Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2016
Al-Risala September 2016

انتظار کیجیے

Urdu · 2 min read

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ دس سال پہلے میں آپ سے ملا تھا۔ اس وقت میں ایک مسئلے سے دوچار تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اس کو کس طرح حل کروں۔ میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے کہا: مسئلے کو انتظار کے خانے میں ڈال دیجیے۔ میں نے آپ کے اس مشورہ کو پکڑلیا۔ اور آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرا نہ صرف مسئلہ حل ہوا، بلکہ اس کے بعد میرے لیے ترقی کا نیا دروازہ کھل گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کی زندگی میں کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو وہ فوراً ردعمل (reaction) کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ردعمل کی نفسیات کے تحت وہ منفی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، البتہ وہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتو اپنے آپ کو ردعمل کی نفسیات سے بچائیے۔ پختگی (maturity) کا ثبوت دیتے ہوئے صرف یہ کیجیے کہ معاملے کو انتظار کے خانے میں ڈال دیجیے۔

اصل یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق ، حالات کبھی یکساں نہیں رہتے۔ آدمی اگر جلد بازی میں حالات کو نہ بگاڑے تو عین ممکن ہے کہ حالات کا رخ اس کے موافق ہوجائے اور جو مسئلہ پہلےناقابلِ حل بناہوا تھا، وہ خود حالات کی تبدیلی کے نتیجے میں آسانی کے ساتھ حل ہوجائے۔

جس چیز کو زمانہ کہا جاتا ہے، وہ دراصل انسانی تاریخ ہے۔ انسانی تاریخ نہ کسی کی دوست ہے اور نہ کسی کی دشمن۔ انسانی تاریخ فطرت کی شاہراہ پر چل رہی ہے۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ تاریخ کے سفر کو سمجھے، اور اس کےمطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ اگر کسی کے اندر اس معاملے میں گہری بصیرت نہ ہو تو اس کے لیے دوسرا آپشن (option) یہ ہے کہ وہ اللہ کی مدد کا طالب بنتے ہوئےاپنے آپ کو حالات کے رخ پر ڈال دے۔ وہ ہرگز ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرے۔یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content