نئی منصوبہ بندی (re-planning) ہمیشہ یک طرفہ بنیاد (unilateral base)پر کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے نئی منصوبہ بندی عملاً ایک قربانی (sacrifice) کا عمل بن جاتا ہے۔ نئی منصوبہ بندی کے لیے انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ردّ عمل (reaction) سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ کسی چیز کو وقار (prestige) کا مسئلہ نہ بنائے۔ وہ پیچھے ہٹنے کو اسی طرح قبول کرے جس طرح وہ اقدام کو قبول کئے ہوئے تھا۔ وہ کامل طورپر غیر جانب دارانہ انداز سے سوچے اور حقیقتِ واقعہ کی بنیاد پر ایک فیصلہ لے۔ وہ ہار اور جیت کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر اپنی راہِ عمل متعین کرے۔ یہی نئی منصوبہ بندی ہے اور اس قسم کی منصوبہ بندی قربانی کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔پیغمبر اسلام کے زمانے میں حدیبیہ پالیسی اسی قسم کی ایک نئی منصوبہ بندی تھی۔ مگر مسلمان بعد کے زمانے میں اپنے رسول کے اس اسوہ کو بھول گئے۔حدیبیہ پالیسی کا مقصد یہ تھا کہ نئے حالات کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں اہل ایمان کو نئے حالات سے سابقہ پیش آیا۔ اب ضرورت تھی کہ اپنی جدو جہد کو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنانے کےلیے نیا نقشہ کار بنایا جائے۔
نیا نقشہ کار بنانے کے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ صورت حال کو خالص غیر جذباتی انداز میں دیکھا جائے۔’’دشمن‘‘ اور’’سازش‘‘ جیسی اصطلاحات کو ترک کرکے از سر نو غور کیا جائے۔ اور تمام لوگوں کو انسان سمجھ کر ان سے معاملہ کیا جائے۔ اس قسم کا غیر متعصبانہ ذہن نئی منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے۔ پیغمبر اسلام اگر ہجرت کے بعد یہ اعلان کرتے کہ مکہ والے ہمارے دشمن ہیں تو آپ وہ اعلیٰ منصوبہ نہ بناسکتے جس کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔جو لوگ دشمنی اور سازش کی اصطلاح میں سوچیں ، وہ اس بات کا ثبوت دے رہے ہیں کہ ان کا ذہن ماضی کے حالات میں اٹکا ہوا ہے۔ ایسے لوگ نئے امکانات کو سمجھنے میں ناکام رہیں گے۔ اس بنا پر وہ وقت کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بھی نہ بنا سکیں گے۔جو لوگ حالات کےمطابق درست منصوبہ بندی نہ کرسکیں، ان کے حصے میں صرف بے فائدہ شکایت آئے گی، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔