زندگی کے بیشتر معاملات انسان کے لیے پوری طرح کلیر (clear) نہیں ہوتے۔ اکثر حالات میںا نسان ففٹی ففٹی کے درمیان ہوتا ہے۔ یعنی ففٹی پرسنٹ ہاں ، اور ففٹی پرسنٹ نہیں۔ ایسے حالات میں ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی شخص ہو جو اس کی اس بے یقینی کی حالت کو ختم کرے، اور اس کو یقین کے ساتھ فیصلہ تک پہنچنے کا راستہ دکھائے۔ ایک دانش مند اور تجربہ کار (advisor) کا یہی رول ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس قسم کا مشیر نرمی کی زبان نہیں بولتا، بلکہ وہ شدت اور تاکید کی زبان بولتا ہے۔ دانش مند مشیر اگر نرمی کی زبان بولے تو زیر مشورہ آدمی جہاں پہلے تھا، وہیں بدستور باقی رہے گا۔ لیکن دانش مند مشیر جب زور و تاکید کے ساتھ ایک بات کہتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زیرِ مشورہ شخص کا ذہن ہل جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں ففٹی ففٹی کی جو مساوات (equation) تھی وہ ٹوٹ جاتی ہے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ بے یقینیت (uncertainty) کی حالت 49 پرسنٹ ہوجاتی ہے۔ اور یقینیت کی حالت 51 پرسنٹ۔
زندگی کے اسی مسئلے کی بنا پر ہر زمانے میں گرو یا مرشد کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کے لیے ایکسپرٹ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ کسی کو گرو یا مرشد بنانا عملی ضرورت کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص دوسروں کے مقابلے میں افضل حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاملہ عملی ضرورت کی بنا پر ہے ، نہ کہ تقدس یا افضلیت کی بنا پر۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سماج میں بعض افراد اپنے تجربہ یا اپنے علم کی بنا پر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اہل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ فطری طور پر اپنے سماج میں ممتاز حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ اگر لوگ حسد کے جذبے سے خالی ہوں تو بآسانی ایسا ہوگا کہ ایسے افراد گرو یا مرشد کا درجہ حاصل کرلیں گے۔ حسد کا جذبہ اعتراف (acknowledgement) کی راہ میں مانع بن جاتا ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کو حسد کے جذبے سے پاک بنایا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.