے سوا کوئی بڑائی نہ ہوگی جس کو آدمی اپنی غذابنائے اورجس کے بل پر وہ جی سکے۔
خدا کی نشانی
إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِلْمُؤْمِنِينَ۔وَفِي خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَابَّةٍ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ آيَاتٌ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ(45:3-5)۔یعنی، بے شک آسمانوں اورزمین میں ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیںاورتمہارے اورحیوانات کو پیدا کرنے میں جن کو زمین میں پھیلا دیا ہے نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔ اور رات اوردن کے آنے جانے میں اوراس رزق میں جس کو اللہ نے اتاراہے پھر اس سے زمین کو زندہ کیا اس کے خشک ہونے کے بعد اورہوائوں کے چلنے میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں کثرت سے اس طرح کی آیتیں ہیں جن میںکہا گیا ہے کہ کائنات میںسوچنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسان سے جن معنوی حقیقوں پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا ہے ان کی مادی تمثیلات اس نے کائنات میں ہر طرف قائم کردی ہیں۔تاکہ آدمی کے لیے ان حقیقیوں کوسمجھنا آسان ہوجائے۔تاکہ وہ دکھائی دینے والی چیزوں کے آئینہ میں نہ دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھ سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سورج اورچاند خدا کی روشن ہستی کا تعارف ہیں۔چڑیاں اورجانورخداکی خدائی کے معصوم نمائندے ہیں آسمان خداکی عظمت وقدرت کا اعلان ہے۔پانی اورہوا خداکی رحمت وشفقت کا ایک نمونہ ہیں۔درخت اورپہاڑخدا کے لامحدود حسن کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔
انسان اگر دنیا میں اس طرح رہے کہ اس کے دماغ کی کھڑکیاں کھلی ہوئی ہوں۔وہ دیکھنے والی چیزوں کو دیکھ رہا ہو تو ساری دنیا اس کو خدا کی یاد دلانے والی بن جائے گی۔وہ ہر چیز میں خداکا نور پائے گا۔ہر چیز میں وہ خدا کی حکمت کو دریافت کرے گا۔کائنات اس کے لیے ایک خدائی سمندربن جائے گی۔جس میں وہ نہائے۔زمین وآسمان اس کے لیے خدا کی جلوہ گاہ بن جائیں گے جہاں وہ اپنے رب سے ملاقات کرے۔
خدا کا فیضان
ہمارے گھر میں پہلے ایک میڑ بینڈ کا معمولی ٹرانسسٹر تھا۔وہ صرف دہلی ریڈیو اسٹیشن پکڑتا تھا۔ہم اس سے دہلی کی خبر یں سن لیتے تھے۔مگر دوسرے ملکوں کی نشریات سننا اس کے ذریعہ ممکن نہ تھا۔کئی سال تک یہی چھوٹا ٹرانسسٹر ہمارے ریڈ یائی نشریات سننے کا ذریعہ بنارہا۔
اس کے بعد ہم نے چارمیڑ بینڈ ریڈیو سٹ خریدا۔یہ ریڈیوسٹ دنیابھر کے تمام ملکوں کے ریڈیواسٹیشن کو پکڑتا تھا۔اس کے ذریعہ جب ہم نے بی بی سی اور دوسرے بیرونی اسٹیشنوں کو سنا تو معلوم ہو اکہ ہم کتنی بڑی دولت سے محروم تھے۔ہر روز مختلف ممالک نہایت قیمتی پروگرام نشر کرتے ہیں۔ان کو سننے سے زبردست فکری اورمعلوماتی فائدے ہوتے ہیں۔مگر اس علمی خزانہ سے مستفید ہونا ہمارے لیے اس وقت تک ممکن نہ ہوسکاجب تک کہ ہم نے بڑاریڈیوسٹ اپنے لیے حاصل نہ کیا۔
خدا اوربندے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔خدا کا فیضان گویا ایک لامحدود نشرگاہ ہے۔اس سے ہر لمحہ رزق رب کا مینھ برستارہتا ہے۔مگر آپ اس سے کتنا پائیں ،اس کا انحصا ر آپ کے اپنے ’’ریڈیوسٹ ‘‘پر ہے۔اگر آپ کا ریڈیوسٹ چھوٹا ہے تو آپ بہت کم چیزیں اخذ کرسکیں گے اوراگر آپ کاریڈیوسٹ بڑاہے تو آپ کے اوپر اتنا زیادہ خدا کا فیضان برسے گاگویا کہ آپ خدائی فیضان کے اتھاہ سمندرمیں نہا اٹھے ہیں۔
آج کل ہر آدمی محدود یت کا شکار ہے۔کوئی شخص ہے جو کسی گروہی خول میں بند ہے۔کوئی اپنے آپ کو حقیر مفادات میں اس طرح گم کیے ہوئے ہے کہ اس کو آگے پیچھے کی کوئی خبر نہیں۔کسی کی سطحیت اس کو گہری حقیقتوں کا ادارک کرنے میں مانع بنی ہوئی ہے کسی کی تنگ نظری نے اس کو اس قابل نہیں رکھا ہے کہ وہ وسیع تر دائرہ کی معرفت حاصل کرسکے۔
بند کو ٹھری میں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی۔اسی طرح بندذہن خدا کا فیضان پانے سے محروم رہتاہے۔خدا کا فیضان اسی کو ملتا ہے جو اپنے ذہن کے دروازے کھولنے پر راضی ہوجائے۔
خدا اورفطرت
دینِ فطرت
اگر ایک آدمی کو سمندر میں سفر کرنا ہوتو وہ ایسا نہیں کرتا کہ جس طرح سے وہ خشک زمین پرچلتاہے اسی طرح وہ اپنے پیروں پر چلتا ہوا سمندرمیں داخل ہوجائے۔بلکہ اس وقت وہ ایک کشتی تیار کرتا ہے اورکشتی میں بیٹھ کر سمندرمیں اپنا سفرجاری کرتاہے۔
جب ایک آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ گویا اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہے جس کے خود اپنے قوانین ہیں۔وہ مجبور ہے کہ خد اکی اس خارجی دنیا سے کامل مطابقت کرے۔آدمی اگر دنیا کو اپنی بنائی ہوئی دنیا سمجھتا تو وہ سمندرمیں بھی اسی طرح چلنے لگتا جس طرح وہ خشکی پر چلتا ہے۔
عالم فطرت سے مطابقت کا یہ طریقہ تمام انسان اپنی زندگی کے ’’50فی صد‘‘حصہ میں اختیار کیے ہوئے ہیں۔وہ اس سے ذرابھی انحراف نہیں کرتے۔مگر زندگی کے بقیہ ’’50فیصد‘‘حصہ میں وہ اِس کو چھوڑے ہوئے ہیں۔اسلام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ دعوت دیتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کے دوسرے نصف حصہ میں اسی طریقہ کو اختیار کر لے جس کو وہ اپنی زندگی کے پہلے نصف حصہ میں عملاً اختیار کیے ہوئے ہے۔
انسان کی زندگی کا ایک پہلو طبیعی ہے اوردوسراپہلواخلاقی۔انسان زندگی کے طبیعی پہلو میں اسی طرح خدا کا مطیع ہے جس طرح بقیہ چیزیں خدا کی پوری طرح مطیع ہیں۔مگر اپنی زندگی کے اخلاقی پہلو میں وہ خد اکے حکم کو چھوڑ کر اپنی رائے پر چلتا ہے ،وہ اطاعت کے بجائے بغاوت کاطریقہ اختیار کرتاہے۔اسلام کو اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے اس تضاد کو ختم کردے۔وہ صدفی صد خد اکا مطیع وفرماں برداربن جائے۔
مادی دنیا میں قانون فطرت سے انحراف کا نتیجہ چوں کہ فوراً سامنے آجاتا ہے اس لیے آدمی مادی پہلو ئوں میں اس سے انحراف نہیں کرتا۔مگر اخلاقی دنیا میں اس کے حقیقی نتائج فوراً نہیں نکلتے اس لیے یہاں آدمی خلاف ورزی کرتاہے۔
ایک کسان فصل بونے کے وقت قانون زراعت کی پیروی نہ کرے تو فصل کاٹنے کے دن وہ محروم ہوکر رہ جاتا ہے۔اسی طرح موجودہ دنیا میں جو آدمی اخلاقی قوانین کی پیروی نہ کرے اس کے حصہ میںآخرت کے دن محرومی اورشرمندگی کے سواکچھ نہ آئے گا۔
کائنات کی معنویت
آرتھر کوئسلر (1905-1983)نے البرٹ آئن سٹائن(1879-1955) کاایک قول نقل کیا ہے۔اس نے کہا ’’میں یہ مانتا ہوں کہ سائنسی تحقیق میں سب سے زیادہ طاقتور اورسب سے زیادہ اعلیٰ محرک جو چیز ہوتی ہے وہ کائناتی مذہبیت ہے۔ایک معاصر سائنسی داں نے بجا طور پر کہا ہے کہ ہمارے موجودہ مادی دورمیں بھی سنجیدہ علمی تحقیق کرنے والا وہی شخص ہوسکتاہے جو گہرامذہبی آدمی ہو‘‘(ٹائمس آف انڈیا، 5اکتوبر1980)۔
other sourceWords of another person or source
I maintain that cosmic religiousness is the strongest and most noble driving force of scientific research. A contemporary has said, not unrightly, that the serious research scholar in our generally materialistic age is the only deeply religious human being.
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Einstein as quoted by Koestler in Janus.
مذکورہ قول میں مذہبی ہونے کا مطلب ان دیکھی معنویت پریقین کرنا ہے۔سائنس داں جب اپنی تلاش میں نکلتا ہے تو اس وقت جو چیز اس کی رہنمابنتی ہے وہ اس کے اندر چھپا ہواعقیدہ ہوتا ہے کہ کائنات میں وحدت اورمعنویت ہے۔اگر وہ اس یقین سے خالی ہوتو کبھی وہ اپنی تلاش میں سنجیدہ نہیں ہوسکتا۔
گویا با عتبارحقیقت ایک سائنس داں اورایک مذہبی انسان میں کوئی فرق نہیں۔ ایک مذہبی انسان کچھ اعمال کرتا ہے۔ان اعمال کا مقصد خدا کو خوش کرنا یا آخرت کی دنیا میں اس کا انعام پاناہے۔مذہبی انسان خدا کو نہیں دیکھتااورنہ آخرت کو۔مگر وہ انتہائی انہماک کے ساتھ اپنے عمل میں مشغول رہتا ہے۔ اس انہماک کی وجہ نہ دکھائی دینے والی حقیقتوں پر اس کا کامل عقیدہ ہے۔ٹھیک یہی معاملہ سائنسداں کا ہے۔وہ ساری عمر کسی حقیقت کی جستجوکرتا ہے۔یہ حقیقت نامعلوم دنیا میںچھپی ہوئی ہے۔تاہم سائنس داں پیشگی طور پر یہ یقین قائم کرلیتا ہے کہ جو چیز وہ چاہتا ہے وہ کائنات کے اندر چھپی ہوئی موجود ہے۔ اگرچہ ابھی تک وہ اس کے علم میں نہیں آئی۔
مذہب کی اصل کائنات کا معنویت پر یقین کرنا ہے۔ایسی معنویت جو بظاہر ہم کو اپنی آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی۔سائنسی کھوج کی نوعیت بھی اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہی ہے۔اس دنیا میں ایک سائنس داں بھی ٹھیک اسی مقام پر کھڑاہواہے جہاں ایک مذہبی انسان —اس دنیا میں تمام اعلیٰ حقیقتیں چھپی ہوئی حقیقتیں ہیں۔اس لیے وہ شخص زیادہ سنجیدگی کے ساتھ کسی اعلیٰ تحقیقی کام میں مصروف ہوگا جو چھپی ہوئی حقیقت پر یقین رکھنے والا ہو۔
انسان کی بے چارگی
بنگلہ دیش بے شمار چھوٹے چھوٹے جزائر کا مجموعہ ہے۔یہاں اکثر شدید طوفان آتے ہیں اورانسانی آبادیوں کو غیر معمولی نقصان پہنچاتے ہیں۔اب تک کے ریکارڈ کے مطابق 1876ء میں یہاں سخت ترین طوفان آیا جس میں تقریباً تین لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوگئیں۔ دیگر نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔
مئی 1985 میں یہاں پھر طوفان آیا۔طوفانی ہوائیں 150کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تقریباً ایک ہزار جزیروں کے علاقہ میں داخل ہوگئیں۔دوسری طرف سمندر کی چارمیٹر سے بھی زیادہ اونچی لہروں نے جزائر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔تقریباً ایک لاکھ انسان اس کے آگے بے بس ہوکر ہلاک ہوگئے۔سیکڑوں بستیاں تنکوں کی طرح طوفانی لہروں میں بہہ گئیں۔ایک اخبار کے رپورٹر نے اپنا عینی مشاہدہ ان الفاظ میں بیان کیا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Urir Char....looks like it has been bombed relentlessly. Not a single structure, save the concrete forest office stands erect. In fact, so fierce has been the force of the gale and tidal waves that not only the houses, but even the building materials were washed away, leaving behind just mounds.
ایک انگریز ی اخبار (29مئی 1985)نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مہلک طوفان جو قدرت کے غصہ کے سامنے انسان کی بے چارگی کو بے نقاب کرتاہے :
other sourceWords of another person or source
—murderous cyclones which expose man's helplessness before nature's fury.
حادثات انسان کوحقیقت واقعہ کی یاد دلاتے ہیں۔وہ خداکی قدرت اورانسان کے عجزکا واقعاتی اعلان ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ خدا کل کے دن انسان کو پکڑے گا جس طرح آج اس نے انسان کو پکڑاہے۔موجودہ عارضی دنیا میں انسان اپنے عجزکو بھگتتا ہے۔کیسا عجیب ہوگا انسان کا حال اگروہ آخرت کی ابدی دنیا میں اپنے گنا ہ کو بھگتے۔
انسان کی تلاش
فلپ جان بائر(1717-1781)امریکاکا ایک بڑاتاجر تھا۔وہ کویکر اسٹیٹ ریفائننگ کمپنی (Quaker State Refining Co.)کا بانی تھا۔اس کے یہاں صرف ایک لڑکا تھا۔ لڑکا مراتواس نے بھی صرف ایک لڑکی چھوڑی جس کانام الینررٹشی (Eleanor Ritchey) تھا۔
الینررٹشی کے پاس بے پناہ دولت تھی مگر وہ انسانوں سے اس قدر متنفرتھی کہ اس نے شادی نہیں کی اورتمام عمراکیلی رہی۔14اکتوبر1968ء کو اس کا انتقال ہواتواس کی عمر 58سال تھی۔انسانوں سے بے رغبت ہوکر اس نے اپنی دل چپسی کے لیے عجیب وغریب عادتیں بنارکھی تھیں۔مثلاً وہ کثرت سے جوتے خریدتی۔مگر ہر جوتے کو وہ صرف ایک بارپہنتی تھی۔چنانچہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر میں 1706جوڑے جوتے موجود تھے۔اسی طرح اس کے گھر میں اسٹیشنری کے 1344بکس پائے گئے۔وغیرہ
اس کی سب سے عجیب دل چسپی کتے تھے۔وہ جب اپنی کارسے باہر نکلتی اورکوئی آوارہ کتا اس کو نظر آتا تو وہ پکڑواکر اس کو اپنے گھر لاتی اوران کو خصوصی اہتمام سے پالتی۔اس طرح اس کے یہاں 150کتے جمع ہوگئے۔اس کا گھر کتوںکی اس فوج کے لیے ناکافی معلوم ہواتواس نے اولاً بارہ ایکڑاوراس کے بعد180 ایکڑ زمین صرف اس لیے خریدی کہ وہاں کتوں کو خصوصی اہتمام کے ساتھ رکھنے کا انتظام کیا جاسکے۔
الینر رٹشی نے موت سے پہلے ایک وصیت نامہ تیار کرایا۔اس وصیت میں اس نے لکھا کہ میری دولت میرے پالتو کتوں کے لیے وقف ہے۔جب ایک ایک کرکے تمام کتے مرجائیں تو میری پوری دولت الباما (امریکا)کے مدرسہ حیوانات (School of Veterinary Science)کودے دی جائے۔
اب اس کے کتوں میں صرف آخری کتارہ گیا ہے جس کانام مسکٹیر (Musketeer) ہے۔یہ 23سالہ کتا اتنا کمزورہوچکا ہے کہ جب وہ چلتاہے تو اس کا پائوں کا نپتا ہے اورجب وہ چھینکتاہے توزمین پر گر پڑتا ہے۔یقینی طورپر وہ بہت جلد مرجائے گا۔اس کے بعد مذکورہ مدرسہ حیوانات کو بارہ ملین ڈالر کی رقم اچانک حاصل ہوجائے گی(ٹائمس آف انڈیا، 2جنوری1984)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آدمی کو اگر آئڈیل انسان نہ ملے تواس کو آئیڈل نظریہ تلاش کرنا چاہیے۔الینررٹشی اگر ایسا نظریہ پالیتی تو انسان اس کے لیے محبت کا موضوع بن جاتا نہ کہ نفرت کا موضوع۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انسان کی کمائی
وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُونَ (46:20)يعني،اورجس دن انکار کرنے والے لوگ آگ کے سامنے لائے جائیں گے۔تم اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اوران کو برت چکے تو آج تم ذلت کا عذاب بدلے میں پائو گے ا س وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق گھمنڈ کرتے تھے اوراس وجہ سے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دنیا میں آدمی کو جواسباب ملتے ہیں۔مثلاً جسمانی طاقت ،ذہانت ،مال۔عہدہ،وسائل اورمواقع یہ سب خدا کی طرف سے ہوتے ہیں۔وہ اس لیے دئے جاتے ہیں کہ ان سے آدمی اپنے لیے کمائی کرے۔
اس کمائی سے مرادنفسیاتی کمائی ہے اوراس کی دوقسمیں ہیں ایک وہ جس کوآیت میں کبراورفسق کہا گیا ہے۔دوسری کمائی وہ ہے جواس کے برعکس ہے۔یعنی تواضع اور شکر۔آدمی اگر ان اسباب کو پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجائے۔وہ ان کو ذاتی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے۔وہ ان کو شہرت اورلیڈری حاصل کرنے کاذریعہ بنائے۔ توگویاکہ اس نے اپنے مواقع کو ضائع کردیا۔اس کو جوسامانِ عمل دیاگیا تھا ،اس کا انجام اس نے اسی آج کی دنیا میں لے لیا۔ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں بربادی کے سوااورکچھ نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسرا آدمی وہ ہے جس کو اسباب حیات ملے تواس نے ان کو خدائی چیز سمجھ کر اپنے عجز کا اقرارکیا۔اس نے ان کو خدا کا عطیہ مان کر خدا کا شکر اداکیا۔اس نے ان اسباب کو اپنی ذات کے راستہ میں استعمال کرنے کے بجائے خداکے راستہ میں استعمال کیا۔یہ شخص وہ ہے جس نے ان مواقع کے ذریعہ آگے کا ذخیرہ فراہم کیا۔اس نے اپنے دینوی سامان کے ذریعہ آخرت کی کمائی کی۔ایسا شخص موت کے بعد اپنے بہترین ذخیرہ کو پائے گا۔اس کی کمائی جنت کے ابدی باغوں کی صورت میں اُس کی طرف لوٹادی جائے گی —موجودہ زندگی میں ہرآدمی کو یکساں طور پر مواقع دیے گئے ہیں۔کوئی ان مواقع سے طیّبات دنیا کمارہاہے اورکوئی طیباتِ آخرت۔
کچھ سے کچھ
دیوی سنگھ ایک مشہور ڈاکوتھاجوجنوری 1984ء میںپولیس کے ساتھ ایک مقابلہ میں ماراگیا۔مِسز امرت پریتم کی ایک اتفاقی ملاقات مذکورہ ڈاکو سے سیوراگائوںمیں ہوئی۔ اس موقع پر دونوں کے درمیان جوبات چیت ہوئی اس کی دل چسپ رودادہندستان ٹائمس (22جنوری1984)میں شائع ہوئی ہے۔
دیوی سنگھ نے بتایا کہ میں نے اب تک تقریباً ایک سوڈاکے ڈالے ہیں۔ہم لوگ ڈاکو نہیں ہیں بلکہ حکومت کے باغی ہیں۔ہم مال لوٹتے ہیں مگرہم نے آج تک کسی لڑکی کی عصمت نہیں لوٹی۔ ہماراایک سخت قسم کا اخلاقی اصول ہے۔ہماراکوئی آدمی اس کے خلاف کرے توہم فوراًاس کوگولی ماردیتے ہیں۔
other sourceWords of another person or source
امرت پریتم نے کہا کہ دیوی سنگھ جی ،یہ بتائیے کہ آپ کی ٹولی (گینگ )میں کل کتنے آدمی ہیں ،دیوی سنگھ نے کہا کہ سات آدمی ، اور آٹھواں خدا:
other sourceWords of another person or source
Seven men, and the eighth God.
بظاہر یہ جملہ ،معمولی فرق کے ساتھ ،قرآن کی اس آیت کا ترجمہ معلوم ہوتاہے جس میں کہا گیاہے کہ تم میں سے پانچ آدمی جہاں ہوتے ہیں وہاں چھٹاخداہوتاہے (المجادلہ، 58:7) پھر کیا ڈاکوکی بات انہیںمعنوں میں ہے جن معنوں میں وہ قرآن میں آئی ہے۔ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔دونوں کے درمیان لفظی مشابہت کے سواکوئی اورچیز مشترک نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈاکونے کس معنی میں یہ بات کہی ،وہ خود مذکورہ انٹرویو میں موجود ہے۔اس نے کہا کہ ہم لوگ ڈاکہ کے ذریعہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں اس کو ہم ٹولی کے درمیان بانٹتے ہیں۔مثال کے طور پرمیری ٹولی میں سات افراد ہیں تو ہم لوٹے ہوئے مال کے آٹھ حصے بناتے ہیں۔سات حصے اپنے افراد کے لیے اورایک حصہ خدا کے لیے۔خدا کا جو حصہ ہے اس کو ہم کسی غریب کو دیدیتے ہیں۔آمدنی کا ایک حصہ مذہب کے نام پر خداکو دینا یہ تمام ڈاکوئوں کا طریقہ ہے۔
قرآن کا خدا خوف پیدا کرتاہے اورڈاکوئوں کا خدابے خوفی۔خدااس لیے تھا کہ وہ آدمی کو ڈاکہ بازی سے روکے۔مگر ڈاکوئوں نے خداکا حصہ لگا کر اس کو اپنے ڈاکہ کا چوکیدار بنایا لیا۔گویا جب وہ سات مل کر ڈاکہ ڈالیں تو خداان کا آٹھواں بن کر ان کی حفاظت کے لیے موجودرہے۔
محرومی
فرانس میں سحرونجوم تیزی سے پھیل رہے ہیں۔اندازہ کیا گیا ہے کہ 1984ء میں فرانس کے جن شہریوں نے ساحروں اورجوتشیوں سے رجوع کیا ان کی تعداد تقریباًآٹھ ملین ہے۔یعنی فرانس کے ہر چارآدمیوں میں سے ایک آدمی۔
فرانس میں جو تش اوررغیب دانی باقاعدہ تجارتی پیشہ بن گئے ہیں۔چنانچہ ٹیکس کے محکمہ کے مطابق پچاس ہزار افراد باقاعدہ محکمہ ٹیکس میں اس اعتبار سے رجسٹرڈ ہیں۔یہ تعداد فرانس میں پادریوں یاڈاکٹروں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ان لوگوں کی آمدنی 500ملین سے لے کر600ملین ڈالر سالانہ تک ہوتی ہے۔
اے ایف پی نے پیرس سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ
With the deepening economic recession, more and more people are turning to the occult for relief for their physical and psychological ailments.
گہرے اقتصادی بحران کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی جسمانی اورنفسیاتی بیماریوں کے لیے غیب دانوں سے رجوع کررہے ہیں (ٹائمس آف انڈیا5مارچ 1985)۔
other sourceWords of another person or source
انسان کو بار باریہ تجربہ ہوتاہے کہ ظاہری مادی اسباب اس کا سہارابننے کے لیے ناکافی ہیں۔وہ معلوم اسباب سے مایوس ہوکر نامعلوم اسباب کی طرف دوڑتاہے۔مگر نامعلوم اسباب کی تلاش میں کسی انسان کا سہاراپکڑنا سراسربے حقیقت ہے۔یہ ایسی چیز کا سہاراپکڑنا ہے جس کے اندر سہارابننے کی طاقت نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سہاراصرف ایک ہے۔اوروہ خداہے۔مادی اسباب کی بے مایگی اس لیے تھی کہ آدمی خدا کی طرف رجوع کرے۔مگر مادی اسباب کے عجزکا تجربہ اس کو ایک اورعاجز کی طرف متوجہ کردیتاہے۔حقیقت کا سراغ پانے کے بعد آدمی دوبارہ حقیقت کو کھو دیتاہے۔
یہ بھی ممکن ہے
بیٹے نے اپنے ننھے ہاتھوں سے ماں کو مارا۔ماں نے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔اس کا مطلب کیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک معاملہ جو بظاہر مارکا معاملہ تھا اس کو ماں نے محبت کا معاملہ بنادیا۔اس نے ’’برائی ‘‘کو’’بھلائی ‘‘کے خانہ میں ڈال دیا۔ اس نے ایک قابل سزاچیز کو قابل انعام قراردے دیا۔یہ واقعہ جوہر گھر میں گزرتاہے ،یہ خدا کی صفات کمال میں سے ایک صفت کی ہلکی سے جھلک ہے جو ماں کے رویہ کی صورت میں دکھائی گئی ہے۔یہ خدا کی ایک نشانی ہے جو بتاتی ہے کہ خدانے اپنی رحمتوں کے کیسے عجیب نمونے اس دنیا میں بکھیر دیے ہیں۔شفقت کی یہ انوکھی قسم جو ماں کے اندر پائی جاتی ہے اس کو ماں نے خلق نہیں کیاہے۔اس کا خالق اللہ ہے۔پھر جو اس کا خالق ہے اس کے اندر یہ صفت کمال درجہ میںپائی جانی چاہیے۔
آدمی غیب کو نہیں جانتا ‘اس بنا پر اس کو دنیا کی زندگی میں طرح طرح کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔اس کی قوت ارادی کمزورہے ‘اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی سطحی جذبہ سے مغلوب ہوجاتا ہے اوربڑی بڑی غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔آدمی کے وسائل محدود ہیں،اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ باہر کے اسباب وعوامل پر وہ قابو نہیں پاتا اورشکست کھا جاتاہے۔اس قسم کی چیزوں نے دنیا میں انسان کی زندگی کو ایک المیہ بنا دیاہے۔زمین پر چلنے والا ہر آدمی خواہ وہ کوٹھی میں ہویا جھونپڑی میں،اس احساس میں مبتلا رہتاہے کہ وہ ایک ناکام انسان ہے ، وہ جو کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا اس کو وہ حاصل نہ کرسکا۔یہاں کا ہر انسان ایک مایوس انسان ہے ، خواہ بظاہر وہ فربہ جسم اورہنستے ہوئے چہرہ کے ساتھ کیوں نہ دکھائی دیتاہو۔
کیا اس المیہ کو طربیہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔کیایہ ممکن ہے کہ زندگی کی منزل پر ہم اس حال میں پہنچیں کہ ہماری ناکامیاں کامیابیوں کی صورت اختیار کرچکی ہوں ،ہمارے قصور کو انعام کے خانہ میں ڈال دیا گیا ہو،ماں کی زندگی میں خدانے اپنی صفات کی جو ایک جھلک دکھائی ہے وہ اسی سوال کا ایک مثبت جواب ہے۔خدااپنے بندوں کے لیے اس سے زیادہ بڑے پیمانہ پر اس واقعہ کو رونما کرسکتاہے جوماں اپنے بچہ کے لیے بہت چھوٹے پیمانہ پر ظاہر کرتی ہے۔ماں کے رویہ کی صورت میں خدا نے دنیا میں جونشانی قائم کی ہے وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ مانگنے والے کو یہ انعام بھی دیتاہے کہ — وہ اس کے ’’نہیں ‘‘کو ’’ہے ‘‘میں تبدیل کردے۔مگر ایسا انعام صرف اس شخص کے لیے مقدر ہے جو خدا کواپنی ’’ماں‘‘کادرجہ دے کر اپنے آپ کو اس کا ’’بیٹا‘‘بناچکاہو۔
عجزکی تلافی
خدا قادرمطلق ہے اورانسان عاجزمطلق۔خدا اورانسان کے درمیان جوتقسیم ہے وہ زیادہ اختیار اور کم اختیار کی نہیں ہے بلکہ اختیار اوربے اختیار ی کی ہے۔یہاں سارااختیار خداکی طرف ہے اورساری بے اختیاری انسان کی طرف۔
ایک شخص کہہ سکتاہے کہ ایسی تخلیق کا کیا جو از ہے جس میں انسان کو حقیقی طورپر کچھ دیا ہی نہ گیا ہو۔خدا کے لیے کیوں کر جائز تھا وہ ایسے انسان پیدا کرے جو سراسر عاجز ہوں ، جن کو نہ اپنے آپ پر کوئی اختیار حاصل ہواورنہ اپنے سے باہر کی دنیا پر۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
اس سوال کا صحیح جواب صرف وہ ہوسکتا ہے جس میں انسان کے عجز کی کامل تلافی موجودہو۔کامل تلافی سے کم کوئی چیز اس سوال کا حقیقی جواب نہیں بن سکتی۔کامل تلافی کا مطلب یہ ہے کہ جو جواب دیا جائے اسی سطح پر ہو جو سوال کی سطح ہے۔یعنی انسان کا عجز بذات خود اس کی بے اختیاری کی تلافی ہوجائے۔
اس سوال کا جواب قرآن میں اورپیغمبر کی تعلیمات میں واضح طور پر موجود ہے۔اوروہ خدا کی یہ رحمت خاص ہے کہ اس نے صرف مانگنے کو پانے کے لیے کافی بنادیا ہے۔آدمی اگر حقیقی طورپر خد اسے مانگنے والا بن جائے تو یقینی طورپر وہ اپنے لیے پانے والا بھی بن جائے گا۔ انسان جب ذاتی اقتدار کا مالک نہیں تو وہ دیے ہی سے پاسکتاہے۔چنانچہ خدانے اس کو اپنی طرف سے دے دیا۔حقیقی دعا کے لیے قبولیت کی ضمانت ہونایہی گویا اس کو دے دینا ہے۔
حدیث میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ —الدَّعْوَةُ لَا تُرَدُّ (مسند احمد، حدیث نمبر13357)۔یعنی، بندہ اپنے خدا کو اگر حقیقی طورپر پکارے تو اس کی پکار کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔حضرت مسیح نے اسی بات کوان لفظوں میں فرمایا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ڈھونڈوتو پائوگے۔دروازہ کھٹکھٹائو تو تمہارے واسطے کھولاجائے گا۔کیوں کہ جوکوئی مانگتاہے اسے ملتاہے اورجوڈھونڈتاہے وہ پاتا ہے اورجو کھٹکھٹاتاہے اس کے واسطے کھولاجائے گا۔تم میں ایسا کون ساآدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس سے روٹی مانگے تووہ اسے پتھر دے دے۔یا اگرمچھلی مانگے تواسے سانپ دے دے۔پس جب کہ تم برے ہوکر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا باپ جو آسمان پرہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا(متی،7:7-11)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
کائناتی نمونہ
ایمرسن (1803-1882)کا قول ہے کہ فطرت اس اصول پر عمل کرتی ہے کہ — سب ہر ایک کے لیے اورہر ایک سب کے لیے
other sourceWords of another person or source
Nature works on a method of 'all for each and each for all'.
یہ ایک لفظ میں کائنات کے عمل کی نہایت جامع تعبیر ہے۔کائنات میں بے شمار چیزیں ہیں۔مگر ان کا عمل حد درجہ تو افق کے ساتھ ہوتا ہے۔ان میں سے ہر چیز اس طرح عمل کرتی ہے کہ اس کا عمل دوسری تمام چیزوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔اسی طرح تمام چیزیں اس طرح متحرک ہوتی ہیں کہ ان کی حرکت ہر واحد جزء سے کامل طورپر مطابق رہے۔
یہ گو یا خدا کا ایک نمونہ ہے جو اس نے اپنی دنیا میں قائم کررکھا ہے۔انسان کو بھی اسی نمونہ پر چلنا ہے۔انسانی آبادی میں بھی یہی نظام مطلوب ہے کہ ہر فرد اس طرح زندگی گزارے کہ اس سے دوسروں کو فائدے پہنچے اورمجموعی طور پر پوری انسانیت اس طرح کام کرے کہ اس کا کام فرد کی ترقی اورکامیابی میں معاون بن رہا ہو۔فرد کا عمل جماعت سے ہم آہنگ ہوا اورجماعت کا عمل فرد سے ہم آہنگ۔
کائنات کی صورت میں خدانے ایک زندہ نمونہ قائم کردیا ہے جو ہر صبح وشام لوگوں کو بتارہا ہے کہ وہ کس طرح رہیں اورکس طرح نہ رہیں۔کون سا انسان خدا کے یہاں قابل قبول ٹھہرے گااورکون سا انسان خدا کے یہاں ردکر دیاجائے گا۔
ایک درخت اورکائنات کی مثال لیجیے۔کائنات میں حرارت ہے۔کشش ہے۔ہوا ہے ،پانی ہے۔ان میں سے ہر چیز درخت کی ضرورت کے عین مطابق ہے۔بیکٹیریا سے لے کر سورج تک تمام چیزیں درخت کے لیے گویا کائناتی دسترخوان ہیں۔ ہر چیز درخت کو عین وہی چیز دے رہی ہے جو اس کی فطرت کے مطابق اسے ملنا چاہیے۔
دوسری طرف ایک درخت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ درخت اس دنیا کی کسی چیز سے ٹکرائے بغیر اپنا ارتقائی سفر طے کرتا ہے۔اس کی لکڑی ،اس کی پتی ،اس کا پھول ،اس کا پھل ،غرض اس کی چیز بقیہ دنیا کے لیے عین کارآمد ہے۔حتیٰ کہ اس کا کاربن لینا اورآکسیجن نکالنا بھی عین خارجی دنیا کے تقاضوں کے مطابق ہے — جزء اورکل یافرد اوراجتماع کے درمیان یہی کامل مطابقت انسان سے بھی مطلوب ہے۔اس کے سوا انسان کی کامیابی کا کوئی دوسراراستہ نہیں۔
ضمیر کے خلاف
مشہور انگریزمورخ آرنلڈ ٹائن بی (1889-1975)نے اپنی آخر عمر میں ایک بارکہا کہ فلسطین پر یہودیوں کا بطور تاریخی وطن اپنا حق جتانا ایسا ہی ہے جیسے ریڈ انڈین قبائل کناڈا کی واپسی کا مطالبہ کریں۔یہودیوں نے نازیوں کے ظلم پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں مگر خود یہودی فلسطینی عربوں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کررہے ہیں وہ بالکل اسی قسم کا ہے جو نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ٹائن بی نے اپنا یہ بیان کناڈا میں دیا تھا۔اس وقت کناڈا میں حکومت اسرائیل کے سفیر مسٹر ہرزگ(1921-1972) تھے۔مسٹر ہرزگ نے برطانوی مورخ کو دعوت دی کہ اس مسئلہ پروہ اس سے مباحثہ کریں۔آرنلڈ ٹائن بی نے اس کو قبول کرلیا۔اس کے بعد مانٹریل کی میک گل یونیورسٹی میں ایک تقریب ہوئی جس میں دونوں جمع ہوئے۔ مسٹر ہرزگ نے کہا جرمن نازیوں نے ساٹھ لاکھ یہودیوں کو مارڈالا تھا۔اس کے مقابلہ میں فلسطین میں جو عرب بے گھر ہوئے ہیں ان کی تعداد بہت معمولی ہے۔ان دونوں کو ایک جیسا کس طرح کہا جاسکتاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آرنلڈ ٹائن بی نے جواب دیا کہ میں نے جب نازیوں اوراسرائیلیوں کے مظالم کو ایک جیسا کہا تھا تواس سے مراد تعداد نہیں بلکہ جرم کی نوعیت تھی۔کسی شخص کے لیے سو فیصد سے زیادہ براہونا ممکن نہیں۔قاتل کہلانے کے لیے ایک شخص کو قتل کردینا کافی ہے۔میں حیران ہوں کہ آپ لوگ میرے الفاظ پر کیوں اس قدر بوکھلا اٹھے ہیں۔میں نے وہی بات کہی ہے جوتم میں سے ہر ایک کا ضمیر کہہ رہاہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جب بھی آدمی کسی سچائی کی تردید کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ خود اپنی تردید کررہا ہوتا ہے۔سچائی ہمیشہ آدمی کے اپنے دل کی آواز ہوتی ہے مگر آدمی ضد ،تعصب اوراپنی جھوٹی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر اس کو نہیں مانتا ،وہ اپنے انکار کوحق بجانب ثابت کرنے کے لیے ایسے الفاظ بولتا ہے جن کے بارے میں خود اس کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ ان میںکوئی وزن نہیں۔
آدمی کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کا ساتھ نہ دے سکے۔ضد اورتعصب اورمصلحت سے مغلوب ہوکر وہ ایسے رخ پر چلنے لگے جس کے متعلق اس کا اندرونی ضمیر آواز دے رہا ہو کہ وہ صحیح رخ نہیں ہے۔یہ اپنی تردید آپ کرنا ہے۔یہ اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں قتل کرنا ہے۔یہ اپنے مجرم ہونے پر خود گواہ بننا ہے۔
کیسی عجیب ہے یہ محرومی ،مگر جب آدمی کی بے حسی بڑھ جاتی ہے تووہ اپنی محرومی کی ان کارروائیوں کو اپنی فتح سمجھتا ہے۔وہ اپنے کو ہلا ک کررہا ہوتاہے مگر سمجھتا ہے کہ میں اپنے آپ کوزندگی دے رہا ہوں۔
اژدہا بھی
اژدہا کا لفظ سنتے ہی ایک خطرناک جانور کا تصور سامنے آتا ہے۔اژدہے کی بہت سی قسمیں ہیں۔ہندستان کے جنگلوں میں اس خوفناک سانپ کی جوقسم پائی جاتی ہے اس کو ماہرین حیوانات مالورس اژدہا (Python molurus)کہتے ہیں۔اس کی لمبائی 20فٹ ہوتی ہے اوروزن 200پونڈسے زیادہ جب کہ وہ پوراہوجائے۔
تاہم دوسرے وحشی جانوروں کی طرح اژدہا بھی کوئی خطرناک جانور نہیں۔وہ کسی انسان یا کسی جاندار پر صرف دو حالتوں میںوار کرتاہے— جب کہ وہ بہت بھوکا ہو،یااس پر حملہ کیا جائے۔عام حالات میں وہ بالکل بے ضررجانور کی طرح پڑارہتاہے۔ایک ماہرحیوانات نے اژدہے کے طویل مطالعہ کے بعد لکھا ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
A python, however large it may be, is nervous by nature and like all other snakes will never attack deliberately nor will it become aggressive unless provoked. It threatens by hissing or disappears if encountered in the wild but does not stand up and fight as one might imagine.
اژدہا ،خواہ کتنا ہی بڑاہو،فطری طورپر وہ عصبی مزاج کا ہے۔وہ دوسرے تمام سانپوں کی طر ح کبھی بالقصد حملہ نہیں کرے گا۔اورنہ کبھی وہ جارح بنے گا۔الاّ یہ کہ اسے مشتعل کردیاجائے۔اگر جنگل میں اس کاسامنا پیش آجائے تووہ آواز نکال کرڈرائے گایاغائب ہوجائے گامگر وہ نہ تو اٹھے گا اورنہ لڑائی کرے گا۔جیسا کہ عام طورپر سمجھا جاتاہے(ہندستان ٹائمس، 19اکتوبر1984)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اژدہے کے اندر یہ خصوصیت محض اتفاقاًنہیں۔وہ براہ راست خالق کائنات کا منصوبہ ہے۔ اژدہا فطرت کی ایک خاموش پکار ہے۔وہ عمل کی زبان میں انسان سے کہہ رہا ہے کہ — اگر تم اژدہا ہوتب بھی کسی کونہ کاٹو۔اگرتم زوراورقوت میں دوسروں سے بڑھ جائو تب بھی دوسروں کو نہ ستائو۔
کیسا عجیب ہے وہ انسان جو ایک ایسی دنیا میں ظلم کرتاہے جہاں شیر اوراژدہے تک کی سطح پر اس کو ظالم نہ بننے کا سبق دیاجارہاہے۔
خدا پر ستی
موجودہ دنیا میں زندگی گزارنے کی دو قسمیں ہیں ایک خودرخی(self-oriented) زندگی۔ دوسری خدا رخی (God- oriented)زندگی۔
آدمی یاتو خود پرست ہوگا یا خدا پرست۔اس کا مرکز ومحور اپنی ذات ہوگی یاخداکی ذات۔وہ یا تو اپنے رخ پر دوڑے گا یاخداکے رخ پر۔زندگی کے بس یہی دوطریقے ہیں۔ ان کے سوازندگی کا کوئی تیسراطریقہ نہیں۔
خود رخی زندگی وہ ہے جس میں آدمی کی توجہ کا مرکز صرف اس کی اپنی ذات ہو۔وہ بس اپنے آپ میں جئے۔وہ اپنے وسائل کو اپنی ذات کی تکمیل میں خرچ کرے۔فلسفیانہ زبان میں اس طرزِ فکر کانام ذاتی طرزفکر (Self-centred thinking)ہے۔اوراخلاقی زبان میں اِس کو خودغرضی ، بے اصولی ، خواہش پرستی اور مفاد پسندی کہا جاتا ہے۔ ایسا آدمی بظاہر انسان ہوتا ہے۔مگر اندر سے حیوان کی مانند ہوتاہے۔اس کے جینے کی سطح اورحیوانات کے جینے کی سطح میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
خدا رخی زندگی وہ ہے جس میں آدمی کی توجہات کامرکز صرف ایک خداہو۔خداکو وہ ایک ایسے بڑے کی حیثیت سے پالے جس کے بعداپنی ذات سمیت ہر چیز اس کی نظر میں چھوٹی ہو جائے ۔اس کو یاد آئے تو خداکی یاد آئے۔اس کو امید ہوتوخداسے امیدہو۔ اس کوڈرہوتو صرف خداکاڈرہو۔خداکی ذات اس کی نظر میں سب کچھ ہواوراپنی ذات اس کی نظر میں بے کچھ۔
یہی دوسراانسان خداپر ست انسان ہے۔وہ ایک حقیقت پسند انسان ہے کیوں کہ اس نے وہ روش اختیار کی ہے جوکائنات کے مجموعی نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہے۔اس نے اس صحیح راستہ کو پالیا ہے جس پر چلنے والا اس حقیقی منزل تک پہنچ جاتا ہے جس کے سواخداکی اس کائنات میں دوسری کوئی منزل نہیں۔
انسان کی منزل خداہے۔اس سے کمتر کوئی چیز انسان کی منزل نہیں ہوسکتی۔
زندگی کا مسئلہ
برازیل جنوبی امریکاکا ایک ملک ہے جواٹلانٹک سمندرکے کنارے واقع ہے۔ اس کی آبادی 119ملین ہے جس میں زیادہ تررومن کیتھو لک ہیں۔برازیل میں 1964سے فوجی حکومت قائم تھی۔فوجی حکومت کے خلاف جن جمہوریت پسند لیڈروں نے تحریک چلائی ان میں ایک ممتازنام ٹینکر یڈنویس (1910-1985) کاتھا۔مسٹرنویس نے بے شمار مصیبتیں اٹھائیں۔21سال کی پر مشقت جدوجہد کے بعد بالآخر وہ ملک کے عوام کو حکومت کے خلاف منظم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔فوجی حکمراں مجبور ہوگئے کہ ملک میں عام انتخابات کرائیں۔
جنوری 1985ء میں الیکشن ہوا۔اس ا یکشن میں مسٹر نویس بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوگئے۔ اخبارات اورریڈیو نے ان کی کامیابی کا شاندارتذکرہ کیا۔ایک اخبار نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ —ان کی جیت ایک شخص کے تقریباً پچاس سالہ سیاسی کردارکی تکمیل ہے :
His victory capped a political career spanning nearly 50 Years.
15مارچ 1985ء کو مسٹر نویس کی حلف برداری کی رسم صدارتی محل میں اد اکی جانے والی تھی کہ عین اس روز چند گھنٹہ پہلے وہ سخت بیمار پڑگئے۔انہیںفوری اسپتال لے جایا گیا۔ ملک کے سب سے بہتر اسپتال میں وہ ایک مہینہ تک ماہر ڈاکٹر وں کی نگرانی میں رہے۔ اس مدت میں ان کاسات بار آپریشن کیا گیا۔مگر ساری کوشش ناکام ہوگئی۔ 21 اپریل 1985ء کو مسٹر نویس کا انتقال ہوگیا۔اس وقت ان کی عمر 75سال تھی۔
کیسا عجیب ہے انسان کا یہ انجام کہ وہ کوشش کرتا ہے مگر وہ اس کا پھل نہیں پاتا۔اس کے لیے فتح کاتاج تیار کیاجاتاہے مگر اس کے لیے ممکن نہیں ہوتاکہ وہ اس کو اپنے سرکی زینت بنائے۔اس کی کوششوں کی تکمیل اس کی بربادیوں کی تکمیل بن جاتی ہے۔
اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیاصرف عمل کرنے کی جگہ ہے۔وہ پانے کی جگہ نہیں۔پانے کی جگہ کوئی اورہے جو اس کے ماورا ہے۔
زلزلہ درکار ہے
خدا کی جنت جتنی نفیس ہے اتنی ہی بڑی قیمت اس کی ادا کر نی پڑتی ہے۔جنت صرف ان حوصلہ مندوں کے لیے ہے جو بھونچال کی قیمت پر اس کو حاصل کرنے کے لیے راضی ہوجائیں۔جنت کو پانے کے لیے آدمی کو ایسے کٹھن مرحلہ سے گزرنا ہوتاہے جس کوانسانی زبان میںصرف زلزلہ سے تعبیر کیاجاسکتاہے۔
جو آدمی آخرت کی ابدی جنت کا طالب ہواس کو سب سے پہلے اپنی ذات کے اندر زلزلہ لاناہے۔جس طرح ایٹم کے مجموعہ میں بے پناہ طاقت چھپی ہوتی ہے۔مگر یہ طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ ایٹم کو توڑا جائے۔یہی معاملہ انسان کا ہے۔ہر آدمی کے اندر ایک عظیم ربانی انسان چھپا ہواہے۔موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کااصل کام یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک انفجار برپاکرے۔تاکہ اس کے اندر چھپا ہواربانی انسان باہر آسکے۔
ہر آدمی اصلاً فطرت خداوندی پر پیداہوتاہے۔مگر ماحول ،روایات ،خواہشات اور اس طرح کے دوسرے اسباب اس کے اوپر تہ بہ تہ پردے ڈال دیتے ہیں۔آدمی ایک مصنوعی غلاف میں بند ہوکر رہ جاتاہے۔جس کے تحت وہ سوچتاہے اورجس کے مطابق وہ جیتا ہے۔اسی مصنوعی پردہ کو پھاڑنے میں انسان کی تمام ترقیوں کا راز چھپا ہواہے۔اپنے ذہنی سانچہ کو توڑنا بلا شبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔مگر اسی مشکل ترین کام میں خدانے تمام انسانی سعادتوں کارازچھپا دیاہے۔
قرآن کے الفاظ میں انسان جب اپنے شاکلہ کو توڑتاہے تو اس کاشاکلہ خد اکے شاکلہ کے ہم سطح ہوجاتاہے۔اس کی ربانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔وہ براہ راست خدائی فیضان کی زدمیں آجاتاہے۔وہ محدودیت کی دنیا سے نکل کر ابدیت کی دنیا میں داخل ہوجاتاہے۔ اس کی سوچ خدائی سوچ بن جاتی ہے۔اس کا اخلاق خدائی اخلاق کے ہم رنگ ہوجاتاہے ،جس طرح بیج کے اندر ایک شاداب درخت چھپاہواہے۔مگر یہ درخت اسی وقت ظہور میں آتاہے جب کہ بیج ٹوٹے اوراپنے کو فنا کرنے کے لیے تیار ہو۔اسی طرح ہر آدمی کے اندر ایک ربانی انسان چھپاہواہے جو جنت کی حسین دنیا کا باسی بن سکے۔مگر اس چھپے ہوئے انسان کا وقوع میں آنا اسی وقت ممکن ہوتاہے جب کہ انسان اپنے اندر ایک زلزلہ پیداکرنے کے لیے تیار ہو۔وہ مصلحتیں اورمحبوبات جن کو بچانے کے لیے آدمی اپنا سب کچھ لگادیتاہے انہیںمصلحتوں اورمحبوبات کا ٹوٹنا جنت کے دروازہ کا کھلنا ہے۔مگر اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کی معرفت
خدا کی یافت
قرآن میں ارشاد ہواہے کہ— ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اورآسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔وہ پاک اوربرترہے اس شرک سے جو لوگ کرتے ہیں (39:67)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سلسلے میں ایک حدیث مختلف روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز منبر پر سورہ زمر کی مذکورہ آیت پڑھی:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَكَذَا بِيَدِهِ يُحَرِّكُهَا يُقْبِلُ بِهَا وَيُدْبِرُ يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمُتَكَبِّرُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْعَزِيزُ أَنَا الْكَرِيمُ فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرُ حَتَّى قُلْنَا لَيَخِرَّنَّ بِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 5414)۔یعنی،اوررسول اللہ اپنے ہاتھ کو حرکت دے رہے تھے اور آگے پیچھے ہورہے تھے۔اللہ اپنی بزرگی بیان کرے گا۔اورکہے گامیں جبّا رہوں۔میں متکبرہوں،میں بادشاہ ہوں، میں عزیز وکریم ہو ں۔ کہاںہیں زمین کے بادشاہ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ پر لرزہ طاری ہوگیا حتی کہ ہم نے کہا آپ منبر کے ساتھ گرپڑیں گے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جب ایک آدمی خدا کا حقیقی ادراک کرتا ہے توا س کاحال وہی ہوجاتاہے جو اوپر کی مثال میں خدا کے رسول کا نظر آتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خد اکو اس وقت حسی طورپر نہیں دیکھ رہے تھے۔مگر خدا کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے آپ کاجسم ہل گیا۔دیکھنے والوں کو ایسا محسو س ہوا کہ آپ زمین پر گرپڑیں گے۔
اس کانام خدا کی معرفت ہے۔خدا کی معرفت اس مالک کائنات کی معرفت ہے جو سب سے بڑا ہے۔جو سب سے طاقتور ہے۔ایسے خد اکو پانا محض سادہ پانا نہیںہوتا۔وہ آدمی کی پوری شخصیت کو ہلا دیتاہے۔وہ آدمی کے اندر بھونچال کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔خدا کی معرفت خدا کو دیکھے بغیردیکھ لینا ہے۔یہ اس وقت خدا کے سامنے ڈھ پڑنا ہے جب کہ خدا ابھی زمین وآسمان کا پردہ پھاڑکر عیاناً انسان کے سامنے نہیں آیاہے۔
معرفت
ہندوستان کے مشہور سائنس داں ڈاکٹر سی ،وی،رمن (1888-1970)سے کسی نے کہا کہ سائنس دانوں نے جو چیزیں دریافت کی ہیں ان میں ان کا اپنا کوئی خاص کارنامہ نہیں۔یہ دریافتیں زیادہ تر اتفاقات کے نیتجہ میں حاصل ہوئیں۔ڈاکٹر رمن نے جواب دیا’’ہاں،مگر ایسا اتفاق صرف سائنس داںکو پیش آتا ہے‘‘۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
دریافت دراصل ذہنی ترکیز (Concentration of Mind )کی قیمت ہے۔جب آدمی کسی خاص موضوع پر اپنے ذہن کو پوری طرح لگا دیتا ہے تو اس موضوع کے بارے میں اس کو خاص بصیرت حاصل ہوجاتی ہے۔سوتے جاگتے ہر وقت اس کا ذہین اسی کے اندر مشغول رہتا ہے۔اس موضوع کی دنیا سے اس کا بے حد قریب فکر ی رابطہ ہوجاتا ہے۔
سائنسی دریافتیں اکثر اسی قسم کے ترکیز فکر کا نتیجہ ہوتی ہیں۔جب ایک آدمی کسی چیز سے اتنا زیادہ اپنے کو متعلق کرلیتا ہے تو اس چیز کے بارے میں اس کو خاص پہچان حاصل ہوجاتی ہے۔ذراسا اشارہ دیکھتے ہی وہ اس کی پوری بات کو پکڑ لیتا ہے۔دریافت اکثر حالات میں جزءسے کل تک پہنچنے کا دوسرا نام ہوتی ہے ،اور اس قسم کا پہنچنا ہمیشہ اسی کے لیے ممکن ہوتا ہے جو پہلے سے اس موضوع میں لگا ہوا ہو اور اس کی بابت پوری آگہی رکھتا ہو۔
یہ بات جو سائنسی معرفت کے لیے صحیح ہے۔یہی دینی معرفت کے لیے بھی درست ہے۔خدا بھی آدمی کے لیے ایک دریافت ہے۔مگر یہ دریافت صرف اس شخص کے حصہ میں آتی ہے جس نے اپنے آپ کو خدا میںشامل کر رکھا ہو۔
جب آدمی اپنا ذہن خدا میں لگائے ہوئے ہو۔وہ خدا کی نظر سے دیکھتا ہو اورخدا کے کان سے سنتا ہو۔وہ دوسری تمام باتوں سے اپنی توجہ ہٹا کر خدا کی طرف مائل ہوگیا ہو، جب کوئی شخص اس قسم کی زندگی گزارے تو اس کو باربار وہ اتفاقات پیش آتے ہیں جن کو معرفت کہا جاتا ہے۔دنیا کی چیزوں کا مشاہدہ ،انسانی تاریخ کا مطالعہ ،اپنے حالات پر غور وفکر ہر چیز میں اس کا ذہن باربار حقیقت اعلیٰ کی طرف منتقل ہوتا ہے ،وہ باربار ربانی تجلیات کو پاتا رہتا ہے۔خدا کی معرفت خدا میں جینے کی نقد قیمت ہے۔یہ قیمت اسی کو ملے گی جو خدا میں جی رہا ہو۔جو کسی اورچیز میں جئے وہ خدا کی معرفت کا رزق کبھی نہیں پاسکتا۔
توحید اورشرک
آدمی کو موجو دہ دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ایک سہا را درکار ہے۔ہر آدمی کسی نہ کسی بڑائی میں جیتا ہے۔مومن وہ ہے جو خدا کی بڑائی میں جئے اورغیر مومن وہ ہے جو خدا کے سوا دوسری بڑائیوں میں جیتا ہو۔
قدیم زمانہ کا مشرک انسان چاند اورسورج کی بڑائی میںجیتا تھا۔موجودہ زمانہ کاما دہ پرست انسان مادی قوتوں کی بڑائی میںجی رہا ہے۔کچھ لوگ دولت کو بڑا بنا کر اس کو اپنی تلاش کا جواب بنائے ہوئے ہیں۔کچھ لوگ انسانی اکابر کی بڑائی میں گم رہتے ہیں اوراس طرح اپنے اس فطری جذبہ کی تسکین حاصل کرتے ہیں۔
یہ تمام کی تمام شرک کی صورتیں ہیں۔یہ ایک حقیقی تلاش کا مصنوعی جواب ہے۔مومن وہ ہے جو فطرت کی تلاش کے سچے جواب کو پالے۔جو ظاہری چیزوں میں نہ اٹکے۔بلکہ ظاہری اور نمائشی چیزوں سے گزرکر آخر ی حقیقت تک پہنچ جائے۔
مومن انسان جب ان چیزوں کو دیکھتا ہے تو وہ ان کی ظاہری چمک سے فریب نہیں کھاتا۔یہ تمام چیزیں اس کو صرف مخلوق نظر آتی ہیں۔وہ اس کو اسی مقام عجز پر دکھائی دیتی ہیں جہاں وہ خود کھڑاہوا ہے۔مومن ان چیزوں میں سے کسی پر نہیں ٹھہرتا۔اس کا سفر جاری رہتا ہے۔یہاں تک کہ وہ خدا تک پہنچ جاتا ہے۔وہ مخلوقات سے گزرکر خالق کو پالیتا ہے۔
مومن وہ ہے جو اپنی تمام چیزوں کو خدا کا عطیہ سمجھے۔جو اپنے عجز کی تلافی خدا سے کرے۔جس کو زمین کے حسن میں خدا کا حسن دکھائی دے۔جس کو کائنات کی عظمت میں خدا کی عظمت نظر آئے۔جو تمام بڑائیوں کو خد اکا عکس سمجھتا ہو۔جو خد اکے جلووں میں اس طرح گم ہوجائے کہ اس کی حمدخوانی اس کا لذیذ ترین مشغلہ بن جائے۔
ایمان کا مطلب دراصل حاضر میں غائب کو دیکھنا ہے۔جو کچھ سامنے ہے اس میں اس چھپی ہوئی چیز کو دیکھ لینا ہے جو سامنے نہیں ہے۔جس کو یہ نظر حاصل ہوجائے اس کو اپنے چاروں طرف صرف خدا کی بڑائی دکھائی دیتی ہے۔وہ صرف خدا کو اپنا سب کچھ بنا لیتا ہے۔وہ خدا کی بڑائی میں اس طرح گم ہوجاتا ہے کہ اس کو نہ اپنی بڑائی نظر آئی اورنہ دوسروں کی بڑائی۔
دریافت
لندن سے ایک کتا ب چھپی ہے جس کا نام ہے دریافت کرنے والے :
The Discoverers: A History of man's Search to Know His World and Himself by Daniel Boorstin, Randon House, p.745
other sourceWords of another person or source
مصنف نے اس کتاب میں دریافتوں کی تاریخ کامطالعہ کیا ہے۔مختلف لوگ جنھوں نے کسی شعبۂ علم میں کوئی نئی چیز یا نیا نظریہ دریافت کیا وہ مصنف کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہیں۔مصنف دریافت کرنے والوں کی شخصیت سے اتنا متاثر ہے کہ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ میرا ہیر ودریافت کرنے والا انسان ہے :
My hero is Man the Discoverer
یہ صرف مذکورہ مصنف کی بات نہیں بلکہ یہ عام انسانی فطرت کی بات ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ’’دریافت ‘‘ہر انسان کی محبوب ترین چیز ہے۔جو آدمی کسی نئی چیز کا انکشاف کرے وہ لوگوں کی نظر میں اعلیٰ ترین انسان کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔
حق کا داعی بھی ایک اعتبارسے دریافت کرنے والا (discoverer)ہوتا ہے۔وہ باطل کے مقابلہ میں حق کو دریافت کرتا ہے۔جو چیز لوگوں کومعلوم نہیں ہے اس کو معلوم کرکے لوگوں کے سامنے رکھتا ہے:عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(96:5)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دریافت حقیقۃً لوگوں کی چھپی طلب کے جواب کا دوسرا نام ہے۔لوگوں کے دل میں یہ خواہش چھپی ہوئی تھی کہ وہ مواصلات (communications)کے لیے تیز رفتا ر ذریعہ پالیں۔جب ایک شخص نے تیز رفتار ذریعہ سفر دریافت کیا تو گو یا اس نے ہزاروں برس سے لوگوں کی چھپی ہوئی تمنا کو پورا کیا۔اس بنا پر وہ لوگوں کا محبوب بن گیا۔
یہی معاملہ حق کا ہے۔ہر دور میںایسا ہوتا ہے کہ بہت سے خدا کے بندے اس تلا ش میںہوتے ہیں کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا۔صحیح کیا ہے اورغلط کیا۔اب ایک شخص جو خود بھی اس تلاش سے دوچارتھا وہ حق کو اس کی کامل صورت میں دریافت کرتاہے۔اوراس کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ لوگوں کے چھپے ہوئے سوال کا جواب بن جائے۔جب ایسا شخص ظہور میں آتا ہے تو بالکل فطری طور پر وہ ان تمام لوگوں کا ’’ہیرو‘‘قرار پاتا ہے جن کو اس نے تلاش کے دلدل سے نکالا تھا — دریافت کرنے والا شخص لوگوں کی نظر میں ہیرو بن جاتا ہے اور اسی طرح حق کو دریافت کرنے والا بھی۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
سب کچھ عجیب ہے
1957میں روس نے پہلا اسپٹنک (Sputnik) خلا میں بھیجا تھا۔امریکانے 12اپریل 1981کو پہلی خلائی بس (کولمبیا)دو آدمیوں کے ساتھ بھیجی۔وہ اس طرح بنائی گئی ہے کہ تقریباً سو بار خلائی سفر کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔
کولمبیاکا وزن 75ٹن ہے۔اس کے بنانے میں تقریباً دس ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں اوروہ نو سال میں بن کر تیار ہوئی ہے۔کولمبیا اپنے دو مسافروں کو لے کرخلا میں روانہ ہوئی۔اس کی رفتا ر26ہزار میل فی گھنٹہ تھی۔وہ 54گھنٹہ خلا میں رہی۔اس نے زمیں کے گرد 36چکر لگاکر 10لاکھ میل طے کیے اورپھر14اپریل کوواپس آگئی۔واپسی کے وقت مخصوص راڈر اور راکٹوں کے ذریعہ اس کی رفتار کو گھٹا کر 345کیلو میٹر فی گھنٹہ کیا گیا۔ جب وہ ہوائی کرہ میں داخل ہوئی تو ہوا کی رگڑ سے گرم ہو کر سرخ اینٹ کی مانند ہوگئی۔اس وقت اس کا بیرونی درجہ حرارت11500درجہ سنٹی گریڈ تھا۔مگر کولمبیا کے بیرونی سمتوں میں ہر طرف گرمی روکنے والے ٹائل 31ہزار کی تعداد میں لگائے گئے تھے اس کی وجہ سے اس کے اندر کے دونوں مسافر محفوظ رہے۔
کولمبیا کو امریکاکی ریاست کیلی فورنیا کے صحرا میں ایک ہوائی میدان میں اتارا گیا۔وہ صرف10 سکنڈ کے فرق سے اپنے ٹھیک وقت پر اتر گئی۔تقریباً دو لاکھ آدمی اس کے اتر نے کا منظر دیکھنے کے لیے وہاں جمع تھے۔اس کے علاوہ مختلف ملکوں کے کروڑوں آدمیوں نے اس واقعہ کو ٹیلی ویژن پر دیکھا۔کیلی فورنیا کے صحرا میں20ٹرک اورکئی ہوائی جہاز اوردوسرے سامان موجود تھے تاکہ اترنے کے بعد وہ کولمبیا کی ہر ضرورت کو پورا کرسکیں۔کولمبیا راکٹ کی طرح عمودی شکل میں اوپر گئی۔وہ ایک تابع سیارہ کی طرح زمین کے گرد گھومی اورپھر گلائڈ ر(ہوائی جہاز )کی طرح زمین پر اتر آئی۔
کولمبیا کے دو مسافروں میں سے ایک مسٹرجان ینگ (1930-2018ء)تھے۔ان کی عمر اس وقت 50سال ہے۔ 54 گھنٹہ بے وزنی حالت میں رہنے کے بعد جب وہ اس حیران کن خلائی سفر سے واپس کیلی فورنیا پہنچے تو بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا — کیسا عجیب ہے اس طرح سے کیلی فورنیا آنا:
What a way to come to California
مسٹرینگ خلائی سفر طے کر کے کولمبیا کے ذریعہ کیلی فورنیا میں اتر ے تو یہ بات ان کوبہت عجیب معلوم ہوئی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز عجیب ہے۔کوئی سفر خواہ پیدل ہویا سواری کے ذریعہ ہو،اس میں اتنے بے شمار کائناتی اسباب شامل ہوتے ہیں کہ آدمی ان کے بارے میں سوچے تومعمولی سفر بھی اس کو حیران کن معلوم ہو کہ وہ پکار اٹھے میرااپنے پیروں سے چل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا بھی اتنا عجیب ہے جتنا کولمبیا کے ذریعہ خلائی سفر طے کرکے کیلی فورنیا کے صحرامیں اترنا۔عام آدمی صرف کسی انوکھے واقعہ کے عجوبہ کو دیکھ پاتا ہے ،عقلمند وہ ہے جو معمولی واقعات میں بھی خدائی عجوبہ کو دیکھ لے۔
خد اسے نسبت
ایک بزرگ فجر کی نماز کے وقت اپنے گھر سے نکلے اورتیزی سے مسجد کے لیے روانہ ہوگئے مگر جب وہ مسجد کے اندر داخل ہوئے تو ان کے قدموں کی رفتار سست ہوگئی۔اس وقت اگرچہ پہلی صف میں کافی جگہ تھی۔مگر وہ پیچھے کی صف میں رک گئے اورمسجد کے ایک کنارے بیٹھ کر جماعت کا انتطار کرنے لگے۔نماز کے بعد ایک شخص نے پوچھا کہ حضرت، یہ کیا بات ہے کہ آپ مسجد کی طرف تیزی سے روانہ ہوئے مگر جب مسجد کے اندر پہنچے تو بڑھ کر اگلی صف میں جگہ لینے کے بجائے پچھلی صف میں ایک گوشہ میں بیٹھ گئے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
بزرگ نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ جب میں گھر سے مسجد جانے کے لیے نکلا تو مجھ کو ایسا لگا کہ میں ایک ایسی جگہ جارہا ہوں جہاں خداکی رحمت ومغفرت تقسیم ہورہی ہے۔اس وقت شوق ہواکہ میں لپک کر جلد سے وہاں پہنچوں۔مگر جب اندر داخل ہو اتو خدا کی عظمت کے مقابلہ میں اپنے عجز کا احساس مجھ پر غالب آگیا اورمیرے قدموں کی رفتار اچانک سست پڑگئی۔
other sourceWords of another person or source
’’آپ سست قدموں سے بھی تو اگلی صف میں جاسکتے تھے ‘‘آدمی نے دوبارہ پوچھا۔بزرگ نے کہا کہ تمہارایہ کہنا صحیح ہے۔مگر اس وقت مجھ پر یہ احساس طاری ہواکہ خداکی رحمت ومغفرت کا خزانہ تو ختم ہونے والا نہیں۔اگر میں پیچھے بیٹھ جائوں تب بھی اس کی تقسیم کا سلسلہ ضرور یہاں تک پہنچ جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے بعد بزرگ نے کہا کہ بندے کی نجات کا دار ومدار اس پر ہے کہ وہ خداکی صفات کا ادراک کرے۔بندے اورخداکے درمیان اس کی صفات ہی کے ذریعہ اتصال قائم ہوتا ہے۔جب کوئی شخص خدا کی صفتوں میں سے کسی صفت کا ادراک کرتا ہے تو گویا وہ اپنے آپ کو خدا کی زد میں لاتا ہے۔جس طرح سورج کسی کو اس وقت روشن کرتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو اس کی کرنوں کی زد میں لائے۔اسی طرح ایک بندہ اس وقت اپنے رب کی زد میں آتا ہے جب کہ وہ خدا کی صفات کی معرفت حاصل کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بزرگ جب مسجد کی طرف جارہے تھے تو انھوں نے خدا کی حیثیت دریافت کی کہ خدا دینے والا ہے۔اس کے سوا کوئی دینے والا نہیں۔جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو انھوں نے خدا کے بڑے ہونے کو پہچانا اوراس کے مقابلہ میں اپنے عجز کو دریافت کیا۔پہلے مرحلہ میں انھوں نے معطی ہونے کی حیثیت سے خدا سے نسبت قائم کی اوردوسرے مرحلہ میں خدا کے علی وکبیر ہونے کی حیثیت سے۔
حق کی پہچان
شری رام رتن کپلا دہلی میں ریفریجر یٹرکے تاجر ہیں اورشری موتی رام صراف دہلی میں سو نے چاندی کا کاروبار کرتے ہیں۔دونوں میں بہت دوستی ہے۔اکثر صبح کو دونوں ایک ساتھ ٹہلنے کے لیے نکلتے ہیں اورایک ساتھ واپس آتے ہیں۔
ایک روز دونوں ایک مقام پر ٹہل رہے تھے۔شری رام رتن کپلا کو ایک جگہ راستے کے کنارے ایک چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی۔انھوں نے اس کو شیشہ کا ٹکڑا سمجھا اور تفریح کے طور پر ہاتھ میں اٹھالیا۔
ٹہلنے کے بعد دونوں گھر واپس آئے شری رام رتن کپلا نے واش بیسن پر ہاتھ دھو یا اور مذکورہ ٹکڑسے کوبے خیالی کے ساتھ ایک کنارے ڈال دیا۔
اس کے بعد شری موتی رام صراف اپنا ہاتھ دھونے کے لیے واش بیسن پر آئے، ان کی نگاہ مذکورہ ٹکڑے پر پڑی۔اس کی چمک دیکھتے ہی فوراً انھوں نےپہچان لیا کہ یہ ہیرا ہے۔انھوں نے اس کو اٹھالیا اوراس کو دھو کر شری رام رتن کپلا کے پاس لے گئے۔جب انھوں نے بتایا کہ یہ ہیرا ہے تو شری رام رتن کپلا کو بہت تعجب ہوا۔انھوں نے کہا کہ میں نے تو اسے معمولی شیشہ کا ٹکڑا سمجھا تھا۔خیریت ہوئی کہ میں نے اسے پھینک نہیں دیا۔
شری رام رتن کپلا ہیرے سے بے خبر نہ تھے۔ان کے گھر میں ہیرے کا نیکلس موجودہ تھا جس کو وہ نہایت احتیاط کے ساتھ اپنی مخصوص الماری میں رکھے ہوئے تھے۔مگر راستہ میں پڑے ہوئے ہیرے کو وہ پہچان نہ سکے۔
شری موتی رام صراف بھی ہیرے سے واقف تھے اورشری رام رتن کپلا بھی۔فرق یہ ہے کہ شری موتی رام جوہر ی تھے۔وہ ہیرے کو اس کے جوہر کی بنیاد پر پہچان سکتے تھے خواہ وہ کہیں بھی ہو۔مگر شری رام رتن کپلا صرف اس ہیرے سے واقف تھے جو ان کے معلوم نیکلس میں لگا ہواہو۔معلوم نیکلس کے باہر کسی ہیرے کے ٹکڑے کو پہچاننا انہیںنہیں آتا تھا۔
وہ شخص جوہری نہیں جوہیرے کو صرف اس وقت پہچانے جب کہ وہ اس کے اپنے ہار میں لگا ہوا ہو۔جوہری وہ ہے جو ہیرے کو اپنے ہار میں بھی پہچانے اوردوسرے کے ہا ر میں بھی۔اسی طرح حق شناس وہ ہے جو حق کو ہر حال میں پہچان لے ،خواہ وہ اس کے اپنے حلقہ کے اندر ہو یا اس کے اپنے حلقہ کے باہر۔
پانے والا
قرآن میںجو کردار بیان ہوئے ہیں ،ان میں سے ایک قارون ہے۔وہ اسرئیلی تھا اور موسیٰ علیہ السلام کا ہم عصر تھا۔مصر کے قبطی حکمرانوں کاساتھ دے کر اس نے بے حساب دولت اپنے پاس جمع کرلی تھی۔ایک روز وہ اپنی پوری شان کے ساتھ لوگوں کے سامنے نکلا۔اسرائیلیوں میں سے کچھ لوگ اس کو دیکھ کر مرعوب ہوگئے۔انھوں نے کہا :قارون بھی کیسا خوش قسمت ہے۔کاش ہم کو بھی وہ چیز حاصل ہوتی جو اس کو ملی ہوئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسرائیلیوںمیں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو سچائی کو پائے ہوئے تھے۔انھوں نے کہا:قارون کی دنیوی شان وشوکت پر رشک نہ کرو۔ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل خوش قسمتی تو یہ ہے کہ آدمی کو آخرت کی کامیابی حاصل ہو۔اورآخرت کی کامیابی کا کوئی تعلق دنیا کی چمک دمک سے نہیں ہے۔وہ تو صرف انہیںکو ملے گی جو سچے مومن ہوں اور وہ کام کریں جو اللہ کو پسند ہے۔اسرائیلی علماء کا یہ جواب نقل کرنے کے بعد قرآن میں ارشاد ہواہے:وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ(28:80)۔ یعنی،اور یہ بات انہیں کو دی جاتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یعنی حقیقت کا یہ مقام کہ آدمی دنیا کی شان وشوکت سے اوپر اٹھ کر حقیقت کو دیکھ سکے۔بڑے تپ کا مقام ہے۔یہ انہیںلوگوں کے حصہ میں آتا ہے جو دنیا کی زینتوںکی طرف دوڑنے سے اپنے کو بچائیں۔جو اپنی سوچ اوراپنی دلچسپیوں کو نمائشی چیزوں میں نہ الجھائیں۔ جو وقتی ہنگاموں میں کھونے کے بجائے ابدی کائنات میں مصروف رہتے ہوں۔جودنیا سے گزرکر آخرت میں جینے لگے ہوں۔یہ بڑے تپ کا کام ہے۔اس میں اپنے آپ کو جانتے بوجھتے ذبح کردینا پڑتا ہے۔مگر اعلیٰ سچائی کو پانے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔رجھانے والی دنیا میں رہ کر جو اپنے آپ کوریجھنے سے بچا سکے اسی پر بالا تر حقیقتوں کا راز کھلتا ہے۔جو سامنے کی چمک دمک میں کھو گیا وہ کبھی آگے کی اعلیٰ تر چیزوں سے آشنا نہیں ہوسکتا۔
دنیوی ہوشیاری دکھانا بلا شبہ دنیا میںآدمی کو عزت اورترقی عطا کرتا ہے۔مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ’’دنیوی ہوشیاری ‘‘ہی وہ چیز ہے جو آدمی کو آخرت کی ہوشیاری سے محروم کردیتی ہے۔آخرت کی عقل اسی کے حصے میں آتی ہے جو دنیا کی محرومیوں کو جھیلنے کے لیے تیار ہو،جودنیوی مصلحتوں کو حق کی خاطر قربان کرسکے ،جو ظاہری عزتوں پرگمنامی کی زندگی کو ترجیح دے سکے،جو عوامی مقبولیت کو عوامی نا مقبولیت کے بدلے میں دے سکے ،جو ملتے ہوئے مفادات کی قیمت دے کر ذاتی نقصان کو خرید سکے،جو نفس کی تسکین کر چھوڑ کر نفس کو دبانے کے راستہ پر چلنے کے لیے تیار ہو۔دنیا کی رونقوں میں نہ بہنا بڑاپر مشقت عمل ہے مگر اسی شخص پر معرفت حق کے دروازے کھلتے ہیں جو اس مشقت کو برداشت کرے،دنیا کی محرومی پر قانع ہونا بڑے صبر کا کام ہے مگر جو دنیا کی محرومیوں پر صبر کرتا ہے وہی وہ شخص ہے جس کو اِس لیے چنا جاتا ہے کہ حکمت کے موتیوں سے اس کے دامن کو بھر دیا جائے۔
دریافت کی لذت
سورج ہماری زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا اوراس سے ساڑھے نو کروڑ میل دورہے۔ پھر بھی سورج کی روشنی اورحرارت بے پناہ مقدار میں ہم تک پہنچ رہی ہے۔یہ سورج کائنات کا نسبتًا ایک چھوٹا ستارہ جو قریب ہونے کی وجہ سے ہم کو بڑادکھائی دیتا ہے۔اکثر ستارے سورج سے بہت زیادہ بڑے ہیں اوراس سے بہت روشن بھی۔روشنی اورحرارت کی یہ عظیم دنیا ئیں جن کو ستارہ کہا جاتا ہے بے شمار تعداد میں خلا میں پھیلی ہوئی ہیں۔کھرب ہاکھرب سال سے دہکنے کے باوجود ان کا حرارتی بھنڈارختم نہیں ہوتا۔
ستاروں میں یہ بے پناہ قوت (Energy)کیسے پیدا ہوتی ہے۔ہنس بیٹے (1906-2005) نے فلکیاتی طبیعیات کے میدان میں لمبی تحقیق کے بعد بتایا کہ اس کا راز کاربن سائیکل (Carbon Cycle)ہے۔اسی تحقیق پر 1967میں موصوف کو طبیعیات کا نوبل انعام دیا گیا۔
ڈاکٹر بیٹے (Hans Bethe)نے جس دن کاربن سائیکل کی یہ سائنسی دریافت کی ،وہ ان کے لیے جوش ومسرت کا ایک ناقابل بیان لمحہ تھا۔ان کی بیوی روزبیٹے (Rose Bethe) کہتی ہیں کہ رات کا وقت تھا۔ہم نیو میکسیکوکے صحرا میں تھے۔صحرائی ماحول میں آسمان کے ستارے عجیب شان کے ساتھ چمک رہے تھے۔روزبیٹے نے اوپر نگاہ کی اورحیران ہوکر کہا ’’آکاش کے ستارے کتنا زیادہ چمک رہے ہیں ‘‘ڈاکٹر بیٹے نے جواب دیا — کیا تم کو خبر ہے کہ اِس وقت تم اس واحد انسان کے عین قریب کھڑی ہو جو یہ جانتا ہے کہ یہ ستارے آخر چمکتے کیوں ہیں
other sourceWords of another person or source
Do you realize, just now you are standing next to the only human who knows why they shine at all.
ہنس بیٹے کی دریافت اصل حقیقت کا بے حد جزئی پہلو تھا۔اس نے ستاروں میںکاربن سائیکل کا عمل دریافت کیا۔مگر سوال یہ ہے کہ خود کاربن سائیکل کا عمل ستاروں میں کیوں ہے۔اس عظیم تر راز کو مومن خدا کی صورت میں دریافت کرتا ہے۔ایمان باللہ ایک دریافت (discovery)ہے جو تمام دریافتوں سے زیادہ بڑی ہے۔مگر کیسی عجیب بات ہے کہ سائنس داں کو معمولی دریافت ہوتی ہے تو وہ وفور جذبات سے بے قابو ہوجاتا ہے۔مگر ایمان والے سب سے بڑی چیز — خدا کو دریافت کرتے ہیں اوران کے اندر کوئی جذباتی ابال پیدا نہیں ہوتا۔شاید خدا پر ایمان کے دعوے داروں نے ابھی تک خدا کو دریافت نہیں کیا۔
سچائی کو پانے والا
معانی کی دنیا خدا کے جلووں کی دنیا ہے۔کون ہے جو خدا کے جلووں کو انسانی زبان میں بیان کرسکے۔حقیقت یہ ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہوجاتے ہیں وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔جب ہم کسی معنی کو بیان کرتے ہیں توہم اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اس کو کچھ گھٹا دیتے ہیں ،اس کے اوپر ایک قسم کا لفظی پردہ ڈال دیتے ہیں۔
کسی بامعنی حقیقت کو کوئی آدمی صرف اس کے الفاظ سے سمجھ نہیں سکتا۔ایک اندھا شخص کسی کے بتانے سے یہ نہیں جان سکتا کہ پھول کیا ہے خواہ اس نے پھول کے تعارف کے لیے انسانی زبان کے تمام الفاظ جمع کردیے ہوں۔اسی طرح ایک شخص جس نے معنوی حقیقتوں کو دیکھنے کی صلاحیت اپنے اندر نہ جگائی ہو وہ معنوی حقیقتوں سے باخبر نہیں ہوسکتا ،خواہ ڈکشنر ی کے تمام الفاظ اس کے سامنے دہرادئے جائیں ،خواہ قاموس المعانی کی تمام جلدوں کو اسے پڑھا دیا جائے۔
ہدایت ہر آدمی کی فطرت کی آواز ہے مگر ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اپنے اندر اس کی سچی طلب رکھتا ہو۔جو اپنے اندر سچائی کی کھٹک لیے ہوئے ہو،سچائی جس کی ضرورت بن گئی ہو۔جو سچائی کو پانے کے لیے اتنا بے قرار ہوکہ وہ اسی کی یاد لے کر سوتا ہواوراسی کی یاد لے کر جاگتا ہو،جو آدمی اس طرح سچائی کا طالب بن جائے وہی سچائی کو پاتا ہے۔
ایسا شخص گویا ہدایت کا نصف راستہ طے کر چکا ہے۔وہ اپنے اندر چھپے ہوئے عہد اَلست کی خدائی آوازوں کو سن رہا ہے۔وہ اپنے اندر اس فطری صلاحیت کو بیدار کرچکا ہے جو معانی کی زبان کوسمجھتی ہے۔ایسا شخص غیر حقیقی دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے حقیقی دنیا کے اتنا قریب آجاتا ہے کہ وہ فرشتوں کی سرگوشیوں کو سننے لگتا ہے۔
پیغمبر اس تلاش حق کی راہ میں آدمی کا مدد گار ہے۔پیغمبر کے ذریعہ حقیقت کا علم ملنے سے پہلے یہ تمام تجربات آدمی کے اندر مبہم اورمجہول انداز میں ہوتے ہیں۔اس کے بعد جب پیغمبر کی آواز اس کے اندر داخل ہوتی ہے تو وہ اس کی کتاب فطرت کی تفسیر بن جاتی ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے غیر ملفوظ اشارات کو ملفوظ زبان میں پالیتا ہے — قرآن اور قرآن کو پڑھنے والا دونوں ایک دوسرے کا مثنیٰ بن جاتے ہیں۔قرآن وہ بن جاتاہے اوروہ قرآن۔
گروہی اعتراف
یہود تورات کو خدا کی کتاب مانتے تھے۔اسی طرح عیسائی انجیل کو خد اکی کتاب مانتے تھے۔مگر جب قرآن ان کے سامنے آیا تو اس کو انھوں نے خدا کی کتاب ماننے سے انکار کردیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا ماننا گروہی ماننا تھا نہ کہ حقیقی ماننا۔وہ حق کو صرف اپنے گروہ کی بنیاد پر پہچانتے تھے نہ کہ اس کے جو ہر کی بنیاد پر چنانچہ انھوں نے اپنے گروہی حق کو مانا اورگروہ سے باہر جو حق تھا اس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ (2:91)۔یعنی،اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو (قرآن) بھیجا ہے اس کو مانو تو کہتے ہیں کہ ہم اس کو مانتے ہیں جو ہمارے اوپر اترا ہے۔ اوروہ اس کا انکار کرتے ہیں جو اس کے سوا ہے حالانکہ وہ حق ہے اوراس کی تصدیق کرنے والا ہے جوان کے پاس ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ نفسیات جس کے تحت یہود ونصاریٰ نے قرآن کا انکار کیا تھا۔وہ آج پوری طرح مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔آج مسلمانوں کا بھی یہ حال ہو رہا ہے کہ وہ صرف گروہی صداقت کو جانتے ہیں۔وہ چیزوں کو اپنے گروہ کی نسبت سے پہچانتے ہیں۔ان کے گروہ سے باہر اگر کوئی خوبی پائی جاتی ہو تو اس کی انہیںکوئی خبر نہ ہو گی۔
مسلمان آج بے شمار گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہر گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ صرف اِس عالم کو عالمِ جانتا ہے جو اِس کے گروہ کا ہو۔ باہر کے عالم کی اِسے خبر نہیں۔ ہر گروہ اپنے گروہ کے متقی کو متقی سمجھتا ہے۔ باہر کے متقیوں کی اِس کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ وہی مصنف مصنف ہے جو اپنے حلقہ کا ہو۔ اپنے حلقہ سے باہر کی کسی چیز کو وہ اِس طرح نظرانداز کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو دکھائی ہی نہیں دیتی۔
خدا کے یہا ں اس انسان کی قیمت ہے جس نے حق کو جوہر کی بنیاد پر پہچانا ہو۔جو شخص گروہ کی بنیاد پر حق کو پہچاننے کی مہارت دکھائے۔اس کی قیمت صرف اس کے اپنے گروہ میں ہے ،خدا کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہیں۔
حق کو پانا
انسان کا ذہن حق کا آئینہ ہے۔آئینہ کے سامنے کو ئی چیز لائی جائے تو وہ اس کی ہو بہو صورت اپنی سطح پر اتار لیتا ہے۔وہ کبھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا۔ٹھیک یہی حال آدمی کے ذہن کا ہے۔اس کے سامنے جب حق آتا ہے تو وہ فوراً اس کو پہچان لیتا ہے۔وہ پوری طرح اسے پالیتا ہے۔وہ نہ دیکھنے میں غلطی کرتا اور نہ پہچاننے میں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ آیات بینات (کھلے دلائل ) کے ذریعہ حق سامنے آتا ہے ،اس کے باوجود بے شمار لوگ اس کو قبول نہیں کرتے۔اس کی وجہ صرف ایک ہے۔اوروہ نفسیاتی اٹکائو ہے۔ایسے افراد کا گہر اتجزیہ کیجئے تو ان کے انکارکی وجہ کوئی حقیقی دلیل نہیں ہوگی۔بلکہ کوئی نہ کوئی دوسری غیر متعلق چیز ہوگی جس کے ساتھ آدمی اٹکا ہوا ہو گا۔
سچائی کوپانے کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔وہ یہ کہ حق واضح ہونے کے بعد آدمی کسی بھی اورچیز کو اپنے لیے رکاوٹ نہ بننے د۔مگر آدمی اکثر حالات میں ایسا نہیں کرپاتا۔وہ ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کو اپنے لیے رکاوٹ بنا لیتا ہے۔
کوئی کسی شخصیت پر اٹک کر رہ جاتاہے۔کوئی کسی مفاد پر ،کوئی کسی اورچیز پر۔ یہی وہ کمزوری ہے جس نے ہردورمیں بے شمار لوگوں کو سچائی اختیار کرنے سے محروم کردیا۔ وہ پانے کے باوجود اس کو پانے میں ناکام رہے۔
ابو جہل کے لیے اس کا قیادتی مفادقبول حق میں رکاوٹ بن گیا۔طائف کے لوگوں نے حق کو اس لیے قبول نہیں کیا کہ اس کا اعلان ایک ایسے شخص کی زبان سے ہورہا تھا جو بظاہر انہیںوقت کی بڑی بڑی شخصیتوں سے کم تر دکھائی دیتا تھا۔یہود نے آپ کا انکار اس لیے کیاکہ آپ کو پیغمبر ماننے سے ان کا احساس برتری ٹوٹتا تھا۔شہنشاہ ہر قل نے اس لیے اس کا اقرار نہیں کیا کہ اس نے محسوس کیا کہ اگر میں ایساکروں تو میں اپنی قوم سے کٹ جائوں گا۔ہر ایک دلیل سے مفتوح ہوچکا تھا۔مگر ہر ایک کسی نہ کسی چیز میں اٹک کر اس کو قبول کرنے سے بازرہا۔
اس دنیا میں حق صرف اس شخص کو ملتا ہے جوکسی اٹکنے والی چیز پر نہ اٹکے۔سچائی کا دلیل سے واضح ہوجانا ہی اس کے لیے کافی ہوکہ وہ اس کو ہمہ تن قبول کرلے۔