Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala September 2016
Al-Risala September 2016

مبنی بر معرفت کلام

Urdu · 2 min read

انسانی کلام کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ انسان جس موضوع پر کلام کرے، اس کی پوری معرفت اس کو حاصل ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ معرفت کے بغیر آدمی لکھنا اور بولنا شروع کردے۔ پہلی صورت میں انسان کے کلام میں وضوح (clarity) ہوگی۔ اس کے برعکس، دوسری صورت میں انسان کا کلام وضوح (clarity) سے خالی ہوگا، اس کا کلام کنفیوژن کا کلام ہوگا۔

مثلا اگر آپ ایک عمارت میں ہیں۔ یہ عمارت ایک عبادت خانہ کی عمارت ہے۔ اب اگر آپ کو یہ معرفت حاصل ہو کہ یہ بلڈنگ عبادت خانہ ہے۔ تو اس کے بارے میں آپ کا کلام ایک واضح کلام ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر آپ اس بلڈنگ کو کچھ اور سمجھ لیںتو اس کے بارے میں آپ کا کلام کنفیوژن سے بھرا ہواکلام بن جائے گا۔

آپ کو اگر تقریر یا تحریر کے میدان میں کوئی رول ادا کرنا ہے تو آپ کو چاہیے کہ سب سے پہلے متعین موضوع کا گہرا مطالعہ کریں۔ اس موضوع کے بارے میں اتنی معلومات حاصل کریں کہ آپ معرفت کے درجے میں اس موضوع کو سمجھنے لگیں۔ معرفت کے بغیر کلام کرناصرف وقت ضائع کرنا ہے، اپنا بھی اور دوسروں کا بھی۔ کیوں کہ ایسی صورت میں آپ موضوع کا حق ادا کرنے سے قاصر رہیں گے۔ اور سننے یا پڑھنے والوں کو کوئی فکری غذا دینے میں ناکام رہیں گے۔

معرفت کیا چیز ہے۔ وہ اس مشہور قصے سے معلوم ہوتی ہے، جو سات آدمی اور ہاتھی کے عنوان سے مشہور ہے۔اس قصےمیں سات اندھے آدمیوں نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ ہاتھی کیا ہے۔ ان میں سے ہر شخص یہ بتانے میں ناکام رہا تھا کہ ہاتھی واقعۃًکیا چیز ہے۔ یہی انجام اس مقرر یا محرر کا ہوگا جو معرفت کے بغیر بولنا اور لکھنا شروع کردے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پہلے بولنے اور لکھنے کی شرط کو پورا کرے۔ اس کے بعد وہ بولنا یا لکھنا شروع کرے۔ اس معاملے میں شرط پورا کرنا یہی ہے کہ معرفت کے درجے میں موضوع پر درک حاصل کیا جائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.